11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہیں۔

(1) یہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات میں حلال و حرام اوامرو نواہی کا حکم دیا گیا ہے کہ اس میں کسی قسم کا کوئی ردوبدل نہیں ہوسکتا اور ان کو صاف صاف بھی بیان کیا گیا اور وہ کتاب ایک عالم باخبر کی طرف سے آئی ہے۔
Ayah 11:2

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

(وہ یہ) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے تم کو ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔

(2) جس نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ اسکے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے اور جو اس کی عبادت کرتا ہے اور جو عبادت نہیں کرتا اس کو ان سب کی پوری خبر ہے اور اس کا بڑا مقصد یہی ہے کہ تم توحید خداوندی کو مانو اور میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوزخ سے ڈرانے والا اور جنت کی خوشخبری سنانے والا ہوں۔
Ayah 11:3

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم کو ایک وقت مقرر تک متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا اور صاحب بزرگی کو اس کی بزرگی (کی داد) دے گا اور اگر روگردانی کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب سے ڈر ہے۔

(3) اور تم اللہ تعالیٰ کی توحید پر قائم ہوجاؤ پھر اسی کی طرف توبہ اور اخلاص کے ساتھ متوجہ ہوجاؤ وہ تمہیں وقت مقررہ یعنی موت تک بغیر کسی عذاب کے خوشحال زندگی دے گا اور اسلام میں ہر ایک زیادہ عمل کرنے والے کو آخرت میں زیادہ ثواب دے گا اور اگر تم ایمان لانے اور توبہ کرنے سے اعراض ہی کرتے ہو تو میں جانتا ہوں کہ تم پر ایک بڑے دن کا عذاب واقع ہوگا۔
Ayah 11:4

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم (سب) کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

(4) تم سب کو مرنے کے بعد اللہ ہی کے پاس جانا ہے اور وہ جزا وسزا پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنے سینوں کو دوہرا کرتے ہیں تاکہ خدا سے پردہ کریں۔ سُن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے وہ تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے۔

(5) یاد رکھو کہ اخنس بن شریق اور اس کے ساتھی اپنے دلوں میں رسول اکرم ﷺ کی دشمنی اور آپ سے بغض چھپائے رکھتے ہیں تاکہ رسول اکرم ﷺ کے پاس اٹھنے بیٹھنے میں اور آپ سے اظہار محبت کرکے آپ سے بغض اور دشمنی کو پوشیدہ رکھیں یاد رکھو جس وقت وہ اپنے سینوں کو اپنے کپڑوں میں چھپاتے ہیں اور جو کچھ ان کے دلوں میں بغض و عداوت ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ وہ قتال اور سختی وغیرہ کے ساتھ یا یہ کہ آپ سے اظہار محبت اور اٹھنے بیٹھنے میں ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے اور جو کچھ وہ قتال اور سختی وغیرہ کے ساتھ یا یہ کہ آپ سے اظہار محبت اور اٹھنے بیٹھنے میں ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے اور جو کچھ دلوں میں نیکی اور برائی پوشیدہ ہے وہ سب جانتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”الا انھم یثنون“۔ (الخ) حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ کچھ لوگ ننگے ہو کر قضائے حاجت کرنے میں، آسمان کی طرف ستر کھولنے میں، اسی طرح صحبت کرتے وقت آسمان کی طرف ستر کھولنے میں (اللہ تعالیٰ سے شرماتے تھے) انھی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے اور ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ نے عبداللہ بن شداد سے روایت کیا ہے کہ ان میں سے جب کسی کا رسول اکرم ﷺ کے پاس سے گزر ہوتا تھا تو وہ اپنا سینہ دوہرا کرلیتا تھا تاکہ آپ اس کو نہ دیکھ سکیں، تب یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین پر کوئی چلنے پھر نے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے۔ وہ جہاں رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے۔

(6) سب کے رزق کا ذمہ دار اور کفیل اللہ تعالیٰ ہے وہ ہر ایک کی رات کو آرام کرنے کی جگہ اور مرنے کے بعد دفن ہونے کی جگہ سب جانتا ہے ہر ایک جاندار کا رزق اور اس کی موت وزندگی سب لوح محفوظ میں معینہ مدت تک محفوظ ہے۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔

(7) اور تمہارا معبود برحق وہی ہے جس نے تمام آسمانوں اور زمینوں کے دنیا کے ابتدائی دنوں میں سے چھ دن، کے اندر پیدا کیا ان میں سے ہر ایک دن کا رزق ہزار سال کے برابر تھا، ان چھ دنوں کی ابتدا اتوار کے دن سے تھی اور ان ایام میں آخری دن جمعہ کا تھا اور آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا اور اللہ تعالیٰ عرش اور پانی کے پیدا کرنے سے بھی پہلے موجود تھا اور تمہیں پیدا کرنا اس لیے ہے تاکہ تمہیں آزمائے کہ موت وحیات کے درمیان تم میں اچھا عمل کرنے والا کون ہے اور اگر آپ ان کفار مکہ سے کہتے ہیں کہ تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے تو کفار مکہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ جو کچھ بیان کررہے ہیں یہ تو کھلا جادو ہے ایسا نہیں ہوگا۔
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب کو روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزأ کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی۔

(8) اور اگر ہم ان سے مقررہ مدت یعنی غزوہ بدر تک عذاب ملتوی رکھتے ہیں تو یہ اہل مکہ بطور مذاق اور انکار کے کہتے ہیں کہ اس عذاب کو ہم سے کون چیز روک رہی ہے یاد رکھو جس وقت وہ عذاب ان پر آپڑے گا تو وہ عذاب کسی کے ٹالے نہ ٹلے گا اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے ذریعے جس عذاب کے ساتھ یہ مذاق کیا کرتے تھے وہ ان کو اچانک آپکڑے گا۔ شان نزول : (آیت) ”ولئن اخرنا عنہم“۔ (الخ) ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب آیت کریمہ ”۔ اقترب للناس حسابھم“۔ نازل ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا کہ قیامت قریب آرہی ہے لہذا رک جاؤ تو لوگوں میں سے کچھ حضرات رک گئے اس کے بعد پھر اپنے مکروفریب اور برائیوں میں مبتلا ہوگئے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اور اگر تھوڑے دنوں تک ہم ان سے عذاب کو ملتوی رکھتے ہیں، اور ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابن جریج ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
Ayah 11:9

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اسکو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا ہے)

(9) اور اگر ہم کافر کو اپنی نعمت کا مزہ چکھا کر پھر اس سے چھین لیتے تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہت ہی مایوس اور ناامید اور نعمت خداوندی کا منکر اور ناشکر ہوجاتا۔
Ayah 11:10

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بیشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنیوالا ہے۔

(10) اور اگر اس کافر کو کسی تکلیف کے بعد جو کہ اس پر واقع ہوئی ہے کسی نعمت کا مزہ چکھائیں تو وہ کافر کہنے لگتا ہے کہ میری سب تکلیف دور ہوئی اور اترانے لگتا ہے اور نعمت خداوندی کی ناشکری کرکے شیخی بگھارنے لگتا ہے۔
Ayah 11:11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے صبر کیا اور عمل نیک کئے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

(11) مگر رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ جو کہ ایمان پر مستقل مزاج ہیں اور انہوں نے اطاعت خدا ندی پورے کمال کے ساتھ کی ہے وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ وہ تکلیف پر صبر اور نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ان کے لیے دنیا میں بخشش اور جنت میں اجر عظیم ہے۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو۔ اس (خیال) سے تمہارا دل تنگ ہو کہ (کافر) یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا ؟ یا اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ (اے محمد) تم تو صرف نصیحت کرنیوالے ہو اور خدا ہر چیز کا نگہبان ہے۔

(12) محمد ﷺ قرآن کریم میں جو تبلیغ رسالت اور ان کفار کے معبودوں کی تردید اور برائی بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے، سو شاید ان کے مذاق سے تنگ آکر آپ اس کو چھوڑ دینا چاہتے ہیں۔ اور ان امور کے پورا کرنے میں آپ کا دل کفار مکہ کی اس بات سے تنگ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر آسمان سے کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا تاکہ آپ عیش و عشرت کے ساتھ زندگی گزارتے یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا جو ان کی نبوت کی گواہی دیتا، آپ تو اے محمد ﷺ صرف ڈرانے والے پیغمبر ہیں اور ان کی باتوں اور ان کو عذاب دینے پر پورا اختیار رکھنے والا اور اس کا علم رکھنے والا اللہ ہی ہے۔
Ayah 11:13

