Ayahs 9:25–27آیت نمبر 25 تا 29
ترجمہ : بیشک اللہ تعالیٰ نے لڑائی کے بہت سے موقعوں پر تمہاری مدد کی ہے مثلاً بدرو (بنو) قریظہ اور (بنو) نضیر (کے مقابلہ میں) اور حنین کے دن کو یاد کرو، یہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی ہے، یعنی اس دن میں ہوازن کے ساتھ جنگ کو یاد کرو، اور یہ شوال 8 ھ میں پیش آئی جبکہ تم کو تمہاری کثرت پر نازہو گیا تھا سو تم نے کہا تھا کہ آج ہم قلت کی وجہ سے مغلوب نہ ہوں گے، اور (مسلمانوں کی تعداد) بارہ ہزار تھی اور کفار چار ہزار تھے، اِذْ یَوْمَ سے بدل ہے، لیکن اس (کثرت نے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا، اور زمین اپنی کشادگی کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، ما، مصدریہ ہے یعنی اپنی وسعت کے باوجود، تم کو کوئی ایسی جگہ نہ ملی کہ تم اس میں اس شدید خوف کی وجہ سے جو تم کو لاحق ہوگیا تھا پناہ لے سکو، پھر تم شکست خوردہ ہو کر پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے، اور نبی ﷺ اپنے سفید خچر پر اپنی جگہ جمے رہے حالانکہ آپ ﷺ کے ساتھ سوائے عباس ؓ کے اور ابو سفیان ؓ کے جو آپ ﷺ کے خچر کی رکاب تھامے ہوئے تھے کوئی باقی نہیں رہا تھا اس کے بعد اللہ نے اپنے رسول پر اور مومنین پر سکینت (تسلی) نازل فرمائی چناچہ جب حضرت عباس ؓ نے آپ کے کہنے سے تم لوگوں کو آواز دی تو تم نبی ﷺ کی طرف لوٹ آئے اور (مشرکین سے) قتال کیا اور فرشتوں کا وہ لشکر نازل فرمایا جو تم کو نظر نہیں آرہا تھا اور (اللہ نے) کافروں کو قتل و قید کی سزا دی اور یہی کافروں کی سزا ہے، پھر اس کے بعد ان میں سے اللہ جس کو چاہے اسلام کی توفیق دے کر توبہ نصیب کر دے اللہ بڑا مغفرت والا رحم والا ہے، اے ایمان والوں مشرکین اپنی خبث باطن کی وجہ سے سراپا نجس ہیں لہٰذا اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ پھٹکیں یعنی مسجد حرام میں داخل نہ ہوں اور 9 ھ میں یہ حکم نازل ہوا، اور اگر تم کو ان کے ساتھ تجارت منقطع ہوجانے کی وجہ سے فقر کا اندیشہ ہو سو اگر اللہ چاہے گا تو اپنے فضل سے تم کو ان سے عنقریب بےنیاز کر دے گا، چناچہ (اللہ نے) مسلمانوں کو فتح اور جزیہ کے ذریعہ بےنیاز کردیا، اللہ خوب جاننے والا بڑا حکمت والا ہے، ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اگر وہ (اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے) تو نبی ﷺ پر ایمان لے آتے اور نہ اس چیز کو حرام سمجھتے ہیں جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے مثلاً شراب (نوشی) اور نہ سچے دین کو قبول کرتے ہیں جو کہ دائمی اور دیگر ادیان کے لئے ناسخ ہے اور وہ اسلام ہے اور وہ اہل کتاب یہودونصاریٰ ہیں مِنْ ، بیانیہ ہے، اَلّذین کا بیان ہے، تا آں کہ وہ عائد کردہ سالانہ ٹیکس (جزیہ) تابع ہو کر بدست خود بغیر کسی کو سپرد کئے ادا کریں حال یہ کہ وہ ذلیل ہوں (یعنی) اسلام کے حکم کے تابع ہوں۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : مَوَاطِنَ ، مَوْطِن کی جمع ہے بمعنی موقع، مقامات، مفسر علام نے للحرب کا اضافہ کر کے اشارہ کردیا کہ موطن سے مراد جائے سکونت نہیں ہے بلکہ میدان حرب ہے،
قولہ : اذکر، مفسر علام نے اذکر فعل محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ یَوْمَ فعل محذوف کا مفعول ہے نہ کہ مواطن پر عطف جیسا کہ کہا گیا ہے اس لئے کہ یَوْمَ حُنَیْن ظرف زمان ہے اور مَوَاطِنَ ظرف مکان ہے اور زمان کا عطف مکان پر درست نہیں ہے دوسری وجہ یہ کہ اِذْ اعجبتکم، یَوْمَ حنین سے بدل ہے اگر یَوْمَ حُنَیْنٍ کا عطف مواطن پر کیا جائے تو اِذْ اَعْجَبَتْکم کو بھی مواطن سے بدل ماننا ہوگا اور یہ باطل ہے اس لئے کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمام مواقع پر عجب ہوا تھا۔
قولہ : ھوازن، تیر اندازی میں مشہور ایک قبیلہ کا نام ہے جو کہ حلیمہ سعدیہ کا قبیلہ ہے۔
قولہ : حُنَیْن مکہ اور طائف کے درمیان۔ مکہ سے اٹھارہ میل کے فاصلہ پر ایک وادی کا نام ہے۔
قولہ : بما رَحُبَتْ ، رُحبة بضم الراء، بمعنی کشادگی وسعت، اور رَحبة بالفتح کشادہ مکان، اور باء بمعنی مع '' مَا '' مصدریہ ہے لہٰذا عدم عائد کا اعتراض نہیں ہوگا۔
قولہ : فَلَمْ تَجِدُوا مکاناً اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ ضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین اپنی کشادگی کے باوجود تنگ ہوگئی حالانکہ زمین اپنی حالت پر باقی تھی۔
جواب : یہ ہے کہ زمین کی تنگی سے مراد عجازاً عدم وجود المکان المطمئن ہے۔
قولہ : لخُبث باطِنِھم یہ ایک سوال کا مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یہ ہے کہ نَجَس مصدر ہے اور مصدر کا حمل ذات پر درست نہیں ہے۔
جواب : کا حاصل یہ ہے کہ نَجَس سے مراد ذونجس ہے یا بطور مبالغہ حمل ہے بیان نجاست میں مبالغہ کرنے کے لئے، گویا کہ مشرک عین نجاست ہیں۔
دوسرا سوال : یہ ہے کہ المشرکون جمع ہے اور نجس مفرد ہے جس کی وجہ سے مبتداء خبر میں مطابقت نہیں ہے۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ نجس مصدر ہونے کی وجہ سے واحد تثنیہ اور جمع سب پر بولا جاتا ہے یقال رَجُل نجس رجلان نجس، رجال نجس، بعض ظاہر یہ اور زید یہ مشرک کو نجس العین مانتے ہیں۔
قولہ : عَیْلَة، الفقر، یہ عَالَ یَعیلُ (ض) کا مصدر ہے محتاج ہونا۔
قولہ : واِلاّ لامنوا بالنبی ﷺ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤمِنُوْنَ بِا اللہ وَلاَ بِا لْیَوْمِ الاٰخِرِ اس سے اہل کتاب سے ایمان باللہ اور ایمان بالآخرة کی نفی کی گئی ہے حالانکہ یہ دونوں فرقے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔
جواب : کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر یہ لوگ صحیح معنی میں اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے تو محمد ﷺ پر ضرور ایمان لاتے جب آپ ﷺ پر ایمان نہیں لائے تو ان کا ایمان اللہ اور یوم آخرت پر بھی نہیں ہے۔
قولہ : دین الحق ای الدین الحق اس میں اضافت الموصوف الی الصفت ہے۔
قولہ : عَنْ یَّدٍ حال، یُعْطُوْا کی ضمیر سے حال ہے، یَد کی تفسیر منقادین سے تفسیر باللاَّ زم ہے کہا جاتا ہے اعطی فلان بیدہ ای اَسْلَمَ وانقاد۔
قولہ : بایدیکم، اس میں اشارہ ہے کہ عن ید میں عن بمعنی باء ہے اور یہ عن ید کی دوسری تفسیر ہے۔
قولہ : یُوکَّلُونَ یہ توکیل سے مضارع جمع مذکر غائب ہے بمعنی سپرد کرنا وکیل بنانا۔
قولہ : وَھم صاغرون اس حال میں کہ وہ اپنی زیر دستی کا احساس رکھتے ہوں، الصاغر الراضی بالمنزلة الدنیة (راغب) امام شافعی (رح) تعالیٰ نے فرمایا ہے صغار قانون اسلام کی بالا دستی قبول کرنا ہے۔
