11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 11:1–4

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الر۔ یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کی آیتیں حکیم دانا کی طرف سے مستحکم کردی گئیں۔ پھر مفصل بیان کی گئی ہیں (بایں مضمون)

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کر (اور کہہ دو ) میں تمہارے لئے اس کی طرف سے ڈر سنانے والا اور خوشخبری پہنچانے والا ہوں

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ بھی (کہو) کہ تم اپنے رب سے معافی مانگو۔ پھر اس کی طرف رجوع کرو تاکہ وہ ایک وقت مقررہ تک تم کو اچھی طرح سے رسائے بسائے اور جس نے بڑھ کر نیکی کی ہو اس کو بڑھ کر بدلہ دے اور اگر تم پھر نہ مانو تو مجھے تم پر بڑے دن (قیامت) کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

اللہ ہی کی طرف تم کو پھر کر جانا ہے اور وہی ہر بات پر قادر ہے

ترکیب : الر اسم ہے اس سورة کا مبتداء کتاب موصوف حکمت الخ صفت مجموعہ خبر یا مبتداء محذوف کی خبر یا بالعکس ان لا تعبدوا الخ مفعول لہ ہے فصلت کا اے فصلت لا جل ان لاتعبدوا وقیل ان مفسرۃ لان فی تفصیل الآیات معنی القول وان استغفروا اس پر معطوف الاحین کا عامل یعلم۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں اسی ہنگامہ میں نازل ہوئی ہے کہ جب جہالت اور بت پرستی کا بازار گرم تھا۔ خدا پرستی کا نام لینے والے پر نہ صرف انگلیاں ہی اٹھتی تھیں بلکہ زہر آلود تیروں کا تودہ بنایا جاتا تھا۔ اس میں منجملہ حالات دیگر انبیاء کے حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ نہایت عبرت انگیز ہے جس لئے ان کے نام سے یہ سورة نامزد کی جاتی ہے اس میں ایک سو تئیس آیات ہیں۔ الرا میں بہت کچھ امور مخفیہ کی طرف اشارہ فرما کر کہ جن کو کما ینبغی اس کا رسول کریم ہی سمجھتا تھا۔ سب سے اول قرآن مجید کی خوبی اور اس کا منجانب اللہ ہونا بیان فرماتا ہے بقولہ کتاب احکمت آیات الخ احکام مضبوطی اور خلل و فساد کا دفع کرنا یعنی یہ کتاب قرآن وہ ہے کہ جس کی آیات محکم ہیں جن میں عقل سلیم اور فہم مستقیم کو غور و فکر کرنے سے کوئی بھی خرابی اور نقص معلوم نہیں ہوتا۔ اس کے اخبار ماضیہ سچے سچے واقعات عبرت خیز کا فوٹو ہیں، اس کے احکام تہذیب اخلاق سے لے کر سیاست ملک تک اور عالم آخرت میں سعادت عظمیٰ حاصل کرنے کے طریق حکماء کا دستور العمل ہیں۔ اس پر عبارت کی صفائی تہذیب اور سچائی کا زیور علاوہ ہے۔ ایسی کتاب اگر آسمانی کتاب نہیں تو کیا پھر محض تاریخی کتابیں کہ جن میں مبالغہ آمیز الفاظ اور توہمات ہوں یا وہ کہ جن میں عناصر اور مخلوقات کی پرستش ہو ‘ عالم آخرت اور انسان کی سعادت کا طریقہ ندارد ہو ‘ وہ آسمانی کتابیں ہیں ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ ثم فصلت یعنی حالت مجموعی کے لحاظ سے تو یہ محکم تھی ہی مگر حالت تفصیلی پر بھی غور کیا جاوے اور ہر ایک معاملہ کی آیات کو ان کے مطالب پر جداگانہ لحاظ کیا جاوے تو بھی یہی کہنا پڑے گا کہ یہ تفصیل (کہ دلائلِ توحید اپنے موقع پر احکام اور مواعظ اور قصص اپنی جگہ پر ترغیب و ترہیب دنیا کی بےثباتی ‘ عالم آخرت کی خوبی اپنے محل پر) من لدن حکیم خبیر ہے یعنی بشیر کا کام نہیں اسی حکیم وخبیر نے ان موتیوں کو اپنے اپنے موقع پر لڑیوں میں پرو دیا ہے۔ پھر اس کی اجمالی اور تفصیلی دونوں حالت ایسی ہوں تو پھر اس میں شک کرنا آفتاب کا انکار کرنا ہے پھر ان لاتعبدوا سے لیکر وھو علی کل شیئٍ قدیر تک ان چند باتوں کی تفصیل فرماتا ہے کہ جن پر دنیا و آخرت کی سعادت اور خلاف کرنے میں ہلاکت متصور ہے جن کے ظاہر کرنے کو دنیا میں انبیاء بھیجا جاتے ہیں جس لئے اول امر کے لحاظ سے وہ بشیر اور ہلاکت سے مطلع کرنے کے اعتبار سے نذیر کہلاتے ہیں۔ اننی لکم منہ نذیر و بشیر۔ (1) لاتعبدو الخ کہ اللہ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہ وہ پہلا حکم ہے کہ جس کی عدول حکمی میں نہ صرف برِّعرب بلکہ اس عہد میں روئے زمین کے بنی آدم گرفتار ہلاکت تھے۔ یہ اس لئے کہ عبادت و پرستش کا استحقاق اس کے لئے ہے کہ جس نے پیدا کیا ہو اور وہ ہر ایک کے حال سے مطلع بھی ہو کہ جو اپنے مطیع و عابد کو بھلائی ‘ سرکش کو برائی پہنچا سکے یعنی علم ہونا چاہیے۔ سوم حاجت روا۔ اوراقل مرتبہ رزاق مطلق تو ہو۔ سو یہ تینوں باتیں بجز اس کے اور کسی میں نہیں پائی جاتیں ان تینوں باتوں کو الا انہم الخ سے شروع کرے گا (2) استغفروا ربکم کہ اپنے گذشتہ گناہوں پر خدا سے معافی مانگو ‘ استغفار کرو۔ اس میں ضمناً تمام بری باتوں کے ترک کرنے کی طرف بھی اشارہ ہے۔ (3) ثم توبوا الیہ کہ اس کی طرف رجوع کرو یا توبہ کرو کیونکہ انسان جب گناہوں سے استغفار کرکے اور موحد بن کے پاک اور باطنی گندگیوں سے صاف ہوجاتا ہے تب اس کی بارگاہِ اقدس کی طرف رجوع کرنے کے لائق ہوتا ہے اور اس کی بارگاہ میں جانا یا اس کی طرف رجوع کرنا بغیر اس کے آلات صوم و صلوٰۃ ‘ خیرات و صدقات ‘ صلہ رحمی ‘ علم ‘ ذکر و فکر ‘ دعاء و مناجات کے ممکن نہیں اس میں ضمناً اصول حسنات کو عمل میں لانے کی طرف اشارہ ہے جب اس کو یہ رتبہ حاصل ہوا تو وہ مستحق فضل و عنایت ہوا اور عنایت دو قسم پر ہے دنیا کی عافیت آخرت کی نجات و ترقی درجات اس لئے اول کی طرف یمتعکم متاعًا حسنًا میں اشارہ ہے اور دوسری کی طرف یؤت کل ذی فضل فضلا میں اور نیز وہاں کے درجات کا باعتبار مراتب سعادت تفاوت بھی ظاہر فرماتا ہے۔ ہرچند دنیا کی فراغدستی اور خوشحالی ایمان و کفر پر موقوف نہیں بلکہ بعض اوقات امتحاناً ایمانداروں کے لئے ایسی مصیبت اور تنگی پیش آتی ہے کہ دنیا قید خانہ ہوجاتا ہے اور کفار کو عیش و نشاط بےحد دے کر بھر کر کشتی ڈبوئی جاتی ہے مگر خداوند کا وعدہ ہے کہ وہ ایمانداروں اور نیکوں کو عمومی حالت میں فراغ دستی ‘ تندرستی غیر قوموں کے ہاتھ سے رستگاری دے گا اور دیا کرتا ہے جیسا کہ توریت کے بھی متعدد مقامات میں اس امر کی تصریح ہے۔ الی اجل یوں کہا کہ ہمیشگی تو اسی کے لئے ہے آخر دنیا سے کوچ کرنا ہے۔ پھر ان تولوا سے قدیر تک خلاف کرنے میں قہر کا آنا دنیاوی سزا اور مرنے کے بعد خدا کی طرف جانا اخروی سزا اور نیز مسئلہ حشر ثابت کرتا ہے وھو علی کل شیء قدیر اس کی دلیل ہے کہ یہ سب کچھ وہ کرسکتا ہے ہر بات پر قادر ہے کوئی اسباب ظاہر پر مغرور نہ ہوئے۔ الا انہم اب یہاں سے ان تینوں اوصاف کی توضیح کرتا ہے اور سب سے پہلے وصف علم کو بیان فرماتا ہے جس کی نسبت مکہ کے کفار کو جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے ابن عباس ؓ سے منقول ہے یہ گمان تھا کہ وہ بوقت قضاء و حاجت اپنے اوپر کپڑا ڈال لینا خدا سے مخفی ہونا سمجھتے تھے یا دل میں برے ارادے رکھنے کو (یثنون صدورھم) اور کپڑے یا پردے میں گناہ کرنے کو خدا سے مخفی رہنا جانتے تھے کیونکہ وہ یعلم مایسرون الخ کہ اس کو ہر ایک چھپی اور کھلی بات معلوم ہے۔ اس میں انسان کے باطنی حالات پر سخت تنبیہ بھی ہے پھر اس کی دلیل ذکر کرتا ہے ومامن دابۃ الخ کہ دنیا پر کوئی ایسا جانور نہیں کہ جس کو وہ روزی نہ دیتا ہو اور یہ اسی کا کام ہے جو علم رکھتا ہوگا۔ اس میں وصف دوم رازقیت کا بھی ثبوت ہوگیا اس پر ترقی کرتا ہے کہ وہ ہر چیز کا مستقر یعنی ٹھہرنے کی جا ‘ ماں کے پیٹ سے لے کر شب کے آرام گاہ تک اور اس کے منازل وجود تک اور مستودع یعنی اخیر سپرد کئے جانے کی جگہ قبر یا جہاں اس کی ہڈیاں پڑیں گی یا کہاں جاوے گا کیا انجام ہوگا یعنی ازا بتداتا انتہا سب جانتا ہے تیسرے وصف کو ھو الذی خلق السموات الخ میں ثابت کرتا ہے اور اس کو ثبوت علم کے لئے دلیل بھی بنا سکتے ہیں (کان عرشہ الخ کی تفسیر سورة بقرہ میں دیکھو) اس کے بعد عالم آخرت اور موت کے بعد زندہ ہونے پر جو ان کا تعجب تھا اس کو ذکر فرماتا ہے کہ جس کو وہ سحر مبین کہتے تھے اور عذاب دنیاوی کی روک رکھنے پر جو وہ کہتے تھے کہ کیوں روک رکھا ہے اس سے ان کی نادانی اور بدبختی کا اظہار فرما کر کلام تمام کرتا ہے۔
Ayahs 11:5–8

