9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 9:100–110

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور تمہارے گرد ونواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں۔ اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں۔ انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

ان کے مال میں سے زکوٰۃ قبول کرلو کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں بھی) پاک اور (باطن میں بھی) پاکیزہ کرتے ہو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے۔ اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ خدا ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا اور صدقات (وخیرات) لیتا ہے ؟ اور بیشک خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور (ان سے) کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔ اور تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو (سب) تم کو بتائے گا۔

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا کام خدا کے حکم پر موقوف ہے۔ چاہے انکو عذاب دے اور چاہے معاف کر دے۔ اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور (ان میں ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں۔ اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لئے گھات کی جگہ بنائیں اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھُوٹے ہیں۔

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

تم اس (مسجد) میں کبھی (جا کر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے۔

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری ؟ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ انکے دل پاش پاش ہوجائیں اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

آیت نمبر 100 تا 110 ترجمہ : وہ مہاجر وانصار جنہوں نے (دعوت ایمان کی طرف) سب سے پہلے (لبیک) کہنے میں سبقت کی اور وہ، وہ لوگ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا جمیع صحابہ مراد ہیں نیز وہ لوگ جو عمل میں راستبازی کے ساتھ تا قیامت ان کے نقش قدم پر چلیں گے، اللہ ان کی طاعت سے راضی ہوا اور وہ اللہ کے اجر سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی، اور ایک قراءت میں مِنْ کی زیادتی کے ساتھ ہے، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی عظیم الشان کامیابی ہے، اے اہل مدینہ تمہارے گردوپیش جو بدّو رہتے ہیں ان میں (بہت سے) منافق ہیں جیسا کہ اسلم اور اشجع، اور غفار، اور مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں، جو نفاق میں مشاق اور طاق ہیں تم انہیں نہیں جانتے یہ نبی ﷺ کو خطاب ہے ہم ان کو جانتے ہیں ہم عنقریب ان کو رسوائی یا قتل کا دنیا میں اور عذاب قبر کا دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑی سزا کے لئے آخرت میں لائے جائیں گے وہ آگ ہے، اور کچھ لوگ دوسرے بھی ہیں جنہوں نے پیچھے رہ جانے کے قصور کا اعتراف کرلیا ہے (آخرون) مبتداء ہے (اعترفوا بذنوبھم) صفت ہے (خلطوا عَمَلا صالحًا) خبر ہے، ان کا عمل مخلوط ہے کچھ نیک ہے اور وہ (عمل نیک) اس سے پہلے ان کا جہاد میں شریک ہونا ہے اور اپنے قصور کا اعتراف وغیرہ ہے اور کچھ بد اور وہ انکا (جہاد سے) پیچھے رہ جانا ہے، اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا اور بڑی رحمت والا ہے، (یہ آیت) ابو لبابہ اور ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے خود کو مسجد (نبوی) کے ستونوں سے باندھ لیا تھا جب ان کو اس کی اطلاع ہوئی کہ یہ آیت پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی، اور انہوں نے قسم کھالی کہ ان کو سوائے نبی ﷺ کے کوئی اور نہ کھولے، چناچہ جب آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے ان کو کھولا، اور جب (خُذْ مِن اموالھم الآیة) نازل ہوئی، کہ آپ ان کے مالوں سے صدقہ لے لیجئے آپ اس کے ذریعہ ان کو ان کے گناہوں سے پاک صاف کردیں گے چناچہ آپ ﷺ نے ان کے اموال میں سے ایک تہائی لے لیا اور اس کو صدقہ کردیا، اور آپ ان کے لئے دعا کیجئے، یقینا آپ کی دعاء ان کے لئے (باعث) تسکین ہے (یعنی) باعث رحمت ہے، اور ان کی توبہ کی قبولیت کے لئے اطمینان ہے اللہ خوب سننے والا ہے خوب جاننے والا ہے کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات کو قبول کرتا ہے ؟ اور بلاشبہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کر کے ان پر بڑا رحم کرنے والا ہے، اور استفہام تقریر کے لئے اور اس سے مقصد ان کو توبہ اور صدقات پر آمادہ کرنا ہے اے نبی ! تم ان (منافقوں) سے یا عام لوگوں سے کہو کہ تم جو چاہو عمل کرو اللہ اور اس کا رسول اور مومنین سب دیکھیں گے کہ طرز عمل اب تمہارا کیا رہتا ہے ؟ اور بعث کے ذریعہ تم عالم الغیب والشہادہ یعنی اللہ کی طرف لوٹائے جائو گے تو وہ تم کو بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، اور وہ تمہارے عمل کی جزاء دے گا، اور متخلفین میں سے کچھ لوگ اور بھی ہیں جن کا معاملہ خدا کا حکم آنے تک ملتوی ہے ان کے بارے میں وہ جو چاہے حکم دے (مُرْجئون) ہمزہ اور ترک ہمزہ دونوں طرح ہے یعنی ان کی توبہ مؤخر کردی گئی ہے یا تو بغیر توبہ کے موت دے کر ان کو عذاب دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے بارے میں خوب جاننے والا ہے اور ان کے ساتھ معاملہ کرنے کے بارے میں باحکمت ہے اور وہ تین ہیں جن کا ذکر آئندہ آتا ہے مرارہ بن ربیع اور کعب بن مالک، اور ہلال بن امیہ (یہ تینوں حضرات) سستی اور راحت پسندی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے نہ کہ نفاق کی وجہ سے، اور نہ دوسروں کے مانند انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے (جھوٹے) عذر پیش کئے جس کی وجہ سے ان کا معاملہ پچاس راتوں تک معلق رہا، اور لوگوں نے بھی ان سے قطع تعلق کرلیا (بائیکاٹ کردیا) یہاں تک کہ بعد میں ان کی توبہ کی (قبولیت) نازل ہوئی اور ان میں کچھ لوگ اور ہیں وہ بارہ منافقین ہیں جنہوں نے اہل مسجد قباء کو نقصان پہنچانے اور کفر کرنے کے لئے ایک مسجد بنائی، اس لئے کہ منافقوں نے وہ مسجد ابو عامر راہب کے کہنے سے بنائی تھی تاکہ اس کے لئے جائے پناہ ہو اور اس کی طرف آنے والا اس میں قیام کرے اور وہ نبی ﷺ سے لڑنے کے لئے قیصر روم کا لشکر لانے کے لئے چلا گیا تھا، اور مومنوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لئے کہ جو ان میں سے مسجد قباء میں نماز پڑھتے ہیں اپنی