10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 10:71–82

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنا دو ۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم ! اگر تم کو میرا (تم میں) رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں تو خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو ۔

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

اور اگر تم نے منہ پھیرلیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہو۔

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے انکی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچالیا اور انھیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھُٹلایا ان کو غرق کردیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیسا انجام ہوا۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادُو ہے۔

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیر دو ۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے ؟ اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو تم کو ڈالنا ہے ڈالو۔

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا جو چیزیں تم (بناکر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو ابھی نیست و نابود کر دے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا۔

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کر دے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں۔

آیت نمبر 71 تا 82 ترجمہ : اے محمد ﷺ ان کفار مکہ کو نوح (علیہ السلام) کا اس وقت کا واقعہ سناؤ اِذْ قال، نَبَا نوح سے بدل ہے، جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر تم پر میرا تمہارے درمیان قیام کرنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعہ تم کو نصیحت کرنا گراں گزرتا ہے (تو گزرا کرے) میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے، تو تم اپنی تدبیروں کو جو تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر پختہ کرلو، یعنی جو تدبیریں تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو ان کو خوب مضبوط کرلو، (وشرکاء) میں واؤ بمعنی مع ہے پھر تمہاری تدبیر کا کوئی پہلو تم سے مخفی نہ رہنا چاہیے بلکہ اس کو ظاہر کردو اور مجھے بھی اس سے باخبر کردو، پھر جو کچھ تمہارا ارادہ ہو وہ میرے ساتھ کر گذرو اور مجھے مہلت نہ دو مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں پھر بھی اگر تم میری نصیحت سے روگردانی کرتے ہو تو میں تم سے کسی اجرت کا (یعنی) اس پر ثواب کا تو سوال کیا نہیں ہے جس کی وجہ سے تم بےرخی کرتے ہو میرا اجر وثواب تو محض اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تابع فرمان رہوں (نوح (علیہ السلام) کی قوم نے) ان کو جھٹلایا تو ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور کشتی میں جو ان کے ساتھ تھے بحا لیا اور جو لوگ (حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے ساتھ تھے ان ہی کو زمین میں خلیفہ بنایا اور بقیہ سب لوگوں کو طوفان میں غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیت کو جھٹلایا تھا سو دیکھ لو جن لوگوں کو ہلاکت سے ڈرایا تھا ان کا کیا انجام ہوا ! چناچہ ہم ان لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کریں گے جو تم کو جھٹلائیں گے پھر ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد ان کی قوم کی طرف بہت سے رسول بھیجے جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) سو وہ ان کے پاس کھلے معجزات لے کر آئے مگر جس چیز کو انہوں نے پہلے یعنی ان کی طرف رسول بھیجنے سے پہلے جھٹلا دیا پھر مان کر نہ دیا، ہم اسی طرح حد سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ ایمان کو قبول نہیں کرتے جیسا کہ ہم نے ان کے قلوب پر مہر لگا دی، پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو ہماری و نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا مگر انہوں نے ایمان کے مقابلہ میں تکبر کیا، اور وہ مجرم لوگ تھے پھر جب ہماری طرف سے حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا کہتے ہو کہ یہ جادو ہے، کیا یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جو اس کو لے کر آیا ہے وہ کامیاب ہوگیا، اور جادو گروں کے جادو کو باطل کردیا اور ساحر (جادو گر) فلاح نہیں پاسکتا، اور استفہام دونوں جگہ انکار کیلئے ہے، انہوں نے جواب دیا کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ تو ہم کو اس طریقہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ اور ملک مصر میں حکومت تم دونوں کی ہوجائے، اور ہم تم دونوں کی تصدیق کرنے والے نہیں اور فرعون نے کہا کہ میرے پاس یعنی علم سحر میں ہر فائق جادو گر کو لاؤ جب جادو گر آگئے تو جادوگروں کے یہ کہنے کے بعد کہ تم پہلے ڈالو یا ہم پہلے ڈالیں موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا جو تم کو ڈالنا ہے وہ ڈالو چناچہ جب جادوگروں نے اپنی رسیوں کو اور اپنی لاٹھیوں کو ڈالا، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا جو تم لائے ہو وہ جادو ہے، ما استفہامیہ مبتداء ہے اور (جئتم بہ السحر) اس کی خبر ہے اِلسّحر مَا جئتم سے بدل ہے اور ایک قراءت میں ایک ہمزہ کے ساتھ خبر ہے اور ما موصولہ مبتدأ ہے اللہ ابھی اسے باطل کئے دیتا ہے اللہ ایسے فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا اور اللہ اپنے وعدوں کے ذریعہ حق کو حق کر دکھاتا ہے خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناپسند ہو۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَاتْلُ ، فعل امر مبنی برحذف حرف علت میں واتلو تھا آخر سے واؤ حذف ہوگیا، عَلَیھم اُتُل سے متعلق ہے نَبَأ نوحٍ بترکیب اضافی اُتلُ کا مفعول بہ ہے، اِذ قال، اذ ظرفیہ برائے ماضی نَبَأ سے بدل الاشتمال ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے، اذ قال نَبأ کے متعلق بھی ہوسکتا ہے نوحٍ پر وقف لازم ہے اس لئے کہ اِذ قال کا تعلق اُتلُ سے فساد معنی کی وجہ سے جائز نہیں ہے اسلئے کہ اُتْل مستقبل ہے اور ظرف ماضی ہے اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا تم اس وقت سناؤ جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا حالانکہ یہ ممکن نہیں ہے۔ قولہ : لِقومِہ، میں لام برائے تبلیغ ہے مَقَام بالفتح موضع قیام ” مکان “ مرتبہ، مراد خود اپنا وجود ہے اور مقام بالضم مصدر ہے قیام کرنا، ٹھہرنا القیام علی الدعوۃ خلال مدۃ اللبث، اسلئے کہ دعوت و تبلیغ کا کام عام طور پر کھڑے ہو کر ہی کیا جاتا ہے۔ قولہ : فَعَلی اللہ توکلتُ ، یہ انآ کان کَبُرَ کی جزاء ہے اور اگر فَعَلی اللہ توکلتُ ، کو جملہ معترضہ مانا جائے تو فَاَجْمعوا اَمْرَکم جواب شرط ہوگا۔ قولہ : فاجمعوا امرکم کی تفسیر اعزموا علی امرٍ سے کرکے اشارہ کردیا ہے کہ اَجْمَعَ متعدی بنفسہ بھی مستعمل ہے اور متعدی بالحرف بھی قولہ : غمّۃ کٹھن، تاریک، مشتبہ، پوشیدہ، دشوار، جب چاند چھپ جاتا ہے تو عرب غم الھلال بولتے ہیں۔ قولہ : الواؤ بمعنی مع، یعنی شرکاء مفعول معہ ہو نیکی وجہ سے منصوب ہے، اس سے اس شبہ کو دور کردیا کہ شرکاء کا بظاہر عطف اجمعوا کی ضمیر فاعل پر ہے یعنی تم شرکاء اپنی تدبیروں کو مضبوط کرلو اس اعتبار سے شرکاء مرفوع ہونا چاہیے۔ قولہ : قال موسیٰ أتقولون للحق لما جاء کم، انّہ لَسحر أسحْرٌ ھذا۔ قال موسیٰ فعل بافاعل ہے، أتقولونَ میں ہمزہ استفہام انکاری ہے تقولون فعل مضارع بافاعل ہے انتم للحق متعلق تقولون سے ہے لَمّا جاء کم تقولون کا ظرف ہے، اِنّہ لَسِحْر، تقولون کا مقولہ ہے جو کہ محذوف ہے پورا جملہ قال موسیٰ کا مقولہ حکائی ہے (یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعونیوں کا مقولہ نقل کیا ہے) ۔ قولہ : اَسحْرٌ ھذا یہ قول موسیٰ محذوف کا مقولہ ہے ہمزہ استفہام انکاری ہے سِحْرٌ خبر مقدم ہے اور ھذا مبتدأ مؤخر ہے ولا یفلح السّٰحرون جملہ حالیہ ہے۔ وضاحت : مفسر علام نے اِنّہٗ لَسحْرٌ ھذا، محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ کا قول اَسِحْرٌ ھذا۔ یقولون کا مقولہ نہیں ہے بلکہ اس کا مقولہ محذوف ہے اور وہ اِنّہٗ لَسِحْرٌ مبین ہے اس حذف کا قرینہ یہ ہے کہ فرعونیوں نے قطیعت کے ساتھ بطریق اخبار نہ کہ بطریق استفہام موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کو سحر قرار دیتے ہوئے کہا تھا ” اِنَّ ھذا لَسِحْرٌ مبین “ اور اللہ تعالیٰ کا قول ” أسِحْرٌ ھذا “ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے مطلب یہ کہ اے فرعونیو ! کیا تم ایسی کھلی اور واضح حقیقت کو سحر قرار دیتے ہو ؟ تم کو تو ایسی بات جو واقعہ کے خلاف ہو ہرگز منہ سے نہ نکالی چاہیے۔ مذکورہ ترکیب بطریق سوال و جواب : سوال : موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعونیوں کے قول کی حکایت بطریق استفہام یعنی ” أتقولون للحق لَمَّا جاء کم أسحْرٌ ھذا “ سے کیوں کی ؟ حالانکہ فرعونیوں نے بطریق جزم و اخبار کے قطعیت کے ساتھ اپنے کلام کو انَّ اور لام سے مؤکد کرتے ہوئے کہا تھا ” کما قال اللہ تعالیٰ فلَما جاءھم الحق من عندنا قالوا اِنَّ ھذا لَسِحْرٌ مبین “۔ جواب : اس میں فرعونیوں کا مقولہ حکائی محذوف ہے اور تقدیر عبارت یہ ہے ” أتقولونَ للحق لمّا جاء کم اِنّ ھذا لَسِحْرٌ مبین “ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے قول پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا اسِحْرٌ ھذا ؟ کیا یہ جادو ہے ؟ تم کو حقیقت کے خلاف ایسی بات منہ سے نکالنی بھی نہ چاہیے۔ قولہ : بدلٌ یعنی اسحر، ما جئتم بہ سے حذف مبتدأ کے ساتھ بدل ہے ای اھو السِّحْرُ لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ مفرد جملہ سے بدل واقع نہیں ہوتا۔ قولہ : فی قراءۃ یعنی ابو عمرو کی قراءت میں أسحْر ھذا، میں ایک ہمزہ استفہامیہ ہے، اس قراءت کے مطابق مَا جئتم میں مَا استفہامیہ ہوگا، اور اَلسّحْرُ ، ما سے بدل ہوگا، ای اَیّ شئٍ جئتم بہ أھو السحر اور دوسروں کی قراءت میں ایک ہمزہ اخبار کے ساتھ ہے اس صورت میں مَا موصولہ مبتداء ہوگا، اور جئتم بہ صلہ ہوگا، اور السحْرُ اس کی خبر ہوگی، ای الذی جئتم بہ السّحْرُ لا الِّذِی جئتُ بہ۔ تفسیر و تشریح ربط آیات : سابق میں معقول اور دل لگتے دلائل اور شفقت آمیز نصائح سے سمجھایا گیا تھا کہ ان کے طریقہ اور عقائد و خیالات میں کیا غلطی ہے، اور وہ کیوں غلط ہیں، اور اس کے مقابلہ میں صحیح راہ کیا ہے ؟ اب ان کے اس طرز عمل کی طرف توجہ منعطف فرمائی جو وہ اس سیدھی اور صاف راہ کے جواب میں اختیار کر رہے تھے، دس گیارہ سال سے مشرکین مکہ کی روش یہ تھی کہ وہ بجائے اس کے کہ معقول تنقید اور صحیح رہنمائی پر غور کرکے اپنی گمراہیوں پر نظر ثانی کرتے الٹے اس شخص کی جان کے دشمن ہوگئے تھے جو ان باتوں کو اپنی کسی ذاتی غرض کیلئے نہیں بلکہ انہی کے بھلے کیلئے پیش کر رہا تھا، وہ دلیلوں کا جواب پتھروں سے اور نصیحتوں کا جواب گالیوں سے دے رہے تھے، اپنی بستی میں ایسے شخص کا وجود ان کے لئے سخت ناگوار تھا بلکہ ناقابل برداشت ہوگیا تھا، گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم اندھوں کے درمیان جو آنکھوں والا پایا جاتا ہے وہ ہماری آنکھیں کھولنے کے بجائے اپنی بھی آنکھیں بند کرلے ورنہ ہم زبردستی اس کی آنکھیں پھوڑ دیں گے تاکہ بینائی جیسی چیز ہماری سرزمین میں نہ پائی جائئے، یہ طرز عمل جو انہوں نے اختیار کر رکھا تھا اس پر مزید کچھ اور فرمانے کے بجائے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ انھیں نوح (علیہ السلام) کا قصہ سنا دو ، اسی قصہ میں وہ اپنے اور تمہارے معاملہ کا جواب بھی پالیں گے، اس پر بھی جب اہل مکہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان کو چیلنچ دیدیا کہ میں اپنے کام سے باز نہ آؤں گا، تم میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر گزرو، اور جن کو تم نے اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے ان کی بھی مدد لے لو اگر وہ تمہارے عقیدے کے مطابق تمہاری مدد کرسکتے ہیں، غُمَّۃً کے ایک معنی ابہام اور پوشیدگی کے بھی ہیں، یعنی میرے خلاف تمہاری تدبیر واضح اور غیر مبہم ہونی چاہیے، جو کچھ کرنا ہے کھلم کھلا کرو چرانے چھپانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس قطیعت اور جرأت کے لب و لہجہ کے ساتھ دشمنوں سے گفتگو وہی کرسکتا ہے جس کا رشتہ اللہ سے تمام تر جڑا ہوا ہو، اور جو مخلوق کی قوت ضرر رسانی اور خوف نفع رسانی سے یکسر بےنیاز ہوچکا ہو۔ فکذّبوہ فنجینَاہ ومن مَعَہٗ فی الفلک، یعنی قوم نوح (علیہ السلام) نے تمام تر وعظ و نصیحت کے باوجود تکذیب کا راستہ نہیں چھوڑا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو ایک کشتی میں بٹھا کر بچا لیا اور باقی سب کو حتی کہ نوح (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کو بھی غرق کردیا، اور ان بچنے والوں کو پہلے لوگوں کا جانشین بنایا، پھر آئندہ نسل انہی لوگوں سے بالخصوص نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں حام، سام، یافث سے چلی اسیلئے حضرت نوح (علیہ السلام) کو آدم ثانی کہا جاتا ہے طوفان نوح (علیہ السلام) کے بقیہ آثار : اس طوفان نوح (علیہ السلام) کے آثار ماہرین سائنس کو آج بھی ارض نوح (علیہ السلام) میں مل رہے ہیں یہ طوفان ملک عراق میں دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیانی علاقہ میں آیا تھا اس علاقہ کا رقبہ موجودہ ماہرین اثریات کے تخمینہ کے مطابق چار سو میل طول میں اور 100 میل عرض میں تھا (ماجدی) کشتی نوح (علیہ السلام) کا طول تورات کی تصریح کے مطابق تین سو ہاتھ اور عرض پچاس ہاتھ کا اور بلندی تیس ہاتھ کی تھی۔ (ماجدی) قوم نوح (علیہ السلام) کی غرق آبی کے بعد مخلصین و مومنین پھر اسی علاقہ میں آباد ہوگئے اور ان ہی سے سلسلہ نسل آدم چلا، نوح انسانی کی آبادی تاریخ کے اس ابتدائی دور میں صرف اسی سرزمین کی حدود تک محدود تھی، اسی لئے جن مفسرین نے طوفان نوح (علیہ السلام) کے عالم گیر ہونے کا دعوی کیا ہے انہوں نے کچھ غلط نہیں کہا، دنیا کی آبادی اس دور میں اسی خطہ عراق تک محدود تھی، اس لئے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے اب تک کل دس پشتیں ہی ہوئی تھیں۔ غرق آبی عام اور عالم گیر تھی یا اسی امت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص تھی، یہ سوال متقدمین مفسرین کے سامنے بھی آچکا ہے اور محققین کی اکثریت شق ثانی ہی کی طرف گئی ہے اور ظواہر قرآن و حدیث بھی اسی کی تائید میں ہیں۔ (روح) فما کانوا لیُوْمنوا بما کذّبوا بہ من قبلُ ، اس آیت میں حد سے گذر جانے والوں کے قلوب پر ٹھیہ لگانے کی بات کہی گئی ہے، حد سے گذر جانے والے یہ وہ لوگ ہیں جو ایک مرتبہ غلطی کر جانے کے بعد پھر اپنی بات کی پچ اور ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنی اسی غلطی پر اڑے رہتے ہیں اور جس بات کا ایک بار انکار کردیتے ہیں اسے پھر کسی فہائش، کسی تلقین اور کسی معقول سے معقول دلیل سے بھی مان کر نہیں دیتے، اہل ضلال کی یہ ذہنیت آج تک چلی آرہی ہے، جہاں ایک بار شروع میں بےسوچے سمجھے زبان سے ” نہیں “ نکل گئی بس آخر تک اسی پر قائم رہیں گے، ایسے لوگوں پر اللہ کی ایسی پھٹکار پڑتی ہے کہ انھیں پھر راہ راست پر آنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ فَاستکبروا وکانوا قوماً مجرمین الخ یعنی فرعون نے اپنی دولت و حکومت اور شوکت و حشمت کے نشے میں مدہوش ہو کر اپنے آپ کو بندگی کے مقام سے بالاتر سمجھ لیا اور اطاعت کیلئے سر جھکانے کے بجائے اکڑ دکھانی شروع کردی۔
Ayahs 10:83–92

