Ayahs 11:36–49آیت نمبر 36 تا 49
ترجمہ : اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ان کے سوا اب کوئی ایمان لانے والا نہیں لہٰذا تم ان کے شرکیہ کرتوتوں پر غم نہ کرو چناچہ نوح (علیہ السلام) نے ان کیلئے ربِّ لاتذر الخ کہہ کر بددعاء کردی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعاء کو قبول فرما لیا اور حکم دیا کہ ہماری نگرانی اور حفاظت میں ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناو اور دیکھو جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو ہلاک نہ کرنے کے بارے میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا یقیناً وہ غرق ہونے والے ہیں) نوح (علیہ السلام) ( کشتی بنا رہے تھے یہ حال ماضی کی حکایت ہے اور جب کبھی ان کے پاس سے ان کی قوم کے لوگ گزرتے تو اس کا مذاق اڑاتے) نوح (علیہ السلام) ( نے کہا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو) عنقریب ( ہم تم پر ہنسیں گے جس طرح تم ہنستے ہو جب ہم نجات پائیں گے اور تم غرق ہوگے، عنقریب تم کو معلوم ہوجائیگا کہ وہ رسوا کن عذاب کس پر آتا ہے ؟ مَنْ موصولہ تعلمون کا مفعول ہے اور وہ دائمی عذاب کس پر نازل ہوتا ہے ؟ یہاں تک کہ ان کی ہلاکت کا ہمارا حکم آگیا اور تنور نے پانی ابال دیا اور یہ نوح (علیہ السلام) کیلئے علامت تھی، ہم نے حکم دیا کہ) حیوانات ( میں سے ہر قسم کا ایک جوڑا کشتی میں چڑحالو، یعنی نر اور مادہ کا) اثنین ( احمل کا مفعول ہے قصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کے لئے درندوں اور پرندوں کو جمع کردیا چناچہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) ہر نوع پر ہاتھ ڈالتے تو حضرت نوح کا دایاں ہاتھ نر پر اور بایاں ہاتھ مادہ پر پڑتا، اور ان کو کشتی میں سوار کرلیتے، اور اپنے گھر والوں یعنی بیوی اور بچوں کو باستثناء اس کے کہ ان میں سے جس پر ہلاکت کا حکم نافذ ہوچکا ہے، اور وہ ان کی بیوی اور ان کا بیٹا کنعان تھا بخلاف سام، حام، یافث کے کہ ان کو اور ان تینوں کی بیویوں کو سوار کرلیا، اور) ان کے علاوہ ( ان کو بھی جو ایمان لائے اور بجز قلیل آدمیوں کے ان کے ساتھ کوئی ایمان نہیں لایا کہا گیا کہ چھ مرد اور ان کی بیویاں تھیں اور کہا گیا ہے کہ کشتی میں سوار ہونے والوں کی کل تعداد اسّی تھی ان میں نصف مرد تھے اور نصف ان کی نیویاں، نوح (علیہ السلام) نے کہا اس میں سوار ہوجاو، اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا بھی ہے اور ٹھہرنا بھی) مجریھا اور مرسھا ( دونوں میم کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ مصدر ہیں یعنی اس کا چلنا اور ٹھہرنا یعنی اپنے انتہاء سفر پر جاکر ٹھہرجانا) اللہ ہی کے حکم سے ہے ( میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے کہ اس نے ہم کو ہلاک نہیں کیا، اور کشتی ان کو لے کر عظیم اور بلند ہونے میں پہاڑ جیسی موجوں کے درمیان چل رہی تھی اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کنعان سے آواز دیکر کہا اور وہ کشتی سے فاصلہ پر تھا، اے میرے پیارے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہوجا، اور کافروں کے ساتھ نہ رہ) اس نے ( جواب دیا کہ میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لئے لیتا ہوں جو مجھے پانی میں غرق ہونے سے بچا لے گا) نوح (علیہ السلام) ( نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے عذاب سے بچانے والی نہیں بجز اس کے کہ اس پر اللہ رحم فرمائے صرف وہی بچ سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ) اتنے میں ( ایک موج ان کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا، حکم ہوا اے زمین تو اپنا پورا پانی جو تجھ سے نکلا ہے نگل لے) جذب کرلے ( چناچہ زمین نے پورا پانی جذب کرلیا سوائے اس پانی کے جو آسمان سے برسا، سو) زمین سے نکلا ہوا پانی ( نہروں اور دریاوں میں شامل ہوگیا، اور اے آسمان) بادل ( تو پانی برسانا بند کر دے، چناچہ اس نے بند کردیا اور پانی کم ہوگیا، اور قوم نوح کی ہلاکت کے فیصلے پر عمل درآمد کردیا گیا، اور کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی) جودی ( موصل کے قریب جزیرہ کا ایک پہاڑ ہے اور کافروں کی ہلاکت کا حکم دیا گیا اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا اور کہا اے میرے رب میرا بیٹا کنعان میرے اہل سے ہے اور تو نے میرے اہل کی نجات کا وعدہ فرمایا ہے اور بلاشبہ تیرا وعدہ سچ ہے کہ اس میں تخلف نہیں ہے، اور تو سب حاکموں سے بہتر حاکم ہے یعنی سب سے زیادہ علم والا اور سب سے زیادہ انصاف والا ہے، اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ اے نوح وہ تیرے نجات پانے والے اہل سے نہیں ہے یا تیرے اہل دین سے نہیں ہے، بلاشبہ مجھ سے ان کی نجات کا تیرا سوال نامناسب ہے اسلئے کہ وہ کافر ہے اور کافر کی نجات نہیں ہے، اور ایک قراءت میں عَمِلَ فعل کے ساتھ اور غیر کے نصب کے ساتھ ہے اس صورت میں ضمیر ابن کی طرف راجع ہوگی، لہٰذا تو مجھ سے اس بات کی درخواست نہ کر) تسئلَن ( نون کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، جس بات کو تجھے علم نہیں ہے اور وہ بات تیرے بیٹے کی نجات کا سوال ہے، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جس چیز کو تو نہیں جنتا اس کا سوال کرکے خود کو نادانوں میں شامل نہ کر، ) نوح (علیہ السلام) نے ( عرض کیا اے میرے رب میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں تجھ سے کسی ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں اور اگر آپ میری غلطی کو معاف نہ فرمائیں گے اور رحم نہ فرمائیں گے تو میں زیاں کاروں میں شامل ہوجاوں گا، حکم ہوا اے نوح تم کشتی سے ہمارے امن یا سلام کے ساتھ اور اپنے اور ان جماعتوں پر جو کشتی میں تیرے ساتھ ہیں یعنی ان کی اولاد کے ساتھ اور وہ مومنین ہیں برکت کے ساتھ اترو اور کچھ لوگ تمہارے ساتھ ایسے بھی ہیں جن کو ہم دنیا میں سامان عیش بخشیں گے اور پھر آخرت میں ہماری طرف سے ان کو دردناک عذاب پہنچے گا اور وہ کافر ہیں، یہ آیات جو نوح (علیہ السلام) کے قصہ پر مشتمل ہیں اے محمد تمہاری طرف غیب کی خبریں ہیں یعنی ان چیزوں کی خبریں ہیں جو تم سے مخفی ہیں اور نزول قرآن سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تیری قوم، لہٰذا تم تبلیغ پر اور اپنی قوم کی ایذا رسانی پر صبر کرو جس طرح نوح (علیہ السلام) نے صبر کیا، بہتر انجام متقیوں ہی کے لئے ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : واُوحِیَ اِلی نوح انَّہ لَنْ یومِنَ مِنْ قومِک اِلاَّ مَنْ قَدْ آمَنَ ، اُوْحِیَ فعل ماضی مجھول انَّہ لن یومِنَ نائب فاعل ای او حیَ الیہ عدم ایمان بعض قومِہ۔
قولہ : تبتئسْ ) ابتئاس افتعال ( سے مضارع واحد مذکر حاضر یہاں چونکہ حرف حرف نہی داخل ہے اس لئے نہی ہے، تو رنج نہ کر
قولہ : بمرایً ، مِنَّا وحفظنا، یہ اضافہ ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ باَعْیُنِنَا سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اَعْضاء ہیں اور جس کے اعضاء ہوں وہ مجسم ہوتا ہے لہٰذا اللہ کے لئے جسم ہونا ثابت ہوا جیسا کہ مجسمیہ کا عقیدہ ہے۔
جواب : کا حاصل یہ ہے کہ باعیننا یہ حفظ اور رویت سے کنایہ ہے جیسا کہ بَسَط اللہ یدہ، جو دو سخاوت سے کنایہ ہے، باعْینِنَا، محلا حال ہے، تقدیر یہ ہے متلبسًا باَعْیُنِنَا۔
قولہ : حکایۃ حال ماضیۃ، یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : سوال یہ ہے کہ یَصْنَعُ ، مضارع کا صیغہ ہے جو حال اور استقبال پر دلالت کرتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کشتی بنانا خبر دینے کے بعد حالانکہ کشتی زمانہ ماضی میں بنائی جا چکی تھی۔
جواب : جواب یہ ہے کہ زمانہ ماضی کی حالت کی حکایت ہے، یعنی کشتی بنانے کا منظر کشی کی جاری ہے۔
قولہ : مَنْ موصولۃ مفعول العلم مَنْ یاتیہِ میں مَنْ موصولہ ہے اور تعلمون کا مفعول بہ ہے ترکیب سے یہ شبہ ختم ہوگیا کہ مَنْ استفہامیہ ہے اس کو صدارت کی ضرورت ہے۔
قولہ : غایۃ للصنع، یعنی حَتّٰی صنع کی غایت ہے یتیہ یا یحلُّ کی غایت نہیں ہے جیسا کہ قریب کی وجہ سے شبہ ہوتا ہے، حتّٰی ابتدائیہ ہے جو کہ جملہ شرطیہ پر داخل ہے اور واصنع الفلک کی غایت ہے۔
قولہ : فی السفینۃِ ، اس اضافہ میں اس سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہے کہ فیھا کی ضمیر ماقبل میں مذکور الفلکَ کی طرف راجع ہے جو کہ مذکر ہے حالانکہ فیھا ضمیر مونث ہے جواب یہ ہے کہ فلک، سفینۃ کے معنی میں ہے فلا شبھۃ۔
قولہ : اِنَّہ سوالک ایای بنجاتِہ، مفسر علام نے اِنَّہ کی ضمیر کے مرجع کی تعیین کرتے ہوئے فرمایا کہ مرجع اپنے بیٹے کنعان کی نجات کے بارے میں سوال ہے یعنی تمہارا مناسب نہیں ہے، جمہور مفسرین نے، ہ، ضمیر کا مرجع ابن کو قرار دیا ہے یعنی کنعان تمہارے اہل میں سے نہیں ہے، اس سے مجاز لازم آتا ہے اس لئے کہ حقیقۃً اہل سے نفی درست نہیں ہے جس کی وجہ سے مجازی معنی یعنی دینی اہل مراد لینے ہوں گے۔
