Ayah 8:33وَمَا کانَ اللہ لیعذبَھُمْ وانت فیھم، ابوجہل اور نضربن حارث نے جب یہ دعاء مانگی کہ یا اللہ یہ دین جس کہ طرف محمد ﷺ ہم کو دعوت دے رہے ہیں اگر حق ہے تو ہم پر تو آسمان سے پتھر برسادے یا عذاب الیم نازل فرمادے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب تک تو تم لوگوں پر عذاب نازل ہوچکا ہوتا لیکن دو سبب سے تم پر عذاب نازل نہیں ہوا، ہجرت سے پہلے تو بنی قوت تم میں موجود تھے نبی کی ہجرت کے بعد ضعیف اہل ایمان جو ہجرت نہیں کرسکتے تھے وہ مکہ میں تھے جو ہمیشہ اللہ سے مغفرت کی دعاء کرتے رہتے تھے صلح حدیبیہ کے بعد رفتہ رفتہ وہ لوگ بھی مکہ سے نکل آئے تھے، اب تم پر بدر میں عذاب آیا بدر میں ستر بڑے بڑے سردار مارے گئے اور ستر گرفتار ہوئے اور آخر کار مکہ بھی فتح ہوگیا، ان بعض میں مفسرّ علاّم بھی شامل ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ خود مشرکین مکہ طواف کے وقت غفرانک کہ کر مغفرت چاہا کرتے تھے مگر اس تفسیر کے مطابق یہ آیت آئندہ آیت سے منسوخ ہوگی، مگر یہ قول صحیح نہیں ہے، اسلئے کہ قرآن کی تفسیر خود قرآن سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی سورة انا فتحنا کی آیت '' لولا رجال مؤمنون ونساء مؤمنات '' میں صراحت سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہجرت کے بعد عذاب کے روکنے کا سبب ضعیف مسلمان تھے، ترمذی میں حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ نبی کا وجود اور نبی کے بعد لوگوں کا استغفار کرنا عذاب الہٰی سے بچنے کے دوسبب ہیں اس حدیث سے بھی اسی تفسیر کی تائید ہوتی ہے جس کو قول صحیح کہا ہے ترمذی کی سند میں اگرچہ ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ضعیف ہے لیکن صحیح بخاری و مسلم میں عبداللہ بن مسعود کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کو اپنے ایماندار بندہ کی توبہ و استغفار سے بڑی خوشی ہوتی ہے اس حدیث سے ابو موسیٰ اشعری کی روایت کو تقویت ہوجاتی ہے۔
Ayahs 8:34–35وَما لَھُمْ اَلَّا یُعذ بھم اللہ، جب آپ مکہ مکرمہ میں تشریف رکھتے تھے تو یہ آیت اتری تھی وَمَا کان اللہ لیعذبھم وَاَنْتَ فیھم، یعنی جب تک اللہ کا رسول ان میں ہے اللہ ان پر عذاب نازل نہ کرے گا، اور جب آپ مکہ سے مدینہ ہجرت کرکے تشریف لے آئے تو یہ آیت اتری وما کان اللہ لیعذبھم یستغفرون، جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک ان کفار پر عذاب نازل نہیں کرے گا کیونکہ کچھ لوگ ابھی ایسے باقی ہیں جو استغفار کرتے ہیں یہ وہ ضعفاء مسلمین تھے جو مکہ میں مجبورًا رہ گئے تھے، جب یہ لوگ بھی مکہ سے رفتہ رفتہ نکل گئے تو یہ آیت '' وَمَا لھم اَلَّا یعذبھم اللہ '' الخ نازل ہوئی، جس میں فرمایا، اب کیوں نہ اللہ ان پر عذاب نازل کرے جبکہ وہ مسجد حرام کا راستہ روک رہے ہیں۔
وَما کان صلا تھم عند البیت الا مکائً وتصدیة، تفسیر ابن جریر تفسیر سدی اور تفسیر واجدی میں حضرت ابن عمر اور عکرمہ وغیرہ سے جو شان نزول اس آیت کا بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو نماز پڑھتا دیکھ کر نماز میں خلل ڈالنے کے لئے سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
مشرکین مکہ چونکہ اپنے آپ کو بیت اللہ کا جائز اور مستحق متولی سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے وہ مسلمانوں کو کعبہ کے طواف اور اس میں نماز پڑھنے سے روکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ کعبہ نماز اور طواف کے لئے ہے، طواف میں تو یہ لوگ اللہ کے نام کے ساتھ بتوں کا نام لیتے ہیں اور خود نماز کے قائل نہیں اور مسلمانوں کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے دو کتے ہیں اور خلل ڈالنے کی کے لئے تالیاں اور سیٹیاں بجاتے ہیں بھلا ایسے لوگ کیونکر بیت اللہ کے متولی ہوسکتے ہیں، تولیت کیلئے متقی ہونا شرط ہے صحیح معنی میں تولیت کے حقدار مسلمان ہیں جو صحیح معنی میں متقی ہیں۔
Ayahs 8:36–37اِنَّ الذین کفروا ینفقون اَمْوالھم لیصدّوا عن سبیل اللہ، جب مشرکین مکہ کو بدر میں شکست ہوئی اور ان کے شکست خوردہ اصحاب مکہ واپس گئے ادھر ابو سفیان بھی اپنا تجارتی قافلہ لیکر مکہ پہنچ گیا تو کچھ لوگ جن کے باپ بیٹے یا بھائی اس جنگ میں مارے گئے تھے، اور ان کا مال تجارت میں بھی حصہ تھا ابوسفیان کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ ہمارا مال مسلمانوں سے انتقام لینے میں استعمال کریں مسلمانوں نے ہمیں بڑا سخت نقصان پہنچایا ہے اس لئے ان سے انتقامی جنگ ضروری ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان لوگوں یا اسی کردار کے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ بیشک یہ لوگ اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکنے کے لئے اپنا مال خرچ کرلیں لیکن ان کے حصہ میں سوائے خسران و خذ لان محرومی و مغلوبیت کے کچھ یہ آئیگا۔
Ayah 8:38آیت نمبر 38 تا 44
ترجمہ : (اے نبی) ان کافروں سے مثلاً ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں سے کہو اگر اب بھی کفر سے اور نبی ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے سے باز آجائیں تو جو کچھ پہلے ہوچکا ان سے درگذر کردیا جائیگا اور اگر پچھلی روش کا اعادہ کیا تو پہلے لوگوں کے حق میں قانون نافذ ہوچکا ہے یعنی ہلاک کرنے کا ہمارا قانون اس میں جاری ہوچکا، ہم ایسا ہی ان کے ساتھ کریں گے اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان کا فساد (عقیدہ) شرک ختم ہوجائے اور مکمل دین اللہ وحدہ ہی کا ہوجائے اور اس کے غیر کی بندگی نہ کیجائے، اور اگر یہ لوگ کفر سے باز آجائیں تو ان کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے تو وہ ان کے اعمال کا صلہ دے گا، اور اگر ایمان سے روگردانی کریں تو یقین مانو کہ اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہ بہترین کار ساز اور تمہارا بہترین مددگار ہے، اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جو مال غنیمت کے طور پر حاصل کرو یعنی کافروں سے جبرًا حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ کا ہے اس میں وہ جو چاہے حکم کرے اور رسول کا ہے نبی ﷺ کے قرابتداروں کا ہے اور وہ بنی ہاشیم اور (بنی) مطلب ہیں اور یتیموں کا ہے یعنی ان یتیم مسلمان بچوں کا ہے جن کے آباء فوت ہوچکے ہیں اور حال یہ ہے کہ وہ حاجتمند بھی ہیں، اور مسکینوں کا ہے یعنی حاجتمند مسلمانوں کا ہے، اور مسافر کا ہے (یعنی) جو مسلمان سفر کرنے سے مجبور ہوگیا ہو، یعنی اس کے مستحق نبی ﷺ ہیں اور مذکورہ چاروں قسمیں اس کے مطابق ہیں نبی ﷺ تقسیم فرماتے تھے، اس طریقہ پر کہ ایک کے لئے خمس کا پانچواں حصّہ ہے اور باقی چار خمس مجاہدین کے لئے ہیں اگر تم اللہ اور اس پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے محمد ﷺ پر فرشتے اور آیات فرقان کے دن اتارا جس دن کہ مسلمانوں اور کفار کی مڈبھیڑ ہوئی یعنی بدر کے دن جو حق اور باطل میں فرق کرنے والا تھا، تو ہم (خمس کو) حق