9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 9:55

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں انکو عذاب دے۔ اور (جب) ان کی جان نکلے تو ( اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں۔

فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم الخ اس مال و دولت کی محبت کی میں گرفتار ہو کر جو منافقانہ رویہ انہوں نے اپنایا ہے جیسا کہ جد بن قیس نے کہا تھا کہ جنگی خدمات سے مجھے معذور رکھئے اگر آپ چاہیں تو میں کچھ مالی مدد کے لئے حاضر ہوں، اس لئے ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محمد ﷺ لوگوں کی مال و دولت اور کثرت اولاد کو دیکھ کر تعجب میں نہ پڑیں، یہ مال و دولت خدا کی طرف سے ایک ڈھیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ان ہی چیزوں کے ذریعہ جن کی کمائی کے لئے انہوں نے بڑی بڑی مشقتیں اور مصیبتیں اٹھائی ہیں ان پر دنیوی اور اخروی عذاب مسلط کرے گا، اس مال کی بدولت یہ لوگ ہمیشہ عذاب اور تکلیف ہی میں مبتلا رہیں گے کہ حاصل کرنے میں بھی تکلیف اٹھائی اور جب کوئی مالی نقصان ہوتا ہے تو وہ مالی نقصان کی مصیبت بھی ان کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ اس کیفیت کا ایک دلچسپ واقعہ : دلچسپ واقعہ یہ ہے جو حضرت عمر ؓ کی مجلس میں پیش آیا، قریش کے چند بڑے شیوخ جن میں سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام جیسے لوگ بھی تھے، حضرت عمر ؓ سے ملنے گئے وہاں یہ صورت پیش آئی کہ انصار اور مہاجرین میں کوئی معمولی آدمی بھی آتا تو حضرت عمر رضی تعالیٰ عنہ اسے اپنے پاس بٹھاتے اور ان شیوخ سے کہتے کہ اس کے لئے جگہ خالی کرو تھوڑی دیر میں نوبت یہاں تک پہنچی کہ یہ حضرات سرکتے سرکتے مجلس کے بالکل آخر میں پہنچ گئے، باہر نکل کر حارث بن ہشام نے کہا تم لوگوں نے دیکھا آج ہمارے ساتھ کیا سلوک ہوا ہے ؟ سہیل بن عمرو نے کہا اس میں عمر ؓ کا کچھ قصور نہیں قصور ہمارا ہے، جب ہمیں اس دین کی دعوت دی گئی تو ہم نے منہ موڑا اور یہ لوگ اس کی طرف دوڑ کر آئے پھر یہ دونوں صاحب حضرت عمر کے پاس گئے اور عرض کیا آج ہم نے آپ کا سلوک دیکھا اور ہم جانتے ہیں کہ یہ ہماری اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے مگر کیا اب اس کی تلافی کی کوئی صورت ہے، حضرت عمر نے زبان سے کچھ جواب نہ دیا اور صرف سرحد روم کی طرف اشارہ کردیا، مطلب یہ تھا کہ اب میدان جہاد میں جان ومال کھپائو تو شاید اس کی تلافی ہوجائے۔
Ayahs 9:56–57

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تمہیں میں سے ہیں۔ حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں اصل یہ ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں۔

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر ان کو کوئی بچاؤ کی جگہ (جیسے قلعہ) یا غار ومغار یا (زمین کے اندر) گھُسنے کی جگہ مل جائے تو اسی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں

شان نزول : ویحلفون باللہ اِنَّھم لمنکم، مدینہ میں منافقین زیادہ تر مالدار اور سن رسیدہ تھے ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں ان کی فہرست دی ہے اس میں صرف ایک نوجوان کا ذکر ملتا ہے یہ لوگ مدینہ میں جائداد اور پھیلے ہوئے کاروبار رکھتے تھے اور جہاندیدگی نے ان کو مصلحت اندیش اور موقع پرست بنادیا تھا اسلام جب مدینہ پہنچا تو آبادی کے ایک بڑے حصہ نے پورے اخلاص اور ایمانی جوش کے ساتھ قبول کرلیا تو ان لوگوں نے اپنے آپ کو ایک عجیب مخمصہ میں مبتلا پایا، انہوں نے دیکھا کہ ایک طرف تو خود ان کے قبیلے کی اکثریت بلکہ خود ان کے بیٹوں اور بیٹیوں تک کو ایمان کے نشہ نے سرشار کردیا ہے، ان کے خلاف اگر یہ کفر و انکار پر قائم رہتے ہیں تو ان کی یہ ریاست، عزت، شہرت سب خاک میں مل جاتی ہے دوسری طرف اس دین کا ساتھ دینے کے یہ معنی ہیں کہ وہ سارے عرب بلکہ اطراف ونواح کی قوموں اور سلطنتوں سے بھی لڑائی مول لینے کے لئے تیار رہیں، اس لئے انہیں اپنے مفاد کے تحفظ کی بہترین صورت یہی نظر آئی کہ ایمان کا دعویٰ کریں اور ظاہری طور پر اسلام میں داخل ہوجائیں، تاکہ اپنی قوم میں اپنی ظاہری عزت اور اپنے کاروبار کو برقرار رکھ سکیں مگر مخلصانہ ایمان نہ اختیار کریں تاکہ ان خطرات ونقصانات سے دو چار نہ ہوں جو اخلاص کی راہ اختیار کرنے سے لازماً پیش آنے تھے، ان کی اسی ذہنی کیفیت کو یہاں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ حقیقت میں یہ لوگ تمہارے ساتھ نہیں ہیں بلکہ نقصانات کے خوف نے انہیں زبردستی تمہارے ساتھ باندھ دیا ہے جو چیز ان کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ اپنے کو مسلمان کہیں وہ صرف یہ خوف ہے کہ مدینہ میں رہتے ہوئے علانیہ غیرم مسلم بن کر رہیں تو ان کی جاہ ومنزلت ختم ہوجاتی ہے۔
Ayahs 9:58–59

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر انکو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہوجائیں۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اسکے رسول ﷺ نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اسکے پیغمبر ﷺ (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیدینگے (اور) ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو انکے حق میں بہتر ہوتا)

