Explained with ayahs 93–95
مدین والوں پر عذاب الٰہی
جب اللہ کے نبی ؑ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو تھک کر فرمایا اچھا تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والے عذاب کن پر نازل ہوتے ہیں اور اللہ کے نزدیک جھوٹا کون ہے ؟ تم منظر رہو میں بھی انتظار میں ہوں۔ آخرش ان پر بھی عذاب الٰہی اترا اس وقت نبی اللہ اور مومن بچا دیئے گئے ان پر رحمت رب ہوئی اور ظالموں کو تہس نہس کردیا گیا۔ وہ جل بھجے۔ بےحس و حرکت رہ گئے۔ ایسے کہ گویا کبھی اپنے گھروں میں آباد ہی نہ تھے۔ اور جیسے کہ ان سے پہلے کے ثمودی تھے اللہ کی لعنت کا باعث بنے ویسے ہی یہ بھی ہوگئے۔ ثمودی ان کے پڑوسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–97
سورة هُوْد 102
یہ سمجھ میں نہ آنا کچھ اس بنا پر نہ تھا کہ حضر شعیبؑ کسی غیر زبان میں کلام کرتے تھے، یا ان کی باتیں بہت مُغلق اور پیچیدہ ہوتی تھیں۔ باتیں تو سب صاف اور سیدھی ہی تھیں اور اُسی زبان میں کی جاتی تھیں جو یہ لوگ بولتے تھے، لیکن ان کے ذہن کا سانچا اس قدر ٹیڑھا ہو چاک تھا کہ حضرت شعیبؑ کی سیدھی باتیں کسی طرح اس میں نہ اُتر سکتی تھیں۔ قاعدے کی بات ہے کہ جو لوگ تعصبات اور خواہش نفس کی بندگی میں شدت کے ساتھ مبتلا ہوتے ہیں اور کسی خاص طرزِ خیال پر جامد ہو چکے ہوتے ہیں، وہ اوّل تو کوئی ایسی بات سن ہی نہیں سکتے جو ان کے خیالات سے مختلف ہو، اور اگر سُن بھی لیں تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–95
اس پند و نصیحت کے بعد پھر ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا، (آیت) وَيٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْٓ اَنْ يُّصِيْبَكُمْ مِّثْلُ مَآ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ ۭ وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ ، یعنی تم سوچو سمجھو، ایسا نہ ہو کہ میری مخالفت اور عداوت تم پر کوئی ایسا عذاب لا ڈالے جیسا تم سے پہلے قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح (علیہم السلام) پر آچکا ہے، او لوط ؑ کی قوم اور ان کا عبرتناک عذاب تو تم سے کچھ دور بھی نہیں، یعنی مقامی اعتبار سے بھی قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں مدین کے قریب ہی ہیں اور زمانہ کے اعتبار سے بھی تم سے بہت قریب زمانہ میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
94۔ 95:۔ وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَّالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ۔ كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۭ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۔
کم و بیش انہی الفاط میں یہی مضمون آیات 66۔ 68 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →94۔ 1 اس چیخ سے ان کے دل پارہ پارہ ہوگئے اور ان کی موت واقع ہوگئی اور اس کے معا بعد ہی بھو نچال بھی آیا، جیسا کہ سورة اعراف۔ 91 (فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ) اور سورة عنکبوت (فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ) 29۔ العنکبوب :37) میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
58: اس کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة اعراف (19:7) کا حاشیہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
تاریخ کا ایک دوسرا سیاہ ورق الت دیا گیا اور مکذبین پر عذاب الٰہی ایک حقیقت بن کر آیا۔ ان لوگوں پر جو پیغمبروں کے ڈراوے کو جھٹلاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