قولہ : وفی قراءۃ بکسر میم عَمِلَ فعل ونصب غیرَ فالضمیر لابنہ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد، عمل کے اعراب کو بتانا ہے جمہور کی قراءت میں عَمَل مصدر ہے اور غیر صالح اس کی صفت ہے مطلب یہ ہے کہ تمہارا اپنے بیٹے کنعان کی نجات کی سفارش عمل نامناسب ہے، اسلئے کہ وہ کافر ہے اور کافر کی نجات نہیں ہے، اور ایک قراءت میں عَمِلَ فعل ماضی کا صیغہ ہے اس صورت میں غَیْرَ مصدر محذوف کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا تقدیر عبارت یہ ہوگی اِنَّہ عَمِلَ عَمَلاً غیرَ صالح، اس صورت میں اِنَّہ کی ضمیر ابن کی طرف راجع ہوگی یعنی کنعان نے عمل غیر صالح کئے، مفسر علام نے پہلی صورت کو اختیار کیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کا اپنے کافر بیٹے کی نجات کی سفارش عمل نامناسب ہے اسلئے کہ آگے فرمایا گیا ہے " انی اعظک ان تکون مِن الجاھلین " اس سے نوح
(علیہ السلام) کی طرف جہل کی نسبت لازم آتی ہے۔
قولہ : فلاتَسئلنِ بالتخفیف والتشدید یعنی نون کی تشدید کے ساتھ ماقبل کے فتحہ کے ساتھ اور یہ نافع کی قراءت ہے اور ابن کثیر اور ابن عامر اور باقیوں نے لام کے سکون اور نون کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور حالت وصل میں نون کے بعد یاء کو باقی رکھا ہے نہ وقف میں، اور ورش و ابو عمرو نے وقف اور وصل دونوں صورتوں میں یاء کو باقی رکھا ہے۔
قولہ : بسلامَۃ اَوْ بتحیۃ اس اضافہ کا مقصد سلام کے دو معنی کو بیان کرنا ہے بسلامۃ کہہ کر امن و سلامتی کے معنی کی طرف اشارہ کردیا اور بتحیۃ کہہ کر سلام و تحیہ کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ ہے یہاں دونوں معنی درست ہیں۔
قولہ : وَاُمم بالرفع ممن مَعَکَ ، اُمَم رفع کے ساتھ ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور سَنُمَتِّعُھُمْ اس کی خبر ہے، نہ کہ امم سابق پر معطوف ہونے کی وجہ سے مجرور، اسلئے کہ یہ لوگ سلامتی اور برکت میں داخل نہیں ہیں۔
سوال : اُمَم کا نکرہ ہونے کی وجہ سے مبتداء واقع ہونا درست نہیں ہے ؟
جواب : اُمَم موصوف ہے اور ممن معک اس کی صفت ہے لہٰذا اُمَم کا نکرہ موصوفہ ہونے کی وجہ سے مبتداء بننا صحیح ہے مفسر علام نے ممن معک کا اضافہ کرکے اسی تقدیر کی طرف اشارہ کیا ہے۔
قولہ : ای ھذہ الاٰیات المتضمنۃ الخ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے سوال یہ ہے کہ تلک اسم اشارہ مونث مبتداء ہے حالانکہ اس کی تین خبریں ہیں اور تینوں مذکر ہیں، 1۔ من ابناء الغیب، 2۔ نوحیھا الیک، 3۔ ماکنت تعلمھا۔ لہٰذا خبر کی رعایت کی وجہ سے مبتداء بھی مذکر ہونا چاہیے۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ ھذہ کا مشار الیہ مذکورہ خبریں نہیں ہیں، بلکہ اس کا مشار الیہ الآیات، محذود ہے جس کی طرف مفسر علام نے اشارہ کیا ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔
تفسیر و تشریح
قرآن عزیز میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ : قرآن کریم نے معجزہ نما نظم کلام کی یہ سنت ہے کہ وہ تاریخی واقعات میں سے جب کسی واقعہ کو بیان کرتا ہے تو اپنے مقصد " وعظ و تذکیر " کے پیش نظر واقعہ کی ان ہی جزیات کو بیان کرتا ہے جو مقصد کیلئے ضروری ہوں چناچہ اسی اسلوب کے پیش نظر قرآن عزیز نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کا اجمالی و تفصیلی ذکر سولہ جگہ کیا ہے۔ ) قصص القرآن سیوھاروی (۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے تقریباً ایک ہزار سال کی عمر دراز عطا فرمائی تھی، آپ اس طویل مدت میں ہمیشہ اپنی قوم کو دین حق اور کلمہ توحید کی دعوت دیتے رہے، قوم کی طرف سے سخت ایذاوں کا سامنا کرنا پڑا مگر آپ اپنی قوم کے لئے یہ دعاء کرتے کہ یا اللہ میری قوم کو معاف کر دے یہ بیوقوف و جاہل ہیں جانتے ہیں، آپ ہدایت کی امید پر ایک نسل کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری کو ہدایت کی دعوت دیتے رہے مگر بہت قلیل لوگوں کے علاوہ کوئی ایمان نہ لایا۔
جب اس پر صدیاں گذر گئیں تو اللہ رب العزت کے سامنے ان کی حالت زار کی شکایت کی جو سورة نوح میں مذکور ہے،