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے اور فرعون ملک میں متکبر اور متغلب اور (کبر و کفر میں) حد سے بڑھا ہوا تھا۔

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اے قوم اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسا رکھو۔

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال۔

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے قوم کفار سے ہمیں نجات بخش۔

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لئے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھیراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) ساز وبرگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مآل یہ ہے کہ تیرے راستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ! ان کے مال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے راستے نہ چلنا۔

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں۔

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(جواب ملا) کہ اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا ؟

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کیلئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں۔

آیت نمبر 83 تا 92 ترجمہ : فرعون کی قوم کے نوجوانوں میں سے ایک مٹھی بھر نوجوانوں کے علاوہ کسی نے فرعون اور اپنے سرداروں کے خوف کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات نہیں مانی کہ وہ ان کو تکلیف دیکر ان کے دین سے پھیر دیں گے اور اس میں شک نہیں کہ فرعون ملک مصر میں (زور وتکبر میں) بہت چڑھا ہوا تھا، اور وہ تھا ہی دعوائے ربوبیت کرکے حد سے تجاوز کرنے والوں میں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم فرمانبردار ہو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے ہمارے پروردگار تو ہم کو ظالموں کے لئے تختہ مشق نہ بنا یعنی تو ان کو ہم پر غالب نہ فرما کہ وہ یہ سمجھنے لگیں کہ وہ حق پر ہیں پھر ہم کو تختہ شق بنائیں، اور تو ہم کو اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات عطا فرما اور ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی کو وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنی قوم کیلئے مصر میں گھر برقرار رکھو اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی) جائے نماز بنا لو کہ ان میں نماز پڑھو تاکہ تم خوف سے مامون رہو اور فرعون نے ان کو نماز پڑھنے سے منع کردیا تھا، اور نماز کو مکمل طریقہ پر قائم کرو اور اے موسیٰ تم نصرت اور جنت کی مسلمانوں کو خوشخبری سنا دو ، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو سامان زینت اور طرح طرح کے مال دنیوی زندگی میں دئیے اے ہمارے پروردگار یہ چیزیں تو نے ان کو عطا کیں تاکہ وہ اس کے نتیجے میں تیرے راستہ سے (لوگوں کو) گمراہ کرے، اے ہمارے رب ان کے مالوں کو نیست و نابود کر دیجئے اور ان کے قلوب کو (اور زیادہ) سخت کر دیجئے ان کے قلوب پر مہر لگا دیجئے اور مسدود کر دیجئے کہ پھر وہ ایمان نہ لاسکیں یہاں تک کہ دردناک عذان کو دیکھ لیں، موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کیلئے بددعاء کی اور ہارون (علیہ السلام) نے ان کی بددعاء پر آمین کہی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” تمہاری دعاء قبول کرلی گئی “ جس کی وجہ سے ان کے مال (سیم وزر) پتھروں میں تبدیل کر دئیے گئے، اور فرعون ایمان نہ لایا حتی کہ وہ غرق کردیا گیا، اور تم دونوں تبلیغ و دعوت پر قائم رہو یہاں تک کہ ان پر دردناک عذاب آجائے، اور تم ایسے لوگوں کے طریقہ کی پیروی نہ کرو جو قضا کے معاملہ میں جلد بازی کے انجام کو نہیں جانتے روایت کیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) بددعاء کے بعد ان میں چالیس سال مقیم رہے، اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا پھر فرعون اور اس کے لشکر نے ظلم و زیادتی کے ارادہ سے ان کا پیچھا کیا بغیاً وعدوا (اتبعھم کا) مفعول لہٗ ہے حتی کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا کہ میں نے مان لیا کہ معبود حقیقی اس کے سوا نہیں ہے کہ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے، أنَّہ اصل میں بأنّہ ہے، اور ایک قراءت میں انّہ کسرہ کے ساتھ ہے جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے، اور میں بھی سرِ طاعت خم کردینے والوں میں ہوں، اس نے ایمان اور تسلیم کو مکرر ذکر کیا تاکہ قبول کرلیا جائے، مگر قبول نہیں کیا گیا، اور جبرائیل (علیہ السلام) نے اس کے منہ میں دریا کی کیچڑ ٹھونس دی اس اندیشہ سے کہ کہیں اس کی طرف رحمت متوجہ نہ ہوجائے (جبرائیل نے) اس کو جواب دیا اب ایمان لاتا ہے حالانکہ تو اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور تو خود گمراہ ہوا اور دوسروں کو ایمان سے گمراہ کرنے کی وجہ سے فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا، اب تو ہم تیری لاش ہی کو کہ جو بےروح ہے دریا سے نکالیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لئے نشان عبرت بنے تاکہ وہ تیرے بندہ ہونے کو جان لیں، اور تیرے جیسے اقدام کی جرأت نہ کریں، اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بعض بنی اسرائیل