1 یہاں قوم شعیب کا کڑک (فرشتہ کی چیخ) سے ہلاک ہونا مذکور ہے اور " اعراف " میں " رجفہ " کا لفظ آیا ہے یعنی زلزلہ سے ہلاک ہوئے۔ اور سورة شعراء میں " عَذَابَ یَوْمِ الظُّلَّۃِ " آیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کے بادل سائبان کی طرح ان پر محیط ہوگئے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ تینوں قسم کے عذاب اس قوم کے حق میں جمع کردیئے گئے تھے، پھر ہر سورت میں وہاں کے سیاق کے مناسب عذاب کا ذکر کیا گیا۔ " اعراف " میں تھا کہ ان لوگوں نے شعیب سے کہا کہ ہم تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو اپنی سرزمین سے نکال دیں گے۔ وہاں بتلا دیا کہ جس زمین سے نکالنا چاہتے تھے، اسی کے زلزلہ سے ہلاک ہوئے۔ یہاں ان کے سخت گستاخانہ مقالات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
آیت 93 وَيٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ
تم میرے خلاف جو بھی ریشہ دوانیاں کرسکتے ہو جو بھی چالیں چل سکتے ہو ‘ اور جو اقدامات بھی کرسکتے ہو کر گزرو۔ اپنے طور پر جو کچھ میں کرسکتا ہوں ‘ جو کوشش مجھ سے بن آرہی ہے میں کررہا ہوں۔ یہ چیلنج کرنے کا انداز سورة الانعام سے چلا آ رہا ہے۔ یہ گویا مکہ کے حالات کے ساتھ تطابق کیا جا رہا ہے۔ مکہ میں حق و باطل کی کشمکش بھی اب انتہا کو پہنچ چکی تھی اور اس کی وجہ سے آپ کی طبیعت کے اندر ایک طرح کی بیزاری پیدا ہوچکی تھی کہ اب جو کچھ تم کرسکتے ہو کرلو !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
106 اہل مدین پر عذاب کی نوعیت :۔ یہاں قوم شعیب کا چنگھاڑ (فرشتہ کی چیخ) سے ہلاک ہونا مذکور ہے اور اعراف میں زلزلہ کا ذکر ہوا ہے اور سورة شعراء میں عذاب یوم الظلۃ کا ذکر ہے یعنی عذاب کے بادل سائبان کی طرح ان پر محیط ہوگئے تھے گویا اس قوم پر تینوں قسم کا عذاب آیا ہے اور قرآن نے ہر مقام پر صرف اس عذاب کا ذکر فرمایا جیسا کہ مضمون چل رہا تھا مثلاً اس سورة میں قوم کا لہجہ تلخ اور باتیں گستاخانہ تھیں جو سنگسار کرنے کی دھمکی دے رہے تھے تو یہاں سخت قسم کے جگر خراش عذاب یعنی چنگھاڑ کا ذکر فرمایا سورة اعراف میں یہ ذکر تھا کہ قوم نے دھمکی دی تھی کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اس سرزمین سے نکال دیں گے…
Read the full tafseer →138۔ (مردہ وبے جان ہوکر) (آیت) ” امرنا “۔ یعنی ہمارا حکم عذاب (آیت) ” برحمۃ منا “۔ پھر ایک بار اس حقیقت کی وضاحت کردی گئی کہ نجات جس کسی کو بھی ملتی ہے مومنین بلکہ پیغمبر تک کو بھی فضل خداوندی ہی سے ملتی ہے۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے یعنی منکرین توحید ومعاندین نبوت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیت نمبر 84 تا 95
ترجمہ : اور ہم نے اہل مدین کی جانب ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا میرے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کو ایک سمجھو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو، میں تم کو خوش حالی میں دیکھ رہا ہوں جس کی وجہ سے تم کو تولنے اور کم ناپنے سے مستغنی ہو، اگر تم ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے میں تم کو گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہلاک کر دے گا، اور یوم کی صفت محیط مجاز ہے عذاب کے اس میں واقع ہونے کی وجہ سے، اور اے میرے برادران قوم تم انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہنچاؤ، (یعنی)…
Read the full tafseer →ولما جآء امرنا اور جب ہمارا (عذاب یا عذاب کا) حکم آپہنچا۔ اس جگہ اور عاد کے قصے میں عذاب کا وعدہ پہلے مذکور نہیں ہے ‘ اس لئے جملہ کو واؤ سے شروع کیا اور صالح و لوط کے قصوں میں نزول عذاب سے پہلے وعدۂ عذاب مذکور ہے۔ فرمایا ہے : وَعْدٌ غَیْرٌ مَکْذُوبٍ - اِنَّ مَوْعِدَھُمْ الصُّبْحُ اس لئے ان دونوں مقاموں میں فاء سے جملہ شروع کیا اور فلمّا فرمایا ہے گویا فاء نتیجہ پر آئی جس کا سبب پہلے ذکر کردیا گیا ہے۔
نجینا شعیبا والذین امنوا معہ برحمۃ منا واخذت الذین ظلموا الصیحۃ فاصبحوا في دیارھم جثمین ہم نے بچا لیا شعیب کو اور ان کے ساتھ والے مؤمنوں کو اپنی رحمت سے اور کافروں کو پکڑ لیا ایک چیخ نے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
