10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 10:1–10

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الرا، یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں۔

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں انکا سچا درجہ ہے (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگر ہے۔

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کام کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کئے بغیر (کسی کی) سفارش نہیں کرسکتا۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو تم اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لئے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیونکہ (خدا سے) انکار کرتے تھے۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لئے وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

رات اور دن کے (ایک دوسرے کے) پیچھے آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں (سب میں) ڈرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطمئن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ان کا ٹھکانا ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہ رہی ہوں گی۔

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

(جب وہ) ان میں (ان کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان اللہ اور آپس میں انکی دعا سلام علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول (یہ ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ محکم کتاب (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں (آیت الکتاب) میں اضافت بمعنی من ہے کیا ان لوگوں کو یعنی اہل مکہ کو اس بات سے تعجب ہوا، استفہام انکاری ہے اور مجرور اس کے قول عَجَبًا نصب کے ساتھ کان کی خبر ہے اور رفع کے ساتھ کان کا اسم ہے اور خبر أن اَوْحَیْنَا الخ ہے اور اَوَحَیْنَا اسم ہے پہلی (یعنی نصب کی) صورت میں أن اَوْحینا، اِیحَاؤنا مصدر کے معنی میں ہے، کہ ہم نے ان میں کے ایک شخص محمد ﷺ کے پاس وحی بھیج دی کہ لوگوں یعنی کافروں کو عذاب سے ڈرائیے أن مفسرہ ہے اور جو ایمان لے آئے ہیں ان کو خوشخبری سنائیے، کہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس سچی عزت ہے یعنی ان کے کئے ہوئے اعمال کا اچھا بدلہ ہے، کافر کہنے لگے یہ قرآن جو انذار وتبشیر پر مشتمل ہے بلاشبہ کھلا جادو ہے اور ایک قراءت میں لساحرٌ ہے (اس صورت میں) ذلک کا مشارٌ الیہ آپ ﷺ ہوں گے، حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو دنیا کے دنوں کے اعتبار سے چھ دنوں میں یعنی ان کی مقدار میں پیدا فرمایا اس لئے کہ اس وقت سورج اور چاند نہیں تھے، اور اگر خدا چاہتا تو ایک لمحہ میں ان کو پیدا فرما دیتا مگر اس سے عدول کرنے میں اپنی مخلوق کو عدم عجلت کی تعلیم دینی مقصود تھی پھر تخت حکومت پر جلوہ افروز ہوا جیسا کہ اس کی شایان شان ہے، وہ مخلوق کے ہر امر کی تدبیر کرتا ہے کوئی کسی کی سفارش نہیں کرسکتا مگر اس کی اجازت سے، (من شفیع میں) مِن زائدہ ہے، یہ (کفار) کے اس عقیدہ کا رد ہے کہ بت ان کی سفارش کریں گے، یہی خالق مدبر اللہ تمہارا رب ہے صرف اسی کی بندگی کرو کیا تم (ان دلائل کے سننے کے بعد بھی) نہیں سمجھتے، (تذکرون) میں دراصل تاء کا ذال میں ادغام ہے، تم سب کو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے اس نے سچا وعدہ کر رکھا ہے، (وعداً اور حقًا) دونوں مصدر ہیں جو اپنے فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہیں بیشک (أنّہ) کسرہ کے ساتھ ذریعہ دوبارہ پیدا کرے گا، تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے انصاف کے ساتھ بدلہ دے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کو پینے کیلئے انتہائی گرم پانی ملے گا یعنی حرارت میں انتہا ہوا ہوگا، اور دردناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی وجہ سے یعنی ان کے کفر کے سبب ان کو سزا دی جائے گی وہی ذات ہے جس نے سورج کو روشن بنایا روشنی والا یعنی چمکدار بنایا اور چاند کو نور عطا کیا اور چاند کیلئے اس کی رفتار کے اعتبار سے ہر ماہ میں اٹھائیس راتوں میں اٹھائیس منزلیں بنائیں اور دوراتیں پوشیدہ رہتا ہے اگر مہینہ تیس دنوں کا ہو اور ایک رات پوشیدہ رہتا ہے اگر مہینہ 29 دنوں کا ہو، تاکہ تم اس کے ذریعہ برسوں اور تاریخوں کا حساب معلوم کرو اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بامقصد بنایا ہے نہ کہ (عبث) بےمقصد اللہ اس سے وراء الوراء ہے وہ نشانیوں کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے غور و فکر کرنے والی قوم کیلئے یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں (یعنی) آنے اور جانے میں بڑھنے اور گھٹنے میں اور ہر اس چیز میں جو اس نے آسمانوں میں پیدا فرمایا مثلاً ففرشتے، سورج چاند ستارے وغیرہ اور زمین میں پیدا فرمائیں مثلاً حیوان، پہاڑ، دریا اور نہریں اور درخت وغیرہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں خدا کا ڈر رکھنے والوں کیلئے کہ وہ ایمان لے آئیں، مخصوص طور پر متقیوں کا ذکر فرمایا اس لئے کہ یہی لوگ ان نشانیوں سے نفع اٹھاتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کو بعث کے ذریعہ ہماری ملاقات کی توقع نہیں ہے اور وہ آخرت کا انکار کرنے کی وجہ سے آخرت کے بدلے دنیوی زندگی پر راضی ہوگئے ہیں اور اسی پر اطمینان کرلیا ہے (یعنی) اس سے دل لگا بیٹھے ہیں، اور وہ لوگ جو ہماری وحدانیت پر دلالت کرنے والی ہماری آیتوں سے غافل ہیں (یعنی) ان میں غور و فکر کے تارک ہیں، ایسے لوگوں کا ٹھکانہ ان کے شرکیہ اعمال اور معاصی کی وجہ سے جہنم ہے یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کا رب ان کے ایمان کی بدولت ان کی رہنمائی کرے گا بایں صورت کہ ان کیلئے نور مہیا کریگا جس کے ذریعہ وہ قیامت کے روز اپنے مقصد تک رسائی حاصل کریں گے، بھری جنتوں باغوں میں ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان کی طلب (کا طریقہ) جنت میں جس چیز کی ان کو خواہش ہوگی سبحانک اللّٰھم کہنا ہوگا یعنی اے اللہ، اور جب وہ اس کا طلب کریں گے تو وہ شئ ان کے سامنے موجود ہوگی، اور ان کا آپسی سلام جنت میں السلام علیکم ہوگا اور ان کی آخری بات الحمدللہ رب العلمین ہوگی، أن، مفسرہ ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : حالٌ من قولہ عَجَبًا، لِلنَّاسِ دراصل محذوف سے متعلق ہو کر عجباً کی صفت ہے اور صفت جب موصوف پر مقدم ہوتی ہے تو وہ حال کہلاتے ہے اس لئے کہ صفت کا موصوف پر مقدم ہونا درست نہیں ہے، اور نہ للناس، عجباً کے متعلق ہے اسلئے کہ مصدر عامل ضعیف ہوتا ہے اپنے ماقبل میں عمل نہیں کرتا، عَجَبًا کان کی خبر مقدم ہے اور أن اَوْحَیْنَا، کان کا اسم مؤخر ہے، تقدیر عبارت یہ ہے، أکانَ اِیْحاؤُنا عَجَبًا للناس، اور عجبٌ رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اس صورت میں عجبٌ کان کا اسم ہوگا، اور أن اَوْحَیْنآ جو نصب کی صورت میں اسم تھا وہ رفع کی صورت میں خبر ہوگا، اور ابن مسعود نے عجبٌ کو مرفوع کان کو تامہ مانتے ہوئے پڑھا ہے اور أن اَوْحَیْنَا کو عجبٌ سے بدل قرار دیا ہے۔ قولہ : قَدَمَ صدقٍ ، یہ اضافت موصوف الی الصفت کے قبیل سے ہے جیسا کہ مسجد الجامع میں، قَدَم بمعنی مرتبہ، عزت، گذشتہ نیک کام کا اچھا اجر، مفسر علام نے قدم کی تفسیر سلف، سے کرکے اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے، علامہ سیوطی نے اجراً حَسَنًا بما قدموا من الاعمال کہہ کر یہی معنی مراد لئے ہیں۔ فائدہ : سبقت چونکہ قدم کے ذریعہ ہوتی ہے سابقہ کو قدم کہہ دیا جاتا ہے جیسا کہ نعمت کو یدٌ کہہ دیا جاتا ہے قدم کی صدق کی طرف اضافت زیادتی فضل کیلئے ہے، یا اس لئے کہ مقام صدق قول صادق سے حاصل ہوتا ہے۔ قولہ : مذکور، ذلک کی تفسیر مذکور سے کرکے سوال مقدر کا جواب دینا مقصود ہے۔ سوال : یہ ہے کہ ماقبل میں شمس و قمر کا ذکر ہے لہٰذا اسم اشارہ تثنیہ لانا چاہیے حالانکہ ذلک مفرد لائے ہیں۔ جواب : کا حاصل یہ ہے کہ مذکور کے معنی میں لے کر ذلک مفرد لائے ہیں قولہ : اِنَّ الّذِیْنَ آمنوا الخ یھدیھم، اِنَّ کی خبر اول ہے اور تجری من تحتھا الانھار خبر ثانی ہے اور فی جنّٰتٍ نعیم خبر ثالث ہے۔ قولہ : سبحٰنک اللھُمَّ یعنی جنتی جب کسی پسندیدہ شئ کی خواہش کریں تو طلب کا طریقہ یہ ہوگا کہ اللّٰھُمَّ کہیں گے تو فوراً ہی مطلوبہ شئ موجود ہوجائے گی، اَللّٰھُمّٰ چونکہ کلمہ نداء ہے لہٰذا دعاء بمعنی طلب ہوگی۔ قولہ : اِذَا ما طلبوہ بین اَیْدیھم، اِذا مفاجاتیہ ہے یعنی اہل جنت جب کسی شئ کی خواہش کریں گے تو وہ سبحٰنک اللّٰھُمّٰ کہیں گے فوراً ہی وہ شئ حاضر ہوجائے گی۔ قولہ : ذات ضیاءٍ اس اضافہ کا مقصد الشمس ضیاءً کے حمل کو درست قرار دینا ہے اسلئے کہ ضیاء مصدر ہے اس کا حمل ذات پر درست نہیں ہے۔ تفسیر و تشریح سورت کا نام : اس سورت کا نام ” یونس “ موضوع کے طور پر نہیں ہے بلکہ اثناء کلام میں چونکہ حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام آگیا ہے اسلئے اسم الکل باسم الجزء کے طریقہ پر اس کا نام سورة یونس رکھا گیا ہے۔ مقام نزول : روایات سے معلوم ہوتا ہے اور نفس مضمون سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ یہ پوری سورت مکی ہے البتہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں دو یا تین آیتیں مدنی ہیں۔ فضائل : حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ آیت حسبی اللہ الخ صبح اور شام سات سات مرتبہ پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کے ہموم اور تفکرات کیلئے کافی ہوجائیگا۔ أکان للناسِ عجبًا الخ استفہام انکار تعجبی کیلئے ہے جس میں توبیخ کا پہلو بھی شامل ہے، یعنی اسبات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں ہی میں سے ایک شخص کو وحی رسالت کیلئے چن لیا، کیونکہ اس کے ہم جنس ہونے کی وجہ سے صحیح معنی میں وہ ان کی رہنمائی کرسکتا ہے اور اگر وہ کسی اور جنس سے ہوتا مثلاً فرشتے یا جن ہوتا تو دونوں ہی صورتوں میں رسالت کا مقصد فوت ہوجاتا، اسلئے کہ انسان اس سے مانوس ہونے کے بجائے وحشت محسوس کرتا دوسرے یہ کہ انسانوں کے لئے ان کا دیکھنا بھی ممکن نہ ہوتا اور اگر کسی جن یا فرشتے کو انسانی قالب میں بھیجا جاتا تو وہی اعتراض لازم آتا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے اسلئے ان کے اس تعجب میں کوئی معقولیت نہیں ہے۔ قدم صدق، اس کا مطلب ہے بلند مرتبہ، اجر حسن، اور وہ اعمال صالحہ کہ جن کو ایک مومن آگے بھیج چکا ہے۔ قال الکافرون اِنَّ ھذا لسٰحِرٌ مبین کافروں کو جب انکار کیلئے کوئی اور بات نہ ملتی تو جادو گر یا جادو کی پھبتی کس دیتے مگر یہ نہ سوچتے کہ وہ چسپاں بھی ہوتی ہے یا نہیں۔ اَنَّ ربکم اللہ الّذی خَلَقَ السمٰوات والارض فی ستۃ ایام، اس آیت میں توحید کو اس ناقابل انکار حقیقت کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے کہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں اور پھر پورے عالم کی تدبیر کرنے میں جب اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں تو پھر عبادت و بندگی میں کوئی دوسرا کیسے شریک ہوسکتا ہے ؟ اس آیت میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا مگر عرف میں دن طلوع شمس سے ٖغروب شمس تک تک کہ مدت کو کہا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ آسمان و زمین اور سیاروں کے پیدا کرنے سے پہلے آفتاب ہی کا وجود نہیں تھا تو طلوع و غروب کا حساب کیسے ہوا ؟ اس لئے یہاں طلوع و غروب سے وقت کی وہ مقدار مراد ہے جو طلوع و غروب کے اعتبار سے اس دنیا میں ہونے والی تھی۔ چھ دن کی قلیل مدت میں اتنے بڑے جہان کو جو آسمانوں اور زمین اور سیارات اور تمام کائنات عالم پر مشتمل ہے بنا کر تیار کردینا اسی ذات قدوس کا مقام ہے جو قادر مطلق ہے اور یہ چھ دن کی مدت بھی ایک خاص مصلحت و حکمت کی بنا پر ہے ورنہ اس خالق مطلق کیلئے تخلیق کا صرف ارادہ بھی کرلینا کافی ہے جس کو قرآن میں کن فیکون سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ثم استویٰ علی العرش، پھر وہ عرش پر متمکن ہوا، اتنہ بات تو قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ عرش رحمن کوئی ایسی مخلوق ہے جو تمام آسمانوں اور زمین اور تمام کائنات پر محیط ہے، سارا جہان اس کے اندر سمایا ہوا ہے، اس سے زائد اس کی حقیقت کا معلوم کرنا انسان کے بس کی بات نہیں، جو انسان اپنی سائنسی انتہائی ترقی کے زمانہ میں بھی صرف نیچے کے سیاروں تک پہنچنے کی تیاری میں ہے اور بہت سے سیارے ایسے بھی ہیں جنکی شعاع اپنی تخلیق کے وقت سے ابتک زمین تک نہیں پہنچی جبکہ روشنی کی رفتار فی منٹ 186000 میل کی ہے جب ستاروں اور سیاروں تک انسان کی رسائی کا یہ حال ہے تو آسمان جو ان سب ستاروں اور سیاروں سے اوپر ہے اس کا یہ مسکین انسان کیا حال معلوم کرسکتا ہے اور پھر جو ساتوں آسمانوں سے بھی اوپر ہو اور سب پر حاوی اور محیط ہو وہ عرش رحمن ہے اس کی حقیقت تک رسائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ؎ نہ ہر جائے مرکب تواں تاختن کہ جاہا سپر باید انداختین جن متاخرین علماء نے ان چیزوں کے جو معنی بیان کئے ہیں وہ صرف تخمینی اور احتمالی درجہ رکھتے ہیں نہ کہ یقینی اور حتمی، اس لئے صاف اور بےغبار مسلک سلف صالحین اور صحابہ وتابعین ہی کا ہے جنہوں نے ان چیزوں کی حقیقت کو علم الہیٰ کے حوالہ کیا ہے۔ وقَدّرَہٗ مَن۔ ازِلَ لِتعلَموا عَدَد السنین، قَدَّرہٗ منازل ما سبق میں سورج اور چاند دونوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں میں شمار فرمایا تھا مگر یہاں قدرہ کی ضمیر چاند کی طرف لوٹ رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ منزلیں صرف چاند ہی کی ہیں حالانکہ منزلیں دونوں کی ہیں۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ قرآنی احکامات پوری نوع انسانی کیلئے ہیں خواہ دیہاتی ہو یا شہری عالم ہو یا جاہل، چاند کے ذریعہ ماہ و سال کا حساب لگانا اور تاریخوں کو معلوم کرنا ہر شخص کیلئے آسان ہے چاند کو دیکھ کر ہر شخص چاند کی تاریخ کا اندازہ لگا سکتا ہے بخلاف شمسی تاریخوں کے کہ ان کا معلوم کرنا دیہاتی اور جاہل تو کیا پڑھے لکھے کیلئے بھی آسان نہیں ہے شمسی تاریخ معلوم کرنے کیلئے تقدیم، جنتری، کیلنڈر کا سہارا لینا ضروری ہوتا ہے بخلاف چاند کی تاریخوں کے کہ رات کو چاند دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے، شمسی تاریخوں کا حساب رصد گاہوں اور آلات پر موقوف ہے جو ہر شخص کو نہ میسر ہیں اور نہ آسان، یہی وجہ ہے کہ شریعت کے بہت سے احکام مثلاً روزہ، حج، زکوۃ وغیرہ قمری تاریخوں سے متعلق ہیں۔ مَنازل، منزل جائے نزول، پڑاؤ کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے شمس و قمر دونوں کیلئے حدود مقرر فرمائی ہیں چاند چونکہ اپنا دورہ ہر مینہ میں پورا کرلیتا ہے اسلئے اس کی منزلیں 29 یا 30 ہیں، مگر چونکہ ہر مہینہ میں چاند ایک یا دو دن ضرور غائب رہتا ہے جس کو محاق کہتے ہیں اسلئے عموماً چاند کی منزلیں 28 کہی جاتی ہیں، آفتاب کا دورہ ایک سال میں پورا ہوتا ہے اس کی منزلیں 365 ہوتی ہیں۔ فائدہ جلیلہ : زمین سے چاند کی اوسط دوری 280000 میل ہے، اس کا حجم زمین کے حجم کا 29؍1 حصہ ہے اور وزن زمین کے وزن کا 81؍1 حصہ ہے، چاند کی سطحی کشش زمین کی سطحی کشش کا تقریباً 6؍1 حصہ ہے لہٰذا جس چیز کا وزن سطح زمین پر 6 پونڈ ہے سطح قمر پر اس کا وزن ایک پونڈ ہوگا، یہی وجہ ہے کہ آدمی چاند پر بغیر وزن لئے نہیں چل سکتا۔ چاند زمین کے اردگرد 27 دن 7 گھنٹے 24 منٹ میں دورہ پورا کرتا ہے، مگر زمین کی سالانہ حرکت کے سبب سے ایک نئے چاند سے دوسرے نئے چاند تک ساڑھے انتیس دن لگتے ہیں، چاند کا دن تقریباً ہمارے 14 دنوں کے برابر ہوتا ہے اسی طرح چاند کی ایک رات ہماری 14 راتوں کے برابر ہوتی ہے (فلکیات جدیدہ)
Ayahs 10:11–20