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

یہ کیا کہتے ہیں کہ اس نے قرآن از خود بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ خدا کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا بھی لو

(13) بلکہ مکہ کے کافر تو نعوذ باللہ یوں کہتے ہیں کہ قرآن کریم کو رسول اکرم ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے اور پھر ہمارے پاس لے کر آئے ہیں۔ اے محمد ﷺ آپ ان سے جواب میں کہہ دیجیے کہ تم بھی قرآن کریم جیسی دس سورتیں ذرا بنا کرلے آؤ جیسا کہ سورة بقرہ آل عمران، نساء مائدہ، انعام، اعراف، انفال، توبہ، یونس اور ہود ہیں۔ اور اپنے تمام معبودوں سے بھی اس بات میں مدد طلب کرلو اگر تم سچے ہو کہ محمد ﷺ نے اس قرآن کو اپنے پاس سے بنایا، چناچہ اس کے بعد وہ خاموش ہوگئے۔
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ خدا کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تمہیں بھی اسلام لے آنا چاہئے۔

(14) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ پھر اگر یہ ظالم تم لوگوں کا کہنا نہ کرسکیں تو کفار مکہ یقین کرلو کہ یہ قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ؑ بحکم الہی نازل ہوا ہے تو پھر اب بھی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا اقرار کرتے ہو یا نہیں۔
Ayah 11:15

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کے طا لب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انھیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور اس میں انکی حق تلفی نہیں کی جاتی۔

(15) جو شخص اپنے اعمال سے جو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذمہ فرض کیے ہیں محض حیات دنیوی اور اس کی رونق حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہم ان کے ان اعمال کا ثواب دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور ان کے اعمال کے ثواب میں دنیا میں کچھ کمی نہیں کرتے۔
Ayah 11:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں (آتش جہنم) کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے سب ضائع ہوا۔

(16) یہ لوگ جو دنیا میں اللہ کے سوا جھوٹے معبودوں کے لیے نیکیاں کرتے ہیں وہ سب نیکیاں آخرت میں ان کے منہ پر مار دی جائیں گی اور آخرت میں ان کو ان کے اعمال کا کچھ بدلہ نہیں ملے گا جو انہوں نے دنیا میں کیے تھے کیوں کہ انہوں نے یہ نیکیاں غیر اللہ کے لیے کی تھیں۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے (تو کیا وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے ؟) یہی لوگ تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ تو تم اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لانے۔

(17) کیا منکر قرآن ایسے شخص کی برابری کرسکتا ہے جو قرآن کریم پر قائم ہو جو کہ اسکے رب کی طرف سے آیا ہے، اور اس کے ساتھ ایک گواہ اللہ کی طرف سے یعنی جبریل امین ؑ تو اسی میں موجود ہے اور ایک قرآن حکیم سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب توریت ہے جو ان پر جبرئیل امین ؑ کے ذریعے نازل ہوئی ہے جو پیروی کرنے والوں کے لیے امام اور جو اس پر ایمان لائے اس کے لیے رحمت ہے۔ جو حضرات یعنی حضرت عبداللہ بن سلام اور اس کے ساتھ جو کتاب موسیٰ پر ایمان رکھتے ہیں، وہ رسول اکرم ﷺ اور اس قرآن کریم ﷺ پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اور جو کفار میں سے ہے اور وہ اس قرآن حکیم اور رسول اکرم ﷺ کا انکار کرے گا تو جہنم اس کا ٹھکانا ہے۔ اے محمد ﷺ جو شخص قرآن کریم کا انکار کر رہا ہے اس کی وجہ سے قرآن کی طرف سے شک میں مت پڑنا کیوں کہ قرآن حکیم کے منکر کا ٹھکانا دوزخ ہے یا یہ مطلب ہے کہ تم قرآن کریم کی طرف سے شک میں مت پڑنا، بیشک وہ سچی کتاب ہے تمہارے رب کی طرف سے بذریعہ جبریل امین نازل ہوئی ہے مگر اہل مکہ ایمان نہیں لائے۔
Ayah 11:18

