10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 10:31–40

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے ؟ یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ؟ اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے ؟ اور جاندار سے بےجان کون پیدا کرتا ہے ؟ اور (دنیا کے) کاموں کا انتظام کون کرتا ہے ؟ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں ؟

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

یہی خدا تو تمہارا پروردگار برحق ہے اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا ؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا۔ کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ مخلوقات کو ابتداًء پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اک سے جا رہے ہو ؟

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا راستہ دکھائے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا راستہ دکھاتا ہے بھلا جو حق کا راستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے راستہ نہ بتائے راستہ نہ پائے ؟ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو ؟

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بیشک خدا تمہارے (سب) اعمال سے واقف ہے۔

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں انکی تصدیق کرتا ہے اور انہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمہارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے۔

آیت نمبر 31 تا 40 ترجمہ : ان سے پوچھو آسمان سے بارش کے ذریعہ اور زمین سے نباتات کے ذریعہ تم کو کون رزق دیتا ہے ؟ یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے ؟ سَمْعٌ بمعنی اَسْمَاعٌ ہے یعنی کس نے ان کو پیدا کیا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو مخلوق کے معاملات کا نظم کرتا ہے ضرور وہ یہی کہیں گے وہ اللہ ہے تو ان سے کہو کہ پھر اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے کہ ایمان لے آؤ، سو یہ جو ان تمام چیزوں کا کرنے والا ہے اللہ ہے جو تمہارا حقیقی رب ہے، پھر حق کے بعد بجز گمراہی کے اور باقی رہ ہی کیا گیا ؟ استفہام تقریری ہے یعنی اس کے بعد کچھ باقی نہیں رہا، لہٰذا جو حق سے ہٹا کہ وہ اللہ کی عبادت ہے گمراہی میں گرا، تو پھر دلیل قائم ہونے کے باوجود ایمان سے کہاں بھٹکے جا رہے ہو ؟ اسی طرح آپ کے رب کی یہ بات کہ یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے فاسقوں کے حق میں ثابت ہوگئی، وہ بات لَاملأنّ جھنم الخ یا انَّھم لا یؤمنون ہے، آپ کہیے کہ کیا تمہارے شرکاء میں کوئی، ایسا ہے کہ جو پہلی بار بھی پیدا کرے اور دوبارہ بھی پیدا کرے آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور دوبارہ بھی پیدا کرے گا، تو تم قیام دلیل کے باوجود اس کی عبادت سے کہاں بھٹکے جا رہے ہو ؟ آپ ان سے کہئے کہ تمہارے شرکاء میں کوئی ایسا ہے جو دلائل کے ساتھ اور ہدایت کی تخلیق کے ساتھ راستہ بتاتا ہو ؟ آپ کہئے کہ صرف اللہ ہی حق کا راستہ بتاتا ہے، آپ کہئے کہ وہ ذات جو حق کی طرف رہنمائی کرتی ہے اس بات کئ زیادہ لائق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے ؟ یا وہ جس نے خود ہی ہدایت نہیں پائی بجز اس کے کہ اس کی رہنمائی کی جائے زیادہ حق دار ہے کہ اس کی اتباع کی جائے، استفہام تقریر و توبیخ کیلئے ہے، یعنی اول زیادہ حق دار ہے آخر تمہیں ہو کیا گیا کہ تم غیر حق دار کی اتباع کے کیسے غلط فیصلے کرتے ہو، حقیقت یہ ہے کہ ان میں کی اکثریت بت پرستی کے بارے میں محض خیال و گمان کی پیروی کرتے ہے اس لئے کہ انہوں نے اس معاملہ میں اپنے آباء کی تقلید کی ہے حالانکہ گمان حق، یعنی علم مطلوب کی ضرورت کو ذرا بھی پورا نہیں کرتا یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے لہٰذا وہ ان کے اعمال کی جزاء دے گا، اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اللہ کی وحی کے بغیر اپنی طرف سے گھڑ لیا گیا ہو، بلکہ یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کے لئے نازل کیا گیا ہے جو اس سے پہلے نازل کی گئی ہیں اور احکام وغیرہ جو اللہ نے فرض کئے ہیں ان کی تفصیل کرنے والا ہے اس میں کوئی شبہ کی بات نہیں کہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے (من رّب العٰلمین) تصدیق یا انزل محذوف کے متعلق ہے، اور تصدیق و تفصیل کے رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے ھو کی تقدیر کے ساتھ، کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے ؟ آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ تم بھی فصاحت و بلاغت میں اس کے جیسی ایک سورت گھڑ کرلے آؤ اس لئے کہ تم بھی میرے جیسے عربی ہو فصحاء ہو اور اس میں مدد کے لئے غیر اللہ میں سے جس کو بلا سکو بلا لو اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ یہ گھڑا ہوا ہے چناچہ وہ یہ نہ کرسکے، بلکہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کا وہ علمی احاطہ نہ کرسکے یعنی قرآن کا اور نہ انہوں نے اس میں غور و فکر کیا، اور ہنوز ان کو اس کا اخیر نتیجہ کہ وہ وعید ہے نہیں ملا اسی طرح انہوں نے جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی سو دیکھ لو رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ان ظالموں کا کیا انجام ہوا ؟ یعنی ان کا آخری انجام ہلاکت ہوئی تو اسی طرح یہ لوگ ہلاک کئے جائیں گے ان میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ اللہ کے علم میں ہونے کے وجہ سے جو اس پر ایمان لے آئیں گے اور بعض ایسے ہیں جو اس پر کبھی ایمان نہ لائیں گے اور تیرا رب ان مفسدوں کو خوب جانتا ہے یہ ان کیلئے تہدید ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بمعنی الاسماع، اس میں اشارہ ہے کہ السمعُ پر الف لام استغراق کا ہے تاکہ الابصار کا تقابل صحیح ہو سکے۔ سوال : بملک کی تفسیر مفسر علام نے خلْقَھَا سے کیوں فرمائی۔ جواب : اس لئے کہ کانوں اور آنکھوں میں ملکیت آنکھ وکان والوں کی ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ارش کا صاحباذن و سمع ہی مالک ہوتا ہے، اس شبہ کو دور کرنے کیلئے ملک کی تفسیر خَلْقَھِا سے فرمائی۔ قولہ : ھو اللہ۔ سوال : ھو، مقدر ماننے کی وجہ ہے۔ جواب : چونکہ یہاں لفظ اللہ جو کہ مقولہ واقع ہو رہا ہے مفرد ہے حالانکہ مقولہ جملہ ہوا کرتا ہے مفسر علام نے ھُوَ محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ ھو محذوب ہے جس کی وجہ سے مقولہ جملہ ہے نہ کہ مفرد۔ قولہ : اَوْھِیَ اَنَّھُمْ لایؤمنون، اس اضافہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کَلِمَتُ رَبکَّ سے دو صورتیں مراد ہوسکتی ہیں ایک تو اللہ تعالیٰ کا قول لاملئن جنھم الخ اور دوسری اَنَّھُمْ لا یؤمنون، اگر پہلی صورت مراد ہو تو، انُّھم لایؤمنون علت ہوگی ای لِاَنَّھم لا یؤمنون۔ قولہ : بنصب الحج اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ہدایت سے مراد محض اراءۃ الطریق نہیں ہے اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص نہیں ہے کیوں کہ دیگر بھی رہنمائی کا کام انجام دیتے ہیں، بخلاف ایصال الی المطلوب کے جو کہ یہاں مراد ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ قولہ : یھتدی، اس اصافہ کا مقصد یھدی کی اصل بتانا کہ یَھدّی اصل میں یھتدی باب افتعال سے ہے تاء کو دال میں قلب کے بعد ادغام کردیا اور باء کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دیدیا۔ قولہ : اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ ، یہ ام مَن لا یھدّی بتداء کی خبر ہے۔ تفسیر و تشریح مشرکین سے چند سوالات : قُلْ مَنْ یرزقکم مِنَ السّماءِ والارضِ ، یہ تمام سوالات مشرکین سے بطور جرح ہو رہے ہیں، ان سوالات میں غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ سوالات میں ایک خاص ترتیب ملحوظ رکھی گئی ہے، پہلا سوال رزق سے متعلق ہے جو سلسلہ ربوبیت میں اول نمبر پر ہے پھر انسان کے حواس ظاہرہ سے متعلق سوال ہے جن کے بغیر انسان اور جماد برابر ہیں، پھر حیات و موت سے متعلق سوال ہے اور آخر میں انتظام امور سے متعلق ہے۔ آیت 32 میں خطاب عام لوگوں سے کیا جا رہا ہے، سوال یہ نہیں کہ تم کدھر پھرے جا رہے ہو بلکہ یہ ہے کہ کدھر پھرائے جا رہے ہو اس سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی ایسا گمراہ کن شخص یا گروہ موجود ہے جو لوگوں کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ پر لے جا رہا ہے اسی بنا پر عام لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ تم اندھے بن کر غلط رہنمائی کرنے والوں کے پیچھے کیوں چلے جا رہے ہو ؟ اپنی عقل سے کام لے کر آخر کیوں نہیں سمجھتے کہ جب حقیقت یہ ہے کہ تم کو کسی خاص مقصد سے ایک سوچتے سمجھے منصوبے کے تحت غلط راستہ پر لیجا رہے ہو اس سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی ایسا گمراہ کن شخص یا گروہ موجود ہے جو لوگوں کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ پر لے جا رہا ہے اسی بنا پر عام لوگوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ تم اندھے بن کر غلط رہنمائی کرنے والوں کے پیچھے کیوں چلے جا رہے ہو ؟ اپنی عقل سے کام لے کر آخر کیوں نہیں سمجھتے کہ جب حقیقت یہ ہے کہ تم کو کسی خاص مقصد سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غلط راستہ پر لیجایا رہا ہے ایسے موقعوں پر عام طور پر قرآن کریم میں گمراہ کن گروہ یا شخص کا نام لینے کے بجائے مجہول کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے تاکہ ان کے معتقدین اپنے معاملہ پر ٹھنڈے دل سے غور کرسکیں اور کسی کو یہ کہہ کر انھیں اشتعال دلانے اور دعماغی توازن بگاڑنے کا موقع نہ ملے کہ دیکھو یہ تمہارے بزرگوں اور پیشواؤں پر چوٹیں کسی جا رہی ہیں، اس طرز میں حکمت تبلیغ کا ایک اہم نکتہ پوشیدہ ہے جس سے ایک مبلغ کو کسی حال میں غافل و بیخبر نہ رہنا چاہیے۔ کذلک حقت کلمت رَبکَ الخ مطلب یہ ہے کہ ایسی کھلی کھلی اور عام فہم دلیلوں کے ذریعہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ ہر انصاف پسند کے دل میں اتر جائے، لیکن جنہوں نے نہ ماننے ہی کا فیصلہ کرلیا ہے وہ اپنی ضد کی وجہ سے کسی طرح مان کر نہیں دیتے۔ قل ھل من شرکاء کم مَنْ یَبْدَوْا الخلق الخ تخلیق کی ابتداء کے متعلق تو مشرکین مانتے ہی تھے کہ یہ صرف اللہ کا کام ہے ان کے شریکوں میں سے اس کام میں کسی کا کوئی حصہ نہیں وہاں تخلیق کے اعادہ کا مسئلہ تو ظاہر ہے کہ جو ابتداءً پیدا کرنے والا ہے وہ ہی دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے مگر جو ابتداءً ہی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو وہ کس طرح اعادہ تخلیق پر قادر ہوگا ؟ یہ بات اگرچہ صریحاً ایک معقول بات ہے اور خود مشرکین کے دل بھی اندر سے اس کی گواہی دیتے تھے کہ بات بالکل پتے کی ہے لیکن انھیں اس کا اقرار کرنے میں اس بنا پر قامل تھا کہ اسے مان لینے کے بعد انکار آخرت مشکل ہوجاتا، یہی وجہ ہے کہ اوپر کے سوالات کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ خود کہیں گے کہ یہ کام اللہ کے ہیں، مگر یہاں اس کے بجائے نبی ﷺ سے ارشاد ہوا کہ تم علی الاعلان ڈنکے کی چوٹ کہہ دو کہ یہ ابتداء خلق اور اعادہ خلق کا کام بھی اللہ ہی کا ہے، جب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تمہاری ابتداء اور انتہا کے دونوں سرے اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں تو ذرا اپنے ہی خیر خواہ بن کر یہ سوچو کہ آخر تمہیں یہ کیا باور کرایا جا رہا ہے کہ ان دونوں سروں کے بیچ میں تمہاری نیاز مندیوں اور بندگیوں کا حق اللہ کے سوا کسی اور کو پہنچتا ہے ؟ قل ھل من شرکاء کم من یھدی الی الحق الخ یعنی گم گشتہ راہ اور ہدایت سے برگشتہ لوگوں کو ہدایت کی طرف پھیرنے والا بھی اللہ ہی ہے ان کے شرکاء میں کوئی ایسا نہیں کہ یہ کام کرسکے جب یہ حقیقت اور امر واقعہ ہے تو سوچو کہ وہ شخص جو دیکھتا سنتا ہے اور لوگوں کی حق کی جانب رہنمائی کرتا ہے وہ پیروی کے زیادہ لائق ہے یا وہ جو اندھے اور بہرے ہونے کی وجہ سے خود بھی راستہ پر نہ چل سکتا ہو جب تک کہ دوسرے لوگ اسے راستہ پر نہ ڈالدیں یا ہاتھ پکڑ کر نہ لیجائیں ؟ تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ کہ تم اللہ کو اور اس کی مخلوق کو برابر ٹھہراتے ہو جبکہ ان دلائل کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اسی ایک اللہ کو معبود مانا جائے اور اسی کو حاجت روامشکل کشا سمجھا جائے، لیکن بات یہ ہے کہ لوگ اٹکل پچو محض ظن وتخمین پر چلتے ہیں، حالانکہ جانتے ہیں کہ دلائل کے مقابلہ میں اوہام و خیالات اور ظن و گمان کی کوئی حیثیت نہیں۔
Ayahs 10:41–53

