Ayah 8:59آیت نمبر 59 تا 64
ترجمہ : آئندہ آیت ان (مشرکین) کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے یوم بدر میں راہ فرار اختیار کی تھی، اے محمد ﷺ تم ہرگز یہ نہ سمجھو کہ یہ کافر اللہ ( کی پکڑ) سے بچ کر نکل جائیں گے، یہ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور نہ اس سے بچکر نکل سکتے ہیں، اور ایک قراءت میں ( لا یحسَبَنَّ ) یاء تحتانیہ کے ساتھ (یحسَبَنَّ ) کا مفعول اول محذوف ہے اور وہ اَنفُسَھُمْ ، ہے اور ایک قراءت میں اَنَّھم ہمزہ کے فتحہ اور لام کے ساتھ ہے ای لاِ نَّھُمْ ، اور ان سے جنگ کے لئے مقدور بھر قوت مہیا رکھو، آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ تیر اندازی ہے (رواہ مسلم) اور (تیار) بندھے رہنے والے گھوڑے، (رباط) مصدر ہے بمعنی اللہ کے راستہ میں محبوس رکھنا، (تاکہ) تم اس کے ذریعہ اللہ کے اور اپنے دشمن کفار مکہ کو خوف زدہ کرسکو، اور ان کے علاوہ دوسروں کو بھی یعنی ان کے غیر کو، اور وہ منافقین اور یہود ہیں، جن کو تم نہیں جانتے، اللہ ان کو جانتا ہے اور جو کچھ تم اللہ کے راستہ میں خرچ کروگے تم کو اس کا پورا پورا اجر دیا جا ئیگا اور تمہارے اوپر ظلم نہ کیا جائیگا، کہ اس اجر میں سے کچھ کم دیا جائے، اور (اے محمد ﷺ اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہوجائے سِلم، سین کے کسرہ اور فتحہ کے ساتھ، بمعنی صلح، تو آپ بھی اس کے لئے آمادہ ہوجایئے، اور ان سے معاہدہ کرلیجئے، ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ حکم آیت سیف سے منسوخ ہے، اور مجاہد نے کہا یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ مخصوص ہے، اس لئے کہ یہ بنی قریظہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اور اللہ پر بھروسہ کرو یقینا وہ باتوں کا سننے والا (اور) کاموں کا جاننے والا ہے اور اگر وہ (صلح سے) دھوکے کا ارادہ رکھتے ہوں تاکہ آپ کے مقابلہ کی تیاری کرسکیں، تو یقینا تمہارے لئے اللہ کافی ہے، وہی تو ہے جس نے اپنی مدد اور مومنین کے ذریعہ آپ کی تائید کی اور عداوت کے بعد ان کے دلوں کو جوڑ دیا، اور اگر تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو بھی ان کے قلوب کو نہیں جوڑ سکتے تھے لیکن اللہ نے اپنی قدرت سے ان کے دلالوں کو جوڑ دیا بیشک وہ اپنے حکم پر غالب باحکمت ہے کوئی شئی اس کے حکم سے خارج نہیں اے نبی تمہارے لئے اور تمہاری اتباع کر نیوالے مومنین کیلئے اللہ کافی ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اَفْلَتَ ، (افعال) رہا ہونا، چھوڑنا، راہ فرار اختیار کرنا، اِنفلاة البطن، پیٹ چلنا (اسہال) انفلات الریح، ہوا خارج ہونا، انفلت الشئی فلتَةً ، ای نغتةً ، اچانک نکلنا۔
قولہ : لاتحْسَبَنَّ ، یہ آپ ﷺ کو خطاب ہے متعدی بدومفعول ہے اول الذین کفروا ہے اور ثانی سَبَقوا جملہ ہو کر ہے، اللہ، سنقوا کا مفعول ہے، قرینہ مقام کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے جس کو مفسرّ علاّم نے ظاہر کردیا ہے، اور ایک قرأت میں تحسَبَنَّ ، یاء کے ساتھ ہے اس صورت میں یَحْسَبَنَّ کا مفعول اول محذوف ہوگا، ای لا یَحْسَنَنَّ الذین کفروا انفسھم سابقین اللہ، ایک قراءت میں اَنَّھم، ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ ہے اس صورت میں لام مقدر ہوگا ای لأِ نّھم .
قولہ : مصدر، رِباط الخیل میں، رِباط مصدر بمعنی مفعول ہے ای الخیل المربوط، جہاد کے لئے تیار بندھے رہنے والے گھوڑے، رباط کا عطف مصدر علی المصدر ہے۔
قولہ : فَاجْنَحْ لَھَا .
سوال : لَھَا کی ضمیر سِلْم کی طرف راجع ہے جو مذکر ہے، اور ضمیر مؤنث ہے ضمیر اور مرجع میں مطابقت نہیں ہے۔
جواب : سِلْم، کی نقیض یعنی حرب کا اعتبار کرتے ہوئے ضمیر کو مؤنث لایا گیا ہے حَرْب مؤنث سماعی ہے۔
قولہ : کَافِیَکَ ، یہ ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : سوال یہ ہے کہ حَسْبُکَ اللہ، میں مصدر کا حمل ذات پر لازم آرہا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔
جواب : مصدر بمعنی اسم فاعل ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں، مفسرّ علاّم نے حَسبُک کی تفسیر کا فیک سے کر کت اشارہ کردیا کہ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے۔
قولہ : الْاِ حْنُ الاِ حْنَةُ ، کی جمع ہے پر شیدہ دشمنی، کینہ، اَحِنَ اَحْنًا (س) پوشیدہ دشمنی رکھنا۔
تفسیر وتشریح
وَلا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کفروا الخ، اس آیت میں اس واقعاتی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اہل کفر تو تمہارے اور تمہارے دین کے دشمن رہیں گے ہی، حق و باطل، کفر و ایمان کا معرکہ قیامت تک جاری رہنے والا ہے، لہذا تم اس سے مقابلہ کے لئے ہمیشہ تیار رہو، اس کی طرف سے ہرگز غفلت نہ برتو، اور اپنے پاس وہ سامان رکھو جس سے ان پر ہیبت طاری ہوتی رہے اور ان کے دل دہلتے رہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک مستقل فوج ہمہ وقت تیار رہنی چاہیے تاکہ بوقت ضرورت فوراً جنگی کاروائی کرسکو، یہ نہ ہو کہ خطرہ سر پر آنے کے بعد گھبراہٹ میں جلدی جلدی رضا کار اور اسلحہ و سامانِ رسد جمع کرنے کی کوشش کرو اور اس دوران دشمن اپنا کام کر جائے۔
دشمن کے مقابلے کی تیاری : وَاَعِدّ والَھُمْ مَا اسْتَطعتم مِنْ قوةٍ الخ میں سامانِ حرب و ضرب سے اپنی مقدور بھر ہر وقت تیار رہنے کی کھلی تاکید بلکہ حکم ہے آیت میں، قوة، کا لفظ استعمال ہوا ہے یہ لفظ ہر قسم کی قوة کو عام ہے خواہ عَدَدِی قوت ہو یا آلات حرب کی، یہاں تک کہ بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ بڑھے ہوئے ناخن بھی اس میں داخل ہیں (ماجدی) اگرچہ حدیث شریف میں قوة کی تفسیر تیر اندازی سے کی گئی ہے۔ (صیح مسلم کتاب الا مارہ باب فضل الرمی والحث علیہ)
