9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 9:73–80

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پا سکے اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کونسا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر ﷺ نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولتمند کردیا ہے ؟ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا اور اگر منہ پھیر لیں تو خدا ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دیگا۔ اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیکو کاروں میں ہوجائیں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے۔ اور (اپنے عہد سے) روگردانی کر کے پھر بیٹھے

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لئے جس میں وہ خدا کے رو برو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لئے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ان کے بھیدوں اور مشوروں تک سے واقف ہے اور یہ کہ وہ غیب کی باتیں جاننے والا ہے ؟

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور (بیچارے غریب) صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے ہیں (اور اس تھوڑی سی کمائی میں سے بھی خرچ کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے اور ہنستے ہیں خدا ان پر ہنستا ہے۔ اور ان کے لئے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے۔

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

تم ان کے لئے بخشش مانگو یا نہ مانگو (بات ایک ہی ہے) اگر (ان کے لئے) ستر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے خدا اور اسکے رسول ﷺ سے کفر کیا اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

آیت نمبر 73 تا 80 ترجمہ : اے نبی کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ زبان وبرہان سے جہاد کیجئے، اور ان منافقوں کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ اور خفگی کے ذریعہ سختی سے پیش آئیے، (آخر کار) ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے اور منافق اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ گالی کی جو بات ہماری طرف سے آپ کو پہنچی ہے وہ ہم نے نہیں کہی، حالانکہ یقینا وہ کافرانہ بات انہوں نے کہی، اور اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے یعنی اسلام ظاہر کرنے کے بعد انہوں نے کفر ظاہر کیا، اور انہوں نے اس سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جو وہ نبی ﷺ کو قتل کے ارادہ سے تبوک سے لوٹتے وقت لیلة العقبہ میں کرنا چاہتے تھے اور وہ دس سے کچھ زائد لوگ تھے، اور عمار بن یاسر نے ان کی سواریوں کے منہ پر مار مار کر ان کو رخ پھیر دیا، جب وہ ڈھانٹے مار کر آپ ﷺ پر یکبارگی چڑھ آئے اور ان (منافقوں کو) جو بات ناپسند آئی وہ صرف یہ تھی کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کو اپنے فضل (و عنایت) سے مال غنیمت کے ذریعہ ان کی شدید حاجت کے وقت غنی کردیا حاصل یہ ہے کہ ان (منافقوں) کو اس کی طرف سے جو کچھ پہنچا وہ اس کے سوا کچھ نہیں تھا، اور یہ ایسی بات نہیں کہ جس سے اظہار ناراضگی کیا جائے، اگر یہ لوگ نفاق سے توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو ان کے لئے بہتر ہوگا اور اگر یہ لوگ ایمان سے اعراض کریں گے تو اللہ ان کو دنیا میں قتل کے ذریعہ اور آخرت میں آگ کے ذریعہ دردناک عذاب دے گا اور دنیا میں ان کا نہ کوئی یار ہوگا جو ان کی (اس کے عذاب سے) حفاظت کرسکے اور نہ مددگار جو ان کو بچا سکے اور ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر ہمیں (اللہ) اپنے فضل سے (دولت) عطاء کرے گا تو ہم ضرور صدقہ (و خیرات کیا) کریں گے (لنصدقنّ ) میں دراصل تاء کا صاد میں ادغام ہے اور صالحین میں سے ہوجائیں گے اور یہ شخص ثعلبہ بن حاطب تھا کہ اس نے نبی ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ میرے لئے دعاء فرما دیا کہ اللہ مجھے خوب دولتمند کر دے، اور میں اس مال سے ہر حقدار کا حق ادا کردوں، چناچہ آپ نے دعاء فرما دی جس کی وجہ سے اس کے لئے فراخی کردی گئی تو وہ جمعہ و جماعت کا بھی تارک ہوگیا، اور زکوٰة دینی بند کردی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، جب ان کو اس نے اپنے فضل سے (مال) عطا کردیا تو اس میں بخیلی کرنے لگے اور اللہ کی اطاعت سے بھی روگردانی کرنے لگے حال یہ ہے کہ وہ ہرحال میں اعراض کرنے والے ہی ہیں (اس بخل) کا انجام یہ ہوا کہ ان کے قلوب میں اللہ کے روبرو پیشی کے وقت تک کے لئے نفاق پیوست کردیا گیا، اور وہ قیامت کا دن ہے، اور یہ اس سبب سے ہوا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ خلافی کی اور اس وجہ سے کہ وہ عہد کے بارے میں جھوٹ بولتے رہے پھر اس کے بعد آپ ﷺ کی خدمت میں زکوٰة (کا مال) لے کر حاضر ہوا، تو آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے منع کردیا ہے کہ میں تیرا مال قبول کروں، تو اس نے اپنے سر پر خاک ڈالنی شروع کردی، پھر اس (مال زکوٰة) کو ابوبکر صدیق کے پاس لے گیا تو انہوں نے بھی اسے قبول کرنے سے انکار کردیا پھر حضرت عمر ؓ کی خدمت میں (مال زکوٰة لے کر) حاضر ہوا، آپ نے بھی قبول نہ کیا، اس کے بعد حضرت عثمان ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے بھی قبول کرنے سے انکار کردیا، اس کا انتقال حضرت عثمان ؓ کے عہد خلافت میں ہوا، کیا منافق جانتے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی راز کی باتوں کو جن کو وہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور ان سرگوشیوں کو جن کو وہ آپس میں کرتے ہیں جانتا ہے، یقینا اللہ ان مغیبات کو بھی جانتا ہے جو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں، اور جب آیت (خُذْ مِنْ اَمْوالھم) نازل ہوئی تو ایک شخص (حضرت عبد الرحمن بن عوف) آئے اور بڑی مقدار (چار ہزار دینار) صدقہ کیا تو منافقوں نے کہا ریاکار ہے، اور ایک دوسرے شخص (حضرت ابو عقیل انصاری) آئے انہوں نے ایک صاع کھجور صدقہ کیا تو (منافقوں) نے کہا اللہ تو اس (قلیل صدقہ) سے مستغنی ہے، تو آئندہ آیت (الذین یلمزون الخ) نازل ہوئی، اور ان (دولتمند منافقوں) کو بھی خوب جانتا ہے (الذین) مبتداء ہے، جو خوش دلی سے دینے والے اہل ایمان کی مالی قربانیوں (صدقات) پر باتیں بگھارتے ہیں (نکتہ چینی) کرتے ہیں اور ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جن کے پاس (راہ خدا میں دینے کے لئے) اس کے سوا کچھ نہیں جو وہ محنت مزدوری کر کے لاتے ہیں تو یہ (دولتمند) ان کا مذاق اڑاتے ہیں اللہ نے بھی ان کا مذاق اڑایا یعنی ان کے مذاق اڑانے کا بدلہ دیا، (سخر اللہ منھم) مبتداء کی خبر