(94۔ 95) چناچہ جب ہمارا عذاب آیا تو ہم نے حضرت شعیب ؑ کو اور جو ان کے ساتھ اہل ایمان تھے ان کو اپنی خصوصی رحمت سے نجات
دی اور ان مشرکوں یعنی قوم شعیب کو ایک سخت آواز کے عذاب نے آگھیرا، سو وہ اپنے گھروں میں مردہ خاک بن کر رہ گئے جیسے وہ کبھی زمین پر تھے ہی نہیں، حضرت شعیب ؑ کی قوم کو رحمت خداوندی سے دوری ہوئی جیسا کہ قوم صالح کو رحمت خداوندی سے دوری ہوئی اور قوم صالح اور قوم شعیب کا عذاب دونوں پر برابر ہے، ایک سخت آواز نے ان دونوں قوموں کو آگھیرا تھا، باقی قوم صالح پر نیچے کی طرف سے عذاب آیا تھا اور قوم شعیب کو ان کے اوپر کی طرف سے عذاب آیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا۔۔ : یہ اللہ تعالیٰ کے ہر قوم پر آنے والے عذاب کی عجیب صفت ہے کہ اس نے اہل ایمان کو کچھ نقصان نہیں پہنچایا، نہ آندھی نے، نہ چیخ نے اور نہ زلزلے نے۔ صرف کفار اور ظالم مشرک ہی اس سے برباد ہوئے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (57) کی تفسیر۔
اللہ کے حکم سے آنے والے اس عذاب کو سورة اعراف (91) اور عنکبوت (37) میں ”اَلرَّجْفَۃ ‘ یعنی زلزلہ فرمایا، یہاں ”الصَّيْحَةُ“ یعنی چیخ فرمایا اور سورة شعراء (189) میں ”عَذَابّ یَوْمِ الظُّلَّۃِ“ سائبان کے دن والا عذاب فرمایا۔ اس لیے زیادہ واضح بات یہی نظر آتی ہے کہ پہلے ”الصَّيْحَةُ“ چنگھاڑ یا سخت چیخ بلند ہوئی، جب وہ حد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیت نمبر 84 تا 95
اللہ تعالیٰ کا ارشاد والیٰ مدین اخاھم شعیبا یعنی وارسلناإلی مدینہم نے مدین کی طرف بھیجا، مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ ان کی وجہ تسمیہ کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ مدین کہا گیا ہے جب کہ مراد بنو مدین ہیں۔ جس طرح مضر کہا جاتا ہے اور مراد بنومضر ہوتے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ان کے شہر کا نام ہے اس لیے اس کی طرف ان کو منسوب کردیا گیا۔ نحاس نے کہا : مدین غیر منصرف ہئ، کیونکہ یہ شہر کا نام ہے، سورة اعراف میں یہ معنی گزرچکا ہے اور کچھ اس سے زیادہ بھی۔ قال یٰقوم اعبدوا اللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ (اس کی تفسیر) گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–97
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقوم لا یجرمنکم شقاقی “ یعنی تم کو نہ آمادہ کرے میری جدائی۔
2:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” شقاقی “ سے مراد ہے میری دشمنی۔
3:۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر (رح) نے جوہر کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم ! یاد کروتم قوم نوح کو قوم عاد کو اور قوم ثمود کو (آیت) ” وما قوم لوط منکم ببعید “ اور لوط کی قوم ان سے زیادہ قریب تھی شعیب تک اور ان کا ہلاکت کا زمانہ ان سے زیادہ قریب تھا۔ (آیت) ” واستغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ ان ربی رحیم “…
Read the full tafseer →[وَلَمَا : اور جب ] [ جَاۗءَ : آیا ] [ اَمْرُنَا : ہمارا حکم ] [ نَجَّيْنَا : تو ہم نے نجات دی ] [ شُعَيْبًا : شعیب (علیہ السلام) کو ] [ وَّالَّذِينَ : اور ان لوگوں کو جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ مَعَهٗ : ان کے ساتھ ] [بِرَحْمَةٍ : رحمت سے ] [مِّنَا : ہماری (طرف سے)] [ وَاَخَذَتِ : اور پکڑا ] [ الَّذِينَ : ان کو جنھوں نے ] [ ظَلَمُوا : ظلم کیا ] [ الصَّيْحَةُ : چنگھاڑنے ] [فَاَصْبَحُوْا : تو وہ لوگ ہوگئے ] [ فِيْ دِيَارِهِمْ : اپنے گھروں میں ] [جٰثِمِيْنَ : اوندھے گرنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–95
اہل مدین کا بری طرح جواب دینا اور ہلاک ہونا