چونکہ آنحضرت ﷺ کے دور میں تیر اندازی ایک جنگی ہتھیار اور نہایت اہم فن تھا جس طرح اس دور میں گھوڑے جنگ کے لئے ناگزیر ضرورت تھے لیکن اس ترقی یافتہ اور مشینی و سائنسی دور میں ان کی وہ افادیت نہیں رہی اسلئے وَاَعِدُّ والھم مَا اسْتطعتم، کے تحت آج کل کے جنگی ہتھیار مثلاً میزائیل، راکٹ، ٹینک، جنگی جہاز اور بم کی تیاری ضروری ہے۔
صاحب روح المعانی کی صراحت : صاحب روح المعانی نے اس آیت کے تحت بندوق کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا ہے اگر مرحوم آج بقید حیات ہوتے تو مشینی گنوں اور طیاروں اور ٹینکوں جنگی جہازوں اور ہائیڈروجن بموں وغیرہ کا عجب نہیں کہ ذکر کردیتے، ایسی ہی تصریح رشید رضامصری کے یہاں ملتی ہے۔
واطلاق الرمی فی الحدیث یشمل کل مایرمیٰ بہ العدو من سھمٍ او قذیفةِ منجنیق اَوْ طیارةٍ او بندوقیة او مِدْفع و غیر ذلک، واِن لم یکن ھذا معروفاً فی عصرہ ﷺ فان الفظ یشتملہ . (المنار)
فالوا جب علی المسلمین فی ھذا العصر بنص القرآن صنع الندافع بانواعِھاوالبنادق والدبابات والطیارات وانشائِ السُفُن الحربیةِ بانوا عھا .(المنار)
آیت کا خلاصہ : آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت کو ہمہ وقتی تیاری دشمنوں سے مقابلہ کی رکھنی چاہیے، اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ مذکورہ تمام سازو سامان عملاً کیونکر ممکن ہے ؟ جب تک کہ خود مسلمانوں کے پاس انجینیر اور دیگر ماہرین فن نہ ہوں۔
Ayah 8:60وَآخرین من دونھم، لا تعلمونھم اللہ یعلمھم، اس آیت میں اشارہ ہے ان کافروں کے علاوہ جن سے تمہارا سابقہ پڑتا رہتا ہے ان کے علاوہ اور بھی قومیں ہیں جو تمہارے علم میں نہیں، مگر اللہ کے علم میں ہیں کہ کبھی ان سے تمہاری مڈبھیڑ ہوگی اس میں مجوسی اور روم کی مسیحی قومیں تو شامل ہیں ہی ان کے علاوہ قیامت تک آنیوالی تمام صیہونی قومیں بھی شامل ہیں۔
حضرت تھانوی (رح) تعالیٰ کی رائے گرامی : حضرت نے فرمایا ان آیتوں میں جو تدابیر حرب و سیاست بتائی گئی ہیں ان سے صاف دلالت اس امر پر رہی ہے کہ یہ سیاسی تدبیریں بڑے سے بڑے کمالات باطنی کے بھی منافی نہیں، جیسا کہ غالی و ناقص صوفیہ نے خیال کیا ہے۔ (ماجدی)
اتفاق فی سبیل اللہ : وَمَا تُنْفِقُوا مِن شیئٍ فی سبیل اللہ الخ نفس کو مال خرچ کرنے میں تنگی اور بخل کی ایک بڑی وجہ اس خیال سے پیدا ہوتی ہے کہ یہ مال ضائع ہورہا ہے اور اسکے معاوضہ میں کچھ حاصل نہ ہوگا، اس آیت نے اس خیال کی جڑ ہی کاٹ دی، اور اطمینان دلایا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا مال ضائع نہ جائیگا بلکہ وہاں (آخرت) میں پہنچ کر اس سے کہیں زیادہ اجر پائیں گے۔
Ayahs 8:61–62وَان جنحواللسلم فاجنح لَھَا وتو کل علی اللہ انَّہ ھو السمیع العلیم یعنی اگر حالات جنگ کے بجائے صلح کے متقاضی ہوں اور دشمن مائل بہ صلح ہو تو صلح کرلینے میں کوئی حرج نہیں اگر صلح سے دشمن کا مقصد دھوکا اور فریب ہو تب بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ پر بھروسہ رکھیں یقینا اللہ تعالیٰ دشمن کے فریب سے بھی محفوظ رکھے گا، لیکن صلح کی یہ اجازت ایسے حالات میں ہے کہ جب مسلمانوں کا پہلو کمزور ہو اور صلح میں اسلام اور مسلمانوں کا مفاد ہو لیکن جب معاملہ اس کے بر عکس ہو تو اس صورت میں صلح کے بجائے دشمن کی قوت و شوکت کو توڑنا ہی ضروری ہے '' وَ قاتلو ھم حتی لا تکون فتنة ویکون الدین کلہ اللہ ''.(انفال)
مسلمانوں کی بین الاقوامی پالیسی نزدلانہ نہ ہونی چاہیے : خلاصہ یہ ہے کہ بین الاقوامی معاملات میں مسلمانوں کی پالیسی بزدلانہ نہ ہونی چاہیے، بلکہ خدا کے بھروسہ پر بہادرانہ اور دلیرانہ ہونی چاہیے دشمن جب گفتگوئے مصالحت کی خواہش ظاہر کرے بےتکلف اس کے لئے تیار ہوجانا چاہیے۔
Ayahs 8:63–64وَاَلَّفَ بین قلوبھم، الخ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور مومنین پر جو احسانات فرمائے ان میں ایک بڑے احسان کا ذکر ہے وہ یہ کہ نبی ﷺ کی مومنین کے ذریعہ مدد فرمائی وہ آپ کے دست وبازو اور محافظ و معاون بن گئے، مومنین پر یہ احسان فرمایا کہ ان کے درمیان پہلے جو عداوت تھی اسے محبت و الفت میں تبدیل فرمادیا پہلے جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اب ایک دوسرے کے جاں نثار بن گئے، خصوصیت کے ساتھ اللہ کا فضل اوس و خزرج کے معاملہ میں تو سب سے زیادہ نمایاں تھا، یہ دونوں قبیلے دو ہی سال پہلے تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اور مشہور جنگ بعاث کو کچھ زیادہ دن نہیں گذرے تھے جس میں اوس نے خزرج کو اور خزرج نے اوس کو گویا صفحہ ہستی سے مٹادینے کا تہیہ کرلیا تھا، ایسی شدید عداوتوں کو دو تین سال میں گہری دوستی اور برادری میں تبدیل کردینا اور ان متنا فراجزاء کو جوڑ کر ایسی بنیان مرصوصی بنادینا جیسی نبی ﷺ کے زمانہ میں صحابہ کرام کی تھی یقینا انسان کی طاقت سے بالا تر تھا۔
Ayahs 8:65–66آیت نمبر 65 تا 69