تفسیر وتشریح
لَقَدْ نَصَرَ کُمُ اللہ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَةٍ اس سے پہلے سورت انفال میں فتح مکہ اور اسکے متعلقات کا ذکر تھا، اس سورت میں غزوہ حنین کے واقعات، شکست وفتح کا اور ان کے ضمن میں بہت سے اصولی اور فروعی مسائل اور فوائد کا بیان ہے اس رکوع کی پہلی آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے انعام و احسان کا ذکر فرمایا ہے عمومی احسان کا ذکر فرمانے کے بعد خصوصی انعام و احسان کے طور پر غزوہ حنین میں اپنی نصرت کا ذکر فرمایا، مسلمان اس سے پہلے بار بار نصرت غیبی اور تائید ایزدی کا مشاہدہ کا مشاہدہ کرچکے تھے جن کی تعداد علماء تاریخ و سیرت اسّی تک گناتے ہیں۔
غزوہ حنین کو خاص طور پر ذکر کرنے کی وجہ : غزوہ حنین کو خصوصیت کے ساتھ اس وجہ سے ذکر فرمایا کہ اس میں بہت سے واقعات اور حالات خلاف توقع عجیب انداز سے ظاہر ہوئے جن میں غور کرنے سے انسان کے ایمان میں قوت اور عمل میں ہمت پیدا ہوتی ہے۔
غزوہ حنین کا تفصیلی ذکر : حنین مکہ مکرمہ اور طائق کے درمیان مکہ سے اٹھارہ میل سے زیادہ فاصلہ پر واقع ہے لیکن ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے حال ہی میں موقع پر جا کر جو تحقیق کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حنین اوطاس کی ایک وادی کا نام ہے اور اوطاس طائف کے شمال مشرق میں تقریباً 30، 40 میل کے فاصلہ پر ہے بہرحال اس کا محل وقوع جو بھی ہو، رمضان 8 ھ میں مکہ فتح ہوجانے اور قریش مکہ کے ہتھیار ڈالدینے کے دو ہفتہ کے بعد قدیم جاہلی نظام نے آخری حرکت مذبوحی حنین کے میدان میں کی اس کی صورت یہ پیش آئی کہ عرب کا ایک بہادر اور تیر اندازی میں مشہور، جنگجو اور مالدار قبیلہ ہوازن جس کی ایک شاخ طائف کے رہنے والے بنو ثقیف بھی تھے ان میں ہل چل مچ گئی انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ مکہ فتح ہوجانے کے بعد مسلمانوں کو کافی قوت حاصل ہوگئی ہے اس سے فارغ ہونے کے بعد لازمی ہے کہ ان کا رخ ہماری طرف ہوگا اس لئے دانشمندی کی بات یہ ہے کہ ان کے حملہ آور ہونے سے پہلے پہلے ہم خود ان پر حملہ کردیں، اس کام کے لئے قبیلہ ہوازن نے اپنی سب شاخوں کو جو مکہ سے طائف تک پھیلی ہوئی تھیں جمع کرلیا، قبیلہ ہوازن کی تمام شاخیں جن کی تعداد سو کے قریب تھی سوائے بنو کعب اور بنو کلاب کے جو قبیلہ ہوازن کے خیال سے متفق نہیں تھے جمع ہوگئے، بنو کعب اور بنو کلاب کو اللہ تعالیٰ نے کچھ بصیرت عطا فرمادی تھی انہوں نے کہا اگر مشرق سے مغرب تک ساری دنیا محمد ﷺ کے خلاف جمع ہوجائے گی تو وہ ان سب پر غالب آجائیں گے ہم خدائی طاقت کے ساتھ جنگ نہیں کرسکتے، حنین کے معرکہ میں قبیلہ ہوازن اور اس کے حلیفوں نے اپنی پوری قوت جھونک دی تاکہ اس اصلاحی انقلاب کو روک دیں جو فتح مکہ کے بعد تکلمیل کے مرحلہ میں پہنچ چکا تھا لیکن یہ حرکت بھی ناکام ہوئی اور حنین کی شکست کے ساتھ عرب کی قسمت کا قطعی فیصلہ ہوگیا کہ اب اسے دارالاسلام بن کر رہنا ہے۔
مشرکین کی فوج کی کمان مالک بن عوف کے ہاتھ میں تھی جو بعد میں مسلمان ہوگئے، مالک بن عوف نے ان سب کو پوری قوت سے جنگ پر قائم رکھنے کی یہ تدبیر کی کہ ہر شخص کے تمام اہل و عیال بھی ساتھ چلیں اور اپنا تمام مال بھی ساتھ لے کر نکلیں جس کا مقصد یہ تھا کہ اگر وہ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے لگیں تو بیوی بچے ان کے پیروں کی زنجیر بن جائیں مشرکین کی فوج کی تعداد کے بارے میں مختلف اقوال ہیں علامہ ابن حجر نے 24 یا 28 ہزار کی تعداد کو راجح قرار دیا ہے بعض حضرات نے 4 ہزار تعداد بتائی ہے ممکن ہے کہ باقاعدہ فوجی چار ہزار ہوں اور ان کے اہل وغیرہ سب مل کر ان کی تعداد 24 یا 28 ہزار تک پہنچ گئی ہو۔
آنحضرت ﷺ کو ان کے خطرناک عزائم کی اطلاع : جب آنحضرت ﷺ کو قبیلہ ہوازن اور اس کے حلیفوں کے خطرناک عزائم کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے ان کے مقابلہ پر جانے کا عزم فرما لیا، مکہ مکرمہ پر حضرت عتاب بن اسید ؓ کو امیر بنایا اور حضرت معاذ بن جبل ؓ کو ان کے ساتھ اسلامی تعلیمات سکھانے کے لئے چھوڑا اور قریش مکہ سے کچھ اسلحہ اور سامان جنگ عاریت پر لیا، امام زہری کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ چودہ ہزار صحابہ کا لشکر لے کر حنین کی طرف متوجہ ہوئے جن میں بارہ ہزار انصار مدینہ تھے جو فتح مکہ کے لئے آپ کے ساتھ مدینہ سے آئے تھے، اور دو ہزار وہ نو مسلم تھے جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوگئے تھے جن کو طلقاء کہا جاتا ہے 6 شوال بروز ہفتہ 8 ھ مطابق یکم فروری آپ اس غزوہ کے لئے روانہ ہوئے اور آپ نے فرمایا کل انشاء اللہ ہمارا قیام خیف بنی کنانہ کے اس مقام پر ہوگا جہاں جمع ہو کر قریش مکہ نے مسلمانوں کے خلاف مقاطعہ کے لئے عہد نامہ لکھا تھا، بہت سے نو مسلم اور منافقین بھی تماشائی کے طور پر اسلامی لشکر کے ساتھ ہو لئے ان کا مقصد صورت حال کے مطابق حالات سے فائدہ اٹھانا تھا۔
حنین کے مقام پر اسلامی لشکر کا ورود : مقام حنین پر پہنچ کر اسلامی لشکر نے پڑائو ڈالا تو حضرت سہیل بن حنظلہ ؓ نے آپ ﷺ کو یہ خبر دی کہ ایک گھوڑسوار شخص ابھی دشمن کی طرف سے آیا ہے، وہ بتلا رہا ہے کہ قبیلہ ہوازن مسلح ہو کر مع اپنے سازو سامان کے مقابلہ پر آگیا ہے آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا '' پرواہ نہ کرو یہ پورا سازو سامان مسلمانوں کے لئے ہے جو مال غنیمت ہو کر تقسیم ہوگا ''۔
عبد اللہ بن ابی حدرد ؓ کی بطور جاسوس روانگی : اس مقام پر ٹھہر کر آپ ﷺ نے عبد اللہ بن ابی حدرد ؓ کو بطور جاسوس دشمن کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا عبد اللہ بن ابی حدرد ؓ نے اس قوم میں جا کردو روز رہ کر حالات کا جائزہ لیا ان کے لیڈر مالک بن عوف کو دیکھا کہ وہ اپنے لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ محمد ﷺ کو اب تک کسی بہادر تجربہ کار قوم سے سابقہ نہیں پڑا مکہ کے بھولے بھالے قریشیوں کا مقابلہ کر کے ان کو اپنی طاقت کا زعم ہوگیا ہے اب ان کو پتہ چلے گا، تم صبح ہوتے ہی اس طرح سف بندی کرو کہ ہر ایک کے پیچھے اسکے بیوی بچے اور مال ہو اور اپنی تلواروں کی میانوں کو توڑ ڈالو اور سب مل کر یکبارگی ہلہ بول دو یہ لوگ چونکہ جنگی معاملات کے بڑے تجربہ کار تھے اسلئے اپنی فوج کے چند دستوں کو مختلف گھاٹیوں میں چھپا دیا تھا۔
