Ayah 7:1آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے (المص) اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ ایک کتاب ہے جو آپ پر نازل کی گئی ہے، اس میں آپ کو خطاب ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ لوگوں کو ڈرائیں (لتُنذِرَ ) اُنْزِلَ کے متعلق ہے، ای اُنزِل لِلْانذار، لہٰذا اس کی تبلیغ سے اس خوف سے کہ آپ کی تکذیب کی جائے گی آپ کو کوئی جھجک نہ ہونی چاہیے، اور (تاکہ) اس کے ذریعہ مومنوں کو نصیحت ہو، ان سے کہو، جو قرآن تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے اتارا گیا ہے اس کی اتباع کرو، اور اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو سرپرست نہ بناؤ کہ اللہ کی معصیت میں ان کی اطاعت کرو، تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو (یذکرون) تاء اور یاء کے ساتھ بمعنی یَتّعِظوْنَ ، اور اس میں اصل میں تاء کا ذال میں ادغام ہے اور ایک قراءت میں ذال کے سکون کے ساتھ ہے اور مَا قلّت کی تاکید کیلئے زائدہ ہے، اور بہت سی بستیوں کو کم خبر یہ مفعول ہے، اور بستی سے مراد اہل بستی ہیں ہم نے تباہ کردیا، (یعنی) جن بستیوں کو ہم نے برباد کرنے کا ارادہ کیا ان کو برباد کردیا، اور ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آپہنچا، یا ایسی حالت میں کہ وہ دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے، قیلولہ، دوپہر کے وقت آرام کرنے کو کہتے ہیں، اگرچہ اس میں سونا نہ ہو، مطلب یہ کہ (عذاب) کبھی دن میں اور کبھی رات میں آیا، جب ان پر ہمارا عزان آیا تو ان کے منہ سے بجز اس بات کے کوئی بات نہ نکلی کہ واقعی ہم ظالم تھے، پھر ہم ان لوگوں سے ضرور باز پرس کریں گے جن کے پاس رسول بھیجے گئے تھے یعنی ہم امتیوں سے (ان کے) رسولوں کی دعوت قبول کرنے اور جو انہوں نے ان کو تبلیغ کی، اس پر عمل کرنے کے بارے میں (ضرور باز پرس کریں گے) اور پیغام پہنچانے کے بارے میں رسولوں سے (بھی) ضرور سوال کریں گے پھر ہم پورے علم کے ساتھ ان کی عملی سرگرمیوں کی ان کو خبر دیں گے، (ہمارے) ان کے اعمال سے باخبر ہونے کی وجہ سے ان کو پوری تفصیل بتادیں گے، (آخر) ہم کہیں رسولوں کی تبلیغ اور گذشتہ امتوں کے کارناموں سے بیخبر تو نہیں تھے، اور اعمال کا یا اعمال ناموں کا ایسی ترازو سے کہ جس کا (ایک) کانٹا اور دو پلڑے ہوں گے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، ایسے دن میں یعنی سوال مذکور کے دن میں کہ وہ قیامت کا دن ہوگا عدل کے ساتھ (اعمال) کا وزن ہوگا، العدل، الوزن کی صفت ہے، سو جن لوگوں کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے اور جن لوگوں کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کی وجہ سے ہلکا ہوگا یہی ہیں وہ لوگ جو خود کو جہنم رسید کرنے کی وجہ سے اپنا نقصان کرنے والے ہوں گے، اس وجہ سے کہ وہ ہماری آیتوں کی تکذیب کرکے ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے، اے بنی آدم ہم نے تم کو زمین میں بااختیار سکونت دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں اسباب معیشت پیدا کئے جن کے ذریعہ تم زندگی گذارتے ہو، مَعَائش مَعِیْشَۃ کی جمع ہے، تم لوگ بہت ہی کم شکر گزار ہو، مَا، تاکید قلت کیلئے ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : للانذار، اس میں اشارہ ہے کہ لِتُنْزِرَ میں لام کے بعد اَن مصدریہ مقدر ہے لہٰذا یہ شبہ بھی ختم ہوگیا کہ لِتُنْذِرَ میں فعل پر حرف جرد اخل ہے، فلا یکن فی صَدْرک حرج مِنہ، علت اور معلول کے درمیان یہ جملہ معترضہ ہے۔
قولہ : وذِکریٰ یہ کتابٌ پر معطوف ہونے کی وجہ سے تقدیراً مرفوع، یہ اسم مصدر ہے، تقدیر عبارت یہ ہے، ھذا کتابٌ وتذکرۃ للمؤمنین
قولہ : قُلْ لھم، یہ ایک سوال کا جواب کی طرف اشارہ ہے کہ ما سبق میں خطاب آپ ﷺ کو ہے پھر اچانک روئے خطاب دیگر مخاطبین کی طرف ہوگیا اس کی بظاہر نہ کوئی وجہ ہے اور نہ قرینہ، اسی کے جواب کیلئے قل لَھم، محذوف مان کر التفات کو صحیح قرار دیا ہے
قولہ : خَبَرِیّۃٌ مفعولٌ، یعنی کم خبر یہ فعل محذوف کا مفعول واقع ہے اور علی شریطۃ التفسیر کے قبیل سے ہے تقدیر عبارت یہ ہے، اَوْ اَھْلَکنا کَم من قریۃٍ اَھْلکناھا۔
قولہ : اَرَدْنَا۔ سوال : اَھْلکنا سے پہلے اَرَدْنا محذوف ماننے سے کیا فائدہ ہے ؟
جواب : مفسر علام نے اَرَدْنا محذوف مان کر ایک سوال کا جواب دیا ہے، سوال کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول کم من قریۃ اَھْکناھا سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلاک مقدم ہے اور فجاء ھنا باسنا مؤخر ہے، یعنی اہلاک جو کہ مسبب ہے وہ مقدم ہے اور مجیئ بأس جو کہ سبب ہے وہ مؤخر ہے حالانکہ سبب مسبب سے مقدم ہوتا ہے یعنی عذاب کی آمد مقدم ہوتی ہے اور ہلاکت بعد میں ہوتی ہے، آیت سے اسکا عکس مفہوم ہوتا ہے، علماء مفسرین نے اس کے مختلف جواب دئیے ہیں، ان ہی میں سے ایک جواب مفسر علام نے اردنا محذوف مان کردیا ہے یعنی ہم نے ان کے ہلاک کرنے کا ارادہ کیا تو ہمارا ان پر عذاب آیا، تقدیر عبارت یہ ہے اَرَدْنا اھلاکھا فجائھا باسُنا، مگر یہاں اب بھی یہ سوال باقی ہے کہ فجاء ھنا میں فاء تعقیبیہ ہے جو عذاب کے ہلاکت سے بعد آنے پر دلالت کرتی ہے لہذٰا سابق سوال علی حالہٖ باقی ہے
جواب : فاء کبھی تفسیر کیلئے بھی آتی ہے اسلئے کہ ہلاکت کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں مثلاً کبھی موت طبعی اسباب سے ہوتی ہے کبھی آگ میں جل کر ہوتی ہے تو کبھی پانی غرق ہو کر ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ، فَجَاءھا باسنا کہہ کر سبب موت کی تفسیر کردی کہ موت ہمارے عذاب کی وجہ سے ہوئی۔
قولہ : مَرّۃً جَاءَھَا لَیْلاً وَمَرَّۃً نھارًا، اس میں اشارہ ہے کہ اَوْ تنویع کیلئے ہے نہ کہ شک کیلئے اسلئے کہ اللہ کی ذات شک و تردد سے پاک ہے