ترجمہ : اے نبی ! مومنین کو کفار سے جہاد کرنے کا شوق دلاؤ، اگر تم میں بیس بیس صبر کرنے والے ہوں گے تو ان میں سے دو سو پر غالب رہیں گے، اور اگر تم میں سو صبر کرنے والے ہوں گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب رہیں گے اس سبب سے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں (یکن) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، اور یہ خبر بمعنی انشاء ہے یعنی تم میں سے بیس کو دو سو کے ساتھ قتال کرنا چاہیے، اور سو کو ہزار کے ساتھ، اور ان کے مقابلہ میں ثابت قدم رہو، پھر جب (مسلمانوں) کی تعداد زیادہ ہوگئی تو اللہ کے قول (اَلْئٰن) سے منسوخ کردیا گیا، (اچھا) اب اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرتا ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں نا توانی ہے اپنے سے دس گنا سے مقابلہ کرنے میں، (ضعفاً ) ضاد کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ ہے، پس اگر تم میں سے صابر سو ہوں گے تو ان کے دو سو پر اللہ کے حکم سے غالب رہیں گے یہ خبر بمعنی امر ہے، یعنی اپنے سے دو گنا کا مقانلہ کرو، اور ان کے مقابلہ میں ثابت قدم رہو، اللہ مدد کے ذریعہ صابرین کے ساتھ ہے (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی کہ جب بدر کے قیدیوں کا فدیہ لے لیا، کسی نبی کے لئے یہ زیبا نہیں کہ اس کے ہاتھ میں قیدی ہوں (یکون) یاء اور تاء کے ساتھ، جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے یعنی کافروں کے قتل میں مبالغہ نہ کرلے، اے مومنو تم فدیہ لے کر دنیا کا حقیر مال چایتے ہو اور اللہ تمہارے لئے آخرت یعنی اس کا ثواب چاہتا ہے اور اللہ زور آور، طاقتور ہے اور یہ اِمّا منّا بعد وامّا فدائّ سے منسوخ ہے، اور اگر اللہ کا نوشتہ غنائم کے حلال ہونے اور قیدیوں کے (فدیہ) کے تمہارے لئے حلال ہونے کا پہلے سے نہ لکھا گیا ہوتا تو جو فدیہ تم نے لیا اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزا دیجاتی، لہٰذا کو مال تم نے غنیمت کے طور پر لیا ہے اسے کھاؤ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو یقینا اللہ درگذر کرنے والا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : خَبَر بِمَعْنَی الاَمْرِ یہ ایک اعتراض کا جواب ہے۔
اعتراض : یہ ہے کہ مِائةً یَغْلبون الفاً من الّذین کفروا میں خبر دی گئی ہے کہ ایک سو صابر مسلمان ایک ہزار کافروں پر غالب ہوجاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی خبر میں کذب یعنی خلاف واقعہ ہونیکا امکان و احتمال نہیں ہے حالانکہ بعض اوقات مساوی ہونے کی صورت میں کافر بھی غالب آتے ہیں۔
جواب : جواب بمعنی امر ہے اور امر میں کذب کا احتمال نہیں ہوتا۔
قولہ : اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللہ وعَلِمَ أنّ فیکم ضُعْفَا، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ علم بالضعف کو الآن کے ساتھ مقیّد کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم بالحادث نہیں ہے۔
جواب : اللہ تعالیٰ کا علم حادث کے ساتھ بیشک متعلق ہے لیکن قبل الوقوع اس اعتبار سے کہ سَیَقَعُ ، اور واقع ہونے کے بعد اس اعتبار سے ہے کہ بانہ یقع .
قولہ : الحُطام بالضم، حقیر شئی، قلیل مال، ریزہ و شکستہ۔
قولہ : ای ثوابھا، حذف مضاف میں اس سوال کا جواب ہے کہ نفس آخرة تو ہر ایک کے لئے ثابت ہے پھر یرید لکم الآخرة کی کیا تخصیص ہے۔ جواب : آخرت تو سب کے لئے ہے مگر اجر آخرت صرف مومنین ہی کے لئے ہے۔
تفسیر وتشریح
یایّھا النبی حَرِّ ضِ المؤمنین علی القتالِ (الآیة) تحریض کے معنی ترغیب اور شوق دلانے کے ہیں چناچہ اسی کے مطابق نبی ﷺ جنگ سے پہلے صحابہ کو جنگ کی ترغیب دیتے اور اس کی فضیلت بیان فرماتے تھے، جیسا کہ بدر کے موقع پر جب مشرکین اپنی بھاری تعداد اور بھر پور وسائل کے ساتھ میدان میں آموجود ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا۔
جہاد کی فضیلت : ایسی جنت میں جانے کیلئے کھڑے ہوجاؤ جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، ایک صحابی عمیر بن حمام ؓ نے عرض کیا اس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، اس پر بخ بخ کہا یعنی خوشی کا اظہار کیا اور یہ امید ظاہر کی کہ میں بھی جنت میں جانیوالوں میں سے ہوں گا ؟ آپ نے فرمایا تم جنت میں جانے والوں میں سے ہوگے، چناچہ انہوں نے اپنی تلوار کی میان توڑ ڈالی اور کھجوریں نکال کر کھانے لگے پھر جو بچیں وہ ہاتھ سے پھینک دیں، اور کہا ان کے کھانے تک زندہ رہا تو یہ تو طویل زندگی ہوگی، پھر آگے بڑھے اور داد شجاعت دینے لگے حتی کہ عروس شہادت سے ہمکنار ہوگئے ؓ ۔ (صحیح مسلم کتاب الامارہ)
اِن یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مِائتین آیت نمبر 65 اور 66 میں مسلمانوں کے لئے ایک جنگی قانون کا ذکر ہے کہ مسلمان کو کس حد تک مقابلہ میں جمنا فرض اور اس سے ہٹنا گناہ ہے، اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آجائیں گے اور اگر سو ہوں گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب آجاؤ گے یہ عنوان اگرچہ خبر کا ہے مگر مقصد حکم ہے کہ سو مسلمانوں کو ایک ہزار کے مقابلہ میں بھاگنا جائز نہیں، خبر کا عنوان رکھنے میں مصلحت یہ ہے کہ مسلمانوں کے دل اس خوشخبری سے مضبوط ہوجائیں۔
اس کے بعد کی آیت میں اس حکم کو آئندہ کے لئے منسوخ کرکے دوسرا حکم یہ دیا گیا کہ اب اللہ تعالیٰ نے تخفیف کردی اور معلوم کرلیا کہ تم میں ہمت کی کمی ہے تو اگر تم میں سے سو آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے، اس کا مقصد بھی یہ ہے کہ مسلمانوں کو دو سو کے مقابلہ سے بھاگنا جائز نہیں ہے، پہلی آیت میں ایک مسلمان کو دس کے مقابلہ سے گریزناجائز تھا، اس آیت میں ایک کو دو کے مقابلہ میں گریز ممنوع قرار دیا گیا ہے اور یہی آخری حکم ہے جو ہمیشہ کے لئے جاری اور باقی ہے۔ یہاں بھی امر کو بعنوان خبر اور خوشخبری بیان فرمایا ہے جس میں اشارہ ہے کہ ایک مسلمان کو دو کافروں کے مقابلہ میں جمنے کا حکم معاذ اللہ کوئی ظلم یا تشدد نہیں بلکہ مسلمانوں میں ان کے ایمان کی وجہ سے وہ قوت رکھدی ہے کہ ان میں ایک کم از کم دو کے برابر تو ہوتا ہے۔
مگر دونوں جگہ اس فتح و نصرت کی خوشخبری کو ثابت قدمی کی شرط کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔
Ayah 8:67ماکان لنبی ان یکن لہ اَسْریٰ (الآیة) آیات مذکورہ کا تعلق غزوہ بدر کے ایک خاص واقعہ سے ہے لہٰذا ان کی تفسیر سے پہلے مختصر طور پر اس واقعہ کو بیان کرنا ضروری ہے۔
