11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 11:62–66

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے صالح ! اس سے پہلے تو ہمیں تجھ پر (بڑی) امید تھی کیا تم ہم کو ان معبودوں کے پوجنے سے منع کرتے ہو کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں اور جس طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے تو ہم بڑے شک میں ہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح نے کہا اے قوم ! دیکھو تو سہی اگر میں اپنے رب کی طرف سے کوئی کھلی دلیل رکھتا ہوں اور اس کی طرف سے میرے پاس رحمت (نبوت) بھی آچکی ہو پھر اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو مجھے اس سے کون بچا سکتا ہے پھر تم مجھے نقصان کے سوا اور کیا دے سکو گے۔

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے قوم ! تمہارے لئے یہ اللہ کی اونٹنی ایک نشانی ہے پس اس کو خدا کی زمین پر پڑی چرتی پھرنے دو اور اس کو برائی سے چھونا بھی نہیں ورنہ تم کو فوراً کوئی آفت آلے گی۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

پھر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تب صالح نے کہا (اچھا) تین روز تک اپنے گھروں میں اور مزے کرلو۔ یہ وعدہ ہے جو جھوٹا ہونے والا نہیں۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے صالح کو اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی مہربانی سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی نجات دی۔ بیشک آپ کا رب ہی قوی ‘ زبردست ہے

تفسیر : تیسرا واقعہ قوم ثمود اور ان کے پیغمبر حضرت صالح (علیہ السلام) کا یاد دلاتا ہے جو حادثہ قوم عاد کے بعد عرب کے شمالی حصہ میں گذرا ہے۔ اس کی تشریح بھی پہلے ہوچکی اس قوم کی یادگار بھی کچھ کچھ آنحضرت ﷺ کے عہد تک باقی تھی جو ان کے حال زار پر آنسو بہاتی اور دیکھنے والوں کو اللہ کے غضب سے ڈراتی تھی۔ ولقد جاءت یہ چوتھا ہیبت ناک واقعہ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حال میں شامل کرکے بیان فرماتا ہے۔ اس کی بھی تشریح ہوچکی مگر ہم کسی قدر الفاظِ آیات کی تفسیر کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھر کے باہر کھڑے تھے کہ کئی شخص مسافرانہ شکل میں نمودار ہوئے۔ حضرت کی عادت مہمان نوازی کی تھی گھر میں لائے ‘ کھانے کو ایک بچھڑا تلا ہوا آگے لا کے رکھ دیا مگر وہ فرشتے تھے انہوں نے کھانے سے ہاتھ روکا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ڈرے کہ کہیں دشمن تو نہیں کیونکہ اس عہد میں جس کا کھانا پانی کھالیتے تھے اس کے ساتھ بدی نہیں کرتے تھے۔ آج کل کا سا دستور نہ تھا کہ ساری عمرممنون احسان ہو کر بدی کرنا اور بھی ہنرمندی سمجھتے ہیں۔ اس سے سمجھ گئے کہ ان کا ارادہ کچھ بد ہے۔ فرشتے بھی سمجھ گئے کہ حضرت کو بمقتضائے بشریت خوف ہوا۔ پھر تو انہوں نے اصل ماجرا کھول دیا کہ حضرت ہم فرشتے ہیں۔ قوم لوط کے ہلاک کرنے کو بھیجے گئے ہیں۔ آپ کے دشمن ‘ بدخواہ نہیں۔ حضرت کی بیوی بھی وہیں کھڑی تھیں۔ اپنی ہلاکی سے نجات پانے کی خبر سن کر خوشی میں آکر ہنس پڑیں جیسا کہ عورتوں کی عادت ہے۔ اس موقع پر فرشتوں نے وہ بات بھی ان سے کہہ دی کہ جس کی خوشخبری کے لیے ان کے پاس بھیجے گئے تھے یعنی فرزند پیدا ہونے کی بشارت دی کہ تمہارے ہاں اسحاق نام بیٹا ہوگا پھر اس کا بیٹا یعقوب ہوگا۔ یہ بڑھیا ہوچکی تھیں تعجب کرنے لگیں کہ بھلا اس عمر میں اولاد ہوگی ؟ فرشتوں نے کہا خدا قادر ہے کچھ تعجب نہ کرو۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کا خوف دور ہوا تو اپنے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کی بابت فکر ہوئی۔ فرشتوں سے سفارش کرنی شروع کی۔ انہوں نے کہا لوط کو کچھ خوف نہیں مگر قوم کی ہلاکی ٹھہر چکی۔ آپ اس میں کچھ گفتگو نہ کریں۔ باقی صاف ہے۔
Ayahs 11:67–70