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

(اے رسول ! ) دیکھو وہ مشرکین اپنے سینے دوہرے کر رہے ہیں تاکہ اس سے چھپے رہیں دیکھو جبکہ وہ کپڑے ڈھانکتے ہیں (اس وقت سے بھی) جو کچھ وہ چھپا کر اور ظاہر کرکے کرتے ہیں سب کو خدا جانتا ہے بیشک وہ دل کے بھیدوں سے خوب واقف ہے

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین پر کوئی بھی جانور چلنے والا ایسا نہیں کہ جس کی روزی اللہ پر نہ ہو اور وہ ان کے رہنے اور (مر کر زمین میں) سونپے جانے کی جگہ بھی جانتا ہے۔ ہر ایک چیز کتاب مبین میں ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی تو ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنا دیا اور اس کا تخت پانی پر تھا تاکہ تمہیں آزماوے کہ تم میں سے کس کے اچھے عمل ہیں اور اگر آپ ان سے کہیں کہ بلاشک تم مرنے کے بعد زندہ کئے جاو گے تو منکرین یہ کہہ اٹھیں گے کہ یہ تو صریح جادو ہے

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ایک وقت معین تک ہم ان سے عذاب کو روکے رکھیں گے تو کہنے لگیں کہ اس کو کس نے روک رکھا ہے۔ دیکھو جس دن کہ وہ (عذاب) ان پر آوے گا تو ان سے ٹالے نہ ٹلے گا اور جس کو وہ ٹھٹھوں میں اڑایا کرتے ہیں وہ ان پر الٹ پڑے گا۔

1 ؎ ثینون اس کی ماضی ثنا۔ اس کے معنی پھیرنا یا موڑنا یا لپیٹنا یقال ثنیت الشیء اذا عطفۃ وطویۃ منہ۔
Ayahs 11:9–19

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھا کر پھر اس سے چھین لیتے ہیں تو ناامید (اور) ناشکر ہوجاتا ہے

