Ayahs 8:1–10آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے جب بدر کے مال غنیمت (کی تقسیم) کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا، تو جوانوں نے کہا یہ ہمارا حق ہے اسلئے کہ ہم نے براہ راست قتال کیا ہے اور بوڑھوں نے کہا پرچموں کے تحت ہم تمہارے مدگار تھے اگر (خدانخواستہ) تم کو شکست ہوجاتی تو تم ہمارے پاس پلٹ کر آتے لہٰذا تم مال غنیمت کے بارے میں ترجع کا دعوانہ کرو، اے محمد ﷺ لوگ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا کون مستحق ہے آپ ان سے کہہ دو مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے وہ جس کو چاہیں دیں چناچہ آپ ﷺ نے اس مال غنیمت کو جوانوں اور بوڑھوں کے درمیان مساوی طریقہ پر تقسیم کردیا، اس کو حاکم نے مستدرک میں روایت کیا ہے، تم لوگ اللہ سے ڈرو اور آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم سچے مومن ہو کامل اہل ایمان تو وہی لوگ ہیں جب ان کے سامنے اللہ کی وعید ذکر کی جاتی ہے تو ان کے دل خوف سے لرز جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کی تصدیق میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں، یعنی اسی پر اعتماد کرتے ہیں نہ کہ اس کے علاوہ کسی اور پر جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے حقوق کے ساتھ ادا کرتے ہیں، اور جو (مال) ہم نے ان کو عطا کیا ہے اس میں سے اللہ کی اطاعت میں خرچ کرتے ہیں ایسے ہی لوگ جو مذکورہ صفات کے ساتھ متصف ہیں بلا شک سچے مومن ہیں ان کے لئے جنت میں ان کے رب کے پاس بڑے رتبے ہیں اور مغفرت ہے اور جنت میں بہترین رزق ہے (مال غنیمت کے بارے میں جو اختلاف ہے وہ ایسا ہی ہے) جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کو گھر (مدینہ) سے حق کے ساتھ نکالا (بالحق) اَخْرجَ کے مستحق ہے، اور واقعہ ہے کہ مومنین کی ایک جماعت اس نکلنے کو گراں سمجھ رہی تھی جملہ اَخْرَجَ کی ضمیر کاف سے حال ہے، اور کَمَا، ھذہ مبتداء محذوف کی خبر ہے، یعنی مال غنیمت کے معاملہ کی موجودہ حالت کراہت میں ویسی ہے جیسی کہ آپ کے (مدینہ) سے نکالنے کی حالت، اور جس طرح اس (نکلنے) میں ان کے لئے خیر تھی اسی طرح اس میں بھی خیر ہے، اور ان کا یہ (مدینہ سے) نکلنا اس وقت ہوا کہ جب ابو سفیان تجارتی قافلہ لیکر شام سے نکلا، تو آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب اس (قافلہ) کا مال غنیمت لینے کے لئے نکلے، اس (کارروائی) کا علم قریش کو ہوگیا، تو ابو جہل اور مکہ کے جنگ باز نکلے تاکہ قافلہ کا دفاع کریں اور یہ جنگی لشکر تھا، اور ابوسفیان تجارتی قافلے کو ساحل کے راستہ سے نکال لے گیا چناچہ وہ (تجارتی قافلہ) بچ کر نکل گیا، ابو جہل سے کہا گیا کہ واپس چلو مگر اس نے انکار کردیا، اور بدر کی طرف روانہ ہوا، ادھر آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہ سے مشورہ کیا اور آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ فرمایا ہے لہٰذا اکثر جنگی لشکر سے مقابلہ کرنے کے لئے متفق ہوگئے، اور کچھ لوگوں نے اس رائے کو ناپسند کیا، اور عذر یہ پیش کیا کہ ہم نے اس کے لئے تیاری نہیں کی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ سے یہ لوگ حق یعنی قتال، کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے اس کا حق ہونا ان پر ظاہر ہوگیا گویا کہ وہ موت کی طرف کھینچ کرلے جائے جارہے ہیں حال یہ کہ وہ موت کو کھلی آنکھوں سء دیکھ رہے ہیں ان کے قتال کو ناپسند کرنے کی وجہ سے، اور اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ تم سے دو جماعتوں میں عیر و نفیر (تجارتی قافلہ اور جنگی لشکر) سے ایک کا وعدہ کررہا تھا کہ ان میں سے ایک جماعت تمہارے ہاتھ لگے گی، اور تم یہ چاہتے تھے کہ کمزور جماعت تم کو ملے، ان کے تعداد اور ہتھیاروں میں کم ہونے کی وجہ سے یعنی بغیر قوت اور بغیر ہتھیار والی جماعت اور وہ تجارتی قافلہ تھا، بخلاف جنگی لشکر کے، مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنی سابقہ باتوں کے ذریعہ حق کو ظاہر کردے اسلام کو غلبہ دے کر اور کافروں کی جڑ بالکل کاٹ سے لہٰذا تم کو جنگی لشکر سے قتال کا حکم دیا تاکہ وہ حق کو محقق کرے اور باطل کفر کو مٹا دے اگرچہ مشرک اس کو ناپسند کریں اور اس وقت کو یاد کرو کب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے یعنی اللہ سے مشرکین پر نصرت طلب کررہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے تم کو جواب دیا کہ میں مسلسل ایک ہزار فرشتوں سے مدد کردوں گا، جو مسلسل چلے آرہے ہوں گے، اولاً ان سے ہزار کا وعدہ کیا، پھر تین اور پھر پانچ ہزار ہوگئے جیسا کہ آل عمران میں ہے، اور (اَلْف) کو آلف پڑھا گیا ہے جیسا کہ فَلْس کی جمع اَفْلُس ہے، اور اس امداد کی اللہ تعالیٰ نے خوشخبری کے طور پر خبر دی اور تاکہ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے یقینا اللہ زبردست اور دانا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : سُوْرَةُ الْاَنفال بترکیب اضافی مبتداء ہے اس کی دو خبر ہیں اول مَدْنیّة اور دوسری خَمْس الخ، مبتداء خبر سے مل کر مستثی منہ اور اِلاَّ حرف استثنیٰ ویمکربک مستثنیٰ ، اور اَوْ بیان اختلاف کے لئے ہے، اگرچہ سورت کے عنوان میں سات آیتوں کو مکی کہا گیا ہے مگر صحیح بات یہ ہے کہ پوری سورت مدنی ہے۔
قولہ : عَنِ الاَنْفَالِ ، اَنْفَال نَفَل بروزن سَبَب کی جمع ہے بمعنی زائد، اور سکون فا کے ساتھ بھی کہا گیا ہے اس کے معنی بھی زائد کے ہیں، مال غنیمت چونکہ سابقہ امتوں کے لئے حلال نہیں تھا صرف اسی امت کے لئے بطور خصوصیت حلال کیا گیا ہے اس لئے نفل سے تعبیر کیا گیا ،
سوال : یسئلونکَ عن الانفال، میں یسئلونک کا صلہ عَنْ لایا گیا ہے حالانکہ یہ فعل متعدی بنفسہ ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے سألتُ زیداً مالاً.