" ربِّ انی دعوت قومی لَیْلاً ونھارا، فلم یزدھم دعائی اِلاَّ فرارا " اتنے طویل زمانہ تک اپنی قوم کے ہاتھون مصائب برداشت کرنے کے بعد اس مرد خدا کی زبان پر یہ دعاء آئی " ربِّ انصرنی بما کذبون " اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے " وَاُوْحِی الی نوح انَّہ لن یومِنَ مِنْ قومِکَ اِلاَّ آمَنْ الخ " یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیری قوم میں جس کو ایمان لانا تھا لاچکے اب کوئی شخص ایمان نہ لائیگا، اب آپ اس قوم کا غم نہ کھائیں اور ان کے ایمان قبول نہ کرنے پر پریشان نہ ہوں۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ اب ہم اس قوم پر پانی کے طوفان کا عذاب بھیجنے والے ہیں اس لئے آپ ہماری نگرانی میں وحی کے حکم نے مطابق ایک کشتی تیار کریں جس میں آپ کے اہل و عیال اور مومنین مع اپنی ضروریات کے سما سکیں حضرت نوح (علیہ السلام) نے حکم کے مطابق کشتی بنائی، پھر جب طوفان کے ابتداء کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں کہ زمین سے پانی ابلنے لگا تو حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ خود مع اپنے اہل و عیال اور ان لوگوں کے جو ایمان لاچکے ہیں کشتی میں سوار ہوجائیں، اور انسان ضروریات جن جانوروں سے متعلق ہیں مثلاً گائے، بیل، بکری، گھوڑا، گدھا
وغیرہ کا ایک ایک جوڑا رکھ لیں۔
کشتی کی وسعت اور پیمائش : یہ کشتی کس ساخت کی تھی اور اس کی پیمائش کیا تھی اس کی تفصیلات بائبل میں ہیں قرآن نے ان سے یکسر صرف نظر کرلی ہے اس لئے کہ ان تفصیلات سے حاصل کچھ بھی نہیں اور نہ ان تفصیلات کے درپے ہونا کوئی مفید خدمت ہے بس اتنا معلوم ہونا کافی ہے کہ کشتی میں اتنی گنجائش تھی کہ اس وقت مومن آبادی جس کی تعداد بہ اختلاف روایات 40 تا 80 تھی اور ضروری جانوروں کے جوڑے اس میں سما گئے تھے۔
کشتی سازی کا حکم : غرضیکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعاء قبول ہوئی اور اپنے قانون جزاء اعمال کے مطابق سرکشوں کی سرکشی اور متمردوں کے تمرد کی سزا کا اعلان کردیا اور حفظ ما تقدم کیلئے کشتی بنانے کا حکم دیا، جب نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنانی شروع کی تو کفار نے ہنسی اڑانا اور مذاق بنانا شروع کردیا، کہ پانی پینے اور دیگر ضروریات کیلئے تو میسر نہیں بھلا کشتی چلنے کے لئے پانی کہاں سے آئیگا، معلوم ہوتا ہے اب کشتیاں صحراء کے ریت میں چلا کریں گی، ادھر کشتی بن کر تیار ہوئی ادھر طوفان کی ابتدائی علامات کا ظہور ہونے لگا، " حتی اذا جاء امرنا وفار التنور " لفظ تنور کئی معنی میں مستعمل ہے سطح زمین کو بھی تنور کہتے ہیں روٹی پکانے کے تنور کو بھی تنور کہا جاتا ہے، زمین کے بلند حصہ کو بھی تنور کہا جاتا ہے بعض حضرات نے تنور سے سطح زمین مراد لی اور بعض نے معروف تنور، کہا جاتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کا تنور ملک شام میں مقام عین الوادہ میں تھا بعض نے کہا کہ نوح (علیہ السلام) کا تنور کوفہ میں تھا وہ مراد ہے اکثر مفسرین مثلاً حضرت حسن، مجاہد، شعبی اور حضرت عبد اللہ بن عباس وغیرہ نے آخری قول کا اختیار کیا ہے، غرضیکہ پانی ہر جگہ سے ابل پڑا جس میں روئے زمین کے علاوہ معروف تنور بھی شامل ہے اور آسمان سے موسلا دھار بارش ہونے لگی تمام منکرین حق غرق ہوگئے اور کشتی پانی پر تیرنے لگی اور طوفان ختم ہوگیا تو کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی، جودی پہاڑ آج بھی اسی نام سے موجود ہے اس کا محل وقوع حضرت نوح (علیہ السلام) کے وطن اصلی عراق، موصل کے شمال میں جزیرہ ابن عمر کے قریب آرمینیہ کی سرحد پر ہے یہ ایک کوہستانی سلسلہ ہے جس کے ایک حصہ کا نام جودی ہے اسی کے ایک حصہ کو اراراط کہا جاتا ہے موجودہ تورات میں کشتی ٹھہرنے کا مقام کوہ اراراط بتایا گیا ہے ان دونوں روایتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
کشتی کے بعض حصے موجود ہیں : قدیم تاریخوں میں مذکور ہے کہ بعض مقامات پر اسی کشتی کے ٹکڑے اب تک موجود ہیں جن کو تبرک کے طور پر رکھا گیا ہے۔ تاریخ بغوی میں ہے کہ نوح (علیہ السلام) ماہ رجب کی دس تاریخ کو کشتی میں سوار ہوئے تھے، چھ ماہ تک کشتی پانی پر تیرتی رہی جب بیت اللہ پر پہنچی تو سات مرتبہ بیت اللہ کا طواف کیا پھر 10 محرم کو طوفان مکمل طور پر ختم ہوا اور کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی حضرت نوح (علیہ السلام) اور مومنین نے شکرانہ کے طور پر اس روز، روزہ رکھا۔
کشتی کی پیمائش : بعض تاریخی روایات سے کشتی نوح (علیہ السلام) کی پیمائش یہ معلوم ہوئی ہے کہ لمبائی تین سو گز اور چوڑائی 50 گز اور اونچائی 30 گز تھی اور یہ سہ منزلہ تھی اس میں روشندان اور دروازے بھی تھے۔