مسلمانوں کے لشکر کی صورت حال : یہ تو لشکر کفار کی تیاریوں کا ذکر تھا، اسلامی لشکر کی صورت حال یہ تھی کہ یہ پہلا موقع تھا کہ چودہ ہزار مجاہد مقابلہ کے لئے نکلے تھے، اور سامان جنگ بھی ہمیشہ کی بہ نسبت زیادہ تھا مسلمان یہ دیکھ چکے تھے کہ بدر میں صرف تین سو تیرہ لوگوں نے ایک ہزار کے لشکر جرار پر فتح پائی تو آج اپنی کثرت اور تیاری پر نظر کرتے ہوئے بعض لوگوں کی زبان سے یہ نکل گیا کہ '' آج تو ممکن نہیں کہ ہم کسی سے مغلوب ہوجائیں '' چناچہ اول اول مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی تو مشرکوں میں بھگ دڑ مچ گئی اور مسلمان مال غنیمت حاصل کرنے میں لگ گئے معاً نصرت الٰہی نے مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ دیا مشرکین موقع دیکھ کر پلٹ پڑے۔
خداوند قدوس کو مسلمانوں کی یہ بات ناپسند آئی کہ مسلمان خدا کی ذات پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنی
کثرت تعداد اور تیاری پر بھروسہ کریں چناچہ مسلمانوں کو اس کی سزا اس طرح ملی کہ جب قبیلہ ہوازن نے طے شدہ پروگرام کے مطابق یکبارگی ہلہ بولا اور گھا ٹیوں میں چھپے ہوئے دستوں نے چاروں طرف سے گھیرا ڈال دیا اور گرد و غبار نے دن کو رات بنادیا تو صحابہ کرام کے عام طور پر پیر اکھڑ گئے اور بھاگنے پر مجبور ہوگئے صرف نبی ﷺ اپنی سواری پر سوار پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھ رہے تھے، اور صرف چند صحابہ جمے رہے، وہ بھی یہ چاہتے کہ آپ ﷺ آگے نہ بڑھیں، حضرت عباس ؓ آپ کی سواری کی رکاب تھامے ہوئے تھے آپ ﷺ کے ساتھ رہنے والوں میں حضرت ابوبکر حضرت عمر وعباس اور ابوسفیان بن حارث ؓ اجمعین، آپ کے چچا زاد بھائی حضرت علی، عبد اللہ بن مسعود مغیرہ ؓ میدان جنگ میں رہ گئے، آپ ﷺ تھے کہ اپنی صداقت پر مطمئن دشمن کی طرف بڑھے چلے جا رہے تھے اور بار بار پکار کر فرما رہے تھے، اَنا النَبِیَ لا کَذِب اَنا ابْن عَبد المطلب، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں اس میں ذرہ برابر جھوٹ نہیں الیَّ عباد اللہ انی رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے حضرت عباس ؓ کو حکم دیا کہ بآواز بلند صحابہ کو پکاریں آپ نے مہاجرین وانصار کو پکارا اور راہ فرار پر غیرت دلائی آخر کار مسلمانوں کو غیرت آئی دوبارہ سب نے جمع ہو کر بےجگری کے ساتھ مقابلہ شروع کیا، آسمان سے فرشتوں کی مدد نازل ہوئی مشرکوں کی فوج کے سپہ سالار نے اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر راہ فرار اختیار کی اور طائف کے قلعہ میں رو پوش ہوگیا، یہ صورت حال دیکھ کر دشمن کی فوج میں بھگڈر مچ گئی اس معرکہ میں دشمن کے ستر آدمی مارے گئے، بعض مسلمانوں کے ہاتھ سے کچھ بچے زخمی ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے سختی سے منع فرمایا، غرضیکہ دشمن کو بڑی ذلت آمیز شکست ہوئی جس میں چھ ہزار قیدی بنائے گئے 24 ہزار اونٹ 40 ہزار بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی ہاتھ آئی، اس معرکہ میں 12 مسلمان شہید ہوئے۔
وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا اس سے مراد عمومی رویت کی نفی ہے احادوافراد کی رویت اس کے منافی نہیں ہے اوپر کافروں کی دنیوی سزا کا ذکر تھا آئندہ آیت میں اخروی سزا کا بیان ہے۔
ہوازن اور ثقیف کے سرداروں کا مسلمان ہو کر حاضر ہونا اور قیدیوں کی رہائی : جیسا کہ سابق میں بیان کیا گیا ہے کہ قبیلہ ہوازن کے کچھ سردار تو مارے گئے تھے اور کچھ بھاگ کھڑے ہوئے تھے، ان کے جو اہل و عیال اور اموال تھے وہ مسلمانوں کے قیدی اور مال غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ آئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو سفیان بن حرب ؓ کو مال غنیمت کا نگران مقرر فرمایا۔
شکست خوردہ ہواز اور ثقیف نے مختلف مقامات پر مسلمانوں کے خلاف اجتماع کیا مگر ہر مقام پر شکست ہوئی، بےحد خوف زدہ اور مرعوب ہو کر طائف کے ایک مضبوط قلعہ میں بند ہوگئے، رسول اللہ ﷺ نے پندرہ بیس روز اس قلعہ کا محاصرہ کیا محصور دشمن قلعہ کے اندر ہی سے تیر برساتے تھے مگر سامنے آنے کی کسی کی ہمت نہیں ہوئی، صحابہ کرام ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ ان کے لئے بدعاء فرما دیں مگر آپ نے بد دعا کے بجائے ان کے لئے ہدایت کی دعا فرمائی، صحابہ سے مشورہ کے بعد آپ نے واپسی کا قصد فرمایا، مسلمانوں کی فتح و کامرانی دیکھ کر وہ لوگ بھی جو تماشائی بن کر آئے تھے اور موقع سے فائدہ اٹھانے کے چکر میں تھے مسلمان ہوگئے۔
جعرانہ کے مقام پر مال غنیمت کی تقسیم کا انتظام کیا گیا، ابھی مال غنیمت تقسیم ہو ہی رہا تھا کہ اچانک قبیلہ ہوازن کے چودہ سرداروں کا ایک وفد زہیر بن صرد کی قیادت میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ان میں آپ ﷺ کے رضاعی چچا ابو یرقان بھی تھے انہوں نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ ہم مسلمان ہوچکے ہیں، اور یہ درخواست بھی کی ہمارے اہل و عیال اور اموال ہمیں واپس کر دئیے جائیں۔
آپ کے لئے دوہری مشکل : رحمة للعالمین کے لئے یہ موقع دوہری مشکل کا تھا، ایک طرف ان لوگوں پر رحم و کرم کا تقاضہ یہ تھا کہ ان کے سب قیدی رہا اور تمام اموال انہیں واپس کر دئیے جائیں، اور دوسری طرف یہ کہ اموال غنیمت میں مجاہدین کا حق ہوتا ہے ان سب کو ان کے حق سے محروم کردینا ازروئے انصاف درست نہیں اس لئے صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے ان کے جواب میں فرمایا میرے ساتھ کس قدر مسلمانوں کا لشکر ہے جو ان اموال کا حقدار ہے، میں سچی اور صاف بات پسند کرتا ہوں اس لئے آپ لوگوں کو اختیار دے رہا ہوں کہ یا تو اپنے قیدی واپس لے لو یا مال غنیمت، ان دونوں میں سے جس کو تم اختیار کرو گے وہ تمہیں دے دیا جائے گا۔ سب نے قیدیوں کی واپسی کو پسند کیا تو آپ ﷺ نے تمام صحابع کو جمع کر کے ایک خطبہ دیا جس میں حمد وثناء کے بعد فرمایا۔
یہ تمہارے بھائی تائب ہو کر آئے ہیں میں چاہ رہا ہوں کہ ان کے قیدی ان کو واپس دے دئیے جائیں تم میں سے جو لوگ خوش دلی کے ساتھ اپنا حصہ واپس دینے کے لئے تیار ہوں وہ احسان کریں اور جو اس کے لئے تیار نہ ہوں تو ہم ان کو آئندہ اموال فئی میں سے اس کا بدلہ دے دیں گے ہر طرف سے آواز آئی کہ ہم خوش دلی سے تیار ہیں۔ حقوق العباد کے معاملہ میں رائے عامہ معلوم کرنے کے لئے عوامی جلسوں کی آوازیں کافی نہیں ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ رائے معلوم کرنا چاہیے، جب آپ ﷺ نے لوگوں کو قیدی آزاد کرنے کی ترغیب کی تو ہر طرف سے آواز آئی کہ ہم سب قیدی آزاد کرنے کے لئے تیار ہیں مگر عدل و انصاف اور حقوق کے معاملہ میں احتیاط کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کی مختلف آوازوں کو کافی نہ سمجھا اور فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ کون لوگ اپنا حق چھوڑنے کے لئے خوش دلی سے تیار ہیں اور کون ایسے ہیں کہ شرما شرمی خاموش رہے، معاملہ حقوق العباد کا ہے اس لئے ایسا کیا جائے کہ ہر جماعت اور خاندان کے سردار اپنی اپنی جماعت کے لوگوں سے الگ الگ صحیح بات معلوم کر کے مجھے بتائیں، اس کے مطابق سرداروں نے ہر ایک سے الگ الگ اجازت حاصل کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو بتلایا کہ سب لوگ خوش دلی سے اپنا حق چھوڑنے کے لئے تیار ہیں تب رسول اللہ ﷺ نے یہ سب قیدی ان کو واپس کر دئیے۔