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی۔ سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کو توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں تو (بےلحاظ ہوجاتا اور) اس طرح گزر جاتا ہے کہ گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اسکو بدل دو ۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے۔

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی) ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا بھلا تم سمجھتے نہیں ؟

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر چھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بیشک گنہگار فلاح نہیں بائیں گے۔

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ انکا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کرسکتی ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں ؟ وہ پاک ہے اور (اسکی شان) انکے شرک کرنے سے بہت بلند ہے۔

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور (سب) لوگ پہلے ایک ہی امت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا ہی کو ہے۔ سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

آیت نمبر 11 تا 20 ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے عذاب کے جلد آنیکا مطالبہ کیا، اور اگر اللہ لوگوں کیلئے شر کے معاملہ میں جلدی کرتا جیسا کہ یہ خیر کے معاملہ میں جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا کردیا گیا ہوتا قُضِیَ مجھول اور معروف دونوں طرح پڑھا گیا ہے، (اَجَلُھُمْ ) رفع اور نصب کے ساتھ ہے بایں صورت کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ہوتا، لیکن وہ ان کی مہلت دیتا ہے سو ہم ان کو جن کو ہمارے پاس آنے کی توقع نہیں ہے ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہتے ہیں، (یعنی) تردد کے ساتھ حیران رہتے ہیں، اور جب کافر انسان کو مرض اور فقر وغیرہ کی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے، لیٹے بھی بیٹھے بھی، کھڑے بھی، یعنی ہرحال میں، پھر جب ہم اس کی وہ تکلیف ہٹا دیتے ہیں، تو پھر اپنے کفر کی سابقہ حالت پر آجاتا ہے گویا کہ جو تکلیف اس کو پہنچی تھی اس کو ہٹانے کیلئے کبھی ہم کو پکارا ہی نہیں تھا (کان) مخففہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے کانَّہ، جس طرح کہ ان کیلئے بوقت تکلیف ہم سے دعاء کرنا اور بوقت خوشحالی اعراض کرنا خوشنما بنادیا گیا ہے اسی طرح مشرکوں کے اعمال کو ان کیلئے خوشنما بنادیا گیا ہے اے مکہ والوں بلاشبہ ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ انہوں نے شرک کرکے ظلم کیا، حالانکہ ان کے پاس ان کی پیغمبر اپنی سچائی پر دلائل لے کر آئے تھے اور وہ ایسے کہاں تھے کہ ایمان لے آتے ؟ اس کا عطف ظلموا پر ہے، جس طرح ہم نے ان لوگوں کو ہلاک کیا اسی طرح ہم کافروں مجرموں کو سزا دیتے ہیں اسے مکہ والو اب ان کے بعد ہم نے تم کو ان کی جگہ زمین میں جگہ دی ہے (خلٰئفَ ) خلیفۃ کی جمع ہے تاکہ ہم دیکھیں تم اس میں کیسے عمل کرتے ہو ؟ آیا تم ان سے عبرت حاصل کرتے ہو کہ ہمارے رسولوں کی تصدیق کرو، جب انھیں ہماری صاف صاف قرآنی باتیں سنائی جاتی ہیں بیناتٍ حال ہے، تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے یعنی بعث کا خوف نہیں رکھتے کہتے ہیں اس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ جس میں ہمارے معبودوں کی عیب جوئی نہ ہو یا اسی میں اپنی طرف سے کچھ ترمیم کردو (اے محمد) ان سے کہہ دو میرا یہ کام نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے کچھ تغیر تبدل کروں میں تو صرف اس وغی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے، اگر میں اس میں ترمیم کرکے اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے کہ وہ قیامت کا دن ہے، اور کہہ دو کہ اگر اللہ کی مشئیت یہی ہوتی تو میں تمہیں یہ قرآن کبھی نہ سناتا اور اللہ تم کو اس کی خبر تک نہ دیتا، اور لا نافیہ ہے اپنے ماقبل (یعنی لوشاء اللہ ماتلوتہ الخ) پر عطف ہے اور ایک قراءت میں لام کے ساتھ ہے جو اب لَوْ واقع ہونے کی وجہ سے یعنی میرے علاوہ کسی اور کی زبانی تم کو بتادیتا، آخر میں اس (قرآن کے نزول) سے پہلے تمہارے درمیان ایک عمر یعنی چالیس سال گزار چکا ہوں کہ میں نے تم سے (اپنی طرف سے) کوئی چیز بیان نہیں کی، کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے کہ یہ (قرآن) میری طرف سے نہیں ہے، پھر اس سے بڑا ظالم کون ہوگا ؟ کوئی نہیں، جس نے اللہ پر اس کی طرف شرک کی نسبت کرکے جھوٹا بہتان لگایا اس کی آیات یعنی قرآن کو جھٹلایا یقیناً شان یہ ہے کہ مجرم (مشرک) کبھی فلاح نہیں پاسکتے یہ لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی کر رہے ہیں جو کہ نہ ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اگر یہ ان کی بندگی نہ کریں، اور نہ ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اگر یہ ان کی بندگی کریں، اور وہ بت ہیں، اور ان بتوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ بت اللہ کے نزدیک ہمارے سفارشی ہیں (اے محمد) تم ان سے کہو کیا تم اللہ کو اس کی خبر دیتے ہو کہ اسے آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں استفہام انکاری ہے یعنی اگر اس کا کوئی شریک ہوتا تو وہ اس کو ضرور جانتا اسلئے کہ اس سے کوئی شئ پوشیدہ نہیں ہے وہ پاک ہے اور اس سے برتر ہے جس کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں (ابتداء) سارے لوگ ایک ہی امت تھے، یعنی ایک ہی دین پر تھے اور وہ اسلام ہے، آدم (علیہ السلام) سے لے کر نوح (علیہ السلام) تک اور کہا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے لیکر عمر و بن لحی کے زمانہ تک، بعد میں انہوں نے اختلاف کیا بایں طور کہ بعض اسلام پر ثابت قدم رہے اور بعض نے انکار کردیا، اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات کا (یعنی) قیامت تک تاخیر عذاب کا فیصلہ کرلیا گیا ہوتا تو لوگوں کے درمیان دنیا ہی میں کافروں کو عذاب کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا جس دین کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں، اور اہل مکہ کہتے ہیں محمد پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟ جیسی کہ انبیاء سابقین پر اتاری گئی تھی، کہ وہ اونٹنی، عصا اور یدبیضاء میں، تو ان سے کہو کہ غیب کا یعنی جو چیز بندوں سے غائب ہے یعنی اللہ کا حکم، مالک و مختار تو صرف اللہ ہی ہے ان (نشانیوں کو) صرف وہی لاسکتا ہے میرے ذمہ تو صرف تبلیغ ہے اگر تم ایمان نہیں لاتے تو عذاب کا انتظار کرو، میں بھی تمہارا انتظار کرتا ہوں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ای کاسْتِعْجَالِھِمْ ۔ سوال : استعجالھم کی تفسیر کاستعجالھم سے کاف کے اضافہ کے ساتھ کرنے کا کیا فائدہ ؟ جواب : استعجال بالخیر بعینہٖ استعجال بالشر نہیں ہے، حرف تشبیہ کاف کا اگر اضافہ نہ کیا جائے تو دونوں کا ایک ہونا لازم آتا ہے اسی فرق کو واضح کرنے کیلئے استعجالھم کی تفسیر کا ستعجالھم سے کی اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا استعجالھم، منصوب بنزع الخافض ہے۔ قولہ : بالرفع والنصب رفع قُضِیَ کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے اور نصب قضیٰ کے معروف ہونے کی صورت میں مفعول ہونے کی وجہ سے، اس صورت میں فاعل اللہ ہوگا۔ قولہ : یُمھلھم۔ سوال : یُمھِلُھُمْ ، کو محذوف ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ جواب : فَنَذَرُ ، میں فاء عاطفہ ہے اس کو معطوف علیہ کی ضرورت ہے حالانکہ اس کا معطوف علیہ ما سبق میں مذکور نہیں ہے اور نہ اس کا عطف قُضِی پر صحیح ہے نہ لفظاً اور معناً ، لفظاً اس وجہ سے کہ لَقضِیَ جواب لو ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اگر فَنَدرُ کا عطف لَقُضِیَ پر ہو تو فَنَذَر مجزوم ہونا چاہیے حالانکہ مجزوم نہیں ہے معنی کے اعتبار سے عطف درست نہ ہونا فساد معنی کی وجہ سے ظاہر ہے، لہٰذا فَنَذَرُ کا عطف اس نفی پر ہوگا جو لَوْ شرطیہ سے مفہوم ہے اسلئے کہ لَوْ یُعَجِّل، نفی تعجیل کے معنی کو متضمن ہے اسی نفی تعجیل کے مفہوم بیان کرنے کیلئے مفسر علام نے ولکن یمھلھم کا اضافہ فرمایا ہے، خلاصہ یہ ہوا کہ فَنَذَر کا عطف یمھلھم محذود پر ہے نہ کہ فَقُضِیَ پر۔ قولہ : وَقد جاءتھم۔ سوال : وَجَاء تْھُمْ ظَلَموا سے حال ہے حالانکہ ماضی بغیر قد کے حال واقع نہیں ہوسکتا۔ جواب : اسی اعتراض کو دفع کرنے کے لئے مفسر علام نے قَدْ محذوف مانا ہے۔ قولہ : حالٌ یعنی بَیّنٰتٍ ، اٰیتُناَ سے حال ہے نہ کہ صفت اس لئے کہ آیتنا اضافت کی وجہ سے معرفہ ہے اور بیّنٰت نکرہ ہے حالانکہ موصوف و صفت میں مطابقت ضروری ہوتی ہے۔ قولہ : وفی قراء ۃٍ بلام یعنی لا ادراکم کے بجائے لَاَدْرَاکم ہے یعنی لام تاکید کے ساتھ۔ قولہ : جواب لَوْ ، یعنی جواب لَوْ پر عطف ہے جو مَاتَتْلُونَہٗ ہے۔ تفسیر و تشریح آیت کے دو مفہوم : وَلَوْ یُعَجّلُ اللہ للناس الشرَّ (الآیۃ) اس آیت کے دو مفہوم ہیں ایک یہ کہ انسان جس طرح خیر کے طلب کرنے میں جلدی کرتا ہے اسی طرح وہ شر (عذاب) کے طلب کرنے میں بھی جلدی مچاتا ہے گویا کہ یہ اس کی فطرت جلد بازی کا اثر ہے اسی جلد بازی کا نتیجہ ہے کہ اللہ کے نبی سے کہتا ہے کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس سے تم ہم کو ڈراتے ہو، ولَوْ یُعَجِّلُ اللہ للناس میں اگرچہ عام انسانوں کی یہ فطرت بیان کی گئی ہے مگر مراد یہاں منکرین بعث ہیں جب ان کو عذاب آخرت سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہا کرتے تھے کہ وہ عذاب جس سے تم ڈراتے ہو کہاں ہے ؟ اگر سچے ہو تو وہ عذاب جلدی لے آؤ جیسا کہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں ابن اسحٰق سے اور مقاتل نے اپنی تفسیر میں نقل فرمایا ہے کہ یہ قول نضر بن الحارث کا ہے کہ اس نے ایک موقع پر کہا تھا ” اللّٰھُمَّ ان کان ھذا ھو الحق مِنْ عندکَ فامطر عَلَیْنَا حجارۃً مِنَ السماءِ “ یا اللہ اگر یہ بات (نزول قرآن کی) سچی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے، مذکورہ آیت میں اسی کا جواب دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر ہم ان کے مطالبے کے مطابق جلدی عذاب بھیج دیتے تو یہ کبھی کے موت و ہلاکت سے دو چار ہوگئے ہوتے لیکن ہم مہلت دیکر انھیں پورا موقع دیتے ہیں کہ اب بھی اپنی سرکشی سے باز آجائیں، مگر یہ اپنی روش بدلنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ یہ امر واقعہ ہے کہ ابھی کچھ ہی مدت پہلے کا وہ مسلسل اور سخت بلا خیز قحط ختم ہوا تھا جس کی مصیبت سے اہل مکہ چیخ اٹھے تھے، اس قحط کے زمانے میں قریش کے متکبروں کی اکڑی ہوئی گردنیں کافی حد تک ڈھیلی پڑگئی تھیں بت پرستی میں بھی کمی آگئی تھی خدائے واحد کی طرف رجوع بھی بڑھ گیا تھا نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ آخر کار ابو سفیان نے آکر نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ خدا سے اس بلا کو ٹالنے کے لئے دعاء فرمائیں آپ ﷺ نے دعاء فرمائی اور جب قحط ختم ہوگیا، بارش ہونے لگی اور خوشحالی کا دور دورہ شروع ہوگیا، تو ان لوگوں کی وہی سرکشیاں اور بداعمالیاں اور دین حق کے خلاف وہی سابقہ سرگر میاں پھر شروع ہوگئیں، جو دل خدا کی طرف رجوع ہونے لگے تھے وہ اپنی سابقہ غفلتوں میں پھر ڈوب گئے۔ آیت کا دوسرا مفہوم : دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح انسان اپنے لئے خیر اور بھلائی کی دعائیں مانگتا ہے جنہیں ہم قبول کرتے ہیں اسی طرح انسان جب غصے یا تنگی میں ہوتا ہے تو اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے اور اپنے مال وغیرہ کے لئے بددعائیں کرتا ہے جنہیں ہم اس لئے نظر انداز کردیتے ہیں کہ یہ زبان سے ہلاکت مانگ رہا ہے مگر دل میں اس کے ایسا ارادہ نہیں ہے، لیکن اگر ہم انسانوں کی بددعاؤں کے مطابق انھیں فوراً ہلاکت سے دوچار کرنا شروع کردیں تو پھر جلدی ہی یہ لوگ موت اور تباہی سے ہمکنار ہوجایا کریں اسی لئے حدیث شریف میں آتا ہے کہ تم اپنے لئے، اپنی اولاد کیلئے اور اپنے مال و کاروبار کیلئے بددعاء مت کیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بددعائیں اس گھڑی کو پالیں جس میں اللہ کی طرف سے دعاء قبول کی جاتی ہے پس وہ تمہاری بددعاء قبول فرما لے۔ (سنن ابی داؤد کتاب الوتر، مسلم کتاب الزھد) وَاِذَا مسَّ الانسانَ الضُرُّ دعانَا، (الآیۃ) اس آیت میں منکرین توحید و آخرت بلکہ انسان کی اس حالت کا تذکرہ ہے جو انسان کی اکثریت کس شیوہ ہے بلکہ بہت سے اللہ کے ماننے والے بھی اس کوتاہی کا عام ارتکاب کرتے ہیں، مصیبت کے وقت تو خوب اللہ اللہ ہوتی ہے دعائیں کی جاتی ہیں نمازوں کی پابندی بھی ہوتی ہے مسجدیں خوب آبار نظر آتی ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ صمیبت کا وہ سخت وقت اپنی رحمت سے نکال دیتا ہے تو پھر انسان بارگاہِ الہیٰ میں دعاء و تضرع تو کجا فرائض سے بھی غافل ہوجاتا ہے۔ وَلَقَدْ اَھْلکنَا القرونَ الاولیٰ مِنْ قبلکم (الآیۃ) اس آیت میں کفار مکہ کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی ڈھیل سے یہ نہ سمجھنا کہ دنیا میں عذاب آہی نہیں سکتا پہلی بہت سی امتوں کو ان ہی اسباب کی وجہ سے جو تم میں بدرجہ اتم موجود ہیں ہلاک کیا جاچکا ہے، ایسا نہ ہو کہ کہیں تم بھی پہلی امتوں کی طرح ہلاکت سے دو چار ہوجاؤ۔ قوموں کی ہلاکت کی دوسری صورت : قرآن کریم میں ” قرون “ کا لفظ استعمال ہوا ہے قرون قرن کی جمع ہے جس سے عربی زبان میں عام طور پر ایک عہد کے لوگ مراد ہوتے ہیں، لیکن قرآن نے جس انداز سے مختلف قوموں پر اس لفظ کا استعمال کیا ہے اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرن سے مراد وہ قوم ہے جو اپنے دور میں برسر عروج اور کلّی یا جزوی طور پر امامتِ عالم پر سرفراز رہی ہو ایسی قوم کی ہلاکت کے لازماً یہی معنی نہیں کہ اس کی نسل کو بالکل غارت ہی کردیا جائے، بلکہ اس کو مقام عروج و امامت سے گرا دیا جانا، اس کی تہذیب و تمدن کا تباہ ہوجانا، اس کے تشخص کا مٹ جانا اور اس کے اجزاء کا پارہ پارہ ہوجانا، یہ بھی ہلاکت ہی کی ایک صورت ہے ثم جَعَلْنا کم خَلٰئِفَ فی الارض، اس آیت میں خطاب خاص طور پر اہل مکہ کو اور عام طور پر اہل عرب کو ہے ان سے یہ کہا جا رہا ہے کہ پچھلی قوموں کو اپنے اپنے زمانہ میں کام کرنے اور اپنی اصلاح کرنے کا موقع دیا گیا تھا مگر انہوں نے نہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ کی اور نہ کار مفوضہ کو انجام دیا بلکہ بغاوت و سرکشی کی روش اختیار کی، اور جو انبیاء (علیہم السلام) ہم نے ان کو راہ راست دکھانے کیلئے بھیجے تھے ان کی بھی ایک نہ سنی آخر کار وہ امتحان میں ناکام ہوئے اور انھیں میدان سے ہٹا دیا گیا، اے اہل مکہ ! اور اہل عرب ! اب تمہاری باری آئی ہے تمہیں ان کی جگہ کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے تم اسی امتحان گاہ میں کھڑے ہو جس سے تمہارے پیش رو نام کام ہونے کی وجہ سے نکالے جا چکے ہیں اگر تم نہیں چاہتے کہ تمہارا بھی انجام وہی ہو جو ان کا ہوا تو اس موقع سے جو تم کو دیا گیا ہے صحیح فائدہ اٹھاؤ، پچھلی قوموں کی تاریخ سے سبق لو اور ان غلطیوں کا اعادہ نہ کرو جو ان کی تباہی و ہلاکت کی موجب ہوئیں۔ مشرکین مکہ کی ناروا فرمائش اور اس کی تردید : واِذَا تتلی عَلَیْھم آیاتنا بینٰتٍ (الآیۃ) ان چار آیتوں میں مشرکین کی ناروا فرمائش کی تردید ہے مشرکین مکہ کی ناروا فرمائش یہ تھی کہ یہ قرآن تو ہمارے عقائد و نظریات کے خلاف ہے جن بتوں کی ہمارے باپ دادا ہمیشہ تعظیم کرتے آئے ہیں اور ان کو حاجت روا مانتے آئے ہیں قرآن ان سب کو باطل اور لغو قرار دیتا ہے اور بہت سی چیزیں جنہیں ہم استعمال کرتے چلے آئے ہیں قرآن ان سب کو حرام قرار دیتا ہے اور قرآن کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے اور حساب کتاب دینا ہوگا، یہ سب چیزیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ان کو ہم ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں اس لئے آپ یا تو ایسا کریں کہ اس قرآن کے بجائے کوئی دوسرا قرآن بنادیں جس میں یہ چیزیں نہ ہوں یا کم از کم اسی میں ترمیم کرکے ان چیزوں کا نکال دیں، مشرکین مکہ کا یہ خیال اول تو اس مفروضہ پر مبنی تھا کہ محمد ﷺ جو کچھ پیش کر رہے ہیں یہ خدا کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ان کے اپنے دماغ کی تصنیف ہے اس کو خدا کی طرف منسوب کرکے صرف اس لئے پیش کیا ہے کہ ان کی بات کا وزن بڑھ جائے۔ قُلْ ما یکون لِیْ أنْ اُبَدِّلَہٗ ، یہ مذکورہ دونوں باتوں کا جواب ہے اس میں یہ بات صاف کردی گئی کہ اس کتاب کا مصنف میں نہیں ہوں بلکہ یہ تو وحی کے ذریعہ میرے پاس آئی ہے جس میں کسی ردو بدل کا مجھے اختیار نہیں اور نہ اس معاملہ میں مصالحت کا قطعاً کوئی امکان ہے، قبول کرنا ہو تو اس پورے دین کو قبول کرو ورنہ پورے کو رد کردو۔ قُل لَوْ شاء اللہ ما تَلَوْتُہ علیکم ولا ادراکم بہ، یعنی سارا معاملہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے وہ چاہتا تو میں نہ تمہیں پڑھ کر سنا تا نہ تمہیں اس کی کوئی اطلاع ہی ہوتی، بعض حضرات نے ” ما اددراکم بہ “ کے معنی کئے ہیں اَعْلمکم بہ علی لسانی، کہ وہ تم کو میری زبانی اس قرآن کی بات کچھ نہ بتلاتا، میری کیا طاقت کہ میں اپنی طرف سے کلام بنا کر پیش کروں اور کہہ دوں کہ یہ اللہ کا کلام ہے، آخر میری عمر کے چالیس سال تمہارے درمیان گزرے ہیں، اس قدر طویل مدت میں تمہیں میرے حالات سے متعلق ہر قسم کا تجربہ ہوچکا ہے میری دیانت اور صدق و عفات تم میں ضرب المثل ہے، میرا امی ہونا اور کسی ظاہری معلم کے سامنے زانوئے ادب تہ نہ کرنا ایک معروف و مسلم واقعہ ہے پھر چالیس سال تک جس نے نہ کوئی قصیدہ لکھا ہو اور نہ شاعروں میں شریک ہوا ہو نہ کبھی کتاب کھولی ہو اور نہ کبھی قلم ہاتھ میں پکڑا ہو اور نہ کسی درسگاہ میں بیٹھا ہو دفعۃً ایسا کلام بنا لائے جو اپنی فصاحت و بلاغت، شوکت و جزالت، جدّت اسلوب اور سلاست و روانی سے جن و انس کو عاجز کر دے یہ بات کسی کی سمجھ میں آسکتی ہے ؟ تم کو سوچنا چاہیے کہ جس پاک سرشت انسان نے چالیس سال تک کسی انسان پر جھوٹ نہ لگایا ہو وہ ایک دم ایسی جسارت کرسکتا ہے کہ معاذ اللہ خداوند قدوس پر جھوٹ باندھے ناچار ماننا پڑے گا جو کلام الہیٰ کو سنایا جا رہا ہے یہ خدائی کلام ہے اور کسی کو یہ اختیار نہیں کہ اسکے ایک زیر یا زبر کو بھی تبدیل کرسکے۔ وَیقولونَ لَوْلا انزلَ علیہ آیۃٌ من رّبہٖ ، اس سے مراد کوئی بڑا اور واضح معجزہ ہے، جیسے قوم ثمود کے لئے اونٹنی کا ظہور ہوا، ان کیلئے صفا پہاڑی کو سونے کا یا مکہ کے پہاڑوں کو ختم کرکے ان کی جگہ نہریں اور باغات بنانے کا یا اور کوئی اس قسم کا معجزہ صادر کرکے دکھلایا جائے، خدا تعالیٰ کو اس بات پر قدرت حاصل ہے کہ ان کی خواہشات کے مطابق معجزہ ظاہر فرما دے لیکن اس کے بعد بھی اگر وہ ایمان نہ لائے تو اللہ کا قانون یہ ہے کہ ایسی قوم کو فوراً ہلاک کردیتا ہے اس لئے اس بات کا علم صرف اسی کو ہے کہ ان کے مطلوبہ معجزے اگر ان کو دکھائے گئے تو انھیں کتنی مہلت دی جائے گی ؟ اسی لئے آگت فرمایا تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ دراصل یہ منکرین کی مریض ذہنیت کا بیان ہے کہ ان کو تسلی تو کسی معجزے یا کسی نشانی یا کسی آیت سے نہیں ہوتی اور ان کو تسلی مقصود نہیں بلکہ ہر اعجازی واقعہ کی کوئی نہ کوئی مادی توجیہ و تاویل کرلیتے ہیں اور فوراً ہی دوسرے معجزے کی فرمائش کردیتے ہیں۔
Ayahs 10:21–30