سوال : ایک حال کا جب دوسرے حال پر عطف کیا جاتا ہے تو واؤ عاطفہ لانا ضروری ہوتا ہے یہاں اوھم قائلون کا بیَاناً پر عطف ہے لہٰذا درمیان میں واؤ عاطفہ کا ہونا ضروری ہے۔
جواب : اَوْ تنویع کے لئے ہے جو کہ درحقیقت حرف عطف ہی ہے اگر واؤ عاطفہ بھی لایا جاتا تو تقدیر عبارت یہ ہوتی اَوْھم قائلون، واؤ کو حذف کردیا اسلئے کہ دو حروف عطف کا اجتماع ثقیل ہوتا ہے۔
قولہ : اَوْ لِصحائفِھَا، اعمال کے بعد صحائف امال کا اضافہ اس سوال کا جواب ہے کہ اعمال چونکہ اعراض ہیں لہٰذا ان کا وزن ممکن نہیں ہے جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے تقدیر عبارت صحائف اعمال ہے، اور صحائف اعمال کے وزن میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
قولہ : لِسَانُ المِیْزَانِ ، لسان المیزان سے غالبًا وہ سوئی یا کانٹا مراد ہے جو دونوں پلڑوں کی برابری کو بتاتا ہے جب دونوں پلڑے بالکل مساوی ہوجاتے ہوں تو وہ لسان (کانٹا) بالکل ٹھیک وسط میں آجاتا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
قولہ : کائن، اس کی تقدیر میں اشارہ ہے کہ الوزن مبتداء ہے اور یومَئذٍ ، کائنٌ کے متعلق ہو کر مبتداء کی خبر ہے۔
قولہ : صِفَۃُ الْوَزْنِ اس میں ان لوگوں پر رد ہے جو، الحقُ ، کو اَلْوَزْنُ مبتداء کی خبر قرار دیتے ہیں اسلئے کہ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وزن اسی دن حق ہے نہ کہ اس کے علاوہ میں اور یہ غلط ہے۔
تفسیر و تشریح
سورت کا نام اور وجہ تسمیہ : اس سورت کا نام سورة اعراف ہے اور یہ نام اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس کی آیات نمبر 46۔ 47 میں اعراف اور اصحاب اعراف کا ذکر آیا ہے۔
مرکزی مضمون : پوری سورت پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مضامین معاد یعنی آخرت اور نبوت و رسالت سے متعلق ہیں اور یہی اس سورت کا مرکزی مضمون ہے اس کے علاوہ بعض انبیاء سابقین کے حالات اور ان کی امتوں کے واقعات اور ان کی جزاء و سزا کا بھی قدرے تفصیل سے ذکر ہے۔
المص، کی مراد کے بارے میں اگرچہ مختلف اقوال منقول ہیں مگر مفسر علام نے اللہ اعلم بمرادہ بذلک کہہ کر حروف مقطعات کے بارے میں احوط اور اسلم طریقہ کی طرف خود اشارہ کردیا ہے لہٰذا اس کی حقیقی مراد کو اللہ کے علم کے حوالہ کرنا ہی محتاط اور اسلاف کا طریقہ ہے۔
Ayahs 7:2–7فلا یکن فی صدرک حرج، پہلی آیت میں آپ ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے، لہٰذا آپ کو کسی قوم کی دل تنگی نہ ہونی چاہیے، دل تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اور اس کے احکام کی تبلیغ میں آپ کو کسی قسم کا خوف اور جھجک نہیں ہونی چاہیے اور اس سے انکار و تکذیب کی صورت میں آپ کو کوفت اور کڑھن نہ ہونی چاہیے (ای یضیق صدرک اَلاَّ یؤمنونوا بہ) قرطبی (یعنی) قیامت کے روز عوام الناس سے سوال کیا جائیگا کہ ہم نے تمہارے پاس اپنے رسول اور کتابیں بھیجی تھیں تم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اور رسولوں سے پوچھا جائیگا کہ جو پیغام رسالت اور احکام شریعت دیکر ہم نے تم کو بھیجا تھا وہ آپ لوگوں نے اپنی اپنی امتوں کو پہنچا دئیے یا نہیں ؟ (معارف، اخرجہ بیھقی عن ابن عباس ؓ تعالی)
صحیح مسلم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں حاضرین سے سوال فرمایا ” کہ جب قیامت کے روز تم لوگوں سے میرے بارے میں سوال کیا جائیگا کہ میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچایا یا نہیں ؟ تو تم کیا جواب دو گے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم کہیں گے کہ آپ نے اللہ کا پیغام ہم تک پہنچا دیا، اور امانت خداوندی کا حق ادا کردیا، اور امت کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ فرمایا، یہ سنکر آپ ﷺ نے فرمایا اللھم اشھد، یا اللہ آپ گواہ ہیں۔
Ayahs 7:8–10وَالوزن یومَئِذِن الحق، (الآیۃ) یعنی روز قیامت وزن اعمال برحق ہے اس میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہوئی چاہیے، یہ شبہ نہ ہونا چاہیے کہ وزن تو اجسام کا ہوتا ہے اور اعمال خواہ اچھے ہوں یا برے ازقبیلہ اعراض ہیں جن کا کوئی جرم و جسم نہیں ہوتا، پھر اعمال کے وزن کی کیا صورت ہوگی ؟ اس بارے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ رب العلمین قادر مطلق ہے اور ہر شئ پر قادر ہے اس کی قدرت سے کوئی شئ خارج نہیں ہے یہ کیا ضروری ہے کہ جس چیز کو ہم نے تول سکیں حق تعالیٰ بھی نہ تول سکیں، اس کے علاوہ جدید دور کی جدید ایجادات نے تو اس مسئلہ کو بالکل واضح اور صاف کردیا ہے اب کوئی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں رہی، اب نئے آلات کے ذریعہ وہ چیزیں بھی تولی جاتی ہیں جو پہلے نہیں تولی جاتی تھیں، اب ایسے آلات ایجاد ہوچکے ہیں کہ جن میں ہ ترازو کی ضرورت نہ اس کے پلوں کی اور نہ ڈنڈی اور کانٹے کی، آج تو ان آلات کے ذریعہ ہوا تولی جاتی ہے برقی رو تولی جاتی ہے گری سردی تولی جاتی ہے ان کا میٹر ہی ان کی ترازو ہے، اگر حق تعالیٰ اپنی قدرت کا ملہ سے انسانی اعمال کا وزن کرلیں تو اس میں کیا استبعاد ہے ؟
اعراض کے متعلق ” بارکلے “ کا نظریہ : برطانیہ کے مشہور فلسفی نے ثابت کیا ہے کہ مادہ کے جتنے بھی اعراض تسلیم کئے گئے ہیں ان کی آسل تو محسوسیت ہی ہے اگر سرے سے محسوس ہی نہ ہوں تو ان کے وجود ہی کے کوئی معنی نہیں (ماجدی) اعمال کی صفت وزن آج ہمارے موجودہ قویٰ کے لئے غیر محسوس ہے، روز قیامت ہمارے ترقی یافتہ قویٰ کے لئے محسوس و مدرک ہوجائیگی۔
عرض کو جوہر میں تبدیل کردینا اللہ کی قدرت میں ہے : خالق کائنات کو اس پر بھی قدرت حاصل ہے کہ ہمارے اعمال کو کسی وقت جوہر میں تبدیل کرکے کوئی شکل و صورت عطا فرما دیں، آپ ﷺ سے منقول بہت سی روایات اس پر شاہد ہیں کہ برزخ اور محشر میں انسانی اعمال خاص خاص شکلوں و صورتوں میں آئیں گے، قبر میں انسان کے اعمال صالحہ حسین صورت میں اس کے مونس بنیں گے اور برے اعمال سانپ بچھو بن کر اس کو لپٹیں گے حدیث میں ہے کہ جس شخص نے مال کی زکوٰۃ نہ دی ہوگی وہ مال ایک زہریلے سانپ کی شکل میں اس کی قبر میں پہنچ کر اس کو ڈ سے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ (معارف)
