Ayah 9:1سُوْرَةُالتَّوْبَةِ مَدَنِیَّة او اِلاَّالاٰ یتین اخرھا مائة وث الا ایة
سورة توبہ مدنی ہے مگر دو آیتیں یا ایک آیت جو کہ سورة توبہ کی آخری آیت ہے
کل ایک سو تیس آیتیں ہیں۔
وضاحت : بعض نسخوں میں پہلا اَوْ نہیں ہے جیسا کہ جمل کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے، ازروئے تحقیق یہی قول راجح معلوم ہوتا ہے
مطلب : مطلب یہ ہے کہ پوری سورة توبہ مدنی ہے مگر علی اختلاف القولین سورت کی آخری دو آیتیں یا ایک آیت مکی ہے آخری دو آیتیں '' لقد جاء کم رسول من انفسکم الخ ہیں '' بعض حضرات نے الاّ آیة کو مائة وثلثون سے مستثنیٰ قرار دیا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ کل ایک سو تیس آیتیں ہیں مگر ایک کم یعنی ایک سو انتیس آیتیں ہیں اس صورت میں ترکیب واضح ہیں چناچہ ایک روایت 129 کی بھی ہے۔
فائدہ : جن نسخوں میں پہلا او نہیں ہے اس صورت میں دو قول ہوں گے (1) پوری سورت مدنی ہے یا آخری دو آیتوں کے سوا پوری سورت مدنی ہے اور جن نسخوں میں او ہے اس کے اعتبار سے تین قول ہوں گے۔ (2) پوری سورت مدنی۔ (3) پوری سورت مدنی مگر آخری دو آیتیں۔ (4) پوری سورت مدنی مگر آخر کی ایک آیت، حالانکہ قول صرف دو ہی ہیں، معلوم ہوا کہ پہلا او سبقت قلم یا کتابت کی غلطی ہے۔
ترکیب : سورة التوبة بترکیب اضافی مبتداء، مدنیة مستثنیٰ منہ الا حرف استثنائ، ال آیتین ذوالحال، آخرھا بترکیب اضافی حال، حال ذوالحال سے مل کر معطوف علیہ، اَوْ حرف عطف الا حرف استثناء آیة معطوف، معطوف اپنے معطوف علیہ سے مل کر مبتداء کی خبر اول، مائة وثلٰثون ممیز آیة تمیز محذوف، ممیز اپنی تمیز سے مل کر مبتداء کی خبر ثانی، مبتداء اپنی دونوں خبروں سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔
آیت نمبر 1 تا 7
ترجمہ : اس سورت کے آغاز میں بسم اللہ نہیں لکھی گئی اس لئے کہ اس کا آنحضرت ﷺ نے حکم نہیں فرمایا جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا ہے جس کو حاکم نے روایت کیا ہے، اور اسی کے ہم معنی حضرت علی ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ بسم اللہ امان ہے اور یہ سورت تلوار (جہاد) کے ذریعے رفع امن کے لئے نازل ہوئی ہے اور (حضرت) حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ تم اس سورت کو سورة توبہ کہتے ہو حالانکہ یہ سورة عذاب ہے اور (امام) بخاری نے (حضرت) براء ؓ (بن عازب) سے روایت کیا ہے کہ یہ آخری سورت ہے جو نازل ہوئی، یہ اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے بیزاری کا اعلان ہے (جو کہ) ان مشرکوں کے متعلق ہے جن سے تم نے مطلق (یعنی غیر میعادی) یا چار ماہ سے کم وبیش کا عہد کیا ہو اور (مشرکوں نے) نقض عہد کیا ہو (اظہار بیزاری) اللہ تعالیٰ کے قول (فسیحوا الخ) میں مذکور ہے (یعنی) اے مشرکو ! تم چار ماہ تک ملک میں امن کے ساتھ اور چل پھر لو، جس کی ابتداء شوال سے ہوگی آئندہ دلیل کی رو سے اور اس مدت کے بعد تمہارے لئے امن نہ ہوگا، یاد رکھو تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو یعنی اس کے عذاب سے بچ کر نہیں نکل سکتے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ منکرین (حق) کو رسوا کرنے والا ہے (یعنی) ان کو دنیا میں قتل کے ذریعہ اور آخرت میں آگ کے ذریعہ ذلیل کرنے والا ہے اور اعلان عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے تمام لوگوں کے لئے حج اکبر (یعنی) قربانی کے دن بایں طور کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں اور ان کے معاہدوں سے بری ہے اور اس کا رسول بھی بری ہے اور آپ ﷺ نے اسی سال حضرت علی ؓ کو (مکہ) بھیجا اور یہ (ہجرت کا) نواں سال تھا، چناچہ حضرت علی ؓ نے یوم نحر میں منیٰ کے میدان میں ان آیات کا اعلان فرمایا، اور یہ کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے گا اور نہ کوئی بیت اللہ کا بحالت عریاں طواف کرے گا، (رواہ البخاری) پس اگر تم کفر سے توبہ کرلو، تو یہ تمہارے ہی لئے بہتر ہے اور اگر تم ایمان سے روگردانی کرو گے تو یاد رکھو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو اور کافروں کو دردناک عذاب کی خبر دے دو اور وہ قتل وقید ہے دنیا میں اور آگ ہے آخرت میں بجز ان مشرکوں کے جن سے تم نے معاہدے کئے درد عذاب کی خبر دے دو اور وہ قتل وقید ہے دنیا میں اور آگ ہے آخرت میں بجز ان مشرکوں کے جن سے تم نے معاہدے کئے ہوں پھر انہوں نے تمہارے معاہدہ کی مدت پوری ہونے تک وفا کرو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ وفا کرنے والے متقیوں کو پسند کرتا ہے، پس جب (اشہر حرم) حرام مہینے گذر جائیں اور وہ معاہدہ کی آخری مدت ہے تو مشرکوں کو قتل کرو جہاں پائو حل میں یا حرم میں، اور ان کو قید کرلو اور ان کو قلعوں میں اور گڑھوں میں محصور کردو یہاں تک کہ قتال یا اسلام کے لئے مجبور ہوجائیں اور ان کی خبر لینے کے لئے ہر گھات میں تاک لگا کر بیٹھو (یعنی) ان کی گذرگاہوں پر بیٹھو اور کلَّ کا نصب حذف جار کی وجہ سے ہے پھر اگر وہ کفر سے توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ، اور ان سے تعرض نہ کرو بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کو معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اور اگر مشرکوں میں سے کوئی تم سے پناہ چاہے (یعنی) قتل سے آپ سے پناہ چاہے تو اس کو قتل سے امن دے دو (اَحَد) اس فعل (محذوف) کی وجہ سے مرفوع ہے جس کی تفسیر استجارک کر رہا ہے تاکہ وہ اللہ کا کلام قرآن سنے پھر اس کو اس کے مأمن (یعنی) پناہ گاہ تک پہنچا دو ، یعنی اگر وہ ایمان نہ لائے تو اس کو اس کی امن کی جگہ پہنچا دو ، اور وہ اس کی قوم کا علاقہ ہے تاکہ وہ اپنے معاملہ میں غور کرسکے یہ مذکورہ بات اس لئے ضروری ہے کہ یہ لوگ پوری طرح باخبر نہیں ہیں۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : عن حذیفة، اس اضافہ کا مقصد حضرت علی ؓ کے قول کی تائید ہے۔
قولہ : ھذہ، اس اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ برآء ة، ھذہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اس سے رد ہوگیا ان حضرات کا جنہوں نے کہا ہے کہ برآء ة مبتداء ہے اور الی الّذین عَاھَدْتم الخ، برآء ة کی خبر ہے، اسلئے کہ براء ة نکرہ ہے جس کا متبداء واقع ہونا درست نہیں ہے
قولہ : واصلة مفسر علام نے واصلة محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ من اللہ میں من ابتدائیہ ہے جو واصلة محذوف سے متعلق ہے تقدیر عبارت یہ ہے ھذہ براء ة واصلة الی الذین عاھدتم من اللہ ورسولہ۔
