12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

یہ ہیں کھلی کتاب کی آیتیں

ترکیب : قرآانا مصدر موضع مفعول میں۔ یہ حال ہے ضمیر انزلنا و مفعول سے عرب یا اس کی صفت۔ احسن منصوب ہے مفعول نقص کا ہو کر بما مصدریہ ہذا مفعول ہے اوحینا کا قرآن نعت ہے یا بیان ہے۔ و ان کنت مخففہ ہے مثقلہ سے فیکیدوا جواب نہی۔ تفسیر : مفسرین کہتے ہیں کہ اس سورة کے نازل ہونے کا سبب یہ ہے کہ مکہ کے کفار سے یہود نے یہ کہلا بھیجا کہ محمد ﷺ جو عاد وثمود کے حالات بیان کرتا ہے سو یہ کچھ مشکل بات نہیں عرب کے مشہور واقعات میں سے ہیں ہاں اس سے یہ پوچھو کہ یعقوب کی اولاد مصر میں کیوں گئی تھی اور یوسف ( علیہ السلام) اور اس کے بھائیوں میں کیا معاملہ گزرا اور یوسف کیونکر مصر میں پہنچا ؟ یہ باتیں بجز مورخین اہل کتاب کے ان پڑھ آدمی خصوصاً مکہ کا رہنے والا کہ جہاں ان باتوں سے کان بھی آشنا نہیں ہرگز نہ بتلا سکے گا۔ چناچہ اہل مکہ نے حضرت سے سوال کیا جس پر یہ سورة نازل ہوئی جس کو یہود نے سن کر دل میں اقرار کیا الہام کے قائل ہوئے مگر زبان سے کب اقرار کرتے تھے۔ الٰر سے لے کر لمن الغافلین تک بطور تمہید کے یہ فرماتا ہے (1) یہ یعنی سورة یوسف ( علیہ السلام) کتاب مبین یعنی قرآن کی آیات ہیں یعنی منزل من اللہ ہیں قرآن کو مبین کہنا گویا یہ بات بتلانا ہے کہ زبان الہام ہے یہی غیب کی باتیں بیان کر رہا ہے (2) قرآن کو جو اے اہل مکہ ہم نے عربی زبان میں صاف صاف طور پر نازل کیا تو تمہارے سمجھنے کے لیے اس کو ہلکی بات نہ سمجھنا چاہیے (3) اس قرآن کے وحی کرنے میں اے محمد ﷺ تم پر اچھا قصہ وحی کرتے ہیں حالانکہ تم اس سے پہلے واقف بھی نہ تھے۔ اس قصہ کو احسن القصص اس لیے کہا کہ اس میں بہت سی عبرتناک باتیں ہیں یعقوب کا مصیبت کا بعد راحت کا منہ دیکھنا۔ بھائیوں کے حسد کی وجہ سے یوسف کا محکوم ہونا عصمت عفت کی بدولت یوسف کو مرتبہ صدیقیت حاصل ہونا اذ قال سے قصہ شروع کرتا ہے کہ یوسف ( علیہ السلام) نے خواب میں گیارہ ستارے اور چاند سورج کو اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا۔ باپ سمجھ گئے کہ اس کو ایک روز یہ دن نصیب ہوگا۔
Ayah 12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں تمہارے سمجھنے کے لیے نازل کیا۔

ترکیب : قرآنا مصدر موضع مفعول میں یہ حال ہے ضمیر انزلنا مفعول سے عرب یا اس کی صفت احسن منصوب ہے مفعول نقص کا ہو کر بما مصدر ھذا مفعول ہے اوحینا کا قرآن لغت ہے یا بیان ہے وان کنت مخففہ مثقلہ سے فیکیدوا جواب نہی۔
Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

آپ کو اس قرآن کے ذریعہ جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے ہم سب سے بہتر قصہ سناتے ہیں اور البتہ اس سے پہلے تو آپ کو خبر بھی نہ تھی۔