Ayahs 11:50–60آیت نمبر 50 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے عاد کی جانب ان کے خاندانی بھاءی ہود کو بھیجا، ہود نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، مِنْ زائدہ ہے تم بتوں کی بندگی کرکے اللہ پر بہتان لگاتے ہو، اے میری قوم میں تم سے توحید کی) تبلیغ ( پر کوئی اجرت نہیں چاہتا میرا اجر تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اے میری قوم کے لوگو تم اپنے رب سے شرک کی معافی مانگو پھر اطاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ تم کو زور دار بارش عطا کریگا) حال یہ کہ ( ان سے بارش کو روک لیا گیا تھا، اور تمہاری) موجودہ ( قوت میں مال اور اولاد کے ذریعہ مزید قوت کا اضافہ کرے گا، اور مشرک بن کر بےرخی مت کرو، ان لوگوں نے جواب دیا اے ہود تو ہمارے پاس اپنے دعوے پر کوئی صریح دلیل لے کر نہیں آیا اور ہم تیرے کہنے کی وجہ سے اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑیں گے اور تجھ پر ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں اور ہم تو تمہارے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ تو ہمارے معبودوں میں سے کسی کی جھپٹ میں آگیا ہے چناچہ تیرے اس کو برا کہنے کی وجہ سے اس نے تجھ کو باولا بنادیا ہے، اسی وجہ سے تو بیہودہ باتیں کر رہا ہے، ) ہود (علیہ السلام) نے ( جواب دیا میں تو اپنے اوپر اللہ کو گراہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو میں تو غیر اللہ سے جن کو تم اس کا شریک ٹھہراتے ہو بیزار ہوں تم اور تمہارے بت، سب مل کر میرے ساتھ مکر کرلو میری ہلاکت کی تدبیر کرلو، اور پھر مجھے ذرا بھی مہلت مت دو میرا بھروسہ تو اللہ پر ہے جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی، کوئی جاندار زمین پر چلنے والا ایسا نہیں کہ اس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو، یعنی وہ اس کا مالک اور اس پر غالب ہے، لہٰذا کوئی نفع نقصان اس کی اجازت کے بغیر نہیں، ناصیۃ) چوٹی ( کا خاص طور پر ذکر اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ جس کی چوٹی پکڑی گئی وہ غایت ذلت میں ہوتا ہے، بیشک میرا رب سیدھی راہ پر ہے یعنی حق و انصاف کے راستہ پر ہے، اگر تم روگردانی کرو گے تو جو پیغام دے کر میں بھیجا گیا تھا وہ میں تم کو پہنچا چکا اور میرا رب تمہاری جگہ دوسری قوم لائیگا اور شرک کرکے تم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، یقیناً میرا رب ہر چیز پر نگراں ہے، اور جب ہمارا عذاب آگیا تو ہم نے ہود (علیہ السلام) کو اور ان کو جو اس پر ایمان لائے اپنی) خصوصی ( رحمت سے بچا لیا اور ان کو ایک سخت عذاب سے نجات دی اور یہ ہے قوم عاد، یہ اشارہ ان کے آثار) وخرابات ( کی طرف ہے سو تم زمین میں سفر کرو اور ان آثار کو دیکھو، پھر ان کے احوال کو بیان کیا جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کو جھٹلایا اور اپنے رسولوں کی نافرمانی کی) رُسُل ( کو جمع لائے ہیں اس لئے کہ جس نے ایک رسول کی نافرمانی کی اس نے تمام رسولوں کی نافرمانی کی، تمام رسولوں کے ان اصولوں میں شریک ہونے کی وجہ سے جن کو وہ لائے ہیں اور وہ توحید ہے، اور یہ احمق اپنے روساء میں سے ہر جبار اور دشمن حق کی پیروی کرتے رہے) آخر کار ( اس دنیا میں بھی لوگوں کی ان پر لعنت پڑی اور قیامت کے روز بھی سب مخلوق کے سامنے) ان پر لعنت ہوگی ( سنو، عاد نے اپنے رب کا انکار کیا، سنو، ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کیلئے اللہ کی رحمت سے دوری ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وَاَرْسَلْنَا الخ اس کا عطف نوحاً الی قومہ پر ہے، اس کو عطف قصہ علی القصہ کہتے ہیں۔
قولہ : ھودًا یہ اَخَاھم کا عطف بیان ہے۔ قولہ : ای لقولکَ عن کی تفسیر لام سے کرکے اشارہ کردیا کہ عن تعلیلیہ ہے۔
قولہ : اِعتراکَ ) اعتراء افتعال ( ماضی واحد مذکر غائب پیش آنا، قصد کرنا، لاحق ہونا، مصیبت میں مبتلا کرنا۔
قولہ : بسُوء، میں باء تعدیہ کے لئے ہے۔
سوال : اِیَّاھا کی ضمیر لفظ بعض کی طرف راجع ہے، حالانکہ لفظ بعض مذکر ہے ضمیر اور مرجع میں مطابقت نہیں ہے۔
جواب : مضاف الیہ کی رعایت کرتے ہوئے ایاھا مونث کی ضمیر لائے ہیں۔
قولہ : اشارۃ اِلیٰ آثارھم، یہ اضافہ اس سوال کا جواب ہے کہ تِلکَ عَاد مبتداء خبر ہے عاد مذکر ہے لہٰذا تلک کے بجائے ھذا ہونا چاہیے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ اس کی خبر آثار ہے جو کہ محذوف ہے ای تلک الآثار آثار عاد۔
قولہ : عنید، عناد رکھنے والا، سرکش ضدی، جمع عُنُد۔
تفسیر و تشریح