Ayahs 9:2–3قولہ : فسیحوا الخ، یہاں قولوا محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے فقولوالھم سیحوا، سیحوا میں امر اجازت کے لئے ہے یعنی تم کو صرف چار ماہ تک امن کے ساتھ یہاں رہنے کی اجازت ہے۔
قولہ : بدلیل مَا سَیَاتی، یہاں امر اجازت واباحت کے لئے ہے اس کی دلیل آئندہ آنے والی آیت '' فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِ کِیْنَ '' ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول '' فسیحوا اربعة اشھر '' شوال میں نازل ہوئی تھی اور اشھر حرم کا آخری مہینہ محرم ہے شوال کے شروع سے محرم کے آخر تک چار مہینے ہوتے ہیں۔
قولہ : یوم النحر۔ سوال : یوم الحج الاکبر کی تفسیر یوم النحر سے کیوں کی ؟
جواب : عمرہ کو چونکہ حج اصغر کہتے ہیں حج کو عمرہ سے ممتاز کرنے کے لئے حج اکبر کی تفسیر یوم النحر سے کردی اس لئے کہ یوم النحر حج ہی میں ہوتا ہے نہ کہ عمرہ میں، حضرت علی ؓ کی روایت سے بھی جس کو ترمذی نے روایت کیا ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حج اکبر سے مراد حج ہی ہے۔
قولہ : بریْء ایضاً اس میں اشارہ ہے کہ رَسُوْلُہ مبتداء ہے اور بریٔ اس کی خبر محذوف ہے لفظ ایضاً سے یہ فائدہ ہوگیا کہ رسولہ کا عطف بریٔ کی ضمیر مستتر پر ہے نہ کہ اَنَّ کے اسم کے محل پر اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ أنَّ کے اسم کے محل پر عطف ہے اور وہ باء محذوفہ کے تحت ہونے کی وجہ سے مجرور ہے حالانکہ وہ مرفوع ہے۔
Ayah 9:4قولہ : اِلاَّ الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ، اس میں دو وجہ ہیں اول یہ کہ الا الذین الخ کو مستثنیٰ منقطع قرار دیا جائے اور الاّ بمعنی لکن ہو اس صورت میں فالّذین مبتداء اور فاتمّوا الیھم الخ جملہ ہو کر مبتداء کی خبر ہوگی، دوسری صورت یہ ہے کہ الاّ الّذین الخ کو مستثنیٰ متصل قرار دیا جائے تو اس صورت میں بَرَائَ ة مِنَ اللہ وَرَسُولہ الی الذین عٰھدتم من المشرکین، میں مذکور المشرکین سے مستثنیٰ ہوگا، مگر اس صورت میں فصل بالاجنبی لازم آئے گا جو کہ ممنوع ہے، اگر المشرکین میں الف لام کو عہد کا لے لیا جائے تو مشرکین خاص سے وہ مشرکین مراد ہوں گے جنہوں نے نقض عہد نہیں کیا۔
قولہ : وھی مدة التاجیل اس عبارت کے اضافہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اشھر حرم سے معروف اشھرالحرم مراد نہیں ہیں، جو کہ رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ہیں بلکہ اربعة اشھر سے وہ چار مہینے مراد ہیں جن میں مشرکین کو قیام کرنے کی اجازت دی گئی تھی، مطلب یہ کہ مذکورہ آیت کے نزول کے وقت سے جن چار ماہ تک مکہ میں قیام کرنے کی اجازت دی گئی تھی بایں طور کہ شوال سے لے کر آخر محرم تک مشرکین مکہ کو مکہ میں قیام کی اجازت ہے اسکے بعد اگر کوئی پایا جائے گا تو اسکو گرفتار اور قتل کردیا جائے گا اشہر حرم سے یہی چار مہینے مراد ہیں .
قولہ : مرفوع بفعل یفسرہ استجارک یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : اِنْ احد مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ میں اِنْ اسم پر داخل ہے حالانکہ ان اسم پر داخل نہیں ہوتا۔
جواب : یہاں اِنْ کے بعد استجارک فعل محذوف ہے اور اس کی تفسیر بعد والا استجارک کر رہا ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔
تفسیر وتشریح
اس سوت کے تیرہ نام منقول ہیں، جو مندرجہ ذیل ہیں : (1) براء ة (2) المقشقشة (3) المبعثرة (4) المشردة (5) المخزیة (6) الفاضحة (7) المشیرة (8) الحافرة (9) المدمدمة (10) سورة العذاب (11) المنکلة (12) البحوث (13) التوبة، ان تمام ناموں کے معنی تقریباً ایک ہی ہیں یعنی رسوا اور ذلیل کرنا، ان میں پہلا اور آخری نام زیادہ مشہور ہے، اس کا نام توبہ اس وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس میں اہل ایمان کی معافی کا ذکر ہے اور برآء ة اس لئے نام رکھا گیا کہ اس کے آغاز ہی میں کفار و مشرکین سے برآء ة کا اعلان ہے۔
سورة برآء ة کی خصوصیت : اس سورت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس سورت کے شروع میں بسم نہیں لکھی جاتی اور نہ پڑھی جاتی ہے جبکہ قراءت کا سلسلہ پیچھے سے چلا آرہا ہے ابلتہ اگر سورة براء ة ہی سے قراءت کی ابتداء کی جائے تو بسم اللہ پڑھی جائے گی، اس سورت کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھے جانے کی متعدد وجوہات مفسرین نے نقل کی ہیں مگر ان سب میں سے وہی صورت راجح ہے جس کو علامہ سیوطی نے اختیار کیا ہے، یعنی اس سورت کے شروع میں بسم اللہ نازل نہیں ہوئی اس کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ نازل ہوئی ہے اور نہ آپ ﷺ نے سورة کے شروع میں بسم اللہ لکھنے کا حکم فرمایا، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) جب کوئی آیت لے کر آتے تو بحکم خداوندی یہ بھی بتاتے کہ یہ فلاں سورت میں فلاں آیت کے بعد رکھو اس سے معلوم ہوا کہ قرآنی آیات اور سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے، جب بھی کوئی سورت نازل ہوتی تو اس کے ساتھ اس کے شروع میں بسم اللہ بھی نازل ہوتی مگر جب سورة توبہ نازل ہوئی تو اس کے ساتھ بسم اللہ نازل نہیں ہوئی اور نہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے شروع میں بسم اللہ لکھنے کا حکم فرمایا۔
حضرت عثمان غنی ؓ نے جب اپنی خلاف کے زمانہ میں قرآن مجید کو کتابی صورت میں ترتیب دیا تو دیگر سورتوں کے برخلاف سورة توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہ تھی اس لئے یہ شبہ ہوا کہ شاید مستقل سورت نہ ہو بلکہ کسی سورت کا جزء ہو مضامین کے اعتبار سے سورة انفال اس کے مناسب معلوم ہوئی اسی وجہ سے سورة توبہ کو سورة انفال کے آخر میں رکھا گیا، چونکہ سورة توبہ کے بارے میں دو احتمال تھے ایک یہ کہ اول سورت کا جزء ہو دوسرے یہ کہ مستقل سورت ہو دونوں احتمالوں کی رعایت اس طریقہ پر کی گئی کہ بسم اللہ تو نہ لکھی گئی مگر بسم اللہ کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی اس ترکیب سے دونوں احتمالوں کی رعایت ہوگئی۔