ہے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے اے محمد ﷺ تم ایسے لوگوں کے لئے معافی طلب کرو یا نہ کرو یہ آپ ﷺ کو استغفار کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے، آپ نے فرمایا مجھے (استغفار کرنے یا نہ کرنے) کا اختیار دیا گیا تو میں نے استغفار کو اختیار کیا، (رواہ البخاری) اگر تم ستر مرتبہ بھی ان لوگوں کو معاف کرنے کی درخواست کرو گے تو اللہ انہیں ہرگز معاف نہ کرے گا اور ستر کے عدد سے کثرت استغفار میں مبالغہ کرنا مقصود ہے اور بخاری شریف میں ایک حدیث ہے اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اگر میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں تو وہ معاف کردے گا تو میں اس سے زیادہ کرتا، اور کہا گیا ہے کہ (ستر کا) عدد مخصوص مراد ہے بخاری کی حدیث کی وجہ سے کہ میں ستر سے زیادہ مرتبہ استغفار کروں گا، آپ ﷺ کو سواء علیھم استغفرت لھم اَمْ لَمْ تستغفرلھم، کے ذریعہ بتادیا گیا کہ ان سے مغفرت کو کاٹ دیا گیا ہے، اور یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اللہ تعالیٰ فاسقوں کی رہنمائی نہیں فرماتے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : المنفقون، (مفاعلة) اسم فاعل جمع مذکر غائب مرفوع، دو رخی کرنے والا شریعت کی اصطلاح میں اس شخص کو کہتے ہیں جو زبان سے اسلام کا اقرار کرے مگر دل میں اس کے برخلاف ہو، نفق کے اصل معنی خرچ ہوجانے اور چلے جانے کے ہیں، نَفَقَتِ الدراھم، روپیہ سب ختم ہوگیا، نافِقاء (ضَبّ ) گوہ کابل، سوراخ، جس کے کم از کم دو دہانے ہوتے ایک دہانے سے داخل ہوتی ہے شکاری اس سوراخ کی طرف متوجہ رہتا ہے گوہ دوسرے سوراخ سے نکل کر باہر چلی جاتی ہے منافق بھی زبانی اقرار سے اسلام میں داخل ہوتا ہے مگر ولی عقیدہ کی وجہ سے اسلام سے خارج ہوجاتا ہے آپ ﷺ کے زمانہ میں منافق مردوں کی تعداد (300) اور منافق عورتوں کی تعداد (170) تھی۔ (جمل) قولہ : بعضھم من بعض، بعضھم مبتداء ہے اور من بعض اس کی خبر ہے اور مِنْ اتصالیہ ہے۔ قولہ : یقبضون ایدیھم، قبض ید، بخل سے کنایہ ہے حقیقةً مٹھی بند کرنا مراد نہیں ہے اسی طرف مفسر علام نے عن الانفاق فی الطاعة کہہ کر اشارہ کیا ہے۔ قولہ : ترکوا طاعتہ دونوں جگہ نسیان سے اس کے لازم معنی یعنی ترک مراد ہیں، اول جگہ اس لئے کہ نسیان پر مؤاخذہ نہیں ہے اور نہ قابل مذمت اور دوسری جگہ اس لئے کہ نسیان کی نسبت اللہ کی طرف محال ہے لہٰذا لازم معنی یعنی محروم کرنا مراد ہیں۔ قولہ : انتم ایّھا المنافقون، اس میں اشارہ ہے کہ کاف، کالذین میں مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے محلاً مرفوع ہے نہ کہ فعل محذوف کی وجہ سے محل نصب میں۔ قولہ : کخوضھم یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : منافقین کے خوض کو کفار کی ذوات کے ساتھ تشبیہ درست نہیں ہے اس لئے کہ خوض صفت ہے اور کفار ذوات۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے اور وہ مصدر ہے، ای خضتم خوضاً کخوضھم۔ قولہ : المؤتفکت، یہ مؤتفکة کی جمع ہے ایتفاک، (افتعال) مصدر ہے، اِفک مادہ ہے الٹی ہوئی، زیروزبر کی ہوئی مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں، جو بحر مردار کے ساحل پر آباد تھیں، جس کا مرکزی شہر سندوم یا سدوم تھا۔ قولہ : فکذبوھم اس اضافہ کا مقصد فما کان اللہ لیظلمھم کے عطف کو درست کرنا ہے تاکہ فاء تعقیبیہ کے ذریعہ عطف درست ہوجائے تفسیر وتشریح شان نزول : سابقہ آیات میں منافقوں کا حال اور ان کا انجام اس کے بعد مومنوں کے اوصاف اور آخرت میں ان کے لئے درجات عالیہ کا بیان تھا، اب آپ ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کفار اور منافقوں سے جہاد کرو، خطاب اگرچہ آپ ﷺ کو ہے مگر حکم پوری امت کو ہے اور یہ بھی حکم فرمایا کہ اپنی عادت کے خلاف ان کے ساتھ سختی سے پیش آئو، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے اطوار بیان فرمائے کہ ان کی عادت یہ ہے کہ ایک بات کہہ کر مکر جاتے ہیں، اور جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، چناچہ ان لوگوں نے آپ ﷺ کی شان میں گستاخانہ اور کافرانہ کلمے نکالے جب اس کی خبر آپ ﷺ کو پہنچی تو صاف انکار کردیا، اس آیت کے شان نزول کے بارے میں مفسرین نے کئی سبب بیان کئے ہیں۔ پہلا سبب : کہا گیا ہے کہ مذکورہ آیت جلاس بن سوید بن صامت اور ودیعہ بن ثابت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس کی صورت یہ ہوئی کہ غزوہ تبوک کے موقع پر منافقین کی مذمت کے بارے میں بکثرت آیات کا نزول ہونے لگا تو منافقوں نے کہا کہ اگر محمد کا کہنا ہمارے بھائیوں کے بارے میں کہ جو غزوہ میں شریک نہیں ہوئے ہیں صحیح ہے اگر وہ ایسے ہی ہیں جیسا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں تو پھر تو ہم گدھے ہیں، عامر بن قیس رضی ؓ نے کہا اس میں کیا شک ہے واللہ محمد ﷺ صادق ومصدوق ہیں اور تو گدھے سے بھی بدتر ہے، اور عامر بن قیس نے اس کی اطلاع آپ ﷺ کو بھی کردی، جب جلاس آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اپنی کہی ہوئی بات سے مکر گیا اور قسم کھا گیا کہ عامر بن قیس جھوٹا ہے اور عامر نے قسم کھائی کہ واللہ اس نے ایسا ہی کہا تھا اور دعا کی اللھم انزل علی نبیک شیئا '' فنزلت، عامر بن قیس نے اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ تو اس بارے میں اپنے نبی پر کچھ نازل فرما، چناچہ مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس بات کے سننے والے عاصم بن عدی تھے اور بعض نے کہا ہے حذیفہ بن یمان تھے۔ دوسرا سبب : کہا گیا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جبکہ اس نے غزوہ بنی مصطلق سے واپسی کے وقت یہ بات کہی تھی کہ ہماری مثال تو محمد کے بارے میں ایسی ہے جیسی کہ کسی نے کہا ہے سمِّن کلبکَ یا کلکَ '' لئن رجعنا الی المدینة لیخرجنَّ الاعزّ منھا الاذل '' کہاوت مشہور ہے کہ کتے کو کھلا پلا کر موٹا کر اور تجھ ہی کو کاٹنے کو آئے، وطنی زبان میں کہا جاتا ہے '' ہماری بلی ہم کو ہی کو میاؤں '' مدینہ پہنچ کر عزت دار ذلت وارذلت دار کو نکالدے گا، اس کی اطلاع آپ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے اس سے دریافت فرمایا تو صاف انکار کردیا اور قسم کھا گیا کہ اس نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ تیسرا سبب : ایک روایت میں ہے کہ تبوک کے سفر میں آپ ﷺ کی اونٹنی گم ہوگئی مسلمان اس کو تلاش کر رہے تھے اس پر منافقوں کے ایک گروہ نے اپنی مجلس میں بیٹھ کر خوب مذاق اڑایا اور کہا کہ یہ حضرت آسمان کی خبریں تو خوب سناتے ہیں مگر اپنی اونٹنی کی کچھ خبر نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں ؟ وھمّوا بما لم ینالوا الخ یہ اشارہ ان سازشوں کی طرف ہے جو منافقوں نے غزوہ تبوک کے موقع پر کی تھی، ان میں ایک سازش کے واقعہ کو محدثین نے اس طرح بیان کیا ہے کہ تبوک سے واپسی پر مسلمانوں کا لشکر جب ایسے مقام پر پہنچا کہ جہاں سے راستہ پہاڑوں کے درمیان درے سے گذرتا تھا تو بعض منافقین نے طے کیا کہ رات کے وقت کسی گھاٹی میں گذرتے ہوئے نبی ﷺ کو گڑھے میں پھینک دیں گے، آپ ﷺ کو اس کی اطلاع ہوگئی آپ نے تمام اہل لشکر کو حکم دیا کہ وادی کے راستہ سے نکل جائیں اور آپ ﷺ عمار بن یاسر اور حذیفہ بن یمان کو ساتھ لے کر گھاٹی کے اندر سے ہو کر چلے اثناء راہ یکایک معلوم ہوا کہ دس بارہ آدمی ڈھاٹے باندھے ہوئے پیچھے پیچھے آرہے ہیں یہ دیکھ کر حضرت حذیفہ ان کی طرف لپکے تاکہ ان کے اونٹوں کو مار مار کر ان کے منہ پھیر دیں مگر وہ دور ہی سے حذیفہ ؓ کو آتے دیکھ کر ڈر گئے اور اس خوف سے کہ کہیں پہچان نہ لئے جائیں فوراً بھاگ نکلے۔ دوسری سازش : جس کا اس سلسلہ میں ذکر کیا گیا ہے یہ ہے کہ منافقوں کو رومیوں کے مقابلے سے نبی ﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو بخیریت بچ کر واپس آنے کی امید نہیں تھی اس لئے انہوں نے آپس میں طے کرلیا تھا کہ جوں ہی ادھر کوئی سانحہ پیش آئے ادھر مدینہ میں عبد اللہ بن ابی کے سر پر تاج شاہی رکھ دیا جائے، مطلب یہ ہے کہ مذکورہ سازشیں جن مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کی گئی تھیں ان میں سے ایک مقصد بھی ان کو حاصل نہیں ہوا ؟ رکوع کے آغاز ہی میں ایک اہم ہدایت ہے کہ کفار و منافقین سے تلوار اور زبان سے جہاد کر اور سختی سے پیش آئو جس کا حکم مسلمانوں کو دیا جانا ضروری تھا اس کے بغیر اسلامی معاشرہ کو تنزل وانحطاط کے اندرونی اسباب سے محفوظ نہیں رکھا جاسکتا تھا، کوئی جماعت جو اپنے اندر منافقوں اور غداروں کو پرورش کرتی ہو اور جس میں گھریلو سانپ عزت اور تحفظ کے ساتھ آستین میں بٹھائے جاتے ہوں اخلاقی زوال اور بالآخر کامل تباہی سے دو چار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی نفاق کا حال طاعون کا سا ہے اور منافق وہ چوہا ہے جو اس وبا کے جراثیم لئے پھرتا ہے اس کو آزادی سے چلنے پھرنے کا موقع دینا گویا پوری آبادی کو موت کے خطرہ میں ڈالنا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس گروہ کے ساتھ سختی کا معاملہ کر کے ان کو مخلصین سے بالکل الگ تھلگ کردیا جائے۔ وَمَا نقموا اِلاَّ اَنْ اغنھم اللہ ورسولہ من فضلہ نبی ﷺ کی ہجرت سے پہلے مدینہ عرب کے قصبات میں سے ایک معمولی قصبہ تھا، اور اوس اور خزرج کے قبیلے مال یا جان کے لحاظ سے کوئی خاص اہمیت نہ رکھتے تھے، مگر جب آپ ﷺ وہاں تشریف لے گئے اور انصار نے آپ کا ساتھ دے کر اپنے آپ کو خطرات میں ڈال دیا تو آٹھ نو سال کے اندر یہی متوسط قصبہ تمام عرب کا دارالسلطنت بن گیا، وہی اوس و خزرج کے کاشتکار سلطنت کے اعیان اور اکابر بن گئے، اور ہر طرف سے فتوحات، غنائم اور تجارت کی برکات اس کے مرکزی شہر پر بارش کی طرح برسنے لگیں، اللہ تعالیٰ منافقین کو اسی پر شرم دلا رہا ہے کہ ہمارے نبی پر تمہارا یہ غصہ کیا اسی قصور کی پاداش میں ہے کہ اس کی بدولت یہ نعمتیں تمہیں بخشی گئیں، یہ کلمہ بطور طنز فرمایا گیا ہے یعنی تم احسان فراموش ہو، احسان مند ہونے کے بجائے عداوت رکھتے ہو۔ الذین یلمزون المطوعین من المؤمنین، غزوہ تبوک کے موقع پر جب نبی ﷺ نے ہنگامی چندے کی اپیل کی تو بڑے بڑے مالدار منافقین ہاتھ روک کر بیٹھے رہے، مگر جو مخلصین اہل ایمان تھے بڑھ چڑھ کردینے لگے تو ان لوگوں نے ان پر آوازیں کسنی شروع کردیں، اگر کوئی ذی استطاعت مسلمان (مثلا عبد الرحمن بن عوف وغیرہ) اپنی حیثیت کے مطابق بڑی رقم پیش کرتا تو اس پر ریا کاری کا الزام لگاتے اور اگر کوئی غریب مسلمان (مثلاً ابو عقیل وغیرہ) اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر کوئی چھوٹی رقم پیش کرتا یا رات بھر محنت مزدوری کر کے کچھ کھجوریں حاصل کرتا اور وہی لا کر پیش کرتا یہ اس پر آوازیں کستے کہ لو یہ ٹڈی کی ٹانگ بھی آگئی تاکہ اس سے روم کے قلعے فتح کئے جائیں، تبوک سے واپسی پر کچھ زیادہ مدت نہیں گذری تھی کہ عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین کا انتقال ہوگیا اس کے بیٹے عبداللہ بن عبد اللہ جو مخلص مسلمان تھے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کفن میں لگانے کے لئے آپ کا کرتہ مانگا، آپ نے کمال فراخ دلی کے ساتھ عنایت کردیا، پھر انہوں نے درخواست کی کہ آپ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھائیں آپ اس کے لئے بھی تیار ہوگئے حضرت عمر نے باصرار عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ اس شخص کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جو ایسا ایسا کرچکا ہے مگر آپ ان کی یہ سب باتیں سن کر مسکراتے رہے، اور اس رحمت کی بنا پر جو سب کے لئے عام تھی آپ نے اس بدترین دشمن کے حق میں دعاء مغفرت کرنے میں بھی تامل نہ کیا آخر جب آپ ﷺ نماز پڑھانے کھڑے ہو ہی گئے تو آیت نازل ہوئی اور براہ راست حکم خداوندی سے آپ کو نماز پڑھانے سے روک دیا گیا۔ استغفر لھم اولا تستغفر لھم الخ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس کی اطلاع دی ہے کہ ان منافقوں کا خاتمہ کفر پر ہوا ہے اور ایسے لوگوں کی مغفرت نہ ہونے کا اللہ کا وعدہ ہے اس لئے یہ لوگ ہرگز اس لائق نہیں ہیں کہ ان کے لئے دعاء مغفرت کی جائے، لہٰذا اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی استغفار کریں گے تو بھی خدا ان کو معاف نہ کرے گا، اس لئے کہ استغفار تو گنہگاروں کے حق میں سود مند ہوتا ہے نہ کہ اس کے لئے جو خدا اور رسول کے ساتھ کفر کر کے بغیر توبہ کے مرگیا اور نہ ان کے زندوں کو توبہ پر مجبور کیا جائے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے حق میں استغفار کرنے اور نہ کرنے کا اختیار دیا ہے تو آپ نے فرمایا میں ستر بار سے زیادہ ان کے لئے استغفار کروں گا شاید خدا انہیں معاف کر دے، اس پر اللہ تعالیٰ نے خفگی کے ساتھ فرمایا کہ استغفار کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے خاتمہ کا حال معلوم ہے لہٰذا ان کی مغفرت نہ ہوگی یہ خفگی کی آیت سورة منافقون میں ہے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ شعبی سے یوں روایت کی ہے کہ جب عبد اللہ بن ابی قریب المرگ ہوا تو اس کا بیٹا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس سے معلوم کیا تیرا کیا نام ہے اس نے کہا حباب بن عبد اللہ آپ نے فرمایا حباب شیطان کا نام ہے اب تیرا نام عبداللہ بن عبداللہ ہے اور پھر آپ اس کے ساتھ تشریف لے گئے اور اپنا کرتہ اسے پہنایا، اور آپ نے اس کے واسطے مغفرت کی دعاء فرمائی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 9:81–89