جواب : اگر سوال تعیین و توضیح کے لئے ہو تو سوال متعدی عَنْ کے ساتھ ہوگا اور اگر بمعنی طلب ہوگا تو متعدی بنفسہ ہوگا، جو لوگ یہاں سوال کو طلب کے لئے مانتے ہیں وہ عن کو زائدہ قرار دیتے ہیں۔
قولہ : لَوِ انْکَشَفْتُمْ ، ای انھز مْتم وانتشرتم، اگر تم شکست کھاتے اور منتشر ہوتے۔
قولہ : فلا تَسْتَاثِرُوا، ای فلا تختاروا، یعنی تمہاری بیان کردہ دلیل کی وجہ سے تم کر ترجع نہیں دی جاسکتی، ایثار کے معنی ہیں ترجع دینا ،
مال غنیمت کو نفل کہنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ جہاد کا اصل مقصد اعلاء کلمتہ اللہ ہے، اور حصول مال شئی زائد ہے۔
قولہ : لِمَنْ ھِیَ اس میں اشارہ ہے مال غنیمت کا حکم معلوم کرنا مقصود ہے نہ کہ اس کی ذات اسلئے کہ ذات سب کو معلوم ہے۔
قولہ : ای حَقِیْقَةَ مَا بَیْنَکُمْ ، یہ ذات بینکم کی تفسیر ہے اس میں یہ بتایا گیا ہے ذات بمعنی حقیقت ہے اور بین بمعنی وصل ہے، اور لغت کے مطابق ہے، بخلاف اس کے کہ جنہوں نے حال یا حالت لیا ہے اسلئے کہ یہ معنی لغت اور استعمال دونوں کے خلاف ہیں، حاصل معنی یہ ہیں کونوا مجتمعین علی امر اللہ ورسولہ بالمؤ اساة والمسا عدة فیما رزقکم اللہ .
قولہ : الکَامِلُوْنَ اس قید کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : اللہ تعالیٰ نے اِنَّما کلمہ حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ مومن وہی ہے کہ جن کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے قلوب خوف خدا سے لرز اٹھیں، تو ایسے افراد تو بہت کم ہوں گے۔
جواب : یہ مومن کامل کی صفت ہے نہ کہ مطلق مومن کی۔
قولہ : تصدیقًا، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ آپ کا مسلک ہے کہ ایمان میں کمی زیادتی نہیں ہوتی حالانکہ زادتھم ایمانا، سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان میں کمی زیادتی ہوتی ہے۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہاں ایمان سے مراد تصدیق وطمانینت قلب ہے اور اس میں کمی زیادتی ہوتی ہے۔
قولہ : بہ یَثِقُوْنَ لا بِغَیْرِہ اس اضافہ کا مقصد تقدیم متعلق کے قاعدہ کو بیان کرنا ہے جو کہ حصر ہے یعنی تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں نہ کسی غیر پر۔
قولہ : الخُرُؤجَ ، ای خروجک وخروجَھُمْ ، یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے سوال یہ ہے کہ حال جملہ ہوتا ہے تو اس میں عائد کا ہونا ضروری ہوتا ہے حالانکہ یہاں کوئی عائد نہیں ہے جواب کا حاصل یہ ہے کہ تقدیر عبارت خروجک وخروجھم ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔
قولہ : کما، خبر مبتداء محذوف الخ اس جملہ کا مقصد دونوں جملوں میں مشابہت کو بیان کرنا ہے یعنی مال غنیمت کی تقسیم پر ناپسندیدگی کا اظہار ویسا ہی ہے جیسا کہ خروج الی النفیر (لشکر) کی طرف نکلنا ناپسندیدہ تھا، حالانکہ جس طرح ان کے حق میں خروج بہتر تھا اسی طرح مال غنیمت کی تقسیم میں بھی خیر ہے۔
قولہ : عُدَدُھا، ای اسبابُھا .
قولہ : بالفٍ یعنی اَلْف کے ساتھ یعنی الف بھی پڑھا گیا الف پر مد اور لام پر ضمہ بروزن اَفْلُس، یعنی جس طرح فَلْس کی جمع اَفْلُس آتی ہے اسی طرح اَلْف کی جمع الف آتی ہے، الُف کی اصل أألُف تھی دوسرے ہمزاد کو الف سے بدل دیا الف ہوگیا۔
تفسیر وتشریح
سورت کے مضامین : یہ پوری سورت تحقیقی قول کے مطابق مدنی ہے اگرچہ اس میں سات آیتیں اس واقعہ سے متعلق ہیں جو مکہ میں پیش آیا تھا مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مکی واقعہ کے متعلق آیات کا نزول بھی مکہ ہی میں ہو یہ ہوسکتا ہے کہ مکی واقعہ کی یاد دہانی کے لئے اس واقعہ سے متعلق آیات کا نزول مدینہ میں ہو، جن آیات سبع کو مکی کہا گیا ہے ان میں کی آخری آیت '' بما کنتم تکفرون '' ہے۔
ربط آیات : اس سے پہلی سورت یعنی سورة اعراف میں مشرکین اور اہل کتاب کے جہل وعناد اور کفر و فساد کا تذکرہ اور اس کے متعلق مباحث کا بیان تھا، اس سورت میں زیادہ تر مضامین غزوہ بدر کے موقع پر انھیں لوگوں کے انجام بد، ناکامی، اور ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کی کامیابی کے متعلق ہیں جو مسلمانوں کے لئے احسان و انعام اور کافروں کے لئے عذاب و انتقام تھا، اور چونکہ اس انعام کا بڑا سبب مسلمانوں کا خلوص اور لِلّٰہیت اور باہمی اتفاق تھا، اور یہ اخلاق و اتفاق نتیجہ ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت کا اسی لئے سورت کی ابتداء میں تقویٰ اور اطاعت حق اور ذکر اللہ اور توکل وغیرہ کی تعلیم دی گئی ہے۔
معلوم ہو کہ آیت میں تین باتوں پر عمل کے بغیر ایمان مکمل نہیں، اس سے تقویٰ ، اصلاح ذات البین اور اللہ اور رسول کی اطاعت کی اہمیت واضح ہے، خاص طور پر مال غنیمت کی تقسیم میں اب تینوں امور میں عمل نہایت ضروری ہے، اسلئے کہ مال کی تقسیم میں باہمی نزاع کا شدید اندیشہ رہتا ہے اس کی اصلاح کے لئے اصلاح ذات البین پر زور دیا اور چونکہ ہیرا پھیری کا امکان رہتا ہے اسلئے تقوے کا حکم دیا، اس کے باوجود کوئی کوتاہی ہوجائے تو اس کا حل اللہ اور اس کی اطاعت میں مضمر ہے۔
Ayahs 8:11–15آیت نمبر 11 تا 19
ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے اس خوف سے جو تم کو درپیش تھا غنودگی کی شکل میں تم پر سکون اور بےخوفی طاری کررہا تھا اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا ریا تھا کہ تم اصغر اور حدث اکبر سے پاک کرے اور تم سے اس شیطانی وسوسہ کو دور کرے کہ اگر تم حق پر ہوتے تو تم (اس طرح) پیاسے اور بےطہارت نہ ہوتے اور مشرک پانی ہر قابض نہ ہوتے اور تاکہ تمہارے قلوب کو یقین و صبر کے ساتھ مضبوط کرے اور تاکہ بارش کے ذریعہ تمہارے قدموں کو جما دے کہ ریت میں نہ دھنسیں، (اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارا رب ان فرشتوں سے کہہ رہا تھا جن کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد فرمائی مدد اور نصرت کے ساتھ میں تمہارے ساتھ ہوں (اور) انّی، اصل میں بانیّ ہے تم اہل ایمان کو مدد اور بشارت کے ذریعہ ثابت قدم رکھو، میں کافروں کے دل میں ابھی خوف ڈالے دیتا ہوں پس تم ان کی گردنوں پر یعنی سروں پر ضرب لگاؤ اور اس کی پور پور پر چوٹ لگاؤ یعنی دست و پا کے اطراف پر، چناچہ (مسلمان) مرد جب کافر کی گردن پر ضرب لگانے کا قصد کرتا تھا تو اس کی تلوار کافر تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کی گردن (تن سے جدا ہوکر) گرجاتی تھی، اور آپ ﷺ نے ان کی طرف ایک مٹھی خاک نہیں پھینکی مگر یہ کہ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ ہر مشرک کی آنکھ میں نہ پہنچا ہو چناچہ مشرکوں کو شکست ہوگئی، یہ عذاب جو ان پر واقع ہوا اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے، اللہ اس کے لئے سخت گیر ہے، اس کے لئے یہ عذاب ہے، سو اے کافر ودنیا ہی میں اس عذاب کا مزا چکھو، اور بالیقین کافروں کے لئے آخرت میں عذاب مقرر ہے اے ایمان والو جب تم کافروں سے دوبدو مقابل ہوجاؤ حال یہ ہے کہ وہ اپنی کثرت کی وجہ سے آہستہ آہستہ سرک رہے ہوں تو بھی ان سے شکست خوردہ ہو کر پیٹھ مت پھیرو، اور جو شخص مقابلہ کے دن ان سے پیٹھ پھیرے گا مگر یہ کہ جنگی چال کے طور پر ہو بایں طور کہ ان کو چال کے طور پر فرار دکھائے حال ہپ لپ وپ پلٹ کر حملہ کا ارادہ رکھتا ہو، یا مسلمانوں کی جماعت سے مدد لینے کے لئے جاملنے کے طور پر وہ اس (وعید) سے مستثنیٰ ہے (اس کے علاوہ) جس نے ایسا کیا تو وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور اس کی قرار گاہ نہایت بری ہے اور یہ اس صورت کے ساتھ خاص ہے کہ کفار (کی تعداد) مسلمانوں کے مقابلہ میں دوگنا سے زیادہ نہ ہو، (حقیقت یہ ہے) کہ بدر میں تم نے ان کو اپنی قوت سے قتل نہیں کیا لیکن اللہ نے تمہاری مدد کرکے ان کو قتل کیا، اور اے محمد ﷺ قوم کی آنکھوں میں آپ نے نہیں پھنکا جبکہ آپ نے کنکریاں پھینکیں اس لئے کہ ایک انسانی مٹھی کنکریاں ایک بڑے لشکر کی آنکھوں کو نہیں بھر سکتیں، لیکن ان کنکریوں کو ان تک پہنچاکر درحقیقت اللہ نے پھینکا اور اس نے یہ اسلئے کیا تاکہ کافروں کو مغلوب کردے، اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے بہتر صلہ دے اور وہ (مال) غنیمت ہے یقینا اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کا سننے والا ان کے احوال کو جاننے والا ہے اور یہ عطائے صلہ حق ہے، اور اللہ تعالیٰ کافروں کی چالوں کو کمزور کرنے والے ہیں اے کافرو اگر تم فتح کا فیصلہ چاہتے ہو، اسلئے کہ تم میں سے ابو جہل نے کہا تھا اے ہمارے اللہ ہم میں سے جو زیادہ قطع رحمی کرنے والا ہو اور ہمارے پاس ایسی چیز لایا ہو جس کو ہم نہیں جانتے تو اس کو تو آئندہ کل ہلاک کر دے تو تمہارے پاس فیصلہ آگیا اس کو ہلاک کرکے جو ایسا ہے اور وہ ابوجہل ہے اور وہ ہے جو اس کے ساتھ قتل کیا گیا، نہ کہ محمد ﷺ اور مومنین، اور اگر کفر و قتال سے باز آجاؤ تو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے اور اگر تم نبی کے ساتھ جنگ کا اعادہ کرو گے تو ہم تمہارے اوپر اس کی فتح کا اعادہ کریں گے اور تمہاری جمیعت تمہارے ذرا بھی کام نہ آئے گی گو کتنی ہی زیادہ ہو اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اِنَّ کے کسرہ کے ساتھ استیناف کی صورت میں اور فتحہ کے ساتھ لام کی تقدیر کی صورت میں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اذیُغَشِّیْکُم، یہ اذکر فعل محذوف کا ظرف ہے یا سابق اذ یَعِد کم کا بدل ہے۔
قولہ : اَمَنًا، اَمَنَةً کی تفسیر اَمَنًا سے کرکے اشارہ کردیا کہ اَمَنَةً مصدر ہے یقال اَمِنةً وأمَانَةً ، نہ کہ جمع جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے، اور اَمَنَةً یُغَشِّکُمْ کا مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے سکون کے لئے تم پر غنودگی طاری کررہا تھا۔
قولہ : مِنْہُ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔
قولہ : بہ ای بالمائ . قولہ : ان تَسُوْخَ ای مِن اَنْ رسوخَ ، ای تدخُلَ.
قولہ : لَہ '.
سوال : مفسرّ علاّم نے لَہ ' کیوں مقدر مانا ؟
جواب : مَنْ مبتداء متضمن بمعنی شرط ہے اور یشاققِ اللہ ورسولَہ ' فان اللہ شدید العقاب، جملہ ہو کر مبتداء کی خبر ہے، اور خبر جب جملہ ہوتی ہے تو ضمیر عائد کا ہونا ضروری ہوتا ہے جو کہ یہاں نہیں ہے، اسی لئے مفسرّعلاّم نے لَہ ' ضمیر کو مقدر مانا ہے۔
قولہ : العَذَابُ ، ذٰلکم مبتداء العذاب اس کی خبر محذوف، مفسرّ علاّم نے العذابُ محذوف مان کع اسی ترکیب کی طرف اشارہ کیا ہے، اور اسم اشارہ ذالکم، کو مبتداء محذوف کی خبر بھی قرار دیا جاسکتا ہے ای العذب ذالکم، لہٰذا ذالکم فذوقوہُ ، میں انشاء کے خبر واقع ہونے کا اعتراض ختم ہوگیا۔
قولہ : فذوْقُوْہُ ، فاء شرطیہ ہے، ذوقوہُ ، شرطِ محذوف کی جزاء ہے ای ان کان کذب فذوقوہُ.
قولہ : وَاَنَّ الکفرین، اس کا عطف ذلک پر ہے، اور واعلموا مقدر کی وجہ سے منصوب بھی ہوسکتا ہے۔
قولہ : زَحْفًا، (ف) کا مصدر ہے بھیڑ کی وجہ سے آہستہ آہستہ چلنا، بچہ کی طرح سرکنا۔
قولہ : مُتَحَرِّفًَا، متعطفًا، پلٹ کر حملہ کرنا۔ (الی الکرِّ بعد الفرِّ )
قولہ : مُتَحَیِّزًا، (تفعّل) سے اسم فاعل، مڑکر اپنی جماعت کی طرف آنیوالا تاکہ ساتھیوں کی مدد لیکر دوبارہ حملہ کرسکے، اصل مادہ حَوْز ہے۔
قولہ : یَسْتَنْجِدُوْا، اِستنجاد مدد طلب کرنا۔ قولہ : ھِیَ مخصوص بالذم ہے۔
قولہ : فلَمْ تَقْتُلُوْ ھم، فاء جزائیہ یہ شرط محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے، اِن افتخرتم بقتلھم فانتم لم تقتلو ھم .
قولہ : لِیُبلیِ ، ای یعطی اللہ تعالیٰ المؤمنین اعطاء حسنًا .