سمجھ کر ادا کرو، اور ' ما ' کا عطف اللہ پر ہے اور اللہ ہر شیٔ پر قادر ہے اسی (مقدور) میں سے تمہاری قلت کے باوجود اور ان کی کثرت کے باوجود تمہارا غلبہ ہے جبکہ تم مدینہ سے پاس والے کنارے پر تھے اِذْیوم سے بدل ہے، اور (العُدْوة) عین کے ضمہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ ہے (مراد) وادی کی جانب اور وہ مدینہ سے دور والے کنارہ پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف ساحل کی جانب تھا اور اگر تم اور قریشی لشکر قتال کے لئے وقت مقرر کرتے تو یقینا تم وقت مقرر سے تخلف کرتے لیکن تمہارے کو بغیر وقت مقرر کئے مقابلہ کرادیا تاکہ اللہ تعالیٰ اس کام کو کر گذرے جس کا ہونا اس کے علم میں طے ہوچکا ہے اور وہ اسلام کا غلبہ اور کفر کو مٹانا ہے تاکہ جو کفر کرے ہلاک ہو تو وہ ایسی ظاہر دلیل کے ساتھ ہلاک ہو کہ جو اس پر قائم ہوچکی ہے اور وہ (دلیل) مومنین کا قلت کے باوجود (کافروں) کے بڑے لشکر پر غلبہ حاصل کرنا ہے اور جو زندہ رہے (ایمان لائے) تو دلیل کے ساتھ زندہ رہے یقینا خدا سننے والا جاننے والا ہے (اور اے نبی) اس وقت کو یاد کرو کہ جب اللہ خواب میں تم کو ان کی تعداد کم دکھا رہا تھا چناچہ جب آپ نے اس کی خبر اپنے اصحاب کو دی تو وہ خوش ہوئے، اور اگر تمہیں ان کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو تم ہمت ہار جاتے اور لڑائی کے معاملہ میں اختلاف شروع کردیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو ہمت ہارنے اور اختلاف سے بچالیا، وہ یقینا دلوں کے حال کا جاننے والا ہے اور یاد کرو اس وقت کو اے مومنو ! کہ جب تمہاری ان سے مڈ بھیڑ ہوئی تو تمہاری نظر میں (دشمن) کو کم کرکے دکھایا، ستر یا سو، حالانکہ وہ ہزار تھے تاکہ تم پیش قدمی کرو اور لڑائی سے پسپائی اختیار نہ کرو اور یہ سب کچھ مذبھیڑ ہونے سے پہلے ہوا، اور اب مقابلہ آرائی شروع ہوگئی تو کافروں کو مسلمانوں کی تعداد اپنے سے دوگنی دکھائی، جیسا کہ ( سورة ) آل عمران میں ہے تاکہ جو بات ہونی تھی اللہ اسے ظہور میں لائے اور (انجام کار) سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ای سُنَّتُنَا فیھم، اس میں اشارہ ہے کہ سنة الا ولین میں مصدر کی اضافت مفعول کی جانب ہے اسلئے کہ اصل میں سنتنا فیھم ہے۔ قولہ : توجَدْ ، تکون کی تفسیر توجد سے کرکے اشارہ کردیا کہ کان تامہ ہے لہٰذا اس کو خبر کی ضرورت نہیں ہے۔
قولہ : فاعْلَمُوْا، ذلک، اس میں اشارہ ہے کہ ان شرطیہ کی جزاء محذوف ہے اور وہ اعلموا ذلک ہے اس کے حذف پر ما قبل کا فاعلموا دلالت کررہا ہے اور بعض حضرات نے کہا فامتثلوا، جزاء محذوف ہے اور یہی زیادہ مناسب ہے اسلئے کہ اب مطلب ہوگا، اِنْ کنتم آمنتم مسئلة الخمس فامتثلوا ذلک، اس لئے کہ علم میں تو مومن اور کافر دونوں برابر ہے۔
قولہ : فَاَنَّ للہ خُمُسَہ، فاء جزائیہ ہے، أنَّما میں مَا، موصولہ متضمن بمعنی شرط ہے اور فَاَنَّ للہ متضمن بمعنی جزاء ہے، نخعی (رح) تعالیٰ عنہ نے اِنَّ ، ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور نے فتحہ کے ساتھ، اس صورت میں أنّ اور اس کا مابعد مبتداء ہوگا اور اس کی خبر محذوف ہوگی تقدیر عبارت یہ ہوگی، '' فو اجب أنّ للہ خمسہ '' دوسری ترکیب یہ ہوسکتی ہے خُمُسَہ ' مبتداء اس کی خبر محذوف ہوگی ای ثابت۔
تفسیر وتشریح
اس رکوع کی پہلی آیت '' قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَروا اِنْ یَنْتَھُوا یُغفرلھم الخ میں کفار سے پھر ایک مربیانہ خطاب ہے جس میں ترغیب ہے اور ترہیب بھی، ترغیب اس کی ہے کہ اگر وہ ان تمام افعال شنیعہ کے بعد جو انہوں نے ابتک اسلام کی مخالفت اور ذاتی زندگی میں کئے ہیں توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے، اور ترہیب یہ ہے کہ اگر وہ اب بھی باز نہ آئے تو سمجھ لیں کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کو کوئی نیا قانون بنانا یا سوچنا نہیں پڑے گا پہلے زمانہ کے کافروں کے لئے جو قانون جاری ہوچکا وہی ان پر بھی جاری ہوگا، کہ دنیا میں ہلاک و برباد ہوئے اور آخرت میں عذاب کے مستحق۔
Ayahs 8:39–40وَقاتلو ھم حَتّٰی لا تکون فتنة ویکونَ الدین کُلُّہ للہ، اس آیت کے دو جزء ہیں ایک سلبی اور دوسرا ایجابی، سلبی جزء تو یہ ہے کہ فتنہ باقی نہ رہے اور ایجابی جزء یہ ہے کہ دین مکمل طور پر اللہ کا ہوجائے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں قتال وجدال کی اجازت صرف ان ہی دو مقاصد کیلئے ہے دوسرے کسی مقصد کے لئے اجازت نہیں ہے۔ اس آیت میں دو لفظ قابل غور ہیں ایک لفظ فتنہ دوسرا لفظ دین، عربی لغت کے اعتبار سے یہ دونوں لفظ متعدد معنی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
ائمہ تفسیر صحابہ وتابعین سے اس جگہ فتنہ کے دو معنی منقول ہیں ایک یہ کہ فتنہ سے مراد شرک و کفر اور دین سے مراد اسلام لیا جائے، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہی تفسیر منقول ہے اس تفسیر پر آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ مسلمانوں کو کفار سے اس وقت تک قتال کرنا چاہیے جب تک کہ کفر ختم ہو کر اس کی جگہ اسلام یہ آجائے، اس صورت میں یہ حکم صرف اہل مکہ اور اہل عرب کے لئے مخصوص ہوگا دوسری تفسیر جو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ وغیرہ سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ فتنہ سے مراد اس جگہ وہ ایذاء اور مصیبت ہے کس کا سلسلہ کفار مکہ کی طرف سے مسلمانوں پر ہمیشہ جاری رہا تھا، جب تک وہ مکہ میں تھے تو ہر وقت ان کے نرغہ میں پھنسے رہتے تھے حتی کہ مدینہ طیبہ آنے کے بعد بھی ان کے خوف نے پیچھا نہ چھوڑا اور بار بار مدینہ پر حملہ آور ہونے کے منصوبے بنائے اور ان کو عملی جامہ پہنایا حتی کہ مسلمان خطرہ کے پیش نظر رات کو ہتھیار بند ہوتے تھے، اس کے مقابل دین کے معنی قہر و غلبہ کے ہیں، اس صورت میں آیت کی تفسیر یہ ہوگی کہ مسلمانوں کو کفار سے اس وقت تک قتال کرتے رہنا چاہیے جب تک کہ مسلمان مظالم سے محفوظ نہ ہوجائیں، اور دین اسلام کا غلبہ نہ ہوجائے، کہ وہ غیروں کے مظالم سے مسلمانوں کی حفاظت کرسکے۔
Ayah 8:41وَاعْلموا انّما غنمتم، یہاں سے مال غنیمت کی تقسیم کا قانون بیان ہورہا ہے جس کے بارے میں ابتداء میں کہا گیا تھا کہ یہ اللہ کا انعام ہے اور اس کے بارے میں فیصلہ کرنا اللہ کا اختیار ہے اب وہ فیصلہ بیان کردیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد تمام سپاہی ہر طرح کا مال غنیمت کا کر اپنے امام کے سامنے رکھ دیں اور کوئی چیز چھپا کر نہ رکھیں پھر اس مال میں سے پانچواں حصہ ان مقاصد کے لئے نکال لیا جائے جو آیت میں بیان ہوئی ہیں، اور باقی چار حصے ان مجاہدین میں تقسیم کردیئے جائے جنہوں نے جہاد میں حصہ لیا، ہے، چناچہ اس آیت کے مطابق آپ ﷺ ہمیشہ جنگ ختم ہونے کے بعد اعلان فرمایا کرتے تھے کہ اِنّ ھذہ غنائمکم اَنّہ لیس فیھا الاَّ نصیبی معکم الخمس مردود علیکم فادّوا الخیط والمخیط واکبر من ذلک واصغر ولا تغلوا فاِن الغلولَ عار و نار .