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کے جوابدہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں۔ تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سُنتے) سمجھتے نہ ہوں۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں ؟

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہ تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے اور راہ یاب نہ ہوئے۔

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر ایک امت کی طرف پیغمبر بھیجا گیا جب انکا پیغمبر آتا ہے تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب ؟

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لئے (موت) کا ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے ؟

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب وہ آ واقع ہوگا (تب اس پر ایمان لاؤ گے ؟ ) (اس وقت کہا جائیگا کہ) اور اب (ایمان لائے) اسی کے لئے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزا چکھو (اب تم انھیں (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دُنیا میں) کرتے رہے۔

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے ؟ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے۔ اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہ کرسکو گے۔

آیت نمبر 41 تا 53 ترجمہ : اگر یہ تجھے جھٹلا رہے ہیں تو ان سے کہہ دیں کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے یعنی ہر شخص کو اسی کے عمل کی جزاء ہے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری اور یہ آیت سیف کے ذریعہ منسوخ ہے، اور ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تیری بات سنتے ہیں جن تو قرآن پڑھتا ہے، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا کفار کو قرآن سے فائدہ نہ اٹھانے میں بہروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے خواہ وہ بہرے ہونے کے ساتھ کچھ سمجھتے بھی نہ ہوں (یعنی) غور و فکر نہ کرتے ہوں، اور ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کو دیکھتے ہیں تو پھر کیا آپ اندھوں کو راستہ دکھلانا چاہتے ہیں گو ان کو بصیرت بھی نہ ہو، ان (کفار) کو اندھوں کے ساتھ عدم ہدایت میں تشبیہ دی ہے، بلکہ یہ ان سے بھی بڑھ کر ہیں اسلئے کہ یہ آنکھوں کے اندھے نہیں ہیں، بلکہ دل کے اندھے ہیں جو کہ ان کے سینوں میں ہے، یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا لیکن وہ خود ہی اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں، (ان کو وہ دن یاد دلاؤ) کہ جس دن اللہ ان کو اس کیفیت سے جمع کرے گا (کہ وہ منظر کی ہولناکی کی وجہ سے سمجھیں گے) کہ گویا وہ دنیا میں یا قبروں میں دن کی ایک گھڑی ہی رہے ہیں، اور جملہ تشبیہ (یحشرھم) کی ضمیر مفعول سے حال ہے، آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے جبکہ ان کو (قبروں سے) اٹھایا جائیگا، پھر ہولناکی کی شدت کی وجہ سے یہ تعارف ختم ہوجائیگا، اور جملہ (یحشرھم) کی ضمیر حم سے حال مقدرہ ہے یا (یومَ ) ظرف کے متعلق ہے، واقعی سخت خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے بعث کے ذریعہ اللہ کی علامات کو جھٹلایا اور وہ ہدایت پانے والے نہ تھے اور جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں (اِمّا) میں نون شرطیہ کا ما ذائدہ میں ادغام ہے اس کا کچھ حصہ آپ کی زندگی میں آپ کو دکھا دیں، اور جواب شرط محذوف ہے یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے، یا ان کو عذاب دینے سے پہلے ہی ہم آپ کو وفات دیدیں بہرحال ان کو ہمارے پاس تو آنا ہی ہے پھر اللہ ان کے سب افعال سے باخبر ہے خواہ وہ ان کی تکذیب کے قبیل سے ہو یا کفر و نکار کے قبیل سے، لہٰذا وہ ان کو شدید عذاب دے گا اور ہر امت کیلئے ایک رسول ہے جب کسی امت کے پاس اس کا رسول آجاتا ہے اور وہ اس کو جھٹلا دیتے ہیں تو اس کا فیصلہ پورے انصاف کے ساتھ چکا دیا جاتا ہے چناچہ ان کو عذاب دیا جاتا ہے اور رسول اور اس کی تصدیق کرنے والوں کو نجات دی جاتی ہے اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا کہ ان کو بغیر ظلم کے سزا دیدی جائے پس ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جائیگا، یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ عذاب کا وعدہ کب ہوگا ؟ اگر تم وعدہ میں سچے ہو، (اے نبی) کہہ دو کہ میرے اختیار میں خود اپنا نقصان نہیں کہ اس کو دفع کرسکوں یا حاصل کرسکوں، مگر اتنا ہی جتنا اللہ چاہے، یہ کہ میں اس پر قادر ہوں، تو مجھے تم پر عذاب نازل کی قدرت کہاں ہوگی ؟ ہر امت کی ہلاکت کی ایک مدت مقررہ ہوتی ہے جب وہ مدت پوری ہوجاتی ہے تو اس سے گھڑی بھر بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی ان سے کہو مجھے بتاؤ اگر اللہ کا عذاب رات میں یا دن میں تم پر آپڑے (تو تم کیا کرسکتے ہو) آخر عذاب ایسی کونسی چیز ہے جس کیلئے مجرم مشرک جلدی مچائیں، اس میں ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو رکھا گیا ہے جملہ استفہامیہ جواب شرط ہے، جیسا کہ اس مثال میں، ” ان اَتَیْتک مَا ذا تعطینی “ اور مراد اس سے ہولناکی کو بیان کرنا ہے یعنی جس کی یہ لوگ جلدی مچا رہے ہیں کس قدر عظیم ہے ! ! کیا جب وہ عذاب ان پر آپڑے گا اس وقت اس پر ایمان لائیں گے یعنی اللہ پر یا عذاب پر اس کے نزول کے وقت، اور ہمزہ انکار تاخیر کیلئے ہے تو تمہارا وہ ایمان مقبول نہ ہوگا، اور تم سے کہا جائے گا اب ایمان لاتے ہو حالانکہ تم خود ہی استہزاء اس کے جلدی لانے کا تقاضا کرتے تھے پھر ظالموں سے کہا جائیگا کہ اب دائمی عذاب کا مزا چکھو یعنی ایسے عذاب کا کہ جس میں تم ہمیشہ رہو گے، تم کو تمہارے ہی کئے کا بدلہ ملا ہے آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ عذاب کیا واقعی امر ہے ؟ یعنی جس عذاب اور بعث کا تم نے وعدہ کیا ہے (کیا وہ امر واقعی ہے) آپ کہہ دیجئے ہاں قسم ہے میرے رب کی وہ واقعی امر ہے اور تم کسی طرح خدا کو عاجز نہیں کرسکتے یعنی اس کے عذاب سے بچ کر نہیں جاسکتے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ھذا منسوخ بآیۃ السیف، فھی قولہٗ تعالیٰ ، فاقتلوھم حیث وجدتموھم الخ۔ قولہ : بل ھو اعظم، کفار کو اندھوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اندھے مشبہ بہ ہیں اور کفار مشبہ، عدم البصیرۃ بہ نسبت عدم البصر کے زیادہ شدید ہوتی ہے، کفار چونکہ عدم البصیرۃ ہیں لہٰذا کفار ضلالت و گمراہی میں اندھوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔ قولہ : کانھم، اس میں اشارہ ہے کہ کان مخففہ عن المثقلہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے۔ قولہ : وجملۃ التشبیہ حالٌ من الضمیر اس لئے کہ یوم کی صفت قرار دینے کی صورت میں تقدیر یہ ہوگی، حال کو نھم مشبھین بمَنْ لم یلبثْ اِلا سَاعۃ الخ۔ قولہ : والجملہ حال مقدرۃ، یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یتعارفون، یحشرھم کی ضمیر، ھم سے حال ہے اور حال و ذوالحال کا زمانہ ایک ہوتا ہے حالانکہ حشر پہلے ہوگا اور تعارف بعد میں ہوگا لہٰذا دونوں کا زمانہ ایک نہ ہوا۔ جواب : یہ حال مقدرہ ہے کہ کفار کو جمع کیا جائیگا حال یہ ہے کہ ان کیلئے تعارف مقدر کردیا گیا، ای حَالَ کو نھم مقدرین التعارف لا اَنَّھُم متعارفون بالفعل۔ قولہ : او متعلق الظرف، اور وہ یَوْمَ ہے تقدیر یہ ہے یتعارفونَ یحشرہ۔ قولہ : و جواب الشرط محذوف، ای فذاک یہ اضافہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : اِمَّا نُرِیَّنَکَ اور اَوْنتوفینّکَ ، دو شرط ہیں اور جزاء ایک ہے اور وہ فَاِلَیْنا مرجعھم، ہے، حالانکہ اِمَّا نرینک پر فَاِلَیْنَا مرجعھم کا ترتب فساد معنی کی وجہ سے درست نہیں ہے۔ جواب : کا حاصل یہ ہے کہ فالینا مرجعھم دونوں شرطوں کی جزاء نہیں ہے بلکہ اِمَّا نرینّکَ ، کی جزاء محذوف ہے جس کی طرف مفسر علام نے فذاک، محذوف مان کر اشارہ کردیا ہے۔ سوال : فذاک جزاء ہے حالانکہ جزاء مفرد نہیں ہوتی۔ جواب : وضع الظاھر موضع المضمر۔ سوال : یستعجل منہ المجرمون فرمایا یستعجلون منہ نہیں فرمایا حالانکہ یہ اس کے مقابلہ میں اخصر ہے۔ جواب : اخصر کے مقابلہ میں مختصر تعبیر کو اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مختصر میں سبب ترک استعجال پر دلالت ہے اور وہ جرم ہے، اس کے علاوہ اس میں ان کی صفت قبیح پر بھی دلالت ہے۔ قولہ : وجملۃ الاستفھام جواب الشرط ہے اور ان اَتٰکم عذابہ شرط ہے اور مَاذَا یستعجلُ تقدیر فاء کے ساتھ، جواب شرط ہے اسلئے کہ جملہ استفہامیہ بغیر فاء کے جزاء واقع نہیں ہوتا۔ قولہ : اِنْ اَتَیْتُکَ مَاذا تعطینی یہ مثال استبعاد کو دور کرنے کے لئے ہے یعنی یہ بتانے کیلئے کہ کلام عرب میں جملہ استفہامیہ بغیر فاء کے بھی جزاء واقع ہوتا ہے لہٰذا کوئی اعتراض نہیں۔ قولہ : والمراد بہ التھویل یعنی استفہام سے مراد استعلام نہیں ہے بلکہ ہولناکی کو بیان کرنا ہے۔ قولہ : ویقال لکم، اس عبارت کی تقدیر ایک سوال کے جواب کیلئے ہے۔ سوال : ثم قیل لھم، کا عطف اَلْئٰنَ وقد کنتم بہ تستعجلون پر ہے حالانکہ معطوف علیہ جملہ اسمیہ اور معطوف جملہ فعلیہ ہے۔ جواب : معطوف علیہ کے ماقبل فعل محذوف ہے جس کو مفسر علام نے ویقال لکم کہہ کر ظاہر کردیا ہے لہٰذا اب کوئی اشکال نہیں۔ قولہ : تؤمنون۔ سوال : اَلْئٰنَ ، یقال لکم کا مقولہ ہے حالانکہ مقولہ جملہ ہوا کرتا ہے اور اَلْئٰن مفرد ہے۔ جواب : عبارت محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے اَلْئٰنَ یؤمنون، جیسا کہ مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے، لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں ہے تفسیر و تشریح وَاِنْ کَذَّبوکَ فقُلْ لی عَمَلِی وَلکم عملکم یعنی تمام تر سمجھانے اور دلائل پیش کرنے کے بعد بھی اگر وہ جھٹلانے سے باز نہ آئیں تو آپ ان سے کہہ دیں کہ خواہ مخواہ جھگڑنے اور کج بحثی کرنے کی اس میں کیا ضرورت ہے اگر میں افتراء پردازی کر رہا ہوں تو اپنے عمل کا میں خود ذمہ دار ہوں، تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں، اور اگر تم سچی بات کو جھٹلا رہے ہو تو میرا کچھ نہیں بگاڑتے اپنا ہی کچھ بگاڑتے ہو، میرا کام دعوت و تبلیغ ہے میں وہ کرچکا سب کو خدا کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے، وہاں ہر شخص سے اس کے اچھے اور برے عمل کے بارے میں باز پرس ہوگی، یہی وہ بات ہے جو سورة کافرون میں ” لکم دینکم ولی دین “ میں فرمائی گئی ہے۔ وَمنھم مَنْ یستمعون اِلَیک الخ یعنی ظاہری طور پر قرآن سنتے ہیں لیکن سننے کا مقصد چونکہ طلب ہدایت نہیں ہے اسلئے انھیں اسی طرح کوئی فائدہ نہیں ہوتا جس طرح ایک بہرے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بالخصوص جبکہ بہرا غیر عاقل بھی ہو اسلئے کہ عقل مند بہرا بھی اشاروں سے کچھ نہ کچھ سمجھ لیتا ہے، اس طرح تو جانور بھی سن لیتے ہیں مگر جس طرح جانوروں کو معنی کی طرف توجہ نہیں ہوتی ان کو بھی توجہ نہیں ہوتی جو لوگ کسی تعصب میں مبتلا ہوں اور جنہوں نے پہلے سے فیصلہ کرلیا ہو کہ وہ اپنے موروثی عقیدوں اور طریقوں کے خلاف اور اپنے نفس اور دلچسپیوں کے خلاف کوئی بات خواہ وہ کیسی ہی معقول کیوں نہ ہو، مان کر نہ دیں گے وہ سب کچھ سنکر بھی کچھ نہیں سنتے، اسی طرح وہ لوگ بھی کچھ سنکر نہیں دیتے جو دنیا میں جانوروں کی طرح غفلت کی زندگی بسر کرتے ہیں اور چرنے چگنے کے سوا کسی چیز سے دلچسپی نہیں رکھتے یا نفس کی خواہشوں اور لذتوں کے پیچھے ایسے مست ہوتے ہیں کہ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ ہم یہ جو کچھ کر رہے ہیں یہ صحیح بھی ہے یا نہیں ایسے ہی سب لوگ کانوں کے بہرے نہیں ہوتے مگر دل کے بہرے ہوتے ہیں۔ یتعارفون بینھم یعنی قبروں سے نکلنے کے بعد لوگ ایک دوسرے کو پہچانیں گے جیسے کسی سے طویل زمانہ کے بعد ملاقات ہوئی ہو تو پہچان لیا ہے مگر بعد میں محشر کی ہولناکیوں کی وجہ سے ذہول ہوجائیگا اور یادداشت منقطع ہوجائے گی جس طرح کہ دنیا میں بھی کسی بڑی مصیبت کے وقت یادداشت غائب ہوجاتی ہے، بعض روایات میں ہے کہ پہچان تو رہے گی مگر ہیبت کی وجہ سے بات نہ کرسکیں گے۔ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقعَ آمنْتُمْ بہ اٰلئٰن مشرکین سے کہا جا رہا ہے کہ تم ایمان اس وقت لاؤ گے جب تم پر عذاب واقع ہوجائیگا مگر اس وقت تمہارے ایمان کے جواب میں یہ کہا جائیگا ” آلئٰن “ کیا اب ایمان لائے ہو جبکہ ایمان کا وقت گذر چکا جیسے غرق ہونے کے وقت فرعون نے کہا تھا ” آمنتُ انّہ لا اِلہَ اِلا الّذِیْ اٰمَنَتْ بہ بنو اسرائیل “ تو جواب میں کہا گیا تھا ” آلئٰن “ اور اس کا یہ ایمان قبول نہیں کیا گیا، کیونکہ حدیث شریف میں آپ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہی رہتا ہے جب تک کہ وہ غرغرہ موت میں گرفتار نہ ہوجائے “ اسی طرح دنیا میں وقوع عذاب سے پہلے تو بہ قبول ہوسکتی ہے جب عذاب آپڑا تو پھر یہ قبول نہیں ہوتی، آگے حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ آرہا ہے کہ ان کی قوم کی توبہ قبول کرلی گئی اور وہ اس ضابطہ کے ماتحت ہے کہ انہوں نے عذاب کو دور سے آتا ہوا دیکھ کر سچے دل سے الحاح وزاری کے ساتھ توبہ کرلی اس لئے عذاب ہٹا لیا گیا اگر عذاب ان پر واقع ہوجاتا تو پھر توبہ قبول نہ ہوتی
Ayahs 10:54–60