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ؟ ایسے لوگ خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔

(18) اور ایسے شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ کی افتراء کرے، ایسے لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور فرشتے اور انبیاء کرام اعلانیہ یوں کہیں گے کہ یہ وہ کافر ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نسبت جھوٹی باتیں لگائی تھیں ایسے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔
Ayah 11:19

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو خدا کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں۔

(19) جو کہ دوسروں کو بھی اللہ کے دین سے اور اللہ کی اطاعت سے روکتے ہیں اور اس میں شکوک و شبہات نکالنے کی فکر میں رہا کرتے تھے اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہونے کے بھی منکر تھے۔
Ayah 11:20

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) ہرا نہیں سکتے اور نہ خدا کے سوا کوئی ان کا حمایتی ہے۔ (اے پیغمبر) ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ (شدت کفر سے تمہاری بات) نہیں سن سکتے تھے اور نہ (تم کو) دیکھ سکتے تھے۔

(20) یہ لوگ کسی مقام پر اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے اور عذاب الہی سے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی انہیں بچا نہیں سکتا ایسے سرداروں کو دوہری سزا ہوگی۔ یہ لوگ رسول اکرم ﷺ سے بغض کی وجہ سے آپ کے کلام کو سن نہ سکتے تھے یا یہ کہ آپ کے کلام کی طرف توجہ نہیں کرتے تھے اور نہ دشمنی کی غرض سے رسول اکرم ﷺ کی طرف دیکھتے تھے یا یہ کہ بغض کی وجہ سے آپ کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔ یہ امراء وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو برباد کربیٹھے نہ ان کو جنت میں اہل و عیال ملیں گے اور نہ محلات اور نہ شان شوکت بلکہ ان کے علاوہ دوسرے مومنین ان نعمتوں کے وارث ہوں گے۔
Ayahs 11:21–22

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہی ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اور جو کچھ یہ افترا کیا کرتے تھے ان سے جاتارہا۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سب سب زیادہ نقصان پانیوالے ہیں۔

(21۔ 22) اور جو جھوٹے معبود انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ تراش رکھے تھے وہ ان کے دور ہوگئے اور اپنے اندر مصروف ہوگئے اور لازمی بات ہے کہ آخرت میں جنت اور اس کی نعمتیں نہ ملنے کے باعث سب سے زیادہ نقصان میں یہی لوگ ہوں گے۔
Ayah 11:23

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی یہی صاحب جنت ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

(23) یقیناً جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور کامل طریقہ پر اطاعت خداوندی کی اور اپنے رب کی طرف جھکے اور ادل سے فرمانبرداری خشوع کو ظاہر کیا ایسے حضرات اہل جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 11:24

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دونوں فرقوں (یعنی کافر ومومن) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہر ہو اور ایک دیکھتا سنتا۔ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟

(24) کافر اور مومن کی حالت ایسی ہے جیسے ایک شخص اندھا ہو اور بہرہ بھی یعنی کافر اندھے کی طرح نہ حق وہدایت کی طرف دیکھتا ہے اور بہرے کی طرح حق و ہدایت کی کوئی بات نہیں سنتا اور مومن کی حالت دیکھنے والے اور سننے والے کی طرح ہے کہ حق وہدایت کو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے، سو کیا کافر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور ثواب مومن کی برابر کرسکتا ہے کیا تم قرآن کریم کی ان نصیحتوں کو نہیں سمجھتے کہ پھر ایمان لے آؤ۔
Ayah 11:25

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو انکی قوم کی طرف بھیجا تو (انہوں نے ان سے کہا) کہ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے (اور پیغام پہنچانے) آیا ہوں

(25) حضرت نوح ؑ جس وقت اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے کہا کہ میں تمہارے پاس اللہ کی طرف سے رسول بنا کر یہ پیغام دے کر بھیجا گیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کرو۔
Ayah 11:26