ومنھم مَنْ یَلمِزُکَ فی الصدقات، اس آیت کے شان نزول کا واقعہ صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے اس طرح بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کچھ مال لوگوں میں تقسیم فرما رہے تھے کہ بنی تمیم کا ایک شخص جس کا نام حرقوص تھا اور ذوالخویصرہ کے لقب سے مشہور تھا آپ کی خدمت میں آیا اور کہا تقسیم میں ذرا عدل و انصاف سے کام لیجئے، آپ نے فرمایا اگر میں ہی ناانصافی کروں گا تو انصاف کون کرے گا ؟ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اگر ارشاد ہو تو میں ابھی اس شخص کی گردن ماردوں آپ نے فرمایا جانے دو اس کی نسل سے واجب القتل لوگ پیدا ہوں گے چناچہ اسی شخص کی نسل سے خارجی لوگ پیدا ہوئے، اگرچہ بعض مفسرین نے اس آیت کے دیگر شان نزول بھی بیان کئے ہیں مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت کا مضمون دوسری آیتوں پر بھی صادق آتا ہے ورنہ صحیح شان نزول کا یہی واقعہ ہے جو صحیحین کی روایت میں موجود ہے۔ خارجی فرقہ کا تعارف اور اس کے عقائد : اس فرقہ کے وجود میں آنے کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے دوسرے روز جب لوگوں نے حضرت علی ؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی تو اس زمانہ میں حضرت عائشہ صدیقہ حج کے ارادہ سے مکہ گئی ہوئی تھیں، مکہ سے واپسی کے وقت کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ حضرت علی کو قاتلان عثمان کا پتہ لگانے پر مجبور کریں اگر حضرت علی اس سے انکار کریں تو ان سے جنگ کی جائے، یہ حضرات حضرت عائشہ کو بصرہ لے گئے بصرہ میں حضرت عائشہ ؓ اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ بہت سے لوگ جمع ہوگئے حضرت علی ؓ نے جب یہ خبر سنی تو وہ بھی فوج لے کر بصرہ کے ارادہ سے نکلے 36 ھ میں حضرت علی اور حضرت عائشہ ؓ کی بڑی لڑائی ہوئی جو جنگ جمل کے نام سے مشہور ہے، اس لڑائی میں حضرت عائشہ چونکہ اونٹ پر سوار تھیں اور اونٹ کو عربی میں جمل کہتے ہیں اس لئے یہ جنگ، جنگ جمل کے نام سے مشہور ہوئی، یہ جنگ ایک اجتہادی غلطی کی وجہ سے برپا ہوئی تھی، اس میں حضرت علی کو فتح حاصل ہوئی، حضرت عائشہ کی شکست کا حال سن کر حضرت عثمان کے قاتلوں کا پتہ لگانے کا معاملہ حضرت امیر معاویہ نے دوبارہ شروع کیا حضرت امیر معاویہ جو کہ حضرت عثمان ؓ کے چچا زاد بھائی ہوتے تھے اس لئے انہوں نے اس مسئلہ کو اٹھانا اپنا حق سمجھا۔ جنگ صفین : 37 ھ میں اسی مسئلہ پر حضرت امیر معاویہ اور حضرت علی ؓ کے درمیان ایک بڑی جنگ ہوئی جو جنگ صفین کے نام سے مشہور ہے صفین ملک عراق اور شام کے درمیان ایک مقام کا نام ہے یہ لڑائی تقریباً ایک ماہ چلی اگرچہ اس لڑائی میں پلڑا حضرت علی ؓ کا بھاری رہا لیکن حضرت عمرو بن العاص کے مشورہ سے صلح کے لئے پنچ مقرر ہوئے اس پنچایت کی صلح سے ناراض ہو کر ان الحکم الا اللہ کہتے ہوئے آٹھ ہزار آدمیوں کا ایک گروہ حضرت علی سے منحرف ہو کر ان کے لشکر سے جدا ہوگیا اسی فرقہ کو '' خارجی '' کہتے ہیں یہ لوگ حضرت علی ؓ اور ان کے متبعین کو اسلام سے خارج مانتے ہیں، اسی فرقہ کو '' حروریہ '' بھی کہتے ہیں، یہ مقام حرور کی جانب منسوب ہے، عبد الرحمن بن ملجم اسی فرقے سے تعلق رکھتا تھا جس نے موقع پا کر حضرت علی ؓ کو شہید کردیا تھا۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

صدقات (یعنی زکوٰۃ و خیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے۔ اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے) میں اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کردیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