قولہ : حَق، اس میں اشارہ ہے کہ، ذالکم الابلائ، مبتداء ہے حق خبر محذوف ہے۔
تفسیر وتشریح
اِذْ یُغَشِّیْکُمْ النُعاسَ جیسا کہ پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ قریشی لشکر نے بدر پہلے پہنچ کر جنگی اعتبار سے بہتر جگہ منتخب کرلی تھی اور پانی کے چشمہ پر قابض ہوگئے غرضیکہ ظاہری اسباب کے اعتبار سے قریشی لشکر کو فوقیت حاصل تھی تعداد کے اعتبار سے مسلمانوں کی بہ نسبت تین گنے نیز آلات حرب کے اعتبار سے نہایت مضبوط غرضیکہ وہ لوگ ظاہری اسباب کے اعتبار سے مطمئن تھے، ادھر اسلامی لشکر کا یہ حال تھا کہ تعداد کے اعتبار سے دشمن کے مقابلہ میں ایک تہائی سواری کی یہ حالت کہ کل دو گھوڑے اور ستر اونٹ تھے، اور چند زرہیں، موقع کے لحاظ سے بھی کوئی اطمینان بخش جگہ نہ تھی ریگستانی نشیبی علاقہ جس میں انسانوں اور جانروں کا چلنا پھرنا دشوار، گردوغبار کی مصیبت الگ پانی کی قلت، پینے کے لئے پانی ناکافی تھا چہ جائیکہ غسل و طہارت کے لئے۔
حباب بن منذر کا مشورہ : جس مقام پر آنحضرت ﷺ نے قیام فرمایا تھا، حباب بن منذر نے جو کہ اس علاقہ سے واقف تھے اس مقام کو جنگی اعتبار سے نامناسب سمجھ کر آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ جو مقام آپنے اختیار فرمایا ہے اگر یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے تو ہمیں کچھ کہنے کا کوئی اختیار نہیں اور اگر محض رائے اور مصلحت کے پیش نظر اختیار فرمایا گیا ہے تو بتائیں آپ نے فرمایا نہیں، یہ کوئی خداوندی نہیں اس میں تغیر و تبدل کیا جاسکتا ہے تب حضرت حباب بن نبذر نے عرض کیا کہ پھر تو یہ بہتر ہے کہ اس مقام سے آگے بڑھکر مکی سرداروں کے لشکر کے قریب ایک پانی کا مقام ہے اس پر قبضہ کرلیا جائے، وہاں ہمیں افراط کے ساتھ پانی مل جائیگا، آنحضرت ﷺ نے اس مشورہ کو قبول فرمالیا اور وہاں جاکر پانی پر قبضہ کیا ایک حوض پانی کے لئے بنا کر اس میں پانی کا ذخیرہ جمع کرلیا۔ (احسن التفاسیر)
اس کام سے مطمئن ہونے کے بعد حضرت سعد بن معاذ کے مشورہ سے آپ کے لئے ایک پہاڑی پر جہاں سے پورا میدان جنگ نظر آتا تھا ایک عریش (چھیر) بنادیا گیا جس میں آپ ﷺ اور آپ کے یار غار حضرت صدیق اکبر رات بھر مشغول دعاء رہے۔
میدان بدر میں صحابہ پر غنودگی : یہ اس رات کا واقعہ ہے جس کی صبح کو بدر کی لڑائی پیش آئی اسی رات کو باران رحمت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی، اس بارش سے تین فائدے ہوئے ایک یہ کہ مسلمانوں کو پانی کافی مقدار میں مل گیا مسلمانوں کی تکلیف سے نجات ملی دوسرے یہ کہ ریت جم کر چلنے پھرنے کے قابل مشرکین کا لشکر چونکہ نشیب کی طرف تھا اسلئے وہاں کیچڑ اور پھسلن ہوگئی جس کی وجہ سے بارش قریشی لشکر کے لئے زحمت ثابت ہوئی۔
شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست : شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست سے مراد ہر اس اور گھبراہت کی وہ کیفیت تھی جس میں مسلمان ابتدئً مبتلا تھے اور قسم قسم کے حیالات ان کے دلوں میں آرہے تھے، دشمن اپنی تعداد، تیاری نیز جنگی اعتبار سے بہتر مقام پر فائز اور قابض ان سب باتوں کے پیش نظر مسلمانوں کے دلوں میں حیالات اور ساوس کا پیدا ہونا ایک طبعی امر تھا اور اس پر طرہ یہ ہوا کہ بعض مسلمانوں کو غسل کی حاجت ہوگئی جس کی وجہ سے فجر کی نماز حالت جنابت میں پڑھنی پڑی اس وقت شیطان نے مسلمانوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈال کر شکوت و شبہات پیدا کردیئے کہ تم سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ تمہارے نبی ہیں اور تم اللہ کے محبوب اور دوست ہو حالانکہ تم بےوضو اور جنابت کی حالت میں نماز پڑھ رہے ہو اگر تم حق پر ہوتے تو پھر ان سب پریشانیوں کا کیا سبب ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ایسی زور دار بارش عطا فرمائی کہ وادی بہہ پڑی۔ (فتح القدیر شوکانی عن ابن عباس)
ایک ہزار فرشتوں کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد کا ذکر سابقہ آیت میں گذر چکا ہے اس آیت میں مسلمانوں پر غنودگی طاری کرنے کا ذکر ہے اس غنودگی کا اثر یہ ہوا کہ مسلمانوں کے دلوں میں جو طبعی خوف و ہراس تھا وہ سب جاتا رہا تعب وتکان ختم ہوگئی جس کی وجہ سے اطمینان اور کامیابی کا پختہ یقین حاصل ہوگیا۔
نکتہ : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت عنداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ جنگ میں نیند اللہ کی طرف سے امن ہے اور نماز میں اونگھنا شیطان کا وسوسہ ہے۔
فائدہ : سورة آل عمران میں گذر چکا ہے کہ احد کے میدان میں بھی لشکر اسلام پر غنودگی طاری کردی گئی تھی لیکن وہ غنودگی لڑائی بگڑ جانے کا رنج و غم رفع کرنے کے لئے تھی اور بدر میں لڑائی سے پہلے اللہ تعالیٰ نے لشکر اسلام پر غنودگی طاری کرکے دشمنوں کی تعداد کے زیادہ ہونے کا خوف اور شکست کھا جانے کا اندیشہ نیز شیطانی وسوسے سب جاتے رہے۔
Ayahs 8:16–18میدان سے راہ فرار : وَمَنْ یولِّھِمْ یومَئذٍ دُبَرَہ ' اِلاِّ متحر فا لقتالِ (الآیة) دشمن کے شدید دباؤ پر پسپائی ناجائز نہیں ہے جبکہ اس کا مقصد اپنے عَقْبِیْ مرکز کی طرف پلٹنا یا اپنی ہی فوج کے کسی دوسرے حصے سے جاملنا ہو، البتہ جو چیز حرام ہے وہ فرار ہے جو کسی جنگی مقصد سے نہیں بلکہ جان بچانے کی غرض سے ہو، اس فرار کو بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے چناچہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا '' تین گناہ ایسے ہیں جن کے ساتھ کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی '' ایک شرک دوسرے والدین کے حقوق کی حق تلفی تیسرے میدان جہاد فی سبیل اللہ سے فرار، اسی طرح ایک اور حدیث میں سات بڑے گناہ شمار کرائے ہیں ان میں ایک قتال فی سبیل اللہ سے فرار بھی ہے میدان جہاد سے فرار کے گناہ ہونے کی صرف یہ وجہ نہیں کہ یہ ایک بزدلانہ فعل ہے بلکہ اس وجہ سے ایک شخص کا فرار بساوقات پوری بٹالین کو اور ایک بٹالین کا فرار پوری پلٹن کو اور ایک پلٹن کا فرار پوری فوج کو بدحواس کرکے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کرسکتا ہے اور جب ایک مرتبہ فوج میں بھگدڑ مچ جاتی ہے تو کہا نہیں جاسکتا کہ تباہی کس حد پر جاکرر کے گی۔
Ayah 8:19ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح مکہ سے روانہ ہوتے وقت مشرکین مکہ نے کعبہ کے پردے پکڑ کر دعاء کی تھی کہ خدایا دونوں فریقوں میں سے جو بہتر ہے اس کو فتح عطا فرما، اور ابوجہل نے خاص طور پر یہ کہا تھا، خدایا ہم میں سے جو برسرحق ہوا سے تو فتحمندی عطا فرما، اور جو برسر ظلم اور صلہ رحمی کا قطع کرنے والا ہو اسے رسوا کردے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی منہ مانگی مراد حرف بحرف پوری فرمادی، اور فیصلہ کرکے بتادیا کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق ہے۔