نے فرعون کی موت میں شک کیا تو اس کی لاش نکالی گئی تاکہ اس کو دیکھ لیں، اور واقعہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اہل مکہ ایسے ہیں جو ہماری آیتوں (قدرت کی نشانیوں) سے غفلت برتتے ہیں، یعنی ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : فَمَا اٰمَنَ لِموسیٰ اِلاَّ ذُرَّیّۃ من قومِہٖ ، فاء عاطفہ ہے معطوف علیہ محذوف ہے جو سیاق سے مفہوم ہے اور وہ ” فالقیٰ موسیٰ عَصَاہ فاِذَا ھِیَ تلقفُ مَا یأفکون “ ہے، (اعراب القرآن) فما اٰمَنَ لموسیٰ کے معنی ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کی بات نہیں مانی، اس کو ایمان بالتسلیم کہتے ہیں، یہ متعدی بالام ہوتا ہے اور ایک ایمان بالتصدیق ہوتا ہے وہ متعدی بالباء ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے یؤمن باللہ ویؤمن للمؤمنین۔ قولہ : ذرّیۃ، ذّریۃ بتثلیث الذال، ذرّیۃ الرجل، اولاد، نسل جمع ذراری وذُرّیات، ذّریۃ، یہاں قلت عدد کے معنی میں مستعمل ہے مفسر علام نے ذرّیۃ کی تفسیر طائفۃ سے کرکے اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے یعنی مٹھی بھر لوگ، تفسیر کبیر میں ہے ” ھٰھُنا مَعناھا التقلیل ” (کبیر) حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ ذرّیۃ کا لفظ جب کسی قوم پر بولا جاتا ہے تو مقصود اس کی تحقیر یا تصغیر ہوتی ہے۔ قال ابن عباس ؓ لفظ الذریۃ یعبربہ عن القوم علی وجہ التحقیر والتصغیر (کبیر) چونکہ یہاں تحقیر کا کوئی قرینہ نہیں اس لئے مقصود تصغیر عدد ہی ہے۔ قولہ : من قومہٖ ، قومہٖ ، کی ضمیر نے دو مختلف معنی پیدا کر دئیے ہیں مراد قوم موسیٰ بھی ہوسکتی ہے اور قوم فرعون بھی، پہلی صورت میں مراد یہ لی جائے گی کہ فرعون اور فرعونیوں کے ڈر سے ابتداء میں اسرائیلیوں کے بہت تھوڑے لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کی تصدیق کی، اور دوسری شق کی صورت میں فرعونیوں کی ایک جماعت مراد ہوگی، جس میں وہ جادوگر شامل ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے کیلئے آئے تھے ان کے علاوہ فرعون کی بیوی آسیہ اور فرعون کا خازن اور اس کی بیوی اور بنت فرعون کی مشاطہ (بال سنوارنے والی) اور رجل من آل فرعون بھی، مفسر علام نے دوسری شق کو اختیار کرکے قومہٖ کی ضمیر فرعون کی طرف لوٹائی ہے۔ قولہ : ارض مصر، اس سے اشارہ کردیا کہ فی الارض میں الف لام عہد کا ہے۔ قولہ : وأمَنَ ہارون علی دعاءہ، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ بددعا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تو پھر ” قد اجیبت دعوتکما “ میں تثنیہ کا صیغہ کیوں استعمال ہوا ہے ؟ جواب کا حاصل یہ ہے کہ دعاء کرنا اور دعاء پر آمین کہنا ایک ہی درجہ میں ہیں۔ قولہ : حمأۃ، کالی مٹی، کیچڑ۔ تفسیر و تشریح فَمَا اٰمَنَ لِمُوْسٰی اِلاَّ ذُرَّیَۃٌ مِنْ قومِہٖ ، قومِہٖ کے ضمیر کے مرجع میں مفسرین کا اختلاف ہے، بعض نے اس کا مرجع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے اسلئے کہ آیت میں ماقبل میں ان ہی کا ذکر ہے، مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے بہت تھوڑے آدمی ایمان لائے، لیکن امام ابن کثیر وغیرہ نے اس کا مرجع فرعون کو قرار دیا ہے یعنی فرعون کی قوم میں سے بہت تھوڑے آدمی ایمان لائے، ان کی دلیل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگ ایک رسول اور نجات دہندہ کے انتظار میں تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صورت میں ان کو مل گیا اس اعتبار سے تمام بنی اسرائیل (سوائے قارون کے) ان پر ایمان رکھتے تھے اسلئے صحیح اور راجح بات یہی ہے ذرّیۃ من قومہٖ سے فرعون کی قوم کے تھوڑے لوگ مراد ہیں جن میں فرعون کی بیوی آسیہ اور فرعون کا خازن اور اس کی بیوی، اذر بنت فرعون کی مشاطہ (بال سنوارنے والی) اور رجل من آل فرعون شامل ہیں۔ وَاجْعَلوا بُیُوتکم قبلۃً ، پہلی امتوں کو عبادت خانوں کے علاوہ میں عبادت کرنے کی اجازت نہیں تھی مگر فرعون نے عبادت خانوں میں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کردی تھی اس لئے بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ گھروں ہی میں نماز پڑھ لیا کرو۔ فرعون کے زرو جواہر کا پتھروں میں تبدیل ہوجانا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب فرعون کی اصلاح سے مایوس ہوگئے اور اس کے مال و دولت سے دوسروں کے گمراہ ہونے کا خطرہ محسوس کیا تو ربنا اطمس علی اموالھم کہہ کر بددعاء کردی یعنی اے میرے پروردگار اس کے اموال کی صورت بدل کر مسخ کر دے۔ حضرت قتادہ کا بیان ہے کہ اس دعاء کا اثر یہ ہوا کہ تمام فرعون کے تمام زیورات اور زرو جواہر اور نقد سکے اور باغوں اور کھیتوں کی سب پیداوار پتھروں کی شکل میں تبدیل ہوگئے، حضرت عمر بن عبد العزیز کے زمانہ میں ایک تھیلہ دستیاب ہوا جس میں فرعون کے زمانہ کی چیزیں تھیں ان میں انڈے اور بادام بھی تھے جو بالکل پتھر تھے۔ (معارف) بنی اسرائیل کا خروج اور فرعون کا تعاقب : جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے تمام معجزوں کو جھٹلا دیا اور وہ کسی طرح بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی بات ماننے کیلئے تیار نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر اپنے آباء و اجداد کی سرزمین فلسطین کی طرف نکل جاؤ مصر سے فلسطین جانے کے دوراستے ہیں ایک خشکی کا راستہ ہے اور وہ قریب کا راستہ ہے اور دوسرا راستہ بحر احمر (قلزم) کا راستہ ہے اس راستہ میں دریا عبور کرکے صحراء سینا (تیہ) سے گذرتا ہوتا ہے، اور یہ راستہ دور کا ہے، مگر خدا کی مصلحت کا تقاضا یہی ہوا کہ قریب اور آسان راستہ چھوڑ کر دور کا اور دشوار گذار راستہ اختیار کریں، اس طویل راستہ کی حکمتوں اور مصلحتوں میں سے ایک بڑی مصلحت یہ تھی کہ درعون کو غرق دریا کیا جائے۔ غرض یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر راتوں رات بحر احمر کے راستہ سے روانہ ہو لئے اور روانہ ہونے سے پہلے مصری عورتوں کے زیورات اور قیمتی پارچہ جات جو ایک تہوار کے بہانہ مستعار لئے تھے وہ بھی واپس نہ کرسکے، فرعون کو جب بنی اسرائیل کے نکلنے کا علم ہوا تو فرعون نے ایک زبردست فوج کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا اور صبح ہونے سے پہلے ہی ان کے سروں پر جا پہنچا، تورات کے مطابق بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ تھی، صبح ہونے کے بعد جب بنو اسرائیل نے فرعون کو اپنے سروں پر دیکھا تو گھبرا گئے اور اپنی مصیبتوں اور پریشانیوں کا سارا الزام موسیٰ (علیہ السلام) کو دینے لگے۔ فرعون کا غرق ہونا : موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو تسلی دی اور فرمایا خوف نہ کرو خدا کا وعدہ سچا ہے وہ تم کو ضرور نجات دیگا، اور پھر بارگاہ الہیٰ میں دست بدعاء ہوگئے، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا دریا پر مارو چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دریائے قلزم پر اپنا عصا مارا تو پانی پھٹ کر دونوں جانب پہاڑوں کے مانند کھڑا ہوگیا، اور حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل درمیانی راستہ سے بخیر عافیت نکل گئے۔ جب فرعون نے دریا کو دو لخت دیکھا تو اپنی قوم سے کہنے لگا یہ میری کرشمہ سازی ہے کہ دریا نے راستہ دیدیا لہٰذا بڑھے چلو، چناچہ وہ اور اس کا پورا لشکر بنی اسرائیل کے پیچھے اسی راستہ پر ہولیا جب بنی اسرائیل کا ہر فرد دریا پار ہوگیا تو پانی بحکم الہیٰ اپنی پہلی حالت پر آگیا، اسی میں فرعون اور اس کا پورا لشکر غرق ہوگیا۔ جب فرعون غرق ہونے لگا اور ملائکہ عذاب نظر آنے لگے تو پکار کر کہنے لگا ” میں اسی وحدہ لاشریک لہٗ پر ایمان لاتا ہوں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں “ ، مگر یہ ایمان چونکہ مضطر بانہ حالت نزع کا تھا اس لئے خدا کی جانب سے جواب ملا ” آلاٰنَ وقد عصیت قبلُ وکنت من المفسدین “ یعنی خدا کو خوب معلوم ہے کہ تو مسلمین میں سے نہیں ہے بلکہ مفسدین میں سے ہے مصری عجائب خانہ میں فرعون کی لاش : فالیون نُنَجِّیکَ بِبَدَنکَ لِتکونَ لِمَنْ خلفکَ آیۃ، یہ معلوم ہی ہے کہ فرعون کسی خاص شخص کا نام نہیں ہے بلکہ شاہان مصر کا لقب ہے جس طرح چین کے بادشاہ کو خاقان اور روس کے بادشاہ کو زار اور روم کے بادشاہ کو قیصر اور ایران کے بادشاہ کو کسریٰ کہتے تھے اسی طرح مصر کے بادشاہ کو فرعون کہتے تھے۔ فرعون اصل میں فارا، اَوْہ تھا، مصری زبان میں فارا محل کو کہتے ہیں اور اَوْہ کے معنی اونچا کے ہیں فارا اوہ کے معنی ہوئے اونچا محل، اس سے شاہ مصر کی ذات مراد ہوتی تھی، جیسے خلافت عثمانی کے زمانہ میں باب عالی سے مراد خلیفہ کی ذات ہوتی تھی، موسیٰ (علیہ السلام) کو جس فرعون نے پرورش کیا تھا اس کا نام رعمیس یا رعمسیس دوم تھا اور رعمیس کے بیٹے منفتاح کے زمانہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی اور اسی سے مقابلہ ہوا اور یہی 1491 قبل مسیح میں غرق ہوا، (لغات القرآن، عبد الدائم جلالی) جب فرعون غرق کردیا گیا تو اس کی موت کا بہت سے لوگوں کو یقین نہیں آیا، اللہ نے سمندر کو حکم دیا کہ فرعون کی لاش کو دریا کے کنارے پر ڈال دے چناچہ دریا نے فرعون کی لاش کو دریا کے کنارہ پر ڈال دیا، اس وقت لوگوں نے اس کی لاش کا مشاہدہ کیا اور اس کے مرنے کا یقین آگیا، مشہور ہے کہ آج بھی وہ لاش مصر کے عجائب خانہ میں محفوظ ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب) مصری مقالہ نگار کی رائے : اگر مصری مقالہ نگار کی رائے صحیح ہے کہ منفتاح (رعمیس یا رعمیس ثانی) ہی فرعون موسیٰ تھا تب تو بلاشبہ اس کی لاش آج تک مصری عجائب خانہ میں محفوظ ہے اور سمندر میں تھوڑی دیر غرق رہنے کی وجہ سے اس کی ناک کو مچھلی نے کھالیا ہے۔ آج تک وہ مقام جزیرہ نمائے سینا کے مغربی ساحل پر موجود ہے جہاں فرعون کی لاش سمندر میں تیرتی ہوئی ملی تھی، اس کا نام موجودہ زمانہ میں جبل فرعون ہے، اور اسی کے قریب ایک گرم چشمہ ہے جس کو مقامی آبادی نے حمام فرعون کے نام سے موسوم کر رکھا ہے اس کی جائے وقوع ابوزنیمہ سے چند میل اوپر شمال کی جانب ہے اور علاقہ کے باشندے نشاندہی کرتے ہیں کہ فرعون کی لاش اسی جگہ پڑی ملی تھی۔ اگر یہ ڈوبنے والا ہی فرعون منفتاح ہے جس کو زمانہ حال کی تحقیق نے فرعون موسیٰ قرار دیا ہے تو اس کی لاش آج تک قاہرہ کے عجائب خانہ میں موجود ہے، 1907 ء میں سرگرزفئن الیٹ سمتھ نے جب اس کی ممی سے پٹیاں کھولی تھیں تو اس کی لاش پر نمک کی ایک تہ جمی ہوئی تھی جو کھارے پانی میں اس کی غرقابی کی ایک کھلی علامت تھی۔ فائدہ : رعمیس، رعمسیس اور رعیس اور عمیسس یہ شخص کے نام میں تلفظ کا فرق ہے۔
Ayahs 10:93–103