حضرت علی ؓ سے سورة توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھنے کی جو یہ وجہ منقول ہے کہ بسم اللہ امان ہے اور سورة توبہ میں کفار کے امان اور عہد و پیمان کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لہٰذا مناسب یہی تھا کہ اس کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھی جائے اور نہ پڑھی جائے، یہ محض ایک نکتہ اور لطیفہ تو ہوسکتا ہے مگر یہ علت نہیں ہے۔ اس سورت کے مضامین کو کما حقہ سمجھنے کے لئے ان چند واقعات کا سمجھ لینا ضروری ہے جن کا ذکر اس سورت میں آیا ہے، سورة توبہ میں چند غزوات اور ان کے متعلق احکام و مسائل کا بیان ہوا ہے مثلاً تمام قبائل عرب سے معاہدات کا ختم کردینا، فتح مکہ، غزوہ حنین، غزوہ ٔ تبوک، ان واقعات میں فتح مکہ سب سے پہلے 8 ھ میں پھر غزوہ حنین پھر اسی سال غزوہ تبوک رجب 9 ھ میں پھر تمام قبائل عرب سے معاہدات ختم کرنے کا اعلان
ذی الحجہ 9 ھ میں ہوا۔
معاہدات ختم کرنے کی تفصیل : 6 ھ میں رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا قصد فرمایا اور قریش مکہ نے آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا اور مقام حدیبیہ میں ان سے صلح ہوئی اس صلح کی مدت دس سال تھی، قریش کے علاوہ دیگر قبائل بھی مکہ میں رہتے تھے، معاہدہ صلح کی ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ قریش کے علاوہ دوسرے قبائل میں سے جس کا جی چاہے وہ قریش کا حلیف اور ساتھ بن جائے اور جس کا جی چاہے وہ آنحضرت ﷺ کا حلیف ہو کر ان کے ساتھ مل جائے، چناچہ قبیلہ خزاعہ نے آپ ﷺ کا حلیف بننا پسند کیا اور قبیلہ بنی بکر قریش کا حلیف بن کر قریش کے ساتھ ہوگیا، اس معاہدہ کی رو سے یہ لازم تھا کہ دس سال کے اندر نہ باہمی جنگ ہوگی اور نہ کسی حملہ آور کی کسی قسم کی مدد کی جائے گی اور جو قبیلہ جس کا حلیف ہے وہ بھی اس معاہدہ میں شریک سمجھا جائے گا اس پر حملہ کرنا یا حملہ آور کی مدد کرنا معاہدہ کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، یہ معاہدہ 6 ھ میں ہوا 7 ھ میں معاہدہ کے مطابق رسول اللہ ﷺ مع صحابہ کرام کے عمرہ کی قضا کے لئے مکہ تشریف لے گئے اور تین روز قیام فرما کر حسب معاہدہ واپس تشریف لے آئے، اس وقت تک کسی فریق کی جانب سے معاہدہ کی کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، اس کے بعد پانچ یا چھ ماہ گزرے تھے کہ قبیلہ بنی بکر نے قبیلہ خزاعہ پر رات کے وقت شب خون مارا ان دونوں قبیلوں کے درمیان زمانہ جاہلیت سے اَنْ بَنْ چلی آرہی تھی اس کا سبب یہ ہوا کہ ایک مرتبہ مالک بن عباد حضرمی مال تجارت لے کر بنو خزاعہ کے علاقہ سے گزر رہا تھا کہ بنو خزاعہ کے لوگوں نے اسکو قتل کردیا اور تمام مال و سامان لوٹ لیا، بنو بکر نے موقع پر کر حضرمی کے بدلے میں بنو خزاعہ کے ایک آدمی کو قتل کر ڈالا قبیلہ خزاعہ نے اپنے ایک آدمی کے بدلے بنو بکر کے تین سرداروں ذئویب اور سلمی اور کلثوم کو میدان عرفات میں حدود حرم کے قریب قتل کر ڈالا
حدیبیہ میں ایک میعادی صلح ہوجانے کی وجہ سے فریقین ایک دوسرے سے مامون اور بےخوف ہوگئے بنو بکر نے اپنی دشمنی نکالنے کا موقع غنیمت سمجھا چناچہ بنو بکر میں سے نوفل اور معاویہ نے اپنے مددگاروں کے ساتھ مل کر بنو خزاعہ پر شب خوب مارا رات کا وقت تھا خزاعہ کے لوگ پانی کے ایک چشمہ پر سوئے ہوئے تھے۔ قریش میں سے صفوان بن امیہ اور شیبہ بن عثمان وغیرہ نے پوشیدہ طور پر بنو بکر کی جانی اور مالی مدد کی۔ بنو خزاعہ نے بھاگ کر حرم میں پناہ لی مگر ان کو حرم میں بھی قتل کردیا گیا قریش یہ سمجھے ہوئے تھے کہ دور کا معاملہ ہے اور رات کا وقت ہے رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع نہ ہوگی اگرچہ قریش کو اپنی حرکت پر بعد میں ندامت ہوئی اور عہد شکنی پر بہت پچھتائے۔
ادھر ہوا یہ کہ عمرو بن سالم خزاعی چالیس آدمیوں کا ایک وفد لے کر مدینہ منورہ بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا، آنحضرت ﷺ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، عمرو بن سالم نے آپ ﷺ کے روبرو کھڑے ہو کر اشعار میں درد بھرے انداز میں واقعہ کی پوری روداد سنائی آپ ﷺ نے غداری اور عہد شکنی کی روداد سن کر فرمایا '' لا نصرت اِن لم انصرکم '' اگر میں تمہاری مدد نہ کروں تو میری مدد نہ کی جائے۔
یا رب انی ناشد محمداً حِلْفَ ابِیْینا وابیہ الا نلدا
اے میرے پروردگار ! میں محمد ﷺ کو اپنے باپ اور ان کے باپ (عبدالمطلب) کا قدیم عہد یاد دلانے آیا ہوں،
زمانہ جاہلیت میں خزاعہ حضرت عبد المطلب کے حلیف تھے مطلب یہ کہ ہمارا اور تمہارا تحالف کا رشتہ قدیم ہے،
اِنَّ قریشا اخلَفُوْک الموعدا وَنَقضُوْا میثاقَکَ المؤکّدا
بلا شبہ قریش نے آپ سے وعدہ خلافی کی اور آپ کے پختہ عہدو پیمان کو توڑ ڈالا۔
ھم بیّتونا بالوتیرة ھجّدا وقتلو نا رکّعًا وسُجَّدًا
ان لوگوں نے چشمہ وتیرہ پر سوتے ہوئے ہم پر شب خون مارا اور رکوع اور سجدہ کی حالت میں ہم کو قتل کردیا۔
آنحضرت ﷺ نے قریش کی عہد شکنی کی خبر پا کر قریش کے خلاف جنگ کی خفیہ تیاری شروع کردی قریش کو بدر، احد اور احزاب کے معرکوں میں مسلمانوں کی غیبی امداد اور تہو روشجاعت کا اندازہ ہو کر اپنی قوت و طاقت کا نشہ اتر چکا تھا جس کی وجہ سے اپنی غلطی کا شدید احساس ہو رہا تھا، مجبور ہو کر ابوسفیان کو مدینہ بھیجا کہ وہ خود جا کر حالات کا اندازہ لگائیں اگر حالات بگڑے ہوئے دیکھیں تو عذر معذرت کر کے آئندہ کے لئے معاہدہ کی تجدید کرلیں، ابوسفیان نے مدینہ پہنچ کر ناگفتہ حالات دیکھے تو تجدید معاہدہ کی درخواست کی اور اکابر صحابہ سے سفارش کرنے کے لئے کہا مگر سب نے سابقہ اور لاحقہ حالات کی وجہ سے انکار کردیا اور ابو سفیان ناکام واپس چلا گیا جس کی وجہ سے قریش پر خوف وہراس طاری ہوگیا۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے مطا بق آیت کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ پاک نے ان لوگوں کے ساتھ چار مہینے کی مدت مقرر کردی تھی جن لوگوں نے رسول ﷺ سے معاہدہ کیا تھا جیسے قبیلہ خزاعہ اور قبیلہ مدلج اور بنو ضمرہ اور جن لوگوں سے کوئی معاہدہ نہیں تھا ان لوگوں سے پچاس راتوں کی حد مقرر فرمائی یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا کہ جن کفار سے تمہارا معاہدہ نہیں ہے ان سے دسویں ذی الحجہ سے لے کر آخر محرم تک نہ لڑو، اگر یہ لوگ اسلام قبول کرلیں تو بہتر ہے ورنہ ان کے ساتھ قتل کرو اور جن کافروں سے معاہدہ ہے ان کا حکم یہ ہے کہ دسویں ذی الحجہ سے ربیع الآخر کی دسویں تاریخ تک قتال نہ کرو اس مدت میں اگر یہ لوگ مسلمان ہوجائیں تو فبہا رونہ ان سے جہاد کرو جمہور کے قول کے مطابق 6 ھ میں حج فرض ہوا لیکن فتح مکہ سے پہلے تو آنحضرت ﷺ نے اس وجہ سے حج نہیں کیا کہ بیت اللہ اور صفا مروہ پر بت رکھے ہوئے تھے۔