ترجمہ : یہ غنائم تمہارے ہی لئے ہیں میری اپنی ذات کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے بجز خمس کے اور وہ خمس بھی تمہارے ہی اجتماعی مصارف پر خرچ کردیا جاتا ہے لہذا ایک ایک سوئی اور ایک ایک تاگا تک لا کر رکھ دو کوئی چھوٹی یا بڑی چیز چھپا کر نہ رکھو کہ ایسا کرنا شرمناک بھی ہے اور خطرناک بھی۔
مال غنیمت صرف امت محمدیہ کے لئے حلال ہوا ہے : مال غنیمت کسی بنی کے زمانہ میں حلال نہ تھا، بلکہ مال غنیمت کو ایک
جگہ جمع کیا جاتا تھا اور آسمان سے آگ آکر جلا جاتی تھی، اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے مال غنیمت اس امت کے لئے حلال کیا ہے، مال غنیمت کے پابچ حصے کئے جائیں جن میں سے چار حصے غازیوں میں تقسیم کردیئے جائیں ایک حصہ جو باقی رہا اس کے پھر پانچ حصے کئے جائیں ان میں سے ایک حصہ آنحضرت ﷺ کا دوسرا آپ کے قرابت داروں کا تیسرا یتیموں کا چوتھا مسکینوں کا، پانچواں حصہ ضرورت مند مسافروں کا، اللہ کا نام محض تبرک کے لئے ہے، اللہ اور رسول کا ایک ہی حصہ ہے۔
مال غنیمت میں نفل کا حکم : مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے کسی کو کوئی چیز لینے کی اجازت نہیں تھی، البتہ آپ ﷺ کو اجازت تھی کہ اگر کوئی چیز آپ کو پسندآئے تو آپ اس کو لے سکتے ہیں چناچہ آپ نے بعض اوقات اپنی پسندیدہ چیز تقسیم سے پہلے لی بھی ہے اس پسند فرمودہ شیٔ کو نفل کہا جاتا ہے، مسند احمد اور ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بدر میں حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے ایک تلوار پسند فرما کر بطور نفل کے لے لی تھی یہ تلوار ذولفقار کہلائی، ابوداؤد میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت صفیہ ؓ بھی نفل کے طور پر تھیں، غزوہ خیبر میں آپ نے مال غنیمت میں سے ان کو اپنے لئے پسند فرمالیا تھا حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ (احسن التفاسیر)
مال غنیمت میں ذوی القربی کا حصہ : ذوی القربی سے مراد بنی ہاشیم اور بنی مطلب ہیں بنی نوفل اور بنی عبدالشّمس اگرچہ آپ کے چچا کی اولاد ہیں مگر یہ لوگ ذوی القربی میں شامل نہیں، کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ملا کر فرمایا، بنی ہاشیم اور بنی مطلب دونوں ایک ہیں۔
آپ ﷺ کے پانچویں حصہ میں آپ کے اہل قرابت کا حصہ رکھا گیا ہے، لیکن اس بات میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد ذوی القربی کا یہ حصہ کس کو پہنچتا ہے ؟ ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ نبی ﷺ کے بعد یہ حصہ منسوخ ہوگیا، دوسرے گروہ کی رائے یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد یہ حصہ اس شخص کے اقرباء کو پہنچے گا جو حضور ﷺ کی جگہ خلافت کی خدمت انجام دے گا، تیسرے گروہ کے نزدیک یہ حصہ خاندان نبوت کے فقراء میں تقسیم کیا جاتا رہے گا۔
خمس ذوی القربیٰ : اس میں تو کسی کا اختلاف نہیں کہ فقراء ذوی القربی کا حق خمس غنیمت میں دوسرے مصارف یعنی یتیم، مسکین، ابن سبیل سے مقدم ہے اسلئے کہ فقراء ذوی القرابیٰ کی امداد زکوة و صدقات سے نہیں ہوسکتی دیگر مصارف کی امداد زکوة و صدقات سے بھی ہوسکتی ہے (معارف) البتہ اغنیاء ذوی القربی کو اس میں سے دیا جائیگا یا نہیں اس میں امام ابوحنیفہ کا فرمان یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ بھی ذوہ القربی کو عطا فرماتے تھے تو اس کی دو بنیادیں تھیں ایک ان کی حاجت مندی اور فقر، دوسرے اقامت دین اور دفاع عن الاسلام میں آپ کی نصرت و امداد، دوسرا سبب تو وفات نبوی کے ساتھ ختم ہوگیا صرف پہلا سبب فقر و حاجتمندی رہ گیا اس کی بنا پر تاقیامت ہر امام و امیر ان کو دوسروں پر مقدم رکھے گا، امام شافعی (رح) تعالیٰ سے بھی یہی منقول ہے
Ayahs 8:42–44اِذاَنتم با لعدوة الدنیا وھم بالعدوة القصویٰ ، عُدوة میں عین پر تینوں اعراب ہیں اس کے معنی ہیں ایک جانب، دُنیا ادنی سے بنا ہے جس کے معنی ہیں قریب تر، آخرت کے مقابلہ میں اس دنیا کو دنیا اس لئے کہتے ہیں کہ یہ آخرت کے مقابلہ میں قریب تر ہے، اور قصویٰ ، اقصیٰ سے ہے اس کے معنی ہیں بعید تر۔
لِیَھْلِکَ مَنْ ھَلْکَ عن بینة الخ یعنی علی وجہ البصیرت یہ بات ثابت ہوجانے کے جو زندہ رہا اس کو زندہ ہی رہنا چاہیے تھا اور جو ہلاک ہوا اسے ہلاک ہی ہونا چاہیے تھا، یہاں زندہ رہنے اور مرنے والوں سے افراد مراد نہیں ہیں، بلکہ اسلام اور کفر مراد ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہاں موت وحیات سے اس کے ظاہری معنی مراد نہیں ہیں، بلکہ معنوی موت وحیات یا ہلاکت و نجات مراد ہے معنوی حیات اسلام و ایمان ہے اور موت، شرک و کفر۔
اس آیت میں محاذ جنگ کا نقشہ بتایا گیا ہے مسلمان عدوة الدنیا کے پاس تھے اور کفار عدوة القصویٰ کے پاس، مسلمانوں کا مقام میدان کے اس کنارہ پر تھا جو مدینہ سے قریب تھا اور کفار کا پڑاؤ میدان کے دوسرے کنارہ پر جو مدینہ سے بعید تھا، اور ابوسفیان کا تجارتی قافلہ جس کی وجہ سے یہ جہاد کھڑا کیا گیا تھا وہ کفار کے لشکر سے قریب اور مسلمانوں کے لشکر کی زد سے باہر تین میل کے فاصلہ پر سمندر کے کنارے کنارے چل رہا تھا، اس نقشہ جنگ کے بیان سے مقصد یہ بتلانا ہے کہ جنگی اعتبار سے مسلمان بالکل بےموقع غلط جگہ پر ٹھہرے تھے جہاں سے دشمن پر قابو پانے بلکہ اپنی جان بچانے کا بھی کوئی امکان بظاہر نہیں آتا تھا۔
Ayahs 8:45–46آیت نمبر 45 تا 48