آنحضرت ﷺ کے معاصرہ و مشرکین کے سامنے توحید و رسالت نیز حشر و نشر پر روشن اور واضح دلائل پیش کرنے کے بعد تاکید و تفنن کے طور پر انبیاء سابقین کے ساتھ ان کی قوم کے معاملات و واقعات بیان فرمائے ہیں، یہاں حضرت ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی بتایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) اسی قوم کے ایک فرد تھے باہر سے آئے ہوئے نہیں تھے۔ اس رکوع کی پہلی گیارہ آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے اور ان ہی کے نام سے یہ سورت موسوم ہے اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر سات انبیاء اور ان کی قوم کے واقعات مذکور ہیں، جن میں عبرت اور موعظت کے ایسے مظاہر موجود ہیں کہ جس کے دل میں ذرا بھی حیات اور شعور باقی ہے وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہود (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی طرف مبعوث فرمایا یہ قوم اپنے ڈیل ڈول اور زور و قوت میں پورے عالم میں ممتاز تھی، مگر یہ قوم اتنی بہادر اور قوی ہونے کے باوجود اپنی عقل و فکر کھو بیٹھی تھی، جس کی وجہ سے خود تراشیدہ پتھر کی مورتیوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔
ہود (علیہ السلام) کی دعوت کی تین اصولی باتیں : حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی دعوت میں تین اصولی باتیں پیش کیں اول دعوت توحید اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں غیر اللہ کو لائق عبادت سمجھنا اللہ پر بہتان اور افتراء ہے دوسرے یہ کہ تم میری بات پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم عقل سے کام نہیں لیتے اگر تم عقل سے کام لیتے ہوتے تو تم ضرور سوچتے کہ جو شخص اپنی کسی ذاتی غرض کے بغیر دعوت و تبلیغ کی یہ سب مشقتیں جھیل رہا ہے اور اس نے تذکیر و نصیحت کے لئے اپنی زندگی کو وقف کر رکھا ہے نہ کچھ اجرت طلب کرتا ہے نہ مدح و ستائش کا طالب آخر ضرورت کیا تھی کہ وہ تمہیں دعوت دینے اور تمہاری اصلاح کرنے میں اتنی محنت برداشت کرتا۔
وعظ و نصیحت اور دعوت دین پر اجرت : قرآن کریم نے یہ بات تقریباً تمام انبیاء کی زبان سے نقل کی ہے کہ ہم تم سے اپنی دعوت و محنت کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر دعوت و تبلیغ کا معاوضہ لیا جائے تو دعوت موثر نہیں رہتی، اس بات پر تجربہ شاہد ہے کہ وعظ و نصیحت پر اجرت لینے والوں کی بات سامعین پر اثر انداز نہیں ہوتی۔
تیسری بات یہ فرمائی کہ گذشتہ زندگی میں تم سے جو قصور اور کو تاہیاں ہوئی ہیں، ان سے معافی مانگو، اور آئندہ کیلئے پختہ ارادہ اور عہد کرو کہ اب ان کے پاس نہ جائیں گے، اس کے نتیجے میں آخرت کی دائمی فلاح تو ملے گی ہی دنیا میں بھی اس کے بڑے فوائد و برکات کا مشاہدہ کرو گے۔
ان۔۔۔ اعتراک الخ قوم نے حضرت ہود (علیہ السلام) کی دل دوز اور دل سوز نصیحتوں کا جواب یہ دیا کہ ہمیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دیوی دیوتاوں اور ہمارے معبودوں کی برائی وعیب جوئی کرنے کی وجہ سے تو ہمارے کسی دیوتا کی جھپٹ میں آگیا ہے اور اسی کی مار کا نتیجہ ہے کہ تو بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔
انی۔۔۔ اللہ الخ یہ قوم کی اس بات کا جواب ہے کہ چونکہ تو ہمارے معبودوں کی برائی کرتا ہے اور ان کی نکتہ چینی کرتا ہے جس کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ تو ہمارے کسی دیوتا کی جھپٹ میں آگیا ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ میرے خلاف تم سے جتنی ہوسکے مکروسازشیں کرو اور ساتھ اپنے معبودوں کو بھی بلا لو اور سب مل کر میرے خلاف تدبیر کرو تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اس لئے کہ میرا توکل اور بھروسہ تو اللہ تعالیٰ پر ہے۔
Ayahs 11:61–68آیت نمبر 61 تا 68
ترجمہ : اور ہم نے ثمود کے پاس ان کے خاندانی بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تم کو پیدا کیا یعنی تمہاری تخلیق ابتداء مٹی سے کی تمہارے دادا آدم کو مٹی سے پیدا کرکے اور اسی نے تم کو زمین میں بسایا یعنی تم کو) زمین کا ( باشندہ بنایا تاکہ تم اس میں سکونت اختیار کرو پس تم اس سے معافی طلب کرو شرک سے اور پھر طاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو بیشک میرا رب اپنی مخلوق سے باعتبار علم کے قریب ہے اور جو اس سے سوال کرتا ہے اس کا قبول کرنے والا ہے ان لوگوں نے جواب دیا اے صالح اس بات کے کہنے سے پہلے ہم تم سے بہت کچھ امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے ہمیں امید تھی کہ تم) ہمارے ( سردار بنو گے کیا تم ہم کو بتوں کی بندگی کرنے سے روکتے ہو جن کی بندگی ہمارے آباء) و اجداد ( کرتے تھے ؟ جس توحید کی طرف تم ہم کو دعوت دے رہے ہو اس میں ہمیں حیران کن تردد ہے) صالح (علیہ السلام) ( کہا اے میری قوم کے لوگو کیا تم نے اس بات پر غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی رحمت بنوت سے نوازا تو اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائیگا ؟ تم تو اس بات کا حکم کرکے میری گواہی، ) یعنی ( خسارہ میں اضافہ کر رہے ہو اے بردرانِ قوم یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے نشانی ہے) آیۃً ( حال ہے اس کا عامل اسم اشارہ ہے، اس کو چھوڑ دو اللہ کی زمین میں چرتی پھرے اور اس کو برے) یعنی ( ہلاک کرنے کے ارادہ سے ہاتھ مت لگانا، اگر تم نے اس کو ہلاک کردیا تو تم پر بہت جلد عذاب آجائیگا چناچہ ان لوگوں نے اس کو ہلاک کردیا یعنی ان کے حکم سے قدار نے اس کو ہلاک کردیا، اس پر صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور رہ لو پھر تم کو ہلاک کردیا جائیگا یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہوسکتا چناچہ جب ان کو ہلاک کرنے کا ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالح اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے بچا لیا اور وہ چار ہزار تھے، اور ہم نے ان کو اس دن کی رسوائی سے بچا لیا) یومئذ ( میم کے کسرہ کے ساتھ معرب ہونے کی صورت میں اور میم کے فتحہ کے ساتھ مبنی ہونے کی وجہ سے مبنی کی جانب اضافت کی وجہ سے اور یہی اکثر کا قول ہے یقیناً تیرا رب وہی قوی اور غالب ہے اور ظالموں کو ایک چنگھاڑ نے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں مردہ ہو کر اوندھے پڑے رہ گئے ایسے کہ گویا وہ کبھی اپنے گھروں میں آبار ہی نہ تھے) کَانْ ( مخففہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے ای کَانِّھُمْ ، آگاہ رہو، ثمودیوں نے اپنے رب کا کفر کیا، سن لو کہ ثمودیوں کے لئے پھٹکا رہے) ثمود ( منصرف ہے حَیّ کے معنی میں ہونے کی وجہ سے اور غیر منصرف بھی ہے قبیلہ کے معنی میں ہونے کی وجہ سے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ثمود، ثمود ایک قوم کا نام ہے جو اپنے جدا علی ثمود بن عابر بن سام بن نوح کی طرف منسوب ہے حضرت صالح (علیہ السلام) کا تعلق اسی قوم سے تھا اور اسی کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔
قولہ : جَعَلَکُمْ عُمَّارًا تسکنونَ بھا اس میں اشارہ ہے کہ استعمَرَ ، میں س، ت، تصییر کیلئے ہے یعنی ہم نے تم کو اسکو آباد کرنے والا بنایا، اور بعض حضرات نے عمر یعمر سے لیا ہے اس وقت اسکے معنی ہوں گے تم کو باشندہ بنایا بسایا اس صورت میں س، ت زائدہ ہوں گے
قولہ : صالح (علیہ السلام) مشاہیر انبیاء میں سے ہیں قرآن مجید میں ان کا نام نو جگہ آیا ہے قوم ثمود کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ قولہ : حال یعنی آیۃً ، ناقۃ سے حال ہے اور اس میں عامل ھذہ بمعنی اشیر ہے۔
قولہ : فعَقَرُوھا، ) ض ( عَقّرًا کونچیں کاٹنا عرب میں یہ دستور تھا کہ جب کسی اونٹ کو ہلاک کرنا ہوتا تو اس کی کونچیں کاٹ دیتے تھے کونچیں کاٹنے کیلئے ہلاکت لازم تھی۔
قولہ : بناءً لاضافۃِ یعنی یوم کی اضافت جب اِذْ کی طرف ہوگی تو یَومئذ مبنی برفتحہ ہوگا اس لئے کہ ظرف جب اسم مبہم کی طرف مضاف ہوتا ہے تو مضاف الیہ سے بناء حاصل کرلیتا ہے، یومَ ، اِذْ کی طرف مضاف ہے جس کی وجہ سے مبنی بر فتحہ ہوگیا ہے۔
تفسیر و تشریح
حضرت صالح (علیہ السلام) کا نسب نامہ : حضرت صالح (علیہ السلام) جس قوم میں پیدا ہوئے اس کو ثمود کہتے ہیں اور ثمود کا ذکر قرآن کریم کی نو سورتوں میں آیا ہے، اعراف، ھود، حجر، نمل، فصّلت، النجم، القمر، الحاقۃ، الشمس علماء انساب حضرت صالح (علیہ السلام) کے نسب نامہ میں مختلف نظر آتے ہیں مشہور حافظ حدیث امام بغوی نے آپ کا نسب اس طرح بیان کیا ہے صالح بن عبید بن آسف بن ماشح بن عبید بن حادر بن چمود اس نسب نامہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کو ثمود اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس قوم کا جداعلیٰ ثمود ہے، ہر نسب نامہ آخر میں جا کر سام بن نوح پر مل جاتا ہے بہرحال تمام روایتوں سے یہ باتفاق ثابت ہوتا ہے کہ قوم ثمود بھی سامی اقوام ہی کی ایک شاخ ہے اور یہی وہ قوم ہے جو عاد اولیٰ ) قوم ہود (علیہ السلام) ( کی ہلاکت کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) کے ساتھ بچ گئے تھے، اور یہی نسل عاد ثانیہ کہلائی۔
ثمود کی بستیاں : اس کے متعلق یہ طے ہے کہ ان کی آبادیاں حجر میں تھیں حجاز اور شام کے درمیان وادی قریٰ تک جو میدان ہے یہ پورا علاقہ ان کا مقام سکونت تھ، آج کل فج الناقہ کے نام سے مشہور ہے ثمود کی بستیوں کے آثار اور کھنڈرات آج تک موجود ہیں اور اس زمانہ میں بعض مصری اہل تحقیق نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، اس کا بیان ہے کہ وہ ایک ایسے مکان میں داخل ہوئے جو شاہی حویلی کہلاتی ہے اس میں متعدد کمرے ہیں اور اس حویلی کے ساتھ ایک بہت بڑا حوض ہے اور یہ پورا مکان پہاڑ کاٹ کر بنا گیا ہے۔ عرب کا مشہور مورخ لکھتا ہے، وَرَممھم باقیۃ وآثارھم بادیۃ فی طریق مَنْ وَرَدَ مِنَ الشام، جو شخص شام سے حجاز کو آتا ہے اس کی راہ میں ان کے مٹے ہوئے نشان اور بوسیدہ کھنڈرات پڑتے ہیں۔ ) قصص القرآن سیوھاروی (