فائدہ : اس مقام پر یہ جان لینا فائدہ سے خالی نہیں کہ فتح مکہ کے بعد دور اسلامی کا پہلا حج 8 ھ میں قدیم طریقہ پر ہوا پھر 9 ھ میں دوسرا حج مسلمانوں نے اپنے طریقہ پر کیا اس کے بعد تیسرا حج 10 ھ میں ہوا اور یہی وہ مشہور حج ہے جسے حجة الوداع کہتے ہیں آپ ﷺ پہلے دو حجوں میں تشریف نہیں لے گئے تیسرے حج میں جبکہ جزیرة العرب سے کفر کا مکمل استیصال ہوگیا تب آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو امیر الحج بنا کر بھیجا اس دوران مذکورہ آیات نازل ہوئیں، اور ابوبکر ؓ کے پیچھے حضرت علی ؓ کو سورة برآة کی دس آیتیں دے کر روانہ فرمایا کہ مشرکین کو جا کر یہ آیتیں سنا دیں اور یہ بھی اعلان کردیں کہ 10 ھ سے کوئی مشرک یا ننگا شخص طواف نہ کرسکے گا۔
اعلان براءة کا مقصد : اس اعلان براءت سے عرب میں شرک اور مشرکوں کا وجود گویا عملاً خلاف قانون قرار دے دیا گیا، اور ان کے لئے پورے ملک میں کوئی جائے پناہ نہ رہی، یہ لوگ تو اس بات کے منتظر تھے کہ روم اور فارس کی طرف سے اسلامی سلطنت کو جب کوئی خطرہ ہو یا نبی ﷺ وفات پاجائیں تو یکایک نقض عہد کر کے خانہ جنگی برپا کردیں، لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کی ساعت منتظر آنے سے پہلے ہی بساط ان پر الٹ دی اور اعلان براءت کر کے ان کے لئے اسکے سوا کوئی چارہ باقی نہ چھوڑا کہ یا تو لڑنے پر تیار ہوجائیں اور اس اسلامی طاقت سے ٹکرا کر صفحہ ہستی سے مٹ جائیں یا ملک چھوڑ کر نکل جائیں یا پھر اسلام قبول کر کے اپنے آپ کو امن کی آغوش میں دے کر اسلامی نظم وضبط کے تابع ہوجائیں۔
فتح مکہ کے وقت مشرکین کی چار قسمیں اور ان کے احکام : اس وقت مکہ پر مسلمانوں کا مکمل قبضہ ہوچکا تھا اور
'' لا تَثْریْبَ علیکم الیوم '' کہہ کر مکہ میں رہنے والے تمام مشرکوں کو جان ومال کا امان دے دیا گیا تھا، اس وقت مشرکین مکہ کے مختلف حالات تھے۔
پہلی قسم : ایک قسم تو وہ تھی جن سے حدیبیہ میں صلح کا معاہدہ ہوا اور انہوں نے خود اس کو توڑدیا اور وہی فتح مکہ کا سبب بنا۔
دوسری قسم : کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن سے معاہدہ صلح ایک خاص مدت کے لئے کیا گیا تھا، اور وہ اس معاہدہ پر قائم رہے جیسے بنی کنانہ کے دو قبیلے بنی ضمرہ اور بنی مدلج ان قبیلوں سے ایک خاص مدت کے لئے معاہدہ صلح ہوا تھا اور سورة برآءت نازل ہونے کے وقت بقول خازن ان کی میعاد صلح کے نو مہینے باقی تھے۔
تیسری قسم : کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن سے معاہدہ صلح غیر میعادی ہوا تھا۔
چوتھی قسم : چوتھے وہ لوگ تھے جن سے کسی قسم کا معاہدہ نہ تھا۔
پہلی قسم کا حکم : پہلی قسم جو قریش مکہ کی تھی جنہوں نے معاہدہ صلح حدیبیہ کو خود توڑ دیا اب یہ مزید مہلت کے مستحق نہ تھے، مگر چونکہ یہ زمانہ اشھر حرم کا تھا جن میں جنگ و قتال من جانب اللہ ممنوع تھا اس لئے ان کے متعلق وہ حکم آیا جو سورة توبہ کی پانچویں آیت میں مذکور ہے '' فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین الآیة '' اگرچہ مشرکین مکہ نے عہد شکنی کر کے اپنا کوئی حق باقی نہیں چھوڑا تھا مگر اشھر حرم کا احترام بہرحال ضروری تھا، اس لئے اشھر حرم ختم ہوتے ہی وہ یا تو جزیرة العرب سے نکل جائیں یا مسلمان ہوجائیں ورنہ ان سے جنگ کی جائے گی۔
دوسری قسم کا حکم : دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جن سے کسی خاص مدت کے لئے معاہدہ کیا گیا تھا اور وہ اس پر کار بند رہے ان کا حکم سورة توبہ کی چوتھی آیت میں یہ آیا ہے اِلاَّ الَّذِیْن عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم الآیة یعنی وہ مشرک لوگ جن سے تم نے معاہدہ صلح کرلیا پھر انہوں نے معاہدہ پر قائم رہنے میں کوئی کمی نہیں کی، اور نہ تمہارے مقابلہ میں تمہارے کسی دشمن کی مدد کی تو تم ان کے معاہدہ کو اس کی مدت تک پورا کرو یہ حکم بنو ضمرہ اور بنو مدلج کا تھا، جس کی رو سے ان کو نو ماہ کی مہلت مل گئی۔
تیسری اور چوتھی جماعت کا حکم : ان دونوں جماعتوں کا ایک ہی حکم نازل ہوا، جو سورة توبہ کی پہلی اور دوسری آیت میں مذکور ہے، براءة من اللہ ورسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین، فسیحوا فی الارض اربعة اشھر الخ، یعنی اعلان دست برداری کے بعد تم کو صرف چار ماہ جزیرة العرب میں قیام کی اجازت ہے اس کے بعد تو تم اپنا ٹھکانہ اور کہیں تلاش کرلو یا اسلام کی پناہ میں آجائو بصورت دیگر جنگ کے لئے تیار ہوجائو، خوب سمجھ لو تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔
خلاصہ : خلاصہ یہ کہ پہلی اور دوسری آیت کی رو سے ان لوگوں کو جن سے غیر میعادی معاہدہ تھا یا جن کے ساتھ
سرے سے کوئی معاہدہ ہی نہ تھا چار ماہ کی مہلت مل گئی، اور چوتھی آیت کی رو سے ان لوگوں کو جن کے ساتھ کسی قسم کا میعادی معاہدہ تھا تا اختتام مدت معاہدہ مہلت مل گئی، اور پانچویں آیت کی رو سے مشرکین مکہ کو اشھر حرم ختم ہونے تک مہلت مل گئی۔
مذکورہ پانچ آیات سے متعلق چند مسائل و فوائد :
فائدہ : (1) یہ کہ فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ نے قریش مکہ اور دوسرے دشمن قبائل کے ساتھ جو عفو و درگذر اور رحم و کرم کا معاملہ فرمایا اس نے مسلمانوں کو عملی طور پر یہ درس دیا کہ جب تمہارا کوئی دشمن تمہارے قابو میں آئے اور تمہارے سامنے عاجز ہوجائے تو اس سے گذشتہ عداوتوں اور ایذائوں کا انتقام نہ لو بلکہ عفو و کرم سے کام لے کر اسلامی اخلاق کا ثبوت دو ۔
فائدہ : (2) یہ کہ دشمن پر قابو پانے کے بعد اپنے غصہ کے جذبات کو دبا دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی لڑائی اپنے نفس کے لئے نہیں بلکہ محض اللہ کے لئے تھی اور یہی وہ اعلیٰ مقصد ہے جو اسلامی جہاد اور عام بادشاہوں کرے گا تو شرافت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کو اسلام اور مسلمانوں سے محبت پیدا ہوگی جو اس کے لئے کلید کامیابی ہے۔
Ayah 9:5فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوْا الْمُشْرِکِیْنَ ، (الآیة) حرمت والے مہینوں سے کیا مراد ہے ؟ اس میں اختلاف ہے ایک رائے تو وہی ہے کہ اس سے معروف حرمت والے چار مہینے مراد ہیں یعنی رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ امام ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہاں اشھر حرم سے مراد وہ حرمت والے مہینے نہیں ہیں بلکہ 10 ذی الحجہ سے 10 ربیع الثانی تک کے چار مہینے مراد ہیں انہیں اشہر حرم اس لئے کہا گیا ہے کہ اعلان براء ة کی رو سے ان چار مہینوں میں ان مشرکین سے لڑنے اور ان کے خلاف اقدام کی کسی کو اجازت نہیں تھی، اعلان براءت کی رو سے یہ تاویل زیادہ مناسب ہے۔