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے۔

(26) اور میں تمہیں کھلے طور پر ڈراتا ہوں کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو تم پر کیا درد ناک عذاب یعنی غرق ہونے کا عذاب نازل ہوگا۔
Ayah 11:27

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تو انکی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں۔ اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں اور وہ بھی رائے ظاہرے سے (نہ غور وتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

(27) یہ سن کر قوم نوح کے سردار کہنے لگے کہ اے نوح ہم تو تمہیں اپنے جیسا آدمی دیکھتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم پر وہی لوگ ایمان لائے ہیں جو ہم میں بالکل کم تر اور کمزور ہیں اور وہ بھی سرسری رائے سے اور ان کی رائے بھی ٹھیک نہیں جو انہوں نے ایسا کیا ہے۔ اور ہم تم لوگوں کے دعوے میں کوئی بات خود سے زیادہ بھی نہیں پاتے تم بھی کھاتے پیتے ہو جیسا کہ ہم کھاتے پیتے ہیں بلکہ ہم تو تمہارے دعوے میں تمہیں بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں۔
Ayah 11:28

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے تو کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں ؟ اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو۔

(28) حضرت نوح ؑ نے فرمایا اے میری قوم بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر میں ایسی دلیل پر قائم ہوں جو کہ میرے رب کی طرف سے نازل شدہ ہے اور اس نے مجھے اپنے پاس سے نبوت اور دولت اسلام عطا فرمائی ہو اور پھر میرے دین اور میری نبوت میں تمہیں شبہ ہو یا شبہ میں ڈال دیا ہو تو کیا ہم اس دعوی کو تم پر مسلط کردیں اور کسی طرح تمہارے حلق میں اس کو زبردستی اتار دیں اور تم اس کا انکار کیے جاؤ۔
Ayah 11:29

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے قوم ! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں۔ میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انکو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو۔

(29) اور اے قوم میں تم سے اس تبلیغ توحید پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو صرف اللہ کے ذمہ ہے اور تمہارے کہنے سے میں تو ان ایمان والوں کو نہیں نکالتا یہ لوگ تو اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں، اس چیز پر وہاں جا کر یہ مجھ سے مخاصمہ کریں گے لیکن تم ہی لوگ خواہ مخواہ جہالت کررہے ہو۔
Ayah 11:30

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور برادران ملت اگر میں انکو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لئے) کون میری مدد کرسکتا ہے ؟ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

(30) اور اگر تمہارے کہنے کے مطابق میں ان کو نکال بھی دوں تو عذاب الہی سے مجھے کون بچائے گا کیا میری ان باتوں سے بھی نصیحت نہیں حاصل کرتے کہ ایمان لے آؤ۔
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دیگا جو انکے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں۔

(31) اور میں اس بات کا بھی دعوی نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کے رزق کے تمام خزانوں کی چابیاں میری پاس ہیں، اور نہ غیب کی باتیں جاننے کا میں دعوے دار ہوں کہ کب عذاب نازل ہوگا اور نہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ اور جو لوگ تمہاری نگاہوں میں کم تر ہیں اور تمہیں وہ جچتے نہیں میں ان کی بابت یہ نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ تصدیق ایمان کے بدلے میں ان کو عزت واکرام نہ دے گا، ان کے دلوں میں جو تصدیق ہے اس کو اللہ تعالیٰ ہی اچھی طرح جاتنا ہے تو اگر میں ان کو اپنے سے دور کردوں تو خود کو بہت ہی نقصان پہنچاؤں۔
Ayah 11:32

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور جھگڑا بھی بہت کیا لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر نازل کرو۔

(32) وہ لوگ کہنے لگے کہ نوح ؑ تم ہم سے بحث کرچکے اور آبائی دین کے بجائے دوسرے دین کی طرف دعوت دے چکے اور بحث اور دعوت بہت کرچکے، بس اب تو عذاب لے آؤ جس سے تم ہمیں ڈراتے تھے کہ وہ ہمارے اوپر نازل ہوگا۔
Ayah 11:33

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ اس کو تو خدا ہی چاہے گا تو نازل کریگا۔ اور تم (اس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے۔