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جو لوگ (غزوہ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا ﷺ (کی مرضی) کے خلاف بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ (خدا کی راہ میں) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات کو) سمجھتے۔

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

یہ (دنیا میں) تھوڑا ساہنس لیں اور (آخرت میں) انکو ان اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں بہت سا رونا ہوگا۔

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لیجائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے۔ اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہو کر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ان میں سے کوئی مر جاّئے تو کبھی اس کے جنازے پر نماز نہ پڑھنا نہ اس کی قبر پر جا کر کھڑے ہونا یہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی تو نافرمان (ہی مرے) ۔

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ ان چیزوں سے خدا یہ چاہتا ہے کہ انکو دنیا میں عذاب کرے۔ اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) یہ کافر ہی ہوں۔

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ہو کر لڑائی کرو۔ تو جو ان میں دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجئے کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی انکے ساتھ رہیں۔

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں انکے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔ تو یہ سمجھتے ہی نہیں۔

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن پیغمبر ﷺ اور جو لوگ انکے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے انہی لوگوں کے لئے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد پانے والے ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

خدا نے ان کے لئے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

آیت نمبر 81 تا 89 ترجمہ : غزوہ تبوک سے پیچھے چھوڑے گئے لوگ رسول اللہ ﷺ کے (نکلنے) کے بعد اپنے (گھروں) میں بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، اور انہیں یہ بات ناگوار گذری کہ وہ اپنی جان ومال سے اللہ کے راستہ میں جہاد کریں، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا گرمی میں جہاد کے لئے نہ نکلو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ تبوک کی گرمی سے زیادہ سخت ہے لہٰذا بہتر ہے کہ تم ترک تخلف کر کے اس آگ سے بچو، اگر وہ اس حقیقت کو سمجھتے (تو غزوہ میں شرکت سے) پیچھے نہ رہتے، تھوڑے دنوں دنیا میں ہنس لیں آخرت میں بہت روئیں گے اور یہ رونا ان کے اعمال کی بدولت ہوگا یہ (خبر) بصیغہ امران کی حالت کی خبر ہے پس اگر اللہ آپ کو تبوک سے ان منافقوں کے درمیان جو مدینہ میں پیچھے رہ گئے تھے (بخیر) واپس لائے اور ان میں سے کوئی کسی دوسرے غزوہ میں آپ کے ساتھ شرکت کی اجازت طلب کرے تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم میرے ساتھ ہرگز کبھی بھی نہیں نکل سکتے اور نہ میری معیت میں کسی دشمن سے کبھی ہرگز لڑ سکے ہو تم نے پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے کو پسند کیا تو اب پیچھے رہنے والی عورتوں بچوں وغیرہ ہی کے ساتھ بیٹھ رہو اور جب آپ ﷺ نے (عبد اللہ) بن ابی پر نماز جنازہ پڑھی چاہی تو یہ آیت نازل ہوئی، اور آئندہ ان میں سے کوئی مرے تو اس کی نماز جنازہ تم ہرگز نہ پڑھنا اور دفن یا زیارت کے لئے اس کی قبر پر بھی مت کھڑے ہونا ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور حال کفر ہی میں مرے ہیں، اور ان کے مال اور اولاد (کی کثرت) آپ کو تعجب میں نہ ڈالے اللہ ارادہ کرچکا ہے کہ ان کو (اس مال والاد) کے ذریعہ ہی دنیا میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں، اور جب کبھی قرآن کا کوئی حصہ اس مضمون کا نازل ہوا کہ اللہ پر ایمان لائو اور اس کے رسول کے ساتھ جہاد کرو تو آپ نے دیکھا کہ ان میں سے جو مقدرت والے تھے وہی آپ سے (غزوہ) میں شریک نہ ہونے کی اجازت طلب کرنے لگے کہ انہیں جہاد کی شرکت سے معاف رکھا جائے ان لوگوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل رہنا پسند کی، خوالف، خالفة کی جمع ہے یعنی وہ عورتیں جو گھروں میں بیٹھ رہیں، اور ان کے قلوب پر ٹھپہ لگا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ خیر کی بات کو نہیں سمجھتے اس کے برخلاف رسول نے اور ان لوگوں نے جو آپ کے ساتھ ایمان لائے اور اپنی جان ومال سے جہاد کیا دنیا اور آخرت میں ساری بھلائیاں ان ہی کیلئے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں اللہ نے ان کیلئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن میں نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ عظیم الشان کامیابی۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : اَلْمُخَلَّفُوْنَ (تفعیل) اسم مفعول جمع مذکر غائب، پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ، تخلیف کسی کو پیچھے کردینا، پیچھے چھوڑ دینا، یہاں وہ بارہ آدمی مراد ہیں جو غزوہ تبوک میں اپنی کسلمندی اور نفاق کی وجہ سے آپ ﷺ کے ہمراہ نہیں گئے تھے۔ قولہ : خِلٰفَ رسولِ اللہ ای خلْفَہ، خلٰفَ یا تو مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای قَعَدُوا لمخالفتہ یا حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای مخالفین لہ، اور فعل مقدر کی وجہ سے بھی منصوب ہوسکتا ہے ای تخلَّفوا خلافَ رسول اللہ اور یہ بھی جائز ہے کہ ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہو ای بعد رسول اللہ علامہ سیوطی (رح) تعالیٰ نے اسی ترکیب کو اختیار کیا ہے۔ قولہ : بقعودھم اس سے اشارہ کردیا کہ مقعد مصدر میمی ہے نہ کہ ظرف۔ قولہ : وکَرِھوا ان یجاھِدُوا کا عطف فَرِحَ اِلمخلفونَ پر ہے اور اَنْ یُجاھدوا، کرِھوا کا مفعول ہے۔ قولہ : ما تخلَّفوا یہ لَوْ کا جواب ہے جو کہ محذوف ہے۔ قولہ : خبر عن حالھم، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ ضحک (ہنسنے) کا حکم نہیں فرماتے حالانکہ یہاں فلیضحکوا امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ضحک (ہنسنے) کا حکم فرمایا۔ جواب : جواب یہ ہے کہ امر بمعنی خبر ہے، یعنی ان کی حالت کی خبر دینا مقصود ہے نہ کہ ضحک کا حکم کرنا۔ قولہ : طائفة من القران یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں سورت سے پوری سورت مراد نہیں ہے بلکہ قرآن کا ایک حصہ مراد ہے اس میں پوری اور اس سے کم دونوں داخل ہیں۔ تفسیر وتشریح ربط آیات : فَرِحَ الْمخلَّفُوْنَ ، اوپر سے منافقوں کے حالات کے بیان کا سلسلہ چل رہا ہے، یہاں بھی ان منافقوں کی مذمت بیان کی جاری ہے جو غزوہ تبوک میں نفیر عام ہونے کے باوجود اپنے نفاق اور کسل مندی کی وجہ سے آپ ﷺ کے ہمراہ شریک غزوہ نہیں ہوئے تھے اور جھوٹے اعذار بیان کر کے شریک غزوہ نہ ہونے کی اجازت چاہی آپ ﷺ نے ان کو اجازت بھی دے دی، یہاں ان کو یہ وعید بھی سنائی جا رہی ہے کہ ان کا نام مجاہدین کی فہرست سے کاٹ دیا گیا ہے اب آئندہ بھی کسی غزوہ میں شریک نہ ہو سکیں گے۔ خِلاَفَ رَسولِ اللہ، لفظ '' خلاف '' کے معنی یہاں پیچھے اور بعد کے بھی ہوسکتے ہیں، علامہ سیوطی (رح) تعالیٰ نے یہی معنی لئے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ آپ ﷺ کے جہاد پر چلے جانے کے بعد آپ سے پیچھے رہ جانے پر خوش ہو رہے ہیں یہ در حقیقت خوشی کی بات نہیں۔ دوسرے معنی یہاں خلاف کے مخالفت کے بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کر کے گھر میں بیٹھے رہے اور صرف خود ہی نہیں بیٹھے بلکہ دوسروں کو بھی '' لا تنفروا فی الحر '' کہہ کر پست ہمت کر کے روکنے کی کوشش کی، غزوہ تبوک نہایت شدید گرمی کے زمانہ میں ہوا تھا، حق تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب آپ ﷺ کی معرفت یہ دیا کہ '' قُلْ نار جھنم اشَدُّ حرًّا '' یعنی یہ بدنصیب اس وقت کی گرمی کو تو دیکھ رہے ہیں اور اس سے بچنے کی فکر کر رہے ہیں مگر آخرت میں نار جہنم کی ابدالآباد کی گرمی کو اپنے اوپر لازم کر رہے ہیں اعذار باردہ بیان کر کے مدینہ میں بیٹھ رہنے پر یہ خوشیاں منا رہے ہیں حالانکہ یہ موقع خوشی منانے اور ہنسنے کا نہیں ہے بلکہ خون کا آنسو رونے کا ہے اپنے مصنوعی اور جھوٹے اعذار کے ذریعہ چند روز کی گرمی سے اگر بچ بھی گئے تو ہمیشہ ہمیش کی گرمی اپنے اوپر لازم کرلی، دنیا کی گرمی کی نار جہنم کی گرمی کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں ہے دنیا کی آگ بھی دوزخ کی آگ سے پناہ مانگتی ہے۔ غزوہ تبوک میں جو لوگ شریک نہیں ہوئے تھے ان میں سب ہی منافق نہیں تھے بعض حقیقی عذر کی وجہ سے اور بعض آجکل امروز وفردا کرتے کرتے شریک نہیں ہو سکے، اور آنحضرت ﷺ نے واپس آنے کے بعد ان کے اعذار کو قبول بھی فرما لیا تھا اور بعضوں کو کچھ دنوں کی مہلت بھی ملی تھی اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی توبہ قبول فرما لی تھی جس کا ذکر آئندہ آئے گا۔ فاِن رَّجَعَک اللہ الی طائفة منھم سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقوں کی ایک چھوٹی سی جماعت تھی تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ ؓ کا قول ہے کہ ان منافقوں کی تعداد صرف بارہ تھی جن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ہے صحیح بخاری میں انس بن مالک اور صحیح مسلم میں جابر بن عبد اللہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ تبوک کے سفر سے واپسی کے وقت آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ بعضے لوگوں نے گھر بیٹھے وہی ثواب حاصل کیا جو اور لوگوں نے سفر کر کے پایا، صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت یہ کیونکر ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ مجبوری کے سبب سے مدینہ میں رہ گئے تھے ورنہ وہ اس سفر میں ضرور شریک ہوتے ان حدیثوں سے اس بات کی پوری تائید ہوتی ہے کہ جو لوگ تبوک میں شریک نہیں ہوئے وہ سب منافق نہیں تھے۔ وَلا تصلّ علی احدٍ منھم مات الخ احادیث صحیحہ سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی سلول کی موت اور اس پر نماز جنازہ پڑھنے کے متعلق نازل ہوئی، اور صحیحین کی روایت سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ آپ نے عبد اللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھی، پڑھنے کے بعد یہ آیت نازل ہوئی، اس کے بعد آپ نے کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، آپ ﷺ کے عبد اللہ بن ابی ابن سلول کے جنازہ کی نماز پڑھنے اور اپنا پیراہن مبارک اس کے کفن میں شامل کرنے نیز حضرت عمر ؓ کے بہ اصرار منع کرنے کی تفصیل سابق میں گذر چکی ہے۔ واقعہ مذکورہ سے متعلق چند سوالات اور ان کے جوابات : پہلا سوال : عبد اللہ بن ابی ایک ایسا منافق تھا کہ جس کا نفاق جگ ظاہر تھا صرف یہی نہیں بلکہ منافقوں کا سردار مانا جاتا تھا، اس کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا یہ امتیازی سلوک کس بنا پر ہوا ؟ کہ اس کے کفن کے لئے اپنا قمیص مبارک بھی عطا فرما دیا ! جواب : اس کے دو سبب ہوسکتے ہیں اول اس کے صاحبزادے جو کہ مخلص صحابی اور بدریین میں سے تھے محض ان کی دلجوئی کے لئے ایسا کیا، دوسرا سبب ایک اور بھی ہوسکتا ہے جو بخاری شریف میں بروایت حضرت جابر منقول ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر جب کچھ قریشی سردار گرفتار ہو کر آئے تھے تو آپ ﷺ کے چچا عباس بھی ان میں تھے آپ نے دیکھا کہ ان کے بدن پر کرتہ نہیں ہے تو صحابہ سے ارشاد فرمایا کہ انہیں قمیص پہنا دیا جائے حضرت چونکہ دراز قد تھے عبد اللہ بن ابی کے سوا کسی کا کرتہ ان کے بدن پر درست نہ آیا تو عبد اللہ بن ابی کا کرتہ لے کر آپ نے اپنے چچا کو پہنا دیا، اس کے اسی احسان کا بدلہ ادا کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے اپنا کرتہ اس کو عطا فرما دیا۔ دوسرا سوال : یہ کہ جب حضرت عمر ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافق کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے یہ کس بنا پر کہا ؟ کیونکہ اس سے پہلے صراحت کے ساتھ آپ کو منافق کی نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا گیا، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے اسی سورت کی سابقہ آیت استغفرلھم اولا تستغفرلھم سے ممانعت کا مضمون سمجھا تو آپ ﷺ نے اس سے کیوں نہ ممانعت قرار دی، بلکہ آپ نے یہ فرمایا کہ اس آیت میں مجھے اختیار دیا گیا ہے۔ جواب : یہ ہے کہ درحقیقت الفاظ آیت کا ظاہری مفہوم اختیار ہی دینا ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ستر کا ذکر تحدید کے لئے نہیں ہے بلکہ کثرت بیان کرنے کے لئے ہے، تو اس کا ظاہری مفہوم یہ ہوگا کہ منافق کی مغفرت تو نہ ہوگی خواہ آپ کتنی ہی مرتبہ استغفار کرلیں لیکن اس میں صراحت کے ساتھ آپ کو استغفار سے روکا نہیں گیا۔
Ayahs 9:90–93