آیت نمبر 60 تا 66 ترجمہ : صدقات (واجبہ) (مثلاً ) زکوٰة فرض صرف ان فقراء کے لئے ہیں جو اتنی مقدار بھی نہ پائیں جو اپنی حاجت میں صرف کر سکیں (یعنی ان کے پاس مال بالکل نہ ہو) اور مساکین کے لئے ہے جو بقدر کفایت مال نہ پائیں، اور صدقات کے کارکنوں کے لئے اور صدقات (زکوٰة) وصول کرنے والوں کے لئے ہے، اور (مستحقین) پر تقسیم کرنے والوں کے لئے ہے، اور کاتبین کے لئے ہے اور (ارباب اموال کو) جمع کرنے والوں کے لئے ہے، اور ان لوگوں کے لئے ہے جن کی تالیف قلب مقصود ہے تاکہ وہ اسلام لے آئیں یا اپنے اسلام پر ثابت قدم رہیں، یا ان کے امثال اسلام لے آئیں یا مسلمانوں کا دفاع کریں، یہ (چار) قسمیں ہیں پہلی اور آخری قسم کو آج کل امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک نہیں دیا جائے گا، اس لئے کہ اسلام قوی ہوگیا ہے، بخلاف باقی دونوں قسموں کے صحیح مذہب کے مطابق ان کو دیا جائے گا، اور مکاتبین کو آزاد کرانے میں اور قرضداروں کے لئے ہے جنہوں نے غیر معصیت کے لئے قرض لیا ہو، یا (معصیت کے لئے لیا ہو مگر) معصیت سے توبہ کرلی ہو، اور ان کے پاس قرض ادا کرنے کے لائق مال نہ ہو، اور آپس میں صلح کرانے کے لئے اگرچہ وہ مالدار ہوں، اور مجاہدین کے لئے ہے یعنی ایسے مجاہدین کے لئے جو جہاد میں مشغول ہوں اور وہ ان لوگوں میں سے ہوں جن کا مال غنیمت میں حصہ نہ ہو، اگرچہ وہ مالدار ہی کیوں نہ ہوں، اور ایسے مسافروں کے لئے ہے کہ جن کے لئے مال سے منقطع ہونے کی وجہ سے سفر جاری رکھنا دشوار ہوگیا ہو اور یہ اللہ کی طرف سے فرض کردہ حکم ہے (فریضة) فعل مقدر (فَرَضَ ) کی وجہ سے منصوب ہے، اللہ اپنی مخلوق (کی ضرورتوں) سے بخوبی واقف ہے اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے لہٰذا مذکورہ مصارف کے علاوہ میں صرف کرنا جائز نہیں ہے اور مذکورہ اصناف کے موجود ہوتے ہوئے ان میں سے کسی کو محروم نہیں کیا جائے گا، لہٰذا امام وقت کو چاہیے کہ ان میں برابر تقسیم کرے اور امام کو اختیار ہے کہ کسی ایک صنف کو دوسری صنف پر ترجیح دے دے اور لام سے تمام افراد کے استغراق کا وجوب مستفاد ہوتا ہے، لیکن صاحب مال پر بوقت تقسیم تمام افراد کا احاطہ کرنا دشوار ہونے کی وجہ سے واجب نہیں ہے، بلکہ (اصناف ثمانیہ میں سے) ہر صنف کے تین افراد کو دینا کافی ہے اس سے کم میں کافی نہ ہوگا، جیسا کہ جمع کے صیغوں سے مستفاد ہوتا ہے، اور سنت نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ جس کو زکوٰة کا مال دیا جائے اس کا مسلمان ہونا شرط ہے، اور یہ بھی شرط ہے کہ ہاشمی اور مطّلبی سید نہ ہو، اور ان منافقین میں وہ لوگ بھی ہیں جو نکتہ چینی کر کے اور (رازوں کو) افشا کر کے نبی کو تکلیف پہنچاتے ہیں، اور جب ان کو نکتہ چینی سے آپس میں اس خیال سے منع کیا جاتا ہے مبادا ایسا نہ ہو کہ آپ کو اطلاع ہوجائے تو کہتے ہیں وہ تو کان ہیں ہر بات کو سن لیتے ہیں اور (سچ) مان لیتے ہیں اور جب ہم (بھی) ان سے قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم نے ایسی بات نہیں کہی تو ہماری بات کو بھی سچ مان لیں گے، (ان سے) کہو تمہارے بھلے کی باتیں سنتے ہیں نہ کہ تمہارے نقصان کی باتیں، اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنین کی اس بات میں تصدیق کرتے ہیں جس کی اس کو خبر دیتے ہیں نہ کہ دوسروں کی، اور (للمؤمنین) میں لام زائدہ ایمان تسلیم اور ایمان تصدیق میں فرق کرنے کے لئے ہے اور تم میں سے جو ایمان لائے ہیں ان کے لئے رحمت ہے رحمة رفع کے ساتھ ہے اذن پر عطف کرتے ہوئے، اور جر کے ساتھ ہے خیر پر عطف کرتے ہوئے، اور جو لوگ اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے اے ایمان والو ! رسول کو ایذا کی اس بات کے بارے میں جو ان کی طرف سے تم کو پہنچی ہے تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھا جاتے ہیں کہ ہم نے ایسی کوئی بات نہیں کہی، تاکہ وہ تم کو خوش کردیں حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ ان کو طاعت کے ذریعہ خوش کریں، اگر وہ سچے مومن ہیں دونوں کی رضا مندی کے لازم ملزوم ہونے کی وجہ سے (یرضوہ) کی ضمیر کو واحد لائے ہیں، یا اللہ کی یا رسول اللہ کی خبر محذوف ہے، کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے عداوت رکھتا ہے کہ ان کی سزا نار جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے بڑی رسوائی کی بات ہے منافق اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان مومنین پر کوئی سورت نازل ہوجائے جو ان پر اس نفاق کو ظاہر کر دے جو ان کے دل میں ہے اور وہ اس کے باوجود استہزاء کرتے ہیں (اے نبی) کہہ دو (اور) مذاق اڑائو امر تہدید کے لئے ہے، اللہ اس نفاق کو ظاہر کرنے والا ہے جس کے ظاہر کرنے سے تم ڈرتے ہو اور اگر آپ ان سے آپ کے اور قرآن کے استہزاء کے بارے میں دریافت فرمائیں حال یہ کہ وہ آپ کے ساتھ کی تبوک کی طرف جا رہے ہوں قسمیہ بات ہے کہ وہ عذر پیش کرتے ہوئے یقینا کہہ دیں گے کہ ہم تو یوں ہی ہنسی مذاق کی باتیں کر رہے تھے، تاکہ ہنسی مذاق میں سفر کٹ جائے اور یہ (یعنی استہزاء) ہمارا مقصد نہیں تھا آپ ان سے کہو کہ کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کرتے ہو اس کے بارے میں عذر نہ بیان کرو تم نے ایمان کے بعد کفر کیا یعنی ایمان کے اظہار کے بعد تمہارا کفر ظاہر ہوگیا اگر تم میں کی ایک جماعت کو اس کے اخلاص اور توبہ کی وجہ سے معاف کردیا جائے جیسا کہ مخشی بن حمیر کو تو ایک جماعت کو ہم ضرور سزا دیں گے اس لئے کہ وہ مجرم ہیں تعذب تا اور نون کے ساتھ ہے اور ن (نعفُ ) یاء کے ساتھ مبنی للمفعول ہے اور نون کے ساتھ مبنی للقاعل ہے، (یعنی) نفاق اور استہزاء پر مصر ہیں۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : اِنَّمَا الصّدقات للفقراء والمساکین، اِنَّمَا کلمہء حصر ہے، یہاں قصر موصوف علی الصفت کے لئے استعمال ہوا ہے یعنی صدقات (زکوٰة) کا مصرف صرف مذکورین ہیں ان کے علاوہ اور کوئی نہیں، لِلْفقراء میں لام سے متعلق بڑی قیل وقال ہوئی ہے، بعض نے کہا کہ لام تملیک کے لئے ہے جیسا کہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کا یہی مسلک ہے، اور بعض نے کہا کہ اختصاص و استحقاق کے لئے ہے اس کے قائل امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ ہیں، (بحر) الفقراء والمساکین، دونوں لفظوں کی تعبیر و تفسیر میں متعدد اقوال نقل ہوئے ہیں۔ حنفیہ نے کہا ہے کہ '' فقیر '' وہ نادار ہے جو سوال نہ کرے اور '' مسکین '' وہ نادار ہے جو سوال کرے، اور ابن عباس ؓ ، حسن بصری، جابر بن زید، مجاہد، زہری سے بھی یہی منقول ہے، امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کا قول ان حضرات کے قول کے مطابق ہے (جصاص) لفظ فقیر اور مسکین کی تشریح و تعبیر میں خواہ کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو مسئلہ زکوٰة پر کوئی اثر نہیں پڑے گا زکوٰة دونوں کو دینا جائز ہوگا، البتہ وصیت کے مسئلہ میں فرق پڑے گا، اگر فقراء کے لئے وصیت کی ہے تو وہی مستحق ہوں گے اور اگر مساکین کے لئے کی ہے تو صرف وہ مستحق ہوں گے۔ مصارف ثمانیہ کے بارے میں ایک ازہری عالم کی مفید بحث : زکوٰة کے مصارف آٹھ ہیں : (1) فقیر وہ شخص ہے کہ جو اتنے مال کا مالک نہ ہو جو اس کی ضرورت کے لئے کافی ہو، بایں طور کہ اپنی ضرورت کی مقدار سے نصف سے کافی کم کا مالک ہو، مثلاً اس کی ضرورت دس درہم کی ہے مگر اس کے پاس صرف دو یا تین درہم ہیں۔ (2) المسکین، مسکین وہ شخص ہے کہ جس کے پاس مال تو ہو مگر بقدر ضرورت نہ ہو، مثلاً اس کو دس درہم کی حاجت ہے مگر اس کے پاس سات درہم ہیں۔ (3) العاملین علیھا، یعنی زکوٰة وصولی کے سلسلہ کے کارندے مثلاً کاتب، حاسب وغیرہ۔ (4) المؤلفة قلوبھم، وہ نو مسلم جن کا اسلام ابھی راسخ نہیں ہوا ہے یا وہ لوگ کہ جن کو تالیف قلوب کے طور پر دینے سے دیگر حضرات کے اسلام کی توقع کی جاسکتی ہو۔ (5) الرقاب، مکاتبین کو آزاد کرانے میں۔ (6) الغارم، وہ شخص کہ جس نے جائز مقصد کے لئے قرض لیا اور اب وہ ادائیگی پر قادر نہیں ہے یا اصلاح ذات البین کی وجہ سے مقروض ہوگیا اگرچہ وہ غنی ہو۔ (7) اھل السبیل وہ مالدار کہ جو جہاد میں شرکت کے خواہشمند ہیں۔ (8) ابن السبیل، مباح سفر کا مسافر جو اپنے شہر سے دور ہو ایسا شخص بھی زکوٰة کا مستحق ہے تاکہ وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ سکے۔ (اعراب القرآن للدر ویش ملخصاً ) تفسیر وتشریح مؤلفة القلوب، سے مراد ایسے غیر مسلم ہیں جن کے مسلمان ہوجانے کی امید ہو یا ان کے شر و فساد سے بچنا مقصود ہو، اور ایسے مسلمان جو ضعیف الایمان ہوں اور اس طریقہ سے ان کے ایمان کے قوی ہونے کی امید ہو، غرض یہ کہ انسان کا ہر وہ گروہ جس کی طرف سے اسلامی حکومت کو کوئی خطرہ درپیش ہو۔ مورخ ابن حبیب نے سولہ شخصوں کے نام کی ایک فہرست دی ہے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے مؤلفة القلوب قرار دے کر ان میں سے چودہ کو سو سو (100، 100) اونٹ اور باقی کو پچاس پچاس اونٹ عطا کئے تھے، اس فہرست کا آغاز ابو سفیان بن حرب اموی اور معاویہ بن ابی سفیان کے نام سے ہوتا ہے (کتاب المخبر ص 473، بحوالہ ماجدی) اکثریت کا قول ہے کہ یہ حکم آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے لئے مخصوص تھا، اور اس رائے میں حنفیہ کے ساتھ مالکیہ اور امام ثوری اور امام اسحاق بن راہویہ اور امام شعبی اور عکرمہ تابعی بھی ہیں۔ (بیضاوی، ماجدی) علماء محققین کی رائے دربارہ مؤلفة القلوب : بعض علماء محققین نے کہا ہے کہ تعامل صحابہ سے یہ حکم منسوخ نہیں ہوا تھا بلکہ محض بہ سبب عدم ضرورت وقتی رفع حکم تھا اور استغناء اور حکم کا اجر اہر دور میں امام المسلمین کی رائے اور مصلحت کے تابع رہے گا۔ والصحیح اِنَّ ھذا الحکم غیر منسوخ وان للامام ان یتالّف قوماً علی ھذا الوصف ویدفع الیھم، ھم المؤلفة لانّہ لا دلیل علی نسخہ البتة۔ (کبیر، ماجدی) فاضل گیلانی کی تحقیق : انہی مصارف میں ایک مد ان لوگوں کی بھی ہے جو محض مالی کمزوریوں کی وجہ سے اسلامی حکومت اور اسلام کی مخالفت کرتے ہیں، جیسا کہ اس زمانہ میں سیا سی شورش پسندوں کے ایک گروہ کی یہی حالت ہے، ان لوگوں کو خاموش کرنے کے لئے بھی صدقات کے مصارف میں قرآن نے مؤلفة القلوب کی ایک مد رکھی ہے، اگرچہ عام طور پر فقہاء کہتے ہیں کہ مصرف صرف ابتداء اسلام کی حد تک محدود تھا، اور اب ساقط ہوگیا، دلیل میں حضرت عمر ؓ کا اثر پیش کرتے ہیں کہ آپ نے مؤلفة القلوب کے بعض افراد کو دینے سے اس بنا پر انکار کردیا تھا کہ اب اسلام اتنا قوی ہوچکا ہے کہ ان لوگوں کی ضرورت نہیں رہی نبی ﷺ کی رحلت کے بعد عُیَیْنہ بن حصن اور اقرع بن حابس حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئے انہوں نے آپ سے ایک زمین طلب کی آپ نے عطیہ کا فرمان لکھ دیا انہوں نے چاہا کہ مزید پختگی کے لئے اعیان صحابہ سے بھی دستخط کرا لیں چناچہ گواہیاں ہوگئیں مگر جب یہ لوگ گواہی کے لئے حضرت عمر کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمان پڑھ کر ان کے روبروا پھاڑ دیا اور ان سے کہہ دیا کہ بےتم لوگوں کی تالیف قلوب کے لئے آپ ﷺ تم کو دیا کرتے تھے مگر اب اللہ نے اسلام کو تم جیسے لوگوں سے بےنیاز کردیا ہے اس پر وہ لوگ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس شکایت لے کر گئے اور طعنہ بھی دیا کہ خلیفہ آپ ہیں یا عمر ؟ لیکن نہ ابوبکر ہی نے اس پر کوئی نوٹس لیا نہ دوسرے صحابہ نے عمر ؓ کی رائے سے اختلاف کیا حالانکہ قصہ صرف اس قدر ہے کہ چند خاص لوگوں کو دینے سے حضرت عمر ؓ نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا تھا کہ، اِنَّ اللہ اَعذّ الاسلام فذھَبَا۔ اب اللہ نے اسلام کو عزت عطا فرما دی لہٰذا تم دونوں جائو (کچھ ملیگا) لیکن اس کا یہ مطلب قرار نہیں دیا جاسکتا کہ ہر شخص کے لئے حضرت عمر نے اس مد کو ساقط کردیا غور طلب بات یہ ہے کہ قرآن نے جس مصرف کو منصوص کیا ہے اس کو اولاً حضرت عمر ؓ منسوخ ہی کیسے کرسکتے ہیں ؟ نیز ایک ایسی خبر واحد سے قرآن کے ایک قانون پر خط نسخ نہیں پھیرا جاسکتا، بلکہ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ امام اور حکومت وقت کی صواب دید پر موقوف ہے، جس وقت لوگوں کے لئے اس کی ضرورت سمجھے دے اور جن کے لئے ضرورت نہ سمجھے نہ دے۔ (اسلام معاشیات بحوالہ ماجدی) فقیہ ابن عربی نے دونوں قول نقل کر کے ترجیح دوسرے ہی قول کو دی ہے، اور کہا ہے کہ اسلام جس طرح اس دور میں قوی اور معزز ہوگیا تھا اب پھر ضعیف ہوگیا ہے۔ مقروضوں کے ساتھ اسلام کی ہمدردی : دنیا میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے مقروضوں کے ساتھ عملی ہمدردی کا سبق دیا ہے اور اس گروہ کو بھی فقراء اور حاجت مند سمجھ کر زکوٰة کا مستحق قرار دیا ہے۔ مقروض دنیا کا وہ مظلوم ہے جس کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک تو بڑی بات ہے اس وقت تک دنیا کی حکومتوں نے ان کو ستانے والوں اور ان پر تشدد کے پہاڑ توڑنے والے قرض خواہوں کو صرف مالی نہیں بلکہ قانونی امداد و تعاون کو اپنا فریضہ قرار دے رکھا ہے ہر حکومت کی پولیس فورس اور فوجی وعسکری قوت اس کے لئے تیار رہتی ہے کہ مقروضوں کے ذمہ قرض خواہوں کا جو قرض ہے صرف اصل ہی نہیں بلکہ سود و رشوت کے ساتھ اس سے وصول کرایا جائے، خواہ مقروض کی ساری جائداد اور گھر کا سارا اثاثہ ہی کیوں نہ نیلام ہوجائے یہ ایک واقعہ ہے۔ وفی الرقاب، فکّ رقاب کہتے ہیں مکاتب کی گردن چھڑانے (آزاد کرنے میں مدد کرنا) اگر مولیٰ نے اپنے غلام سے کہہ دیا کہ تو اگر اتنی رقم لا کر دے دے تو تو آزاد ہے اس غلام کو مکاتب کہتے ہیں ایسے غلام کو مال زکوٰة دے کر مدد کی جاسکتی ہے اس پر علماء متفق ہیں اور اعتاق کا مطلب ہوتا ہے غلام خرید کر آزاد کرنا، زکوٰة کے مال کو اس صورت میں خرچ کرنے میں اختلاف ہے، حضرت علی ؓ سعید بن جبیر، لیث، ثوری، ابراہیم نخعی، حنفیہ، شافعیہ ناجائز کہتے ہیں اور ابن عباس ؓ ، حسن بصری، امام مالک، امام احمد جائز کہتے ہیں۔ وفی سبیل اللہ، لفظی معنی کے اعتبار سے اس مد میں ہر وہ خرچ آجاتا ہے جو اللہ کی رضا جوئی کے لئے ہو لیکن مفسرین نے احادیث نبوی اور آثار صحابہ کی روشنی میں خرچ کی اس مد کو عموماً مجاہدین تک محدود رکھا ہے۔ اراد بھا الغزاة فلھم سھم من الصدقة (معالم) فمنھم الغزاة الذی لا حق لھم فی الدیوان (ابن کثیر) اور بعض حضرات نے اس میں دینی طالب علموں کو بھی شامل کیا ہے، قیل المراد طلبة العلم واقتصر علیہ فی الفتاویٰ ظھیریہ۔ مصارف ثمانیہ میں سے ہر صنف کو دینا ضروری ہے یا بعض کو دینا بھی کافی ہوسکتا ہے ؟ امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مسلک : ایک مرتبہ زیادی بن حارث آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ صدقہ میں سے کچھ مجھے بھی عنایت فرما دیجئے، آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے صدقات میں کسی نبی کا حکم پسند نہیں کیا ہے بلکہ اس نے خود ہی آٹھ مصرف بتلا دئیے ہیں اگر تم ان آٹھویں میں سے ایک بھی ہو تو صدقہ کے مستحق ہو گے ورنہ نہیں، علماء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مصارف ثمانیہ قرآن میں بیان فرمائے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو زکوٰة دی جائے یا ان میں سے بعض کو دینا بھی کافی ہوسکتا ہے ؟ زیاد بن حارث کی مذکورہ حدیث کی بنا پر امام شافعی اور ایک جماعت اس بات کی قائل ہے کہ ان آٹھوں میں سے ایک بھی ہو تو صدقہ کے مستحق ہو گے ورنہ نہیں، علماء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مصارف ثمانیہ قرآن میں بیان فرمائے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو زکوٰة دی جائے یا ان میں سے بعض کو دینا بھی کافی ہوسکتا ہے ؟ زیاد بن حارث کی مذکورہ حدیث کی بنا پر امام شافعی اور ایک جماعت اس بات کی قائل ہے کہ ان آٹھوں قسموں پر صدقہ تقسیم کرنا چاہیے یہ حدیث ابو دائود میں ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبد الرحمن بن زیاد بن انعم افریقی کو اکثر علماء نے ضعیف قرار دیا ہے۔ مصارف صدقات میں امام ابوحنیفہ و امام مالک رحمھما اللہ تعالیٰ کا مسلک : مذکورہ حدیث کی سند میں چونکہ عبد الرحمن بن زیاد ضعیف ہے اس لئے ان حضرات نے فرمایا کہ مذکورہ آٹھ اصناف میں سے سب کو دینا ضروری نہیں ہے اگر ایک کو بھی دے دیا جائے تو کافی ہوگا، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا مقصد زکوٰة کے اصناف ثمانیہ بیان کرنے سے مصرف زکوٰة کو بیان کرنا ہے نہ کہ تعداد کو۔ زکوٰة و صدقہ واجبہ آپ ﷺ کی آل کے لئے جائز نہیں : صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ آنحضرت ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کی آل کے لئے حلال نہیں ہے، ظاہر روایت کے اعتبار سے یہ مذہب امام ابوحنیفہ کا ہے البتہ نفلی صدقہ کو آل محمد کے حق میں جائز قرار دیا ہے، یہ امام ابوحنیفہ اور امام مالک (رح) تعالیٰ کے نزدیک ہے۔ سادات میں کون لوگ شامل ہیں ؟ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک فقط ہاشم بن عبد مناف کی اولاد آل محمد ہے، اور امام شافعی (رح) تعالیٰ اور ایک روایت میں امام احمد (رح) تعالیٰ کے نزدیک بنی مطلب بھی آل محمد میں شامل ہیں۔ زکوٰة کے علاوہ دیگر صدقات غیر مسلم کو بھی دئیے جاسکتے ہیں : زکوٰة کے علاوہ عام صدقات غیر مسلموں کو بھی دئیے جاسکتے ہیں آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے '' تصدقوا علی اھل الادیان کلھا '' یعنی ہر مذہب والے پر صدقہ کرو، لیکن صدقہ زکوٰة کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو یمن بھیجنے کے وقت یہ ہدایت فرمائی تھی کہ زکوٰة مالدار مسلمانوں سے لی جائے اور غریب مسلمانوں کو دی جائے اس سے صاف ظاہر ہے کہ زکوٰة کے مستحق صرف مسلمان ہی ہیں۔ ایک مفید بحث : قرآن مجید میں تیسرا مصرف العاملین علیھا، بیان فرمایا ہے یہاں عاملین سے وہ لوگ مراد ہیں کہ جو اسلامی حکومت کی طرف سے صدقات، زکوٰة اور عشر وغیرہ لوگوں سے وصول کر کے بیت المال میں جمع کرنے کی خدمت پر مامور ہوتے ہیں یہ لوگ چونکہ اپنے تمام اوقات اس خدمت میں مشغول کرتے ہیں اس لئے ان کی ضروریات کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر عائد ہے قرآن کریم کی اس آیت نے مصارف زکوٰة میں ان کا حصہ رکھ کر یہ متعین کردیا کہ ان کا حق الخدمت اسی مذکورة سے دیا جائے گا۔ اس میں اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صدقات کی وصولی کا فریضہ براہ راست نبی ﷺ کو '' خُذْ مِنْ اَمْوالِھِمْ صدقةً '' کہہ کر سپرد فرمایا ہے، اس آیت کی رو سے مسلمانوں کے امیر پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں سے صدقات وصول کرے، اور یہ بات ظاہر ہے کہ امیر بذات خود بغیر معاونین کے یہ کام انجام نہیں دے سکتا لہٰذا اس کو معاونین اور مددگاروں کی ضرورت ہوگی ان ہی معاونین کو والعاملین عَلَیْھا کے الفاظ سے تعبیر فرمایا، اسی حکم کی تعمیل میں حضور ﷺ نے بہت سے صحابہ کو صدقات وصول کرنے کے لئے مختلف خطوں میں بھیجا تھا، اور مذکورہ ہدایت کے مطا بق زکوٰة ہی کی حاصل شدہ رقم میں سے ان کو حق الخدمت دیا ہے، حالانکہ ان حضرات میں وہ صحابہ بھی شامل ہیں جو اغنیاء تھے۔ حدیث شریف میں ہے کہ صدقہ کسی غنی کے لئے حلال نہیں بجز پانچ شخصوں کے (1) ایک وہ جو جہاد کے لئے نکلا ہو اور وہاں اس کے پاس بقدر ضرورت مال نہیں اگرچہ اس کے گھر مال موجود ہو (2) دوسرے عامل صدقہ جو صدقہ وصول کرنے کی خدمت انجام دیتا ہو، (3) وہ شخص کہ اگرچہ اس کے پاس مال ہے مگر موجودہ مال سے زیادہ کا قرضہ ہے (4) وہ شخص جو صدقہ کا مال کسی غریب مسکین سے خرید لے، (5) وہ مالدار شخص جس کو کسی غریب شخص نے صدقہ سے حاصل شدہ مال بطور ہدیہ دے دیا ہو۔ عاملین صدقہ کو جو رقم دی جاتی ہے وہ صدقہ کے طور پر نہیں بلکہ معاوضہ خدمت کے طور پر دی جاتی ہے اسی لئے مالدار ہونے کے باوجود عاملین کے لئے اس کا لینا جائز ہے اس مد کے علاوہ اگر صدقہ کا مال دوسرے کسی کام کے معاوضہ میں دیا گیا تو وہ جائز نہ ہوگا، مصارف ثمانیہ میں عاملین ہی کی صرف ایک مد ہے جس میں حق الخدمت دینا جائز ہے۔ دو سوال اور ان کے جواب : اب یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں، اول یہ کہ مال زکوٰة کو معاوضہ خدمت کے طور پر کیسے دیا گیا ؟ دوسرے یہ کہ مالدار کے لئے یہ مال حلال کیسے ہوا ؟ ان دونوں سوالوں کا ایک ہی جواب ہے وہ یہ کہ عاملین حضرات فقراء کے وکیل کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ وکیل کا قبضہ مؤکل کا قبضہ ہوتا ہے، جب عاملین نے زکوٰة کی رقم فقراء کے وکیل ہونے کی حیثیت سے وصول کرلی تو زکوٰة دینے والوں کی زکوٰة ادا ہوگئی، اب یہ پوری رقم ان فقراء کی ملک ہے جن کی طرف سے بطور وکیل انہوں نے وصول کی ہے، اب جو رقم حق الخدمت کے طور پر دی جاتی ہے وہ مالداروں کی طرف سے نہیں بلکہ فقراء کی طرف سے ہے اور فقراء کو اس میں ہر طرح کا تصرف کرنے کا اختیار ہے۔ ایک اہم سوال : اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ فقراء نے تو ان کو وکیل و مختار بنایا نہیں، یہ ان کے وکیل کیسے بن گئے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی حکومت کا سربراہ جس کو امیر کہا جاتا ہے وہ قدرتی طور پر من جانب اللہ پورے ملک کے فقراء کا وکیل ہوتا ہے کیونکہ ان سب کی ضرورت کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے امیر الملک جن کو صدقات کی وصولی پر عامل بنا دے وہ سب ان کے نائب اور وکیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ عاملین کو جو کچھ حق الخدمت کے طور پر دیا گیا ہے وہ درحقیقت زکوٰة نہیں بلکہ زکوٰة جن فقراء کا حق ان کی طرف سے معاوضہ خدمت دیا گیا ہے۔ فائدہ جلیلہ : تفصیل مذکور سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آجکل جو اسلامی مدارس اور مکاتب وانجمنوں کے مہتمم حضرات یا ان کی طرف سے بھیجے ہوئے سفراء صدقات وزکوٰة وغیرہ مدارس وانجمنوں کے لئے وصول کرتے ہیں ان کا وہ حکم نہیں ہے جو عاملین صدقہ کا ہے لہٰذا سفراء حضرات کی تنخواہ مال زکوٰة سے دینا جائز نہیں ہے وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ فقراء کے وکیل نہیں ہیں بلکہ اصحاب زکوٰة مالداروں کے وکیل ہیں ان کی طرف سے مال زکوٰة، زکوٰة کے مصرف میں لگانے کا اختیار دیا گیا ہے، اسی لئے ان کا قبضہ ہوجانے کے بعد بھی زکوٰة اس وقت تک ادا نہیں ہوتی جب تک وہ اپنے مصرف میں صرف نہ ہوجائے سفراء کا حقیقةً فقراء کا وکیل نہ ہونا تو ظاہر ہے کہ ان کو کسی فقیر نے وکیل بنایا ہی نہیں ہے اور امیر المومنین کی طرف سے ولایت عامہ جو عاملین کو حاصل ہوتی ہے وہ بھی ان کو حاصل نہیں ہے لہٰذا بجز اس کے کوئی صورت نہیں کہ ان کو اصحاب زکوٰة مالداروں کا وکیل قرار دیا جائے، اور جب تک وکیل کا قبضہ رہے وہ ایسا ہی ہوگا جیسا کہ خود مؤکل کا لہٰذا مصرف زکوٰة میں خرچ نہ ہونے تک زکوٰة ادا نہ ہوگی۔
Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر ﷺ کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لئے۔ اور خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے۔ اور جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں انکے لئے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا ﷺ کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لئے عذاب الیم (تیار) ہے۔