غزوہ بدر کے واقعہ کا خلاصہ : واقعہ یہ ہے کہ غزوہ بدر اسلام میں سب سے پہلا غزوہ ہے اور یہ اچانک پیش آیا تھا، اس وقت تک جہاد سے متعلق احکام کی تفصیل قرآن میں نازل نہیں ہوئی تھی مثلاً جہاد میں اگر مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آجائے تو اس کا کیا کیا جائے، دشمن کے سپاہی قبضے میں آجائیں تو ان کا کیا کیا جائے۔
مال غنیمت سابق انبیاء کی شریعتوں میں حلال نہیں تھا بلکہ پورا مال جمع کرکے ایک جگہ رکھدیا جاتا تھا دستور الہٰی کے مطابق آسمان سے آگ آتی اور اسے جلا کر خاک کردیتی، جہاد کے مقبول ہونے کی یہی علامت سمجھی جاتی تھی اگر آسمانی آگ جلانے کے لئے نہ آئے یہ جہاد کے نا مقبول ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کفار سے حاصل ہونے والا مال غنیمت کسی کے لئے حلال نہیں تھا مگر امت مرحومہ کے لئے حلال کردیا گیا، مال غنیمت کا اس امت کیلئے حلال ہونا اللہ تعالیٰ کے علم میں تو تھا مگر غزوہ بدر کے واقعہ تک اس کے متعلق کوئی وحی آنحضرت ﷺ پر اس کے حلال ہونے کے متعلق نازل نہیں ہوئی تھی۔
Ayahs 8:68–69لَوْلا کتاب مِن اللہ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ (الآیة) لولا کتاب من اللہ سبق (یعنی نوشتہ الہی) سے مراد کیا ہے ؟ اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، صاحب روح المعانی نے اس کے چار معنی لکھے ہیں۔
(1) ان لا یعذب قوما قبل تقدیم ما یُبَیّنِ لھم امرًا او نھیًا، یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اسکے اوا مرونوا ہی کے احکام واضح کرنے سے پہلے عذاب نہیں دیں گے یعنی یہ بات لوح محفوظ پر لکھی ہیں۔
(2) او مخْطی فی مثل ھذا الا جتھاد، یعنی لوح محفوظ میں یہ بات بھی لکھی ہوئی ہے کہ اجتہادی مسائل میں مخطی (خطا کرنے والے) سے مؤاخذہ نہیں ہوگا جیسا کہ غزوہ کے مال غنیمت کے بارے میں اجتہادی غلطی ہوئی۔
(3) اس جماعت (قوم) کو (عمومی) عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائیگا جس میں آنحضرت ﷺ ہوں گے یہ بات لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے '' ان لا یعذبھم و رسول اللہ ﷺ فیھم ''.
(4) اہل بدر کو عذاب نہیں دیا جوئیگا، ان لا یعذب اھل بدر ؓ عنھم قدروی الشیخان وغیر ھما، کما فی قصیة حاطب بن ابی بلتعہ وکان قد شھِدَ بدرًا .
(5) وقیل ھو اَنَّ الفدیة الَّتی اخذو ھا ستصیر حلالاً لَھُم، یعنی لوح محفوظ میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ قیدیوں کا فدیہ لینا تمہارے لئے عنقریب حلال کردیا جوئیگا، واعترض بأن ھذا لا یصلح أن یعد من موانع مساس العذاب فانَّ الحِلّ اللاحق لا یرفع حکم الحرمة السابقة کما ان الحرمة اللاحقة، فی الخمر مثلاً لا یرفع حکم الا با حْةِ السابقةِ ، کما یدل علیہ قولہ سجانہ '' لَمَسَّکُمْ فیما اَخَذْتم عذاب عظیم ''.(روح المعانی ص 50 سورة الانفال)
نمبر پانچ کی تاویل جس کو صاحب روح المعانی نے اخیز میں اور قیل سے بیان کیا ہے جو ضعف کی طرف مشیر یے، اکثر مفسرین نے مذکورہ آیت کی جو تاویل و تفسیر حضرت ابن عباس کی روایت کی بنا پر کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں قریشی لشکر کے جو لوگ گرفتار ہوئے تھے ان کے بارے میں بعد میں مشورہ ہوا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ حضرت ابوبکر ؓ اور دیگر بہت سے صحابہ ؓ کی رائے یہ تھی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور حضرت عمر اور سعد بن معاذ ؓ کی رائے یہ تھی کہ قتل کردیا جائے، نتیجہ یہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کی رائے کو پسند فرماکر فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں بطور عتاب نازل فرمائیں مگر یہ بات حل طلب رہ جاتی ہے کہ اس آیت کی تاویل کی صورت کیا ہوگی لولا کتٰب من اللہ سَبَقَ ، یعنی نوشتہ الہٰی اگر پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا '' کا کیا مطلب ہوگا ؟ روح المعانی نے اس جملہ کے پانچ مطلب بیان کئے ہیں کسی نے کہا کہ اس سے مراد تقدیر الہٰی ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی یہ ارادہ کرچکا تھا کہ مسلمانوں کے لئے یہ غنائم حلال کردے گا۔
اس پر صاحب روح المعانی تحریر فرماتے ہیں '' واعترض بان ھذا لا یصلح ان یعد من موانع مساس العذاب الخ '' یعنی آئندہ حلال کا ارادہ فرمانا نزول عذاب کے لئے مانع نہیں ہوسکتا اسلئے کہ حل لا حق حرمت سابقہ کے حکم کو مرتفع نہیں کرسکتا (یعنی) ہونے والی بیوی (منگیتر) قبل از نکاح اسلئے حلال نہیں ہوسکتی کہ وہ آئندہ بیوی ہونے والی ہے، اور یہ ایسا ہی ہے کہ جیسا حرمت لاحقہ ( آئندہ حرام ہونے والی) اباحة سابقہ کو مرتفع نہیں کرسکتی یعنی شراب چونکہ حرام ہونے والی ہے لہٰذا حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے اس کی اباحت ختم ہوجائے ایسا نہیں ہوتا، خلاصہ یہ ہے کہ آئندہ حلال ہونے والی شئی کا قبل الحلت استعمال موجب عذاب نہیں ہوسکتا جیسا کہ حرمت سے پہلے جن لوگوں نے شراب پی اس وجہ سے کہ شراب آئندہ حرام ہونے والی ہے مستحق عقاب نہیں ہوں گے صاحب روح المعانی نے اس اشکال کے چند جوابات لکھے ہیں جو تکلف سے خالی نہیں ہیں، مشہور تاویل کے مطابق صحابہ کرام کا ایسی چیز کو لینا لازم آتا ہے جس کی حلت کے لئے ابھی تشریعی حکم نہیں آیا اس تاویل کو اختیار کرنے کیلئے سب سے بڑی وجہ حضرت ابن عباس ؓ کی صحیح روایت ہے مگر خبرواحد ہے۔
لولا کتاب مِنَ اللہ سبق، کی ایک دوسری تاویل جس کی رو سے مندرجہ بالا قباحت لازم نہیں آتی، وہ یہ ہے کہ جنگ بدر سے پہلے سورة محمد میں جنگ کے متعلق جو ابتدائی ہدایات دی گئی تھیں ان میں فرمایا گیا تھا '' فاِذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق فاِمّا منّا بعد وَامّا فداء حتی تضع الحرب اوزارھا . (آیت ا 4)