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو پچھتائیں گے (اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی جان بخشا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفاء اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے۔

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمہارے لئے جو رزق نازل فرمایا۔ تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھیرایا اور (بعض کو) حلال ' (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تمہیں اس کام کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افترا کرتے ہو ؟

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا پر افترا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں ؟ بیشک خدا لوگوں پر مہربان ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

آیت نمبر 54 تا 60 ترجمہ : اگر ہم اس شخص کے پاس کہ جس نے کفر کرکے ظلم کیا روئے زمین کی پوری دولت ہو تو وہ قیامت کے دن عذاب سے رہائی حاصل کرنے کیلئے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہوجائے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو ترک ایمان پر ندامت کو چھپائیں گے، یعنی ان کے پیشوا عار دلانے کے خوف سے ندامت کو ان کمزور لوگوں سے چھپائیں گے جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہوگا مگر ان کے یعنی مخلوق کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائیگا اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائیگا، سنو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے، سن رکھو کہ بعث اور جزاء کا اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن اکثر لوگ اس سے واقف نہیں ہیں وہی زندگی عطاء کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور آخرت میں اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تم کو تمہارے اعمال کی جزاء دے گا، اے لوگو ! یعنی مکہ والو تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے نصیحت نامہ آگیا کہ اس میں فائدے اور نقصان کی چیزوں کا بیان ہے، وہ قرآن ہے اور دل کی بیماریوں کیلئے یعنی عقائد فاسدہ اور شکوک (شبہات) کیلئے شفاء ہے اور گمراہی سے ہدایت ہے اور اس پر یقین رکھنے والوں کیلئے ہدایت اور رحمت ہے (کہو) کہ اللہ کے فضل یعنی اسلام سے اور اس کی رحمت یعنی قرآن سے (خوشی منانی چاہیے) اس پر تو خوش ہونا چاہیے یہ دنیا کی ان سب چیزوں سے بہتر ہے جس کو یہ سمیٹ رہے ہیں (یجمعون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، (اے نبی) ان سے کہو کیا تم نے کچھ سوچا کہ اللہ نے جو رزق تمہارے لئے اتارا ہے اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھہرا لیا جیسا کہ بحیرہ اور سائبہ اور مردار، ان سے پوچھو کیا اللہ نے تم کو اس تحریم و تحیل کی اجازت دی تھی، نہیں، بلکہ تم اللہ پر اس کی طرف نسبت کرکے بہتان لگا رہے ہو، جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان لگاتے ہیں ان کا کیا گمان ہے کہ قیامت کے روز ان کے ساتھ کیسا معاملہ ہوگا ؟ کیا ان کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا نہ دے گا ؟ ایسا نہیں ہے، اللہ تو لوگوں کو مہلت دے کر اور ان پر انعام فرما کر ان پر رحم کرنے والا ہے، لیکن اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد ترکیب : لَوْ أنَّ لِکُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الارضِ لافتدَتْ بَہٖ ، لَوْ شرطیہ امتناعیہ أنَّ حرف مشبہ بالفعل، نفس ظلمت موصوف صفت سے مل کر أنَّ کی خبر مقدم ما اسم موصول محلاً منصوب أنَّ اپنے ماتحت کے ثَبَتَ فعل محذوف کا فاعل، ما موصولہ صلہ سے مل کر جملہ ہو کر أنَّ کا اسم لافتدت بہ جواب شرط ای لَوْ ثَبَتَ ذلک لافتدتْ بہ۔ قولہ : ای اَخْفَاھَا، اَسَرُّوْا کی تفسیر اَخَفَاھَا سے بیان معنی کے لئے ہے کہ اَسَرّوا، اضداد میں سے ہے اسلئے کہ اس کے معنی اَظْھَرَ کے بھی ہیں اور اَخْفَا کے بھی دوسرے معنی زیادہ مشہور ہیں اگرچہ احتمال دونوں معنی کا ہے۔ قولہ : ایُّ شیْءٍ ظنّھم بہ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مَا ظَنَّ الَّذِیْنَ ، میں ما بمعنی ایَّ شئٍ مبتداء ہے اور ظنَّ الذین یفترون علی اللہ اس کی خبر ہے، اور یوم ظنَّ کی وجہ سے منصوب ہے، ای ظن واقع فیہ۔ تفسیر و تشریح وَلَوْ أنَّ لِکُلِّ نفسٍ ظَلَمَتْ الخ یعنی اگر دنیا بھر کا خزانہ دے کر وہ عذاب سے چھوٹ جائے تو دینے کیلئے آمادہ ہوگا، لیکن وہاں کسی کے پاس ہوگا ہی کیا ؟ خلاصہ یہ کہ عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ و شفاء لما فی الصدور، شفاء کے معنی بیماری دور ہونے کے ہیں اور صدور صدر کی جمع ہے جس کا معنی سینہ کے ہیں مراد قلب ہے، مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید دل کی بیماریوں کا کامیاب علاج ہے اور صحت و شفاء کا نسخہ اکسیر ہے حسن بصری (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن کی اس صفت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن خاص دلوں کی بیماریوں کیلئے شفاء ہے نہ کہ جسمانی بیماریوں کیلئے (روح المعانی) مگر دیگر حضرات کا کہنا ہے کہ در حقیقت قرآن ہر بیماری کی شفاء ہے خواہ قلبی ہوں یا روحانی، مگر چونکہ روحانی بیماری انسان کیلئے جسمانی بیماری کی نہ نسبت زیادہ تباہ کن اور ہلاکت خیز ہوتی ہے اس لئے خاص طور پر قلبی بیماری کا ذکر فرمایا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جسمانی بیماریوں کیلئے شفاء نہیں ہے۔ روایات حدیث اور علماء امت کے بیشمار تجربات اس پر شاہد ہیں کہ قرآن کریم جیسے روحانی علاج کیلئے اکسیر اعظم ہے اس طرح جسمانی بیماریوں کیلئے بھی بہترین علاج ہے۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سینہ میں درد کی شکایت کی آپ نے فرمایا قرآن پڑھا کرو کیونکہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے ” شفاء لما فی الصدور “ (روح المعانی) علماء امت نے کچھ روایات اور آثار سے آیات قرآنی کے خواص اور فوائد مستقل کتابوں میں جمع بھی کر دئیے ہیں امام غزالی کی کتاب ” خواص قرآنی “ اس موضوع پر معروف و مشہور ہے جس کی تلخیص حضرت تھانوی (رح) تعالیٰ نے ” اعمال قرآنی “ کے نام سے فرمائی ہے اور مشاہدات و تجربات اتنے ہیں کہ ان کا انکار نہیں کیا جاسکتا، البتہ یہ بات ضرور ہے کہ نزول قرآن کا اصل مقصد قلب روح ہی کی بیماریوں کو دور کرنا ہے اور ضمنی طور پر جسمانی بیماریوں کا بھی بہترین علاج ہے۔ قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا ھو خیر مما یجمعون ” خوشی “ اس کیفیت کا نام ہے جو کسی مطلوب چیز کے حصول پر انسان اپنے دل میں محسوس کرتا ہے، اہل ایمان سے کہا جا رہا ہے کہ یہ قرآن اللہ کا خاص فضل اور اس کی رحمت ہے اس پر اہل ایمان کو خوش ہونا چاہیے۔ فجعلتم منہ حراماً وحلالاً الخ اس سے مراد ہی بعض جانوروں کا حرام کرنا ہے جو مشرکین اپنے بتوں کے نام پر چھوڑ کر کیا کرتے تھے جس کی تفصیل سورة انعام میں گزر چکی ہے مثلا بحیرہ، اس جانور کو کہتے ہیں کہ جس کا کان چیر کر بتوں کے نام پر آزاد کردیتے تھے، سائب اس جانور کو کہا جاتا تھا کہ جس کو اہل جاہلیت مویشی میں سے بت کے نام آزاد کردیتے تھے اور اس سے کوئی کام نہیں لیتے تھے اور اس کا جدھر جی چاہے پھرے اس کیلئے کوئی روک نہیں ہوتی تھی۔
Ayahs 10:61–70