یہی لوگ ہیں جن کی توبہ کی طرف '' ثُمَّ یَتوب اللہ من بعد ذلک '' میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔
احکام و مسائل : آیات مذکورہ میں سب سے بڑی ہدایت تو یہ دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو کسی وقت بھی اپنے طاقت پر نازو غرور نہیں ہونا چاہیے نظر ہرحال میں اللہ کی نصرت پر رہنی چاہیے۔
غزوہ حنین میں مسلمانوں کی عددی کثرت اور سازو سامان حرب کے کافی ہونے کی وجہ سے بعض صحابہ کرام کی زبان پر جو بڑا بول آگیا تھا کہ آج تو کسی کی مجال نہیں کہ جو ہم سے بازی لے جاسکے اللہ کو اپنی اس محبوب جماعت کی زبان سے ایسے کلمات پسند نہ آئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابتدائی ہلہ کے وقت مسلمانوں کے پائوں اکھڑ گئے اور پشت پھیر کر بھاگنے لگے، پھر اللہ ہی کی غیبی مدد سے یہ میدان فتح ہوا۔
Ayah 9:28یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ ۔۔۔۔ (الآیة) مشرکوں کے نجس ہونے کا مطلب عقائد و اعمال کے لحاظ سے نجس ہونا ہے، بعض کے نزدیک مشرک ظاہر و باطن دونوں اعتبار سے ناپاک ہیں اس لئے کہ وہ اس طہارت و صفائی کا لحاظ نہیں کرتے جس کا حکم شریعت نے دیا ہے، بعض ناپاک چیزوں کو مثلاً گائے کا پیشاب اور گوبر وغیرہ کو ناپاک نہیں سمجھتے اور معنوی نجاست مثلاً غسل جنابت وغیرہ بھی ضروری نہیں سمجھتے اسی لئے مشرکوں کو آیت مذکورہ میں نجاست محض قرار دے کر فلا یقربوا المسجد الحرام الخ میں مشرکوں کو مسجد حرام کے پاس آنے سے منع کیا گیا ہے، مسجد حرام عام طور پر اس جگہ کو کہا جاتا ہے جو بیت اللہ کے چاروں طرف چہار دیواری گھری ہوئی ہے، لیکن قرآن و حدیث میں بعض اوقات پورے حرم مکہ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جو کئی مربع میل کا رقبہ ہے اور چاروں طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قائم کردہ حدود سے گھرا ہوا ہے جیسا کہ واقعہ معراج میں من المسجد الحرام سے بالاتفاق یہی معنی مراد لئے گئے ہیں اس لئے کہ واقعہ معراج معروف مسجد حرام کے اندر سے نہیں بلکہ ام ہانی کے مکان سے ہوا اسی طرح '' اِلاَّ الَّذِیْنَ عَاھَدْتُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامِ '' میں مسجد حرام سے پورا حرام ہی مراد ہے اس لئے کہ جس واقعہ کا اس آیت میں ذکر ہے وہ مقام حدیبیہ میں پیش آیا تھا جو حدود حرم سے باہر اس سے متصل واقع ہے۔ (معارف، حصاص)
لہٰذا اب آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ اس سال کے بعد مشرکین کا داخلہ حدود حرم میں ممنوع ہے اس سال سے بعض حضرات نے 10 ھ مراد لیا ہے مگر جمہور کے نزدیک 9 ھ راجع ہے اس لئے کہ آپ ﷺ نے اعلان براءت حضرت ابوبکر صدیق اور علی مرتضیٰ ؓ کے ذریعہ موسم حج میں 9 ھ میں کرایا تھا اس لئے
9 ھ سے 10 ھ تک مہلت کا سال ہے 10 ھ سے یہ قانون نافذ ہوا۔
مسجد حرام میں مشرکین کے داخلہ کی ممانعت کا مطلب اور خصوصیت یا عدم خصوصیت کا مسئلہ : آیت مذکورہ میں مشرکوں کو حرم میں داخل نہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے اس میں تین باتیں غور طلب ہیں۔
(1) یہ حکم مسجد حرام کے ساتھ مخصوص ہے یا دنیا کی کسی بھی مسجد میں مشرک کے داخلہ پر بابندی ہے ؟
(2) مشرکین کے داخلہ پر پابندی مطلقاً ہے یا صرف حج وعمرہ کے لئے داخلہ پر پابندی ہے ؟
(3) یہ کہ اس حکم میں کفار اہل کتاب بھی شامل ہیں یا نہیں ؟
روایات کو سامنے رکھ کر ائمہ مجتہدین نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق احکام بیان کئے ہیں۔
امام مالک (رح) تعالیٰ اور فقہاء اہل مدینہ کا مسلک : فرمایا کہ مشرکین ہر معنی کے اعتبار سے نجس ہیں خواہ ظاہری ہو یا معنوی اس لئے یہ حکم تمام مساجد کے لئے ہے۔
امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مسلک : امام شافعی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حکم مشرکین اور کفار اہل کتاب سب کے لئے عام ہے مگر مسجد حرام کے لئے مخصوص ہے، دیگر مساجد میں ان کا داخلہ ممنوع نہیں (قرطبی) دلیل یہ کہ ثمامہ بن اثال جب اسلام لانے سے پہلے گرفتار ہو کر آئے تھے تو آپ ﷺ نے ان کو مسجد نبوی میں ایک ستون سے باندھ دیا تھا۔
امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کا مسلک : فرمایا کہ مسجد حرام کے قریب نہ جانے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ سال سے ان مشرکوں کو مشرکانہ طرز پر حج وعمرہ کرنے کی اجازت نہ ہوگی دلیل یہ پیش فرماتے ہیں کہ جس وقت حضرت علی کے ذریعہ اعلان براءت کردیا گیا تو اس میں اعلان اسی کا تھا کہ '' لا یحجنَّ بعد العام مشرک '' اس لئے فلا یقربوا المسجد الحرام کے معنی بھی یہی ہوں گے دیگر کسی ضرورت سے امیر المومنین کی اجازت سے داخل ہوسکتے ہیں وفد ثقیف کا واقعہ اس کا شاہد ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب ان کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا تھا، حالانکہ یہ لوگ اس وقت کافر تھے صحابہ کرام نے عرض بھی کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ نجس قوم ہے تو آپ نے فرمایا کہ مسجد کی زمین پر ان لوگوں کی نجاست کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ (جصاص)
وَاِنْ خِفْتُم عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللہ الخ، حرم میں مشرکین کے داخلہ پر پابندی سے بعض مسلمانوں کے دل میں یہ خیال آیا کہ حج کے موسم میں زیادہ اجتماع کی وجہ سے جو تجارت ہوتی تھی وہ متاثر ہوگی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کا روباری نقصان کی وجہ سے فقرو فاقہ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ عنقریب اپنے فضل سے تمہیں غنی کر دے گا چناچہ فتوحات کی وجہ سے مسلمانوں کو بکثرت مال حاصل ہوا اور پھر بتدریج سارا عرب بھی مسلمان ہوگیا اور موسم حج میں حاجیوں کی کثرت کی وجہ سے تجارتی نقصان کی کمی بھی پوری ہوگئی بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوگئی اور یہ سلسلہ روز افزوں ہی ہے۔