کچھ نمازیں ان کی مسجد (ضرار) میں پڑھیں (اس طرح مومنین کی جمیعت منتشر ہوجائے) اور اس شخص کے قیام کا سامان کریں جو اس مسجد کے بنانے سے پہلے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ برسر پیکار رہا ہے اور یہ شخص وہی ابو عامر مذکور ہے اور وہ ضرور قسم کھا کر کہیں گے کہ ہمارا مقصد تو صرف بھلائی ہے کہ وہ مسکین کے ساتھ بارش اور گرمی میں سہولت کرنا ہے اور مسلمانوں پر وسعت کرنا ہے، مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں قطعی جھوٹے ہیں اور ان لوگوں نے نبی ﷺ سے درخواست کی تھی کہ آپ اس مسجد میں نماز پڑھ دیں، تو یہ آیت نازل ہوئی، آپ اس میں ہرگز نماز نہ پڑھیں، چناچہ آپ نے کچھ لوگوں کو بھیجا جنہوں نے اس کو منہدم کردیا اور نذر آتش کردیا اور اس جگہ کو کوڑی بنادی تاکہ اس میں مردار ڈالے جائیں جو مسجد اول روز سے تقوے پر بنائی گئی ہے اس روز اس کی بنیاد رکھی گئی جس روز آپ ﷺ دار ہجرت میں نزول فرما ہوئے، وہ مسجد قباء ہے جیسا کہ بخاری شریف میں ہے وہ اس کے لئے زیادہ مناسب ہے کہ آپ اس میں نماز پڑھیں، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں یعنی ان کو اجر عطا کرے گا، اور اس میں تاء کا طاء میں ادغام ہے اصل میں، ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں عویمر بن ساعدہ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ (انصار) کے پاس مسجد قباء میں تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مسجد کے قصہ میں تم لوگوں کی طہارت کی تعریف فرمائی ہے تو بتائو وہ طہارت کیا ہے جس کو تم اختیار کرتے ہو ؟ تو انہوں نے عرض کیا واللہ یا رسول اللہ ہم اس کے سوا کچھ نہیں جانتے (نہیں کرتے) کہ ہمارے پڑوسی کچھ یہود تھے کہ وہ پانی سے استنجا کیا کرتے تھے تو ہم بھی ان کی طرح کرنے لگے اور ایک حدیث میں جس کو بزار نے روایت کیا ہے (انصار) نے کہا کہ ہم پتھر وغیرہ سے استنجا کرنے کے بعد پانی سے استنجا کرتے ہیں، آپ نے فرمایا وہ بات یہی ہے، تم اس کو لازم پکڑے رہو، پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے کہ جس نے اپنی بنیاد خوف خدا اور اس کی رضا مندی کی امید پر رکھی یا وہ کہ جس نے اپنی بنیادندی کے ایسے کھوکھلے کنارہ پر رکھی جو گرنے ہی والا ہے (جُرُف) راء کے ضمہ اور سکون کے ساتھ ہے بمعنی کنارہ، تو وہ کنارہ اپنے بانی کو لے کر نار جہنم میں گرپڑا یہ تقوے پر بناء کی تمثیل ہے اپنے انجام کے اعتبار سے اور استفہام تقریر کے لئے ہے یعنی پہلے شخص بہتر ہے، اور وہ مسجد قباء کی مثال ہے اور دوسری مثال مسجد ِضرار کی ہے اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ہمیشہ ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ان کے دلوں میں کھنکتی رہے گی (شبہ پیدا کرتی رہے گی) سوائے اس کے کہ ان کے قلوب ہی پارہ پارہ ہوجائیں بایں طور کہ وہ مرجائیں، اللہ اپنی مخلوق کے حالات سے بخوبی واقف اور ان کے معاملات میں حکمت والا ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : والسَّابِقونَ الْاوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ (الآیة) اس جملہ کی ترکیب جو راجح اور ظاہر ہے وہ یہ ہے، السَّابقون موصوف الاولون صفت دونوں مل کر مبتداء من المھاجرین والانصار حال، والذین معطوف السَّابقون پر، اتبعوھم، الذین کا صلہ اور باحسان محذوف سے متعلق ہو کر حال، رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ، جملہ ہو کر اَلسَّابقونَ مبتداء کی خبر۔ اس کے علاوہ بعض حضرات نے دو ترکیبیں اور کی ہیں مگر صاحب اعراب القرآن نے ان کو ضعیف بلکہ غلط کہا ہے۔ پہلی : السابقون مبتداء اور اَلْآوّلونَ اس کی خبر۔ دوسری : السابقون مبتداء اور من المھاجرین والانصار اس کی خبر۔ قولہ : مَنْ شَھدَ بَدْرًا اَوْ جمیع الصحابة، اس عبارت میں سابقین اولین میں دو قولوں کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : وفی قرائہ بزیادة مِنْ ای تجری مِنْ تحتھا الانھٰرُ ۔ قولہ : مَرَدوا ماضی جمع مذکر غائب ای تمرّنوا عَلَیہ، وہ مشتاق ہوگئے، ہر خیر سے خالی ہوگئے، اسی سے الشیطان المارد ہے، یعنی برائی پر ڈٹ گیا قولہ : قوم لفظ قوم مقدر مان کر اس سوال کا جواب دیا ہے کہ مبتداء کے لئے ذات ہونا ضروری ہے حالانکہ آخَرُوْنَ ذات نہیں بلکہ وصف ہے قوم محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ الآخرون صفت ہے اور اس کا موصوف جو کہ مبتداء ہے قوم محذوف ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔ قولہ : نعتہ یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ قوم آخرون نکرہ ہے اور نکرہ کا مبتداء واقع ہونا درست نہیں ہے اس کا جواب دیا کہ اعترفوا بذنوبھمْ ، قوم کی صفت ہے جس کی وجہ سے قوم نکرہ نہیں رہا لہٰذا مبتداء واقع ہونا درست ہے۔ قولہ : سواری یہ سَارِیة کی جمع ہے ستون کو کہتے ہیں۔ قولہ : صدقة تطھرھم، تُطَھِّرُھم، صَدَقَة کی صفت ہے تُطَھّر کی ضمر صدقہ کی طرف راجع ہے تطَھّر مضارع واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے اور اگر تطھر حاضر کا صیغہ ہو اور مخاطب آپ ﷺ ہوں تو بھا کا تعلق تَطَھِّرْ اور تُزَکِّیْھِمْ دونوں سے ہوگا، ای تُطَھِّرھم بھا وتذکیھم بھا۔ قولہ : مرجئونَ اس میں دوسری قراءت بغیر ہمزہ کے ہے، ای مُرْجَوْنَ ای مؤخرون وموقوفون، مُرْجَوْن اِرْجاء سے اسم مفعول جمع مذکر غائب، وہ لوگ جن کا معاملہ ٹال دیا گیا ہو، یا معلق کردیا گیا ہو۔ قولہ : ابی عامر یہ حضرت حنظلہ ؓ غسیل ملائکہ کے والد ہیں انہوں نے عیسائی مذہب اختیار کرلیا تھا، جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اس نے آپ ﷺ کے ساتھ مناظرہ کیا تھا۔ قولہ : مَعْقلاً ، ٹھکانہ، جائے پناہ۔ قولہ : الفِعلة اس میں اشارہ ہے کہ الحسنیٰ صفت ہے اور اس کا موصوف الفعلة یا الخصلة وغیرہ محذوف ہے۔ قولہ : بالمسکین، بعض نسخوں میں بالمسکین کے بجائے بالمسلمین ہے جو کہ زیادہ مناسب ہے۔ قولہ : شفا، طرف، کنارہ۔ قولہ : جُرُفٍ ، کنویں کا کچا کنارہ، ندی وغیرہ کا کنارہ جس کو پانی نے خالی کردیا ہو۔ قولہ : ھارٍ ، اسم فاعل۔ گرنے کے قریب، مادہ ھُوْر، ھارٍ کی اصل ھَاوِر یا ھَائر تھی ھاور کے واو کو یا ھائر کے ہمزہ کو قلب مکانی کر کے راء کے بعد کردیا ھاور یا ھائِر ہوگیا پھر وائو اور ہمزہ کو یاء سے بدل کر ھَاوِیْر کردیا حالت جر کی وجہ سے یاء ساقط ہوگئی، بعض حضرات نے کہا ہے کہ ھَاوِر کے وائو اور ھائر کے ہمزہ کو بغیر قلب مکانی کے تخفیفاً حذف کردیا۔ قولہ : مع بانیہ اس میں اشارہ ہے کہ بہ میں باء بمعنی مع ہے نہ کہ سببیہ۔ قولہ : خیر، یہ مَنْ کی خبر ہے۔ قولہ : تمثیل للبناء بما یؤل الیہ، الیہ کا مرجع سقوط ہے، یہ اس بناء کی تمثیل ہے جو تقوے کی ضد پر بنائی گئی ہو، یعنی مشبہ بہ وہ عمارت ہے جو ایسی جگہ بنائی گی ہو کہ جو گرنے اور دھسنے کے قریب ہو اور مشبہ دینی احکام و اعمال کو کفر ونفاق پر مرتب کرنا ہے۔ قولہ : ریبة ای سبب ریْبةٍ ۔ تفسیر وتشریح وَالسَّابقُوْنَ الْاَوَّلوْنَ (الاْیة) سابق میں بدوی عربوں کا ذکر تھا یہاں شہری عربوں کا ذکر ہے اس میں اختلاف ہے کہ سابقین سے کوئی لوگ مراد ہیں، عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے جہاں مجاہد کا قول نہ ہو تو سعید بن مسیّب کے قول کے مطابق رفع اختلاف کیا جاتا ہے، سعید بن مسیّب کے قول کے مطابق سابقین میں مہاجرین وانصار میں سے وہ صحابہ ہیں جو بیت المقدس اور بیت اللہ دونوں قبلوں کی طرف آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک تھے۔ عطاء بن ابی رباح کے قول کے مطابق وہ صحابہ سابقین الاولین میں داخل ہیں جو غزوہ بدر سے پہلے ایمان لائے اور غزوہ بدر میں شریک ہوئے، دونوں قبلوں کی طرف نماز اور غزوہ بدر چونکہ ایک ہی سال 2 ھ کے واقعے ہیں اس لئے سعید بن مسیّب اور عطاء بن ابی رباح کے قول میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا، لیکن سعید بن مسیّب عطاء بن ابی رباح سے زیادہ ثقہ ہیں اس لئے اس تفسیر میں ان ہی کا قول راجح ہوگا، مطلب یہ ہے کہ اس قول کی بناء پر وَالَّذینَ اتبعوھم باحسان سے دونوں صورتوں میں باقی صحابہ مراد ہوں گے، خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگرچہ صحابہ کے آپس میں درجات مختلف ہیں مگر اللہ تعالیٰ تمام صحابہ سے اور تمام صحابہ اللہ سے راضی اور خوش ہیں، اور ان کے لئے جنت کا وعدہ ہے اور خدا کا وعدہ سچ ہے لہٰذا یہ لوگ قطعی جنتی ہیں، جس کے دل میں ان کی طرف سے بغض ہو یا ان میں سے کسی کو برا سمجھے اس کا ایمان باقی نہیں رہا، اس تفسیر کے مطابق اس آیت میں صرف صحابہ کا ذکر ہے، صحیح بخاری میں ابو سعید خدری کی روایت ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا '' میرے صحابہ کے حق میں کوئی شخص کسی طرح کی کوئی بری بات منہ سے نہ نکالے میرے صحابہ کا بڑا درجہ ہے ان کا تھوڑا عمل دوسروں کے زیادہ عمل سے بہتر ہے ''۔ صحابہ مقتدایانِ امت ہیں : محققین اہل سنت نے یہیں سے یہ نکتہ اخذ کیا ہے کہ اصحاب نبی مقتد ایان امت ہیں، مشاجرات صحابہ کی جو روایتیں ہم تک پہنچی ہیں ان کی وجہ سے ہمارے لئے یہ روا نہیں کہ ہم ایک کی اتباع کے زور میں دوسرے کی عیب جوئی اور نکتہ چینی کرنے لگیں، امیر المومنین حضرت علی تو اجل صحابہ اور خلفاء راشدین میں سے ہیں امیر معاویہ جو کہ یہ فضیلت نہیں رکھتے ہیں وہ بھی بہرحال صحابی ہیں ان کے حق میں بھی زبان طعن کھولنا درست نہیں۔ وممن حولکم من الاعراب (الآیة) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت رسول خدا ﷺ نے جمعہ کا خطبہ پڑھتے پڑھتے چار پانچ آدمیوں سے فرمایا کہ تم منافق ہو نکل جائو، حضرت عمر ؓ مسجد کی طرف آرہے تھے ان لوگوں کو مسجد سے آتے دیکھ کر سمجھے کہ شاید نماز ہوچکی اور چھپ گئے ان لوگوں نے بھی حضرت عمر ؓ کو دیکھ لیا وہ بھی چھپ گئے تاکہ ان کا حال حضرت عمر ؓ پر ظاہر نہ ہو، جب حضرت عمر مسجد میں پہنچے تو دیکھا کہ ابھی نماز نہیں ہوئی، ایک شخص بولا کہ آج تو منافق بڑے ذلیل ہوئے خدا نے ان کو مسجد سے نکلوا دیا، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک عذاب تو یہی ہے کہ مسلمانوں کی مسجد سے یہ لوگ نکالے گئے اور بھری محفل میں رسوائی ہوئی اور دوسرا عذاب قبر کا اور پھر آخرت کا۔ مدینہ کے اطراف ومضافات میں قبیلہ جہینہ، مزینہ، اسلم، اشجع، اور غفار رہتے تھے ان میں بھی کچھ لوگ منافق تھے اور مدینہ میں عبد اللہ بن ابی اور اس کی جماعت کے لوگ منافق تھے، کچھ لوگوں کے نفاق کا علم تو آپ ﷺ کو بذریعہ وحی ہوگیا تھا اور کچھ کا نفاق کی علامات کے ذریعہ آپ کو علم ہوگیا تھا، مگر بعض اپنے نفاق کو چھپانے میں بڑے مشتاق تھے کہ نبی ﷺ کو بھی کمال درجہ فراست اور دانشمندی کے باوجود ان کے نفاق کا علم نہ ہوسکا، اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا '' لا تعلمھم نحن نعلمھم ''۔ اس آیت میں آپ ﷺ کے علم غیب کلی کی بصراحت نفی ہے : اس آیت میں آپ ﷺ کے علم غیب کلی کی صریح نفی موجود ہے جس کا دعویٰ ہمارے زمانہ میں بعض عالم نما جاہلوں نے کیا ہے۔ وَآخرونَ اعْترفوا بذنوبھم، تفسیر ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور ابو الشیخ میں جو شان نزول ان آیتوں کا بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس گروہ صحابہ نے اپنے قصور کا اعتراف کر کے آپ ﷺ کے تبوک سے مدینہ آنے سے پہلے خود کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا تھا اور قسم کھائی تھی کہ جب تک ان کی توبہ قبول نہ ہوگی وہ نہ کھلیں گے، جب ان کی توبہ قبول ہوگئی تو انہوں نے اپنا تمام مال آپ ﷺ کی خدمت میں یہ کہتے ہوئے پیش کردیا کہ یا رسول اللہ جس مال کی محبت نے ہم کو غزوہ کی شرکت سے باز رکھا آپ اس کو قبول فرمائیں یہ راہ خدا میں صدقہ ہے آپ نے پورا مال قبول کرنے سے انکار کردیا البتہ ایک تہائی مال قبول فرما صدقہ کردیا، پونے دو ماہ بعد ان حضرات کی توبہ قبول ہوئی۔ محدثین نے ان آیات کے شان نزول میں جو واقعہ بیان کیا ہے اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ غیر منافق سے غیر مخلصانہ عمل کے صدور کے باوجود کس کو محض گنہگار مومن سمجھا جائے ؟ تو اس کے لئے قرآن کی سابقہ آیات میں تین معیار بتائے گئے ہیں۔ (1) اپنے قصور کے لئے اعذارلنگ اور تاویلات وتوجیہات پیش نہیں کرے گا، بلکہ جو قصور سرزد ہوا ہے اسے صاف صاف اور سیدھی طرح مان لے گا۔ (2) اس کے سابق طرز عمل کو نگاہ ڈال کر دیکھ جائے گا کہ یہ عدم اخلاص کا عادی مجرم تو نہیں ہے اگر پہلے وہ جماعت کا ایک صالح فرد رہا ہے اور اس کے کارنامہ زندگی میں مخلصانہ خدمات، ایثار و قربانی اور سبقت الی الخیرات کا ریکارڈ موجود ہے تو باور کرلیا جائے گا کہ اس وقت جو قصور اس سے سرزد ہوا ہے وہ عدم ایمان واخلاص کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ محض ایک کمزوری ہے جو وقتی طور پر رونما ہوگئی ہے۔ (3) اس کے آئندہ طرز عمل پر نظر رکھی جائے گی کہ آیا اس کا اعتراف قصور محض زبانی ہے یا فی الواقع اس کے اندر کوئی گہرا احساس ندامت موجود ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے قصور کی تلافی کے لئے بےتاب ہے۔ محدثین کا بیان کردہ شان نزول : محدثین نے ان آیات کے شان نزول کا جو واقعہ بیان کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیات ابو البابہ بن عبد المنذر اور ان کے چھ ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھیں ابو لبابہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیعت عقبہ کے موقع پر ہجرت سے پہلے اسلام لائے تھے پھر جنگ بدر اور جنگ احد اور دوسرے معرکوں میں برابر شریک رہے مگر غزوہ تبوک میں کسی عذر شرعی کے بغیر شریک نہ ہوئے، ایسے ہی مخلص ان کے ساتھ تھے، جب آپ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے، اور ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ غزوہ میں شریک نہ ہونے والوں کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول کی کیا رائے ہے، تو انہیں سخت ندامت ہوئی، قبل اس کے کہ ان سے کوئی باز پرس ہوتی انہوں نے خود ہی اپنے آپ کو ستون سے باندھ لیا اور اس وقت تک کھولے جانے پر راضی نہ ہوئے جب تک کہ ان کی توبہ قبول نہ ہوجائے چناچہ ایسا ہی ہوا اور ان کو آپ ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے ایک روز صبح کی نماز کے بعد کھول دیا اور ان کو توبہ کی قبولیت کی خوشخبری سنائی، ان حضرات نے اس کی خوشی اور صدقہ میں اپنا تمام مال آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا مگر آپ نے ثلث مال ہی قبول فرمایا۔ ملے جلے اعمال نیک وبد کیا تھے ؟ خَلطُوْا عَمَلاً صالحًا وآخر سیّئًا، اس آیت میں فرمایا کہ ان لوگوں کے کچھ اعمال نیک اور کچھ بد تھے، انکے نیک اعمال تو ان کا ایمان، روزہ نماز کی پابندی اور تبوک سے پہلے جہاد وغزوات میں شرکت اور اس واقعہ تبوک میں اپنے جرم کا اعتراف اور اس پر ندامت اور توبہ کرنا وغیرہ ہیں، اور برے اعمال عذر شرعی کے بغیر غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونا اور منافقوں کے ساتھ عملی موافقت تھی۔ جن مسلمانوں کے اعمال ملے جلے، اچھے برے ہوں وہ بھی اس حکم میں داخل ہیں : اگرچہ یہ آیت ایک مخصوص جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے مگر حکم اس کا قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے عام ہے بشرطیکہ وہ اپنے گناہوں سے تائب ہوجائیں۔ یعنی ان کے لئے بھی معافی اور مغفرت کی امید ہے۔ ابو عثمان (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن کریم کی یہ آیت اس امت کے لئے بڑی امید دلانے والی ہے، اور صحیح بخاری میں بروایت سمرہ بن جندب ؓ معراج نبوی کی ایک تفصیلی حدیث میں ہے کہ ساتویں آسمان پر جب آپ ﷺ کی ملاقات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ہوئی تو آپ نے ان کے پاس کچھ لوگ دیکھے جن کے چہرے روشن تھے اور کچھ ایسے کہ ان کے چہروں پر کچھ داغ تھے، یہ دوسرے قسم کے لوگ ایک نہر میں داخل ہوئے اور جب غسل کر کے واپس آئے تو ان کے چہرے بھی صاف تھے، جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ ﷺ کو بتایا کہ یہ سفید چہرے والے وہ لوگ ہیں کہ جو ایمان لائے اور گناہ سے اجتناب کیا '' الّذین آمنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلمٍ '' اور دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملے جلے اچھے برے عمل کئے اور پھر توبہ کرلی، اور اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ (معارف) وَالَّذین اتخذوا مَسْجدًا ضرارًا (الآیة) اس آیت میں منافقین کی ایک اور نہایت قبیح حرکت کا بیان ہے کہ انہوں نے ایک مسجد بنائی تھی، مدینہ میں دو مسجدیں تو پہلے سے تھیں ایک مسجد قباء اور دوسری مسجد نبوی منافقوں نے ایک تیسری مسجد بنائی جس کو قرآن میں '' مسجد ضرار '' کہا گیا ہے اور نبی ﷺ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ بارش اور گرمی وسردی اور اس قسم کے موقعوں پر بیماروں اور کمزوروں کو زیادہ دور ہونے کی وجہ سے مسجد نبوی آنے میں دقت پیش آتی ہے ان کی سہولت کے لئے ہم نے یہ مسجد بنائی ہے، آپ وہاں چل کر برکت کے طور پر نماز پڑھ پڑھ دیں۔ اس مسجد کے بنانے کا واقعہ جس کی تفصیل سابق میں گذر چکی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ میں قبیلہ خزرج کا ایک شخص جا کا نام ابو عامر تھا جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی راہب بن گیا تھا اس کا شمار علماء اہل کتاب میں ہوتا تھا اور رہبانیت کی وجہ سے اس کی درویشی کا سکہ بھی مدینہ کے اطراف کے جاہلوں میں خوب چل رہا تھا، جب آپ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو اس کی مشیخت خوب چل رہی تھی یہ شخص آپ ﷺ کو اپنا حریف سمجھ کر مخالفت پر آمادہ ہوگیا، دو سال تک تو اسے یہ امید رہی کہ قریش کی طاقت ہی اسلام کو مٹانے کے لئے کافی ہوگی، لیکن جنگ بدر میں جب مشرکین مکہ نے شکست فاش کھائی تو اس سے ضبط نہ ہوسکا اور اسلام کے خلاف قریش اور دیگر قبائل میں تبلیغ شروع کردی اور تمام معرکوں میں یہ خود بھی دشمنوں کی جانب سے شریک جنگ رہا آخر کار جب اس کو اس بات سے مایوسی ہوگئی کہ عرب کی کوئی طاقت اسلام کے سیلاب کو روک سکے گی، اس نے عرب کو چھوڑ کر روم کا رخ کیا تاکہ قیصر کو اس خطرہ سے آگاہ کرے جو عرب سے اٹھ رہا تھا یہ وہی موقع تھا کہ جب مدینہ میں یہ اطلاع پہنچی کہ قیصر عرب پر چڑھائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے اس کی روک تھام کے لئے آپ ﷺ کو تبوک کی مہم پر جانا پڑا۔ ابو عامر راہب کی ان تمام سرگرمیوں میں مدینہ کے منافقین کا ایک گروہ شریک سازش تھا، جب ابو عامر راہب روم روانہ ہونے لگا تو اس کے اور مدینہ کے منافقوں کے درمیان یہ تجویز منظور ہوئی کہ مدینہ میں اپنی ایک الگ مسجد بنائی جائے تاکہ اس میں اپنی منافقانہ سرگرمیوں کو جاری رکھا جاسکے اس طرح آسانی سے ان پر کوئی شبہ بھی نہ کرے گا، اور ابو عامر کے جو ایجنٹ مدینہ آیا کریں گے وہ بھی اس مسجد میں آسانی سے ٹھہر سکیں گے، یہ تھی وہ ناپاک سازش جس کے تحت وہ مسجد تیار کی گئی تھی، جب مسجد تیار ہوگئی تو اشرار و منافقین کی ایک جماعت آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بطور برکت اس میں نماز پڑھنے کی درخواست کی مگر آپ نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ میں اس وقت جنگ کی تیاری میں مشغول ہوں آئندہ دیکھوں گا، اس کے بعد آپ تبوک کی طرف روانہ ہوگئے، واپسی پر جب آپ ﷺ مدینہ کے قریب ذی اوان کے مقام پر پہنچے تو مذکورہ آیات نازل ہوئیں، آپ نے اسی وقت چند آدمیوں کو مدینہ بھیج دیا تاکہ آپ کے شہر میں داخل ہونے سے پہلے وہ اس مسجد ضرار کو مسمار کردیں۔
Ayahs 9:111–118