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت برابر جاری رہی ‘ قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ لوگ اپنے کفر و شرک پر جمے رہے انہوں نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو جو جواب دئیے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ یہ بات انہوں نے استہزاءً یا تحقیراً کہی جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری باتیں سمجھنے کے قابل نہیں ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بعض باتیں نہ سمجھتے ہوں کیونکہ توجہ کے ساتھ سنتے ہی نہ تھے۔ اپنی اس بےہودہ بات کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تم ہماری جماعت کے سامنے کمزور آدمی ہو لیکن تمہارے خاندان کے لوگ جو ہمارے ہم مذہب ہیں ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
قصہ شعیب (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاھم شعیبا .... الیٰ .... الا بعدا لمدین کما بعدت ثمود۔
(ربط) یہ چھٹا قصہ شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو خطیب الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں اور مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بڑے سرمایہ دار تھے انکا مذہب یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں کے تصرف میں آزاد اور مختار ہیں ( جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دار کہتے ہیں) جس طرح چاہیں ان میں تصرف کریں حضرت شعیب (علیہ السلام) یہ فرماتے تھے کہ یہ اموال اگرچہ تمہارے مملوک ہیں مگر تمہاری ملکیت مالک حقیقی کی ملکیت اور اس کے حکم کے ماتحت ہے۔ امانت اور دیانت کے ساتھ اور صحیح کمیل اور وزن کے ساتھ تم اس میں تصرف کرسکتے ہو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
81:۔ آخر وقت موعود پر اللہ کا عذاب آگیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے مؤمن ساتھیوں کو اللہ نے بچا لیا اور تمام مشرک ایک آسمانی گرجدار آواز سے ہلاک کردئیے گئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل ایسے مردہ پڑے تھے گویا کہ وہ کبھی ان گھروں میں آباد ہی نہ ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–95
ربط آیات
گزشتہ آیات میں شعیب (علیہ السلام) نے قوم کی طرف سے کئے گئے بیہودہ اعتراض کا جواب دیا تھا۔ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی نماز کو طعن کی بنیاد بنایا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم تمہارے کہنے سے اپنے آبائو اجدا کے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور نہ ہی اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے تصرف سے باز آسکتے ہیں۔ شعیب (علیہ السلام) نے اچھے طریقے سے سمجھایا کہ دیکھو ! کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت اور پاکیزہ روزی عطا فرمائی ہے۔ میں جو بات تم سے کہتا ہوں ، اس پر خود بھی عمل کرتا ہوں یعنی میرے قول و فعل میں تضاد نہیں ہے ، میں حسب استطاعت اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں اور میرا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے…
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَّالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِہِمْ جٰثِمِيْنَ 94 ۙ
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–109
1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
وَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا ط اَلاَ بُعْدًالِّمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ ۔ (سورۃ ہود : 94، 95)
(اور جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے بچا لیا شعیب کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے، آپ کے ساتھ، اپنی خاص رحمت سے۔ اور پکڑ لیا ظالموں کو خوفناک کڑک نے، تو انھوں نے صبح کی اپنے گھروں میں اس حال میں کہ وہ اوندھے منہ گرے ہوئے تھے۔ گویا وہ کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے، خبردار دوری ہے مدین کے لیے جیسے دوری ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