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے۔ اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول ﷺ سے جھُوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے۔ سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے انکو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا۔

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جنکے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد ہوں یعنی) جبکہ خدا اور اسکے رسول ﷺ کے خیر اندیش (اور دل سے انکے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ انکے پاس خرچ موجود نہ تھا۔ انکی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو دولتمند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہے (یعنی اس بات سے) خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو بیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں خدا نے انکے دلوں پر مہر کردی ہے۔ پس وہ سمجھتے ہی نہیں۔

آیت نمبر 90 تا 93 ترجمہ : اور آئے عذر کرنے والے آپ ﷺ کے پاس عرب کے کچھ بدو، اصل میں تاء کو ذال میں اور ادغام کر کے یعنی مُعْتَذِرُوْنَ میں ( اور معتذرون) معنی میں معذورین کے ہے، اور ایک قراءت میں معتذرون بھی پڑھا گیا ہے تاکہ ان کو (مدینہ ہی میں) بیٹھ رہنے کی اجازت مل جائے ان کے عذر کی وجہ سے چناچہ ان کو اجازت دے دی گئی، اور بدو منافقین میں سے جنہوں نے دعوائے ایمان میں اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی وہ تو عذر کرنے سے بھی بیٹھ گئے (یعنی عذر کرنے بھی نہ آئے) ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان کو دردناک عذاب لاحق ہوگا اور کمزوروں مثلاً بوڑھے اور مریضوں پر مثلاً اندھے اور اپاہج پر اور ان لوگوں پر جن کو جہاد کا خرچ میسر نہ ہو جہاد سے پیچھے رہ جانے میں کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خلوص رکھیں یعنی (گھر) بیٹھ رہنے کی صورت میں فتنہ پردازی نہ کریں اور لوگوں کو جہاد سے نہ روکیں اور اطاعت میں لگے رہیں، ان نیکوکاروں پر اس بیٹھ رہنے کی وجہ سے کوئی الزام کی راہ نہیں ہے (مؤاخذہ نہیں) اور اللہ ان کو معاف کرنے والا ہے اس معاملہ میں ان کو وسعت دے کر ان پر رحم کرنے والا ہے اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی الزام عائد نہیں ہوتا جو آپ کے پاس آئے تاکہ آپ ان کو سواریاں بہم پہنچا کر اپنے ساتھ غزوہ میں لے چلیں اور وہ سات انصاری تھے اور کہا گیا ہے کہ بنو مقرن کے لوگ تھے آپ نے ان سے کہہ دیا کہ میرے پاس سواریاں نہیں ہیں اور قُلْتَ ، اتوکَ کی ضمیر سے حال ہے تو وہ (مجبوراً ) واپس چلے گئے حال یہ کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے من بیانیہ ہے اور انہیں اس بات کا بڑا غم تھا کہ انہیں وہ (وسعت) میسر نہیں کہ جس کو جہاد میں خرچ کریں، البتہ الزام ان لوگوں پر ہے جو مالدار ہیں پھر بھی آپ سے پیچھے رہنے کی درخواست کرتے ہیں، انہوں نے گھر بیٹھے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا ہے، اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اس لئے اب یہ کچھ جانتے نہیں ہیں ایسی ہی آیت سابق میں گذر چکی ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد : قولہ : اَلْمُعَذِّرُوْنَ (تَعْذیر، تفعیل سے) اسم فاعل جمع مذکر، جھوٹا عذر پیش کرنے والے، مفسر علام نے مُعَذِّرُون، کی اصل معتذرون بتا کر اشارہ کردیا کہ مُعَذِّرونَ باب افتعال سے ہے، اس وقت اس کے معنی ہوں گے حقیقت میں معذور، المعذّرون کو باب افتعال سے قرار دینے کے دو مقصد ہیں اول یہ کہ باب تفعیل متعدی ہوتا ہے حالانکہ یہاں غیر متعدی استعمال ہوا ہے جواب کا حاصل یہ ہے کہ مُعَذِّرُوْنَ باب افتعال ہی سے ہے اس میں تاء کو ذال سے بدل کر ذال کو ذال میں ادغام کردیا گیا ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں ہے۔ دوسرے یہ شبہ بھی دفع ہوگیا کہ عَذّرَ (تفعیل) کے معنی ہیں جھوٹا عذر ظاہر کرنا، حالانکہ آنے والے حقیقت میں معذور تھے اس شبہ کو المعتذرون بمعنی معذورین کا ذکر آگے جملہ '' وقَعَدَ الّذین کذبوا '' الخ میں آرہا ہے۔ قولہ : الزّمنٰی یہ زمانہ سے ماخوذ ہے اس کے معنی ہیں اپاہج، عاجز۔ ٍقولہ : اِرجَاف، افواہ پھیلانا، فتنہ پردازی کرنا مومنوں میں بری خبر کی اشاعت کرنا۔ قولہ : بعدمِ الارجاف، نصحوا، کے متعلق ہے۔ قولہ : التثبیط، روکنا، باز رکھنا۔ قولہ : والطاعةِ ، اس کا عطف عدم الا رجاف پر ہے نہ کہ ارجاف پر لہٰذا اب معنی درست ہوگئے۔ قولہ : حال یعنی قلت لا اجدُ ، اَتَوْکَ کے کاف سے تقدیر قد کے ساتھ حال ہے لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ ماضی بغیر قد کے حال واقع نہیں ہوتا۔ تفسیر وتشریح وَجَائَ المعذِّ رون من الاعراب الخ، ان معذرین کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے بعض کے نزدیک یہ شہر سے دور ہنے والے وہ اعرابی تھے جنہوں نے جھوٹے عذر پیش کر کے اجازت حاصل کی، ان میں دوسری قسم وہ تھی جنہوں نے آپ کی خدمت میں آکر عذر پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی، اور بیٹھے رہے، اس طرح آیت میں گویا منافقین کے دو گروہوں کا تذکرہ ہے اور عذاب الیم کی وعید میں دونوں شامل ہیں، اور منھم سے بھی دونوں گروہ مراد ہیں، اور دوسرے مفسرین نے مُعَذِّ رُونَ سے بادیہ نشین (بدوی) مسلمان مراد لئے ہیں جنہوں نے معقول عذر پیش کر کے اجازت چاہی تھی، اور مُعَذِّرُوْنَ ان کے نزدیک اصل میں مُعْتَذِرُوْنَ تھا تاء کو ذال کر کے ذال کو ذال میں مدغم کردیا گیا ہے اور مُعْتَذِر کے معنی ہیں واقعی عذر رکھنے والا، اس اعتبار سے آیت کے اگلے جملے میں منافقین کا تذکرہ ہے اور آیت میں دو گروہوں کا ذکر ہے، پہلے جملے میں ان مسلمانوں کا جن کے پاس واقعی عذر تھے اور دوسرے میں ان منافقین کا جو بغیر عذر پیش کئے بیٹھے رہے اور آیت کے آخری حصہ میں جو وعید ہے وہ اسی دوسرے گروہ کے لئے ہے۔ یہ عذر بیان کرنے والے کون تھے : مفسرین کا اس بات میں اختلاف ہے کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے عذر کیا تھا بعضوں نے کہا کہ یہ لوگ قبیلہ بنی اسد اور غطفان کے لوگ تھے انہوں نے یہ عذر کیا تھا کہ ہمارے اہل و عیال ہیں جن کے لئے ہمیں بڑی محنت ومشقت کرنی پڑتی ہے آپ ہمیں گھر پر رہ جانے کی اجازت دے دیں اور بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ عامر بن طفیل کے قبیلے کے یہ لوگ تھے انہوں نے آپ ﷺ سے آکر یہ بات کہی تھی کہ اگر ہم آپ کے ساتھ چلیں اور شریک غزوہ ہوجائیں تو ہمارے بیوی بچے اور مویشی اکیلے رہ جائیں گے اور قبیلہ بنی طے کے بدّو آکر ہمارے پیچھے انہیں برباد کردیں گے اور سب مال لوٹ کرلے جائیں گے، آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ خیر خدا نے میرے لئے تمہاری ضرورت نہیں رکھی ہے، اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ قبیلہ غفار کے چند لوگوں نے کہا تھا، صحیح قول یہ ہے کہ اطراف مدینہ میں چند قبیلے رہتے تھے ان میں سے بعضے لوگ جھوٹے عذر بیان کر کے اور بعضے بغیر عذر بیان کئے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے تھے اور اس غزوہ میں لشکر اسلام کا ساتھ نہیں دیا۔ شان نزول : لَیْس علی الضعفاء ولا علی المرضیٰ الخ تفسیر ابن ابی حاتم اور مغازی محمد بن اسحاق میں زید بن ثابت کی روایت سے ان آیات کا جو شان نزول بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ توانا وتندرست اور مالدار لوگ جو بلا کسی معقول عذر کے شریک غزوہ نہیں ہوئے تھے جب مذکورہ آیات میں ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی خفگی اور وعید ظاہر کی گئی تو ناتواں بوڑھے، بیمار اور ایسے مفلس صحابہ کہ جن کے پاس اتنا سرمایہ نہیں تھا کہ سواری اور زادراہ کا خرچ برداشت کرسکیں، اور آنحضرت ﷺ کے ہم رکاب ہو سکیں، وہ لوگ بہت ہراساں ہوئے کہ شاید ہم لوگ بھی اس خفگی اور وعید میں داخل ہیں تو ان کی تسکین کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ صحیح بخاری میں انس بن مالک اور صحیح مسلم میں جابر بن عبدا للہ کی روایتیں موجود ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا بہت سے ہمارے ساتھ مدینہ میں ایسے ہیں کہ ہر کام میں گویا ہمارے ساتھ ہیں جو راستہ ہم نے طے کیا ہے انہوں نے بھی گویا وہی راستہ طے کیا ہے اس لئے کہ عذر کے سبب وہ ہمارے ساتھ نہیں آسکے، ایسے معذورین سے اللہ تعالیٰ نے سرزنش اٹھا لی ہے، مگر اس کے ساتھ ایک شرط بھی لگا دی ہے کہ اس طرح کا معذور آدمی گھر بیٹھے کوئی فساد کی ایسی بات نہ نکالے جس سے معلوم ہو کہ وہ دین کا خیر خواہ نہیں ہے۔ شان نزول : وَلا علی الّذین اِذَا مَا اَتَوْکَ ، صحیح بخاری میں ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے اس آیت کا جو شان نزول معلوم ہوتا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو موسیٰ اشعری اپنے قبیلے کے لوگوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے شرکت جہاد کے لئے سواری کی درخواست کی اس وقت آپ کسی وجہ سے غصہ میں میں تھے آپ نے سواری دینے سے قسم کھا کر انکار کردیا اس وجہ سے ابو موسیٰ اشعری اور ان کے ساتھ بچشم گریاں اور بدل بریاں مایوس ہو کر واپس چلے گئے، اتنے میں آپ ﷺ کے پاس مال غنیمت کے کچھ اونٹ آگئے، تو آپ نے ان لوگوں کو واپس بلایا اور چھ اونٹ ان کو عنایت فرمائے، جب یہ لوگ اونٹ لے کر واپس چلے گئے تو ان کو راستہ میں خیال آیا کہ شاید آپ ﷺ کو اپنی قسم یاد نہیں رہی، واپس چل کر آپ کو قسم یاد لانی چاہیے چناچہ یہ لوگ واپس آئے اور آپ کو قسم یاد دلائی تو آپ نے فرمایا، جائو تمہیں اللہ نے سواری دے دی، میں جب قسم کھاتا ہوں اور جس کام پر وہ قسم ہو اس کام سے بہتر اگر کوئی کام مجھے نظر آئے تو قسم کا کفارہ دے کر میں اس کام کو کرلیتا ہوں۔ (احسن التفاسیر) بلاغة : لِتَحْمِلَھُمْ ، محاورہ میں اس کے معنی ہیں کہ آپ ان کے لئے سواری کا انتظام کردیں، احملنی ای اعطنی ظھرًا ارکبَہ۔ (تاج) اَعْیُنُھم تفیض من الدمع، یہ طرف زیادہ بلیغ ہے یفیض دمعھا سے اس لئے کہ اس میں آنکھ ہی کو بہتا آنسو بنادیا ہے یہ زید عدل کے قبیل سے ہے۔ اِنَّما السَبِیْلُ علی الَّذِیْن یَسْتأذنونکَ الخ اوپر کی آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو اپاہج، بوڑھے، ضعیف، معذور، مریض یا مفلس ہونے کے سبب غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہو سکے تھے، اور ان لوگوں کو معذور قرار دے کر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ سرزنش کے قابل نہیں، ان آیتوں میں فرمایا کہ اصل سرزنش کے قابل وہ لوگ ہیں جو ہٹے کٹے اور دولتمند ہونے کے باوجود اللہ کے رسول کا ساتھ چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے رہے۔
Ayahs 9:94–99