Ayah 9:29قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤمِنُوْنَ باِ اللہ وَلاَ باِ الْیُوْمِ الْاٰخِرِ ، مشرکین سے قتال عام کے حکم کے بعد اس آیت میں یہود و نصاری سے قتال کا حکم دیا جا رہا ہے (اگر وہ اسلام قبول نہ کریں) یا پھر وہ جزیہ دینا قبول کر کے مسلمانوں کی بالادستی قبول کرلیں، جزیہ ایک متعین رقم ہے جو سالانہ ایسے غیر مسلموں سے لی جاتی ہے جو کسی اسلامی مملکت میں رہائش پذیر ہوں، اسلئے بدلے انکے جان ومال، اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ اری اسلامی مملکت کی ہوتی ہے۔
جزیہ کی غایت اسلام نہیں : قتال و جہاد کی غایت یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان لے آئیں اور دین حق کے پیرو بن جائیں بلکہ اس کی غایت یہ ہے کہ اسلام کی بالادستی قبول کریں وہ خود حاکم اور صاح امر بن کر نہ رہیں بلکہ نظام زندگی کی باگ ڈور اور امامت کے اختیارات متعین دین حق کے ہاتھوں میں ہوں مطلب یہ ہے کہ قتال اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وہ ماتحت بن کر جزیہ دینا قبول نہ کرلیں۔
جزیہ امان و حفاظت کا بدل ہے نہ کہ اسلام کا : جزیہ بدل ہے اس امان وحفاطت کا جو ذمیوں کو اسلامی حکومت میں عطا کی جاتی ہے نیز یہ اس بات کی علامت ہے کہ انہوں نے اسلامی حکومت کی تابع داری قبول کرلی ہے، ہاتھ سے دینے کا مطلب یہ ہے کہ سیدھے طریقہ سے بغیر کسی حیلہ وحجت کے مطیعانہ شان سے جزیہ ادا کریں۔
جزیہ کی مقدار : جزیہ کی مقدار کا تعین اگر باہمی مصالحت اور رضا مندی سے ہو تو شرعاً اس کی کوئی تحدید نہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران کے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمایا تھا کہ ان کی پوری جماعت سے سالانہ دو ہزار حلے (جوڑے، دو چادریں) جوڑوں کی قیمت کا تخمینہ بھی طے ہوگیا تھا اسی طرح نصاری بنی تغلب سے عمر فاروق ؓ کا اس پر معاہدہ ہوا کہ ان کا جزیہ اسلامی زکوٰة کے حساب سے وصول کیا جائے گا مگر زکوٰة سے دوگنا، ابتداء ً یہ حکم یہود و نصاری کے لئے تھا لیکن بعد میں خود رسول اللہ ﷺ نے مجوس سے جزیہ لے کر انہیں ذمیوں میں شامل فرما لیا اور اس کے بعد بالاتفاق صحابہ کرام نے بیرون عرب کی تمام قوموں پر اس حکم کو عام کردیا۔
بذریعہ جنگ مفتوحہ قوموں کا حکم : اگر مسلمانوں نے کسی ملک کو جنگ کے ذریعہ فتح کیا اور وہاں کے باشندوں کو ان کی جائیدادوں پر برقرار رکھا، اور وہ اسلامی مملکت کی رعیت بن کر رہنے پر رضا مند ہوگئے تو ان کے جزیہ کی مقدار کی شرح وہ ہوگی جو حضرت عمر ؓ نے اپنی عہد خلافت میں نافذ فرمائی کہ مالداروں سے چار درہم ماہوار اور متوسط الحال لوگوں سے اس کا نصف اور غریب لوگوں سے جو تندرست ہوں اور محنت و مزدوری کرسکتے ہوں ان سے صرف ایک درہم ماہوار اور جو بالکل مفلس اور اپاہج ہوں ان سے کچھ نہ لیا جائے گا اسی طرح عورتوں، بوڑھوں، بچوں، تارک الدنیا راہبوں سے بھی کچھ نہ لیا جائے گا۔
جزیہ پر اعتراض اور معذرت خواہانہ جواب : جزیہ کے متعلق بعض حضرات نے انیسویں صدی عیسوی کے دور ذلت میں مسلمانوں کی طرف سے بڑی بڑی معذرتیں پیش کی ہیں اور اس دور کی کچھ یاد گار شخصیتیں، نام نہاد دانشور آج بھی موجود ہیں جو صفائی دینے میں لگے ہوئے ہیں، لیکن خدا کا دین اس سے بہت بالاوبرتر ہے کہ اسے خدا کے باغیوں کے سامنے معذرت پیش کرنے کی کوئی حاجت ہو سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ جو لوگ خدا کے دین کو اختیار نہیں کرتے اور اپنی یا دوسروں کی نکالی ہوئی غلط راہوں پر چلتے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ بس اتنی ہی آزادی کے مستحق ہیں کہ خود جو غلطی کرنا چاہتے ہیں کریں، لیکن انہیں اس کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے کہ خدا کی زمین پر کسی جگہ اقتدار و فرماں روائی کی باگیں ان کے ہاتھوں میں ہوں اور وہ انسانوں کی اجتماعی زندگی کا نظام اپنی گمراہیوں کے مطابق قائم کریں اور چلائیں، یہ چیز جہاں ہوگی وہاں فساد برپا ہوگا، اہل ایمان پر فرض اور ضروری ہے کہ خدا کی زمین سے خدا کے باغیوں کو بےدخل کر کے نظام صالح قائم کریں جس سے زمین کا فساد ختم ہو کر امن وامان قائم ہو اور خدا کی مخلوق خدا کی زمین پر امن وامان کے ساتھ رہ سکے۔
Ayah 9:30آیت نمبر 30 تا 37
ترجمہ : یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، اور نصاریٰ نے کہا عیسیٰ مسیح، اللہ کے بیٹے ہیں یہ ان کے منہ سے نکلی ہوئی (بےحقیقت) باتیں ہیں جن پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں، یہ بھی ان لوگوں کی تقلید میں ان ہی کی سی باتیں کرتے ہیں جو ان کے آباء (و اجداد) میں سے پہلے کافر ہوچکے ہیں اللہ کی ان پر مار (لعنت) ہو دلیل قائم ہونے کے باوجود کہاں بھٹکے چلے جا رہے ہیں ؟ یہود نے اپنے علماء کو اور نصاریٰ نے اپنے درویشوں کو اللہ کے علاوہ رب بنا لیا ہے، اس طریقہ پر کہ حرام کو حلال کرنے میں اور حلال کو حرام کرنے میں ان کی اتباع کی، اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی ( رب بنا لیا ہے) اور تورات وانجیل میں ان کو صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ فقط ایک معبود (برحق) کی بندگی کریں وہ معبود کہ جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ ان کے شرک سے پاک ہے (یہ کافر) یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو پھونکوں سے بجھا دیں یعنی اس کی شریعت اور اس کے براہین میں قیل وقال کر کے مشکوک کردیں اور اللہ اس (روشنی) کو مکمل طور پر ظاہر کئے بغیر مانے گا نہیں، اگرچہ کافروں کو یہ بات ناپسند ہو (چنانچہ) وہ اللہ ایسا ہے کہ جس نے اپنے رسول محمد ﷺ کو (اس نور کی تکمیل کے لئے) ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے، تاکہ اس دین کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کر دے اگرچہ مشرکوں کو یہ بات ناپسند ہو اے ایمان والو (یہود و نصاری کے) اکثر علماء و رہبان لوگوں کے مالوں کو باطل طریقہ سے کھاتے، لیتے، ہیں مثلاً فیصلہ میں رشوت کے ذریعہ اور لوگوں کو اللہ کے دین سے باز رکھتے ہیں اور وہ لوگ اَلَّذین مبتداء ہے جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس جمع کردہ مال میں سے اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے یعنی زکوٰة کے ذریعہ اس کا حق ادا نہیں کرتے فبشرھم مبتداء کی خبر ہے تو ان کو دردناک عذاب کی خبر سنا دو جس دن کہ اس جمع کردہ مال کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس کے ذریعہ ان کی پیشانیوں کو اور ان کے پہلوئوں کو اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا، ان کی کھالوں