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں (اور اس کے) عوض میں ان کے لئے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے جاتے بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے ؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے نیک کاموں کا امر کرنے والے اور بری باتوں سے منع کرنے والے خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے (یہی مومن لوگ ہیں) اور (اے پیغمبر ﷺ مومنوں کو (بہشت کی) خوشخبری سنا دو ۔

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لئے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں۔

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کے سبب تھا جو وہ اس سے کرچکے تھے۔ لیکن جب انکو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے۔

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور خدا ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک ان کو وہ چیز نہ بتادے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

خدا ہی ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگنی بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھرجانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بیشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے۔

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین باجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر 111 تا 118 ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کا جنت کے بدلے سودا کرلیا ہے اس طریقہ پر کہ وہ ان کو اس کی اطاعت میں مثلاً جہاد میں خرچ کریں وہ اللہ کے راستہ میں قتال کرتے ہیں مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں (یُقاتلُ ) بیان شراء کے لئے جملہ مستانفہ ہے، اور ایک قراءت میں یُقْتَلُونَ (مجہول) مقدم ہے (اور یُقَاتلُ ) معروف مؤخر ہے، یعنی ان میں سے بعض قتل کئے جاتے ہیں اور باقی قتال کرتے ہیں، ان سے اللہ کی جانب سے (جنت) کا تورات اور انجیل اور قرآن میں پختہ وعدہ ہے (وعدًا اور حَقًّا) دونوں اپنے فعل محذوف کی وجہ سے مصدر منصوب ہیں، اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا ہے ؟ یعنی اس سے بڑھ کر کوئی وعدہ پورا کرنے والا نہیں، لہٰذا تم اپنے اس بیع کے معاملہ پر جو تم سے کیا ہے خوشیاں منائو اس میں غیبت سے (خطاب) کی جانب التفات ہے، یہ عظیم کامیابی ہے (یعنی) انتہائی مقصد کا حصول ہے، (وہ مجاہدین) شرک ونفاق سے توبہ کرنے والے ہیں (اَلتائبون) مرفوع بالمدح ہے مبتداء کی تقدیر کے ساتھ عبادت کرنے والے ہیں، یعنی اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں، اور ہرحال میں اس کی حمد بیان کرنے والے ہیں روزہ رکھنے والے ہیں رکوع سجدہ کرنے والے ہیں یعنی نماز پڑھنے والے ہیں، نیکی کا حکم کرنے والے اور بدی سے روکنے والے ہیں، اور اللہ کے احکام پر عمل کر کے اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور (اے نبی) ان مومنوں کو جنت کی خوشخبری سنا دو اور (آئندہ آیت) نبی ﷺ کے اپنے چچا ابو طالب کے لئے اور بعض صحابہ کے اپنے مشرک والدین کے لئے استغفار کرنے کے بارے میں نازل ہوئی نبی کے لئے اور ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں زیبا نہیں کہ مشرکوں کے لئے استغفار کریں اگرچہ وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ ان پر یہ بات کھل چکی ہے کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں، اس وجہ سے کہ وہ کفر پر مرے ہیں، ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنے والد کے لئے دعاء مغفرت کی تھی وہ اس وجہ سے کی تھی کہ انہوں نے اپنے قول '' ساستغفرلک ربی '' سے استغفار کا وعدہ کیا تھا، اس امید پر کہ وہ ایمان لے آئیں گے، مگر جب ان پر یہ بات کھل گئی کہ ان کے والد ان کے کفر پر مرنے کی وجہ سے اللہ کے دشمن ہیں تو انہوں نے اس سے اظہار بیزاری کردیا، اور ان کے لئے دعاء مغفرت کرنی ترک کردی، حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) بہت زیادہ عاجزی کرنے والے اور دعاء کرنے والے اور بردبار تکلیف پر صبر کرنے والے تھے، اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ لوگوں کو اسلام کی ہدایت دینے کے بعد گمراہ کرے جب تک کہ صاف صاف ان کو یہ نہ بتادے کہ ان کو کن کاموں سے بچنا چاہیے پھر (بھی) اگر وہ اس سے نہ بچیں تو وہ گمراہی کے مستحق ہوجاتے ہیں، درحقیقت اللہ ہر شیٔ کا علم رکھتا ہے اور اسی میں سے استحقاق اضلال و ہدایت ہے یہ بھی واقعہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کی حکومت اللہ ہی کے قبضے میں ہے وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے، اے لوگو اللہ کے سوا اب نہ تمہارا کوئی حامی ہے جو اس سے تمہارے حفاظت کرسکے اور نہ مددگار کہ تم کو اس کے ضرر سے بچا سکے اللہ نے نبی کے حال پر اور مہاجرین وانصار کے حال پر توجہ فرمائی یعنی ان کی توبہ کو دوام بخشا، جنہوں نے تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا ان کی یہ حالت غزوہ تبوک کے وقت تھی کہ دو آدمی ایک کھجور کو آدھا آدھا کرتے تھے اور دس آدمی ایک اونٹ پر باری باری سے سوار ہوتے تھے اور سخت گرمی کا موسم تھا، یہاں تک کہ اوجھ (کا پانی) بھی پی گئے، اگرچہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل آپ کی اتباع سے کجی یعنی تخلف کی طرف مائل ہو چلے تھے (تزیغ) یاء اور تاء کے ساتھ ہے اس لئے کہ وہ اس وقت بڑی تکلیف میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کو