ترجمہ : اے ایمان والو ! جب تمہاری کسی کافر جماعت سے مڈ بھیڑ ہوجائے تو ان سے قتال کے لئے ثابت قدم رہو، بزدلی نہ دکھاؤ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور اس سے نصرت کی دعاء کرو، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ تو تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، تمہاری شوکت و طاقت جاتی رہے گی، صبر سے کام لو، یقینا اللہ نصرت و اعانت کے ذریعہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور ان جیسے نہ ہوجاؤ جو اپنے گھروں سے اپنے قافلے کو بچانے کے لئے اتراتے ہوئے لوگوں کو (شان و سامان) دکھاتے ہوئے نکلے تھے، اور قافلے کے بچ نکلنے کے بعد وہ لوٹ کر نہیں آئے ( جب ان سے کہا گیا کہ واپس چلو) تو انہوں نے کہا ہم اس وقت تک واپس نہیں ہوں گے جب تک کہ (میدان بدر) شراب نوشی نہ کرلیں، اور اونٹوں کو ذبح نہ کرلیں، اور گانے بجانے والی لونڈیاں گا بجانہ لیں، اور لوگ ہماری بہادری کی تعریف نہ کریں اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکتے ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس کا علمی احاطہ لئے ہوئے ہے (تعملون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، اللہ اس کا ضرور صلہ دے گا، اس وقت کو یاد کرو جب شیطان ابلیس نے ان کی نظروں میں ان کے اعمال کو خوشنما کرکے دکھایا تھا بایں صورت کہ مسلمانوں سے بھڑ جانے پر ان کو اس وقت ہمت دلائی جب ان کو دشمن بنی بکر سے بغاوت کا اندیشہ ہوا، اور ان سے کہا کہ آج تم پر کوئی غالب آنیوالا نہیں، اور کنانہ (بنی بکر) کی طرف سے میں تمہارا مددگار ہوں، اور ابلیس ان کے پاس اس علاقہ کے سردار سراقہ بن مالک کی صورت میں آیا تھا، اور دونوں جماعتوں (یعنی) مسلمانوں اور کافروں کا مقابلہ ہوا، اور ابلیس نے فرشتوں کو دیکھا تو بھاگتے ہوئے الٹے پاؤں پھر گیا، اور ابلیس کا ہاتھ حارث بن ہشام کے ہاتھ میں تھا اور جب مشرکوں نے ابلیس سے کہا کیا تم ہم کو اس حالت میں چھوڑتے ہو ؟ تو ابلیس نے جواب دیا میں تمہاری مدد سے بری (معذور) ہوں، اس لئے کہ میں فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں جن کو تم نہیں دیکھ رہے، مجھے خدا سے ڈر لگتا ہے یہ کہ وہ مجھے ہلاک کردے گا، اور خدا بڑی سخت سزا دینے والا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : فِئَةً ، فِئة بمعنی جماعت یہ اسم جمع ہے اس کا لفظاً کوئی واحد نہیں ہے (جمع) فئات .
قولہ : قُوَّتُکُم ودَوْلَتُکُم لفظ ریح قوة اور دولة کے لئے مستعار ہے، دَوْلة بمعنی حرب و غلبہ استعمال ہوتا ہے دِوَل، دُولَة، دال کے ضمّہ کے ساتھ بمعنی مال، اس کی جمع دُوَل، دال کے ضمہ کے ساتھ۔
قولہ : وتَضْرِبَ علینا، القُیَّانُ ضرب العودو الطنبور، طبلہ و ستار بجانا۔
قولہ : القُیّان، (واحد) قَیْنَة، الجواری المغنیات گانیوالی باندیاں۔
قولہ : بَدْرٍ ، اس کا تعلق سابق تینوں افعال کے ساتھ ہے۔
قولہ : فَیَتَسَاَمعَ بذلک ای فَیَثْنَوْ ا علیھم بالشجاعة، یعنی ان کی بہادری کی تعریف کریں۔
تفسیر وتشریح
جنگی آداب و ہدایات : یا ایُّھا الّذِیْنَ آمنوا اِذَا لقیتم فئةً ، مسلمانوں کو جنگ کے سلسلہ میں پانچ ہدایتیں دی جارہی ہیں، اور وہ آداب بتائے جارہے ہیں جن کو مقابلہ کے وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہے سب سے پہلی ہدایت جو کہ فتح و کامرانی کا نشان ہے یہ کہ دشمن سے مقابلہ کے وقت ثابت قدمی اور استقلال ہے کیونکہ اس کے بغیر میدان جنگ میں ٹھہرنا ممکن ہی نہیں ہے تاہم اس سے تحرف و تحیز کی دونوں صورتیں مستثیٰ ہوں گی جن کی وضاحت سابق میں گذر چکی ہے کیونکہ بعض دفعہ ثابت قدمی کے لئے تحرّف یا تحیز نا گزیر ہوتا ہے، دوسری ہدایت یہ کہ اللہ کی طرف کثرت سے متوجہ رہے اور اگر مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو تو کثرت کی وجہ سے ان کے اندر عجب و غرور پیدا نہ ہو بلکہ اصل توجہ اللہ کی امداد پر رہے، تیسری ہدایت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے ظاہر بات ہے کہ ان نازک حالات میں اللہ اور رسول کی اطاعت نہایت ضروری ہے اگرچہ اطاعت ہرحال میں ضروری ہے مگر میدان جنگ میں اس کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے ایسے موقع ہر تھوڑی سی نافرمانی بھی اللہ کی مدد سے محرومی کا باعث بن سکتی ہے، چوتھی ہدایت یہ کہ آپس میں اختلاف نہ کرو اس سے تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑجائے گی، آپ ﷺ نے فرمایا '' لوگوں دشمن سے مڈبھیڑ کی آرزو نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگا کرو تاہم جب کبھی دشمن سے مقابلہ کی نوبت آہی جائے تو صبر سے کام لو (یعنی جم کر لڑو) اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے ''۔ (صحیح بخاری کتاب الجھاد)
Ayah 8:47ولا تکونوا کا لذین خرجوا من دیار ھم بطراو وران الناس مشرکین مکہ جب مکہ سے نکلے تو اتراتے ہوئے بڑے فخر و غرور کے
ساتھ نکلے مسلمانوں کو اس شیوہ سے منع کیا جارہا ہے۔
لشکر کفار کی بدر کی طرف روانگی : کفار کا لشکر مکہ سے اس شان سے نکلا تھا کہ گانے بجانے والی لونڈیاں ساتھ تھیں، جگہ جگہ ٹھہر ٹھہر کر رقص و سرود اور شراب نوشی کی محفلیں سجاتے جارہے تھے اور جو قبیلے اور قریہ راستہ میں ملتے تھے اب پر اپنی طاقت و شوکت اور اپنی تعداد اور اپنے سازوسامان کا رعب جماتے تھے اور ڈینگیں مارتے تھے کہ بھلا ہمارے مقابلہ میں کون سر اٹھا سکتا ہے۔
کفار کے نکلنے کا مقصد یہ نہ تھا کہ حق و انصاف کا جھنڈا بلند ہو، بلکہ اس لئے نکلے تھے کہ ایسا نہ ہونے پائے، اور وہ واحد جماعت جو اس مقصد عظیم کے لئے دنیا میں اٹھی ہے اس کو ختم کردیا جائے تاکہ حق و انصاف کے پرچم کو اٹھانے والا دنیا میں کوئی نہ رہے، اس پر مسلمانوں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ تم کہیں ایسے نہ بن جانا، تمہیں اللہ نے ایمان اور حق پرستی کی نعمت دی ہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ تمہارے اخلاق میں پاکیزگی ہو تمہارا مقصد جنگ بھی پاک ہو۔