کو وسیع کردیا جائے گا تاکہ ان پر اس تمام مال کو رکھا جاسکے، اور ان کو یہ جتا دیا جائے گا کہ یہ وہی مال ہے جس کو تم نے اپنی لئے جمع کیا تھا یعنی یہ اس کی سزا ہے لو، اب اپنے جمع کئے ہوئے خزانہ کا مزا چکھو حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جن کے ذریعہ سال کا حساب لگایا جاتا ہے اللہ کے نزدیک لوح محفوظ میں بارہ مہینے ہیں جب سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے بارہ ہی ہیں ان مہینوں میں چار مہینے محترم ہیں ذوالقعدہ اور ذوالحجہ اور محرم اور رجب، یہ یعنی ان مہینوں کی حرمت ہی دین کا صحیح طریقہ ہے، لہٰذا ان چار مہینوں (کے باب) میں معاصی کے ذریعہ اپنے اوپر ظلم نہ کرو اس لئے کہ ان چار مہینوں کی بےحرمتی گناہ عظیم ہے اور کہا گیا ہے کہ پورے بارہ مہینے مراد ہیں اور تمام مشرکوں سے تمام مہینوں میں لڑو جیسا کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ مدد اور نصرت کے ذریعہ متقیوں کے ساتھ ہے اور نسییً یعنی مہینہ کی حرمت کو دوسرے مہینہ کی طرف مؤخر (منتقل) کردینا جیسا کہ جاہلیت ماہ محرم کی حرمت کو دوسرے مہینے یعنی ماہ صفر کی طرف منتقل کردیتی تھی جبکہ ماہ محرم کا چاند ان کی جنگ کی حالت میں نظر آجا تا تھا، یہ (حرکت) کفر میں ایک اضافہ ہے اس ماہ کے بارے میں اللہ کے حکم کا انکار کرنے کی وجہ سے جس کے ذریعہ یہ کافر لوگ گمراہی میں مبتلا کئے جاتے ہیں (یُضل) یاء کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ہے اس نسً یعنی مؤخر کو کسی سال حلال کرلیتے ہیں اور کسی سال حرام تاکہ ایک مہینہ کو حلال کر کے اور دوسرے کو اسکے بدلے میں حرام کر کے اللہ کے حرام کئے ہوئے یعنی اللہ کے محرم کئے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری کردیں چناچہ چار محرم مہینوں میں نہ زیادتی کرتے تھے اور نہ کمی، البتہ ان کی تعیین کی رعایت نہیں کرتے تھے (چنانچہ) وہ اس طرح اللہ کا حرام کیا ہوا (مہینہ) حلال کرلیتے ہیں انکے برے اعمال ان کے لئے خوشنما کر دئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان اعمال کو حسن ہی سمجھتے تھے، اللہ منکرین حق کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : عُزَیْر، ایک مشہور اسرائیلی ٍبزرگ کا نام ہے جن کے متعلق بعض عرب کا عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں عُزَیْر کو بعض نے منصرف اور بعض نے غیر منصرف پڑھا ہے، ان کے نبی ہونے میں اختلاف ہے، روح المعانی میں ہے '' اختلف فی عزیر ھل ھو نبی ام لا والا کثرون علی الثانی '' علامہ جلال الدین سیوطی نے بھی اَلاِْتْقان فی علوم القران میں اسی کو ترجیح دی ہے، مولانا سید سلیمان ندوی نے لکھا ہے کہ عزیر سے مراد عزراء کاہن ہے جس نے تورات کو اپنے اعجاز سے دوبارہ زندہ کیا تھا۔
قولہ : یُضاھِئون یہ مُضَاھاة (مفاعلة) سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے، مشابہت پیدا کر رہے ہیں، ضَھِی مثل ،
مانند، شبیہ ضَھْیًا مصدر (س) ناقص یائی، عورت کا مرد کے مانند ہوجانا نہ حیض آئے اور نہ پستان ابھریں اور نہ حمل رہے، ضَھْیَائُ مرد نما عورت۔
قولہ : یُؤفکون، افک (ض) سے جمع غائب مضارع، کہاں پھرے جاتے ہیں۔
قولہ : بان یعبدوا، اس میں اشارہ ہے کہ لِیَعْبُدُوا میں لام بمعنی باء ہے لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ الامر کا صلہ لام نہیں آتا۔
سوال : اَنْ کو کیوں مقدر مانا۔ جواب : تاکہ حرف جر کا داخل ہونا صحیح ہوجائے۔
قولہ : شَرْعَہ۔ سوال : نور کی تفسیر شرع اور برھان سے کرنے میں کیا مصلحت ہے ؟
جواب : اس سے بھی ایک سوال مقدر کا جواب دینا مقصود ہے۔
سوال : یہ ہے کہ نور تو اللہ کی ذات کے ساتھ قائم ہے تو وہ اس نور کا بجھانے کا ارادہ کس طرح کرسکتے ہیں حالانکہ وہ عقلاء ہیں۔
جواب : یہ ہے کہ نور سے مراد اللہ کی شریعت ہے۔
قولہ : باقوالھم فیہ اس میں اشارہ ہے کہ محل بول کر حال مراد ہے اس لئے کہ منہ سے شریعت کو بجھانے کا کوئی مطلب نہیں ہے مراد اقوال ہیں یعنی نکتہ چینی اور طعنہ زنی۔
قولہ : ذلک، ذلک کَرِہَ کا مفعول محذوف ہے۔
قولہ : یاخذون، یاکلون کی تفسیر یاخذون سے کر کے اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ کلام میں استعارہ ہے یعنی اکل سے اخذ مراد ہے اکل کی تخصیص مقصود اعظم ہونے کی وجہ سے ہے۔
قولہ : ای الکنوز، اس میں اشارہ ہے کہ یُنفقونَھَا کی ضمیر کنوز کی طرف راجع ہے جو کہ یکنزون سے مفہوم ہے یہ شبہ ختم ہوگیا کہ ما قبل میں ذَھَب اور فضة دو چیزوں کا ذکر ہے لہٰذا ینفقونھما ہونا چاہیے۔
قولہ : ای لا یُؤوُّوْنَ منھا حقّہ من الزکوة یہ اضافہ اس سوال کا جواب ہے کہ لا ینفقونَھَا فی سبیل اللہ، میں مطلقاً عدم انفاق فی سبیل اللہ پر وعید ہے اس میں انفاق کی مقدار بیان نہیں کی گئی معلوم ہوا کہ تمام مال خرچ نہ کرنے پر بھی وعید ہے حالانکہ تمام مال خرچ کرنا ضروری نہیں ہے اسی سوال کے جواب کی طرف لا یُودُّون الخ سے اشارہ کردیا کہ کل بول کر جزء مراد ہے۔
قولہ : اخبرھم، یہ اضافہ اس سوال کا جواب ہے کہ فبشرھم، مبتداء کی خبر واقع ہے حالانکہ انشاء کا خبر واقع ہونا درست نہیں ہے جواب کا حاصل جس کی طرف مفسر علام نے واخبرھم کہہ کر اشارہ کیا ہے یہ ہے کہ فبشرھم فی حقھم کی تاویل میں ہو کر مبتداء کی خبر ہے، (نوٹ) پیش نظر جلالین کے نسخے میں الخَیْر ہے جو کہ کتابت کی غلطی
ہے اصل میں الخیر ہے۔
قولہ : تُکْوَیٰ ، داغا جائے گا (ض) یہ کَیّ سے مضارع مجہول واحد مؤنث غائب ہے۔
قولہ : ای جزاءہ حذف مضاف سے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ کنز چکھنے کی چیز نہیں ہے مراد عدم انفاق کی سزا بھگتنا ہے۔
قولہ : للسنة، ای المعتد بھا لحساب السَنَةِ ، یہاں دراصل الحساب مضاف محذوف ہے، یعنی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں جن کے ذریعہ سال کا حساب ہوتا ہے، قمری سال 355 دن کا ہوتا ہے اور شمسی سال کا 365 دن کے ذریعہ حساب ہوتا ہے، قمری سال شمسی سال سے دس دن چھوٹا ہوتا ہے۔
قولہ : محرمة۔ سوال : حُرُم مصدر ہے لہٰذا اس کا حمل اربعة پر درست نہیں ہے۔
جواب : حُرُم، محرّمَة اسم مفعول کے معنی میں ہے لہٰذا اب کوئی اشکال نہیں۔
قولہ : النَسیء، یہ نَسَأ کا مصدر ہے مؤخر کرنا ہٹا دینا، یقال نَسَاہ نَسْأ ونَسِیْاء ً اس کو مؤخر کیا جیسا کہ کہا جاتا ہے مَسَّہ مَسًّا ومَسَاسًا ومَسِیْسًا چھونا مس کرنا، بعض حضرات نے نسء بمعنی منسوء بروزن فعیل بمعنی مفعول بھی لیا ہے۔
تفسیر وتشریح