Ayah 8:20آیت نمبر 20 تا 28
ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس کے حکم کی مخالفت کرکے اس سے سرتابی نہ کرو حالانکہ تم قرآن اور نصیحت سنتے ہو، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا ہم نے سنا حالانکہ وہ غور وفکر اور نصیحت حاصل کرنے کے طور پر نہیں سنتے اور منافق اور مشرک ہیں یقینا اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ لوگ ہیں جو سننے سے بہرے اور حق کہنے سے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے اگر اللہ ان میں حق بات سننے کی صلاحیت جانتا تو ضرور انھیں حق سننے کی توفیق دیتا، اور اگر (صلاحیت کے بغیر) بالفرض ان کو سنووتا اور اس کے علم میں یہ بات ہے کہ ان میں کوئی خیر نہیں ہے تو وہ اس کے قبول کرنے سے عناد یا انکار کے طور پر منہ پھیر لیتے اے ایمان والو تم اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر اطاعت کے ساتھ لبیک کہو، جب وہ تمہیں اس امر زین کی طرف پکاریں جو تمہیں زندگی بخشنے والا ہے اسلئے کہ وہ حیات ابدی کا سبب ہے اور خوب سمجھ لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے لہٰذا کسی کی طاقت نہیں کہ اس کے ارودہ کے بغیر ایمان لاسکے یا کفر کرسکے، اور اسی کی طرف تم جمع لئے جاؤ گے سو وہ تم کو تمہارے اعمال کا صلہ دے گا، اور اس کے فتنے سے بچو اگر وہ تم پر آپڑے تو اس کی شامت (بلا) تم میں سے ظالموں ہی تک محدود نہ رہے گی بلکہ ان کو اور ان کے علاوہ کو بھی لپیٹ میں لے لے گی، اور اس فتنہ سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ مُنْکَرْ (برائی) کے سبب پر نکیر کرے (یعنی نہی عن المنکر کرے) اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ اس کی مخالفت کرنیوالے کو سخت سزا دینے والا ہے اس وقت کو یاد کرو کہ جب تم مکہ کی سرزمین میں قلیل تعداد میں تھے کمزور سمجھے جاتے تھے اور تم ڈرتے رہتے تھے کہ ہمیں لوگ (یعنی) کفار اچک نہ لیجائیں (یعنی ہلاک نہ کردیں) تو تم کو مدینہ میں ٹھکانہ دیا تو تم کو بدر کے دن اپنی نصرت سے ملائکہ کے ذریعہ تقویت دی اور تم کو مال غنیمت کے ذریعہ حلال رزق دیا تاکہ تم اس کی نعمت کا شکریہ ادا کرو اور (آئندہ آیة) ابولبابہ بن منذر کے بارے میں نازل ہوئی، جبکہ ان کو نبی ﷺ نے بنی قریظہ کے پاس بھیجا تھا (تاکہ بنی قریظہ کو) قلعہ سے اتر آنے پر آمادہ کریں، تو (بنی قریظہ نے) ابی لبابہ سے مشورہ طلب کیا تو انہوں نے اشارہ کردیا کہ تمہارا انجام ذبح ہے، (اس افشاء راز کی وجہ یہ تھی) کہ ان کے اہل و عیال اور مال ان کے پاس تھے، اے ایمان والو تم اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو اور نہ تم ان امانتوں میں خیانت کرو جن پر تمہیں امین بنایا گیا ہے خواہ وہ بات دین کی ہو یا اسکے علاوہ کی، حال یہ کہ تم اس کو جانتے ہو، اور بخوبی سمجھ لو کہ تمہارے اموال اور اولاد تمہارے لئے فتنہ (آزمائش) ہیں جو امور آخرت سے تم کو روکنے والے ہیں، اور یقینا اللہ کے پاس اجر عظیم ہے، لہٰذا اس کو مال، اولاد اور ان کے لئے خیانت کی وجہ سے ہاتھ سے نہ جانے دو ۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : تُعْرِضُوْا، تَوَلَّوْ ، کی تفسیر تعرضوا سے کرکے اشارہ کردیا کہ تَوَلَّوْا حذف تاء کے ساتھ مضارع ہے نہ کہ ماضی، لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ ماضی پر بلا تکرار لا کا داخل ہونا جائز نہیں ہے۔
قولہ : لا یَعْقِلُون ای الحق .
قولہ : قد عَلِمَ اَن لاَّ خَیْرَ فیھم اس اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کو دفع کرنا ہے اعتراض یہ ہے کہ مذکورہ آیت میں قیاس اقترانی سے استدلال کیا ہے جس کا نتیجہ نکلتا ہے، لو علم اللہ فیھم خیرًا لَتوَلَّوْا، اور یہ محال ہے۔
قیاس اقترانی : لَو عَلِمَ اللہ فیھم خیرًا لا سْمعھُم وَلَوَ اَسْمَعَھُمْ لَتَوَلَّوا، نتیجہ نکلے گا، لَو علم اللہ خیر التولّوا، یعنی اگر ان کے اندر اللہ کے علم میں کوئی خیر ہوتی تو وہ ضرور اعراض کرتے، وھذا محال۔
جواب : صحیح نتیجہ کے لئے حد اوسط کا متحد ہونا ضروری ہے اگر اوسط مختلف ہوگا تو نتیجہ صحیح نہیں نکلے گا، یہاں حد اوسط مختلف ہے، اسلئے کہ اسماع اول سے سماع فھم الموجب للھدایة مراد ہے اور دوسرے اسماع سے اسماع مجردمراد ہے۔
قولہ : اِنْ اصابَتْکم، اس عبارت کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ لا تصیبنّ الذین الخ شرط محذوف کا جواب ہے اور بہ ان لوگوں پر رد بھی ہے جنہوں نے کہا ہے کہ لا تصیبنّ فتنة کی صفت ہے۔
تفسیر وتشریح
یٰایّھا الَّذِیْنَ آمَنُوا اطیعو اللہ ورسولہ الخ، سابق میں فرمایا گیا کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے اب ایمان والوں کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ تمہارا معاملہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے جس سے تم خدا کی نصرت و حمایت کے مستحق ہو، تو اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ ایک مومن صادق کا کام یہ ہے کہ ہمہ تن خدا اور رسول کا فرمانبردار ہو، احوال و حوادث خواہ کتنا ہی اس کا منہ
پھیرنا چاہیں مگر خدا کی باتوں کو سن چکا ہو اور تسلیم کرچکا ہو تو قولاً و فعلاً کسی حال میں ان سے نہ پھرے۔
Ayahs 8:21–27وَلا تکونوا کالذین قالوا سَمِعْنَا وھم لا یسمَعُوْنَ ، یہاں سننے سے مراد وہ سننا ہے جس کو قبول کرنا اور ماننا کہتے ہیں، اس آیت میں اشارہ ان منافقوں کی طرف ہے جو زبان سے ایمان کا اقرار کرتے تھے مگر احکام کی اطاعت سے منہ موڑ جاتے تھے، سن لینے کے باوجود عمل نہ کرنا کافروں کا شیوہ ہے، تم اس رویہ سے بچو، اگلی آیت میں ایسے ہی لوگوں کو بہرہ اور گونگا بدترین قرار دیا گیا ہے اگر ان میں اللہ تعالیٰ کوئی خیر و خوبی دیکھتا تو ضرور انھیں سنکر سمجھنے کی توفیق عطا کرتا چونکہ ان کے اندر خیر یعنی طلب صادق ہی نہیں اسلئے وہ فہم صحیح سے محروم ہیں، پہلے سماع سے مراد سماع نافع ہے جسے مفسرّ علاّم نے سماع تفہیم کہا ہے، اور دوسرے سماع سے مطلق سماع مراد ہے یعنی بالفرض اگر اللہ تعالیٰ انھیں حق بات سنوا بھی دے تو چونکہ ان کے اندر حق کی طلب ہی نہیں اس لئے وہ بدستور اس سے اعراض ہی کریں گے۔