یہ ہدایت آج بھی باقی ہے : یہ ہدایت اسی زمانہ کے لئے نہ تھی آج کے لئے بھی ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے، کفار کی فوجوں کا جو حال اس وقت تھا وہی آج بھی ہے قحبہ خانے اور فواحش کے اڈے اور شراب کے پیسے ان کے ساتھ جزء لاینفک کی طرح لگے رہتے ہیں، بےشرمی کے ساتھ عورتیں اور شراب کا زیادہ سے زیادہ راشن مانگتے ہیں، اور فوج کے سپاہیوں کو خود اپنی ہی قوم سے یہ مطالبہ کرنے میں باک نہیں ہوتا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو بڑی سے بڑی تعداد میں ان کی شہوتوں کا کھلونا بننے کے لئے پیش کرے پھر بھلا دوسری قوم ان سے کیا امید رکھ سکتی ہے اس کو اپنی اخلاقی گندگی کی سنڈ اس بنانے میں کسر اٹھارکھیں گے، بوسینیا ہر زے گو وینیاں میں جو کچھ ہوا وہ اس کی تازہ مثال ہے، رہا ان کا تکبر اور تفاخر تو ان کے ہر سپاہی کی چال ڈھال اور انداز گفتگو میں وہ نمایاں دیکھا جاسکتا ہے، ان اخلاقی نجاستوں سے ریادہ ناپاک ان کے مقاصد جنگ ہیں ان میں سے ہر ایک نہایت مکاری کے ساتھ دنیا کو یقین دلاتا ہے کہ اس کے پیش نظر انسانیت کی فلاح اور دہشت گردی کے خاتمہ کے سوا کچھ نہیں ہے مگر درحقیقت ان کے پاس پیش نظر ایک فلاح انسانیت ہی نہیں باقی جب کچھ ہے، ان کی جنگ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ خدا نے اپنی زمین میں جو کچھ تمام انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے اس پر تنہا ان کی قوم متصرف ہو اور دوسرے اس کے نوکر چاکر اور غلام اور دست نگر بن کر رہیں، پس اہل ایمان کو قرآن کی دائمی ہدایت ہے کہ ان فساق و فجار کے طور طریقوں سے بھی بچیں اور ان ناپاک مقاصد میں بھی اپنی جان و مال کھپانے سے پرہیز کریں جن کے لئے یہ لوگ لڑتے ہیں۔
مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ابو سفیان اپنا تجارتی قافلہ لے کر مسلمانوں کی زد سے بچ نکلے تو ابو جہل کے پاس قاصد بھیجا کہ اب تمہارے آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، واپس آجاؤ اور قریشی سرداروں کی بھی یہی رائے تھی مگر ابو جہل اپنے کبرو غرور اور شہرت پرستی کے جذبہ سے قسم کھا بیٹھا کہ ہم اس وقت واپس نہ ہوں گے جب تک چند روز مقام بدر میں پہنچ کر اپنی فتح کا جشن نہ منالیں، جس کے نتیجے میں وہ اور اس کے بڑے بڑے ساتھی وہیں ڈھیر ہوگئے اور ایک گڑھے میں ڈالدیئے گئے۔
Ayah 8:48واذزین لھم الشیطٰن اعمالھم (الآیة) ابن جریر نے حضرت عنداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ
جب قریش مکہ کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے مکہ سے روانہ ہوا تو ان کے دلوں پر ایک خطرہ اس کا سوار تھا کہ ہمارے قریب میں قبیلہ بنو بکر بھی ہمارا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ ہم مسلمانوں کے مقابلہ میں جائیں اور یہ دشمن قبیلہ موقع پا کر ہمارے گھروں، عورتوں، بچوں پر چھاپہ مار دے تو اچانک شیطان سراقہ بن مالک کی صورت میں اس طرح سامنے آیا کہ اس کے ہاتھ میں جھنڈا اور اس کے ساتھ ایک دستہ بہادر فوج کا ہے سراقہ اس علاقہ اور قبیلہ کا بڑا سردار تھا جس سے حملہ کا خطرہ تھا، شیطان نے آگے بڑھ کر قریشی جوانوں کے لشکر سے خطاب کیا اور دو طرح سے فریب میں مبتلا کردیا اول لا غالب لکم الیوم من الناس یعنی آج تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اسلئے کہ مجھے دونوں فریقوں کی قوت کا اندازہ ہے، اس لئے تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم ہی غالب رہو گے اور دوسری یہ بات کہی کہ انی جارلکم، یعنی تم کو بنی بکر کی جانب سے جو خطرہ لاحق ہے میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ ایسے نہ ہوگا میں تمہارا حامی ہوں، شیطان نے اس ترکیب سے مشرکین مکہ کو ان کے مقتل کی طرف دھکیل دیا۔
غزوہ بدر میں چونکہ قریشی لشکر کی پشت پناہی کے لئے ایک شیطانی لشکر بھی آگیا تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلہ میں فرشتوں کا ایک لشکر جبرئیل و مکائیل کی قیادت میں بھیج دیا، مگر جب شیطان نے جو سراقہ بن مالک کی شکل میں تھا، جبرئیل امین اور ان کے ساتھ فرشتوں کا لشکر دیکھا تو گھبرا اٹھا اس وقت اس کا ہاتھ ایک قریشی جوان حارث بن ہشام کے ہاتھ میں تھا فورًا اس سے ہاتھ چھڑا کر بھاگنا چاہا حارث نے کہا یہ کیا کرتے ہو ؟ اس نے سینہ پر کار کر حارث کو گرادیا اور شیطانی لشکر کو لیکر بھاگ کھڑا ہوا، حارث نے اسے سراقہ سمجھتے ہوئے کہا کہ اے عرب کے سردار سراقہ ! تو نے تو کہا تھا کہ میں تمہارا حامی اور مددگار ہوں اور عین میدان جنگ میں یہ حرکت کر رہے ہو تو شیطان نے جواب دیا '' اِنی بری منکم اِنّی اری مالا ترون انی اخاف اللہ '' یعنی میں تمہارے معایدہ سے بری ہوں کیونکہ میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے (مراد فرشتوں کا لشکر تھا) شیطان کی پسپائی کے بعد مشرکین مکہ کا جو حشر ہونا تھا ہوگیا، جب باقی لوگ مکہ پہنچے تو ان میں سے کسی کی ملاقات سراقہ بن مالک سے ہوئی تو اس نے سراقہ کو ملامت کی کہ جنگ بدر میں ہماری شکست اور سارے نقصان کی ذمہ داری تجھ پر ہے تو نے عین میدان جنگ میں پسپا ہو کر ہمارے جوانوں کی ہمت توڑی اس نے کہا میں نہ تمہارے ساتھ گیا تھا اور نہ تمہارے کسی کام میں شریک ہوا (یہ سب روایتیں ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں نقل کی ہیں) ۔
Ayahs 8:49–52آیت نمبر 49 تا 58