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔ تم کہنا کہ عذر مت کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے (سب) حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول ﷺ تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو خدا کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ سو ان کی طرف التفات نہ کرنا یہ ناپاک ہیں اور جو کام یہ کرتے رہے ہیں ان کے بدلے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہوجاؤ۔ لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ انہی پر بری مصیبت (واقع) ہو اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں دیکھو وہ بےشبہہ ان کے لئے (موجب) قربت ہے۔ خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر 94 تا 99 ترجمہ : جب آپ غزوہ سے لوٹ کر ان کے پاس جائیں گے تو وہ پیچھے رہ جانے کے (طرح طرح) کے اعذار پیش کریں گے (مگر) آپ کہہ دینا بہانے نہ کرو، ہم تمہاری بات کا ہرگز اعتبار نہ کریں گے اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے حالات بتا دئیے ہیں، یعنی تمہارے حالات کی خبر دے دی ہے، اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا پھر بعث کے بعد تم ایسی ذات کی طرف لوٹائے جائو گے جو پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے یعنی اللہ کی طرف اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو جس کی جزاء وہ تم کو دے گا، اب جب تم اظہار ناراضگی کو ترک کر کے ان سے صرف نظر کرو تو تم ان سے صرف نظر کرو تو تم ان سے صرف نظر کر ہی لو (یعنی ان سے ترک تعلق کرلو) وہ لوگ بالکل گندے ہیں یعنی خبث باطن کی وجہ سے وہ نجس ہیں، اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ ان کے اعمال کی سزا ہے یہ اس لئے قسم کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجائو اگر تم ان سے راضی ہو بھی جائو تو اللہ فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوگا یعنی ان سے تمہاری رضا مندی خدائی غضب کی موجودگی میں کوئی فائدہ نہیں دے گی اعرابی (یعنی) بدو کفر ونفاق میں اپنی قساوت قلبی اور اپنی طبیعت کی سختی اور قرآن کے سننے سے دور ہونے کی وجہ سے بہ نسبت شہریوں کے زیادہ سخت ہوتے ہیں، اور یہ بات بہت قرین قیاس ہے کہ وہ ان حدود (احکام) سے واقف نہ ہوں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کئے ہیں (یعنی) احکام وشرائع سے، اور اللہ اپنی مخلوق سے واقف اور ان کے ساتھ اپنی صنعت کے معاملہ میں باحکمت ہے اور ان بدؤں میں بعض ایسے ہیں کہ جو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں اس کو جرمانہ اور نقصان سمجھتے ہیں اس لئے کہ وہ اس کے ثواب کی امید نہیں رکھتے بلکہ ڈر کی وجہ سے خرچ کرتے ہیں اور وہ بنو اسد اور غطفان ہیں، اور وہ تمہارے لئے برے وقت کے منتظر رہتے ہیں یعنی گردش ایام کا زمانہ تمہارے اوپر (مصائب کے ساتھ) پلٹ پڑے تو وہ (خرچ کرنے سے) چھٹکارا پاجائیں، برا وقت ان ہی پر پڑنے والا ہے (السَّوء) ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ہے یعنی عذاب اور ہلاکت ان پر پڑے گی نہ کہ تمہارے اوپر اور اللہ اپنے بندوں کی باتوں کو سننے والا اور ان کے اعمال کو جاننے والا ہے اور بعض بادیہ نشین ایسے بھی ہیں جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں جیسا کہ جہینہ اور مزینہ اور جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اس کو عند اللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعاء کا وسیلہ بناتے ہیں، یاد رکھو ان کا یہ خرچ کرنا ان کے لئے اللہ کے نزدیک بیشک موجب رحمت ہے ان کو اللہ ضرور اپنی جنت میں داخل کرے گا، اللہ تعالیٰ اہل طاعت کو بڑا معاف کرنے والا (اور) ان پر رحم کرنے والا ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد : قولہ : یعتَذِرُوْنَ اِلیکم اذا رجعتم الیھم یہ جملہ مستانفہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس جملہ میں منافقین کے آئندہ حالات کے بارے میں پیشین گوئی فرمائی ہے کہ جب منافقوں سے تمہاری ملاقات ہوگی تو وہ اعذار باردہ بیان کریں گے، یہاں قل کے مخاطب اگر رسول اللہ ﷺ ہی ہیں جیسا کہ ظاہر یہی ہے تو کُمْ ضمیر جمع احتراماً وتعظیماً لائی گئی اور اگر ضمیر کُمْ سے اصحاب رسول مراد ہوں تو خطاب میں آپ کی تخصیص سربراہ ہونے کی حیثیت سے ہوگی۔ قولہ : نصدقکم، سے اشارہ کردیا کہ لکم میں لام زائدہ ہے۔ قولہ : ورسولہ اس کا عطف لفظ اللہ پر ہے اور درمیان میں رئویت کے مفعول کو یہ ظاہر کرنے کے لئے لائے کہ اجروثواب زجروعقاب کا تعلق رئویت حق تعالیٰ سے ہے۔ قولہ : اَلاعْرَاب، یہ اسم جمع بصورت جمع ہے یہ عرب کی جمع نہیں ہے اس لئے کہ عرب عربی بولنے والے کو کہتے ہیں خواہ دیہاتی ہو یا شہری، اور اعراب، أعرابی کی جمع ہے دیہاتی کو کہتے ہیں۔ قولہ : جفائ، قساوت قلبی، ظلم وستم۔ قولہ : الدوائر، دائرة کی جمع ہے بمعنی بلا، مصیبت، دوائر الزمان، حوادث زمانہ، مصائب۔ تفسیر وتشریح ربط آیات : اوپر کی آیات میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو درحقیقت معذور تھے یا مفلس اور نادار ہونے کی وجہ سے شریک غزوہ نہیں ہو سکے تھے، ان لوگوں کو معذور قرار دے کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ قابل سرزنش نہیں ہیں، ان آیتوں میں فرمایا کہ اصل سرزنش کے لائق وہ لوگ ہیں جو باوجود دولتمند اور تندرست و توانا ہونے کے اللہ کے رسول کو چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ متخلفین کی تین قسمیں : آئندہ آیات میں متخلفین کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں، ایک ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ سے جھوٹے عذر کئے، ان کے بارے میں فرمایا کہ اللہ ان سے راضی نہیں اور اللہ نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے، دوسرے وہ کہ جنہوں نے اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہوئے خود کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ لیا تھا، جن کی توبہ جلدی ہی قبول ہوگئی تیسرے وہ لوگ تھے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے مدینہ واپس تشریف لانے کے بعد آپ ﷺ کے رو برو اپنے قصور کا سچا اقرار کیا اور کوئی جھوٹا عذر نہیں تراشا، ان کی توبہ پونے دو ماہ بعد قبول ہوئی، ان آیات میں پہلی قسم کے لوگوں کا ذکر ہے باقی دونوں قسموں کا ذکر آئندہ آئے گا۔ آگے یہ بیان فرمایا کہ اے ہمارے رسول ! جب تم غزوہ سے فارغ ہو کر مدینہ جائو گے تو یہ تمہارے سامنے مختلف قسم کے جھوٹے عذر بیان کریں گے تو آپ ان لوگوں کو یہ جواب دینا کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی ہم کو تمہارے حالات کی خبر دے دی ہے اس لئے اب ہم تمہارے عذروں کی تصدیق نہیں کرسکتے، البتہ تمہاری آئندہ کی حالت پر اللہ اور اس کے رسول کی نظر رہے گی کہ آئندہ تم اسلام کے ساتھ کیسا معاملہ کرتے ہو ؟ جیسا معاملہ تم اسلام کے ساتھ کرو گے قیامت میں اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرمائیں گے۔ آگے فرمایا تمہاری واپسی کے وقت قسمیں کھا کھا کر عذر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تم ان کو سرزنش نہ کرو، ان لوگوں کے قلوب بداعتقادی اور نفاق کے سبب ایسے نجس ہوچکے ہیں کہ اب کوئی نصیحت ان کو پاک نہیں کرسکتی، لہٰذا تم ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور اگر بالفرض وہ تم کو اپنی جھوٹی قسموں کے ذریعہ راضی کر بھی لیں تو اللہ ان سے راضی ہونے والا نہیں ہے اس لئے کہ اللہ کو ان کے حالات کا علم ہے اور اللہ کے علم ازلی میں دوزخی قرار دئیے جا چکے ہیں، لہٰذا تمہاری رضا مندی ان کے کچھ کام آنے والی نہیں ہے۔ اَالاعرابُ اَشد کفرًا ونفاقاً ، تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان جیسا کہ سابق میں بیان کیا جا چکا ہے کہ یہاں اعراب سے مراد دیہاتی وصحرائی عرب ہیں، جو مدینہ کے اطراف میں رہتے تھے، یہ لوگ مدینہ میں ایک مضبوط اور منظم طاقت کو اٹھتے دیکھ کر اول تو مرعوب ہوئے، پھر اسلام اور کفر کی آمیزش کے ذریعہ ایک مدت تک موقع شناسی اور ابن الوقتی کی روش پر چلتے رہے پھر جب اسلامی حکومت کا اقتدار حجاز ونجد کے ایک بڑے حصے پر قائم ہوگیا، اور مخالفوں کا زور اس کے مقابلہ میں ٹوٹنے لگا تو ان لوگوں نے مصلحت وقت اسی میں دیکھی کہ دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں، بہت کم لوگ ایسے تھے جو اسلام کو دین حق سمجھ کر اسلام میں داخل ہوئے ہوں اور مخلصانہ طور پر اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنے پر آمادہ ہوں، ان کے ایمان اور اسلام کی حیثیت محض ایک مصلحت اور پالیسی کی تھی، ان کی خواہش یہ تھی کہ ان کے حصہ میں وہ فوائد آجائیں جو برسر اقتدار جماعت کی رکنیت اختیار کرنے سے حاصل ہوا کرتے ہیں انہیں جو کچھ دلچسپی تھی وہ اپنے معاشی مفاد، اپنی آسائش، اپنی زمینوں، اپنی اونٹ بکریوں اور اپنے خیموں کی آس پاس کی محدود دنیا سے تھی۔ ان کی اسی حالت کو یہاں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ شہریوں کی بہ نسبت یہ دیہاتی اور صحرائی لوگ زیادہ شدید منافقانہ رویہ رکھتے ہیں، پھر اس کی وجہ بھی بتادی کہ شہری لوگ تو اہل علم اور اہل حق کی صحبت سے مستفید ہو کر کچھ دین کو اور اس کے حدود و احکام کو جان بھی لیتے ہیں مگر یہ بدو چونکہ اپنی ساری زندگی معاشی فکر میں ایک حیوان کی طرح زندگی کی ضروریات سے بلند تر کسی چیز کی طرف توجہ نہیں کرسکتے، اس لئے دینی حدود و احکام سے ناواقف رہتے ہیں۔ ان آیات کے نزول کے تقریباً دو سال بعد حضرت ابوبکر کی خلافت کے ابتدائی دور میں ارتد اد اور منع زکوٰة کا جو طوفان برپا ہوا تھا اس کے اسباب کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا جس کا ذکر سابق میں ہوا۔ وَمِنَ الاعراب مَنْ یتخذ ما ینفق مغرماً اس آیت میں بدئوں اور صحراء نشینوں کی دوسری قسم کا بیان ہے یہ ایسے لوگ ہیں کہ راہ خدا میں خرچ تو کرتے ہیں مگر ناخوشی اور تنگدلی سے کرتے ہیں ان کو ہمہ وقت یہ خیال لگا رہتا ہے کہ زمانہ ہمیشہ ایک حالت پر نہیں رہتا ممکن ہے کہ گردش زمانہ سے مشرکین غالب آجائیں یا کوئی حادثہ پیش آجائے اور برے دن دیکھنے پڑیں اس لئے احتیاط ضروری ہے، دراصل اس آیت میں بنو اسد اور غطفان کی طرف اشارہ ہے کیونکہ یہ لوگ خرچ تو کرتے تھے مگر ان کے دلوں میں وہ خدشہ لگا رہتا تھا جس کا ذکر اوپر ہوا، یعنی ان سے جو زکوٰة وغیرہ وصول کی جاتی ہے اسے تاوان اور جرمانہ سمجھتے ہیں۔ وَمِنَ الاْعراب من یؤمن باللہ والیوم الآخر الخ یہ صحرائی اور بادیہ نشینوں کی تیسری قسم کا ذکر ہے جو اللہ پر اور روز قیامت پر سچے دل سے ایمان لا چکے ہیں اور خدا کی راہ میں اس امید پر خرچ کر رہے ہیں کہ خدا کا قرب اور آپ کی دعاء حاصل ہو کیونکہ آپ ﷺ راہ خدا میں خرچ کرنے والوں کے لئے دعاء فرمایا کرتے تھے۔ عبد الرحمن بن مغفل فرماتے ہیں کہ ہم مقرن کے دس بیٹے تھے، یہ آیت ہماری شان میں نازل ہوئی ہے، مجاہد (رح) تعالیٰ نے بھی آیت کا یہی شان نزول بیان کیا ہے، عبد الرحمن بن مغفل ثقہ تابعی ہیں بعضے علماء نے ان کو صحابہ میں شمار کیا ہے مگر یہ درست نہیں ہے کلبی کا قول ہے کہ اسلم، غفار، جہینہ، مزینہ کے لوگ اسی امید پر خرچ کرتے تھے کہ ان کو خدا کا تقرب حاصل ہو اور آپ ﷺ ان کے لئے دعا خیر فرمائیں، مقرن قبیلہ مزینہ سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا کلبی اور مجاہد کے قول میں کوئی تعارض نہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی نیک کمائی میں سے معمولی چیز بھی راہ خدا میں صدقہ و خیرات کرے تو اللہ اس کو اپنے دست راست میں لیتا ہے اور اس کے اجر کو احد پہاڑ کے برابر کردیتا ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہی ہاتھ سیدھے ہیں لیکن نیک کمائی کے صدقہ و خیرات کی شان بڑھانے کے لئے سیدھے، ہاتھ کا لفظ حدیث میں فرمایا۔