Ayahs 9:6–7وَاِنْ اَحَد مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَک فَاَجِرْہُ ، اس آیت میں مذکورہ حربی کافروں کے بارے میں ایک رخصت دی گئی ہے کہ اگر کوئی کافر پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دو یعنی اس کو امان میں رکھو تاکہ کوئی مسلمان اس کو قتل نہ کرسکے، اور اس کو قرآن سننے اور اسلام کو سمجھنے کا موقع ملے ممکن ہے کہ اس طرح اسے توبہ اور قبول اسلام کی توفیق مل جائے لیکن اگر وہ کلام اللہ سننے کے باوجود مسلمان نہیں ہوتا تو اسے اس کی جائے پناہ تک پہنچا دو ۔
مسئلہ : وَاَقَامُوا الصَّلوٰةَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوةَ ، مخصوص یہی دو عمل مراد نہیں ہیں یہ دونوں عمل بطور نمونہ کے ہیں، مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ کام کرنے لگیں، فقہاء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ قتل سے بچنے کے لئے واقعةً نماز پڑھنا اور زکوٰة دینا نہیں ہے صرف ان اعمال کے وجوب کا اعتقاد رکھنا ہے اس لئے کہ نماز کا وجوب اپنے وقت پر ہوتا ہے اور زکوٰة مالک نصاب پر سال گذرنے کے بعد واجب ہوتی ہے۔
مسئلہ : فقہاء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ جزیہ نہ لینا کفار عرب کے ساتھ مخصوص تھا اس لئے یہ عدم اَخْذ وحصر اور تخلیہ سبیل کا حکم ان ہی کے ساتھ مخصوص رہے گا، باقی عام کفار و مشرکین کے لئے گرفتار ہونے کے بعد غلامی میں آجانے کا مسئلہ اپنی جگہ ثابت اور مسلم ہے۔
Ayahs 9:8–16آیت نمبر 8 تا 16
ترجمہ : مشرکوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ یعنی نہیں ہوسکتا، مراد وہ مشرکین ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ (عہد شکنی کر کے) غداری کی، البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام (حرم) کے قریب حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ کیا اور وہ قریش ہیں جن کا ماقبل میں استثنا ہوچکا ہے، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ عہد پر قائم رہیں اور معاہدہ کو نہ توڑیں، تو تم بھی ان کے ساتھ وفاء عہد پر قائم رہو، اور ما شرطیہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے، اور رسول ان کے ساتھ عہد پر قائم رہے یہاں تک کہ قریش نے خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی مدد کر کے عہد کو توڑ دیا ان مشرکوں کے ساتھ عہد کیسے باقی رہ سکتا ہے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ اگر وہ تمہارے اوپر غلبہ حاصل کرلیں (یعنی) فتح مند ہوجائیں تو نہ تمہاری قرابت داری کا لحاظ کریں اور نہ عہد کا، بلکہ حتی المقدور تم کو ایذاء پہنچائیں اور جملہ شرطیہ حال ہے وہ اپنی باتوں سے یعنی (زبانی) خوش کن باتوں سے تم کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ ان کے دل وفاء عہد سے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر نقض عہد کر کے حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ان لوگوں نے اللہ کی آیات کے بدلے دنیا کی حقیر قیمت قبول کرلی ہے یعنی آیات کی اتباع کو شہوتوں اور خواہشوں کے بدلے ترک کردیا ہے، پھر اللہ کے راستہ یعنی دین کے راستہ میں سد راہ بن کر کھڑے ہوگئے ہیں، بہت برے کرتوت ہیں جو یہ کرتے رہے ہیں یعنی ان کے یہ اعمال، کسی مومن کے معاملہ میں نہ یہ قرابتداری کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ (عہد کی) ذمہ داری کا، یہ ہیں ہی زیادتی کرنے والے پس اگر یہ لوگ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں (یعنی) غور و فکر کرنے والوں کے لئے ہم احکام واضح کردیتے ہیں، اور اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں (عہدوں) کو توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی (عیب جوئی) کریں تو تم ان کفر کے پیشوائوں سے قتال کرو اس میں اسم ضمیر کے بجائے اسم ظاہر لایا گیا ہے، (یعنی قاتلوھم کے بجائے قاتلوا أئمة الکفر کہا گیا ہے) اس لئے کہ ان کی قسموں (معاہدوں) کا کوئی اعتبار نہیں اور ایک قراءت میں ایمان کسرہ کے ساتھ ہے، (یعنی ان کے ایمان کا کوئی اعتبار نہیں) ممکن ہے کہ وہ اس طرح کفر سے باز آجائیں، کیا تم ایسے لوگوں سے نہ لڑو گے کہ جنہوں نے اپنے عہد توڑ دئیے اور رسول کو مکہ سے نکال دینے کا قصد کیا، جبکہ انہوں نے دارالندوہ میں اسی سلسلہ میں مشورہ کیا، اور ان ہی نے اول مرتبہ تم پر قتال کی ابتداء کی، اس طریقہ پر کہ خزاعہ سے جو کہ تمہارے حلیف تھے بنی بکر کے ساتھ مل کر قتال کیا، پس تمہارے لئے کیا چیز مانع ہے کہ تم ان سے قتال نہ کرو کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ یعنی خوف کھاتے ہو اگر تم مومن ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم ان سے ترک قتال کے بارے میں اس سے ڈرو، تم ان سے لڑو اللہ تمہارے ہاتھوں قتل کر کے ان کو سزا دے گا اور قید و غلبہ کے ذریعہ ان کو رسوا کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا، اور جو کچھ ان کے ساتھ کیا جائے گا اس کے ذریعہ بہت سے مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈا کر دے گا اور وہ بنو خزاعہ ہیں اور ان کے قلوب کی بےچینی کو دور کر دے گا، اور اللہ جسے چاہے گا اسلام کی طرف مائل کر کے توبہ کی توفیق دے گا، جیسا کہ ابو سفیان کو اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم یوں ہی چھوڑ دئیے جائو گے ؟ اَمْ ہمزہ استفہام انکاری کے معنی میں ہے حالانکہ اللہ نے ابھی یہ ظاہر کیا ہی نہیں کہ تم میں سے وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اخلاص کے ساتھ جہاد کیا ؟ (اور کس نے) اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کے سوا کسی کو راز دار جگری دوست نہیں بنایا، مطلب یہ کہ مخلصوں سے ابھی ممتاز نہیں کیا، اور مخلصین وہ ہیں جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں اور اللہ تمہارے کاموں سے بخوبی واقف ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : ای لا اس میں اشارہ ہے کہ کَیْفَ استفھام تعجبی بمعنی نفی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد اَلاَّ سے استثناء درست ہے کَیْفَ ، یکون کی خبر مقدم ہے اور عھد اسم مؤخر ہے کَیْفَ کو صدارت کلام کا مقتضی ہونے کی وجہ سے مقدم کردیا گیا ہے للمشرکین ثابتًا یا باقیًا کے متعلق ہو کر عھد کا حال مقدم ہے اور اگر للمشرکین عھد سے مؤخر ہوتا تو اس کی صفت ہوتا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یکون ، تامہ ہو اور کَیْفَ حال ہونے کی وجہ سے محل نصب کے ہو۔