Ayahs 7:11–12آیت نمبر 11 تا 25
ترجمہ : اور ہم نے تم کو یعنی تمہارے دادا آدم کو پیدا کیا پھر تمہاری صورتیں بنائیں یعنی تمہاری صورتیں اس حال میں بنائیں کہ تم آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھے، پھر ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو، جھک کر سجدہ تعظیمی، تو سب نے سجدہ کیا بجز ابو الجن ابلیس کے اور وہ فرشتوں کے درمیان بودوباش رکھتا تھا، اور وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کس چیز نے تجھ کو سجدہ کرنے سے روکا جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا، لا، زائدہ ہے، (تو) کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں (اسلئے کہ) تو نے مجھے آگ سے اور اسکو مٹی سے پیدا کیا، حق تعالیٰ نے فرمایا تو جنت سے اتر اور کہا گیا ہے کہ آسمانوں سے اتر، تجھ کو کوئی حق نہیں کہ تو آسمانوں (یا جنت) میں رہ کر تکبر کرے، لہٰذا تو اس سے نکل بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے، (ابلیس) نے کہا مجھے اس دن تک مہلت دے جس دن لوگ اٹھائے جائیں حق تعالیٰ نے فرمایا تجھے مہلت ہے، اور دوسری آیت میں ہے وقت مقرر تک یعنی نفخہ اولیٰ تک، تو (ابلیس) نے کہا قسم ہے مجھے تیرے اغوا کرنے کی باء قسم کے لئے ہے میں ان کے یعنی بنی آدم کیلئے تیری سیدھی راہ پر (یعنی) اس راہ پر جو تجھ تک پہنچانے والی ہے بیٹھوں گا، اور اس کا جواب لَاَقْعُدنَّ ہے، پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے یعنی ہر جہت سے ان کو راہ راست پر چلنے سے روکوں گا ابن عباس نے فرمایا لوگوں کے اوپر سے آنی کی استطاعت نہیں رکھتا تاکہ وہ بندے اور اللہ کی رحمت کے درمیان حائل نہ ہوجائے اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گذار (یعنی) مومن نہ پائیں گے اللہ نے فرمایا تو یہاں سے معیوب مغضوب مردود ہو کر نکل جا، انسانوں میں سے جو تیری پیروی کرے گا اور لام ابتداء ہے یا قسم کی تمہید کے لئے ہے (یعنی قسم محذوف پر دلالت کرنے کے لئے) وہ لَاملئنَّ ہے، میں تم سب سے جہنم کو ضرور بھر دوں گا، یعنی تجھ سے مع تیری ذریت کے اور انسانوں سے (جہنم کو بھر دوں گا) اس میں حاضر کو غائب پر غلبہ دیا گیا ہے، اور جملہ (لأملئنَّ ) میں مَنْ شرطیہ کی جزاء کے معنی ہیں، یعنی جو تیری اتباع کرے گا میں اس کو عذاب دوں گا، اور (اللہ نے) فرمایا اے آدم تم اور تمہاری بیوی حواء مد کے ساتھ (انت) اُسکن کے اندر ضمیر مستر کی تاکید ہے تاکہ اس پر عطف کیا جاسکے، جنت میں رہو، جہاں سے جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاؤ اور کھانے کی نیت سے اس درخت کے قریب بھی مت جانا اور وہ شجر گندم ہے ورنہ تو تمہارا شمار ظالموں میں ہوجائیگا، پھر شیطان ابلیس نے ان دونوں کو بہکایا تاکہ ان دونوں کی شرم گاہوں کو جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ظاہر کر دے (وُوْرِی) المواراۃ سے فُوعِلَ کے وزن پر ماضی مجہول ہے اور کہا تم دونوں کو اس درخت سے دور کرنے کی بجز اس کے کوئی وجہ نہیں کہ اس کو تمہارا فرشتہ ہوجانا ناپسند ہے اور (ملِکین) کا لام کے کسرہ کے ساتھ (بھی) پڑھا گیا ہے یا یہ کہ تم دونوں ہمیشہ کے لئے جنتی ہوجاؤ اسلئے کہ یہ (خلود) اس کے کھانے کے لئے لازم ہے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے (ھَلْ اَدُلُّک علی شجرۃ الخلد وَمُلکٍ لا یبلیٰ ) اور ان دونوں کے روبرو اللہ کی قسم کھائی کہ میں اس معاملہ میں یقیناً تم دونوں کا خیر خواہ ہوں سو ان دونوں کو ان کے مقام سے فریب کے ذریعہ نیچے لے آیا، ان دونوں نے جب درخت کو چکھا یعنی اس کا پھل کھایا تو دونوں کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھل گئیں، یعنی ان میں ہر ایک کی قبل اور دوسرے کی قبل اور اس کی دبر ظاہر ہوگئی، اور دونوں کی شرمگاہوں کا سوأۃ نام رکھا اسلئے کہ شرمگاہ کا کھل جانا صاحب شرمگاہ کو رنجیدہ کرتا ہے، اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتوں کو چپکانے لگے، یعنی دونوں نے اپنی شرمگاہوں پر پتوں کو چپکانا شروع کردیا، تاکہ ان کے ذریعہ ستر پوشی کریں، اور ان کے رب نے ان کو پکارا کیا یہ نہ کہہ چکا تھا کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے کھلی عداوت والا ہے، یہ استفہام تقریری ہے دونوں نے کہا اے رب ہم نے معصیت کے ذریعہ اپنے اوپر ظلم کیا، اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہمارے اوپر رحم نہ کرے گا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے اللہ نے حکم دیا اے آدم و حواء تم مع اپنی ذریت کے جس پر تم مشتمل ہو نیچے اتر و تمہاری ذریت میں سے بعض بعض کی دشمن ہوگی بعض کے بعض پر ظلم کرنے کی وجہ سے، اور تمہارے لئے زمین جائے سکونت ہے اور ایک مدت تک (اس میں) نفع حاصل کرنا ہے تم مدت العمر وہیں رہو گے، فرمایا تمہیں زمین ہی پر زندگی بسر کرنی ہے اور وہیں مرنا ہے اور زندہ کرکے تمہیں وہیں سے نکالا جائیگا (تخرجون) میں معروف و مجہول دونوں ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ای اباکم آدم۔ سوال : خلقنٰکم میں خطاب بنی آدم کو ہے جس سے معلوم ہوتا ہے خلق و تصویر کا تعلق بنی آدم سے ہے حالانکہ خلقنٰکم کی تفسیر اَیْ اَباکم آدم سے معلوم ہوتا ہے کہ خلق و تصویر کا تعلق آدم (علیہ السلام) سے ہے۔
جواب : یہ ہے کہ چونکہ آگے ملائکہ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آدم کو سجدہ کریں اگر خلقنٰکم میں کُم سے مراد آدم (علیہ السلام) نہ ہوں تو تخلیق اور امر بالسجدہ میں مطابقت باقی نہیں نہ رہے گی یعنی تخلیق بیان ہو رہی ہے ذریۃً کی اور اس کا انعام دیا جا رہا ہے آدم (علیہ السلام) کو اسی شبہ کو دور کرنے کے لئے مضاف محذوف ماننے کی ضرورت پیش آئی۔
