11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 11:94–109

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جبکہ ہمارا حکم آگیا تو ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور ستمگاروں کو کڑک 1 ؎ نے آلیا پھر تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا کہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے دیکھو پھٹکار ہے مدین پر جس طرح کہ قوم ثمود پر پھٹکار پڑی

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی آیتیں اور سند واضح کے ساتھ

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ سو وہ تو فرعون کے تابع ہوگئے اور فرعون کا حکم ٹھیک بھی نہ تھا

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا ٗ پھر ان کو آگ میں لا ڈالے گا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے کہ جس میں جا پڑیں گے

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور اپنے پیچھے اس جہان میں بھی لعنت چھوڑ گئے اور قیامت کے دن کے لئے بھی اور برا ہی انعام ہے جو انہیں دیا جائے گا

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ چند بستیوں کے حالات ہیں جنہیں ہم آپ کو سنا رہے ہیں کہ ان میں سے کچھ تو اب تک باقی ہیں اور کچھ اجڑی پڑی ہیں

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے تو ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں ہی نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا۔ پھر ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آئے جبکہ آپ کے رب کا حکم آپہنچا۔ اور ان معبودوں نے بجز ہلاکت کے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دیا

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور آپ کے رب کی ایسی ہی گرفت ہوا کرتی ہے جبکہ وہ ظالم بستیوں کو پکڑتا ہے اس کی گرفت سخت رنج دہندہ ہے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

البتہ اس بیان میں اس کے لئے جو عذاب آخرت سے ڈرتا ہے بڑی نشانی ہے۔ یہ ایک ایسا دن ہوگا کہ جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور یہ ایک دن ہوگا کہ جس میں سب حاضر کئے جاویں گے

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور اس کو جو ہم نے ہٹا رکھا ہے تو ایک وقت معین تک جس دن وہ آجائے گا

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

تو کوئی شخص کسی سے اس کی اجازت بغیر کلام بھی نہ کرسکے گا۔ پھر کچھ ان میں سے بدبخت اور کچھ نیک بخت ہوں گے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

پھر جو بد ہوں گے تو وہ آگ میں ہوں گے کہ جہاں ان کو چیخنا اور دھاڑنا ہوگا۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

اس میں ہمیشہ رہا کریں گے جب تک کہ آسمان اور زمین رہیں گے (دوزخ میں رہیں گے) مگر جبکہ اللہ چاہے البتہ آپ کا رب جو چاہتا ہے کر گذرتا ہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو نیک ہیں سو وہ جنت میں ہمیشہ رہا کریں گے جب تک کہ آسمان اور زمین قائم رہیں گے مگر جب کہ آپ کا رب چاہے (یہ ہے) بےانتہا عنایت۔

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

پھر آپ ان چیزوں سے کہ جنہیں وہ پوجتے ہیں شک میں نہ رہنا (کسی کو بھی خدائی میں) یہ لوگ کچھ نہیں پوجتے مگر اسی طرح سے کہ جس طرح سے اس سے پہلے ان کے باپ دادا پوجتے تھے اور ہم ان کو عذاب کا پورا (پورا) حصہ دے کر رہیں گے

1 ؎ زلزلہ کی آواز تھی بعض کہتے ہیں فرشتہ کی چیخ تھی جس سے کلیجے پھٹ کے دفعۃً مرگئے۔ 12 منہ
Ayahs 11:110–113

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کتاب دی تھی پھر تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات مقرر نہ ہوچکی ہوتی (یہ فیصلہ قیامت میں ہوگا) تو ان میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور یہ لوگ بھی اس سے (قرآن کی طرف سے) ایسے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے ان کو خبطی کر رکھا ہے

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

۔ اور بیشک ہر ایک کو آپ کا رب ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اس کو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

پھر جیسا آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ بھی اور وہ جو آپ کے ساتھ کفر چھوڑ کر خدا کی طرف رجوع ہوئے ہیں اس پر قائم رہیں اور حد سے نہ بڑھیں۔ تم جو کچھ کر رہے ہو اس کو وہ دیکھ رہا ہے