قولہ : ما شرطیة ما شرطیہ ہے نہ کہ موصولہ اور فاسْتَقَامُوا لھُمْ ، جزاء ہے۔
قولہ : کیفَ ، کیفَ کے بعد یکون فعل محذوف ہے جس کو مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے ما قبل کے قرینہ کی وجہ سے فعل کو حذف کردیا گیا ہے۔
سوال : کیفَ کو مکرر کیوں لائے ہیں ؟
جواب : مشرکین کے عہد پر قائم رہنے کے استبعاد کو ظاہر کرنے کے لئے اور عدم ثبات کی علت کو بیان کرنے کے لئے، اور علت، واِنْ یُظْھَرُوْا ہے۔
قولہ : اِلاَّ ، اِلّ کے معنی متعدد ہیں، قرابت، عہد، پڑوس، عداوت، کینہ، حسد۔
قولہ : وجملة الشرط حال، یعنی واِنْ یظفروا علیکم شرط ہے اور لا یرقبوا الخ جزاء جملہ شرطیہ کَیْف یَکون لھم سے حال ہے لہٰذا اب یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ جملہ شرطیہ کا عطف جملہ حملیہ پر درست نہیں ہے۔
قولہ : ای فھم اخوانکم یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ فھم مقدر ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی ہے۔
جواب : یہ ہے کہ اخوانکم چونکہ فاِن تابوا کی جزاء ہے اور جزاء کے لئے جملہ ہونا شرط ہے مفسر علام نے ھم محذوف مان کر جملہ تامہ بنادیا۔
قولہ : خزاعة حلفاء کم خزاعہ موصوف ہے اور حلفاء کم اس کی صفت ہے۔
قولہ : ھم بنو خزاعة اس کا مقصد خزاعة اس کا مقصد مومنین کا مصداق متعین کرنا ہے اس سے معلوم ہوا کہ بنو خزاعہ غائبانہ طور پر ایمان لے آئے تھے۔
قولہ : وَلِیْجَة یہ ولوج سے ماخوذ ہے بمعنی دخول، جگری راز دار دوست، مفسر علام نے ولیجة کا ترجمہ بطانة سے کیا ہے بطانة استر کو کہتے ہیں جو کہ پوشیدہ رہتا ہے۔
تفسیر وتشریح
اللہ اور رسول ﷺ کی جانب سے براءت کی حکمت : کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَھْد عِنْدَ اللہ، یہ استفہام نفی کے لئے ہے یعنی جن مشرکوں سے تمہارا معاہدہ ہے ان کے علاوہ اب کسی سے معاہدہ باقی نہیں رہا، سابقہ آیات میں براءت کی حکمت یہ ہے کہ ان مشرکوں سے معاہدہ کس طرح قائم رہ سکتا ہے اور معاہدہ سے کیا فائدہ ؟ کہ جن کا حال یہ ہے کہ اگر کسی وقت تم پر قابو حاصل کرلیں تو ایذاء رسانی میں ہرگز نہ قرابت کا خیال کریں اور نہ قول وقرار کا، چونکہ اتفاق سے تم پر غلبہ حاصل نہیں ہے اس لئے محض زبانی عہدو پیمان کر کے تم کو خوش رکھنا چاہتے ہیں ورنہ تو ان کے دل اس عہد پر ایک منٹ کے لئے بھی راضی نہیں ہر وقت عہد شکنی کا موقع تلاش کرتے رہتے ہیں خلاصہ یہ کہ ایسی دغا باز اور غدار قوم سے خدا اور رسول ﷺ کا کیا عہد ہوسکتا ہے ؟ البتہ جن قبائل سے تم معاہدہ کرچکے ہو اور بالخصوص مسجد حرام یعنی حرم کے قریب حدیبیہ میں معاہدہ کیا ہے تو تم اپنی طرف سے عہد شکنی نہ کرو جب تک وہ وفاداری کے راستہ پر چلیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے طریقہ پر رہو تم اپنے دامن کو عہد شکنی کی گندگی سے محفوظ رکھو خدا کو ایسے ہی لوگ محبوب ہیں، چناچہ بنو کنانہ وغیرہ نے مسلمانوں سے عہد شکنی نہیں کی تھی اور مسلمانوں نے بھی نہایت احتیاط اور دیانتداری کے ساتھ اپنا عہد پورا کیا، اعلان براءت کے وقت بنو کنانہ کی مدت معاہدہ نو ماہ باقی تھی ان کے ساتھ مسلمانوں نے مکمل طور پر معاہدہ کی پا بندی کی۔ بعض مفسرین کے نزدیک پہلا کَیْفَ مشرکین کے لئے ہے اور دوسرے سے مراد یہودی ہیں اس لئے کہ ان کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اللہ کی آیتوں کو حقیر دنیا کے لئے فروخت کردیتے ہیں اور یہ خصلت یہود ہے بار بار وضاحت سے مقصد مشرکین اور یہود کی اسلام دشمنی اور ان کے سینوں میں مخفی عداوت کے جذبات کو بےنقاب کرنا ہے۔
واِنْ نَّکَثُوْا اَیْمَانَھُمْ مِنْ بَعْد عَھْدِھِمْ الخ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ اگر مشرکین مکہ اپنا عہد توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی اور عیب جوئی کریں تو ائمہ کفر، پیشوایان شرک کو چن چن کر قتل کرو اس لئے کہ پورا فساد ان ہی کی وجہ سے ہے ان ہی لوگوں نے آپ ﷺ سے عہد کر کے اس کو توڑ ڈالا، اور نبی ﷺ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا ( واقعہ اور مسائل کی پوری تفصیل سابق رکوع میں گذر چکی ہے ) ۔
Ayah 9:17آیت نمبر 17 تا 24
ترجمہ : مشرکین اس لائق ہی نہیں کہ مساجد میں آمد ورفت کے ذریعہ مساجد کو آباد کرسکیں (مساجد) مفرد اور جمع کے ساتھ ہے، حال یہ ہے کہ وہ خود اپنے اوپر کفر کی گواہی دے رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے اعمال (شرائط صحت) نہ پانے کی وجہ سے ضائع ہوگئے اور وہ دوزخ ہی میں ہمیشہ پڑے رہیں گے، مساجد کا آباد کرنا تو بس ان لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور زکوٰة ادا کرتے ہوں اور بجز اللہ کے کسی سے نہ ڈرتے ہوں امید ہے کہ ایسے لوگ راہ یاب ہوجائیں گے، کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے والوں کے عمل کو اس شخص کے عمل کے (برابر) قرار دے لیا ہے جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا ہے یہ لوگ اللہ کے نزدیک فضل میں برابر نہیں ہوسکتے اور اللہ ظالموں (یعنی) کافروں کی رہنمائی نہیں کرتا، برابری کے قائل کے قول کو رد کرنے کے لئے (آئندہ) آیت نازل ہوئی اور وہ قائل حضرت عباس ؓ یا ان کے علاوہ ہے جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور راہ خدا میں اپنی جان ومال سے جہاد کیا یہ لوگ اللہ کے نزدیک دوسروں سے مرتبہ میں بڑے ہیں اور یہی لوگ پورے کامیاب ہیں اور ان کو ان کا رب اپنی طرف سے رحمت کی اور رضا مندی کی اور ایسے باغوں کی جن میں ان کے لئے دائمی نعمتیں ہوں گی خوشخبری دیتا ہے یہ ان میں ہمیشہ ہمیش کے لئے رہیں گے بیشک اللہ ہی کے پاس بڑا اجر ہے اور آئندہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس نے ہجرت کو اپنے اہل و عیال اور تجارت کی وجہ سے چھوڑ دیا، اے ایمان والو تم اپنے آباء کو اور بھائیوں کو دوست نہ بنائو اگر وہ کفر کو ایمان پر ترجیح دیتے ہیں، اور تم میں سے ان کو جو دوست رکھے گا تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں (اے نبی) کہہ دو کہ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور ایک قراءت میں عشیر اتکم ہے اور تمہارے وہ اموال جن کو تم نے کمایا اور تمہاری وہ تجارت جس کے ماند پڑجانے کا تم خوف کرتے ہو، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنا فیصلہ لے آئے یہ ان کے لئے تہدید ہے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اُنْ یَّعْمُرُوْا مَسَاجِدَ اللہ، کَانَ فعل ناقص للمشرکین، ینبغی محذوف کے متعلق ہو کر خبر مقدم اور ان یَعْمروا مسٰجد اللہ جملہ ہو کر کان کا اسم مؤخر شاھدین، یعمُروْا کی ضمیر سے حال اور شاھدین علی علی انفسھم بالکفر۔