وَاتقوا فتنة لا تصیبنَّ ظلموا منکم خاصَّة، لا تصیبنَّ ، کے نون تاکید کے میں نحاة کا اختلاف ہے، فرّاء نے کہا ہے کہ قول '' انزل عن الدابة لا تَطْرَ حَنَّکَ '' کے مثل ہے یہ امر ہے بصورت نہی، ای اِنْ تنزل عنھا لا تَطْرَ حَنَّکَ ، یعنی اگر تو اتر آئیگا تو وہ نہیں گرائے گا، اور اسی طرح کا اللہ تعالیٰ کا قول '' اُدخلوا مَسَا کنکم لا یَحْطِمَنَّکم سلیمان وجنود ہ '' ای اِنْ تد خلو الا یحطمنکم، اس میں نون اسلئے داخل ہے کہ اس میں معنی جزاء ہیں۔
پہلی آیت میں ایسے گناہ سے خاص طور پر بچنے کی تاکید کی گئی ہے جس کا وبال اور عذاب صرف گناہ کرنے والوں پر محدود نہیں رہتا بلکہ ناکردہ گناہ لوگ بھی اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں، وہ کونسا گناہ ہے ؟ اس میں علماء تفسیر کے متعدد اقوال ہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ گناہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جدوجہد کو ترک کردیتا ہے، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانون کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ کسی جرم اور گناہ کو اپنے ماحول میں قائم نہ رہئے دیں کیونکہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا یعنی جرم و گناہ کو دیکھتے ہوئے باوجود قدرت کے منع نہ کیا تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب عام کردیں گے جس سے نہ گنہگار بچیں گے اور نہ بےگناہ۔
اور بےگناہ سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو اصل گناہ میں ان کے شریک نہیں مگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ترک کردینے کے گنہگار وہ بھی ہیں، اس لئے یہاں یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ ایک کے گناہ دوسرے پر ڈالنا بےانصافی ہے اور قرآنی فیصلے '' لا تزر وازرَة وِزراخریٰ '' کے خلاف ہے کیونکہ گنہگار اپنے اصل گناہ کے وبال میں اور بےگناہ ترک امربالمعروف کے گناہ میں پکڑے گئے، کسی کا گناہ دوسرے پر نہیں ڈالا گیا۔
وہ گناہ جس کے وبال میں ناکردہ گناہ لوگ بھی پھنس جاتے ہیں وہ اجتماعی فتنے اور جرائم ہیں جو وبائے عام کی طرح ایسی شامت لاتے ہیں جس میں صرف گناہ کرنے والے ہی گرفتار نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں جو گنہگار معاشرہ میں رہنا گوارہ کرتے رہے ہوں، مثال کے طور پر اس کو یوں سمجھئے کہ جب تک کسی شہر میں گندگی کہیں کہیں انفرادی طور پر پڑی ہو اس کا اثر محدود وہتا ہے اور اس سے وہ مخصوص افراد ہی متاثر ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے جسم اور اپنے گھر کو گندگی سے آلودہ کررکھا ہو، لیکن جب گندگی عام ہوجاتی ہے اور کوئی گروہ بھی پورے شہر میں ایسا نہیں ہوتا جو اس خرابی کو روکے اور صفائی کا انتظام کرنے کی کوشش کرے تو پھر زمین اور فضا اور ہوا اور پانی غرضیکہ ہر چیز میں سمّیت پھیل جاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں جو وبا آتی ہے اس کی لپیٹ میں گندگی پھیلانے والے اور گندہ رہنے اور گندے ماحول میں زندگی بسر کرنے والے سب ہی آجاتے، اسی طرح اخلاقی نجاستوں کا حال ہے اگر وہ انفرادی طور پر بعض افراد میں موجود ہیں معاشرہ کے رعب سے دبی رہیں تو ان کے نقصانات محدود رہتے ہیں لیکن جب معاشرہ کا اجتماعی ضمیر کمزور ہوجاتا ہے، جب اخلاقی برائیوں کو دبا کر رکھنے کی طاقت اس میں نہیں رہتی، اور جب اچھے لوگ اپنی انفرادی نیکیوں پر قانع اور اجتماعی برائیوں پر ساکت و مصامت ہوجاتے ہیں اور صورت حال یہاں تک خراب ہوجاتی ہے کہ نیکی بدی کے آگے منہ چھپائے پھرنے لگتی ہے تو ایسی صورت میں مجموعی طور پر پورے معاشرہ کی شامت آجاتی ہے اور ایسا فتنہ عام برپا ہوتا ہے جس میں چنے کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے امام بغوی السنہ اور معالم میں بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود و صدیقہ عائشہ ؓ یہ روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی خاص جماعت کے گناہ کا عذاب عام لوگوں پر نہیں ڈالتے جب تک کہ ایسی صورت حال پیدا نہ ہوجائے کہ وہ اپنے ماحول میں گناہ ہوتا ہوا دیکھیں اور ان کو یہ قدرت بھی ہو کہ اس کو روک سکیں اس کے باوجود انہوں نے اس کو روکا نہیں تو اس وقت اللہ تعالیٰ کا عذاب ان سب کو گھیرلیتا ہے۔
برائی روکنے پر قدرت کے باوجود نہ روکنے والے بھی گنہگار ہیں : صحیح بخاری میں حضرت نعمان بن بشیر ؓ کی روایت سے نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی قانونی حدود توڑنے والے گنہگار ہیں اور جو لوگ ان کو دیکھ کر مداہنت کرنے والے ہیں یعنی باوجود قدرت کے ان کو گناہ سے نہیں روکتے ان دونوں طبقوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی بحری جہاز کے دو طبقے ہوں اور نیچے کے طبقہ والے اوپر آکر اپنی ضروریات کے لئے پانی لیتے ہوں جس سے اوپر والے تکلیف محسوس کرتے ہوں نیچے والے یہ حالت دیکھ کر یہ صورت اختیار کریں کہ کشتی کے نچلے حصہ میں سوراخ کرکے اس سے اپنے لئے پانی حاصل کریں اور اوپر کے لوگ ان کی اس حرکت کو دیکھیں اور منع نہ کریں تو ظاہر ہے کہ پانی پوری کشتی میں بھر جائیگا اور جب نیچے والے غرق ہوں گے تو اوپر والے بھی ڈوبنے سے نہ بچیں گے۔
ان روایات کی روشنی میں حضرات مفسرین نے آیت کا مطلب یہ قرار دیا کہ اس آیت میں فتنہ سے مراد امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا ترک کرینا ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ اس گناہ سے مراد ترک جہاد کا گناہ ہے مگر جہاد بھی امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہی کے لئے ہوتا ہے لہٰذا دونوں مصداق ایک ہی ہیں۔
امانتوں میں خیانت سے کیا مراد ہے ؟ امانتوں میں خیانتوں سے مراد تمام ذمہ داریاں ہیں جو کہ کسی پر اعتماد کرکے اس کے سپرد کی جائیں، خواہ وہ عہد وفا کی ذمہ داری ہو یا اجتماعی معاہدات کی یا رازدارانہ گفتگو کی یا عہدہ اور منصب کی جو کسی شخص پر بھروسہ کرتے ہوئے جماعت یا فرد اس کے حوالہ کردے۔
Ayah 8:28وَاعلمو انما اموالکم واولا دکم فتنة، انسان کے اخلاص میں جو چیز عام طور پر خلل ڈالتی ہے اور جس کی وجہ سے انسان اکثر منافقت غداری اور خیانت میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے مالی مفاد اور اپنی اولاد کے مفاد سے اس کی حد سے بڑھی ہوئی دلچسپی ہوتی ہے اسی لئے فرمایا کہ یہ مال اور اولاد جس کی محبت میں گرفتار ہو کر تم عموماً راستی سے ہٹ جاتے ہو دواصل یہ دنیا کی امتحان گاہ میں تمہارے لئے سامان آزمائش ہے جسے تم بیٹا یا بیٹی کہتے ہو حقیقت کی زبان میں امتحان کا ایک پر چہ ہے اور جسے تم جائداد یا کاروبار کہتے ہو وہ بھی درحقیقت ایک دوسرا پر چہ ہے، یہ چیزیں تمہارے حوالہ کی ہی اس لئے گئی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے تمہیں جانچ کر دیکھا جائے کہ تم کہاں تک حقوق و حدود کا لحاظ کرتے ہو ؟