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

(یعنی) وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے۔ وہ (سب کچھ) سُنتا (اور) جانتا ہے۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو لوگ زمین میں ہے سب خدا ہی کے (بندے اور اس کے مملوک ہیں) اور یہ جو خدا کے سوا اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کسی اور چیز کے پیچھے نہیں چلتے محض ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

(بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنالیا ہے۔ اس کی ذات (اولاد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے (اے افترا پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطل) کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں ؟

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ خدا پر جھُوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

(ان کے لئے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو عذاب شدید (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے

آیت نمبر 61 تا 70 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ تم جس شان (حال) میں بھی ہوتے ہو اور اس شان (حال) کی وجہ سے قرآن سے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے، جو کچھ تلاوت کرتے ہو، یا من جانب اللہ جو قرآن تلاوت کرتے ہو، اور تم جو بھی عمل کرتے ہو یہ آپ ﷺ کو اور آپ کی امت کو خطاب ہے ہم (اس عمل سے) باخبر ہوتے ہیں جبکہ تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو، ذرہ برابر کوئی چیز (ایسی نہیں) نہ زمین میں اور نہ آسمان میں (اور نہ اس مقدار سے) چھوٹی اور نہ بڑی کہ وہ کتاب مبین (یعنی) لوح محفوظ میں موجود نہ ہو، ذرّہ چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں، یاد رکھو یہ امر واقعہ ہے کہ اللہ کے دوستوں کیلئے آخرت میں نہ کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی غم اور یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اس کے امر و نہی پر عمل کرکے اللہ سے ڈرے ان لوگوں کیلئے دنیوی زندگی میں خوشخبری ہے، ایک حدیث میں جس کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے (خوشخبری) کی تفسیر اچھے خوابوں سے کی ہے جن کو انسان دیکھتا ہے یا اس کیلئے دکھایا جاتا ہے اور آخرت میں جنت اور ثواب (کی خوشخبری ہے) اللہ کی باتوں یعنی اس کے وعدوں میں تخلف نہیں ہوا کرتا یہی مذکورہ بات بڑی کامیابی ہے آپ کو ان کی باتیں یہ کہ آپ نبی نہیں ہیں وغیرہ، غم میں نہ ڈالیں امر واقعہ یہ ہے کہ تمام تر قوت اللہ کیلئے ہے یہ جملہ مستانفہ ہے وہ (تمام) باتوں کو سنتا ہے اور کاموں کو جانتا ہے وہ ان کو جزاء دے گا اور آپ کی مدد کرے گا، یاد رکھو زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے غلام اور ملک اور تخلیق کے اعتبار سے اللہ کا ہے جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر اللہ کے علاوہ اس کے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ اس سے وراء الوراء ہے یہ لوگ اس معاملہ میں محض گمان کی پیروی کرتے ہیں یعنی ان کا یہ گمان ہے کہ یہ بت ان کے معبود ہیں ان کی سفارش کریں گے، یہ لوگ محض اٹکل سے باتیں کرتے ہیں یعنی اس معاملہ میں دروغ گوئی سے کام لیتے ہیں وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون (راحت) حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا ان کی طرف ابصار کی اسناد مجازی ہے اس لئے کہ دن میں دیکھا جاتا ہے بلاشبہ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو نصیحت اور غور و فکر کے طور پر سنتے ہیں یہود اور نصاری اور جن کا یہ عقیدہ ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا سبحان اللہ وہ تو اولاد سے پاک ہے وہ تو ہر چیز سے مستغنی ہے ولد کی حاجت تو اس کو ہوتی ہے جو اس کا محتاج ہو زمین میں اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اسی کی ہے ملک ہونے کے اعتبار سے مخلوق ہونے کے اعتبار سے اور غلام ہونے کے اعتبار سے جو کچھ تم کہتے ہو تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کیا تم اللہ کے متعلق ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہارے پاس علم نہیں استفہام توبیخ کیلئے ہے، (اے محمد) کہہ دو کہ جو لوگ اس کی طرف ولد کی نسبت کرکے اللہ پر بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح پانیوالے نہیں ان کے لئے دنیا میں چند دن کے مزے ہیں تاحیات ان کو لوٹ لیں پھر موت کے ذریعہ ان کو ہمارے پاس آنا ہے پھر ہم ان کو ان کے کفر کے بدلے موت کے بعد شدید عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَمَا تکونُ فی شان اس میں خطاب آپ ﷺ کو ہے، شان کے معنی حال، کام، فکر، اہم معاملہ کے ہیں، جمع شئون ہے واؤ عاطفہ، ما نافیہ، تکونُ فعل مضارع ناقص اس کے اندر ضمیر انت اس کا اسم، فی شان کائنا کے متعلق ہو کر تکون کی خبر، وَمَا تَتْلُوْا واؤ عاطفہ، ما نافیہ، تتلوا فعل مضارع اس کے اندر ضمیر انت اس کا فاعل، مِنہ تتلوا سے متعلق، منہُ کی ضمیر قرآن کی طرف یا شأن کی طرف راجع ہے، اگر شأن کی طرف راجع ہو تو مِنْ تعلیلیہ ہوگا اور من القرآن میں مِن زائد قرآن محلاً مفعول بہ ہے۔ سوال : اس صورت میں اضمار قبل الذکر لازم آئیگا۔ جواب : تفخیم اور تعظیم کی وجہ سے اضمار قبل الذکر جائز ہوتا ہے، مِنہُ کی ضمیر شان بھی ہوسکتی ہے اور اللہ کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے جیسا کہ مفسر علام نے دونوں احتمالوں کی طرف ” ای من الشان او اللہ “ کہہ کر اشارہ کردیا ہے۔ یعنی آپ کسی حال میں نہیں ہوتے اور نہ شان (حال) تلاوت میں ہوتے ہو مگر یہ کہ اللہ اس حال سے باخبر ہوتا ہے۔ قولہ : خاطَبَہ وامتہ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یہ ہے کہ ماقبل میں خطاب تنہا آپ ﷺ سے تھا یہی وجہ ہے کہ ضمیر مفرد لائے اور یہاں تعملون میں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے جو کہ سیاق کے خلاف ہے۔ جواب : کا حاصل یہ ہے کہ یہاں خطاب میں امت بھی شامل ہے۔ قولہ : الّا کنا علیھم شھوداً یہ مخاطبین کے عموم احوال سے استثناء مفرغ ہے۔ قولہ : وزن ذرّۃ اس اضافہ کا مقصد بھی ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : یہ ہے کہ مثقال ایک متعین مقدار کا نام ہے حالانکہ یہاں مخصوص مقدار کے معنی مراد نہیں ہیں۔ جواب : کا حاصل یہ ہے کہ مفسر علام نے مثقال کی تفسیر وزن سے کرکے اسی اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہاں معین مخصوص مقدار مراد نہیں بلکہ مطلقاً وزن مراد ہے۔ قولہ : ھم، اشارہ کردیا کہ اَلَّذِیْنَ آمَنُوا الخ ھم مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ قولہ : لانّہٗ مبصر فیہ، اس عبارت سے مفسر علام نے اشارہ کردیا کہ والنھار مبصراً میں علاقہ ظرفیت کا ہے، جیسا کہ والنھارٗ صائمٌ والیہٗ قائمٌ میں علاقہ ظرفیت کا ہے۔ تفسیر و تشریح وَما تکونُ فی شانٍ (الآیۃ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ اور مومنین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تمام مخلوقات کے احوال سے واقف ہے اور ہر لحظہ اور ہر گھڑی پوری مخلوق پر اس کی نظر ہے، زمین و آسمان کی کوئی بڑی چھوٹی چیز ایسی نہیں کہ اس سے مخفی ہو، یہ مضمون متعدد آیات میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے سورة انعام آیت 59 اور 37 اور سورة ھود کی آیت 6 میں بھی اسی مضمون کا بیان کیا گیا ہے، جب واقعہ یہ ہے تو وہ انسانوں اور جنوں کی حرکات سے کیوں کرنا وواقف ہوسکتا ہے ؟ جبکہ یہ مکلف و مامور بھی ہیں۔ اسی ضابطہ کے مطابق آپ ﷺ اور امت کو مخاطب کرکے فرمایا اے نبی ! تم جس حال و شان میں بھی ہوتے ہو، یا قرآن پڑھنے پڑھانے میں مشغول ہوتے ہو اس کا کوئی جز ہم سے مخفی نہیں، اسی طرح تمام انسان جو کچھ کرتے ہیں وہ بھی ہماری نظروں کے سامنے ہوتا ہے غرضیکہ آسمان و زمین کا کوئی ذرہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہوتا۔ اَلا اِنَّ اَوْلِیَاءَاللہ لاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَھم یَحْزنون، سابق میں نافرمانوں کا ذکر تھا، اب یہاں فرماں برداروں کا ذکر فرما رہے ہیں، اور وہ ہیں اولیاء اللہ، اولیاء ولیٌ کی جمع ہے جس کے معنی لغت میں قریب کے ہیں اس اعتبار سے اولیاء اللہ کے معنی ہوں گے وہ سچے اور مخلص مومن جنہوں نے اللہ کی اطاعت اور معاصی سے اجتناب کرکے اللہ کا قرب حاصل کرلیا، اسیلئے اللہ تعالیٰ نے مخلصین مومنین کی ان الفاظ میں تعریف فرمائی، جو ایمان لائے اور تقوی اختیار کیا، اور ایمان اور تقوی ہی قرب الی اللہ کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ فائدہ : خوف کا تعلق آئندہ ہونے والے نقصان سے ہوتا ہے اور حزن و ملال کا تعلق مافات سے ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے زندگی خدا خوفی سے گزاری ہوتی ہے، اسلئے قیامت کی ہولناکیوں کا اتنا خوف ان کو نہیں ہوگا جتنا ناخدا ترس لوگوں کو ہوگا۔ اولیاء اللہ کی شناخت : اولیاء اللہ کی علامت اور شناخت تفسیر مظہری میں ایک حدیث قدسی کے حوالہ سے یہ نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” میرے اولیاء میرے بندوں میں سے وہ لوگ ہیں جو میری یاد کے ساتھ یاد آئیں اور جن کی یاد کے ساتھ میں یاد آؤں “۔ اور ابن ماجہ میں حضرت اسماء بنت یزید کی روایت سے مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اولیاء اللہ کی پہچان یہ بتلائی کہ جن کو دیکھ کر خدا یاد آئے۔ ولی سے کرامات کا صدور ضروری نہیں : جو رسول اللہ ﷺ کی سنت کا متبع نہ ہو وہ درجہ ولایت سے محروم ہے چاہے اس سے کشف و کرامات کتنی ہی کیوں نہ صادر ہوں۔