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور مسلمانو ! ستمگاروں کی طرف التفات بھی نہ کرنا ورنہ تم کو بھی آگ چھو جائے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حمایتی نہ ہوگا نہ پھر تمہاری مدد کی جائے گی

چہارم ولقد اتینا موسیٓ الکتب سے لے کر انہ بما یعملون خبیر تک کفار عرب کا جس طرح انکار توحید پر اصرار بیان فرمایا تھا اسی طرح انکار نبوت آنحضرت ﷺ پر اصرار کا ذکر کرتا ہے کہ یہ نئی بات نہیں۔ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کیونکہ عرصہ ہوا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی تھی سو اس کو کب سب نے تسلیم کرلیا تھا بلکہ اس میں اختلاف ہوا کہ بنی اسرائیل نے مانا دیگر اقوام نے انکار کیا اس میں یہ بھی رمز ہے کہ خود بنی اسرائیل کا اس کی تعمیل اور عدم تعمیل حکم میں اور نیز خود نفس توریت میں بھی اختلاف ہو کر بیشمار فرقے پیدا ہوگئے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر ہمارے ہاں سے یہ بات مقرر نہ ہوچکی ہوتی کہ ہم قیامت میں ان کا فیصلہ چکا دیں گے تو باہم فیصلہ کردیتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر آخرت میں عذاب دینا اور دنیا میں بسانا نوشتہ ازلی نہ ٹھہر گیا ہوتا تو منکروں کا فیصلہ کردیتے۔ پنجم۔ پہلی امتوں اور ان کے اختلاف کا ذکر فرما کر فاستقم کما امرت سے ثم لاتنصرون تک آنحضرت ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں کو اوّلاً دین پر ثابت قدم رہنے کی تاکید فرماتا ہے۔ یہ ایک ایسا جامع کلمہ ہے کہ جس میں عقائد سے لے کر اعمال ‘ معاملات و عبادات مکارم اخلاق تک سب آگئے۔ (2) ولا تطغوا یعنی اس راہ راست سے انحراف نہ کرنا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ معنی کہ اللہ کے لئے فروتنی اور تواضع اختیار کرو کسی سے تکبر نہ کرو اس میں یہ بھی مراد ہے کہ قرآن اور اسلام کی حدود مقررہ سے تجاوز نہ کرو۔ (3) ولاترکنوا الرکون ہوالسکون الی الشیء والمیل الیہ بالمحبۃ ونقیضہ النفور) یعنی بےدینوں ناانصافوں کی دنیا میں شان و شوکت دیکھ کر ان کی طرف دل مائل بھی نہ کرنا محققین کے نزدیک اس سے مراد ان کے ظلم اور مذہبیہ رسوم کو پسند کرنا اور ان میں شامل ہونا ہے نہ دنیاوی امور۔ (کبیر)
Ayahs 11:114–115

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور اے نبی ! دن کے اول سرے اور آخر سرے میں اور کسی قدر رات گئے نماز پڑھا کرو کیونکہ نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ یاد رکھنے والوں کے لئے نصیحت ہے

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کرتے رہو کیونکہ اللہ نیکوں کا بدلہ ضائع نہیں کرتا