قولہ : کَانَ بَیْنَ المَلاَئِکَۃِ ۔ سوال : اس عبارت کے اضافہ کا کیا مقصد ہے ؟
جواب : مذکورہ اضافہ کا مقصد اِلاَّ ابلیس کے استثناء کو درست قرار دینا ہے۔
سوال : اِلاَّ ابلیس ہی سے ابلیس کا سجدہ نہ کرنا مفہوم ہو رہا ہے پھر لم یکن من الساجدین کہنے سے کیا فائدہ ہے ؟
جواب : اِلاَّ ابلیس سے مطلق سجدہ کی نفی مفہوم نہیں ہوتی بلکہ صرف بوقت حکم سجدہ کی نفی مفہوم ہو رہی ہے ممکن ہے کہ اس وقت سجدہ نہ کیا ہو مگر بعد میں کرلیا ہو، جب لم یکن من الساجدین کا اضافہ ہوگیا تو اس سے مطلق سجدہ کی نفی ہوگئی یعنی ابلیس نے نہ بوقت حکم سجدہ کیا اور نہ بعد میں۔
قولہ : زائدۃ، یعنی اَلاَّ میں لا زائدہ ہے ورنہ تو مطلب ہوگا سجدہ کرنے سے منع کیا اسلئے کہ نفی النفی اثبات ہوتا ہے حالانکہ یہ مقصد نہیں
قولہ : أَخِّرْنِی، انظرنی کی تفسیر اَخِّرنی سے کرکے اشارہ کردیا کہ، انظرنی بمعنی انتظار ہے نہ کہ بمعنی رؤیت ورنہ تو معنی فاسد ہوجائیں
شبہ : شبہ یہ ہے کہ ابلیس نے انظرنی الی یوم یُبْعَثُوْنَ کہہ کر نفخہ ثانیہ تک زندہ رہنے کی اجازت طلب کی اور اس کے بعد موت نہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اِنَّکَ مِنَ المُنظرین کہہ کر ابلیس کی درخواست منظور فرمالی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابلیس موت سے محفوظ ہوگیا اس پر موت طاری نہیں ہوگی اسلئے کہ نفخہ اولی سے پوری کائنات پر فنا طاری ہوگی اور نفخہ ثانیہ سے پوری کائنات زندہ ہوجائے گی چونکہ ابلیس نے نفخہ ثانیہ تک زندہ رہنے کی اجازت طلب کی تھی جو کہ منظور بھی ہوگئی اسلئے کہ اللہ تعالیٰ کے قول انک مِنَ المنظرین سے یہی مفہوم ہے۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ اِنّکَ مِنَ المنظرین سے اگرچہ مطلقاً ابلیس کی درخواست کو قبول کرنا معلوم ہوتا ہے مگر دوسری آیت میں معلوم ہوتا ہے کہ مراد نفخہ اولی ہے جو کہ نفخہ فنا ہے لہٰذا معلوم ہوگیا کہ ابلیس بھی فنا ہونے والوں میں شامل ہوگا۔
قولہ : مَذْؤمًا بالھمزۃ بمعنی معیوباً ایک قراءت میں مذمومًا بھی ہے۔ قولہ : وَاللام للابتداء لَمَنْ تبعکَ میں لام ابتدائیہ تاکید کیلئے ہے۔
قولہ : وفِی الْجُمْلَۃِ مَعْنَی الْجَزَاءِ یہ اضافہ اس سوال کا جواب ہے کہ لَمَنْ تبِعَکَ شرط بغیر جزاء کے ہے جواب کا حاصل یہ ہے کہ جملہ لاملئنَّ قائم مقام جزاء ہے لہٰذا شرط بدون الجزاء کا اعتراض ختم ہوگیا۔
سوال : مذکورہ جملہ کو قائم مقام جملہ جزاء قرار دینے کے بجائے جزاء قرار کیوں نہیں دیا ؟
جواب : جملہ فعلیہ جب جزاء واقع ہوتا ہے تو اس پر لام داخل نہیں ہوتا اور یہاں لام داخل ہے اسی لئے اس جملہ کو جزاء قرار دینے کے بجائے قائم مقام جزاء قرار دیا ہے۔ (ترویح الارواح)
قولہ : اَوْ موطئۃً للقسم یعنی لام قسم محذوف پر دلالت کرنے کیلئے ہے اور وہ لاَ ملئنَّ الخ ہے ای اقسم لا ملئنَّ الخ۔
قولہ : وُوْرِیَ (بروزن) فُوْعِلَ مِنَ الموارۃ، اس میں ایک سوال مقدر کے جواب کی طرف اشارہ ہے۔
سوال : جب اول کلمہ میں دو داؤ جمع ہوجاتے ہیں اور ان میں اول مضموم ہو تو اول کو ہمزہ سے بدلنا واجب ہوتا ہے جیسا کہ وُوَیْصِلٌ میں جو کہ واضِلٌ کی تصغیر ہے پہلے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر اُوَیْصِلٌ کردیا۔
جواب : یہ قاعدہ ان دو واؤ میں ہے جو متحرک ہوں تاکہ چقل کو کم کیا جاسکے، اور یہاں ثانی واؤ ساکنہ ہے لہٰذا یہاں یہ قاعدہ جاری نہ ہوگا
قولہ : حطّھما، یہ تفسیر لازم معنی کو بیان کرنے کیلئے ہے اسلئے کہ تدلیہ ارسال الشئ من اعلی الی اسفل کو کہتے ہیں۔
قولہ : ای آَدْمُ و حَوَّاءُ بما اشتَمَلْتُمَا الخ، یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ اھبطوا جمع کا صیغہ ہے حالانکہ اس کے مخاطب آدم (علیہ السلام) و حواء صرف دو فرد ہیں لہٰذا اِھْبطا ہونا چاہیے تھا، جواب کا حاصل یہ ہے کہ مراد حضرت آدم و حواء مع انکی ذریت ہیں لہٰذا کوئی شبہ نہیں
تفسیر و تشریح
ولقد خلقنٰکم، خلَقنٰکم میں ضمیر اگرچہ جمع کی ہے مگر مراد اس سے ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں حضرت آدم چونکہ اپنی پوری ذریت پر مشتمل ہیں اور ابو البشر ہیں اسی وجہ سے جمع کی ضمیر سے خطاب فرمایا، اخفش نے کہا ہے کہ ثمَّ صورنا کم میں ثم بمعنی واؤ ہے، اَلاَّ تسجدَ میں لا زائدہ ہے ای اَنْ تسجدَ ، (تجھے سجدہ کرنے سے کس نے روکا، یا عبارت محذوف ہے یعنی تجھے کس چیز نے اس بات پر مجبور کیا کہ تو سجدہ نہ کرے (ابن کثیر، فتح القدیر) اور کہا گیا ہے کہ مَنَعَ بمعنی قال ہے الی من قال لک ان لا تسجد اور کہا گیا ہے کہ مَنَعَ بمعنی دعا ہے ای ما دَعٰک اِلیٰ اَن لاتسجد، شیطان فرشتوں میں سے نہیں تھا بلکہ خود قرآن کی صراحت کے مطابق جنات میں سے تھا (الکہف) لیکن آسمان پر فرشتوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اس سجدہ کے حکم میں شامل تھا جو اللہ نے فرشتوں کو دیا تھا اسی لئے اس سے سجدہ نہ کرنے پر باز پرس ہوئی، اگر وہ اس حکم میں شامل نہ ہوتا تو اس سے باز پرس نہ ہوتی اور نہ وہ راندہ درگاہ ہوتا۔