ربط آیات : گذشتہ آیات میں مشرکین کے قبائح کا بیان تھا، اب اہل کتاب کے قبائح اور عقائد شرکیہ کا بیان ہے، اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب گو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے تھے مگر حقیقت میں جس طرح ایمان رکھنا چاہیے اس طرح نہیں رکھتے تھے جس کی وجہ سے ایمان رکھنا نہ رکھنا برابر تھا، اسی لئے گذشتہ آیت میں اہل کتاب کے متعلق '' لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولا یدینون دین الحق '' فرمایا تھا کہ وہ نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخرت پر اور نہ وہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں۔
وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ عُزَیْرُ نِ ابْنُ اللہ تورات کے تلفظ میں عزرا (UZRA) ہے المتوفیٰ 458 ق، م اور بعض نے 450 ق م لکھا ہے، یہود ان کو اپنے دین کا مجدد مانتے ہیں یہود کے مذہبی نوشتوں میں نبی سے زیادہ مجدد کے نام سے مشہور ہیں، بخت نصر 604 تا 458 ق م، کے یروشلم پر حملے اور اس کی کامل تباہی کے بعد، نہ صرف یہ کہ تورات دنیا سے گم ہوگئی تھی بلکہ بابل کی اسیری نے اسرائیلی نسلوں کو اپنی شریعت، اپنی روایات اور اپنی قومی زبان عبرانی تک سے نا آشنا کردیا تھا، آخر کار انہی عزراء نے اپنی یادداشت سے بائبل کے پرانے عہد نامے کو مرتب کیا اور ان کی شریعت کی تجدید کی، اسی وجہ سے بنی اسرائیل ان کی بہت تعظیم کرتے ہیں، یہود کے بعض فرقے تعظیم میں اس قدر آگے بڑھ گئے کہ ان کے بارے میں ابن اللہ تک کا عقیدہ بنا لیا، ابن اللہ کا انگریزی میں ترجمہ (Child of God Son of God) کی اصطلاح الگ الگ ہیں جیسا کہ اردو میں لڑکے اور بیٹے کے الگ الگ مفہوم ہیں اسی طرح عربی میں بھی ابن اور ولد دونوں کا مفہوم الگ الگ ہے (Child of God) کے معنی صلبی یا حقیقی فرزند کے نہیں ہیں، بلکہ خدا کا لاڈلا یا چہیتا یا فرزند معنوی مجازی کے ہیں جیسا کہ قرآن ہی میں ایک دوسری جگہ اہل کتاب ہی کی زبان سے استعمال ہوا ہے قالوا نحن ابناء اللہ وَاَحِبَّاءہ یہاں ابناء کے معنی مجازی اور معنوی اولاد کے ہیں۔ (تفسیر ماجدی ملخصاً (
وَقَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللہ، مسیحیت کی دو گمراہیاں تھیں پہلی شدید اور دوسری شدید تر، ایک ہے حضرت مسیح کو اللہ کا ولد (Son of God) قرار دینا اس کا ذکر قرآن مجید میں جہاں آیا ہے اکثر بہت سخت وعید کے ساتھ آیا ہے مثلاً '' تکاد السمٰوات یتفطرن '' وغیرہ دوسری گمراہی حضرت مسیح کو خدا کافر زند مجازی (child of god) قرار دینا قرآن نے اس عقیدہ کو ابن اللھیت سے تعبیر کیا ہے یہ عقیدہ تو بجائے خود شدید ہے پھر بھی ولد اللھیت کا عقیدہ اس سے شدید تر ہے (ماجدی) ہمارے بعض قدیم مفسرین بھی اس نکتہ تک پہنچ گئے ہیں، کہ یہاں ابنیت سے مراد ابنیت نسبی نہیں ہے بلکہ لاڈ پیار والی ابنیت ہے اور یہ بھی کفر ہے۔
قال ابن عطیة ویقال ان بعضھم یعتقدونھا بنوة حنو ورحمة وھذا المعنی ایضا لا یحل ان تطلق لبنوة علیہ وھو کفر (قرطبی) ویقال اَن بعضھم یعتقدونھا بنوة حنوورحمة۔
ذالک قولھم بافواھم، یعنی بےسند محض زبان سے بک دینے والی بات ہے یعنی ان مہمل عقائد پر نہ ان کے پاس عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی، یہ تو محض ان جاہلی مشرک قوموں کی تقلید ہے جو باری تعالیٰ کی تجسیم کی قائل تھیں اور عقیدہ حلول اور اوتار کے ماننے والی تھیں یہ اشارہ خاص یونان کے مشرکوں کی جانب ہے کہ انکے حکماء وفلاسفہ کے اقوال سے پہلی صدی عیسوی کے یہود و نصاری دونوں ہی متاثر ہوگئے تھے۔
Ayah 9:31اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَھُم وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَاباً مِّنْ دُوْنِ اللہ، اس کی تفسیر حضرت عدی بن حاتم ؓ کی بیان کردہ حدیث سے بخوبی ہوجاتی ہے، عدی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے یہ آیت سن کر عرض کیا کہ یہود و نصاریٰ نے تو اپنے علماء کی بھی عبادت نہیں کی پھر یہ کیوں کہا گیا کہ انہوں نے ان کو رب بنا لیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا '' یہ ٹھیک ہے کہ انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی مگر یہ بات تو ہے تا، کہ ان کے علماء نے جس کو حلال قرار دے دیا اسکو انہوں نے حلال اور جس چیز کو حرام کردیا اس کو حرام ہی سمجھا یہی ان کی عبادت کرنا ہے، (ترمذی) کیونکہ حلال حرام کرنے کا اختیار صرف اللہ کو ہے یہی حق اگر غیر اللہ کو دے دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنا رب بنا لیا۔
مذکورہ دونوں الزام یعنی کسی کو خدا کا بیٹا قرار دینا اور کسی کو شریعت سازی کا حق دے دینا، اس بات کے ثبوت میں پیش کئے گئے ہیں کہ یہ لوگ ایمان باللہ کے دعوے میں جھوٹے ہیں چاہے یہ خدا کی ہستی کو مانتے ہوں
مگر ان کا تصور خدائی اس قدر غلط ہے کہ اس کی وجہ سے ان کا خدا کو ماننا نہ ماننے کے برابر ہے۔
Ayahs 9:32–33یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُطْفِئُوْا نُوْرَ اللہ باَِفْوَاھِھِمْ الخ یعنی اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو جو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے یہودونصاری و مشرکین چاہتے ہیں کہ اپنے جدال وافتراء سے اسے مٹا دیں ان کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص سورج کی شعاعوں کو اور چاند کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھانے کی کوشش کرے جس طرح یہ ناممکن ہے اسی طرح جو دین حق اللہ نے اپنے رسول کو دے کر بھیجا ہے اس کو مٹانا بھی ناممکن ہے، وہ تمام دینوں پر غالب ہو کر رہے گا، دلائل وبراہین کے اعتبار سے تو یہ غلبہ ہر وقت حاصل ہے تاہم جب مسلمانوں سے دین پر عمل کیا تو انہیں بےدینوں پر غلبہ بھی حاصل ہوا، اور اب بھی اگر مسلمان اپنے دین کے صحیح معنی میں عامل بن جائیں تو غلبہ ان کا یقینی ہے اس لئے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ حزب اللہ ہی غالب اور فاتح ہوگا بشرطیکہ مسلمان حزب اللہ بن جائیں۔