جمہور کے نزدیک یَعْمُرُوْا ہے عَمَرَ یَعْمُر سے یعنی آباد کریں اور ابن السمیفع نے یُعْمِرُوا باب افعال سے پڑھا ہے حضرت ابن عباس اور سعید بن جبیر ؓ وغیرہ نے مَسْجِد افراد کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے مساجد جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔ (فتح القدیر شوکانی)
قولہ : ای اَھْلَ ذلک، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : عمارة اور سقایة دونوں مصدر ہیں جو کہ ایک معنوی شیٔ ہے لہٰذا ان کو جسم اور شیٔ کے ساتھ تشبیہ دینا درست نہیں ہے جیسا کہ مذکورہ دونوں مصادر کو مَنْ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو کہ شیٔ مجسم ہے۔
جواب : یہ ہے کہ العمارة اور السقایة سے پہلے مضاف محذوف ہے اور وہ اھل ہے یعنی اھل العمارة واھل السقایة لہٰذا اب کوئی اعتراض باقی نہیں رہا۔
قولہ : نذلت ردًا علیٰ مَنْ قال اس میں اشارہ ہے کہ اَجَعَلْتُم سقایة میں ہمزوہ استفہام انکاری کا ہے اور اسی سے آئندہ آیت کے شان نزول کی طرف اشارہ بھی ہوگیا۔
قولہ : ذلک کا مشار الیہ مہاجرین اور مجاہدین کو ان کے غیر کے مساوی قرار دینا ہے۔
قولہ : من غیرھم اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مذکورہ صفات کو جامع نہیں ہیں، جن میں اہل سقایہ اھل عمارہ بھی شامل ہیں، لفظ اعظم سے شبہ ہوتا ہے کہ اہل سقایہ وعمارہ اگرچہ اعظم درجہ کے مستحق نہ ہوں مگر عظیم درجہ کے مستحق ہوں گے حالانکہ ایمان کے بغیر کسی بھی نیکی کرنے والے کے لئے آخرت میں کوئی درجہ نہیں ہوگا۔
قولہ : نَفَاقھا نَفَاق بفتح النون، رواج، یقال السکة النافقة، رائج سکہ۔
تفسیر وتشریح
مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسَاجِدَ اللہ، مَسَاجِدْ سے مراد مسجد حرام (بیت اللہ) ہے، مَسَاجد جمع اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ مسجد حرام تمام مساجد کا قبلہ و مرکز ہے، یا اس لئے کہ عرب واحد کے لئے بھی جمع کا لفظ استعمال کرتے ہیں یقال فلان کثیر الدراھم، وکقولھم فُلان یُجَالِسُ الملوکَ وَلَعلّہ لم یجالِسْ الاّ مَلِکاً واحداً اور یہ بھی درست ہے کہ مساجد سے تمام مسجدیں مراد ہوں اور تعمیر سے تولیت اور نظم ونسق مراد ہو، مطلب یہ ہے کہ اللہ کے گھر (یعنی مسجد حرام) کو تعمیر یا آباد کرنا یہ ایمان والوں کا کام ہے نہ کہ ان کو جو کفر وشرک کا ارتکاب اور اس کا اعتراف کریں جیسا کہ مشرکین تلبیہ میں کہا کرتے تھے، لَبَّیْک لا شریک لک، اِلاّ شریکا ھو لک، تملکہ وما ملک (صحیح بخاری باب التلبیہ) یا اس سے مراد وہ اعتراف ہے جو ہر مذہب والے کرتے ہیں، یہودی اپنے آپ کو یہودی اور نصرانی خود کو نصرانی کہتے ہیں۔ (فتح القدیر)
مطلب یہ ہے کہ جو مسجدیں خدائے واحد کی عبادت کے لئے بنی ہوں ان کے متولی اور منتظم اور خادم و آباد کار بننے کے لئے وہ لوگ کسی طرح موزوں نہیں ہوسکتے جو خدا کے ساتھ خداوندی صفات، حقوق و اختیارات میں دوسروں کو شریک کرتے ہوں، اور خود بھی توحید کی دعوت قبول کرنے سے انکار کرتے ہوں اور انہوں نے صاف صاف کہہ دیا ہو کہ ہم اپنی بندگی و عبادت کو ایک خدا کے لئے مخصوص کردینا قبول نہیں کرسکتے اور نہ یہ عقل میں آنے والی بات ہے کہ ایک ذات اتنے بڑے کارخانہ قدرت کو تنہا چلا سکے، لہٰذا یہ کسی حالت میں درست نہیں کہ وہ کسی ایسی عبادت گاہ کے متولی بنے رہیں جو صرف خدا کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہو۔
عمارت مسجد سے کیا مراد ہے ؟ '' عمارت مسجد '' کا جو لفظ مذکورہ آیت میں آیا ہے اس کے کئی معنی مراد ہوسکتے ہیں ایک ظاہری درودیوار کی تعمیر، دوسرے مسجد کی حفاظت و نگرانی اور صفائی وغیرہ اور دیگر ضروریات کا انتظام، تیسرے عبادت کے لئے مسجد میں حاضر ہونا، عمرہ کو عمرہ اسی مناسبت سے کہتے ہیں کہ اس میں بیت اللہ کی زیارت اور عبادت کے لئے حاضری ہوتی ہے۔ مشرکین مکہ تینوں اعتبار سے اپنے آپ کو معمار بیت اللہ اور عمارت مسجد حرام کا ذمہ دار سمجھتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ مشرکین کو اللہ کی مسجدوں کی تعمیر کا کوئی حق نہیں، جبکہ وہ اپنے کفر کی عمل واقرار کے ذریعہ شہادت دیتے ہیں، ان لوگوں کے اعمال حبط اور ضائع کر دئیے گئے ہیں یہ لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
Ayah 9:18مسجدوں کی آبادکاری کا حق صرف مومنین باعمل کو ہے : دوسری آیت میں عمارت مسجد کا مثبت پہلو اس طرح ارشاد فرمایا ہے، '' اِنَّمَا یَعْمُرْوْ مَسَاجِدَ اللہ مَنْ اٰمَنَ بِا للہ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلوٰةَ وَاٰتَی الذَّکٰوةَ وَلَمْ یَخْشَ اِلاَّ اللہ فَعَسٰی اُولئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ ۔ یعنی مسجدوں کو آباد کرنا انہی لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتے ہوں اور نماز کی پابندی کریں اور زکوٰة ادا کریں، بجز اللہ کے کسی سے نہ ڈریں، ایسے لوگوں کے متعلق امید ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔
مذکورہ آیات سے متعلق بعض مسائل
مسئلہ : کافروں کے لئے جس عمارت مسجد سے منع کیا گیا ہے اس سے مراد مساجد کی تولیت اور انتظامی ذمہ داری ہے رہی ظاہری درودیوار کی تعمیر سو اس میں غیر مسلم سے بھی کام لیا جاسکتا ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
مسجد کے تعمیر میں غیر مسلم کے چندہ کا حکم : اگر کوئی غیر مسلم مسجد کی تعمیر کرادے اور تعمیر مسجد کے لئے چندہ دے دے تو اس کا قبول کرلینا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ اس سے کسی دینی یا دنیوی نقصان کا یا آئندہ اس پر
قبضہ کرلینے کا یا احسان جتلانے کا اندیشہ نہ ہو۔ (در المختار، شامی، مراغی)
Ayahs 9:19–24شان نزول : اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجَ (الآیة) مشرکین حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کا جو کام کرتے تھے اس پر انہیں بڑا فخر تھا، اس کے مقابلہ میں وہ ایمان و جہاد کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے جس کا اہتمام مسلمانوں کے اندر تھا، اس غلط فہمی اور زعم باطل کو رد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَجَعَلتم سقایة الحاج الخ کیا تم سقایة حاج اور عمارت مسجد حرام کا ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر سمجھتے ہو ؟ یاد رکھو یہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں بلکہ مشرک کا کوئی عمل بھی عند اللہ مقبول نہیں۔
اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں تین واقعات نقل کئے گئے ہیں۔
پہلا واقعہ : ایک روایت میں اس کا شان نزول مسلمانوں کی ایک آپسی گفتگو کو بتایا گیا ہے اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک روز کچھ مسلمان منبر نبوی کے پاس جمع ہوئے ان میں سے ایک نے کہا اسلام لانے کے بعد میرے نزدیک سب سے بڑا عمل حاجیوں کو پانی پلانا ہے، دوسرے نے کہا مسجد کو آباد کرنا ہے، تیسرے نے کہا میرے نزدیک جہاد فی سبیل اللہ سب سے بڑا عمل ہے، حضرت عمر ؓ نے جب لوگوں کو آپس میں اس طرح بحث و تکرار اور اختلاف کرتے سنا تو انہیں ڈانٹا اور فرمایا کہ منبر رسول کے پاس آوازیں بلند نہ کرو یہ جمعہ کا دن تھا، راوی حدیث حضرت نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے بعد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی آپس کی گفتگو کے بارے میں آپ سے استفسار کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (صحیح مسلم کتاب الامارة باب فضل الشھادة فی سبیل اللہ)
دوسرا واقعہ : بہت سے مشرکین مسلمانوں کے مقابلہ میں اس بات پر فخر کیا کرتے تھے کہ ہم مسجد حرام کی آبادی اور حجاج کو پانی پلانے کا انتظام کرتے ہیں اس سے بڑھ کر کسی کا عمل کوئی عمل نہیں ہوسکتا اسلام لانے سے پہلے حضرت عباس ؓ غزوہ بدر میں گرفتار ہو کر مسلمانوں کی قید میں آئے اور ان کے مسلم عزیزوں نے ان کو اس پر ملامت کی کہ آپ نعمت ایمان سے محروم ہیں تو حضرت عباس ؓ نے بھی یہی جواب دیا تھا کہ آپ لوگ ایمان و ہجرت کو اپنا بڑا سرمایہ فضیلت سمجھتے ہو مگر ہم بھی تو مسجد حرام کی عمارت اور حجاج کرام کو پانی پلانے کی اہم خدمت انجام دیتے ہیں جس کے برابر کسی کا کوئی عمل نہیں ہوسکتا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
تیسرا واقعہ : مصنف عبد الرزاق کی روایت میں ہے کہ حضرت عباس ؓ کے مسلمان ہوجانے کے بعد طلحہ بن شیبہ اور حضرت عباس اور حضرت علی ؓ کی آپس میں گفتگو ہو رہی تھی حضرت طلحہ ؓ نے کہا مجھے وہ فضیلت حاصل ہے جو تم میں سے کسی کو حاصل نہیں کہ بیت اللہ کی چابی میرے ہاتھ میں ہے، اگر میں چاہوں تو بیت اللہ کے اندر جا کر رات گذار سکتا ہوں حضرت عباس ؓ نے فرمایا میں حجاج کو پانی پلانے کا متولی اور منتظم ہوں اور مسجد حرام میں میرے اختیارات ہیں، حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ حضرات کس چیز پر فخر کر رہے ہیں میرا حال تو یہ ہے کہ میں نے تم سب لوگوں سے چھ مہینہ پہلے بیت اللہ کی طرف نمازیں پڑھی ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوا ہوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں واضح کردیا گیا کہ کوئی عمل خواہ ہی اعلیٰ اور افضل ہو ایمان کے بغیر اللہ کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں۔
تینوں واقعات کے سبب نزول ہونے میں کوئی بعد نہیں کہ اصل آیات کا نزول مشرکین کے فخروتکبر کے جواب میں ہوا ہو، پھر اس کے بعد جو واقعات مسلمانوں کے باہم پیش آئے ان میں بھی ان ہی آیات کو استدلال کے لئے پیش کیا گیا ہو جس سے سننے والوں کو یہ محسوس ہوا کہ یہ آیات اس واقعہ میں نازل ہوئی ہیں۔
یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخذُوْا اٰبَائَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْ لِیائَ ، یہ خطاب قیامت تک آنے والے اہل ایمان کے لئے ہے اس کا مقصد مومنین اور کافرین کے درمیان قطع ولایت کو بیان کرنا ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایمان والوں کو چاہیے کہ ان کے ماں باپ اور بھائی بہن وغیرہ اگر کفر پر قائم ہوں تو ان کو اپنا رفیق اور دوست نہ بنائیں اگر کوئی اس کے خلاف کرے گا تو وہ ظالموں اور نافرمانوں میں شمار ہوگا، اگرچہ والدین کے حقوق کے بارے میں قرآن اور احادیث میں بڑی تاکید آئی ہے اسی طرح عزیزو اقارب اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی ہدایت و تاکید بار بار آئی ہے مگر اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ہر تعلق کی ایک حد ہے ان میں سے ہر تعلق خواہ والدین اور اولاد کا ہو یا حقیقی بھائی بہن کا اللہ اور اس کے رسول کے تعلق کے مقابلہ میں نظر انداز کرنے کے قابل ہے جس موقع پر یہ دونوں رشتے ٹکراتے ہوں تو پھر رشتہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کا باقی رکھنا چاہیے۔
شان نزول : مجاہد اور قتادہ نے کہا ہے کہ یہ آیت بھی ماقبل میں مذکور حضرت عباس اور طلحہ ؓ کے قصہ سے متعلق ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دونوں حضرات ابتداء ً نہ ہجرت میں شریک تھے اور نہ ایمان میں بلکہ ان کو اپنے سقایہ وحجابہ پر فخرو غرور تھا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم فرمایا تو بعض حضرات ان میں ایسے بھی تھے کہ ان کے بیوی بچے ان سے چمٹ گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تم کو اللہ کی قسم دیتے ہیں تم ہم کو ضائع نہ کرو، ان حضرات کا اپنے اہل و عیال کی گریہ وزاری کی وجہ سے دل نرم ہوگیا جس کی وجہ سے ہجرت سے باز رہے، تو یہ آیت نازل ہوئی۔
مقاتل نے کہا ہے مذکورہ آیت ان نولوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جو مرتد ہو کر مکہ چلے گئے
تھے تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ تعلقات اور دوستی رکھنے سے منع فرمادیا تھا یہ آیت اسی سلسلہ میں نازل ہوئی، مگر اس آیت کو ہجرت کے واقعہ سے متعلق کرنے میں یہ قباحت لازم آتی ہے کہ یہ سورت نزول کے اعتبار سے آخری سورتوں میں سے ہے تو پھر ان آیات کا تعلق ہجرت نہ کرنے والوں سے کیسے ہوسکتا ہے اس سورت کا نزول تو فتح مکہ کے بعد ہوا ہے جبکہ ہجرت کی فرضیت منسوخ ہوچکی تھی، لہٰذا زیادہ مناسب اور قرین قیاس واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ مشرکین سے اظہار بیزاری کریں اور ان سے دلی اور راز دارانہ دوستی نہ رکھیں تو بعض لوگوں نے کہا یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان اپنے والدین نیز عزیز و اقارب سے قطع تعلق کرلے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