اس ارشاد میں جنگی قیدیوں سے فدیہ لینے کی اجازت تو دیدی گئی تھی لیکن اس کے ساتھ شرط یہ لگائی گئی تھی کہ پہلے دشمن کی طاقت کو اچھی طرح کچل دیا جائے پھر دشمن کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے اس فرمان کی رو سے مسلمانوں کے بدر میں جو لوگ گرفتار کئے اور اس کے بعد ان سے جو فدیہ وصول کیا وہ تھا تو اجازت کے مطابق، مگر غلطی یہ ہوئی کہ دشمن کی طاقت کو کچل دینے کی جو شرط مقدم رکھی گئی تھی اسے پورا کرنے میں کوتاہی کی گئی، جب قریش کی فوج بھاگ نکلی تو مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ غنیمت لوٹنے اور کفار کے آدمیوں کو پکڑنے میں لگ گیا اور بہت کم آدمیوں نے دشمن کا کچھ دور تک تعاقب کیا حالانکہ اگر مسلمان پوری طاقت سے ان کا تعاقب کرتے تو قریش کی طاقت کا اسی روز خاتمہ ہوگیا ہوتا، اسی پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا اور یہ عتاب نبی ﷺ پر نہیں ہے بلکہ مسلمانوں پر ہے، گویا کہ اس میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ تم لوگ ابھی نبی کی منشاء اچھی طرح نہیں سمجھے ہو، نبی کا اصل کام یہ نہیں کہ فدیئے اور غنائم وصول کرکے خزانے بھرے بلکہ اس کے نصب العین سے جو چیز براہ راست تعلق رکھتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ کفر کی طاقت ٹوٹ جائے مگر تم لوگوں پر بار بار دنیا کا لالچ غالب ہوجاتا ہے، پہلے دشمن کی اصل طاقت یعنی لشکر پر حملہ کرنے کے بجائے قافلہ پر حملہ کرنا چاہا، پھر دشمن کا سر کچلنے کے بجائے مال غنیمت لوٹنے میں اور قیدی پکڑنے میں لگے گئے، پھر غنیمت کی تقسیم پر جھگڑنے لگے، اگر پہلے فدیہ وصول کرنے کی اجازت نہ دے چکے ہوتے تو اس پر تمہیں سخت سزا دیتے، خیر اب جو کچھ تم نے کیا ہے وہ کھالو مگر آئندہ ایسی روش سے بچتے رہو جو خدا کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ ترمذی، نسائی وغیرہ کے حوالہ سے حضرت علی ؓ سے بھی اس حدیث کی تا ئید ہوتی ہے، کہ جب صحابہ کرام کا بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کا ارادہ مضبوط ہوگیا تو حضرت جبرئیل علیہ الصلوٰة والسلام آئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا کہ اگر ان ستر قیدیوں سے فدیہ لیا جا ئیگا تو اسلام کی پہلی لڑائی میں یہ فدیہ اللہ کی مرضی کے موافق نہیں ہے اسلئے اس فدیہ کا معاوضہ یہ ہوگا کہ آئندہ لڑائی میں لشکر اسلام کے ستر شہید ہوں گے چناچہ تیرہ مہینے بعد احد کی لڑائی میں اس کا ظہور ہوا کہ اس لڑائی میں لشکر اسلام کے ستر آدمی شہید ہوئے۔
Ayahs 8:70–71ترجمہ : اے نبی ان لوگوں سے کہو جو تمہارے قبضہ میں قید ہیں اور ایک قراءت میں اَسْرَیٰ ہے اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی خیر دیکھے گا (یعنی ایمان و اخلاص) تو جو کچھ تم سے فدیہ کے طور پر لیا ہے اس سے زیادہ دے گا اس طور پر کہ دنیا میں تم کو اس کا دوگنادے گا اور آخرت میں تم کو ثواب دے گا، اور تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا، اللہ بڑا غفور رحیم ہے اور اگر یہ قیدی اپنی کہی ہوئی بات (اظہار اسلام) میں خیانت کرتے ہیں تو یہ لوگ بدر سے پہلے اللہ کے ساتھ کفر کرکے خیانت کرچکے ہیں آخر اس نے تم کو ان پر بدر میں قتل و قید کے ذریعہ قدرت دیدی اگر انہوں نے پھر ایسی حرکت کی تو ان کو ایسی ہی توقع رکھنی چاہیے، اللہ اپنی مخلوق کے بارے میں باخبر اور اپنی صنعت کے بارے میں با حکمت ہے جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنی جان و مال سے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا اور مہاجرین ہیں، اور جن لوگوں نے نبی کو ٹھکانہ دیا اور مدد کی اور وہ انصار ہیں دراصل ایک دوسرے کے نصرت اور ارث میں ولی ہیں اور وہ لوگ جو ایمان تو لائے لیکن ہجرت نہیں کی تمہاری ان کے ساتھ کوئی ولایت نہیں (وَلایة) واؤ کے کسرہ اور فتحہ کے ساتھ ہے، لہٰذا ان کے اور تمہارے درمیان نہ تو ارث ہے اور نہ ان کا مال غنیمت میں کوئی حصہ ہے، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں، اور یہ حکم آخر سورت سے منسوخ ہے، البتہ اگر وہ تم سے دین کے بارے میں مدد طلب کریں تو تمہارے اوپر لازم ہے کہ کفار کے مقابلہ میں ان کی مدد کرو سوائے ان لوگوں سے مقابلہ کے کہ ان کے اور تمہارے درمیان عہد و میثاق ہے تو ان کے مقابلہ میں (مسلمانوں کی) مدد نہ کرو اور ان سے کئے ہوئے عہد کو نہ توڑو، جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے اور کفار آپس میں ایک دوسرے کے نصرت اور ارث میں ولی ہیں لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی ارث نہیں ہے اگر تم ایسا نہ کرو گے یعنی اگر تم مومنین کی حمایت اور کافروں سے قطع تعلق نہ کرو گے تو ملک میں کفر کی قوت اور اسلام کے ضعف سے زبردست فساد برپا ہوجائیگا، اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد پہنچائی یہی لوگ سچے مومن ہیں ان کیلئے مغفرت ہے اور جنت میں عزت کی روزی ہے اور جو لوگ ایمان و ہجرت کی طرف سبقت کرنے والوں کے بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا تو اے مہاجر اور اے انصار وہ تم میں سے ہیں اور قرابتدار ارث اور توارث میں ایمان اور سابقہ آیت میں ہجرت مذکورہ کی وجہ سے بعض سے اولیٰ ہیں اللہ کی کتاب لوح محفوظ میں یقینا اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے اور اسی میں سے میراث کی حکمت ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : بآ خِرِ السُّورةِ ای، واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض . قولہ : مِنْ بَعْدُ ای بعد الحدیبیةِو قبل الفتح .