ششم۔ واقم الصلوٰۃ سے لے کر لایضیع اجرالمحسنین تک آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کو نماز کی تاکید فرماتا ہے جو واستقم کما امرت کا ایک فرد کامل ہے۔ اس آیت میں نماز قائم کرنے کا تین وقتوں میں حکم دیتا ہے۔ اول و دوم طرفی النہار دن کے دونوں سروں پر یعنی شروع دن میں اور اخیر دن میں عرب کی رائے پر دن کا شروع صبح صادق سے لیا جاتا ہے اور دن ڈھلنے سے آخر دن شمار کرتے ہیں جس طرح ہماری زبان میں پچھلا پہر کہتے ہیں۔ پس اول دن میں نماز قائم کرنے سے مراد صبح کی نماز ہے اور آخر دن سے ظہر کی اور عصر کی۔ امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں کہ صبح کی نماز اندھیرے میں نہ پڑھے بلکہ جب خوب روشنی ہوجاوے آفتاب نکلنے سے پیشتر اور اسی طرح عصر کی نماز اخیر دن میں یعنی جب سایہ اصلی کے سوا ہر چیز کا سایہ دو چند ہوجاوے۔ امام فخر رازی (رح) اس مقام پر قول امام ابوحنیفہ (رح) کی اس آیت سے یوں تائید کرتے ہیں کہ اگرچہ طرفی النہار کے حقیقی معنی آنِ طلوعِ آفتاب و غروب آفتاب ہے وہ تو مراد ہے نہیں بلکہ مجازی معنی کہ طلوع و غروب سے ملا ہوا وقت پس ابوحنیفہ کے قول کے بموجب کہ تنویر صبح اور تاخیر عصر افضل ہے معنی مجازی معنی حقیقی سے اقرب ہیں اور جہاں تک مجاز حقیقت سے اقرب لیا جاوے بہتر ہوتا ہے (اذا عرفت ہذا کانت الآیۃ دلیلا علی قول ابی حنیفہ (رح) الخ) سوم زلفا من اللیل لیث کہتے ہیں زلفۃ رات کے پہلے حصہ کو کہتے ہیں جس کی جمع زلف ہے من از لفہ اذا قربہ اور زلف کو بضم زو سکون ل بھی پڑھا ہے۔ چونکہ زلف جمع ہے یعنی رات کے حصے تو بقاعدہ جمع اقل مرتبہ تین حصے لئے جاویں گے۔ پس اول حصہ میں جو غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے نماز مغرب اور دوسرے حصے سے جو شفق غائب ہونے سے شروع ہوتا ہے نماز عشاء مراد ہوگی اور تیسرے حصے میں جس کی انتہاء صبح صادق تک ہے وتر مراد ہوں گے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک وتر بھی واجب ہیں اس آیت سے ان کے اس قول کی بھی تائید ہوتی ہے اور علماء صرف مغرب اور عشاء مراد لیتے ہیں۔ اس کے بعد فرماتا ہے ان الحسنات یذھبن السیآت کہ یہ نماز جو بڑی نیکی ہے انسان کے گناہ دور کردیتی ہے۔ بخاری نے ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ کسی شخص نے کسی عورت کا بوسہ لے لیا تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر اپنے گناہ کا اظہار اور مغفرت کی درخواست کی۔ آنحضرت ﷺ پر یہ آیت اقم الصلوٰۃ نازل ہوئی۔ اس شخص نے پوچھا کہ یا حضرت کیا یہ حکم خاص میرے لئے ہے ؟ آپ نے فرمایا میری امت میں جو کوئی اس پر عمل کرے سب کے لئے ہے۔ حسنات سے ابن عباس ؓ نے پنجگانہ نماز مراد لی ہے کہ اس سے صغائر معاف ہوجاتے ہیں مجاہد کہتے ہیں حسنات سے مراد یہ کہنا ہے سبحان اللہ والحمد اللہ والا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر۔ ہفتم۔ فلولاکان سے لے کر کانوا مجرمین تک امم ماضیہ کے قصے بیان فرما کر یہ بات بتلاتا ہے کہ ان کی اس تباہی کے دو سبب تھے (1) یہ کہ ان میں ایسے لوگ نہ رہے تھے کہ جو ان کو ملک میں فساد کرنے سے منع کرتے اولو بقیۃ اے اولو فضل و خیر (وسمی الفضل والجود بقیتہ) پھر فرمایا الا قلیلا یہ استثناء متصل نہیں بلکہ منقطع ہے لکن قلیلا ممن انجینا من القرون نہوا عن الفسادوسائرھم تارکون للنہی یعنی تھوڑے ایسے بھی تھے جو فساد سے منع کرتے تھے (2) واتبع الذین کہ ظالم اپنی جسمانی خواہشوں اور کروفرِّدنیاوی میں ہمہ تن غرق ہوگئے تھے۔
Ayahs 11:116–122