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور ستمگاروں کو سخت آواز نے آلیا 2 ؎ پھر تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا کہ ان میں کبھی رہے ہی نہ تھے۔ دیکھو قوم ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا تھا دیکھو پھٹکار ہے (قومِ ) ثمود پر

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتہ ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے۔ کہنے لگے سلام اس نے بھی کہا سلام پھر کچھ بھی دیر نہ لگی کہ ابراہیم ایک تلا ہوا بچھڑا لے آئے (مہمانوں کے کھانے کو)

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

پھر جبکہ ابراہیم نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس تک نہیں پہنچتے۔ تو ان کو اجنبی سمجھے اور ان سے ڈرے۔ وہ بولے خوف نہ کرو ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں

2 ؎ زلزلہ کی ہیبت ناک آواز تھی یا فرشتہ کی۔ 12 منہ
Ayahs 11:71–83

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور اس کی بیوی کھڑی ہوئی تھی تب (خوشی آکر) ہنس پڑی پھر اس کو ہم نے اسحاق کی اور اس کے بعد یعقوب کے پیدا ہونے کی بشارت دی۔

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

وہ بولی اے کمبخت ! کیا میں بڑھیا ہو کر جنوں گی اور یہ میرا خاوند بھی بڈھا ہے یہ تو ایک عجیب بات ہے۔

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

وہ بولے کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے اے گھر والی تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں بیشک وہ ستائش کے قابل بڑا بزرگ ہے۔

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جبکہ ابراہیم کے دل سے خوف دور ہوگیا اور ان کے پاس (بیٹا پیدا ہونے کی) خوشخبری آچکی تو ہم سے قوم لوط کے معاملہ میں جھگڑنے لگے۔

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم بڑے برد بار ‘ نرم دل ‘ خدا کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

(فرشتوں نے) کہا اے ابراہیم اس خیال کو چھوڑو کیونکہ آپ کے رب کا حکم آچکا اور ان پر تو عذاب آکر ہی رہے گا ٗ ٹلنے والا نہیں

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جبکہ ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط کے پاس پہنچے تو ان کے آنے سے رنجیدہ اور تنگدل ہوئے اور (دل میں) کہنے لگے کہ یہ تو مصیبت کا دن ہے

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور ان کی قوم ان کے پاس دوڑ پڑی (اور گھر گھیر لیا) اور یہ لوگ پہلے ہی سے برے کام کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا اے قوم ! یہ میری بیٹیاں موجود ہیں تمہارے لئے پاکیزہ ہیں (ان سے نکاح کرلو) سو اللہ سے ڈرو اور مجھ کو میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو کیا تم میں کوئی بھی بھلا آدمی نہیں۔

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ بولے تجھے معلوم ہے کہ ہم کو تیری بیٹیوں سے کچھ کام نہیں اور ہمارے ارادہ سے تم تو خوب واقف ہو،

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط نے کہا اے کاش ! تمہارے مقابلہ کا مجھے زور ہوتا یا میں کسی زبردست آسرے کی پناہ جا لیتا۔

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا اے لوط ! ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ یہ تم تک ہرگز نہ پہنچ سکیں گے۔ پس تم اپنے گھر کے لوگوں کو کچھ رات رہے لے نکلو اور تم میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر تمہاری بیوی (وہ نہ چلے گی) اس پر بھی وہی بلا آنے والی ہے جو ان پر آوے گی ان کا وعدہ صبح ہے کیا صبح قریب نہیں