انسانی تخلیق کا قرآنی نظریہ : مذکورہ آیت سے تخلیق ابو البشر کی جو تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے پہلے ابو البشر کی تخلیق کا منصوبہ بنایا، اور مادہ آفرینش تیار کیا، پھر اس مادہ کو انسانی صورت بخشی، پھر جب ایک زندہ ہستی کی حیثیت سے انسان وجود میں آگیا تو اس کو سجدہ کرنے کے لئیے فرشتوں کو حکم دیا، اس آیت کی یہ تشریح خود قرآن مجید میں دوسرے مقام پر بیان کی گئی ہے، مثلاً سورة ص میں ہے، ” اِذ قال رَبُّکَ للملئِکۃ اِنی خالق بشراً من طین فاِذَا سَوّیتہٗ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سٰجدین “ اس آیت میں وہی تین مراتب ایک دوسرے انداز میں بیان کئے گئے ہیں، یعنی پہلے مٹی سے ایک بشر کی تخلیق پھر اس کی شکل و صورت اور اعضاء میں تسویہ و اعتدال قائم کرنا پھر اس کے اندر اپنی روح پھونکنا اگرچہ تخلیق انسانی کے اس آغاز کو اس کی تفصیلی کیفیت کے ساتھ کما حقہ ہمارے لئے سمجھنا مشکل ہے، اور نہ ہم اس حقیقت کا پوری طرح ادراک کرسکتے ہیں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن مجید انسانیت کے آغاز کی کیفیت ان نظریات کے خلاف بیان کرتا ہے جو موجودہ زمانہ میں ڈارون کے متبعین نظریہ ارتقاء کو سائنس کے نام پر پیش کرتے ہیں، ان نظریات کی رو سے انسان غیر انسانی یا نیم انسانی حالت کے مختلف مدارج سے ترقی کرتا ہوا مرتبہ انسانیت تک پہنچا ہے، اور اس ارتقاء کے طویل خط میں کہیں کوئی نقطہ خاص نظر نہیں آتا کہ جہاں سے غیر انسانی حالت کو ختم قرار دیکر نوع انسانی کا نقطہ آغاز تسلیم کیا جائے، اس کے برخلاف قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ انسانیت کا آغاز خالص انسانیت سے ہوا، اس کی تاریخ قطعاً کسی غیر انسانی تاریخ سے کوئی رشتہ نہیں رکھتی وہ اول روز سے انسان بنایا گیا تھا اور خدا نے کامل انسانی شعور کے ساتھ اس کی ارضی زندگی کی ابتداء کی تھی۔
ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی حقیقت : اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ قرآنی تصور انسان چاہے اخلاقی حیثیت سے کتنا ہی بلند ہو مگر محض اس تخیل کی خاطر ایسے نظریہ کو کس طرح رد کیا جاسکتا ہے کہ جو سائنٹفک دلائل سے ثابت ہے، لیکن جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں ان سے ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا فی الواقع ڈارونی نظریہ ارتقاء سائنٹفک دلائل سے ثابت ہوچکا ہے ؟ سائنس سے محض سرسری واقفیت رکھنے والا تو بیشک اس غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتا ہے کہ ڈارونی نظریہ ایک ثابت شدہ حقیقت بن چکا ہے، لیکن محققین اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ الفاظ کے لمبے چوڑے دعوؤں اور ہڈیوں کے عجیب و غریب ڈھانچوں کے باوجود ابھی تک یہ صرف ایک نظریہ ہی ہے، اور اس کے جن دلائل کو غلطی سے دلائل ثبوت کہا جاتا ہے وہ دراصل محض دلائل امکان ہیں۔
Ayah 7:13قال فاھبط منھا، منھا کی ضمیر کا مرجع اکثر مفسرین نے جنت کو قرار دیا ہے اور بعض نے اس مرتبہ کو جو ملکوے اعلی میں سے حاصل تھا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم کے مقابلہ میں تکبر کرنے والا احترام و تعظیم کا نہیں ذلت و خواری کا مستحق ہے۔
Ayahs 7:14–22قال انظرنی الی یوم یبعثون، ای امھلنی الی یوم البعث، یوم بعث تک مہلت طلب کرنے کا مطلب تھا کہ مجھے موت نہ آئے اس لئے کہ یوم بعث کے بعد موت نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ درخواست یہ کہتے ہوئے منظور فرمالی ” اِنَّکَ من المنظرین “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی یہ دعاء بعینہٖ قبول فرمالی، مگر دوسری آیت ” الی یوم الوقت المعلوم “ سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخہ اولی تک مہلت قبول فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ جسطرح پوری کائنات پر موت طاری ہوگی ابلیس پر بھی موت طاری ہوگی
Ayahs 7:23–25قالا ربنا ظلمنا انفسنا (الآیۃ) توبہ و استغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے سیکھے تھے جیسا کہ سورة بقرہ آیت 37 میں صراحت ہے، شیطان نے نافرمانی کا ارتکاب کیا مگر نہ صرف یہ کہ اس پر شرمندہ نہیں ہوا بلکہ اڑ گیا اور اس کے جواز پر عقلی و قیاسی دلائل دینے لگا نتیجتًا وہ راندہ درگاہ اور ہمیشہ کیلئے ملعون قرار پایا، اور حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنی غلطی و پشیمانی کا اظہار کیا اور بارگاہ الہیٰ میں توبہ و استغفار کا اہتمام کیا تو اللہ کی رحمت و مغفرت کے مستحق قرار پائے، گناہ کرکے اس پر اصرار کرنا اور صحیح ثابت کرنے کیلئے دلائل پیش کرنا شیطانی راستہ ہے اور گناہ کے بعد احساس ندامت سے مغلوب ہو کر بارگاہ الہیٰ میں جھک جانا اور توبہ و استغفار کا اہتمام کرنا بندگانِ الہیٰ کا راستہ ہے (اللّٰھم اجعلنا منھم) ۔
Ayahs 7:26–27آیت نمبر 26 تا 31
ترجمہ : اے آدم کی اولاد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرمگاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور سبب زینت بھی ہے، (ریش) وہ کپڑا کہ جس سے زینت حاصل کی جائے اور بہترین لباس تقوے کا لباس ہے یعنی عمل صالح کا، یا اچھی ہیئت، لِبَاسَ ، لباسًا پر عطف کرتے ہوئے نصب کے ساتھ ہے اور مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اس کی خبر جملہ ذٰلِکَ خیرٌ ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یعنی اللہ کی دلائل قدرت میں سے ایک دلیل ہے تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں اس میں خطاب سے (غیبت کی جانب) التفات ہے اے بنی آدم کہیں تمہیں شیطان گمراہ نہ کر دے جس طرح تمہارے والدین کی اس نے اپنے فتنہ کے ذریعہ ان دونوں کو جنت سے نکلوا دیا تھا یعنی اس کی پیروی نہ کرو ورنہ تم فتنہ میں مبتلا ہوجاؤ گے اس حال میں کہ ان کے لباس ان پر سے اتروادئیے (ینزَعُ ) اَبویکم سے حال ہے، تاکہ ان کی شرمگاہیں ایک دوسرے کو دکھادے (اور) یقیناً شیطان اور اس کا لشکر تم کو اس طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو ان کے جسموں کے لطیف اور بےرنگ ہونے کی وجہ سے نہیں دیکھ سکتے، ہم نے شیاطین کو ان لوگوں کا سرپرست معاون اور رفیق بنادیا ہے جو ایمان نہیں لاتے اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں مثلاً شرک، بیت اللہ کا ننگے طواف کرنا یہ کہتے ہوئے کہ ہم ان کپڑوں میں طواف ہیں کرتے جن میں ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں، اور جب ان کو اس سے منع کیا جاتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء (و اجداد) کو اسی طریقہ پر پایا ہے اسی وجہ سے ہم ان کی اقتداء کرتے ہیں، اور اللہ نے بھی ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ان سے کہو اللہ بےحیائی کا حکم نہیں دیا کرتا کیا تم اللہ پر ایسی باتوں کا بہتان لگاتے ہو جن کا تم علم نہیں رکھتے کہ اس نے وہ بات کہی ہے (یہ) استفہام انکاری ہے، آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے تو راستی و انصاف کا حکم دیا ہے ہر سجدہ کے وقت اللہ ہی کو طرف رخ رکھو یعنی سجدہ خالص اسی کیلئے کرو اقیموا کا عطف بالقسط کے معنی پر ہے، ای قال اقسطوا واقیموا (یعنی اللہ نے حکم فرمایا کہ انصاف سے کام لو اور اس پر قائم رہو) یا اس سے پہلے فاقبلوا مقدر ہے، اور اسی کی بندگی کرو شرک سے اس کیلئے دین کو خالص کرکے جس طرح اس نے تمہیں پیدا کیا ہے حالانکہ تم کچھ نہیں تھے وہ اسی طرح تم کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرے گا تم میں سے ایک فریق کو ہدایت بخشی اور ایک فریق پر گمراہی چسپاں ہوگئی کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیطان کو اپنا ولی بنا لیا اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر ہیں اے اولاد آدم تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت یعنی نماز و طواف کے وقت اپنا لباس جو تمہارے ستر کو چھپائے پہن لیا کرو اور جو چاہو کھاؤ پیو (مگر) حد سے تجاوز نہ کرو اسلئے کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : خَبَرُہٗ جُمْلَۃٌ، اس میں اشارہ ہے کہ تنہا خیرٌ خبر نہیں ہے بلکہ جملہ ہو کر خبر ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ لباس التقوی، مبتداء محذوف کی خبر ہے، ای ھو الباس التقویٰ ، ای ستر العورۃ لباس التقویٰ ، اس کے بعد فرمایا ذلک خیرٌ۔
قولہ : فِیْہ اِلْتِفَاتٌ، یعنی ظاہر کا تقاضہ لعلکم تذکرون تھا، مگر کلام میں دفع ثقل کیلئے حاضر سے غیبت کی جانب التفات کیا۔
قولہ : یُنزع حال یہ حال حکائی ہے، جو تمہارے والدین کی حالت سابقہ کو بیان کر رہا ہے، اسلئے کہ نزع لباس اخراج سے پہلے تھا، مطلب یہ ہے کہ ینزع ابویکم سے حال ہے نہ کہ صفت، کیونکہ ینزع جملہ نکرہ ہونے کی وجہ سے ابویکم کی صفت واقع نہیں ہوسکتا اسلئے ابویکم سے حال قرار دیا گیا۔
قولہ : عَلیٰ مَعْنَی الْقِسْطِ اسی قسط کے محل پر عطف ہے لہٰذا عطف جملہ علی المفرد کا اعتراض واقع نہ ہوگا۔
قولہ : ما یَسْتُرُ عَوْرَتَکُم یعنی حال بول کر محل مراد ہے لہٰذا اب یہ شبہ نہیں ہوگا کہ اخذ زینت ممکن نہیں ہے۔
قولہ : عِنْدَ الصَلٰوۃِ ، اس میں اشارہ ہے کہ مسجد بول کر ما یفعل فی المسجد مراد ہے یعنی حال بول کر محل مراد ہے۔
تفسیر و تشریح
یا بنی آدم قد انزلنا علکم لباسا یواری سواتکم وریشا و لباس التقوی۔
ربط آیات : اس سے پہلے رکوع میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور شیطان رجیم کا واقعہ بیان فرمایا گیا تھا، جس میں اغواء شیطانی کا پہلا اثریہ بیان کہ آدم و حواء کا جتنی لباس اتر گیا اور وہ ننگے رہ گئے، اور پتوں سے اپنے ستر کو چھپانے لگے زیر تفسیر آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے تمام اولاد آدم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ لباس قدرت کی ایک عظیم نعمت ہے اس کی قدر کرو، اس میں اشارہ ہے کہ ستر پوشی انسان کی فطری ضرورت ہے۔
مذکورہ آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے تین قسموں کے لباس کا ذکر فرمایا ہے، لباس ضرورت، لباسؔ زینت، لباسؔ آخرت، (یعنی لباس تقوی) لباس ضرورت کے بارے میں فرمایا ” لِبَاسًا یُوَارِیْ سَوْاتکم “ سَوْآت سَوْءَۃٌ کی جمع ہے ان اعضاء انسانی کو کہا جاتا ہے جن کو انسان فطرۃً چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور ظاہر ہونے پر برا اور قابل شرم سمجھتا ہے دوسرے قسم کے لباس یعنی لباس زینت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا وریشًا، ریش اس لباس کو کہا جاتا ہے جس کو انسان زیب وزینت اور تجمیل کے طور پر استعمال کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ صرف ستر پوشی کیلئے تو مختصر سا لباس کافی ہوتا ہے مگر ہم نے تمہیں اس سے زیادہ لباس اسلئے عطا کیا کہ تم اس کے ذریعہ زینت و تجمل حاصل کرو ساتھ ہی ساتھ سردی و گرمی سے بچاؤ اور حفاظت کا ذریعہ بھی ہو، اور ہیئت بھی شائستہ اور پر وقار بنا سکو، یہاں انزلنا کا لفظ استعمال ہوا ہے مراد عطا کرنا ہے اور لباس تیار کرنے کی سمجھ عطا کرنا ہے، یا اس لئے انزلنا فرمایا کہ لباس کا خام مادہ آسمان سے نازل ہونے والی بارش ہی سے تیار ہوتا ہے اس میں سبب بول کر مسبب مراد ہے اول قسم کے لباس کو مقدم بیان کرکے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ لباس کا اصل مقصد ستر پوشی ہے اور یہی اس کا عام جانوروں سے امتیاز ہے۔
اغواءِ شیطانی کے بیان کے بعد لباس کا ذکر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کیلئے ننگا ہونا اور اعضاء مستورہ کا دوسروں کے سامنے کھلنا انتہائی ذلت و رسوائی اور بےحیائی کی علامت اور قسم قسم کے شرو فساد کا مقدمہ ہے۔
انسان پر شیطان کا پہلا حملہ اس کو ننگا کرنے کی صورت میں ہوا : یہی وجہ ہے کہ شیطان کا انسان پر سب سے پہلا حملہ اسی راہ سے ہوا کہ اس کا لباس اتر گیا، اور آج بھی شیطان اپنے شاگردوں کے ذریعہ جب انسان کو گمراہ کرنا چاہتا ہے تو تہذیب و شائستگی کا نام لے کر سب سے پہلے اس کو برہنہ یا نیم برہنہ کرکے سڑکوں اور گلیوں میں کھڑا کردیتا ہے، اور شیطان نے جس کا نام ترقی رکھ دیا ہے وہ تو عورت کو شرم و حیاء سے محروم کرکے منظر عام پر برہنہ یا نیم برہنہ حالت میں لے آنے کے بغیر حاصل ہی نہیں ہوتا۔ (معارف)