وَ مِنْھُمْ ای المنافقین الذین یؤذونَ النبیَّ ، یہ بھی منافقوں کی ہر زہ سرائی اور بیہودہ بکواس کا ذکر ہے جس کا مقصد آنحضرت ﷺ کو تکلیف پہنچانا ہے، جو باتیں منافقین آپ ﷺ کے بارے میں کہا کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ محمد ﷺ تو کان کے کچے ہیں یعنی جو سنتے ہیں اس کو سچ مان لیتے ہیں اس پر غور نہیں کرتے اگر کوئی مسلمان ان کی باتیں جا کر کہہ دیتا ہے تو اس کو سچ مان لیتے ہیں اور جب ہم قسم کھا کر اس کا انکار کردیتے ہیں ہماری بات کو سچ مان لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ تم انہیں (کان کا کچا) کہتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ انہیں جھوٹ اور سچ کی تمیز نہیں ہے، ایسا نہیں ہے انہیں جھوٹ اور سچ کی خوب تمیز ہے مگر تمہاری طرف سے تغافل اور چشم پوشی کرتے ہیں اور اہل نفاق کے حق میں رحمت ہیں کہ اپنی زبان سے کچھ کہہ کر ان کا پردہ فاش نہیں کرتے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ ایسی باتیں کر کے آپ ﷺ کو ایذاء پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اس آیت کے شان نزول کے بارے میں عبد اللہ بن مسعود کی ایک روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت جب ایک منافق جس کا نام معتب بن قشیر تھا اس نے مال غنیمت کے بارے میں اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا اللہ موسیٰ پر رحمت نازل کرے کہ انہوں نے امت کے لوگوں کے ہاتھوں اس سے بھی زیادہ اذیتیں برداشت کی تھیں۔ (صحیح بخاری)
Ayahs 9:62–64