شان نزول : مذکورہ آیت کا مضمون عام ہے سب مسلمانوں کو شامل ہے، مگر اس کے نزول کا واقعہ اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت ابو لبابہ ؓ ابن منذر کا قصہ ہے جو غزوہ بنی قریظہ میں پیش آیا، آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ نے بنو قریظہ کے قلعہ کا اکیس روز تک محاصرہ جاری رکھا جس سے عاجز ہو کر انہوں نے وطن چھوڑ کر ملک شام چلے جانے کی درخواست کی آپ نے ان کی شرارتوں کے پیش نظر اس کو قبول نہیں فرمایا بلکہ یہ اشاد فرمایا کہ صلح کی صرف یہ صورت ہے کہ سعد بن معاذ ؓ تمہارے بارے میں جو فیصلہ کریں اس پر راضی ہوجاؤ، بنو قریظہ نے درخواست کی کہ سعد بن معاذ کے بجائے ابو لبابہ کو یہ کام سپرد کیا جائے، کیونکہ ابولبابہ کے اہل و عیال اور جائداد بنی قریظہ میں تھی بنو قریظہ کو ان سے یہ توقع تھی کہ وہ ان کے بارے میں رعایت کریں گے، آپ نے ان کی درخواست پر ابو لبابہ کو بھیج دیا، بنی قریظہ کے مردوزن ان کے گرد جمع ہو کر رونے لگے اور یہ پوچھا کہ اگر ہم رسول اللہ ﷺ کے حکم پر قلعہ سے اتر آئیں تو کیا ہمارے معاملہ میں کچھ نرمی فرمائیں گے، ابولبابہ کو معلوم تھا کہ ان کے معاملہ میں نرمی برتنے کی رائے نہیں ہے، کچھ تو ان لوگوں کی گریہ وزاری کی وجہ سے اور کچھ اپنے اہل و عیال کی محبت سے متاثر ہو کر اپنے گلے پر تلوار کی طرح ہاتھ پھیر کر اشارةً بتلادیا کہ ذبح کئے جاؤ گے گویا اس طرح آنحضرت ﷺ کا راز فاش کردیا۔
حضرت ابولبابہ ؓ کا مسجد میں خود کو مسجد کے ستون سے باندھنا : مال اور اولا کی محبت میں یہ کام کر تو گزرے مگر فوراً ہی تنبہ ہوا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خیانت کی، جب وہاں سے واپس ہوئے تو اس درجہ ندامت سوار ہوئی کہ آپ ﷺ کی خدمت میں لوٹنے کے بجائے سیدھے مسجد میں پہنچے اور مسجد کے ایک ستون کے ساتھ خود کو باندھ دیا اور قسم کھائی کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہوگی میں اسی طرح بندھا رہوں گا، چاہے اس حالت میں موت ہی آجائے چناچہ سات روز تک نماز اور حاجت ضروریہ کے علاوہ ستون سے بندھے رہے، کھانا پینا بھی ترک کردیا یہاں تک کہ غشی طاری ہوجاتی تھی، رسول ﷺ کو اول جب اس کی اطلاع ملی تو فرمایا کہ اگر وہ اول ہی میرے پاس آجاتے تو میں اس کے لئے استغفار کرتا اور توبہ قبول ہوجاتی اب جبکہ وہ یہ کام کر گذرے تو اب قبولیت توبہ نازل ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا، چناچہ سات روز کے بعد آخر شب میں آپ پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، بعض حضرات نے ان کو خوشخبری سنا کر کھولنا چاہا مگر ابو لبابہ ؓ نے کہا جب تک خود آنحضرت ﷺ مجھے اپنے دست مبارک سے نہ کھولیں گے میں کھلنا پسند نہ کروں گا چناچہ آپ جب صبح کی نماز کے وقت مسجد میں تشریف لائے تو اپنے دست مبارک سے ان کو کھولا آیت مذکورہ میں جو خیانت کرنے اور مال واولاد کی محبت سے مغلوب ہونے کی ممانعت کا ذکر آیا ہے اس کا اصل سبب یہ واقعہ ہے۔ (واللہ اعلم) (معارف)
Ayah 8:29آیت نمبر 29 تا 37
اور حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر کی توبہ کی قبولیت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی
ترجمہ : اے ایمان والو ! اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو تمہارے اور اس چیز کے درمیان جس سے تم خوف رکھتے ہو ایک فیصلے کی چیز عطا کرے گا تو تم نجات پاؤ گے، اور تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے اور اے محمد وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کافر تمہارے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے اور آپ کے بارے میں مشورہ کے لئے دارالندوہ میں جمع ہوئے تھے، تاکہ تمہیں قید کریں، یعنی آپ کو باندھ لیں اور محبوس کرلیں، یا سب مل کر آپ کو قتل کردیں یعنی متحد ہو کر ایک قاتل کے آپ کو قتل کردیں، یا مکہ سے آپ کو نکل دیں، وہ تو آپ کے بارے میں تدبیر کررہے تھے، اور اللہ آپ کے معاملہ میں ان کے ساتھ تدبیر کررہا تھا بایں صورت کہ اس نے بذریعہ وحی ان کی تدبیر کی آپ کو خبر دیدی اور آپ کو (مکہ سے) نکلنے کی اجازت دیدی، اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے (یعنی) تدبیر کے بارے میں ان سے زیادہ جاننے والا ہے، جب ان کو ہماری آیتیں قرآن سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے ہاں سن لیا ہم نے، اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسی ہی باتیں بنا کر لاسکتے ہیں، یہ بات نضربن حارث نے کہی تھی، چونکہ وہ تجارت کے سلسلہ میں حیَرہ جایا کرتا تھا اور عجمیوں کی تاریخ کی کتابیں خرید لاتا تھا، اور وہ اہل مکہ کو سنایا کرتا تھا، یہ قرآن محض پہلے لوگوں کی من گھڑت کہانیاں ہیں (اور وہ بات بھی یاد رہے) جو انہوں نے کہی تھی اے اللہ اگر یہ جس کو محمد پڑھتے ہیں آپ کے پاس سے نازل کردہ ہے تو اوپر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی درد ناک عذاب ہمارے اوپر لے آ یعنی اس کے انکار پر دردناک عذاب نازل کردے، یہ بات نضربن حارث یا کسی دوسرے نے استہزاء کہی یا یہ تاثر دینے کے لئے کہی کہ وہ علی وجہ البصیرت یہ بات کہہ رہا ہے یا قرآن کے بطلان کا یقین رکھتے ہوئے کہی (اس وقت تو) اللہ ان پر ان کا مطلوبہ عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جبکہ آپ ان کے درمیان موجود تھے اسلئے کہ عذاب جب نازل ہوتا ہے تو عمومی ہوتا ہے، اور کسی امت کو عذاب نہیں دیا گیا ان کے نبی اور مومنیں کو وہاں سے نکال کر، اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کررہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دیدے جبکہ وہ اپنے طواف کے دوران ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں کہہ رہے ہوں اور کہا گیا ہے کہ مراد کمزور مومن ہیں جو ان میں رہ رہے تھے جیسا کہ اللہ نے فرمایا '' لو تَزیَّلُوا لَعَذّبنا الَّذِیْنَ کفروا منھم عذابًا الیماً '' یعنی اگر وہ وہاں سے ٹل گئے ہوتے تو ہم ان میں سے منکرین حق کو درد ناک عذاب دیتے، لیکن اب آپ کے اور ضعفاء مسلمین کے نکلنے کے بعد کیوں نہ ان کو اللہ تلوار کے ذریعہ عذاب کا مزا چکھائے اول قول (یعنی کفار کے حالت طواف میں استغفار کرنے کی صورت میں) یہ آیت ما قبل کی آیت کے لئے ناسخ ہے چناچہ (اہل مکہ کو) بدروغیرہ میں عذاب دیا گیا، جبکہ وہ نبی ﷺ اور