Ayahs 9:34–35ربط آیات : یاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ الخ متبعین کے عقائد واوصاف بیان کرنے کے بعد اب ان کے رئوساء اور متبوعین کے اخلاق وصفات بیان فرماتے ہیں، احبار علماء یہود اور رہبان زہاد نصاری کو کہتے ہیں احبار '' حبر '' کی جمع ہے ایسے شخص کو کہتے ہیں جو خوبصورت طریقہ سے بات پیش کرنے کا سلیقہ رکھتا ہو، '' محبر '' خوبصورت اور منقش کپڑے کو اسی مناسبت سے کہتے ہیں، '' رہبان '' بعض کے نزدیک صوفیاء نصاری کو کہتے ہیں اور علماء نصاری کو '' قسیسین '' کہا جاتا ہے، یہ دونوں گروہ ایک تو کلام میں تحریف و تغیر کر کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق مسئلے بتاتے تھے اس طرح لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکتے تھے، دوسرے یہ کہ لوگوں کا مال ناجائز اور باطل طریقہ سے اینٹھتے تھے، غرضیکہ یہ ظالم صرف یہی ستم نہیں کرتے تھے کہ فتوے بیچ کر رشوتیں لیتے تھے نذرانے بٹورتے تھے بلکہ ایسے ایسے مذہبی ضابطے اور مراسم ایجاد کرتے تھے کہ جن سے لوگ اپنی نجات ان سے خریدیں اور ان کا مرنا جینا اور شادی اور غم کچھ بھی ان کو کھلائے پلائے بغیر نہ ہو سکے اور اپنی قسمتیں بنانے بگاڑنے کا ٹھیکیدار ان کو سمجھ لیں اور تاریخ گواہ ہے جب کبھی کوئی دعوت حق اصلاح کے لئے اٹھتی ہے تو سب سے پہلے یہی لوگ اپنی عالمانہ فریب کاریوں اور مکاریوں کے حربے لے لے کر اس کا راستہ روکنے کھڑے ہوجاتے ہیں، ایسے نا خدا ترس اور خود غرض لوگ ہر زمانہ میں رہے اور آج بھی جو خدا کی بھولی بھالی مخلوق کو اپنے دام مکروفریب میں پھنسائے رہتے ہیں اور ان کے خون پسینے کی کمائی کا بڑا حصہ اپنی عیش و عشرت وعیاشی میں اڑاتے ہیں۔
Ayahs 9:36–37اِنَّ عِدَّةَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللہ اِثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ کِتَابِ اللہ، یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے چاند سورج اور زمین پیدا کئے ہیں اسی وقت سے یہ حساب چلا آتا ہے کہ سال کے بارہ مہینے ہی ہوتے ہیں اور چاند ایک ماہ میں ایک مرتبہ ہی طلوع ہوتا ہے یہ بات اس لئے فرمائی گئی ہے کہ عرب اپنی ضرورتوں اور مصلحتوں کی خاطر مہینوں کی تعداد 13 یا 14 کرلیتے تھے۔ اپنے اوپر ظلم نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جن مہینوں میں جنگ کرنا حرام کیا گیا ہے ان کو ضائع نہ کرو اور ان ایام میں بدامنی پھیلا کر اپنے اوپر ظلم نہ کرو محترم مہینوں کو مقدم ومؤخر کردینا یہ کافرانہ دستوروں میں ایک اور دستور کا اضافہ ہے، ہندوستان میں سنہ فصلی حساب سے رائج ہے اس کے مہینوں میں حساب کو پورا کرنے کے لئے ہندو پنڈت کبھی کبھی ایک مہینے کو دہرادیتے ہیں مثلاً اس سال دو اساڑ ہیں اس کو اصطلاح میں لوند کا مہینہ کہتے ہیں ایسا حسابی ضرورتوں سے کرتے تھے، مگر عرب اور ان کے رؤساء محض اپنی ضرورتوں اور مصلحتوں کے لئے سنہ قمری کے جس مہینے کو چاہتے مقدس قرار دے دیتے اور جس مقدس مہینے کو چاہتے غیر مقدس قرار دے دیتے اس سے تمام نظام تقویمی میں خلل پڑتا تھا۔
عرب میں نسیء (تاخیر) دو طرح کی تھی۔ اس کی ایک صورت تو یہ تھی کہ جنگ وجدال اور غارت گری اور خون کا انتقام لینے کے لئے کسی حرام مہینے کو حلال قرار دے لیتے اور اس کے بدلے میں کسی حلال مہینے کو حرام قرار دے کر حرام مہینوں کی تعداد پوری کردیتے مگر ترتیب باقی نہیں رہتی تھی دوسری صورت یہ تھی کہ قمری سال کو شمسی کے مطابق کرنے کے لئے اس میں کبیسہ کا مہینہ بڑھا دیتے یہ طریقہ یہود سے سیکھا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ اس زمانہ میں قمری مہینوں کا امتیاز ہی دشوار ہوگیا تھا ہجرت کے آٹھویں سال جب مکہ فتح ہوا اور 9 ہجری میں آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو موسم حج میں اعلان براءت کرنے کے لئے بھیجا تو پرانے دستور کے مطابق اس سال ان کے نزدیک حج کا مہینہ بجائے ذی الحجہ کے ذی القعدہ تھا پھر 10 ھ میں جب رسول اللہ ﷺ حج کے لئے تشریف لے گئے تو قدرتی طور پر ایسا نظام بن گیا کہ یہ مہینہ اصلی ذی الحجہ کا تھا اور اہل عرب کے حساب میں بھی ذی الحجہ قرار پایا تھا، اس سے یہ بات مفہوم ہوتی ہے کہ آپ ﷺ باوجودیکہ نیکی اور خیر کی طرف بہت زیادہ سبقت کرنے والے تھے مگر آپ نے 9 ھ میں خود حج کو جانے کے بجائے حضرت ابوبکر کو امیر الحج بنا کر بھیجا تاکہ آپ کا حج اپنے صحیح وقت پر ادا ہو 10 ھ میں جب آپ نے حج ادا فرمایا تو منٰی کے مقام پر آپ نے خطبہ میں ارشاد فرمایا '' اَلا اِنَّ الزمان قد استدار کھیئتہ یوم خلق اللہ السمٰوات والارض '' یعنی زمانہ پھر پھرا کر اپنی اصلی ہیئت پر آگیا جس پر اس کو اللہ نے زمین و آسمان کی پیدائش کے وقت رکھا تھا۔
عبادات کو شمسی مہینے کے بجائے قمری مہینہ پر رکھنے کی حکمت : اہل جاہلیت نے جو نسیء (تاخیر تقدیم) کا طریقہ اختیار کیا تھا اس کی دو اغراض تھیں ایک تو غار تگری اور جنگ وجدال اور انتقام لینے کی خاطر حلال مہینہ کو حرام اور حرام کو حلال کرلیتے تھے، دوسری غرض قمری کو شمسی سال کے مطابق کرنے کے لئے اس میں کبیسہ کا مہینہ بڑھا دیتے تھے، تاکہ حج ہمیشہ ایک ہی موسم میں آئے اور وہ ان زحمتوں سے بچ جائیں جو قمری حساب کے مطابق مختلف موسموں میں حج کے گردش کرتے رہنے سے پیش آتی ہیں، اس طرح 33 سال تک حج اپنے اصلی وقت کے خلاف دوسری تاریخوں میں ہوتا رہتا تھا اور صرف چونتیسویں مرتبہ اصل ذی الحجہ کی 9۔ 10 کو ادا ہوا تھا، اس آیت کے ذریعہ جہلاء عرب کی دونوں اغراض کو باطل قرار دے دیا، دوسری غرض گو بظاہر مبنی بر مصلحت ہوتی ہے لیکن در حقیقت یہ بھی خدا کے قانون سے بدترین بغاوت تھی اللہ تعالیٰ نے اپنے عائد کردہ فرائض کے لئے شمسی حساب کے بجائے قمری حساب جن اہم مصالح کی بنا پر اختیار فرمایا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے بندے زمانہ کی تمام گردشوں میں ہر قسم کے حالات و کیفیات میں اس کے احکام کی اطاعت کے خوگر ہوں، مثلاً رمضان ہے تو کبھی گرمی میں اور کبھی سردیوں اور کبھی برسات میں آتا ہے اور اہل ایمان ان سب بدلتے ہوئے حالات میں روزہ رکھ کر فرمانبرداری کا ثبوت بھی دیتے ہیں، اور بہترین اخلاقی تربیت بھی پاتے ہیں اسی طرح حج بھی قمری حساب سے مختلف موسموں میں آتا ہے اور ان سب طرح کے اچھے برے حالات میں خدا کی رضاء کے لئے سفر کر کے بندے اپنے خدا کی آزمائش میں پورے بھی اترتے ہیں، اور بندگی میں پختگی بھی حاصل کرتے ہیں، اگر کوئی گروہ یا قوم اپنی تجارتی یا دیگر مصلحتوں اور سہولتوں کے پیش نظر کسی ایک ہی خوشگوار موسم میں ہمیشہ کے لئے قائم کر دے تو خدائی قانون کے ساتھ بڑی جسارت اور بغاوت ہے اور اسی کا نام کفر ہے۔
علاوہ ازیں ایک عالم گیر دین جو سب انسانوں کے لئے ہے اگر کسی شمسی مہینہ کو روزے اور حج کے لئے مقرر کر دے جو مہینہ بھی مقرر کیا جائے گا وہ زمین کے تمام باشندوں کے لئے یکساں سہولت کا موسم نہیں ہوسکتا کہیں وہ گرمی کا زمانہ اور کہیں سردی کا تو کہیں برسات کا کہیں فصلیں کاٹنے کا موسم ہوگا تو کہیں بونے کا، لہٰذا ایک عالم گیر دین و مذہب کے لئے ضروری ہے کہ تمام انسانوں کے لئے یکساں طور پر مختلف موسموں میں عبادت کرنے کا موقع ملے تاکہ ہر شخص مختلف موسموں میں خواہ موافق ہوں یا مخالف فرائض و احکام ادا کرنے کا خوگر اور عادی ہو۔