(33) حضرت نوح ؑ نے فرمایا کہ یہ عذاب تو اللہ تعالیٰ ہی تم پر لائے گا اگر اس کو منظور ہوگا اور اس کے ذریعے وہی تمہیں عذاب دے گا اور اس وقت تم عذاب الہی سے بچ نہیں سکو گے۔
Ayah 11:34

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیر خواہی کروں اور خدا یہ چاہے کہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیر خواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے۔ اور تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

(34) اور میری دعوت اور میرا عذاب الہی سے تمہیں ڈرانا تمہارے کام نہیں آسکتا، خواہ میں تمہیں کیسا ہی عذاب الہی سے ڈراؤں اور توحید کی دعوت دوں جب کہ اللہ ہی کو تمہارا گمراہ کرنا منظور ہو۔ وہی مجھ سے زیادہ تمہارا خیرخواہ اور تمہارا مالک ہے اور مرنے کے بعد تمہیں اسی تمہیں کی طرف لوٹ جانا ہے وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayah 11:35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے نے قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ و کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں برئی الذمہ ہوں۔

(35) بلکہ قوم نوح تو یہ کہتی ہے کہ نوح ؑ جو پیغام ہمارے پاس لے کر آئے ہیں یہ انہوں نے خود بنایا ہے تو آپ فرمادیجیے کہ اگر بالفرض ایسا ہو تو اس کا گناہ مجھ پر ہوگا اور تمہارے گناہوں سے میں بری الذمہ رہوں گا اور کہا گیا کہ یہ آخری آیت رسول اکرم ﷺ کے متعلق میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 11:36

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان لاچکے ان کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ تو جو کام یہ کر رہے ہیں انکی وجہ سے غم نہ کھاؤ۔

(36) اور نوح ؑ کے پاس وحی بھیجی گئی کہ اب تک جو ایمان لاچکے ہیں ان کے علاوہ اور کوئی ایمان نہیں لائے گا، لہذا ان کے برے اعمال اور ان کی ہلاکت پر کچھ غم نہ کیجیے۔
Ayah 11:37

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیے جائیں گے۔

(37) تم ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم سے کشتی تیار کرو اور مجھ سے ان کافرون کی نجات کے متعلق کچھ ذکر نہ کرنا کیوں کہ یہ سب طوفان کے ذریعے غرق کیے جائیں گے۔
Ayah 11:38

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

تو (نوح نے) کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب انکی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اسی طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے۔

(38) چناچہ نوح ؑ کشتی تیار کرنے لگے اس دوران جب کسی سردار گروہ کا ان پر سے گزر ہوتا تو حضرت نوح ؑ کو کشتی بناتا ہوا دیکھ کر ان پر ہنستے تو آپ فرماتے کہ اگر آج تم ہم پر ہنس رہے ہو تو آج کے بعد ہم تم پر ہنسیں گے جیسے آج کے دن تم ہم پر ہنستے تھے۔
Ayah 11:39

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا۔ اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے ؟

(39) تم ابھی جان جاؤ گے کہ کس پر ہلاکت خیز اور ذلت آمیز عذاب آرہا ہے، اور آخرت میں اس پر ابدی عذاب نازل ہوتا ہے۔
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا۔ تو ہم نے نوح (کو) حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجا ئیگا) اسکو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو اور جو ایمان لایا ہو اسکو کشتی میں سوار کرلو اور انکے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے۔

(40) غرض کہ جب ہماری عذاب کا وقت قریب آپہنچا اور زمین میں سے پانی ابلنا شروع ہوا یا یہ کہ صبح پھیل گئی تو ہم نے حضرت نوح ؑ کو حکم دیا کہ ہر ایک قسم کے جانوروں میں سے کشتی میں ایک ایک جوڑا یعنی نر و مادہ چڑھا لو اور اپنے گھر والوں کو بھی ماسوا ان لوگوں کے جن پر حکم عذاب نافذ ہوچکا ہے اور اپنے ساتھ دوسرے ایمان کو بھی کشتی میں چھڑا اور صرف اسی آدمی ان پر ایمان لائے تھے۔