قوم ثمود نے بھی اپنے پیش روقوم ہود کے مانند اپنے نبی صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ سے ایک اونٹنی ایسی اور ایسی صفات کی نکلے تو ہم تمہارے اوپر ایمان لاسکتے ہیں، صالح (علیہ السلام) نے ان کو ڈرایا کہ تمہارا منہ مانگا معجزہ اگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا اور پھر بھی تم ایمان نہ لائے تو عادۃ اللہ کے مطابق تم پر عذاب آجائیگا اور سب ہلاک کر دئیے جاو گے، مگر وہ اپنی ضد سے باز نہ آئے، اللہ تعالیٰ نے ان کا مطلوبہ معجزہ اپنی قدرت کاملہ سے ظاہر فرما دیا، پہاڑ کی چٹان شق ہو کر ان کے بتائے ہوئے اوصاف کے مطابق اونٹنی پہاڑ سے برآمد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس اونٹنی کو تکلیف نہ پہنچائیں ورنہ تم پر عذاب نازل ہوجائیگا مگر وہ اس پر بھی قائم نہ رہے اور اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا۔
اونٹنی کو ہلاک کرنے کی تفصیل : حضرت صالح (علیہ السلام) نے تمام لوگوں کو تنبیہ فرمائی کہ دیکھو یہ اونٹنی تمہاری طلب
پر بھیجی گئی ہے خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ پانی کی باری مقرر پر ایک دن اس اونٹنی کا اور ایک دن پوری قوم کے جانوروں کا، قوم نے اگرچہ اس اونٹنی کو حیرت انگیز معجزہ سمجھ کر ایمان قبول نہ کیا مگر اس کو آزار پہنچانے سے باز رہے چناچہ مقرر کردہ اصول کے مطابق کچھ دونوں تک عمل ہوتا رہا مگر آہستہ آہستہ یہ بات ان کو کھٹکنے لگی اور آپس میں اس کو ہلاک کرنے کے صلاح مشورے ہونے لگے تاکہ اس باری والے قصہ سے نجات ملے، مگر کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ اونٹنی پر ہاتھ ڈالے، مگر ایک حسین و جمیل مالدار عورت نے جس کا نام صدقہ بنت محیا تھا خود کو ایک شخص مصدع کے سامنے اور ایک مالدار عورت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو قدار کے سامنے پیش کیا کہ اگر وہ دونوں ناقہ کو ہلاک کردیں تو تمہاری ملک ہیں تم ان کو بیوی بنا کر عیش کرو آخر قدار بن سالف اور مصدع اس کام کیلئے آمادہ ہوگئے، اور یہ طے کرلیا گیا کہ وہ راستہ میں چھپ کر بیٹھ جائیں گے اور ناقہ جب چراگاہ جانے لگے گی تو اس پر حملہ کردیں گے اور دیگر چند آدمیوں نے بھی مدد کا وعدہ کیا۔
غرضیکہ ناقہ کا قتل کر ڈالا، اور آپس میں حلف کیا کہ رات ہونے پر صالح اور ان کے اہل و عیال کو بھی قتل کردیں گے اور ان کے اولیاء کی قسمیں کھا کر یقین دلادیں گے کہ یہ کام ہمارا نہیں ہے۔ اونٹنی کا بچہ یہ صورت حال دیکھ کر بھاگ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور چیختا چلاتا پہاڑ میں غائب ہوگیا، صالح (علیہ السلام) کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو حسرت و افسوس کے ساتھ قوم کو مخاطب ہو کر فرمایا آخر وہی ہوا جس کا مجھے اندیشہ تھا اب خدا کے عذاب کا انتظار کرو جو تین دن کے بعد تم کو ہلاک کر دے گا، اور پھر بجلی کی چمک اور کڑک کا عذاب آیا، اور سب کو ہلاک کردیا اور بعد میں آنے والے انسانوں کو تاریخی عبرت کا سبق دے گیا۔
سید آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں تحریر فرماتے ہیں کہ ثمود پر عذاب کی علامات اگلی صبح سے شروع ہوگئیں یعنی پہلے روز ان سب کے چہرے اس طرح زرد پڑگئے جیسے خوف کی ابتدائی حالت میں ہوا کرتا ہے اور دوسرے روز سب کے چہرے سرخ تھے گویا کہ یہ خوف کا دوسرا درجہ تھا، اور تیسرے دن ان سب کے چہرے سیاہ ہوگئے یہ خوف و دہشت کا تیسرا درجہ تھا جس کے بعد موت ہی کا درجہ باقی رہ جاتا ہے۔ ایک طرف ثمود پر یہ عذاب نازل ہوا اور دوسری طرف صالح (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار مسلمانوں کو خدا نے اپنی حفاظت میں لے لیا اور ان کو اس عذاب سے محفوظ رکھا، ) حاشیہ، قصص القرآن سیوہاروی ( مذکورہ پوری تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم ثمود سخت آواز کے ذریعہ ہلاک کی گئی تھی لیکن سورة اعراف میں ان کے متعلق یہ آیا ہے " فاخذتھم الرجفۃ " یعنی پکڑ لیا ان کو زلزلہ نے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر زلزلہ کا عذاب آیا تھا، قرطبی نے کہا کہ اس میں کوئی تضاد نہیں، ہوسکتا ہے کہ پہلے زلزلہ آیا ہو اور پھر سخت آواز کے ذریعہ ہلاک کر دئیے گئے ہوں۔