تفسیر وتشریح
شان نزول : یٰایّھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الْاَسْریٰ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ آیت حضرت عباس ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، بدر کے قیدیوں میں دیگر مشرکین کے ساتھ حضرت عباس آنحضرت ﷺ کے چچا بھی قید کرلئے گئے تھے، حضرت عباس ؓ جنگ بدر کے موقع پر جنگی خرچ کے لئے اپنے ہمراہ تقریباً سات سو سونے کی گنیاں (اشرفیاں) ساتھ لے کر چلے تھے اور ابھی وہ خرچ ہونے نہ پائی تھیں کہ گرفتار کرلئے گئے۔
جب فدیہ دینے آیا تو حضرت عباس ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ میرے ساتھ جو سونا تھا جسے لوٹ لیا گیا ہے اس کو میرے فدیہ کی رقم میں لگالیا جائے آپ ﷺ نے فرمایا '' جو مال آپ کفر کی امداد کے لئے لائے تھے وہ تو مسلمانوں کا مل غنیمت بن گیا فدیہ اس کے علاوہ ہوگا '' اور آپ نے یہ بھی فرمایا اپنے دو بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث کا فدیہ بھی ادا کریں، حضرت عباس ؓ نے عرخ کیا کہ اگر اتنا مالی بار مجھ پر ڈالا گیا تو مجھے قریش سے بھیک مانگنی پڑے گی میں بالکل فقیر ہوجاؤں گا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا، کیا آپ کے پاس وہ مال موجود نہیں جو مکہ سے روانگی کے وقت آپ نے اپنی بیوی ام فضل کے حوالہ کیا تھا، حضرت عباس نے پوچھا آپ کو کیسے معلوم ہوا جبکہ وہ مال میں نے رات کی تاریکی اور تنہائی میں اپنی بیوی کو دیا تھا اور کوئی تیسرا آدمی اس سے واقیف نہیں، آپ نے فرمایا مجھے میرے رب نے اس کی پوری تفصیل بتلادی، حضرت عباس ؓ کے دل میں یہ سن کر آنحضرت ﷺ کے سچے رسول ہونے کا یقین ہوگیا، اس سے پہلے وہ آنحضرت ﷺ کے دل سے معتقد تھے مگر شبہات تھے جو اللہ تعالیٰ نے اس وقت رفع فرمادیئے، حضرت عباس درحقیقت اسی وقت مسلمان ہوگئے تھے مگر چونکہ ان کا بہت سا روپیہ قریش مکہ کے ذمہ قرض تھا، اگر وہ اسی وقت اپنے مسلمان ہونیکا اعلان کردیتے تو سارا روپیہ مارا جاتا اسلئے اعلان نہیں کیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اس کا کسی سے اظہار نہیں فرمایا، فتح مکہ سے پہلے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے مکہ سے ہجرت کی اجازت چاہی مگر آپ نے مشورہ یہی دیا کہ ابھی ہجرت نہ کریں۔
حضرت عباس کہتے ہیں کہ اللہ پاک نے میرے اسلام لانے کے بعد اپنے وعدہ پورا کردیا اور فرمایا کہ اس وقت میرے پاس 20 غلام ہیں جن کے یاتھوں میں میرا سارا کاروبار ہے اور وہ مختلف مقامات پر کاروبار کرتے ہیں اور کسی کا کاروبار 20 ہزار درہم سے کم کا نہیں ہے اور اس پر مزید یہ انعام ہے کہ مجھے حجاج کو آب زم زم پلانے کی خدمت مل گئی ہے جو میرے نزدیک ایسا گرانقدر کام ہے کہ سارے اہل مکہ کے اموال بھی اس کے مقابلہ میں ہیچ سمجھتا ہوں، اور میں امید کرتا ہوں کہ آخرت میں خدا مجھے اس سے بھی زیادہ عطا کرے گا، مستدرک حاکم میں حضرت عائشہ ؓ کی ایک صحیح حدیث اسی مضمون کی ہے اس سے حضرت ابن عباس کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے مستدرک حاکم میں ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس بحرین کا مال آیا جس کی مقدار اسی ہزار درہم تھی تو آپ نے فرمایا، اس کو مسجد میں پھیلا دو ، اور نماز میں مشغول ہوگئے، نماز سے فراغت کے بعد آپ نے ہر شخص کو جو بھی نظر آیا دیا کسی کو محروم نہیں رکھا اتنے میں حضرت عباس ؓ آئے اور کہا مجھے بھی اس میں سے کچھ دیجئے میں نے ایک وقت اپنا اور اپنے بھتیجوں کا فدیہ دیا تھا، آپ نے فرمایا لے لو، انہوں نے لپیں بھر بھر کو مال لینا شروع کردیا اور اپنی چادر میں اس کو باندھ کر اٹھانے لگے تو نہیں اٹھاسکے، تو کہنے لگے کسی کو حکم دیجئے کہ وہ اٹھوا دے آپ نے فرمایا نہیں، پھر کہا تو آپ ہی اٹھوا دیں، آپ نے فرمایا، نہیں، آخر انہوں نے اس میں سے کچھ کم کردیا باقی کاندھے پر رکھ کر چلے گئے، آنحضرت ان کو دیکھ کر تعجب کررہے تھے جب وہ کچھ دور چلے گئے اور نظروں سے پوشیدہ ہوگئے تو آنحضرت بھی وہاں سے اٹھے اس وقت ایک درہم بھی باقی نہیں رہا تھا۔
قتادہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سعد بن سرح جب مرتد ہو کر مشرکوں سے مل گیا تو یہ آیت نازل ہوئی '' ان یُرِیدوا خیانتک فقد خانوا اللہ من قبلُ '' یہ عبداللہ بن سعد وہی ہے جو مسلمان ہو کر کچھ دنوں تک کاتب وحی رہا اور بعد میں مرتد ہو کر مدینہ سے مکہ جا کر مشرکین مکہ سے جا ملا، فتح مکہ کے وقت جن آٹھ مردوں اور چھ عورتوں کو قتل کرنے کا حکم ہوا تھا ان میں عبداللہ بن سعد بھی تھا لیکن یہ حضرت عثمان غنی ؓ کا دور کا بھائی تھا، اسلئے حضرت عثمان نے اس کی سفارش کی اور آنحضرت ﷺ نے سفارش منظور فرما کر عبداللہ کا اسلام قبول فرما لیا، آیت کے الفاظ عام ہیں لہٰذا آیت یہ ہے کہ عبداللہ بن سعد کی طرح جو کوئی اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ خیانت کرے گا وہ بد عہدی کے جرم میں پکڑا جا ئیگا۔
فائدہ : حضرت علی ؓ ، حضرت عباس ؓ ، عقیل، جعفر اور حارث کی اولاد کو بنی ہاشم کہتے ہیں۔
Ayah 8:72اِنَّ الذین ھا جروا وَجَاھَدُوا باموالھِم وانفسھم فی سبیل اللہ الخ، مدینہ میں آپ ﷺ کے ساتھ دو قسم کے مسلمان تھے ایک تو وہ لوگ تھے جنہوں نے مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کو اپنا وطن بنالیا تھا یہ مہاجر کہلائے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو مدینہ کے اصل باشندے تھے اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے تھے، ان لوگوں نے ہجرت سے پہلے آنحضرت ﷺ کو مکہ میں آکر مدینہ آنے کی دعوت دی تھی اور ہر طرح کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا کہ جان و مال سے دریغ یہ کریں گے، اگر کفار آپ پر حملہ آور ہوں گے تو ہم آپ کا دفاع کریں گے، یہ لوگ انصار کہلائے ہیں، ان حضرات نے اپنے دینی بھائی مہاجرین کی جان ومال سے خوب مدد کی اپنے گھروں میں جگہ دی جن کی بیویاں نہ تھیں ان کے نکاح کرائے ان دونوں گروہ انصار و مہاجرین کی شان میں مذکورہ آیتیں نازل ہوئی ان ہی کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں، اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے انصار و مہاجرین کے درمیان مواخات یعنی بھائی بندی کرادی تھی یہ دینی رشتہ خونی اور نسبتی رشتہ سے بھی زیادہ مضبوط ثابت ہوا، جب آیت '' اولوا الارحام بعضھم اولیٰ ببعض '' نازل ہوئی تو وارثت کا یہ عارضی انتظام ختم ہوگیا اور وارثت کا قانون نسبتی اور ازدواجی رشتہ پر مقرر ہوگیا، یہ روایت بخاری شریف میں عبداللہ بن عباس ؓ سے ہے۔