فہم القرآن
ربط کلام : قوم مدین جرائم سے تائب ہونے کی بجائے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کرتی ہے۔
قوم مدین نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو کلی طور پر ٹھکراتے ہوئے نہ صرف انہیں ان کی گھر سے نکال دینے کی دھمکیاں دیں بلکہ یہ بھی بار بار مطالبہ کیا کہ اگر تو اپنے وعدہ میں سچا ہے تو آسمان کا کوئی ٹکڑا ہم پر گرا دو ۔ اس کے نتیجہ میں قوم مدین پر بیک وقت آسمان اور زمین سے عذاب نازل ہوا۔ جس کی کیفیت مفسرین نے یہ لکھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات دن تک اس علاقہ کی ہوا کو جامد کردیا۔ سورج کی گرمی اور حبس نے ان لوگوں کو ہلکان کردیا۔ دن کو سکون اور نہ ہی رات کو نیند، جس کی وجہ سے ان کے جسم اکڑ گئے۔…
Read the full tafseer →نفاذِ عذاب :
94: وَلَمَّا جَآ ئَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَاشُعَیْبًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ (جب ہمارا عذاب والا حکم آیا تو ہم نے بچا لیا شعیب کو اور ان کے ساتھ والے مومنوں کو اپنی رحمت سے اور ظالموں کو پکڑ لیا ایک چیخ نے۔ ) جبرئیل (علیہ السلام) نے چیخ ماری تو وہ تمام ہلاک ہوگئے۔ یہ عاد اور مدین کے واقعہ کے آخر میں مذکور ہوا ہے۔
نکتہ : ثمود و لوط کے واقعہ کے آخر میں لما جاء فرمایا جبکہ آیت 66 میں فلما جاء فرمایا گیا اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں واقعات اس موعد کے بعد ذکر ہوئے جو ان موعد ھم الصبح [ ھود : 81[ ذلک وعدغیر مکذوب [ ہود :…
Read the full tafseer →تفسیر : 94۔” ولما جاء امرنا نجینا شعیبا والذین امنوا معہ برحمۃ منا واخذت الذین ظلموا الصحیۃ “ بعض نے کہا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک چیخ ماری تو ان کی روحیں نکل گئیں اور بعض نے کہا ہے کہ ان کے اوپر آسمان سے چیخ آئی ان کو ہلاک کردیا ۔ ” فاصبحوا فی دیارھم جاثمین “ مردہ پڑے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
94۔ 95۔ جب شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم سے ناامید ہوگئے اور جان لیا کہ اب یہ ایمان نہیں لائیں گے تو فرمایا کہ دیکھو کون عذاب سے رسوا ہو کر ہلاک ہوتا ہے اس وقت خدا کا عذاب آیا اللہ پاک نے اپنے رسول شعیب (علیہ السلام) کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے ان کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور قوم شعیب (علیہ السلام) کو جنہوں نے ظلم کیا تھا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ایمان نہیں لائے یہ سب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی ایک سخت چیخ سے اس طرح ہلاک ہوگئے یہ بھی نہیں معلوم ہوا کہ اس گاؤں میں کوئی بستا بھی تھا یا نہیں جس طرح قوم ثمود چنگھاڑ سے ہلاک ہوئی اسی طرح یہ قوم بھی ہلاک ہوئی اس لئے یہاں ثمود کا…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔ “ یعنی جب شعیب کی قوم کی ہلاکت کا وقت آپہنچا (آیت) ” تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور ان کو جو ایمان لائے اس پر، اپنی رحمت سے آپکڑا اور ظالموں کو کڑک نے، پس صبح کو رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ان کی کوئی آواز سنائی دیتی تھی نہ ان میں کوئی حرکت دکھائی دیتی تھی (آیت) یعنی گویا وہ اپنی بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ایسے لگتا تھا کہ گویا انہوں نے کبھی نعمتوں سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–112
حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا
قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