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کو عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن وہ باوجود علم حاصل ہونے کے اختلاف کرتے رہے۔ بیشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا۔

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اتری ہوئی) کتابیں پڑھ تے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پا چکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے۔

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آجائے۔

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

تو کوئی بستی ایسی نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا۔ ہاں یونس کی قوم ' کہ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں ؟

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں کہ خدا کے حکم بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے۔

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

(ان کفار سے) کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے۔ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کے نشانیاں اور ڈراوے کچھ کام نہیں آتے۔

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

سو جیسے (برے) دن ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں۔ اسی طرح کے (دنوں کے) یہ منتظر ہیں۔ کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

اور ہم اپنے پیغمبروں کو اور مومنوں کو نجات دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں۔

آیت نمبر 93 تا 103 ترجمہ : اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا اور وہ شام اور مصر تھا، اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں، پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جبکہ علم ان کے پاس آچکا بایں طور کہ بعض لوگ ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا، یقیناً تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس امر دین میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں مومنین کو نجات دے کر اور کافروں کو عذاب دیکر، پس اے محمد ! بالفرض اگر تم ان قصوں کے بارے میں جو ہم نے تمہاری طرف نازل کئے ہیں، شک میں ہو تو ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو تم سے پہلی کتاب تورات کو پڑھتے ہیں اس لئے کہ وہ نازل کردہ (واقعات) ان کے نزدیک ثابت ہیں وہ ان کی صداقت کی تم کو خبر دیں گے، آپ ﷺ نے جواب دیا کہ نہ مجھے شک ہے اور نہ میں پوچھتا ہوں، بیشک تمہارے پاس تمہاے رب کی طرف سے حق آیا ہے لہٰذا تم اس میں شک کرنے والوں میں سے نہ ہو اور نہ لوگوں میں سے ہو جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا کہیں آپ زیاں کاروں میں نہ جائیں، یقیناً وہ لوگ جن پر تمہارے رب کے عذاب کا فیصلہ ثابت ہوچکا ہے وہ ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے سامنے تمام نشانیاں کیوں نہ آجائیں یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں مگر اس وقت ان کو (ایمان سے) کوئی فائدہ نہ ہوگا، چناچہ کسی بستی والے، بستی سے بستی والے مراد ہیں، ایمان نہ لائے ان پر عذاب نازل ہونے سے پہلے کہ ایمان لانا ان کیلئے نافع ہوا ہو سوائے یونس (علیہ السلام) کی قوم کے کہ جب وہ عذاب موعود کے دیکھنے کے وقت ایمان لائے اور انہوں نے عذاب کے نزول تک (ایمان) کو مؤخر نہیں کیا تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کے عذاب کو ٹال دیا اور ان کو ایک (خاص وقت) تک کیلئے زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا (یعنی) ان کی مدت عمر پوری ہونے تک، اور اگر آپ کا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ ایمان لے آتے تو کیا آپ لوگوں کو اس چیز پر مجبور کرسکتے ہیں جو اللہ ان سے نہ چاہے یہاں تک رہ مومن ہی ہوجائیں ایسا نہیں ہوسکتا، حالانکہ کسی شخص کیلئے ممکن نہیں کہ خدا کے ارادہ کے بغیر ایمان لے آئے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر عذاب ڈال دیتا ہے جو لوگ اللہ کی آیتوں میں غور و فکر نہیں کرتے آپ کفار سے کہہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں سے اور جو لوگ اللہ کے علم میں ایمان لانے والے نہیں ہیں، ان کو نشانیاں اور ڈرانے والے یعنی رسول کوئی فائدہ نہیں دیتے نُذُر نذیر کی جمع ہے یعنی مرسلین سو اب یہ لوگ تیری تکذیب کرکے اس کے سوا اور کسی چیز کے منتظر ہیں کہ ویسے ہی (برے) دن دیکھیں جو ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ دیکھ چکے ہیں، تو ان سے کہو اس کا انتظار کرو میں تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں، پھر ہم اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہوں عذاب سے بچالیتے ہیں، (نُنجی) حالت ماضیہ کی حکایت کرنے کیلئے مضارع کا صیغہ ہے، اسی طرح ہمارے ذمہ ہے کہ ہم ایمان والوں کو بچا لیا کرتے ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بَوَّأنا، تَبْوئۃً ، سے ماضی جمع متکلم، ٹھکانہ دینا، مناسب جگہ فروکش کرنا۔ قولہ : مُبوَّأ، صِدقٍ ، مُبَوَّأ اسم مکان ہے یا مصدر ہے اور مصدق کی جانب اضافت عرب کی عادت کے مطابق ہے عرب جب کسی شئی کی تعریف کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کی اضافت صدق کی جانب کردیتے ہیں، مثلاً ھذا رجل صدق، وقدم صدق مراد یہاں منزل محمود ہے، مقام صدق سے بعض حضرات نے مصر اعر بعض نے اردن و فلسطین اور بعض نے شام مراد لیا ہے۔ قولہ : المضارع لحکایۃ الحال الماضیۃ، یہ عبارت ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یہ ہے کہ نُنجی مضارع کا صیغہ ہے جو کہ حال و استقبال پر دلالت کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو نجات زمانہ حال میں دی جا رہی ہے یا آئندہ دی جائے گی حالانکہ نجات زمانہ ماضی میں دی جا چکی ہے۔ جواب : یہ حکایت حال ماضیہ کے طور پر فرمایا گیا ہے گویا کہ حالات ماضیہ کی فی الحال منظر کشی کی جا رہی ہے۔ تفسیر و تشریح ربط آیات : وَلَقَدْ بَوَّأنا الخ یہ کلام مستانف ہے نعمت نجات کے بیان کے بعد ان نعمتوں کا بیان ہے جو فرعون سے نجات کے بعد بنی اسرائیل پر پانی کی طرح بہائی گئیں، ان ہی میں سے ایک نعمت مقام محمود میں سکونت پذیری عطاء کرنا ہے، بعض مفسرین نے جائے سکونت مصر کو قرار دیا ہے مگر مشہور یہ ہے کہ بنی اسرائیل غرق فرعون کے بعد مصر واپس نہیں آئے، اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا ظاہری اور معنوی بہت سی نعمتوں سے نوازا تھا، ملک شام میں سکونت عطاء کی جو کہ اپنی سرسبزی اور شادابی کیلئے آج تک مشہور تورات میں بھی شام اور اس اطراف کے علاقوں کی شادابی کا ذکر ہے۔ میں نازل ہوا ہوں کہ انھیں مصریوں سے چھڑاؤں اور اس زمین سے نکال کر اچھی وسیع زمین میں جہاں دودھ اور شہد موج مارتا ہے کنعانیوں کی جگہ میں لاؤں۔ (خروج 30 ء 8) ان میں سے بہت سے لوگوں نے اقتدار پانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کی اور اس کی اطاعت سے پھرگئے تورات میں جو نشانیاں رسول کریم ﷺ کی یہ لوگ پڑھتے تھے اس کا تقاضا یہ تھا کہ آپ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد سے پہلے یہی لوگ ایمان لاتے مگر یہ عجیب بات ہوئی کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے تو یہ سب لوگ نبی آخر الزمان پر اعتقاد رکھتے تھے اور آپ ﷺ کے وسیلہ سے دعائیں کیا کرتے تھے، مگر جب آخری نبی اپنی پوری شہادت اور تورات کی بتلائی ہوئی نشانیوں کے ساتھ تشریف لائے تو یہ لوگ آپس میں اختلاف کرنے لگے، کچھ لوگ ایمان لائے اور باقی نے انکار کردیا، اس آیت میں آپ ﷺ کے تشریف لانے کو جاءھم العلم سے تعبیر کیا ہے یہاں علم سے مراد یقین بھی ہوسکتا ہے یعنی مشاہدہ کے ساتھ یقین کے اسباب بھی جمع ہوگئے تو یہ لوگ اختلاف کرنے لگے، بعض مفسرین نے علم سے معلوم مراد لیا ہے، یعنی جب وہ ہستی آگئی جو تورات کی پیشین گویوں کے ذیعہ معلوم تھی تو اختلاف کرنے لگے۔ (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ۔ فاِن کنت فی شک، اگرچہ بظاہرخطاب محمد ﷺ کو ہے مگر مخالف امت ہے اس لئے کہ آپ کو وحی میں شک ہونے کا احتمال ہی نہیں ہے۔ فَلَوْ لا، فَھَلَّا، لَوْلا یہاں تحضیضیہ ہَلَّا کے معنی میں ہے، یعنی جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا ان میں کوئی ایک بستی بھی ایسی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لے آتی جا اس کے لئے فائدہ مند ہوتا۔ ہاں صرف یونس (علیہ السلام) کی قوم ایسی ہوئی ہے کہ عذاب کی علامات دیکھنے کے بعد ایمان لے آئی تو اللہ نے اس سے عذاب ٹال دیا۔ اس کا مختصر حال یہ ہے کہ یونس (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ انکی تبلیغ و دعوت سے ان کی قوم متاثر نہیں ہورہی تو اپنی قوم میں اعلان کو دیا کہ فلاں فلاں دن تم پر عذاب آجائیگا اور خودوہاں سے نکل گئے جب عذاب بادل کی طرح امڈ آیا تو وہ بچوں، عورتوں حتی کہ جانوروں کو لیکر ایک میدان میں جمع ہوگئے اور بارگاہ الہیٰ میں عاجزی و انکساری اور توبہ و استغفار شروع کردی، اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور عذاب کو ٹال دیا، تو حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنی تکذیب کے بعد اپنی قوم میں جانا پسند نہیں کیا، بلکہ ان سے ناراض ہو کر کسی دوسری طرف نکل گئے، جس پر کشتی کا واقعہ پیش آیا۔ مفسرین کا اس بات میں اختلاف ہے کہ قوم یونس (علیہ السلام) ایمان کب لائی ؟ عذاب دیکھ کر لائی ؟ جبکہ ایمان نافع نہیں ہوتا، یا ابھی عذاب کا وہ مرحلہ نہیں آیا تھا کہ جب ایمان نافع نہیں ہوتا، لیکن قرآن کریم نے قوم یونس (علیہ السلام) کا الاَّ کے ساتھ جو استثناء کیا ہے وہ پہلی تفسیر کی تائید کرتا ہے۔ قرآن کریم نے دنیوی عذاب کے دور کرنے کی صراحت تو کی ہے اخروی عذاب کی بابت صراحت نہیں کی اسلئے بعض مفسرین کے قول کے مطابق ان سے اخروی عذاب ختم نہیں کیا گیا، لیکن قرآن نے جب یہ وضاحت کردی کہ دنیوی عذاب ایمان کی وجہ سے ٹالا گیا تھا، تو پھر اخروی عذاب کی بابت صراحت کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی، اسلئے کہ اخروی عذاب کا فیصلہ تو ایمان اور عدم ایمان ہی کی بنیاد پر ہوتا ہے اگر ایمان لانے کے بعد قوم یونس (علیہ السلام) اپنے ایمان پر قائم رہی ہوگی، (جس کی صراحت یہاں نہیں ہے) تو یقیناً وہ اخروی عاب سے بھی محفوظ رہے گی، البتہ بصورت دیگر عذاب سے بچنا صرف دنیا کی حد تک ہی ہوگا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کا عذاب سامنے آجانے کے بعد بھی توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا، البتہ آخرت کا عذاب سامنے آجانے کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی، اور عذاب آخرت کا سامنے آجانا قیامت کے روز ہوگا یا پھر موت کے وقت خواہ طبی موت ہو یا کسی دنیوی عذاب میں مبتلا ہو کر جیسے فرعون کو پیش آیا۔ اس لئے قوم یونس (علیہ السلام) کی توبہ قبول ہوجانا عام ضابطہ الہٰیہ کے خلاف نہیں بلکہ ضابطہ کے تحت ہی ہے کیونکہ انہوں نے اگرچہ عذاب کو دیکھ کر توبہ کی مگر عذاب میں مبتلا ہونے اور موت سے پہلے توبہ کرلی نخلاف فرعون کے جس نے موت کے وقت غرغرہ کی حالت میں توبہ کی اور ایمان کا اقرار کیا اسلئے اس کا ایمان معتبر نہ ہوا اور توبہ قبول نہ ہوئی۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ : حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ اجمالاً سابق میں بیان کیا جا چکا ہے اس واقعہ کا کچھ حصہ تو قرآن میں مذکور ہے اور کچھ روایات حدیث سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ یونس (علیہ السلام) کی قوم عراق میں موصل کے مشہور مقام نینویٰ میں رہتی تھی، ان کی تعداد قرآن کریم میں ایک لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے، ان کی ہدایت کیلئے اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کو بھیجا تھا مگر قوم نے ایمان لانے سے انکار کردیا اللہ نے حکم دیا کہ ان کو آگاہ کردو کہ تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آنے والا ہے، حضرت یونس (علیہ السلام) نے اس کا اعلان کردیا، قوم یونس نے آپس میں مشورہ کیا تو اس پر سب کا اتفاق ہوگیا کہ ہم نے کبھی یونس (علیہ السلام) کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا اسلئے ان کی بات نظر انداز کرنے کے لائق نہیں، مشورہ میں یہ بھی طے ہوا کہ یہ دیکھا جائے کہ یونس (علیہ السلام) رات کو