ترکہ کا اصل مالک کون ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا ملہ اور حکمت بالغہ کی وجہ سے مرنے والے انسان کے چھوڑے ہوئے مال کا
مستحق اسی کے قریبی عزیزوں رشتہ داروں کو قرار دیا ہے حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ جس کو جو کچھ دنیا میں ملا ہے وہ سب اللہ کی ملک حقیقی تھا، اس کی طرف سے زندگی بھر استعمال کرنے، نفع اٹھانے کے لئے انسان کو دے کر عارضی مالک بنادیا گیا تھا، اس لئے تقاضائے عقل و انصاف تو یہ تھا کہ مرنے والے کا ترکہ اللہ تعالیٰ کی ملک کی طرف لوٹ جاتا، جس کی عملی صورت اسلامی بیت المال میں داخل کرنا تھا، جس کے ذریعہ مخلوق خدا کی پرورش اور تربیت ہوتی ہے مگر ایسا کرنے میں ایک تو ہر انسان کے طبعی جذبات کو ٹھیس لگتی جبکہ وہ جانتا کہ میرا مال میرے بعد نہ میری اولاد کو ملے گا نہ ماں باپ اور بیوی کو اور پھر اس کا نتیجہ بھی طبعی طور پر لازمی تھا کہ کوئی شخص اپنا مال بڑھانے اور اس کو محفوظ رکھنے کی فکر نہ کرتا صرف اپنی زندگی کی حد تک ضروریات جمع رکھنے دے زائد کوئی شخص محنت و جا نفشانی نہ کرتا، اور یہ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ پورے انسانوں اور شہروں کے لئے ملکی اور قومی پیداوار گھٹ جانے کی وجہ سے پوری قوم اور پورے ملک کے لئے تباہی کا باعث ہوتا، اس لئے حق تعالیٰ نے میراث کو انسان کے رشتہ داروں کا حق قرار دیدیا، بالخصوص ایسے رشتہ داروں کا حق جن کے فائدہ ہی کے لئے وہ اپنی زندگی میں مال جمع کرتا اور طرح طرح کی محنت مشقت اٹھاتا تھا۔
اسلام میں دو قومی نظریہ : اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے اس اہم مقصد کو وراثت کی تقسیم میں سامنے رکھا جس کے لئے انسان کی تخلیق ہوئی، یعنی اللہ کی اطاعت و عبادت اور اس کے لحاظ سے پورے عام انسان کو دوالگ الگ قومیں قرار دے دیا مومن اور کافر قرآنی آیت '' خلقکم فمنکم کافرو منکم مؤمن '' کا یہی مطلب ہے، اسی دو قومی نظریہ نے نسبتی اور خاندانی رشتوں کو میراث کی حد تک قطع کردیا کہ کسی مسلمان کو کسی کافر رشتہ دار کی میراث سے کوئی حصہ نہ ملے گا اور نہ کسی کافر کو کسی مسلمان رشتہ دار کی وراثت میں کوئی حق ہوگا، پہلی دو آیتوں میں یہی مضمون بیان ہوا ہے، اور یہ حکم دائمی اور غیر منسوخ ہے۔
اس کے علاوہ ایک دوسرا حکم مسلمان مہاجر اور غیر مہاجر دونوں کے آپس میں وراثت کا ہے جس کے متعلق پہلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ مسلمان جب تک مکہ سے ہجرت نہ کرے اس وقت تک اس کا تعلق بھی ہجرت کرنے والے مسلمانوں سے وراثت کے بارے میں منقطع ہے، نہ مہاجر مسلمان اپنے غیر مہاجر مسلمان رشتہ دار کا وارث ہوگا اور نہ غیر مہاجر کسی مہاجر مسلمان کی وراثت سے کوئی حصہ پائیگا، ظاہر ہے کہ یہ حکم اس وقت تک تھا جب تک کہ مکہ فتح نہیں ہوا تھا فتح مکہ کے بعد تو خود رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمادیا تھا، '' لا ھجرة بعد الفتح '' یعنی فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم منسوخ ہوچکا ہے اور اہل تحقیق کے نزدیک یہ حکم بھی دائمی اور غیر منسوخ ہے مگر حالات کے تابع بدلا جاسکتا ہے، جن حالات میں نزول قرآن کے وقت یہ حکم آیا تھا اگر کسی زمانہ میں یا کسی ملک میں پھر ویسے ہی حالات پیدا ہوجائیں تو پھر یہی حکم جاری ہوجائیگا۔ (معارف)
توضیح مزید : مزید توضیح اس کی یہ ہے کہ فتح مکہ سے پہلے ہر مسلمان مرد و عورت پر مکہ سے ہجرت کو فرض عین قرار دیا گیا تھا، اس حکم کی تعمیل میں بجز معدود چند مسلمانوں کے سب ہی مسلمان ہجرت کرکے مدینہ آگئے تھے، اور اس وقت مکہ مکرمہ سے ہجرت نہ کرنا اس بات کی علامت بن گیا تھا کہ وہ مسلمان نہیں، اسی لئے اس وقت غیر مہاجر کا اسلام بھی مشتبہ تھا، جسکی وجہ سے مہاجر و غیر مہاجر کی باہمی وراثت کو قطع کردیا گیا تھا۔ اس تقریر سے یہ بات بخوبی معلوم ہوگئی کہ مہاجر وغیر مہاجر میں قطع وارثت کا حکم در حقیقت کوئی جداگانہ حکم نہیں بلکہ وہ پہلا حکم ہے جو مسلم اور غیر مسلم میں قطع وراثت کو بیان کرتا ہے فرق اتنا ہے کہ اس علامت کفر کی وجہ سے وراثت سے تو محروم کردیا گیا مگر محض اتنی علامت کی وجہ سے اس کو کافر نہیں قرار دیا جب تک کہ اس سے صریح اور واضح طور پر کفرکا ثبوت نہ ہوجائے۔
اور غالباً اسی مصلحت کے پیش نظر یہاں غیر مہاجر کا ایک اور حکم ذکر کردیا گیا ہے کہ اگر وہ مسلمان سے امداد و نصرت کے طالب ہوں تو مہاجر مسلمان کو ان کی امداد کرنا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ غیر مہاجر مسلمانوں کو بالکل کافروں کی صف میں نہیں رکھا بلکہ ان کا یہ اسلامی حق باقی رکھا گیا ہے کہ ضرورت کے وقت ان کی امداد کی جائے، اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہرحال میں اور ہر قوم کے مقابلہ میں ان کی امداد کرنا مسلمان پر لازم کردیا گیا ہے، اگرچہ وہ قوم کہ جس کے مقابلہ پر ان کو امداد مطلوب ہے اس سے مسلمانوں کا کوئی نا جنگ معاہدہ بھی ہوچکا ہو، حالانکہ اصول اسلام میں عدل و انصاف اور معاہدہ کی پابندی ایک اہم فریضہ ہے اس لئے سی آیت میں استثنائی حکم یہ بھی ذکر کردیا گیا کہ اگر غیر مہاجر مسلمان مہاجر مسلمانوں سے کسی قوم سے مقابلہ پر مدد طلب کریں جس سے مسلمانوں نے نا جنگ معاہدہ کررکھا ہے تو پھر اپنے دینی بھائی مسلمان کی امداد بھی معاہدہ کفار کے مقابلہ میں جائز نہیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جس وقت رسول اللہ ﷺ نے کفار مکہ سے صلح کرلی اور شرائط صلح میں یہ بھی داخل تھا کہ مکہ سے جو شخص اب مدینہ جائیگا اس کو رسول اللہ ﷺ واپس کردیں عین اسی معاملہ میں صلح کی وقت ابو جندل ؓ جن کو کفار مکہ نے قید کرکے طرح طرح کی تکلیفوں میں ڈالا ہوا تھا کسی طرح حاضر خدمت ہوگئے اور اپنی مظلومت کا اظہار کرکے رسول اللہ ﷺ سے مدد کے طالب ہوئے آنحضرت ﷺ جو رحمت عالم بن کر آئے تھے ایک مظلوم مسلمان کی فریاد سے کتنے متاثر ہوئے ہوں گے، اس کا اندازہ کرنا بھی ہر شخص کے لئے آسان نہیں مگر اس تاثر کے باوجود آیت مذکورہ کے حکم کے مطابق ان کی مدد کرنے سے عذر فرماکر واپس کردیا۔