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں۔

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے ہو اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں سے) سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کر کے اس سے دعا مانگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں۔

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں لوگو ! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا۔ (تم) دنیا کی زندگی کے فائدے (اُٹھالو) پھر تم کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی زندگی کی مثال مینہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی۔ اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں۔ ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لئے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے نیکو کاری کی انکے لئے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور انکے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلّت چھا جائے گی اور کوئی انکو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھا دئیے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور انکے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو تو نہیں پوجا کرتے تھے۔

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بیخبر تھے۔

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

آیت نمبر 21 تا 30 ترجمہ : اور لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کو یعنی کفار مکہ کو تکلیف اور قحط سالی کے بعد جو ان کو پیش آچکی ہوتی ہے رحمت یعنی بارش اور خوشحالی کا مزا چکھا دیتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں کے بارے میں استہزاء اور تکلیف کے ذریعہ چالبازیاں کرنے لگتے ہیں ان سے کہو کہ اللہ چالنازی کا جواب دینے میں تم سے زیادہ تیز ہے (اور) بلاشبہ ہمارے فرشتے ان کی مکاریوں کو قلمبند کر رہے ہیں (تمکرون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، وہ اللہ ہی ہے کہ جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے اور ایک قراءت میں ینشرون ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو نرم (موافق) ہوا کے ذریعہ لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں تو (اچانک) ہوا کا ایک شدید بگولا آتا ہے جو ہر شئ کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتا ہے، اور ہر طرف سے موجیں آنے لگتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ (برے) آگھرے یعنی وہ اب ہلاک کئے گئے، اس وقت یہ لوگ دین کو اللہ کیلئے خالص کرکے (اخلاص کے ساتھ) اللہ سے دعاء کرنے لگتے ہیں اور قسمیہ کہتے ہیں (لئن میں) لام قسمیہ ہے اگر تو نے ہم کو ان ہولناکیوں سے نجات دیدی تو ہم تیرے شکر گزار موحد بندوں میں سے ہوجائیں گے مگر جب ہم نے ان کو بچا لیا تو پھر وہی لوگ زمین پر شرک کرکے ناحق سرکشی کرنے لگے، لوگو یہ سرکشی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے اس لئے کہ اس کا گناہ تمہارے اوپر ہے دنیا کے چند روزہ مزے ہیں، چند روز لوٹ لو موت کے بعد تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے اس وقت ہم تمہیں بتادیں گے کہ تم (دنیا میں) کیا کچھ کیا کرتے تھے، پھر ہم تم کو اس کا بدلہ دیں گے اور ایک قراءت میں متاعٌ کے نصب کے ساتھ ہے، (ای تتمتعون متاع الحیٰوۃ الدنیا) دنیوی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے پانی برسا جس کی وجہ سے زمین کی پیداوار خوب گھنی ہوگئی، جس میں سے انسان کھاتے ہیں مثلاً گندم، جو وغیرہ، اور جانور کھاتے ہیں مثلاً گھاس وغیرہ، پھر عین اس وقت جبکہ زمین اپنی پوری بہار پر تھی یعنی ہریالی کی وجہ سے پر رونق تھی، اور اس کی رونق کی وجہ سے خوب زیبائش ہوگئی (ازّیّنَتْ ) کی اصل تَزَیَّنَیِتْ تھی، تاء کو زاء سے بدل کر زاء کو زاء میں مدغم کردیا پھر اس کے شروع میں ہمزہ وصل کا اضافہ کردیا گیا، اور اس کے مالک سمجھ رہے تھے کہ اب ہم اس (سے فائدہ حاصل کرنے) پر قادر ہیں یعنی اس کے پھلوں (پیداوار) سے فائدہ اٹھانے پر قادر ہیں یکایک رات میں یا دن میں ہمارا حکم یعنی فیصلہ یا عذاب اس پر آپڑا تو ہم نے اس کھیتی کو صاف کردیا جیسا کہ درانتی سے کٹی ہوئی کھیتی، ایسی جیسا کہ کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں، اسی طرح کھول کھول کر نشانیاں بیان کرتے ہیں، ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرنے والے ہیں اور اللہ ایمان کی دعوت دے کر سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور وہ جنت ہے اور وہ جس کی ہدایت چاہتا ہے اس کی صراط مستقیم (یعنی) دین اسلام کی جانب رہنمائی کرتا ہے جن لوگوں نے ایمان کے ساتھ نیکی کی ان کیلئے خوبی (یعنی) جنت ہے، اور مزید برآں بھی، اور وہ (مزید) اللہ کا دیدار ہے جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے، اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت مشقت، یہی لوگ جتنی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اور جن لوگوں نے بدی کی ہوگی اس (الذین) کا عطف اَلذِین اَحسَنُوا پر ہے (تقدیر عبارت) ولِلَّذِیْنَ کَسَبُوا ہے، ان کی بدی کی سزا ان کی بدی کے مثل ہوگی اور ان پر ذلت چھائی ہوگئی ان کو اللہ (کے عذاب) سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا، مِن زائدہ ہے گویا کہ ان کے چہروں پر سیاہ رات کا ایک حصہ ڈال دیا گیا ہوگا (قطعاً ) طاء کے فتحہ کے ساتھ، قِطَعًا قِطعۃ کی جمع ہے، اور سکون طاء کے ساتھ بمعنی حصہ ہے یہی لوگ جہنمی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس دن ہم تمام مخلوق کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک بت اپنی جگہ ٹھہرو (مکانکم) الذموا مقدر کی وجہ سے منصوب ہے (انتم) فعل مقدر (الْمزموا) میں ضمیر مستتر کی تاکید ہے تاکہ (ضمیر مستتر) پر عطف درست ہوسکے، تو ہم ان کے اور مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالدیں گے جیسا کہ (آیت) وَامْتَازُوا الیوم ایُّھا المجرمون، میں ہے، اور ان سے وہ شرکاء کہیں گے تم ہماری بندگی نہیں کرتے تھے مَا، نافیہ ہے فواصل کی رعایت کی وجہ سے مفعول (اِیّانا) کو مقدم کردیا گیا ہے، سو ہمارے اور تمہارے درمیان گواہ کے طور پر اللہ کافی ہے انْ مخففہ عن المثقلہ ہے ای اِنَّا، ہم تو تمہاری اس عبادت سے بالکل بیخبر ہے اس دن ہر شخص اپنے کئے کا مزہ چکھ لے گا تبلوا، بلویٰ ، سے ماخوذ ہے اور ایک قراءت میں دو تاؤں کے ساتھ ہے (اس وقت) یہ تلاوۃ سے ماخوذ ہوگا، اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مولائے حقیقی ہے ثابت و دائم ہے، لوٹائے جائیں گے اور جو جھوٹ انہوں نے شرکاء کے بارے میں گھڑ رکھے تھے غائب ہوجائیں گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَاِذَا اَذقْنَا النَّاسَ ۔۔۔ الی۔۔ اِذَا لَھُمْ مکر فی آیتنا، واو استینا فیۃ اِذا ظرفیۃ متضمن بمعنی شرط، اِذَا لَھُمْ ، جزاءِ شرط ہے اِذَا مفاجاتیہ ہے۔ قولہ : مجازاۃ۔ سوال : مکرٌ کی تفسیر مجازاۃ سے کرنے کا کیا مقصد ہے ؟ جواب : چونکہ مکر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف مناسب نہیں ہے اسلئے مکر کی تفسیر جزاء مکر سے کی ہے۔ قولہ : السفن، فُلْکٌ کا صیغہ چونکہ مفرد اور جمع کیلئے مشترک ہے اسلئے فُلک کی تفسیر سُفْنٌ سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہاں جمع مراد ہے قولہ : فیہ التفاتٌ عن الخطاب، سابق میں خطاب کے صیغے استعمال ہوئے ہیں جَرَیْنَ بھم میں غائب کی ضمیر لائی گئی ہے ایسا زیادتی تقبیح کو بیان کرکے کیلئے کیا گیا ہے جَرَیْنَ ماضی جمع مؤنث غائب کا صیغہ ہے وہ چلیں، ہو جاری ہوئیں، متعدی بالیاء کی وجہ سے اس کے معنی ہیں وہ کشتیاں ان کو لے کر چلیں۔ قولہ : ریحٌ، الھَوَاء الْمسخر بین السّماءِ وَالارض، ریح فضاء میں معلق ہوا کو کہتے ہیں (المصباح) رِیحٌ اصل میں رِوْحٌ کو ماقبل مکسور ہونے کی وجہ سے یاء سے بدل دیا رِیحٌ ہوگیا اس کی جمع اَرواحٌ اور رباحٌ آتی ہے ریحٌ مؤنث سماعی ہے۔ قولہ : وظَنَّوا اَنَّھم اُحِیْطَ بِھِمْ اس کا عطف جَاءَھُمْ پر ہے اور اِنَّ اور جو اس کے ماتحت ہے وہ ظَنَّوا کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے اور اُحِیْطَ بِھِمْ أنَّ کی خبر ہے اور جملہ دَعَوْا اللہ الخ ظَنّوا سے بدل الاشتمال ہے اسلئے کہ ان کی دعاء ان کے ہلاکت کے گمان کے لوازم میں سے ہے، اور سوال مقدر کا جواب ہونے کی صورت میں جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے (یعنی) ما ذا صَنَعُوا ؟ قیلَ دَعَوْا اللہ مخلصین لہ الدین۔ قولہ : اصلہ تَزَیَّنَتْ ، باب تَفَعُّلٌ۔ قولہ : زَرْعَھَا۔ سوال : یہاں حذف مضاف سے کیا فائدہ ہے ؟ جواب : اگر زرع مضاف محذوف نہ مانا جائے تو نفس ارض کو کاٹنا لازم آئیگا حالانکہ زمین کے کاٹنے کا کوئی مطلب نہیں ہے اسلئے زرع مضاف محذوف مانا، اور اظہار مبالغہ کیلئے مضاف کو حذف کردیا یعنی کھیتی کو کاٹ کر ایسا صاف کردیا گو یا زمین ہی کو کاٹ کر صاف کردیا قولہ : عطفٌ علی الَّذِیْنَ احسنوا، یہ ان لوگوں کے قول کے مطابق ہے جو فی الدار زید والحجرۃ عمرو کی ترکیب کو جائز کہتے ہیں۔ تفسیر و تشریح وَاِذَا اَذَقْنَا الناسَ رحمۃ (الآیۃ) یہ اسی سات سالہ خشک سالی کے ابتلاء کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر ابھی آیت نمبر 11۔ 12 میں گذرا ہے جس میں وہ درختوں کے پتے اور سوکھا چمڑا کھانے پر مجبور ہوگئے تھے ضعف اور کمزوری کا یہ عالم تھا کہ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا اور آسمانوں پر دھواں نظر آنے لگا تھا اور جس سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اپنے معبودوں سے مایوس ہو کر جن کو مشرکوں نے اللہ کے یہاں سفارشی ٹھہرا رکھا تھا، ابو سفیان نے آپ ﷺ کی خدمت میں مدینہ آکر بارانِ رحمت کی دعا کرائی تھی اور آپ کی دعا کی بدولت ان کی یہ سات سالہ مصیبت دور ہوئی تھی اور جب وہ مصیبت دور ہوگئی تو بجائے اس کے کہ اللہ وحدہ پر ایمان لاتے اور آپ ﷺ کی رسالت کو قبول کرتے اس خشک سالی کی مختلف تاویل و توجیہ کرکے کہنے لگے کہ یہ خشک سالی کوئی نئی بات نہیں ہے خشک سالی تو دنیا میں کہیں نہ کہیں ہوتی ہی رہتی ہے اور ہمارے یہاں بھی اس سے پہلے بارہ خشک سالی ہوئی ہے البتہ اتنی بات ہے کہ اس مرتبہ ذرا طویل ہوگئی، مشرکین کی اسی حرکت کو مکرو چالبازی سے تعبیر کیا ہے۔ قُل اللہ اسرع مکراً ، عربی لغت کے اعتبار سے مکر خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں جو اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی یہاں اردو محاورہ کا مکر مراد نہیں ہے جو کہ دھوکہ اور فریب کو کہتے ہیں، جس سے حق تعالیٰ بری ہے، بلکہ یہاں جزاء مکر مراد ہے اور وہ اس طرح کہ اگر تم اپنا رویہ درست نہیں کرتے تو وہ تمہیں اسی باغیانہ روش پر چلتے رہنے کی چھوٹ دے گا اور جیتے جی اپنے رزق اور اپنی نعمتوں سے نوازتا رہے گا جس سے تمہارا نشہ زندگانی تمہیں یوں ہی مست رکھے گا، اور اس مستی کے دوران جو کچھ تم کرو گے وہ سب اللہ کے فرشتے خاموشی کے ساتھ بیٹھے لکھتے رہیں گے حتی کہ اچانک موت کا پیغام آجائیگا اور تم اپنے کرتوتوں کا حساب دینے کیلئے گرفتار کرلیے جاؤ گے وَاللہ یدعوآ الی دار السلام، یہاں دار السلام سے مراد جنت ہے جنت کو دار السلام اسلئے کہا گیا ہے کہ وہاں سلامتی ہی سلامتی ہے نہ وہاں کسی قسم کا غم اور نہ تکلیف نہ بیماری کا خطرہ اور نہ موت کا غم جنت کا دار السلام نام رکھنے کی ایک دوسری وجہ احادیث میں یہ بھی وارد ہوئی ہے کہ جنتیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیز فرشتوں کی طرف سے سلام پہنچتا رہے گا۔ جنت میں خدا کا دیدار : لِلَّذِیْن اَحسنوا الحسنیٰ وزیادۃ، زیادۃ سے مراد حق تعالیٰ کا دیدار ہے جو اہل جنت کو حاصل ہوگا، صحیح مسلم میں حضرت صہیب کی روایت سے منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب اہل جنت جنت میں داخل ہوجائیں گے تو حق تعالیٰ ان سے فرمائیں گے کہ کیا تمہیں اور کسی چیز کی ضرورت ہے ؟ اگر ہو تو بتلاؤ ہم اسے پورا کریں گے، اہل جنت جواب دیں گے کہ آپ نے ہمارے چہرے روشن کئے، ہمیں جنت میں داخل فرمایا، جہنم سے نجات دی، اس سے زیادہ اور کیا چیز طلب کریں ؟ اس وقت درمیان سے حجاب اٹھا دیا جایئگا اور سب اہل جنت حق تعالیٰ کا دیدار کریں گے، تب معلوم ہوگا کہ جنت کی ساری نعمتوں سے بڑھ کر یہ نععمت بھی جس کی طرف ان کا دھیان بھی نہیں گیا تھا جو رب العلمین نے محض اپنے فضل و کرام سے بےمانگے عطا فرمائی۔