ترجمہ : اور جبکہ منافقین اور وہ لوگ کہ جن کے قلوب میں ضعفِ اعتقاد کا روگ لگا ہوا تھا کہہ رہے تھے کہ ان مسلمانوں کو تو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کر رکھا ہے اس لئے کہ اپنی قلب تعداد کے باوجود ایک بڑی جماعت کے ساتھ لڑنے کے لئے اس خام خیالی کی وجہ سے کہ دین سے ان کی مدد کی جائے گی نکل پڑے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ غالب ہوگا یقینا اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے کاش اے محمد تم اس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں (یتوفیٰ ) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، ان کے منہ پر اور ان کے کو لہوں پر لوہے کے ہتھوڑوں سے مارتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں آگ میں جلنے کا مزہ چکھو، اور لَوْ کا جواب، لَرأیْتَ اَمْراً عظیما، محذوف ہے، یہ تمہارے ان اعمال کے سبب سے ہے جن کو تم پیشگی مہیا کرچکے ہو ہاتھوں سے نہ کہ دیگر اعضاء سے تعبیر اس لئے کیا ہے کہ اکثر اعمال میں ہاتھوں سے شرکت ہوتی ہے، ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے کہ ان کو بغیر کسی قصور کے سزا دے یہ معاملہ ان کے ساتھ اسی طرح پیش آیا جس طرح فرعون کے اور ان سے پہلے لوگوں کے ساتھ پیش آیا کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو ماننے سے انکار کیا تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی سزا میں پکڑ لیا جملہ، کَفَرُوا، اور اس کا مابعد اس کے ماقبل کے لئے مفسِرّہ ہے، بیشک اللہ تعالیٰ اپنے منشاء کے بارے میں قوی ہے اور سخت عذاب والا ہے یہ کافروں کو عذاب دینا اس وجہ سے ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ دستور نہیں کہ کسی قوم ہر نعمتوں کا انعام فرمانے کے بعد اس کو نقمت (زحمت) سے بدل دے جب تک وہ قوم اپنے طرز عمل کو خود ہی نہ بدل دے، (یعنی) اپنے اوپر نعمتوں کے مقتضی (شکر) کو ناشکری سے بدل دیں، جیسا کہ کفار نے بدل دیا، (تو اللہ نے) ان کی شکم سیری کو فاقہ سے اور ان کے امن کو خوف سے اور نبی ﷺ کی بعثت کو (جو کہ اعظم نعمت ہے) انکار سے اور راہ خدا سے روکنے سے اور مومینن کے ساتھ قتال کرنے سے (بدل دیا) اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا (اور) جاننے والا ہے آل فرعون اور ان سے پہلوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ اسی ضابطہ کے مطابق پیش آیا، کہ انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کردیا، اور قوم فرعون کو مع فرعون کے غرق کردیا بیشک یہ تکذیب کرنے والی تمام قومیں ظالم تھیں، اور آئندہ آیت بنی قریظہ کے بارے میں نازل ہوئی، یقینا اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے کفر کیا پھر وہ ایمان نہیں لائے ( خصوصاً ) ان میں سے وہ لوگ جن سے آپ نے معاہدہ کیا یہ کہ وہ مشرکین کی مدد نہ کریں گے پھر وہ باربار اپنے عہد کو توڑتے ہیں جو انہوں نے آپ سے کیا اور وہ عہد توڑنے میں خوف خدا نہیں رکھتے پھر اگر تم ان پر میدان جنگ میں قابو پاجاؤ تو ان کی عذاب اور سزا کے ذریعہ ایسی خبر لو کہ وہ لوگ جو ان کے پیچھے ہیں ان سے عبرت حاصل کرلیں اور اگر (اے محمد) تمہیں کسی قوم سے کس نے تم سے معاہدہ کیا ہے توڑ دیجئے (علی سوائ) یہ نابذ اور منبوذ، دونوں سے حال ہے حال یہ کہ نقض عہد میں جانکاری کے اعتبار سے دونوں برابر ہوں (یعنی نقض عہد کا دونوں کو علم ہو) بایں صورت کہ آپ ان کو فسخِ عہد کی اطلاع کردیں تاکہ وہ آپ کو بدعہدی کے ساتھ متہم نہ کریں، اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : یَغْلِبُ ، اس میں اشارہ ہے کہ (مَن یتوکل) کی جزاء محذوف ہے اور وہ یغلب ہے، اس حذف پر بعد والا جملہ فاِنَّ اللہ عزیز حکیم، دلالت کررہا ہے۔
قولہ : وَلَوْ تَریٰ یا محمد ﷺ .
سوال : تَرَیٰ ، مضارع کا صیغہ ہے جو حال و استقبال پر دلالت کرتا ہے اور اِذ یتوفی، ماضی پر دلالت کرتا ہے اسلئے کہ اِذ مضارع کو
ماضی کے معنی میں کردیتا ہے لہٰذا دونوں جملوں میں منافات ہے۔
جواب : لَوْ مضارع کو ماضی کے معنی میں کردیتا ہے لہٰذا دونوں جملوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔
قولہ : حال، یعنی یضربون، ملائکة سے، بالذین کفروا سے حال ہے نہ کہ صفت۔
قولہ : مقامِعَ ، مِقْمَعَة، کی جمع ہے ہتھوڑا، گرز، بروزن مِکنَسَة .
قولہ : یقولون لھم اس میں ایک سوال مقدر کے جواب کی طرف اشارہ ہے۔
سوال : ذوقوا کا عطف یَضْربةوْنَ پر ہے، اور یہ عطف انشاء علی الخبر ہے جو کہ مستحسن نہیں ہے دوسرا اعتراض یہ کہ ایک ہی جملہ میں غائب اور حاضر کا اجتماع ہورہا یہ بھی مستحسن نہیں ہے۔
جواب : ذوقوا سے پہلے یقولون محذوف ہے جیسا کہ مفسرّعلاّم نے صراحت کردی ہے، لہٰذا دونوں اعتراض دفع ہوگئے، لَوْ کے جواب کو ہولناکی کی عظمت وہیبت کو ثابت کرنے کے لئے حذف کردیا ہے، جس کو مفسرّ علاّم نے لَرَأیْتَ امرًا عظیماً کہہ کر ظاہر کردیا ہے۔
قولہ : ڈأبُ ھٰؤلاء اس میں اشارہ ہے کہ کدأب آل فرعون، مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے محل میں رفع کے ہے، لہٰذا کلام کے نا تمام ہونیکا اعتراض ختم ہوگیا، اور یہ اعتراض بھی ختم ہوا کہ یہاں شبہ کے بغیر تشبیہ لازم آرہی ہے۔
قولہ : جُمْلَة کَفَرُوا مُفَسِّرة لِمَا قَبْلھَا، یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے سوال یہ ہے کہ مسلسل جملے کے درمیان والذین کفروا من قبلھم، کو کس مقصد کے لئے فاضل لایا گیا، جواب یہ ہے کہ یہ ماقبل کے جملہ کی تفسیرہی ہے لہذا یہ فضل بالا جنبی نہیں جو اعتراض واقع ہو۔ قولہ : بالنِقْمَة یہ انتقام سے اسم ہے۔
قولہ : اَطْعَامِھِمْ اس میں اشارہ ہے کہ مابا نفسھم سے مراد انعامات مثلاً کھانا وغیرہ ہیں نہ کہ حالات لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ قریش اور آل فرعون کے لئے مرضیہ تھے ہی نہیں کہ ان کو حالات نا مرضیہ سے بدل دیا گیا۔ (ترویح الارواح)
قولہ : تَجِدَنَّھُمْ ، ای تظفر نَّھُمْ و تغلِبنَّھُمْ. قولہ : بالتَنْکِیْلَ ، (تفعیل) عبرتناک سزا دینا۔
قولہ : اَنْتَ وَھُمْ ، اس میں اشارہ ہے کہ مستویَةً ، نابذ اور منبوذ (یعنی فاعل اور مفعول) دونوں سے حال ہے۔
تفسیر وتشریح