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر مصیبت پہنچنے کے بعد نعمتوں کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میری سختیاں جاتی ہیں کیونکہ وہ اترانے والا شیخی خورہ ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

مگر وہ لوگ کہ جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کرتے رہے انہیں کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

پھر کیا آپ اس میں سے جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے کچھ چھوڑ بیٹھیں گے اور کیا ان کے اس کہنے سے کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتر آیا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا۔ آپ کا دل تنگ ہوگا۔ آپ تو محض خوف دلانے والے ہیں اور ہر بات کا ذمہ تو اللہ ہی کا ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کو ازخود بنا لیا۔ کہہ دو تم ایسی دس سورتیں تو بنا کرلے آؤ اور اللہ کے سوا جس سے چاہو مدد بھی لے لو۔ اگر تم سچے ہو۔

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

پھر اگر تمہارا کہا نہ کرسکیں تو جان لو کہ صرف اللہ کے علم سے نازل کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر اب بھی تم حکم مانتے ہو (یا نہیں)

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتا ہے تو ان کے اعمال (کا نتیجہ) ہم یہیں پورا کردیتے ہیں اور ان کو کچھ بھی خسارہ نہیں دیا جاتا ہے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہ وہی ہیں کہ جن کے لئے آخرت میں بجز آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ دنیا میں انہوں نے کیا تھا گیا گذرا ہوا اور جو کچھ کیا کرتے تھے

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

وہ بھی برباد ہوا۔ آیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل (عقل) پر ہو اور (اس کے بعد) اس کے پاس خدا کی طرف کا شاہد (قرآن) بھی آگیا ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی شاہد ہو جو امام اور رحمت تھی کیا وہ منکر ہوسکتے ہیں ؟ یہی لوگ اس پر ایمان بھی لاتے ہیں اور دوسرے فرقوں میں سے جو اس کا منکر ہوگا اس کا ٹھکانا آگ ہے۔ سو آپ قرآن کی طرف سے شک میں نہ رہیں۔ بیشک یہ آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ یہ لوگ اپنے رب کے روبرو پیش کئے جاویں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی تو ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا۔ دیکھو ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

وہ جو اللہ کے رستہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور وہی آخرت کے بھی منکر ہیں۔