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

(مومنو ! ) یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کردیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اسکے پیغمبر ﷺ خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول ﷺ سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لئے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا ؟ یہ بڑی رسوائی ہے۔

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر ﷺ پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کردے۔ کہہ دو کہ ہنسی کیے جاؤ جس بات سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کردے گا۔

یحلفون باللہ لکم لیُرْضوکم الخ اس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے منافقوں کے پوشیدہ راز کو ظاہر فرما دیا کہ یہ لوگ خلوتوں میں آنحضرت ﷺ اور مومنوں پر زبان طعن دراز کرتے ہیں اور اس کی اطلاع آپ کو ہوجاتی ہے تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر جھوٹی قسمیں کھا کر انکار کردیتے ہیں، اس جھوٹی قسم سے ان کا منشا آپ کو اور مومنوں کو خوش کرنا ہوتا ہے حالانکہ ہونا یوں چاہیے تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنے کی فکر کرتے اور نفاق چھوڑ کر مخلص ہوجاتے، کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے وہ ہمیشہ ہمیش دوزخ میں رہے گا۔
Ayahs 9:65–66

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اسکی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ سے ہنسی کرتے تھے ؟

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دینگے۔ کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں۔

شان نزول : لئن سَالتھم، تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور قتادہ سے اس آیت کا جو شان نزول مروی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک جماعت منافقین کی تھی کبھی تو وہ آپ ﷺ کی شان میں خفیہ طور پر بدگوئی کرتے اور کبھی قرآن کے بارے میں نکتہ چینی کرتے اور جب ان سے کہا جاتا تو فورا مکر جاتے اور قسمیں کھانے لگتے، اور کہہ دیتے کہ ہم تو آپس میں یوں ہی ہنسی مذاق کر کے ٹائم پاس کر رہے تھے، ان کے حال کو ظاہر کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا۔ اِنْ یُّسعْفَ یاء کے ساتھ بصیغہ مجہول اور نون کے ساتھ بصیغہ معروف، اگر تم میں کی کوئی جماعت اس حرکت سے باز آجائے اور دل سے توبہ کرلے تو معاف کردیا جائے گا، جیسا کہ مخشی بن حمیر اور بعض نسخوں میں حجش بن حمیر ہے یہ شخص بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو اللہ کے رسول اور قرآن کا مذاق اڑایا کرتے مگر جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے سچے دل سے توبہ کرلی اور جنگ یمامہ میں شہید ہوا، اس نے دعاء کی تھی کہ اے اللہ تو مجھے اپنے راستہ میں شہادت نصیب فرما، کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے غسل دیا گیا یا مجھے کفنایا گیا یا مجھے دفن کیا گیا چناچہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے اور کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ ان کی جائے شہادت کہا تھی اور کس نے ان کو کفن دیا ؟
Ayahs 9:67–72

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک ہی طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے اور نیک کاموں سے منع کرتے اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے بھی ان کو بھلا دیا۔ بیشک منافق نافرمان ہیں۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہی انکے لائق ہے اور خدا نے ان پر لعنت کردی ہے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب (تیار) ہے۔

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت طاقتور اور مال و اولاد کہیں زیادہ تھے۔ تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضا ئع ہوگئے اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے ؟ (یعنی) نوح (علیہ السلام) اور عاد اور ثمود کی قوم اور ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور خدا اور اس کے پیغمبر ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بیشک خدا غالب حکمت والا ہے۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے۔ جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضامندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