لباس کی تیسری قسم : جس کو قرآن حکیم نے لباس التقویٰ سے تعبیر کیا ہے بعض قراءتوں میں لباس کے فتحہ کے ساتھ ہے اس صورت میں انزلنا کے تحت داخل ہو کر منصوب ہوگا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ایک تیسرا لباس تقویٰ کا اتارا ہے لباس کے ضمہ کے ساتھ جو مشہور قراءت ہے اس قراءت کی رو سے معنی یہ ہوں گے کہ دو لباسوں کو تو سب جانتے ہیں ایک تیسرا لباس تقویٰ ہے اور یہ سب لباسوں سے بہتر لباس ہے، لباس تقویٰ سے مراد حضرت ابن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق عمل صالح اور خوف خدا ہے۔ (روح) لباس التقویٰ کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ظاہری لباس کے ذریعہ ستر پوشی اور زینت و تحمل سب کا اصل مقصد تقویٰ اور خوف خدا ہے جس کا ظہور اس کے لباس میں بھی اس طرح ہونا چاہیے کہ اس میں پوری ستر پوشی ہو اور لباس بدن پر ایسا چست بھی نہ ہو کہ جس میں اعضاء کی ساخت مثل ننگے کے صاف نظر آئے، نیز اس لباس پر فخر و غرور کا انداز بھی نہ ہو کہ لوگ انگشت نمائی کریں، بلکہ تواضع کے آثار نمایاں ہوں نیز اسراف بےجا بھی نہ ہو، عورتوں کو مردانہ اور مردوں کو زنانہ کپڑا پہننا بھی مبغوض ہے، لباس میں کسی قسم کے مخصوص لباس کی نقلی بھی نہ ہو کہ جس میں تشبہ لازم آئے اسلئے کہ یہ ملت سے اعراض اور غداری کی علامت ہے۔
Ayahs 7:28–31وَاذا فعلوا فاحشۃ (الآیۃ) اسلام سے پہلے بیت اللہ کا ننگے ہو کر طواف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس حالت کو اختیار کرکے طواف کرتے ہیں جس اس وقت تھی جب ہمیں ہماری ماؤں نے جنا تھا اور یہ بھی کہتے تھے کہ جس لباس میں ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اس میں طواف کرنا مناسب نہیں سمجھتے اور کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسی طرح طواف کرنے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بےحیائی کا حکم دے۔
Ayahs 7:32–33آیت نمبر 32 تا 39
ترجمہ : (اے محمد ﷺ بطور انکار ان سے کہو کہ اللہ کی زینت لباس کو جس کو اللہ نے اپنے بندوں کیلئے پیدا فرمایا اور رزق میں سے پاکیزہ لذیذ اشیاء کو کس نے حرام کیا ہے ؟ آپ کہئے یہ اشیاء استحقاقی طور پر تو دنیوی زندگی میں ایمان والوں کے لئے ہیں اگرچہ غیر مومن بھی اس میں شریک ہوجائیں، حال یہ ہے کہ یہ اشیاء قیامت کے دن مومنوں کیلئے خاص ہوں گے (خالصۃً ) رفع کے ساتھ ہے اور حال ہونے کی وجہ سے نصب بھی ہے، ہم اسی طرح آیات کو غور و فکر کرنے والوں کیلئے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں اسلئے کہ یہی لوگ ان سے مستفید ہوتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے تو صرف فواحش بڑے گناہوں مثلاً زنا کو حرام کیا ہے، خواہ ان کو ظاہری طور پر کیا ہو یا پوشیدہ طور پر اور ہر گناہ کو اور لوگوں پر ناحق ظلم کو (حرام کیا ہے) (اور بغی سے مراد) ظلم ہے، اور اس بات کو (حرام کیا ہے) اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ کہ جس کے شرک کی اللہ نے کوئی شند نازل نہیں فرمائی، اور یہ کہ اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرو کہ جس کو تم نہیں جانتے ایسی چیز کو حرام کرنا کہ جس کو اس نے حرام نہیں کیا، وغیرہ وغیرہ اور ہر قوم کیلئے (مہلت کی) ایک مدت مقرر ہے پھر جب ان کی مدت آپہنچی ہے تو ایک گھڑی بھر بھی نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے (یعنی ایک لمحہ کی بھی تقدیم و تاخیر نہ ہوگی) اے اولاد آدم ! (یادرکھو) (اِمَّا) میں نون شرطیہ کا ما زائدہ میں ادغام ہے اگر تمہارے پاس تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں جو تم کو میری آیتیں پڑھ کر سنائیں تو جو شخص شرک سے بچے گا اور اپنے عمل کی اصلاح کرے گا تو ان کیلئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ آخرت میں غمگین ہوں گے اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں تکبر کریں گے کہ ان پر ایمان نہ لائیں گے یہی اہل دوزخ ہوں گے اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے کہ جو اللہ کی طرف شریک اور ولد کی نسبت کرکے اللہ پر بہتان لگائے یا اس کی آیات قرآن کو جھٹلائے، کوئی نہیں ان لوگوں کے نصیب کا جو کچھ کتاب (لوح محفوظ) میں ہے وہ ان کامل جائیگا (یعنی) لوح محفوظ میں ان کیلئے جو کچھ رزق و عمر وغیرہ سے لکھا ہے وہ ان کو مل جائیگا، یہاں تک کہ جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روح قبض کرنے کیلئے آئیں گے تو ان کو لاجواب کرنے کیلئے ان سے کہیں گے وہ کہاں گئے جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر بندگی کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے وہ سب ہم کو چھوڑ کر غائب ہوگئے کہ ہم ان کو نہیں دیکھ رہے ہیں اور موت کے وقت اپنے کافر ہونے کا اقرار کریں گے اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن فرمائیں گے من جملہ جنوں اور انسانوں کی ان امتوں سے جو سابق میں گزر چکی ہے دوزخ میں داخل ہوجاؤ (فی النار) ادخلوا کے متعلق ہے جس وقت کوئی جماعت دوزخ میں داخل ہوگی اپنی جیسی سابق جماعت پر لعنت کرے گی ان کے ان کو گمراہ کرنے کی وجہ سے، یہاں تک کہ جب سب دوزخ میں جمع ہوجائیں گے تو بعد والے (یعنی) اتباع کرنے والے پہلے لوگوں کے بارے میں کہیں گے اور وہ متبوعین ہوں گے اے ہمارے پروردگار ان لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا سو ان کو دوزخ کا دوگنا عذاب دے، اللہ تعالیٰ فرمائیگا تم کو اور ان سب کو دوگنا عذاب ہے لیکن تم کو خبر نہیں کہ ہر فریق کو تنا عذاب ہے ؟ (تعلمون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے اور پہلے لوگ پچھلے لوگوں سے کہیں گے تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہیں اس لئے کہ تم نے ہماری وجہ سے کفر نہیں کیا لہٰذا ہم اور تم برابر ہیں، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے سو تم بھی اپنے کئے کا مزہ چکھو۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : انکارًا عَلَیھم، اس میں اشارہ ہے کہ مَنْ حَرَّمَ میں استفہام انکاری ہے۔