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پھر جبکہ ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے وہ بستیاں الٹ دیں اور ان پر پتھر برسائے جو کھنگرنہ بتہ تھے

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر آپ کے رب کی طرف سے نشان لگے ہوئے تھے اور یہ بستیاں ظالموں سے کچھ بھی دور نہیں ہیں۔

1 ؎ الضحک ہوالسرور و انبساط الوجہ دھذا قول الجمہور وقیل ضحکت بمعنی حاضت العرب یقول اضحکت الارنب اذا خاصت وانکرہ اکثر اہل اللغۃ یعقوب بالنصب مفعول بشرنا وقری بالجرومنعہ الفراء وقری بالرفع علی الابتدا وخبرہ الظرف الذیمی قبلہ اہل البیت نصبہ علی المدح اذا الاختصاص وفیہ دلیل علی ان ازواج الرجل من اہل بیتہ۔ 12 منہ
Ayahs 11:84–93

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) اس نے کہا اے قوم ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور پیمانہ اور تول کم نہ کرو۔ میں تم کو آسودہ پاتا ہوں ( کمی کرنے کی ضرورت نہیں) اور مجھے اس دن کے عذاب کا خوف ہے جو گھیر لے گا

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے قوم ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرکے دیا کرو اور لوگوں سے خیانت نہ کیا کرو اور نہ زمین پر فساد مچاتے پھرا کرو۔

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اللہ کا دیا جو باقی بچ رہے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم کو ایمان ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں،

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

وہ بولے اے شعیب ! کیا تیری نماز ہی تجھے حکم دیا کرتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ بیٹھیں کہ جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے یا اپنے مالوں میں اپنی خواہش کے موافق معاملہ نہ کریں تو ہی تو ایک بردبار سدھرا ہوا ہے۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

اس نے کہا اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک سیدھے طریق پر ہوں اور اس نے مجھے نیک روزی دی ہے (تو تمہارا کہا کیونکر مان لوں) میں یہ نہیں چاہتا کہ جس کام سے میں تم کو منع کروں پھر میں اس کے خلاف کروں میں تو جہاں تک چاہتا ہوں اصلاح کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور میرا توفیق دیا جانا تو اللہ ہی سے ہے کہ جس پر میں نے بھروسہ کرلیا اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے قوم کہیں میری ضد سے ایسا جرم نہ کر بیٹھنا کہ جس سے وہی مصیبت نہ آپڑے جیسی کہ قوم نوح اور قوم ہود یا قوم صالح پر پڑگئی تھی اور لوط کی قوم (کے کھنڈر) بھی تم سے کچھ دور نہیں

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور اللہ سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو البتہ میرا رب مہربان پیار کرنے والا ہے۔

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

وہ بولے اے شعیب ! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور تجھ کو تو ہم اپنے لوگوں میں کمزور پاتے ہیں اور اگر تیرے بھائی بند نہ ہوتے تو ہم تجھے سنگسار کرچکے ہوتے اور تو کچھ ہم پر غالب بھی نہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

اس نے کہا اے قوم ! کیا میرے کنبے کا دباؤ تم پر اللہ سے زیادہ ہے۔ اس کو تو تم نے پس پشت ڈال دیا بیشک جو کچھ تم کر رہے ہو (سب) میرے رب کے قابو میں ہے

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے قوم ! اپنے گھر بیٹھے کام کئے جاؤ میں بھی کر رہا ہوں تمہیں ابھی معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے اور انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں

تفسیر : اس کے بعد پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرماتا ہے جو اہل مدین کی طرف رسول بنا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کی عادت بت پرستی اور بدکاری کے علاوہ کم تولنا ‘ خیانت ‘ دغابازی کرنے کی بھی تھی جس کو وہ اپنے مال میں تصرف جائز سمجھ کر طعن کی راہ سے کہتے تھے کہ ایک آپ ہی تو بڑے اچھے شخص ہیں اور ان کی نماز پر طعن کرکے کہتے تھے کہ کیا آپ کی نماز ہم کو بت پرستی سے منع کرتی ہے ؟ باقی قصہ صاف ہے۔ یہ مدین وہی جگہ ہے کہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے بھاگ کر آئے تھے اور یہ وہی شعیب (علیہ السلام) ہیں کہ جن کی ایک صاحبزادی سے آپ کی شادی ہوئی تھی۔ یہیں آپ برسوں تک بکریاں چرایا کرتے تھے۔ وطن جاتے ہوئے یہیں کوہ حوریب کے قریب ایک درخت پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تجلی ہوئی اور نبوت ملی تھی۔ اس کے بعد چھٹا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بیان فرما کر سورة کو چند باتوں پر تمام فرماتا ہے۔ اول وکذلک اخذ ربک سے لے کر لاجل معدود تک انبیائِ سابقین کے قصہ بیان فرما کر ان کا نتیجہ بیان فرماتا ہے کہ ان بت پرستوں پر جو یہ بلا نازل ہوئی اور ان کی بستیاں غارت کردی گئیں۔ یہ کچھ انہیں کے ساتھ مخصوص نہ تھا بلکہ آیندہ جو ایسا کرے گا دنیا میں بھی ویسی سزا پاوے گا (اس میں عذاب آخرت سے ڈرنے والوں کے لئے نشانی اور عبرت ہے) اور پھر قیامت کا عذاب بھی ہے۔ پھر قیامت کی تین صفات ذکر فرماتا ہے۔ اول یہ کہ اس دن سب اولین وآخرین جمع ہوں گے۔ دوم یوم مشہود ابن عباس ( علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ اس میں سب حاضر ہوں گے دیگر مفسرین کہتے ہیں یہ معنی کہ ملائکہ اور انبیاء و صلحاء گواہی دیں گے۔ سوم مانؤخرہ الالاجل معدود کہ وہ ایک وقت معین تک ہٹائی گئی ہے کیونکہ دنیا کی فنا کا ایک زمانہ معین ہے آنے والی چیز گو کتنی ہی دور ہو مگر قریب ہے۔ دوم یوم یات سے لے کر عطائً غیر مجذوذ تک اس دن میں سعیدوں اور شقیوں کا جو حال ہوگا اس کو بیان فرماتا ہے مادامت السموات والارض اور الاماشاء ربک سے بعض علماء اسلام نے یہ بات سمجھی ہے کہ کفار ایک مدت تک سزا پا کر جہنم سے نکالے جائیں گے کیونکہ جرم متناہی کی سزا غیر متناہی انصاف سے بعید ہے مگر جمہور ہمیشگی کے قائل ہیں اور اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ وہاں کے آسمان و زمین بھی ہمیشہ رہیں گے اور مشیت اس کی نہ ہوگی کہ خلاصی پاویں گے گو مشیت کا اختیار ہے اور خالدین اور ابدا الفاظ بھی قرآن میں آچکے ہیں۔ جرم کفر متناہی نہیں اس سے بڑھ کر اور کیا جرم متناہی ہے اور نیز غیر متناہی عمر بھی پاتا تو کفر نہ چھوڑتا۔ سوم غلاتک سے لے کر غیر منقوص تک انبیاء اور ان کی اقوام کے قصص اور آخرت میں سعد اء والشقیاء کے درجات بیان فرما کر آنحضرت ﷺ کو ان کی قوم کا حال بتلاتا ہے کہ ان جاہلوں کے انکار سے کچھ دل میں شک نہ لاویں (خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے اور مراد اور لوگ ہیں) یہ جہاں اپنے باپ دادا کی تقلید سے بت پرستی کرتے ہیں کوئی عقل و فہم سے یہ بات نہیں ہے تک اصل میں تکن تھا کثرت استعمال سے فصحائے عرب نون کو حذف کردیتے ہیں وانا لموفوھم نصیبہم کے یہ معنی کہ ان کی بت پرستی اور بدکاری پر فراغ دستی دیکھ کر تعجب نہ کرو۔ دنیا میں جو کچھ ان کے حصہ میں لکھ دیا وہ پورا ملنا ہے یا یہ معنی کہ آخرت میں اپنے عذاب کا پورا حصہ پاویں گے۔