آیت نمبر 67 تا 72 ترجمہ : منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی طرح کے ہیں، یعنی دین کے معاملہ میں ایک شی کے اجزاء کے مشابہ ہیں، برائی کا (یعنی) کفر و معاصی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی (یعنی) ایمان وطاعت سے روکتے ہیں اور طاعت میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھوں کو روکے رکھتے ہیں اللہ کو بھول گئے ہیں یعنی اس اطاعت کو ترک کردیا ہے، تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا ہے یعنی ان کو اپنے کرم سے محروم کردیا ہے، یقینا یہ منافق ہی فاسق ہیں ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے اللہ نے آتش دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہی جزا وسزا کے اعتبار سے ان کے لئے ہے، اللہ نے ان پر لعنت کی ہے یعنی ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے، اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے اے منافقو ! تمہارے رنگ ڈھنگ ویسے ہی ہیں جیسے تم سے پہلے والوں کے تھے، وہ تم سے زیادہ زور آور تھے اور مال اولاد میں تم سے بڑھے ہوئے تھے انہوں نے دنیا میں اپنے حصہ کے مزے لوٹ لئے پھر اے منافقو ! تم نے بھی اپنے حصہ کے مزے اسی طرح لوٹے جس طرح تمہارے پیش رئوں نے اپنے حصہ کے مزے لوٹے، اور تم بھی نبی ﷺ پر طعن کرنے اور باطل کی بحثوں میں اسی طرح پڑگئے جس طرح وہ پڑگئے تھے یہی ہیں وہ لوگ جن کے اعمال (خیر) دنیا و آخرت میں ضائع ہوگئے اور وہی خسارے میں ہیں، کیا ان کے پاس ان لوگوں کی تاریخ نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں، (مثلاً ) قوم نوح اور عاد جو کہ ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی اور ثمود (کی تاریخ) جو صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی، اور قوم ابراہیم (علیہ السلام) کی اور اصحاب مدین کی جو قوم شعیب (علیہ السلام) تھی، اور ان بستی والوں کی جنہیں الٹ دیا گیا تھا (اور وہ) قوم لوط (علیہ السلام) کی بستیوں والے تھے ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں معجزات لے کر آئے تھے، مگر انہوں نے ان کی تکذیب کی چناچہ انہیں ہلاک کردیا گیا، یہ اللہ کا کام نہیں تھا کہ وہ ان پر ظلم کرے بایں طور کہ بلاوجہ ان کو عذاب دے مگر (حقیقت یہ ہے کہ) وہ خود ہی گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں زکوٰة ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں یہی وہ لوگ جن پر اللہ عنقریب رحم کرے گا یقینا اللہ تعالیٰ غالب ہے اس کو اپنا وعدہ پورا کرنے، وعید کو نافذ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا باحکمت ہے، ہر شی کو اس کے محل (وموقع) پر کرتا ہے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ایسی جنت عطا کرے گا جس میں نہریں جاری ہوں گی اس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے، ان باغوں میں ان کے لئے پاکیزہ قیام گاہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں اللہ کی خوشنودی حاصل ہوگی جو کہ ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے، یہی بڑی کامیابی ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد : قولہ : ترکوا طاعَتَہ، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ نسیان پر کسی سے مؤاخذہ نہیں ہوتا اور نہ نسیان قابل مذمت، اس لئے کہ یہ من جانب اللہ ہوتا ہے تو پھر اس کو مقام مذمت میں کیوں ذکر فرمایا ؟ جواب : یہاں اور آئندہ نسیان سے اس کے لازم معنی مراد میں اس لئے کہ نسیان کے لئے ترک لازم ہے اللہ تعالیٰ کے بھلانے کا مطلب ہے اپنی رحمت خاصہ سے محروم کردینا۔ قولہ : انتم ایّھا المنفقون، انتم محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ کالذینَ مِن قَبْلکم مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے محلاً مرفوع ہے نہ کہ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب اس لئے کہ اس صورت میں کثرت حذف لازم آئے گا حالانکہ حذف میں تقلیل اولی ہے۔ قولہ : نصیبھم، اس میں خلاق کے معنی کی طرف اشارہ ہے، یہ خلق سے مشتق ہے بمعنی تقدیر۔ سوال : فکذبوھم کے اضافہ کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب : تاکہ '' فَمَا کانَ اللہ لیظلمھم '' کا عطف فاء تعقیبیہ کے ذریعہ درست ہوجائے۔ قولہ : اِقامَةٍ اس میں اشارہ ہے کہ عَدْن بمعنی خلود، ہے لہٰذا تکرار کا اعتراض دفع ہوگیا۔ قولہ : رضوان من اللہ، رضوان میں تنوین تنکیر کی ہے یعنی اللہ کی ادنی رضا مندی بھی بڑی چیز ہے۔ تفسیر وتشریح المنفقونَ والمنٰفقٰت بعضھم من بعض، آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں تین سو منافق مرد اور 170 منافق عورتیں تھیں آپ ﷺ کے زمانہ میں وہ لوگ منافق کہلاتے تھے جو مسلمانوں کے ہاتھ سے اپنی جان اور اپنا مال بچانے کی غرض سے ظاہر میں تو اسلام قبول کرلیتے تھے مگر ان کے دل میں کفر جما رہتا تھا اگرچہ دل کا حال سوائے اللہ کے کسی کو معلوم نہیں ہوسکتا مگر آپ ﷺ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی آپ کو ان کے نفاق کی اطلاع کردیتا تھا، البتہ عملی منافق کا اس کے اعمال سے اور ان کی علامات سے جو آپ ﷺ نے بیان فرمائی ہیں علم ہوجاتا ہے وہ شرعی احکام میں سستی کرنا ہے، اکثر جھوٹ بولتا ہے، بات بات پر لڑائی جھگڑے کرتا ہے، گالیاں منہ سے نکالتا ہے، امانت میں خیانت اس کا شیوہ ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ عملی منافق کہلاتے ہیں ایسے لوگ اس زمانہ میں بھی ہیں اور ہر زمانہ میں رہیں گے، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کا حال بیان فرمایا ہے کہ ان کے اعمال ایک جیسے ہیں، تمام منافقوں کی مشترکہ خصوصیت یہ ہے کہ ان سب کو برائی سے دلچسپی اور بھلائی سے نفرت و عداوت ہے، اگر کوئی شخص برائی کرتا ہے تو ان کی ہمدردیاں، ان کے مشورے اس کے ساتھ ہوتے ہیں، ان کی ہر ادا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ برائی کے پروان چڑھنے سے ان کو راحت قلبی نصیب ہوتی ہے اور اسی میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کے برخلاف ان کو ہر بھلے کام سے صدمہ پہنچتا ہے ان کی روح بےچین ہونے لگتی ہے، ایک مشترکہ خاصیت ان کی یہ بھی ہے کہ نیکی کے کام میں خرچ کرنے کے لئے ان کا ہاتھ کبھی نہیں کھلتا، بدی میں خرچ کرنے کے لئے چاہے وہ اپنے وقت کے قارون ہوں خوب خرچ کرتے ہیں۔ مگر نیکی میں خرچ کرنے کے لئے ان سے زیادہ کوئی مفلس نہیں۔ فما کان اللہ لیظلمھم الخ یعنی ان کی تباہی و بربادی اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ اللہ کو ان کے ساتھ کوئی دشمنی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ انہیں تباہ کرے، بلکہ دراصل انہوں نے خود ہی اپنے لئے وہ طرز زندگی پسند کیا جو انہیں بربادی کی طرف لے جانے والا تھا، اللہ نے تو انہیں سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کرنے کا پورا موقع دیا، ان کی فہمائش کے لئے رسول بھیجے رسولوں نے نہایت واضح طریقہ سے بتادیا کہ کامرانی اور فلاح کا راستہ کونسا ہے ؟ والمؤمنون والمؤمنات، جس طرح منافقین ایک الگ امت ہیں اسی طرح اہل ایمان بھی ایک الگ امت ہیں، اگرچہ ایمان کا ظاہری اقرار اور اسلام کی پیروی کا خارجی اظہار دونوں گروہوں میں مشترک ہے، لیکن ان کے مزاج، اخلاق، اطوار اور طرز فکرو عمل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