اِذ یقولُ المنافقون والذین فی قلوبھم مرض الخ اس آیت میں منافقین مدینہ اور مشرکین نیز ان مسلمانوں کا جن کے دلوں میں ابھی اسلام راسخ نہیں ہوا تھا کا ایک مشترکہ مقولہ نقل کیا گیا ہے جو بظاہر مسلمانوں کی خیرخواہی اور ان پر ترس کھا کر کہا گیا ہے '' غَرَّ ھم ھٰؤلاء دِیْنُھُمْ '' ان بیچاروں کو دین کے جوش جنون نے دیوانہ کردیا ہے کہ مٹھی بھر مسلمان قریش کے بھاری اور مسلح لشکر سے ٹکرانے کے لئے نکل پڑے ہیں ان بیچاروں کو دین کے جوش جنون نے موت کے منہ دھکیل دیا ہے، اس معرکہ میں ان کی تباہی یقینی ہے شاید کہ اس نبی نے کچھ ایسا افسوں ان پر پھو نکدیا ہے کہ ان کی عقل خبط ہوگئی ہے۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب مسلمانوں کی فوج کفار کی فوج سے قریب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کافروں کی نظر میں اور کافروں کو مسلمانوں کی نظر میں کم کرکے دکھایا، تو مشرک کہنے لگے کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہو کر اپنی قلت تعداد کے باوجود لڑنے کے لئے نکل آئے ہیں، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، '' وَمَنْ یَتَوکل علی اللہ فَاِنَّ اللہ عزیز حکیم '' یعنی جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے یادرکھو وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ سب پر غالب ہے، '' ذلک بان اللہ لم یک مغیرًا نعمة انعمھا علی قوم '' الخ یعنی جب تک کوئی قوم اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کی نعمتوں کا غیر مستحق نہ بنا لے اللہ اس سے اپنی نعمت سلب نہیں کیا کرتا، اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے کہ جب کسی قوم پر اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں مبذول کرتا ہے اور وہ قوم ان نعمتوں کی قدر نہ کرے اور ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے سرکشی کرے تو اللہ تعالیٰ ایسے نا شکروں سے نعمت چھین لیتا ہے اور ان نعمتوں کو زحمتوں میں بدل دیتا ہے، قوم فرعون اور ان سے پہلی قوموں نے بھی جب اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو ان نعمتوں کو ان سے سلب کرکے ان کو مصیبتوں میں مبتلا کردیا گیا۔
Ayahs 8:53–57ذالک باَنَّ اللہ لَمْ یک مغیراً نعمة الخ اللہ تعالیٰ نے اعطاء نعمت کے لئے کوئی ضابطہ بیان نہیں فرمایا نہ ان کے لئے کوئی قید لگائی نہ ان کو کسی اچھے عمل پر موقوف رکھا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلی نعمت جو خود ہمارا وجود ہے اور اس میں قدرت حق جلّ شانہ کی عجیب صنعت گری سے ہزاروں نعمتیں ودیعت رکھی گئی ہیں یہ نعمتیں ظاہر ہے کہ اس وقت عطا ہوئیں جب کہ نہ ہم تھے اور نہ ہمارا کوئی عمل، اگر حق تعالیٰ کے انعامات و احسانات بندوں کے نیک اعمال کے منتظر رہا کرتے تو ہمارا وجود ہی قائم نہ ہوتا۔
حق تعالیٰ کی نعمت و رحمت تو اس کے رب العالیمن اور رحمٰن و رحیم ہونے کے نتیجہ میں خود بخود ہے البتہ اس نعمت و رحمت کو قائم رہنے کا ایک ضابطہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ جس قوم کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت دیتے ہیں اس سے اس وقت تک واپس نہیں لیتے جب تک وہ اپنے حالات اور اعمال کو بدل کر برے اعمال اور برے حالات اختیار کرے یا یہ کہ اللہ کی نعمتیں مبذول ہونے کے بعد جب اعمال بد اور گناہوں میں مبتلا تھا نعمتوں کے ملنے کے بعد ان سے زیادہ برے اعمال میں مبتلا ہوجائے۔
اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جو قوموں کا ذکر پچھلی آیات میں آیا ہے یعنی کفار قریش اور آل فرعون ان کا تعلق اس آیت سے اس بنا پر ہے کہ یہ لوگ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ملنے کے وقت بھی کچھ اچھے حالات میں نہیں تھے سب کے سب مشرک و کافر تھے لیکن انعامات کے بعد یہ لوگ اپنی بدعملیوں اور شرارتوں میں پہلے سے زیادہ دلیر اور بےباک ہوگئے، آل فرعون نے بنی اسرائیل پر طرح طرح کے مظالم شروع کردئے پھر حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے مقابلہ اور مخالفت پر آمادہ ہوگئے جو ان کے پچھلے جرائم میں ایک نہایت قبیح اضافہ تھا جس کے ذریعہ انہوں نے اپنے حالات مزید برائی کی طرف ڈالدئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی نعمت کو نقمت و عذاب سے بدل دیا، اسی طرح مشرکین مکہ اگرچہ مشرک و بد عمل تھے لیکن اس کے ساتھ ان میں کچھ اچھے اعمال مثلاً صلہ رحمی، مہمان نوازی، حجاج کی خدمت، بیت اللہ کی تعظیم وغیرہ بھی تھے، اللہ تعالیٰ نے ان پر دین و دنیا کے دروازے کھول دئے دنیا میں ان کی تجارتوں کو فروغ دیا اور ایسے ملک میں جہاں کسی کا تجارتی قافلہ سلامتی سے نہ گذر سکتا تھا ان لوگوں کے تجارتی قافلے ملک شام و یمن میں جاتے اور کامیاب آتے تھے جس کا ذکر سورة لایلٰف میں بھی ہے۔
اور دین کے اعتبار سے انھیں وہ عظیم نعمت عطا ہوئی جو پچھلی کسی قوم کو نصیب نہیں ہوئی کہ سید الانبیاء خاتم النبیین ﷺ ان میں مبعوث ہوئے اللہ تعالیٰ کی آخری اور جامع کتاب قرآن ان میں بھیجی گئی۔
مگر ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کی شکر گذاری اور قدر کرنے اور اس کے ذریعہ اپنے حالات کو درست کرنے کے بجائے پہلے سے بھی زیادہ گندے کردیئے کہ صلہ رحمی کو چھوڑ کر مسلمان ہوجانے والے بھائی بھتیجوں پر وحشیانہ مظالم کرنے لگے، مہمان نوازی کے بجائے مسلمانوں پر آب و دانہ کرنے کے عہد نامے لکھے گئے، حجاج کی خدمت کے بجائے مسلمانوں کو نقمتوں اور اپنے انعام کو انتقام کی صورت میں تبدیل کردیا کہ وہ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوئے، اور جو ذات رحمة للعٰلمین بن کر آئی تھی اسی کے ذریعہ انہوں نے اپنی موت و ہلاکت کو دعوت دے دی۔ (معارف)