ثابت قدمی عطا فرما کر ان کی طرف توجہ فرمائی بیشک اللہ تعالیٰ ان پر بڑا شفیق بڑا مہربان ہے اور ان تینوں حضرات کی طرف بھی توجہ فرمائی جن کی توبہ کو مؤخر کردیا گیا تھا، یہ معنی حتی اذا ضاقت کے قرینہ کی وجہ سے ہیں، جب زمین اپنی تمام تر وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی تو وہ کوئی ایسی جگہ نہ پاتے تھے جس میں ان کو اطمینان حاصل ہو سکے اور تاخیر (قبولیت) توبہ اور وحشت نیز غم کی وجہ سے خود ان کی اپنی جانیں بھی ان کو بار معلوم ہونے لگیں جس کی وجہ سے نہ ان کے قلوب میں سرور تھا اور نہ انس، اور انہوں نے یقین کرلیا کہ اللہ کے سوا ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے پھر اللہ ان کی طرف متوجہ ہوا یعنی ان کو توبہ کی توفیق بخشی تاکہ وہ توبہ کریں یقینا اللہ بڑا معاف کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : بِاَنْ یبذلوھا فی طاعتہ، یہ ایک تمثیل ہے، یعنی مجاہدین کے اپنی جانوں اور مالوں کو راہ خدا میں قربان کرنے کے عوض جنت دینے کو شراء سے تعبیر کیا ہے، لہٰذا حقیقةً بیع وشراء ہونا ضروری نہیں ہے۔ قولہ : جملہ استیناف، یہ ماسبق سے عدم وصل کی علت کا بیان ہے۔ قولہ : فَیُقْتَلُ بعضھم ویقاتل الباقی، یہ اضافہ اس سوال کا جواب ہے کہ مجہول کے مقدم ہونے کی صورت میں جب وہ مقتول ہوجاتے ہیں تو پھر وہ قتال کیسے کرتے ہیں ؟ قولہ : مصدران منصوبان بفعلھما المحذوف، یعنی وعدًا اور حقًا دونوں اپنے اپنے فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہیں تقدیر عبارت یہ ہے وَعَدَھم وَعْدًا وَحقَّ الوعدُ حَقًّا، اور اس کا قرینہ شراء بمعنی وَعْد ہے۔ قولہ : رفع علی المدح، نہ یہ کہ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے اس لئے کہ اس صورت میں بلافائدہ حذف خبر کی ضرورت ہوگی، مرفوع بالمدح ہونے کی صورت میں بھی اگرچہ حذف لازم آتا ہے مگر وہ فائدہ سے خالی نہیں ہے کما ھو ظاھر۔ قولہ : بتقدیر المبتدا، اور وہ ھم ہے۔ قولہ : من الشرک والنفاق یہ دونوں التائبون سے متعلق ہیں۔ قولہ : الصائمون، یہ السّائحون کے معنی کا بیان ہے آپ (علیہ السلام) نے فرمایا، '' سَیاحة امتی الصوم ''۔ قولہ : ونزل فی استغفارہ ﷺ لعمِہ ابی طالب، خواجہ ابو طالب جب زیادہ بیمار ہوئے تو آپ ﷺ نے خواجہ ابو طالب سے کہا یہ کلمہ (شہادت) کہہ لو تاکہ میں اس کے ذریعہ اللہ کے روبرو حجت پیش کرسکوں مگر خواجہ ابو طالب نے انکار کردیا، تو اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا '' لا اَزَالُ استغفرلکَ ما لم اُنْہ عنہ '' (رواہ الشیخان) اسی طرح حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے ایک شخص کو سنا کہ وہ اپنے والدین کے لئے دعاء مغفرت کر رہا ہے تو میں نے اس کو کہا کہ تو اپنے والدین کے لئے دعاء مغفرت کر رہا ہے حالانکہ وہ کافر تھے، تو اس شخص نے جواب دیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنے والد کے لئے دعاء استغفار کی تھی حالانکہ ان کے والد مشرک تھے، یہ واقعہ آپ ﷺ کے روبرو ذکر کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (رواہ الترمذی) قولہ : اوّاہ، یہ فَعَال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے، بہت آہ کرنے والا، نرم دل۔ قولہ : اَدامَ توبتہ، یہ اس سوال مقدر کا جواب ہے کہ قبولیت توبہ کے لئے اول ارتکاب معصیت لازم ہے اس لئے کہ قبولیت توبہ ارتکاب معصیت کی فرع ہے حالانکہ آپ ﷺ معصوم ہیں اور صحابہ نے بھی اس واقعہ میں کسی معصیت کا ارتکاب نہیں کیا تو پھر توبہ کی قبولیت کا کیا مطلب ہے ؟ تفسیر وتشریح ربط آیات : سابقہ آیات میں جہاد سے بلاعذر بیٹھ رہنے کا بیان تھا، ان آیات میں جہاد میں شریک ہو کر اپنی جان ومال کی قربانی پیش کرنے والوں کی فضیلت کا بیان ہے۔ شان نزول : روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ 13 نبوی میں ستر شرفاء مدینہ نے مکہ میں آکر آپ ﷺ سے بیعت کی اس کا نام بیعت عقبہ ثانیہ ہے اس وفد کے قائد حضرت عبد اللہ ؓ بن رواحہ تھے، جب وفد کے شرکاء آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ '' اشترط لربک ولنفسک '' آپ ﷺ اپنے رب اور اپنے لئے شرط لگائیے ! آپ نے فرمایا '' اشترط لربی أن تعبدوہ ولا تشرکوا بہ شیئا '' میرے رب کی شرط یہ ہے کہ اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور میرے لئے شرط یہ ہے کہ جس طرح تم اپنی جان ومال کی حفاظت کرتے ہو میری بھی حفاظت کرو، حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے عرض کیا تو اے اللہ کے رسول اس کے عوض ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا '' جنت '' تو حضرت عبد اللہ نے فرمایا '' ربح البیع لا نقیل ولا نستقیل '' سودا نفع کا ہے نہ ہم اس بیع کو توڑیں گے اور نہ توڑنے کی درخواست کریں گے، تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ وَعْدًا عَلَیْہ حقًّا فی التوراة والانجیل قرآن مجید تو اس مضمون کی تکرار سے بھرا پڑا ہے، قرآن کے ساتھ تورات اور انجیل کے ناموں کا اضافہ بیان کی تاکید کے لئے ہے مطلب یہ ہے کہ یہ مضمون اتنا اہم ہے کہ تمام آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ اعتراض اور جواب : اس بات پر بہت سے اعتراضات کئے گئے ہیں کہ جس وعدہ کا یہاں ذکر ہے وہ تو رات اور انجیل میں موجود نہیں ہے۔ جواب : تورات میں تحریفات اور ترمیمات دوست و دشمن سب کے نزدیک مسلم ہیں، اگر موجودہ تورات میں اس قسم کا مضمون نہ ملے جب بھی کوئی مضائقہ نہیں جہاں تک انجیل کا تعلق ہے تو یہ اعتراضات بےبنیاد ہیں تمام تر تحریفات کے باوجود جو انجیل اس وقت دنیا میں موجود ہیں ان میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے متعدد اقوال ایسے ملتے ہیں جو اس آیت کے مضمون کے ہم معنی ہیں مثلاً ۔ '' جس کسی نے گھروں یا بھائیوں یا بہنوں سے یا باپ یا ماں یا بچیوں یا کھیتیوں کو میرے نام کی خاطر چھوڑ دیا ہے اس کو سو گنا ملے گا اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہوگا ''۔ '' مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے سبب ستائے گئے ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہت ان ہی کی ہے کعب بن مالک ؓ کی کہانی خود ان کی زبانی : وعلی الثلثة الَّذینَ خُلِّفُوا، یہ وہی تین آدمی ہی جن کی طرف مذکورہ آیت میں اشارہ کیا گیا ہے یعنی مرارہ بن ربیع، کعب بن مالک، ہلال بن امیہ، جن کی توبہ قبول کرنے میں پچاس روز کی مہلت دی گئی تھی، اس کا تفصیلی ذکر صحیح بخاری اور مسلم میں خود کعب بن مالک کی روایت سے اس طرح ہے، فرماتے ہیں کہ میں سوائے تبوک اور بدر کے ہر لڑائی میں شریک رہا ہوں حالانکہ غزوہ تبوک کے وقت میں بہت آسودہ حال تھا، آپ ﷺ کی عادت مبارکہ اگرچہ مصلحتاً اپنے جنگی سفر کی تفصیلات اور رخ کو پوشیدہ رکھنے کی تھی، تبوک کا سفر چونکہ بعید اور دشوار تھا اس لئے آپ نے مسلمانوں کو صاف صاف بتادیا کہ میرا ارادہ تبوک جانے کا ہے تم دشمن کے مقابلہ کے لئے تیاری کرو، میں چونکہ خوشحال تھا اس لئے میں نے سوچا کہ جب چاہوں گا سامان سفر تیار کرلوں گا مگر آج کل کرتے کرتے وقت گذر گیا اور آپ ﷺ سفر پر روانہ ہوگئے، پھر بھی میں یہ سوچتا رہا ان کو جانے دو میں ایک دو روز میں ان سے جا کر مل جائوں گا، حتی کہ اسلامی لشکر منزل مقصود پر پہنچ کر اور وہاں کچھ روز قیام کر کے واپس بھی آگیا، مگر میں شریک نہ ہوسکا، مجھے اس بات کا بڑا رنج تھا، جب میں مدینہ میں گھر سے باہر نکلا کرتا تھا تو مجھے سوائے معذورین اور منافقوں کے کوئی نظر نہ آتا تھا آپ ﷺ نے تبوک پہنچنے پر لوگوں سے میرے بارے میں دریافت کیا کہ کعب کیوں نہیں آئے، بنی سلمہ کے ایک شخص نے کہا وہ آجکل کرتے کرتے رہ گئے جب آپ واپس تشریف لائے تو میں پیش بندی کے طور پر حیلے بہانے سوچنے لگا بلکہ اس سلسلہ میں اپنے گھر والوں اور دیگر حضرات سے بھی مشورہ کرتا مگر کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی، آخر یہ بات سمجھ میں آئی کہ چاہے جو کچھ ہو میں سچ بات کہہ دوں گا، اگر نجات ہوگی تو اسی میں ہوگی، آپ ﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ آپ جب سفر سے تشریف لاتے تو اول مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوتے اور دو رکعت نماز ادا فرماتے اس مرتبہ بھی آپ مسجد میں تشریف فرما ہوئے، تقریباً اسی آدمی تھے جنہوں نے اپنے عذر بیان کئے اور آپ نے ان کا عذر قبول فرما لیا اور ان کے لئے مغفرت کی دعاء کی جب میرا نمبر آیا میں نے سلام کیا اور آپ مسکرائے اور غصہ میں فرمایا، آجا میں سامنے بیٹھ گیا آپ ﷺ نے فرمایا تو کیوں رہ گیا تھا ؟ کیا تو نے سواری نہیں خریدی تھی، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آج اگر میں کسی اور کے سامنے ہوتا تو جھوٹ بول کر عذر وحیلہ کرلیتا اگر آپ کے سامنے جھوٹ بولوں گا تو اصل حقیقت اللہ آپ پر ظاہر کر دے گا، اور اگر سچ بولوں گا تو آپ خفاء بھی ہوں گے تو مجھے امید ہے کہ اللہ کے یہاں انجام بخیر ہوگا، واللہ مجھے کوئی عذر نہیں تھا، اور میں پہلے کی بہ نسبت خوشحال بھی تھا، آپ نے فرمایا '' تو نے سچ کہا '' اچھا جائو اللہ تمہارے بارے میں کچھ فیصلہ کرے گا میں چلا آیا لوگ کہنے لگے تو نے یہ کیا کیا ؟ تو بھی دوسروں کی طرح عذر بیان کردیتا، آپ ﷺ کی مغفرت کی دعاء تیرے لئے کافی تھی، میں نے ان لوگوں سے معلوم کیا کہ میرے بعد اور کون کون آیا تھا ؟ بتایا گیا کہ مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ آئے تھے انہوں نے بھی تمہاری طرح سچ کہا آپ ﷺ نے ان سے بھی وہی فرمایا جو تم سے فرمایا، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو ہم تینوں سے بات کرنے سے منع فرما دیا غرضیکہ سب لوگوں نے ہم سے بات چیت بند کردی پچاس روز اسی حالت میں گذرے اور بیچارے وہ دونوں تو اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے رویا کرتے تھے میں نماز کے لئے مسجد میں جایا کرتا تھا تو آنحضرت ﷺ میری طرف سے منہ پھیرلیا کرتے تھے، ابو قتادہ جو میرے چچا زاد بھائی تھے میں جب ان کو سلام کرتا تو وہ بھی جواب نہیں دیتے تھے، جب چالیس راتیں گذر گئیں تو آپ ﷺ نے پیغام بھیجا کہ اپنی بیوی سے الگ ہوجائیں میں نے اس کو میکے چلے جانے کو کہہ دیا ہلال بن امیہ ایک ضعیف آدمی تھے ان کی بیوی نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ کوئی خادم نہیں ہے ان کو بہت تکلیف ہوگی آپ ﷺ ہلال کی بیوی کو خدمت کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ اس کے پاس نہ جانا (مباشرت نہ کرنا) جب پچاس راتیں پوری ہوگئیں اور میں فجر کی نماز اپنے مکان کی چھت پر پڑھ رہا تھا، یہ آواز میرے کانوں میں آئی خوش ہوجائو اے کعب بن مالک پھر تو میں سجدے میں گرپڑا، اور سمجھ گیا کہ میری توبہ قبول ہوگئی صبح کو لوگ میرے اور ان دونوں کے پاس مبارک باد دینے کے لئے آنے لگے جب میں مسجد میں آیا تو طلحہ بن عبید اللہ نے مجھ سے مصافحہ کر کے مبارک باد دی پھر میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا پھر آپ ﷺ نے توبہ کی خوش خبری سنائی، میں نے عرض کیا میں اس خوشی میں اپنا سارا مال خدا کی راہ میں دیتا ہوں آپ نے سارا مال قبول نہیں فرمایا بلکہ ایک تہائی قبول فرمایا۔
Ayahs 9:119–122

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! خدا سے ڈرتے رہو اور راستبازوں کے ساتھ رہو۔

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں انکو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لئے کہ انہیں خدا کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لئے عمل صالح لکھا جاتا ہے کچھ شک نہیں کہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

اور (اسی طرح) وہ جو خرچ کرتے ہیں تھوڑا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ انکے لئے (اعمال صالحہ میں) لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے۔

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین (کا علم سیکھتے اور اس) میں سمجھ پیدا کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ حذر کرتے۔

آیت نمبر 119 تا 122 ترجمہ : اے ایمان والو ترک معصیت کر کے اللہ سے ڈرو اور ایمان اور معاہدوں میں سچوں کے ساتھ رہو بایں صورت کہ سچ کو لازم پکڑے رہو، مدینہ والوں کے لئے اور اس کے اطراف کے دیہاتی باشندوں کے لئے ہرگز یہ مناسب نہیں تھا کہ غزوہ کے وقت رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہتے اور نہ یہ زیبا کہ اپنی جانوں کو آپ ﷺ کی جان سے عزیز سمجھیں بایں صورت کہ اپنی جانوں کو ان شدائد سے بچائیں کہ جن کو آپ ﷺ نے اپنے لئے پسند فرمایا ہے، (لا یرغبون) بصورت نہی خبر ہے، یہ یعنی تخلف سے ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ان کو اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور جو جسمانی مشقت اٹھانی پڑی اور جو بھوک اللہ کی راہ میں ان کو لگی اور جو کسی ایسی جگہ چلے کہ جو کفار کے لئے موجب غضب ہو مَوْطِئًا مصدر بمعنی وطأً ہے اور جو کچھ ان کو دشمن کی طرف سے قتل یا قید یا لوٹ کی شکل میں پیش آیا (ان سب پر) ان کے نام نیک عمل لکھا گیا تاکہ ان (اعمال) پر ان کو جزا دی جائے، یقینا اللہ مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتا (اجر المحسنین، ای اجرھم) بلکہ ان کو اجر عطا کرے گا اور راہ خدا میں جو کچھ انہوں نے قلیل یا کثیر خرچ کیا اگرچہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو اور جو وادیاں ان کو طے کرنی پڑیں مگر یہ کہ اس کو (ان کے اعمال ناموں میں) لکھ دیا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا اچھے سے اچھا بدلہ دے یعنی ان کی جزاء اور جب پیچھے رہ جانے والوں کو ان کے پیچھے رہ جانے پر ڈانٹ پلائی گئی اور آپ ﷺ نے سریہ روانہ فرمایا تو سب کے سب نکل پڑے تو (آئندہ) آیت نازل ہوئی، اور مومنین کو یہ نہ چاہیے کہ سب کے سب غزوہ کے لئے نکل کھڑے ہوں سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے اور باقی ٹھہرے رہیں تاکہ یہ ٹھہرے رہنے والے دین کی سمجھ حاصل کریں اور جب غزوہ سے وہ لوگ ان کے پاس واپس آئیں تو ان کو وہ تعلیم دے کر جو انہوں نے احکام کی حاصل کی ہے ڈرائیں تاکہ وہ اللہ کے عذاب سے اس کے امرونہی کی اتباع کر کے ڈر جائیں ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ (حکم) سرایا کے ساتھ خاص ہے، اور سابقہ آیت جو کسی کے پیچھے رہ جانے کی ممانعت کے بارے میں ہے وہ اس وقت ہے جبکہ آپ ﷺ بھی غزوہ کے لئے نکلے ہوں۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : فی الایمان والعھود، اس میں اشارہ ہے کہ مع الصادقین میں معیت سے معیت فی الایمان مراد ہے نہ معیت فی المعاملات والمکان، اس لئے کہ اس معیت سے کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک کہ ایمان نہ ہو۔ قولہ : تلزموا الصدق یہ معیت کے طریقہ کا بیان ہے۔ قولہ : بان یصونوا الخ یہ حاصل معنی کا بیان ہے، بانفسھم، میں باء تعدیہ کے لئے ہے مطلب یہ ہے کہ جن شدائد و مصائب میں خود کو ڈالا ہے آپ کو جو تکالیف پیش آرہی ہیں تم اس سے خود کو بچانے کی کوشش نہ کرو۔ قولہ : وھو نھی بلفظ الخبر، یہ بطور مبالغہ کے ہے۔ قولہ : ای النھی، یہ ذلک کے مرجع کا بیان ہے اور نہی سے وہ نہی مراد ہے جو ما کان لاھل المدینة الخ سے مفہوم ہے۔ قولہ : مصدر بمعنی وطئاً یعنی مَوْطِئًا، وطأً کے معنی میں مصدر میمی ہے نہ کہ ظرف۔ قولہ : ولا ینالونَ ای لا یصیبون، پیش آنا یعنی دقت اور پریشانی کا پیش آنا۔ قولہ : نَیْلاً ، ای اصابَةً ، ای یصیبون اصابة یہ ہر تکلیف اور مصیبت کو عام ہے۔ قولہ : ای اجرھم اس اضافہ کا مقصد اسبات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ المحسنین، ضمیر، ھم، کی جگہ ان کی صفت احسان کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے، ورنہ تو اجرھم کہنا کافی ہوتا مگر اس میں دلالت علی الاحسان نہ ہوتی۔ قولہ : ذلک، اس میں اشارہ ہے کہ کتب کی ضمیر، انفاق اور قطع وادی دونوں کی طرف بتاویل مذکور لوٹ رہی ہے لہٰذا عدم مطابقت کا شبہ ختم ہوگیا۔ قولہ : لمَّا وُبّخوا علی التخلّف اس میں آئندہ آیت (ومان کان) کے سبب نزول کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : قبیلة، فرقة کی تفسیر قبیلة سے کر کے اشارہ کردیا کہ فرقہ سے بڑی جماعت مراد ہے۔ قولہ : مکث الباقُونَ ، اس میں اشارہ ہے کہ لیتفقھوا کی ضمیر محذوف کے متعلق ہے نہ کہ نَفَرَ کے لہٰذا یہ شبہ ختم ہوگیا کہ غزاة جہاد میں کس طرح فقہ حاصل کریں گے۔ قولہ : وَالَّتی قبلھا بالنھی عن التخلف الخ اس اضافہ کا مقصد دونوں آیتوں میں تعارض کو دفع کرنا ہے، ما کان لِاَھْل المدینة الخ میں فرمایا گیا کہ کسی شخص کو بھی غزوہ میں شرکت سے بیٹھنا جائز نہیں ہے اور وما کان المؤمنون لِیَنْفروا الخ میں سب کو نکلنے سے منع فرمایا گیا ہے دونوں آیتوں کے مفہوم میں تعارض ہے، اَلَّتی قبلھا الخ سے اسی شبہ کا جواب ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ماقبل میں جو نہی ہے وہ اس صورت میں ہے، جبکہ نفیر عام ہو اور آپ ﷺ بذات خود نکلیں اور قلیل جماعت کے نکلنے اور بڑی جماعت کے مدینہ میں رہنے کا حکم سرایا کا ہے جبکہ اعلان عام نہ ہو اور آپ بذات خود شریک نہ ہوں۔ تفسیر وتشریح ربط آیات : اس آیت کا سابقہ آیت سے ربط یہ ہے بعض لوگ مدینہ میں رہتے تھے اور بعض وہ جو مدینہ کے اطراف میں رہتے تھے جو غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے ان پر اظہار ناراضگی کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی اس میں فرمایا کہ ان لوگوں کو یہ بات زیبا نہیں تھی کہ اپنی جان کو آپ ﷺ کی جان سے عزیز رکھتے، اگر یہ شریک ہوتے تو ان کی بھوک پیاس ساری مشقتیں اور خدا کی راہ میں ایک ایک قدم دشمنوں کو ڈرانا دھمکانا ان کو قتل کرنا اور قتل و قید ہونا، سب نیکی میں شمار کئے جاتے گھر بیٹھ کر انہوں نے خود ہی اپنا نقصان کیا۔ خلاصہ یہ کہ یہ ہرگز مناسب نہیں تھا کہ لوگ اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے رہیں اور خدا کے رسول راہ خدا میں مشقتیں اور صعوبتیں اٹھائیں، فقہاء مفسرین نے اس سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ یہ معیت اور نصرت صرف عرب تک محدود یا شان رسالت کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ نصرت دین مقصود ہے، اس لئے ہر مسلم پر ہر زمانہ میں واجب ہے کہ امام وقت کی اطاعت و حفاظت میں مستعد رہے آیت میں کلام اگرچہ بصیغہ خبر ہے مگر مراد نہی ہے مطلب یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے۔ وَمَا کان المؤمنون لینفروا کافّة الخ بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت کا تعلق بھی حکم جہاد سے ہے مطلب یہ ہے کہ پچھلی آیت میں جب پیچھے رہ جانے والوں کے لئے سخت وعید اور زجروتوبیخ بیان کی گئی تو صحابہ کرام بڑے محتاط ہوگئے اور جب بھی جہاد کا موقع آتا تو سب کے سب اس میں شریک ہونے کی کوشش کرتے، اس آیت میں ان کو ہدایت دی جارہی ہے کہ ہر جہاد اس نوعیت کا نہیں ہوتا کہ ہر شخص کی شرکت ضرور ہو (جیسا کہ تبوک میں ضروری تھا) بلکہ ایک جماعت ہی کی شرکت کافی ہے، ان مفسرین کے نزدیک لیتفقھوا کا مخاطب پیچھے رہ جانے والا گروہ ہے یعنی ایک گروہ جہاد میں چلا جائے اور ایک گروہ مدینہ میں مقیم رہے (ومَکثَ الباقون) سے اسی کی طرف اشارہ ہے، مدینہ میں مقیم رہنے والا گروہ علم دین حاصل کرے اور جب مجاہدین واپس آجائیں تو انہیں بھی احکام دین سے آگاہ کرے اور انہیں معصیت اور خلاف ورزی سے ڈرائیں۔ آیت کی دوسری تفسیر : دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس آیت کا تعلق جہاد سے نہیں بلکہ اس میں علم دین سیکھنے کی اہمیت کا بیان اور اس کے طریقے کی وضاحت ہے اور وہ یہ کہ ہر بڑی جماعت اور قبیلہ میں سے کچھ لوگ دین کا علم حاصل کرنے کے لئے اپنا گھر بار چھوڑیں اور مدارس و مراکز علم میں جا کر علم حاصل کریں اور پھر آکر اپنی قوم میں وعظ و نصیحت کے ذریعہ دین پھیلائیں۔