189 ۔ منکرین و معاندین کے لیے آخری جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے آخری جواب کے طور پر ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر کام کرتا ہوں۔ عن قریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ سو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔ سو اس وقت تم پر واضح ہوجائے گا کہ جھوٹا کون تھا تم یا ہم۔ کیونکہ وہ لوگ آپ کو کاذب کہتے تھے۔ (جامع البیان) جیسا کہ دوسرے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بھی کہا گیا ہے۔ بلکہ " کاذب " سے بڑھ کر ان کو " کذاب " کہا گیا جو کہ کذب سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی گمراہی اور عذاب
تشریح : یہاں قوم مدین کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ قوم مدین اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد تھی۔ بحر احمر کا وہ مقام جہاں جزیرہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آکر ملتی تھیں یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے، یعنی مدین بہت بڑی تجارتی منڈی تھی اسی لیے وہاں کے لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ مگر ان میں بت پرستی، عیش پرستی اور ناپ تول میں بددیانتی کی عادت حد سے بڑھ چکی تھی اور اس حرام خوری کی وجہ سے ان میں تمام اخلاقی برائیاں، اللہ سے دوری اور حرص و لالچ پیدا ہوچکا تھا دیکھا جائے تو مال کی حرص بہت سی اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے یہی حال ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیات 84 تا 95
اسرار و معارف
شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ مدین جو ملک شام کا مشہور شہر تھا اس کے رہنے والوں کی طرف ان ہی میں سے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ شجرپرستی میں مبتلا تھے اور مختلف درختوں کی پوجا کرتے تھے جیسے ہندومت میں آج بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کا لین دین بھی ہندؤوں جیسا تھا ڈنڈی مارنے سے نہ چوکتے ناپ تول میں کمی کردیتے ۔ سونے کے سکوں میں سے تھوڑابہت سونا کاٹ لیتے اور سکہ پوری قیمت پر چلتا کردیتے۔
ناپ تول میں کمی
چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ لہٰذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
ف 9 ۔ سورة اعراف اور عنکبوت میں ہے کہ انہیں ” رجفہ “ یعنی زلزلے نے آدبایا اس لئے اخلب یہ ہے کہ پہلے ” صبحۃ “ (چنگھاڑ) یا سخت چیخ بلند ہوئی ہوگی اور پھر زلزلہ آیا ہوگا۔ آج بی ” مدین “ کے علاقے میں سینکڑوں میل تک جو پہاڑ پائے جاتے ہیں ان پر زلزلے کے آثار ہیں تمام پہاڑ اس طرح سے پھٹے ہوئے ہیں جیسے کسی زبردست زلزلے نے انہیں کھیل کھیل کردیا ہو۔
Read the full tafseer →(11:94) امرنا۔ ہمارا حکم۔ یعنی ہمارا عذاب۔ الصیحۃ۔ چیخ ۔ کڑک۔ ہولناک آواز ۔ ( ملاحظہ ہو 11:67)
جثمین۔ اوندھے پڑے ہوئے۔ (ملاحظہ ہو 11:67)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–95
لغات القرآن آیت نمبر 89 تا 95
لایجرمن (مجرم نہ بنا دے) شقاق (ضد، ہٹ دھرمی) ان یصیب (یہ کہ پہنچے گی) ودود (محبت کرنے والا) مانفقہ (ہم نہیں سمجھتے ) ضعیف (کمزور) رھط (خاندان، قبیلہ) رجمنا (ہم رجم کرتے (پتھر مار مار کر ہلاک کرنا) عزیز (زبردست، قوت و طاقت والا) اعز (زیادہ طاقتور، زیادہ قوت والا) اعز (زیادہ، طاقتور، زیادہ قوت والا) ظھری (پشت، پیٹھ) محیط (گھیرنے والا) عامل (کام کرنے والا) مکان (جگہ) یخزی (رسوا کر دے گا) کاذب (جھوٹ بولنے والا) ارتقبوا (نگرانی کرو، انتظار کرو) رقیب نگران الصیحۃ (چنگھاڑ تیز آواز) اصبحوا (وہ رہ گئے) جثمین (اوندھے پڑے رہنے والے) لم یغنوا (آباد نہ تھے) بعدت (دور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