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

۔ پھر تم سے پہلے قرنوں 2 ؎ میں سے کچھ ایسے عمدہ لوگ بھی تو ہوئے تھے کہ جو زمین پر فساد کرنے سے منع کرتے مگر کچھ تھوڑے لوگ کہ جن کو ہم نے ان میں سے بچا لیا تھا ایسے ہی تھے اور جن لوگوں نے نافرمانی کی تھی وہ تو انہیں لذتوں کے پیچھے پڑے رہ گئے جو ان کو دی گئی تھیں اور وہ تھے یہی بدکردار

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور آپ کا رب ایسا بھی نہیں کہ ناحق بستیوں کو ہلاک کر ڈالے حالانکہ وہاں کے لوگ نیک ہوں

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر آپ کا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی گروہ کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جس پر آپ کے رب نے رحم کیا اور ان کو اسی لئے پیدا بھی کیا ہے اور آپ کے رب کا یہ فرمودہ پورا ہو کر رہے گا کہ میں جن اور آدمیوں دونوں سے جہنم بھر دوں گا

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) ہم رسولوں کے حالات آپ سے اس لئے بیان کرتے رہتے ہیں کہ ان سے آپ کے دل کو مضبوط کردیں اور ان واقعات کے ضمن میں آپ کے پاس حق بات بھی پہنچ جائے گی اور ایمانداروں کے لئے نصیحت اور یادگار بھی آئے گی

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور بےایمانوں سے کہہ دو کہ اپنی جگہ پر تم عمل کئے جاو ہم بھی عمل کر رہے ہیں

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

اور منتظر رہو ہم بھی انتظار کر رہے ہیں

2 ؎ قرن زمانہ یعنی پہلی امتوں میں سے اچھے لوگ کم اٹھے اور پہلی امتوں میں سے وہی امتیں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں۔ 12 منہ
Ayah 11:123

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ بات اللہ ہی جانتا ہے اور سب کام اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ پس اسی کی عبادت کرو اس پر توکل کرتے رہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے آپ کا رب بیخبر نہیں ہے۔

ہشتم۔ وللّٰہ غیب السموات والارض الخ میں سورة کو نہایت مطالب عالیہ پر تمام کیا۔ اول ٗ اللہ تعالیٰ کی صفات کمالیہ کا اظہار کیا۔ للّٰہ غیب السموات والارض میں اس کے علم کا کہ کوئی چیز آسمان و زمین کی اس پر مخفی نہیں مطیع اور عاصی کو بھی جانتا ہے والیہ یرجع الامر کلہ میں قدرت کاملہ کا اظہار ہے اور یہی دونوں ایسی صفت ہیں کہ جن سے عبادت کی جاتی ہے پھر جب یہ دونوں خاص اسی کا حصہ ہیں تو پھر اس کے سوا اور کسی کو نافع و ضار سمجھنا عبث اور فضول بلکہ نامعقول ہے۔ یہ پہلا مرتبہ تصحیح عقائد کا تھا۔ دوم فاعبدہ کہ اس کی عبادت کیا کر۔ عبادت ایک وسیع المعنی لفظ ہے مال سے ‘ جان سے ‘ روح سے ‘ اعضاء سے ‘ یہ دوسرا مرتبہ تقویٰ و طہارت کا ہے (سوم) توکل علیہ کہ اس کے سوا ہر چیز سے انقطاع کرکے ہر کاروبار میں اسی کا بھروسہ رکھے۔ اسباب کو اسباب جانے موثر حقیقی اور مسبب الاسباب پر نظر رکھے۔ یہ تیسرا مرتبہ معرفت و حقیقت کا ہے پس جب انسان ان تینوں مراتب کو حاصل کرکے کامل بن گیا تو پھر ایک مجمل عبارت میں اس کے لئے دار آخرت میں لذائذِ روحانیہ ملنے کی طرف اشارہ فرماتا ہے۔ وما ربک بغافل عما تعلمون کہ وہ تمہارے کام سے بیخبر نہیں ضرور جزاء و سزا دے گا۔ سبحان اللہ مبادی اور اوساط اور مقاطع میں کس خوبی کو ملحوظ رکھا ہے کہ جس کے ادراک میں ہزاروں لطف آتے ہیں۔