ترکیب : صدرک مرفوع ہے ضائق کا فاعل ہو کر جو معتمد علیہ مبتداء ہے اور ممکن ہے کہ وہ مبتداء اور ضائق خبر مقدم ہو ان یقولوا ای مخافۃ ان یقولہ افمن کان موضع رفع میں ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور خبر محذوف ہے تقدیرہ افمن کان علی ھذہ الاشیاء کغیرہ۔ تفسیر : فرمایا تھا کہ منکروں سے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کے اس کفر کی سزا یعنی عذاب کو جو ہم نے ابھی ان پر نہیں بھیجا ذکر کیا جاتا ہے تو کس دلیری اور استقلال سے کہتے ہیں کہ وہ کیوں نہیں آتا ؟ کس نے روک رکھا ہے ؟ اب یہاں فرماتا ہے کہ ان کی یہ سب باتیں ہماری دنیاوی نعمت اور راحت کی وجہ سے ہیں اور ان پر کچھ موقوف نہیں بجز ایمانداروں اور نیکوں کے انسان کا عموماً یہ دستور ہے کہ ولئن اذقنا الخ جب ہم اس کو اپنی نعمت و راحت دے کرلیتے ہیں تو ناامید اور ناشکر ہو کر طرح طرح کی بیہودہ باتیں بکنے لگتے ہیں اور جو سختی کے بعد راحت دیتے ہیں تو اپنے پہلے دنوں کو بھول جاتے اور اس کے نشہ میں پھول جاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ میری سختی کا زمانہ گیا اب دوبارہ نہ آئے گا اور خوب اتراتے ہیں۔ چونکہ عالم حسی اور اسی کے لذائذ اور شہوات ہی پر یہ عیش ہے لذائذِ روحانی اور عالم جاودانی سے غافل ہے یہیں کی کامیابی کو سعادت عظمیٰ سمجھ کر اس پر اتراتا اور عالم آخرت کی تکذیب کرتا اور منکر ہو کر خدا سے مقابلہ کا دعویٰ کرتا اور خم ٹھونک کر اس کے عذاب کا خواستگار ہوتا ہے اور جو کہیں مصیبت آگئی تو اس محرومی کو سخت محرومی اور عذاب اور نکال حقیقی جان کر ناامید اور ناشکر ہوجاتا ہے۔ الغرض ذرا سی نعمت (کیونکہ اذقنا یعنی چکھانا فرمایا ہے پیٹ بھر کردینا تو عالم باقی میں ہوگا اگر یہاں ہوتا تو جانے حضرت انسان کیا کرتے) پر اتراتے اور باغی بن جاتے ہیں ٗ شکر نہیں کرتے۔ رسولوں سے مقابلہ عذاب کی خواستگاری جتلاتے ہیں اور ذرا سی مصیبت میں صبر نہیں کرتے مگر جو ایمان لائے اور نیک کام کرتے ہیں وہ ایسے نہیں وہ نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر کرتے ہیں کیونکہ ان کو مقصود بالذات اس عالم فانی کے نعماء نہیں بلکہ وہ عالم سو ان کو وہاں مغفرت اور اجر عظیم ہے اور چونکہ وہ اس نعمت دنیا کے نشہ میں بہت سی ایسی باتیں پیغمبر ﷺ کے مقابلہ میں کرتے تھے جن سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوتا تھا۔ کبھی یوم موعود کا وقت پوچھا کرتے تھے جیسا کہ گذرا اور کبھی آنحضرت ﷺ سے تمسخر اور عناد کی راہ سے یہ کہتے تھے ہم تجھے جب مانیں گے جب تو مکہ کے پہاڑوں کو سونے کا کر دے گا یا تیرے ساتھ کوئی آسمان سے فرشتہ اگر تیرے برحق ہونے کی گواہی دے گا۔ ان یقولوا لولا انزل علیہ کنز او جاء معہ ملک اور جب تو ایسا نہ کرسکے تو ہمارے بتوں کی مذمت نہ کر۔ ان رنج آمیز باتوں سے بمقتضائِ بشریت یہ خیال آتا ہوگا کہ ایسے بیہودوں کے سامنے توحید و تلقینِ آخرت کا بیان کرنا قرآن اور وحی پر قہقہہ اڑوانا ہے اس لئے آنحضرت ﷺ کو تسلی دے کر ان کے فرض منصبی پر مستحکم کیا جاتا ہے بقولہ فلعلک تارک بعض مایوحی الیک الخ کہ کیا آپ ان کی ان بیہودہ باتوں سے دل تنگ ہو کر بعض احکام (تحقیرِ بت وغیرہ) چھوڑ بیٹھیں گے ؟ نہیں ایسا نہ کرو۔ آپ کا کام صرف اندیشہ ناک باتوں سے مطلع کردینا ہے انما انت نذیر رہا ہدایت پر لانا اور حسب خواہش معجزات کا صادر کرنا وہ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے واللّٰہ علی کل شیء وکیل۔ ام یقولون افتراہ چونکہ وہ قرآن مجید کے بھی منکر تھے اور اس کو منجانب اللہ بھی نہیں کہتے تھے ان کے جواب میں فرماتا ہے قل فاتوا بعشر سور الخ کہ ان سے کہہ دو اگر یہ اللہ کا کلام نہیں تو پھر محمد ﷺ میں تم سے زیادہ کون سے اسباب فصاحت و بلاغت جمع ہیں بلکہ وہ ان باتوں میں تم سے بدرجہا کم ہیں سو تم ایسی دس سورتیں تو بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن معبودوں کو پوجتے ہو سب سے مدد بھی لے لو۔ پھر تم جب ایسا نہ کرسکو تو یقین کرلو کہ یہ بشر کا کلام نہیں بلکہ اللہ علام کا جس نے اس میں دنیا و آخرت کے علوم کا دریا بہا دیا ہے انما انزل بعلم اللّٰہ اور اس سے یہ بھی جان لو کہ تمہارے معبود جو اس کام میں عاجز رہ گئے معبود نہیں بس عالم وجود میں صرف معبود تو ایک اللہ ہی ہے وان لا الٰہ الا ھو پھر اب بھی مانتے ہو یا کہ ضد میں پڑے رہو گے اس وقت کے کفار ایک یہ بھی حجت پیش کیا کرتے تھے کہ اتباع قرآن و اسلام کی کیا ضرورت ہے ؟ مسافروں کو کھانا کھلانا ‘ یتیم کی پرورش کرنا ‘ بھوکوں کی خبر گیری کرنا ‘ رستوں پر کنوئیں کھدوانا ‘ سایہ دار درخت لگانا ‘ بہت سے نیک کام ہم کرتے ہیں اور ان کا مقبول ہونا بھی ثابت ہے کہ ہم ایسے کاموں سے دنیا میں پھلتے پھولتے ہیں۔ اولاد و مال میں برکت امن و تندرستی نصیب ہوتی ہے سو یہی بات کافی ہے اس کا جواب دیتا ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا الخ کہ یہ لوگ عالم آخرت پر تو کچھ نظر رکھتے ہی نہیں ان کاموں سے ان کی غرض حیات الدنیا اور اس کی زینت کثرت اولاد و مال ہوتی ہے سو ان کا بدلہ پورا پورا ہم ان کو یہیں دے دیتے ہیں۔ اب رہا دار آخرت سو اس کے تو وہ منکر ہیں اور نیز وہاں کے لائق اعمال ایمان و اخلاص ان کو نصیب نہیں کیونکہ ان چیزوں کے معلم الٰہی پیغمبر کا وہ اتباع نہیں کرتے صرف عقل بغیر مدد الہام کچھ کام نہیں کرسکتی سو اس لئے وہاں ان کے لئے آتش جہنم ہے اور یہ دنیا کا عمل جو ریا اور غرض حصول دنیا پر مبنی تھا سب نکما ہوجاوے گا اس میں ریاکاروں کے لئے سخت چشم نمائی ہے۔ احادیث صحیحہ میں بھی ریاکاری کی نماز اور تلاوت قرآن ‘ درس و تدریس علوم اسلامیہ ‘ جہاد و صدقات کا باطل ہونا اور آخرت میں حرمانی و پریشانی اٹھانا بکثرت وارد ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا کامیاب ہونا دار آخرت میں بیان فرماتا ہے کہ جو اسلام کی سیدھی سڑک پر چلتے ہیں افمن کان علی بینۃ الخ ان آیات میں یہود کی طرف بھی خطاب ہے اور ان کو ان سلیم الطبع یہود سے مقابلہ کیا جاتا ہے جو اسلام میں داخل ہوگئے تھے یا ان کا قلبی میلان تھا۔ مقابلہ اور موازنہ کی تقریر یہ ہے کہ بھلا وہ شخص کہ جن کے پاس اسلام قبول کرنے کے لئے یہ تین دلیلیں ہیں اور اسی سبب سے وہ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں ان منکروں کے برابر ہوسکتے ہیں جو اور قبائل یہود و نصاریٰ میں سے بےدلیل قرآن کا انکار کرکے جہنم میں گھر بناتے ہیں ہرگز برابر نہیں اور وہ تین دلیل یہ ہیں : (1) علی بینۃ کہ خدائی دلیل پر قائم ہیں۔ وہ کیا ہے ؟ نور فطرت دل کی آنکھ جو حق و باطل میں تمیز کرتی ہے اور جب وہ قرآن اور اسلام کے اصول و فروع میں نظر کرتی ہے تو اس کو خلاف عقل نہیں پاتی۔ اس کی ذاتی صداقت و نورانی اصول پر فریفتہ ہوجاتی ہے۔ (2) یتلوہ شاہد منہ خدا کا گواہ بھی ان کے روبرو شہادت دے رہا ہے وہ کون پیغمبر (علیہ السلام) جس کی صورت و سیرت اس کے شاہد ہونے پر آپ واضح دلیل ہے یا جبرئیل فرشتہ جس نے ظاہر ہو کر بارہا شہادت دی اور تصدیق کی ہے۔ (3) ومن قبلہ کتاب موسیٰ الخ اس سے پہلے کی موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب توریت جس کے اصول اور قرآن کے اصول میں سرمو بھی فرق نہیں اور اس میں بہت سی اس کے برحق ہونے کی پشین گوئیاں بھی ہیں۔ پھر ان تین دلائل کے بعد جو خواہ مخواہ راستباز کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کر رہے ہوں اس کو نہ مانے یہ اس کی بدبختی ہے اور اس کا مقام جہنم ابدی کا مقتضٰی ہے۔ ان دلائل کے بعد آنحضرت ﷺ کو مخاطب بنا کر اور ہر ایک صاحب عقل سلیم سے ارشاد ہوتا ہے کہ اس سے یعنی قرآن و اسلام سے شک میں نہ رہنا چاہیے۔ یہ آفتاب کی طرح روشن اور برحق ہے مگر اس پر بھی بدبخت ایمان نہیں لاتے۔ توریت کو امام یعنی پیشوا اور رحمت فرمایا سو کتاب الٰہی میں یہ دونوں وصف ظاہر ہیں۔
Ayahs 11:20–24