قولہ : مِنَ الِّبَاسِ اس سے اشارہ کردیا کہ ’ زینۃ ‘ سے ذریعہ زینت مراد ہے۔
قولہ : بالرَفْعِ ، خالصۃ میں دو قراءتیں ہیں رفع اور نصب، رفع کے صورت میں ھِیَ مبتداء کی خبر ثانی ہوگی تقدیر عبارت یہ ہوگیھی ثانتۃ للذین آمنوا فی الحیٰوۃِ الدنیا خالصۃٌ یوم القیامَۃ اور نصب حال ہونے کی وجہ سے ہوگا، تقدیر عبارت یہ ہوگی انّھا ثابتۃ للذین آمنوا حال کونھا خالصۃ لھم یوم القیامۃ، ثابتہ ظرف کی ضمیر مستتر سے حال ہے۔
قولہ : بَغَیْرِ الحَقَ یہ البغی کی تاکید ہے ورنہ ظلم تو ہوتا ہی ناحق ہے۔ قولہ : جملۃ، اس میں اشارہ ہے کہ فی امم، جار مجرور، ادخلوا کے متعلق نہیں ہیں بلکہ کائنین محذوف کے متعلق ہو کر ادخلوا کی ضمیر سے حال ہے۔
قولہ : لِضَلَالِھَا بھا ضلالھا کی ضمیر اُمّۃ کی طرف اور بھا کی ضمیر اخت کی طرف راجع ہے۔
قولہ : تلاحقوا اس میں اشارہ ہے کہ اِدّارکُوا باب تفاعل سے ہے، تاء کو دال سے بدل کر تسکین کے بعد دال کو دال میں ادغام کیا گیا ہے اس کے شروع میں ہمزہ وصل داخل کردیا۔
قولہ : لَاجْلِھم اس میں اشارہ ہے کہ لِاُوْلٰھم کا لام اجل کیلئے ہے نہ کہ قالت کا صلہ اس لئے کہ خطاب اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے نہ کہ ان کے ساتھ، لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ لام جب قول کا صلہ واقع ہوتا ہے تو اس کا مدخول قول کا مخاطب ہوتا ہے حالانکہ ھؤلاء اور اضلونا دونوں غائب کے صیغے اس کی نفی کرتے ہیں۔
قولہ : ما لکُلِّ فَرِیْقِ الخ یہ یعلمون کا مفعول ہے۔ قولہ : فذُوْقُوْا الْعَذَابَ ، یا تو یہ رؤساء کا کلام ہے یا پھر اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔
تفسیر و تشریح
قُلْ مِن حرّم۔۔۔۔۔ لعبادہٖ ، مطلب یہ ہے کہ اللہ کی جائز اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام و ناجائز کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے، اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں ظاہر ہے وہ گناہ عظیم میں مبتلا ہیں۔ مشرکین مکہ نے طواف کے وقت لباس پہننے کو ناپسندیدہ قرار دے رکھا تھا اسی طرح بعض حلال چیزوں کو بھی تقرب الی اللہ کے طور پر حرم قرار دے رکھا تھا، نیز بعض حلال چیزوں کو اپنے بتوں کے نام پر وقف کرکے چھوڑ دیتے تھے ان کو استعمال میں لانا حرام سمجھتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ حلال چیزیں کسی کے حرام کرلینے سے حرام نہیں ہوجاتیں، یہ حلال اور طیب اور زینت کی چیزیں اصلاً اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان ہی کیلئے حلال کی ہیں گوتبعاً ان سے کفار بھی فیضیاب اور متمتع ہوتے ہیں بلکہ بعض دفعہ دنیوی چیزوں اور آسائشوں کے حصول میں کفار مسلمانوں سے زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں لیکن یہ بالتبع اور عارضی ہے جس میں اللہ نے تکوینی مصلحت اور حکمت رکھی ہے، تاہم آخرت کی نعمتیں صرف اہل ایمان کیلئے ہوں گی، اسلئے کہ کافروں پر جس طرح جنت حرام ہوگی اسی طرح ماکولات و مشروبات اور دیگر نعمتیں بھی حرام ہوں گی۔
زینۃ اللہ سے کیا مراد ہے : لباس فاخرہ کا مراد ہونا تو ظاہر اور مسلم ہی ہے، لیکن اکثر مفسرین نے اس میں وسعت دیکر جملہ سامان آرائش کو اس میں شامل کیا ہے ای من الچبات وکل الملببس یتجمل بہ۔ (کشاف، بیضاوی) امام المفسرین امام رازی نے مزید دقت نظر سے کام لے کر اس کے اندر سواری، زیور، وغیرہ تمام مرغوبات کو داخل کیا ہے بجز ان کے جو کسی نص سے حرام ہوں۔ (کبیر) ۔ امام راغب نے زینت کی تین قسمیں کی ہیں نفسی، بدنی، خارجی، خارجی میں جاہ و مال کو بھی شامل کیا ہے، فقہاء مفسرین نے آیت سے عید اور دعوت وغیرہ کے موقعوں پر خوش پوشی کے استحباب پر استدلال کیا ہے۔ (قرطبی)
وَالبغی بغیر حق، کے معنی اپنی حد سے تجاوز کرکے ایسی حدود میں قدم رکھنا جس کے اندر داخل ہونیکا آدمی کو حق نہ ہو، اس تعریف کی رو سے وہ لوگ بھی باغی قرار پائیں گے جو بندگی کی حدود سے نکل کر خدا کے ملک میں خود مختار انہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور وہ بھی جو خدا کی خدائی میں اپنی بڑائی کے ڈنکے بجاتے ہیں، اور وہ بھی جو بندگان خدا کے حقوق پر دست درازی کرتے ہیں۔
Ayahs 7:34–37وَلِکلّ امۃ اَجَلٌ، ہر قوم کیلئے مہلت کی مدت مقرر ہے، یہ مہلت ہر فرد و قوم کو ملتی ہے اور یہ مہلت آزمائش کے طور پر عطا کی جاتی ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اس کی بغاوت و سرکشی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یہ مہلت بعض کو پوری زندگی کیلئے ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ پوری زندگی میں اس کی گرفت نہیں فرماتے، بلکہ آخرت ہی میں مواخذہ فرماتے ہیں اس کی اجل سمیٰ قیامت کا دن ہے اور جس کو وہ دنیا ہی میں عذاب سے دوچار کردیتا ہے ان کو اجل مسمّٰی وہ ہے جب ان کا مؤاخذہ فرماتا ہے۔ قوم کی مدت مہلت مقرر کئے جانے کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ہر قوم کیلئے برسوں اور مہینوں اور دنوں کے لحاظ سے ایک عمر مقرر کی جاتی ہو اور اس عمر کے تمام ہوتے ہی اس قوم کو لازماً ختم کردیا جاتا ہو، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر قوم کو دنیا میں کام کرنے کا جو موقع دیا جاتا ہے اس کی ایک اخلاقی حد مقرر کردی جاتی ہے بایں معنی کہ اس کے اعمال میں خیر شر کا کم سے کم کتنا تناسب برداشت کیا جاسکتا ہے جب تک قوم کی بری صفات اس کی اچھی صفات کے مقابلہ میں تناسب کی اس آخری حد سے فروتر رہتی ہیں اس وقت تک اس کی تمام برائیوں کے باوجود مہلت دی جاتی رہتی ہے اور جب وہ اس حد اے گزر جاتی ہیں تو پھر اس بدکار اور بد صفات قوم کو مزید مہلت نہیں دی جاتی۔
Ayahs 7:38–39حتی اذا ادارکوا فیہا جمیعا، (الآیۃ) یعنی اب ایک دوسرے کو طعنہ دینے اور الزام دھرنے سے کوئی فائدہ نہیں، تم سب ہی اپنی اپنی جگہ بڑے مجرم ہو اور تم سب ہی دوگنے عذاب کے مستحق ہو۔