Ayah 8:73وَالذین کفروا بعضھم اولیاء بعض، یہاں ولایت کے معنی اشتراک عداوت کے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین قریش آپس میں شدید دشمن تھے لیکن رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں سب ایک ہوگئے تھے اور یہ صورت حال آج تک چلی آرہی ہے غیر قومیں کیسی ہی ایک دوسرے کی دشمن ہوں لیکن اسلام کے مقابلہ میں سب ایک ہوجاتی ہیں۔ (ماجدی)
لفظ ولی چونکہ ایک عام مفہوم رکھتا ہے جس میں وراثت بھی داخل ہے اور معاملات کی ولایت و سرپرستی بھی اسلئے اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث سمجھے جائیں گے اور تقسیم وراثت کا جو قانون ان کے مذہب میں رائج ہے ان کے درمیان اسی کو نافذ کیا جائیگا، نیز ان کے یتیم بچوں کا ولی، لڑکیوں کے نکاح کا ولی بھی ان ہی میں سے ہوگا، مطلب یہ کہ ان کے عائلی مسائل اسلامی حکومت میں محفوظ رکھے جائیں گے۔
اِلاّ........، اگر اس فقرے کا تعلق، والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض سے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح کفار ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اگر تم اے اہل ایمان، آپس میں ایک دوسرے کی حمایت نہ کرو گے تو زمین میں فساد عظیم برپا ہوگا، الا تفعلوہ تکن فتنتہ الخ کا تعلق اگر مذکورہ تمام احکام کے ساتھ ہو جو آیت 72 سے یہاں تک بیان ہوئے ہیں تو اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا مثلاً یہ کہ مہاجرین و انصار کو آپس میں ایک دوسرے کا ولی ہونا چاہیے جس میں باہمی امداد و اعانت بھی داخل ہے اور وارثت بھی، دوسرے یہ کہ اس وقت کے مہاجر و غیر مہاجر کے درمیان وراثت کا تعلق نہ ہونا چاہیے مگر دینی رشتہ کی بنیاد پر امداد و نصرت کا تعلق اپنی شرائط کے ساتھ باقی رہنا چاہیے، تیسرے یہ کہ کفار آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء ہیں ان کے قانون ولایت و وراثت میں کسی قسم کی دخل اندازی مسلمان کو نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ان احکام پر عمل نہ کیا گیا تو زمین میں فتنہ و فساد پھیل پڑے گا، یہ تنبیہ غالباً اس لئے کی گئی ہے کہ جو احکام اس جگہ بیان ہوئے ہیں وہ عدل و انصاف اور امن عامہ کے لئے بنیادی اصول کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان آیات نے یہ واضح کردیا کہ باہمی امداد و اعانت اور وراثت کا تعلق جیسے رشتہ داری پر مبنی ہے ایسے ہی اس میں مذہبی اور دینی رشتہ بھی قابل لحاظ ہے بلکہ نسبی رشتہ پر دینی رشتہ کع ترجیح حاصل ہے اسی وجہ سے مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ آپس میں نسبی رشتہ سے باپ اور بیٹے یا بھائی ہی کیوں نہ ہوں، اس کے ساتھ ہی مذہبی تعصب اور عصبیت جاہلیت کی روک تھام کرنے کے لئے یہ بھی ہدایت دے دی گئی ہے کہ مذہبی رشتہ اگرچہ قوی اور مضبوط ہے مگر معاہدہ کی پابندی اس سے بھی مقدم اور قابل ترجیح ہے، مذہبی تعصب کے جوش میں معاہدہ کی خلاف ورزی جائز نہیں اسی طرح یہ ہدایت بھی دیدی گئی کہ کفار آپس میں ایک دوسرے کے ولی اور وارث ہیں ان کی شخص ولایت و وراثت میں مداخلت نہ کی جائے دیکھنے میں تو یہ جزائی احکام اور فروغی مسائل ہیں مگر درحقیقت امن عالم کے لئے عدل و انصاف کے بہترین اور جامع بنیادی اصول ہیں اسی لئے اس جگہ ام احکام کو بیان فرمانے کے بعد ایسے الفاظ سے تنبیہ فرمائی گئی جو عام طور پر دوسرے احکام کے لئے نہیں کی گئی کہ اگر تم نے ان احکام پر عمل نہ کیا تو زمین میں فتنہ اور فساد پر پا ہوجائیگا، ان الفاظ میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ احکام فتنہ و فساد روکنے میں خاص دخل و اثر رکھتے ہیں، تیسری آیت میں مکہ سے شہادت اور ان کی مغفرت اور با عزت روزی کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔
Ayah 8:74والذین آمنو ........، مہاجر و انصار کے علاوہ یہ تیسرے فریق کا ذکر ہے یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمان تو ہوگئے مگر ہجرت نہیں کی، مہاجر اور غیر مہاجر کے مابین مالی وارثت جاری نہ ہوگی، البتہ ہجرت کرنے کے بعد آپس میں مالی وارثت جاری ہوگی ہجرت کا وجود گو بعد فتح مکہ باقی نہیں رہا، تاہم دارلکفر سے ہجرت کرنا، ہمیشہ اولی اور موجب اجر ہے وقد کانت الھجرة فرضًا حین ھاجر النبی ﷺ الی ان فتح النبی ﷺ مکة . (حصاص، ماجدی)
Ayah 8:75چوتھی آیت والذین .... ھاجروا الخ مہاجرین کے مختلف طبقات کا حکم بیان فرمایا ہے کہ اگرچہ ان میں بعض لوگ مہاجرین اولین ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ کے بعد ہجرت کی وجہ سے ان کے اخروی درجات میں فرق ہوگا مگر احکام دنیا میں ان کا حکم بھی وہی ہے جو مہاجرین اولین کا ہے وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں۔
واولوا ...... ببعض یہ سورة انفال کی آخری آیت ہے اس میں قانون میراث کا ایک جامع ضابطہ بیان فرمایا گیا ہے جس کے ذریعہ اسی عارضی حکم کو منسوخ کردیا گیا جو اوائل ہجرت میں مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات کے ذریعہ ایک دوسرے کا وارث بننے کے متعلق جاری ہوا تھا۔
ختم شد