مسلمان کو مسجد حرام میں طواف کرنے سے روک رہے ہیں حالانکہ وہ مسجد حرام کے (جائز) متولی نہیں ہیں، جیسا کہ ان کا دعوی ہے، اس کے (جائز) متولی تو صرف اہل تقویٰ ہی ہوسکتے ہیں، لیکن اکثر لوگ اس بات کو اس پر ولایت حاصل نہیں ہے نہیں جانتے بیت اللہ کے پاس ان لوگوں کی نماز بس سیٹیاں بجانا اور تالیاں پٹنا ہے، یعنی اس عمل کو انہوں نے نماز کے قائم مقام کرلیا تھا جس کے وہ مامور تھے، لو اب بدر میں انکار حق کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو بلا شبہ یہ کافر اپنے مالوں کو نبی ﷺ سے لڑنے میں صرف کررہے ہیں تاکہ اللہ کے راستہ سے روکیں ابھی اور خرچ کریں گے پھر یہ انجام کار مال کے ضائع ہونے اور مقصد حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لئے ندامت ہوگی پھر وہ دنیا میں مغلوب کئے جائیں گے اور پھر یہ کافر آخرت میں جہنم کی طرف گھیر کر لائے جائیں گے، تاکہ اللہ کافر کر مومن سے ممتاز کردے (لیمیز) تخفیف اور تشدید کے ساتھ تکون کے متعلق ہے، اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر جمع کرے پھر اس پلندے کو جہنم میں پھینکدے یہی کو گ اصلی دیوالیے ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : بِدَارِ النَدْوَةِ ، دارالند وہ کر قریش کے جدا بعد قصی بن کلاب نے بنایا تھا۔
قولہ : بتَدْ بِیْرِاَ مْرِکَ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ یمکر اللہ، بطور مجاز مرسل کے استعمال ہوا ہے، مکر ذکر کے اسکار دمقصد ہے
قولہ : وعلی القَوْلِ الاَ وَّلِ ھِیَ نَا سِخَة م لہٰذا آیت سابقہ اور لاحقہ میں اب کوئی تعارض نہیں۔
تفسیر وتشریح
یٰا یّھا الَّذِیْنَ آمنو ان تتقوا اللہ، اس آیت میں سابقہ آیت کے مضمون کی تکمیل ہے اس کا مضمون یہ ہے جو شخص عقل کو طبعت پر غالب رکھ کر اس آزمائش میں ثابت قدم رہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و محبت کو سب چیزوں پر مقدم رکھے اسی کو قرآن و سنت کی اصلاح میں متقی کہتے ہیں اس آیت میں ایک لفظ فرقان آیا ہے، اس کے کئی معنی بیان کئے گئے ہیں مثلاً ایسی چیز سے حق و باطل کے درمیان فرق کیا جاسکے، مطلب یہ ہے کہ تقوے کی بدولت دل مضبوط، بصیرت تیز، جس سے انسان کو ہر ایسے موقع پر جب عام انسان التباس اور اشتباہ کی وادیوں میں بھٹک رہے ہوں صراط مستقیم کی توفیق مل جاتی ہے علاوہ ازیں فتح، نصرت، نجات، مخرج، ہدایت، کسوٹی، اور یہ سارے ہی معنی مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ تقوے سے یقینا یہ سارے معنی حاصل ہوسکتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ تکفیر سیئات، مغفرتِ ذنوب اور فضل عظیم بھی حاصل ہوتا ہے۔
Ayah 8:30وَاِذیمکربک الَّذِیْنِ کفروا (الآیة) یہ اس موقع کا ذکر ہے کہ قریش کا یہ اندیشہ یقین کی حد کو پہنچ چکا تھا کہ محمد ﷺ بھی مدینہ چلے جائیں گے، اس سے پہلے ایک ایک دو دو کرکے بہت سے صحابہ مدینہ پہنچ چکے تھے، اس وقت وہ آپس میں کہنے لگے کہ اگر یہ شخص مکہ سے نکل گیا تو پھر خطرہ ہمارے قابو سے باہر ہوجا ئیگا چناچہ انہوں نے اس معاملہ میں آخری فیصلہ کرنے کے لئے دارالندوہ میں تمام رؤسائے قوم کا ایک اجتماع کیا اور اس امر پر باہم مشورہ کیا کہ اس خطرہ کا سدّ باب کس طرح کیا جائے ایک فریق کی رائے یہ تھی کہ اس شخص کو بیڑیاں پہنا کر قید کردیا جائے اور زندگی بھر رہا نہ کیا جائے، لیکن اس رائے کو قبول نہ کیا گیا، کیونکہ کہنے والوں نے کہا کہ اگر ہم نے اسے قید کردیا تو اس کے جو ساتھی قید سے باہر ہیں وہ برابر اپنا کام کرتے رہیں گے اور موقع پاتے ہی اپنی جان پر کھیل کر چھڑا لیجائیں گے، دوسرے فریق کی رائے یہ تھی کہ اس کو اپنے یہاں سے نکالدو جب ہمارے یہاں سے چلا جا ئیگا تو پھر ہمیں اس سے کوئی بحث نہیں کہ وہ کہاں رہتا ہے اور کیا کرتا ہے ؟ لیکن اس رائے کو یہ کہہ کر رد کردیا گیا کہ یہ شیریں کلام اور جادو بیان شخص ہے دلوں کو موہ لینے میں اس کو بلا کا کمال حاصل ہے اگر یہ یہاں سے نکل گیا تو نہ معلوم عرب کے کن کن قبیلوں کو اپنا پیرو بنالے گا اور پھر کتنی قوت حاصل کرکے قلب عرب کو اپنے اقتدار میں لانے کے لئے تم پر حملہ آور ہوگا، آخر میں ابو جہل نے یہ رائے پیش کی کہ ہم اپنے تمام قبیلوں میں سے تیز دست نوجوان منتخب کریں اور یہ سب مل کر یکبارگی محمد ﷺ پر حملہ آور ہوں اور قتل کرڈالیں اس طرح ان کا خون تمام قبیلوں پر تقسیم ہوجائیگا، اور بنو عبد مناف کے لئے ناممکن ہوگا کہ سب سے لڑسکیں اسی لئے مجبورًاخون بہا پر فیصلہ کرنے کے لئے تیار ہوجائیں گے، اس رائے کو سب نے پسند کیا، قتل کے لئے تیزدست نوجوان مقرر ہوگئے حتی کہ جو رات اس کام کے لئے تجویز کی گئی تھی اس میں ٹھیک وقت پر قاتلوں کا گروہ اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گیا اور گھر کے باہر کھڑا رہا کہ آپ گھر سے باہر نکلیں تو آپ کا کام تمام کردیا جائے، آپ ﷺ نے گھر سے باہر نکلتے وقت ایک مٹھی خاک لی اور شاھت الوجوہ کہتے ہوئے ان کی طرف پھیک کر بڑے اطمینان کے ساتھ ان لوگوں کے درمیان سے نکل کر چلے گئے۔
Ayahs 8:31–32وَاذایتلی عَلَیھم آیاتنا قالوا سَمِعْنا لو نشائُ لَقُلْنا مِثلَ ھذا، نضر بن حارث جو ایک چرب زبان تیز طرار قسم کا شخص تھا، اسی نے کہا تھا کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا قرآن بنا کر پیش کرسکتے ہیں، یہ وہی شخص ہے جس کو بدر کی لڑائی میں حضرت مقداد ؓ نے پکڑ لیا تھا باوجود اس کے کہ بدر کے قیدی فدیہ لے کر رہا کردیئے گئے تھے مگر نضربن حارث کو نبی ﷺ نے قتل کرادیا تھا کہ وہ قرآن مجید کی شان میں ناشائستہ اور سخت الفاظ کہا کرتا تھا، تجارت کے سلسلہ میں یہ شخص عجمی ممالک کا اکثر سفر کیا کرتا تھا جس کی وجہ سے رستم واسفندار کی داستانیں اس کو خوب یاد تھیں قرآن کے مقابلہ میں مشرکوں کو وہ داستانیں سنایا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ بتاؤ میرے قصے اچھے ہیں یا قوم عادو ثمود کے وہ قصے جنہیں محمد ﷺ سنایا کرتے ہیں اور کہا کرتا تھا اگر میں جاہوں تو ایسا قرآن بنا کر لاسکتا ہوں، اسی پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
آگے کی آیت میں پتھر برسنے اور عذاب آنے کی خواہش کا جو ذکر ہے صحیح بخاری و مسلم میں انس بن مالک سے روایت ہے کہ یہ خواہش ابوجہل نے کی تھی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں سعید بن جبیر کی روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواہش بھی نضر بن حارث ہی کی تھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواہش ابوجہل اور نضر بن حارث دونوں نے کی تھی۔