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ زمین پر بھی ہمارے قابو سے باہر نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلہ میں ان کا کوئی حمایتی تھا ان کو دو چند عذاب دیا جائے گا وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھ سکتے تھے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

انہوں نے خود اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال دیا اور جو کچھ جھوٹ باندھتے تھے

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

وہ سب کھویا گیا (آخرت میں) بیشک یہی لوگ آخرت میں زیادہ زیاں کار ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

وہ جو ایمان لائے اور نیک کام کئے اور اپنے رب کے آگے عاجزی کرتے رہے وہی جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہا کریں گے۔

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دونوں فریق کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک اندھا اور بہرہ ہو (کفار) اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا (مومن) کیا دونوں کا حال برابر ہے۔ پھر تم کیوں نہیں سمجھتے ؟

ترکیب : یضاعف جملہ مستانفہ ہے ماکانوا میں تین وجہ ہیں اول یہ کہ نافیہ ہے والثانی مصدریہ۔ وفیہ مافیہ والثالث بمعنی الذی لاجرم الخ اس میں دو قول ہیں۔ اول یہ کہ لا کلام سابق کے رد کے لئے ای لیس الامر کمازعموا جرم فعل ضمیر اس میں مضمر اس کی فاعل وانہم الخ جملہ محل نصب میں دوم لا جرم بمعنی حق بمنزلہ ایک کلمہ کے انہم جملہ محل رفع میں فاعل ہو کر۔ تفسیر : کفار مکہ کی عادت تھی کہ وہ طرح طرح کے شبہات وارد کیا کرتے تھے۔ کبھی نئے نئے معجزات طلب کیا کرتے ٗ کبھی قرآن مجید کا انکار کرتے تھے۔ کبھی اپنے پرانے ڈھکوسلوں کو خدا کی طرف منسوب کرتے تھے کہ ان بتوں کی پرستش کا اسی نے ہم کو حکم دیا ہے۔ اسی نے ان کو اپنے کارخانہ قضاء و قدر کا مختارِ کل کیا ہے اسی کے حکم سے ہم بعض چیزوں کو حلال بعض کو حرام قرار دیتے ہیں۔ چونکہ یہ سب باتیں بےبنیاد اور خدا تعالیٰ پر ناحق کا بہتان تھا اس لئے ان کے جواب میں فرماتا ہے ومن اظلم ممن افترٰی کہ اس سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے پھر اولئک یعرضون الخ میں خدا تعالیٰ کی عدالت میں ان کا پیش کیا جانا اور گواہوں کا ان کی تکذیب کرنا بیان فرماتا ہے (اشہاد جمع شاہد کہ صاحب و اصحاب اور جمع شہید کشریف و اشراف گواہوں سے مراد مجاہد کے نزدیک وہ ملائکہ ہیں جو اعمال لکھتے تھے قتادہ اور مقاتل کے نزدیک عامۃ الناس مراد ہیں جیسا کہ کہتے ہیں یہ بات علی رؤس الاشہاد ہوئی اور مفسرین کے نزدیک انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں) پھر جب عدالتِ آسمانی میں ان کا جھوٹ ثابت ہوجاوے گا تو اعلان کردیا جاویگا کہ الا لعنۃ اللّٰہ الخ جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہو۔ اس کے بعد ان کے کچھ اوصاف و حالات بیان فرماتا ہے کہ اور لوگ بھی ان اوصاف سے دور رہیں (1) یہ کہ وہ آپ تو گمراہ ہیں ہی دوسروں کو بھی اللہ کے رستہ سے روکتے ہیں (2) اس راہ الٰہی میں شبہات پیدا کرکے کجی نکالنا چاہتے ہیں یبغونہا عوجا جیسا کہ آج کل پادری نئے نئے رسالے اور کتابیں طبع کرتے ہیں کہ جن میں اسلام کی ہجو اور اس میں نکتہ چینیاں کرتے ہیں پھر عورتوں کے ذریعہ سے زنانہ سکول قائم کرکے پردہ نشین عورتوں پر بھی جال مارتے ہیں (3) یہ کہ آخرت کے منکر ہیں (4) اولئک الخ یہ لوگ اپنے اسباب و مال کے زور میں اور اپنی کامیابیوں کے نشہ میں آکر یہ نہ سمجھیں کہ خدا کے قبضہ قدرت سے باہر ہوگئے۔ اس نے عذاب بھیجنے میں جو دیر کر رکھی ہے کسی مصلحت اور 1 ؎ الاخبات ھو الخشوع والخضوع وھو ماخوذ من الخبیث والارض الطمئنۃ فاذا یقدی بالی فمعنا بالاطمینان اخبت الیہ ای اطمکن الیہ اذا مقیدی بالعام فمعناہ الخشوع احبت لہ ای خشع الہ 12۔ عبد الحق اپنے حلم کی وجہ سے کر رکھی ہے (5) خدا کے مقابلہ میں ان کا کوئی فرضی معبود جس کو وہ پوجتے ہیں اس کے عذاب سے بچا نہیں سکتا۔ چناچہ جب آپڑتی ہے تو کوئی دیوی دیوتا اس کا ہاتھ نہیں روکتا (6) ان کو دو چند عذاب ہوگا گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کا (7) نہ حق سن سکتے تھے نہ دیکھ سکتے تھے یعنی ان کے تعصب نے ان کے سمع و بصر باطنی کو بیکار کردیا لاکھ دلائل پیش کرو مگر پرانی لکیر کے فقیر ہیں بھلا کسی کی کب مانتے ہیں (8) یہ لوگ زیاں کار ہیں۔ آخرت میں ان کے یہ فرضی ڈھکوسلے کھولے جائیں گے نہ مسیح (علیہ السلام) کی الوہیت و تثلیث و کفار پر ایمان لانا نجات دے گا نہ گائے کی دم پکڑ کے (نرک) جہنم سے پار ہوں گے نہ اور کسی کی نذر و نیاز کام آئے گی۔ اس کے بعد اہل ایمان اور نیک لوگوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ وہ ہمیشہ جنت میں رہا کریں گے پھر ان دونوں فریق یعنی اہل ایمان و کفار کا فرق ظاہر کرتا ہے کہ ایک فریق اندھا اور بہرہ۔ دوسرا دیکھنے اور سننے والا برابر ہوسکتے ہیں ؟ یعنی ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ پہلا کفار و مشرکین کا فریق اور دوسرا اہل ایمان اور نیکوں کا۔ 1 ؎ یعنی دل میں جس کی نسبت حکم ہوچکا کہ یہ دنیا میں ایمان نہیں لائے گا اس کے سوا ایمانداروں اور اپنے خاندان کو بھی کشتی میں سوار کرلے۔ 12 منہ بسم اللہ متعلق بارکیولمجراہا و مرساہا بضم المیم من اجریت وارسیت اسازنان وہما منصوبان علی الظرفیۃ اے وقت اجرائہا و ارسائھا و قری الاول بفتح المیم والثانی بضما و قریٔ بفتحھا و قری مجریہا و مرسیہا بلفظ میم الفاعل مجروری الحل علی انہما و صفان للہ و الرسوالثبات فی موج جمع موجبۃ کالجبال صفۃ الموج شبہا بالجبال فی تراکمہا و ارتقاعھا 12 منہ۔ ابعی من البلع ہو الشرب و تغیر الماء و منہ البالوعۃ وہی موضع یشرب الماء ریخیہ و منہ بلع الطعام اذا ازدروہ اقبعی الاقلاع الامساک و قیل من القلع یعنی الجذب و غیرض الماء اے نقص یقال غاض الماء و غضیۃ انا 12 اس آیت میں وقیل یا ارض ظالمین کما میں جو کچھ فصاحت و بلاغت کے اسرار ہیں ان سے منکرین کے بھی ہوش جاتے رہے تھے لطف یہ کہ اس آیت کے 19 کلمات اور ان میں 21 اقسام بدیع موجود ہیں مناسبت ‘ مطابقت ‘ مجاز ‘ استعارہ ‘ اشارہ ‘ تمثیل ‘ ارداف ‘ تعلیل ‘ احتر اس ‘ صحۃ ‘ المتقسیم عند المتاخرین ‘ ایضاح معاذ علی حسن حق اکار تسہیم تہذیب۔ حسن بیان۔ تمکین۔ تحنین مقابلہ ذم وصف۔ اس کی شرح میں علماء نے بڑی بری نادر تصانیف کی ہیں علامہ ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی نے اپنی تفسیر میں اور سید محمد ابن اسماعیل ابن صلاح نے اپنے رسالہ نہرالمورد فی تفسیر آیہ ہود میں بہت کچھ لکھا ہے اور بشرط فرصت اردو میں ہم بھی ایک جداگانہ کتاب لکھ کردکھائیں گے۔ 12 منہ