ہمارے درمیان اپنی جگہ مقیم رہتے ہیں تو سمجھ لو کہ کچھ نہیں ہوگا اور اگر وہ یہاں سے کہیں چلے جاتے ہیں تو یقین کرلو کہ صبح کو ہمارے اوپر عذاب آئیگا، حضرت یونس رات کو اس بستی سے نکل گئے، جب صبح ہوئی تو عذاب کا ایک سیاہ بادل دھوئیں کی شکل میں سروں پر منڈلانے لگا، اور یہ دیکھ کر حضرت یونس (علیہ السلام) کو تلاش کیا کہ ان کے ہاتھ پر مشرف باسلام ہوجائیں اور کفر و انکار سے توبہ کرلیں مگر یونس (علیہ السلام) کو نہ پایا تو خود ہی اخلاص نیت کے ساتھ توبہ و استغفار میں لگ گئے بستی سے ایک میدان میں نکل آئے عورتیں بچے اور جانور سب اس میدان میں جمع کر دئیے گئے ٹاٹ کے کپڑے پہن کر عجزو زاری کے ساتھ اس میدان میں توبہ کرنے اور عذاب سے پناہ مانگنے میں اس طرح مشغول ہوئے کہ پورا میدان آہ و بکاء سے گونجنے لگا، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور عذاب کو ان سے ٹال دیا جیسا کہ اس آیت میں مذکور ہے روایات میں آیا ہے کہ یہ عاشورہ یعنی دس محرم کا دن تھا۔ ادھر حضرت یونس (علیہ السلام) بستی سے باہر اس انتظار میں تھے کہ اب اس قوم پر عذاب نازل ہوگا قوم کو ان کی توبہ و استغفار کا حال معلوم نہ تھا، جب عذاب ٹل گیا تو ان کو فکر ہوئی کہ مجھے جھوٹا قرار دیا جائے گا کیونکہ میں نے اعلان کیا تھا کہ تین دن کے اندر عذاب آئیگا، اس قوم میں قانون یہ تھا کہ جس شخص کا جھوٹ ثابت ہوجائے اور وہ اپنے کلام پر کوئی شہادت پیش نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جاتا تھا، یونس (علیہ السلام) کو فکر ہوئی کہ مجھے جھوٹا قرار دیکر قتل کردیا جائیگا۔ انبیاء (علیہم السلام) ہر گناہ سے معصوم ہوتے ہیں : مگر انبیاء انسانی فطرت و طبیعت سے جدا نہیں ہوتے اس وقت یونس (علیہ السلام) پر طبعی طور پر یہ ملال ہوا کہ میں نے بحکم الہیٰ اعلان کیا تھا اور اب میں اعلان کی وجہ سے جھوٹا قرار دیا جاؤں تو کس منہ سے جاؤں اور قومی قانون کے مطابق گردن زدنی بنوں اس رنج و غم اور پریشانی کے عالم میں اس شہر سے نکل جانے کا ارادہ کرکے چل دئیے یہاں تک کہ بحر روم کے کنارہ پر پہنچ گئے وہاں ایک کشتی دیکھی جس میں لوگ سوار تھے، یونس (علیہ السلام) کو ان لوگوں نے پہچان لیا اور بغیر کرایہ کے سوار کرلیا، کشتی روانہ ہو کر جب وسط دریا میں پہنچی تو وہ دفعۃً ٹھہر گئی نہ آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے ہٹتی ہے کشتی والوں نے منادی کرا دی کہ ہماری کشتی کی منجانب اللہ یہی شان ہے کہ جب اس میں کوئی ظالم گنہگار یا بھاگا ہوا غلام سوار ہوجاتا ہے تو یہ کشتی خودبخود رک جاتی ہے اس آدمی کو ظاہر کردینا چاہیے تاکہ ایک آدمی کی وجہ سے سب پر غضب نہ آئے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) بول اٹھے کہ وہ بھاگا ہوا گنہگار غلام میں ہوں بغیر اذن خداوندی بستی چھوڑ کر چلے آنا پیغمبر انہ شان کی وجہ سے گناہ قرار دیا کہ پیغمبر کی کوئی نقل و حرکت بغیر اذن خداوندی کے نہ ہونی چاہیے تھی اسلئے فرمایا کہ مجھے دریا میں ڈال دو کشتی والے اس پر تیار نہ ہوئے بلکہ انہوں نے قرعہ اندازی کی تاکہ قرعہ میں جس کا نام نکل آئے اس کو دریا میں ڈال دیا جائے اتفاق سے قرعہ حضرت یونس (علیہ السلام) ہی کے نام سے نکل آیا، ان لوگوں کو اس پر تعجب ہوا تو کئی مرتبہ قرعہ اندازی کی ہر مرتبہ حضرت یونس (علیہ السلام) ہی کے نام قرعہ نکلتا رہا، قرآن کریم میں بھی اس قرعہ اندازی کا ذکر موجود ہے، ” فَسَاھم فکانَ من المدحضین “ یونس (علیہ السلام) کے ساتھ حق تعالیٰ کا یہ معاملہ ان کے مخصوص پیغمبرانہ مقام کی وجہ سے تھا کہ اگرچہ انہوں نے اللہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی تھی جس کو گناہ اور معصیت کہا جائے اور کسی پیغمبر سے اس کا امکان بھی نہیں ہے اسلئے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں لیکن بغیر اجازت چلے جانا پیغمبرانہ شان بلند کے مناسب نہیں تھا اس خلاف شان عمل پر بطور عتاب یہ معاملہ کیا گیا۔ ادھر حضرت یونس (علیہ السلام) کو دریا میں آئیں تو ان کو اپنے پیٹ میں جگہ دے جس کو حق تعالیٰ نے پہلے سے حکم دے رکھا تھا، اور بتادیا تھا کہ یونس (علیہ السلام) تیری غذا نہیں ہے بلکہ تیرا پیٹ اس کا مسکن ہے چناچہ ایسا ہی ہوا، حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں چالیس دن رہے، بعض حضرات نے سات دن اور بعض نے پانچ اور بعض نے ایک دن چند گھنٹے مدت بتائی ہے، اس حالت میں حضرت یونس (علیہ السلام) نے یہ دعاء کی ” لا اِلہٰ اِلا انت سبحانک اِنّی کنت من الظَّلمین “ اللہ تعالیٰ نے اس دعاء کو قبول فرما لیا اور بالکل صحیح سالم حضرت یونس (علیہ السلام) کو دریا کے کنارے ڈال دیا۔ مچھلی کے پیٹ کی گرمی سے آپ کے بدن پر کوئی بال نہیں رہا تھا، اللہ نے ان کے قریب ایک کدو کا درخت اگا دیا جس کے پتوں کا سایہ حضرت یونس (علیہ السلام) کیلئے درخت کا سایہ بن گیا، اور ایک جنگلی بکری کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ وہ صبح و شام ان کے پاس جاکر کھڑی ہوجایا کرے چناچہ وہ ایسا ہی کرتی اور حضرت یونس (علیہ السلام) اس کا دودھ پی لیتے تھے، اس طرح حضرت یونس (علیہ السلام) کو اس لغزش پر تنبیہ ہوگئی اور بعد میں ان کی قوم کو بھی پورا حال معلوم ہوگیا۔ اس قصہ کے جتنے اجزاء قرآن میں مذکور ہیں یا مستند روایات سے ثابت ہیں وہ تو یقینی ہیں باقی اجزاء تاریخی روایات کے ہیں جن پر کسی شرعی مسئلہ کا مدار نہیں رکھا جاسکتا۔ (معارف القرآن) فائدہ : حضرت یونس (علیہ السلام) کو تنبیہ کسی معصیت یا فرائض منصبی میں کوتاہی کا نتیجہ نہیں تھی جیسا کہ بعض مفسرین کو دھوکا ہوا ہے، اس لئے کہ یہ بات بالاتفاق طے ہے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ صغائر سے بھی معصوم ہوتے ہیں یا نہیں اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے کہ صغائر سے بھی معصوم ہوتے ہیں، البتہ خلاف اولی کا صدور ہوسکتا ہے مگر اس کو معصیت نہیں کہا جاسکتا اور نہ اس پر مواخذہ ہوتا ہے البتہ انبیاء کی شان بلند کی نسبت سے ان کو تنبیہ کردی جاتی ہے، حضرت یونس (علیہ السلام) کے متعلق یہ خیال کہ انہوں نے رسالت کے فرض منصبی میں کوتاہی کی تھی جس کی وجہ سے ان کو سزا دی گئی یہ کسی طرح بھی اہل سنت والجماعت کے مسلک سے میل نہیں کھاتا۔