مدینہ کے یہود سے معاہدہ : اَلَّذِیْنَ عٰھَد تَّ منھم، اس آیت میں خاص طور سے یہود کی طرف اشارہ ہے، نبی ﷺ نے مدینہ میں تشریف لانے کے بعد سب سے پہلے ان ہی کے ساتھ حسن جوار اور باہمی تعاون و مددگاری کا معاہدہ کیا تھا اور اپنی حد تک پوری کوشش کی تھی کہ ان سے خوشگوار تعلقات قائم رہیں، نیز دینی حیثیت سے بھی آپ یہود کو مشرکین کی بہ نسبت اپنے قریب سمجھتے تھے اور ہر معاملہ میں مشرکین کے بالمقابل اہل کتاب کو ترجع دیتے تھے، لیکن ان کے علماء اور مشائخ کو توحید خالص اور اخلاقی صالحہ کی وہ تبلیغ اور اعتقادی و عملی گمراہیوں پر وہ تنقید اور اقامت دین حق کی وہ سعی جو نبی ﷺ کر رہے تھے ایک آن نہ بھائی تھی اور ان کی پیہم کوشش یہ تھی کہ یہ نئی تحریک کسی طرح کامیاب نہ ہونے پائے اس مقصد کے لئے مدینہ کے منافق مسلمانوں سے ساز باز کرتے تھے اسی کیلئے وہ اوس و خزرج کے لوگوں میں ان کی ہرانی عداوتوں کو بھڑکاتے تھے جو اسلام سے پہلے ان کے درمیان کشت و خون کی موجب ہوا کرتی تھیں، اسی کے لئے قریش اور دوسرے مخالف اسلام قبیلوں سے ان کی خفیہ سازشیں چل رہی تھیں اور یہ سب حرکات اس معاہدہ دوستی کے باوجود ہورہی تھیں جو نبی ﷺ اور ان کے درمیان لکھا جا چکا تھا، جب جنگ بدر واقع ہوئی تو ابتداء میں ان کا خیال تھا کہ قریش کی پہلی ہی چاٹ اس تحریک کا خاتمہ کردے گی لیکن جب نتیجہ ان کی توقعات کے خلاف نکلا تو ان کے سینوں کی آتش حسد اور زیادہ بھڑک اٹھی، انہوں نے اس اندیشہ سے کہ بدر کی فتح کہیں اسلام کی طاقت کو ایک مستقل خطرہ نہ بنا دے اپنی مخالفانہ کوششوں کو تیز کردیا حتی کہ ان کا ایک لیڈر کعب بن اشرف (جو قریش کی شکست سنتے ہی چیخ اٹھا تھا کہ آج زمین کا پیٹ ہمارے لئے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے) خود مکہ گیا، اور وہاں اس نے ہیجان انگیز مرثیہ کہہ کر قریش کو انتقام کا جوش دلایا، اس پر بھی ان لوگوں نے بس نہ کی، یہودیوں کے قبیلے بنی قینقاع نے معاہدہ حسن جوار کے خلاف ان مسلمان عورتوں کو چھیڑنا شروع کردیا جو ان کی بستی میں کسی کام سے جاتی تھیں، جب نبی ﷺ نے ان کو اس حرکت پر ملامت کی تو انہوں نے جواب میں دھمکی دی کہ یہ قریش نہیں ہیں، ہم لڑنے مرنے والے لوگ ہیں اور لڑنامرنا جانتے ہیں جب ہمارے مقابلہ میں آؤ گے تب پتہ چلے گا کہ مرد کیسے ہوتے ہیں۔
Ayah 8:58معاہدہ صلح کو ختم کرنے کی صورت : وَاِمّا تخافنَّ مِن قوم خیانة فانبذ الیھم عَلیٰ سَوائ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو جنگ و صلح کے قانون کی ایک اہم دفعہ بتلائی ہے جس میں معاہدہ کی پابندی کی خاص اہمیت کے ساتھ یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ اگر کسی وقت معاہدہ کے دوسرے فریق کی طرف خیانت یعنی عہد شکنی کا خطرہ پیدا ہوجائے تو یہ ضروری نہیں کہ ہم معاہدہ کی پابندی کو بدستور قائم رکھیں لیکن یہ بھی جائز نہیں کہ معاہدہ کو علی الاعلان ختم کئے بغیر ہم فریق ثانی کے خلاف کوئی اقدام کریں، بلکہ صحیح صورت یہ ہے کہ فریق مخالف صاف صاف بتادیں کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اب معاہدہ باقی نہیں رہا، تاکہ فسخ معاہدہ کا جیسا علم ہم کو ہے ویسا ہی اس کو بھی اور وہ اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ معاہدہ اب بھی باقی ہے، اسی فرمان الہٰی کے مطابق آپ ﷺ نے اسلام کی بین الاقوامی معاہدہ صلح کا یہ اصول قرار دیا تھا کہ '' مَنْ کانَ بَیْنَہ ' و بین قوم عھد فلا یحلن عقدہ ' حتی ینقضی امدةھا اور ینبذ الیھم علی سوائ '' (جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو اسے چاہیے کہ معاہدہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے عہد کا بند نہ کھولے ورنہ تو ان کے عہد برابری کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی طرف پھینک دے) مطلب یہ ہے کہ جس قوم کے ساتھ معاہدہ صلح ہوچکا ہے اس کے مقابلہ میں کوئی جنگی اقدام کرنا خیانت میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، اگرچہ یہ خیانت دشمن کافروں ہی کے حق میں کی جائے وہ بھی جائز نہیں یہ ہے اسلام کا عدل و انصاف کہ خیانت کرنے والے دشمن کے بھی حقوق کی حفاظت کی جاتی ہے اور مسلمانوں کو ان کے مقابلہ میں اس کا پابند کیا جاتا ہے کہ عہد کو واپسی کرنے سے پہلے کوئی تیاری بھی ان کے خلاف نہ کریں۔ (مظھری)
ایفائے عہد کا ایک عجیب واقعہ : ابوداؤد، ترمذی، نسانی، امام احمد بن حنبل نے سلیم بن عامر کی روایت سے نقل کیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ کا ایک قوم یعنی رومیوں سے ایک خاص مدت تک کیلئے نا جنگ معاہدہ تھا، معاہدہ کی میعاد ختم ہونے کے قریب تھی حضرت معاویہ ؓ نے ارادہ فرمایا کہ اس معاہدہ کے ایام میں اپنا لشکر اور سامان جنگ رومی قوم کے قریب پہنچا دیں تاکہ معاہدہ کی میعاد ختم ہوتے ہی دشمن پر اچانک حملہ کردیں مگر عین اس وقت جب حضرت امیر معاویہ کا لشکر اس طرفروانہ ہورہا تھا کہ ایک عمر رسیدہ شخص گھوڑے پر سوار بڑے زور سے یہ نعرہ لگا رہا ہے '' اللہ اکبر اللہ اکبر وفائً لا غدراً '' اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم کو معاہدہ کی پابندی کرنی چاہیے اسکی خلاف ورزی نہ کرنی چاہیے، آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی قوم سے صلح یا نا جنگ معاہدہ ہوجائے تو چاہیے کہ ان کے خلاف نہ کوئی گرہ کھولیں اور نہ بایدھیں، حضرت امیر معاویہ ؓ کو اسکی اطلاع دی گئی دیکھا تو اعلان کرنے والے حضرت عمر بن عبسہ صحابی تھے، حضرت امیر معاویہ نے فوراً ہی اپنی فوج کو واپس بلالیا۔
بلا اعلان حملہ کرنے کی اجازت کی صورت : یہاں یہ بات بھی جان لینی ضروری ہے کہ اسلامی قانون صرف ایک صورت میں بلا اعلان حملہ کرنے کی اجازت دیتا ہے اور وہ صورت وہ ہے کہ فریق مخالف علی الا علان معاہدہ کو توڑ چکا ہو اور اس نے ہمارے خلاف صریح طور پر معاندانہ کاروائی کی ہو، اس صورت میں یہ ضروری نہیں رہتا کہ ہم اسے آیت مذکورہ بالا کے مطابق نسخ معاہدہ کی اطلاع دیں بلکہ ہمیں اس کے خلاف بلا اعلان جنگی کاروائی کرنے کا حق حاصل ہوجاتا ہے، فقہاء اسلام نے یہ استثنائی حکم نبی ﷺ نے اس فعل سے نکالا ہے کہ قریش نے جب بنی خزاعہ کے معاملہ میں صلح حدیبیہ کو علانیہ توڑ دیا تو آپ نے پھر انھیں فسخ معاہدہ کی اطلاع کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی، بلکہ بلا اعلان مکہ پر چڑھائی کردی، لیکن اگر ہم کسی موقع پر اس قاعدہ استثنائی سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو ضروری ہے کہ وہ تمام حالات ہمارے پیش نظر رہیں جن میں نبی ﷺ نے یہ کاروائی کی تھیں۔