شعیب (علیہ السلام) کی ظالم قوم پر عذاب کا آنا : جب شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم سے ناامید ہوگئے اور جان لیا کہ اب یہ ایمان نہیں لائیں گے تو اس وقت خدا کا عذاب آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول شعیب (علیہ السلام) کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے ان کو اپنی رحمت سے بچالیا اور قوم شعیب (علیہ السلام) کو جنہوں نے ظلم کیا تھا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ایمان نہیں لائے۔ یہ سب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی ایک سخت چیخ سے اس طرح ہلاک ہوگئے جس طرح قوم ثمود چنگھاڑ سے ہلاک ہوئی اس لئے یہاں ثمود کا نام لیا قوم لوط کا نام نہیں لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–99
[49] اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ قوم لوط کا زمانہ بھی تم سے کچھ ایسا دور نہیں۔ ابھی حال ہی کی بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے دھمکی کو صبر و عزیمت کے ساتھ سنا اور کہا ، تمہیں میرے عزیزوں کا تو خیال ہے ، مگر اللہ کا خیال نہیں ، جس کی جانب سے میں مبعوث ہو کر آیا ہوں ، تم اس کی آواز پر کان نہیں دھرتے تمہیں اس بات کی فکر نہیں کہ وہ تمہیں کیا کہے گا تم جو چاہو ، کرتے رہو میں ہرگز تمہارے طرز عمل سے خائف نہیں ، تم عنقریب جان لوگے ، کہ جھوٹا کون ہے ، اور سچا کون ، کس پر اللہ کی رحمتیں ہیں اور کون ذلیل اور کون عذاب کا مستحق ہے ۔
چنانچہ اللہ کا عذاب آیا اور انکار کرنے والے صفحہ ہستی سے ہٹ گئے ،
اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔
Read the full tafseer →94 اور جب ہمارے عذاب کا حکم آ پہونچا تو ہم نے شعیب اور اس کے ہمراہی مسلمانوں کو اپنی رحمت و عنایت سے بچا لیا اور ان ظالموں کو ایک ہولناک آواز نے آپکڑا لہٰذا وہ اپنے گھروں کے اندر منہ کے بل اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ف 3۔ یعنی تم دعوی نبوت میں مجھ کو جھوٹا کہتے ہو اور حقیر سمجھتے ہو تو اب معلوم ہوجائے گا کہ جرم کذب کا مرتکب اور سزائے ذلت کا مستوجب کون تھا تم یا میں دیکھیں عذاب کا وقوع ہوتا ہے جیسا میں کہتا ہوں یا عدم وقوع جیسا تمہارا زعم ہے۔
Read the full tafseer →انجام کار ہمارا مقررہ وقت آگیا تو ہم نے شعیب کو اور اس کے لوگوں کو نجات دے دی
۔ 120 قرآن کریم سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ نافرمان اور سرکشی کی پاداش میں قوم شعیب کو دو قسم کے عذاب نے آگھیرا۔ ایک زلزلہ کا عذاب اور دوسرا آگ کی باشر کا عذاب اور یہ وہی عذاب ہے جو اس سے پہلے لوط علیہ ال سلام کی قوم کو دیا گیا تھا۔ فرق یہ ہے کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کا عذاب اتنا سخت تھا کہ اس علاقہ کو تہس نہس کر کے اتنا گہرا کردیا گیا ہے کہ اس کی گہرئای کا آج تک کوئی اندازہ ہی نہ کرسکا لیکن قوم شعیب کے لوگوں پر دونوں طرح کا عذاب نازل کیا لیکن پہلے عذاب سے اتنا ہلکا تھا کہ قوم کے لوگوں کو تو صفحہ ہستی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–111
After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said:
وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ
And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you.
The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–97
102. When Shu'ayb's people stated that they did not understand much of what Shu'ayb said, they did not say so because Shu'ayb (peace be on him) spoke in some foreign language, or because he talked in an ambiguous or complicated manner. On the contrary, Shu'ayb's teaching was quite clear and simple and was conveyed to his people in a language they fully understood - their own. The difficulty in understanding Shu'ayb's teaching arose from the fact that his people had become simply too perverse to grasp it. It is always the case that when some people become fully seized by their prejudice, are…
Read the full tafseer →