تفسیر : شان نزول : مفسرین کہتے ہیں کہ اس سورة کے نازل ہونے کا سبب یہ ہے کہ مکہ کے کفار سے یہود نے یہ کہلا بھیجا کہ محمد ﷺ جو عادو ثمود کے حالات بیان کرتا ہے سو یہ کچھ مشکل بات نہیں عرب کہ مشہور واقعات میں سے ہیں ہاں اس سے یہ پوچھو کہ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد مصر میں کیوں گئی تھی اور یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائیوں میں کیا معاملہ گزرا اور یوسف (علیہ السلام) کیونکر مصر میں پہنچا ؟ یہ باتیں بجز مورخین اہل کتاب کے ان پڑھ آدمی خصوصاً مکہ کا رہنے والا کہ جہاں ان باتوں سے کان بھی آشنا نہیں ہرگز نہ بتلا سکے گا۔ چناچہ اہل مکہ نے حضرت ﷺ سے سوال کیا جس پر یہ سورة نازل ہوئی جس کو یہود نے سن کر دل میں اقرار کیا الہام کے قائل ہوئے مگر زبان سے کب اقرار کرتے تھے۔ الرٰ سے لے کر الغافلین تک بطور تمہید کے یہ فرماتا ہے : (1) یہ یعنی سورة یوسف کتاب مبین یعنی قرآن کی آیات ہیں یعنی منزل من اللہ ہیں قرآن کو مبین کہنا گویا یہ بات بتانا ہے کہ زبان الہام ہی یہی غیب کی باتیں بیان کر رہا ہے (2) قرآن کو اے اہل مکہ ہم نے عربی زبان میں صاف صاف طور پر نازل کیا تو تمہارے سمجھنے کے لیے اس کو ہلکی بات بھیجنا چاہی۔ (3) اس قرآن کے وحی کرنے میں اے محمد ﷺ تم پر اچھا قصہ وحی کرتے ہیں حالانکہ تم اس سے پہلے واقف بھی نہ تھے۔ اس قصہ کو احسن القصص اس لیے کہا کہ اس میں بہت سی عبرتناک باتیں ہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) کا مصیبت کے بعد راحت کا منہ دیکھنا ‘ بھائیوں کے حسد کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) کا محکوم ہونا ‘ عصمت عفت کی بدولت یوسف (علیہ السلام) کو مرتبہ صدیقیت حاصل ہونا۔ اذقال سے قصہ شروع کرتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے خواب میں گیارہ ستارے اور چاند سورج کو اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا۔ باپ سمجھ گیا کہ اس کو ایک روز یہ دن نصیب ہوگا کہ اس کے گیارہ بھائی اور ماں باپ سجدہ 1 ؎ کریں گے۔ ستاروں سے بھائی اور چاند اور سورج سے ماں باپ کی طرف اشارہ تھا یہ سمجھ کر بھائیوں کے آگے بیان کرنے سے منع کیا کہ سوتیلے بھائی ہیں حسد میں آ کر اس کے ساتھ کچھ بدی نہ کریں۔
Ayahs 12:4–5

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جبکہ یوسف نے اپنے باپ سے یہ کہا کہ ابا جان میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو اپنے لیے (خواب میں) سجدہ کرتے دیکھا ہے

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

اس نے کہا بیٹا اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ بیان کرنا۔ ورنہ وہ تیرے لیے کوئی نہ کوئی فریب بنا دیں گے کس لیے کہ شیطان تو انسان کا صریح دشمن ہے

یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے : واضح ہو کہ حاران سے کوچ کرکے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملک کنعان میں آرہے تھے ان کی بودوباش خیموں میں تھی حبرون کے پاس رہا کیے اسحاق (علیہ السلام) بھی یہیں رہے ان کے بیٹے عیص شعیر پہاڑ میں جا بسے اور یعقوب (علیہ السلام) اپنے باپ کی وصیت سے حاران کی طرف اپنے حقیقی ماموں نحور کے بیٹے لابن کے ہاں گئے ان کی دو بیٹیاں تھیں بڑی لیاہ جس کی آنکھیں چوندھی تھیں چھوٹی راحل یاراحیل جو بہت خوبصورت تھی یعقوب (علیہ السلام) اس پر عاشق ہوئے۔ سات برس لابن کی بکریاں اس لیے چراتے پھرے آخر نکاح ہوا تو صبح کو اپنے پاس لیاہ کو دیکھا ماموں سے شکایت کی اس نے ہفتہ بھر کے بعد راحیل سے بھی نکاح کردیا لیاہ کے پیٹ سے روبن پھر سفون پھر لاوی پھر یہود اور اشکار اور زبلون پیدا ہوئے اور لیاہ کے ساتھ جو جہیز میں زلفہ لونڈی دی گئی تھی اس سے جد اور آشر پیدا ہوئے اور راحیل سے یوسف (علیہ السلام) جو نہایت خوبصورت تھے پھر بنیامین کہ جن کو جَن کر پھر راحیل نے انتقال کیا اور اس کے ساتھ جو بلہ لونڈی جہیز میں دی گئی تھی اس سے دان اور تفتالی پیدا ہوئے بیس برس کے بعد یعقوب (علیہ السلام) اپنی بیویوں اور لڑکوں کو اور گلہ کو لے کر اپنے وطن ملک کنعان میں آئے اور ایک گائوں میں آرہے جس کا نام سیلون تھا۔ جو سنجل اور نابلس کے درمیان تھا۔ نابلس جس کو پہلے سکم کہتے تھے بیت المقدس سے تیس میل اور سرنا سے سات میل ہے۔ اس کے قریب دو ڈیڑھ میل کے فاصلہ پر وہ کنواں ہے جس میں بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو ڈالا تھا اور اسی کے قریب ایک احاطہ بنا ہوا ہے جس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے باپ یعقوب (علیہ السلام) کے مزار مقدس ہیں یوسف (علیہ السلام) سترہ برس کی عمر میں تھے کہ بھائیوں کے ساتھ بھیڑ بکریاں چراتے تھے چونکہ راحیل متوفیہ کی یاد گار تھے یعقوب (علیہ السلام) ان کو سب سے زیادہ چاہتے تھے جس پر بھائیوں کو رشک تھا۔ انہیں دنوں میں یوسف (علیہ السلام) نے یہ خواب دیکھا باوجود منع کرنے کے بھائیوں سے کہہ دیا اور بھی ان کی آتش رشک میں تیل ڈال دیا۔ نابلس کی 1 ؎ یا تو اس عہد میں غیر اللہ کے لئے سجدہ تعظیم درست تھا یا سجدہ کے معنی جھکنا اور تعظیم کرنا ہیں۔ 12 منہ وادی میں یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے بھیڑ بکریاں گائے بیل چرانے کے لیے گئے تھے وہاں جاکر قتل کرنے کا ارادہ کیا مگر سب میں بڑے بھائی روبن نے منع کیا کہ خونریزی نہ کرو بلکہ اس کو کنویں میں ڈال دو جو بیابان میں ہے اس کی وہ بوقلموں قبا اتارلی جو باپ نے پہنائی تھی اور اس کو اندھے کنویں میں ڈال دیا کہ جس میں ایک بوند بھی پانی نہ تھا یہ کھانا کھانے بیٹھے تھے کہ اسماعیلیوں کا ایک قافلہ آتے دکھائی دیا جو جلعاد سے گرم مصالح اور روغن بلسان اور مر اونٹوں پر لادے ہوئے مصر جاتا تھا قافلہ نے آکر ڈیرا کیا اور اسی کنویں پر پانی لینے کسی کو بھیجا یوسف (علیہ السلام) نے ڈول تھام لیا اس نے دیکھا تو ایک لڑکا معلوم ہوا۔ قافلہ میں خبر کی۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو نکالا اپنے اسباب میں چھپا لیا۔ روبن نے کنویں پر جا کر دیکھا تو یوسف (علیہ السلام) کو نہ پایا معلوم ہوا کہ اسماعیلی قافلے والوں نے نکال لیا۔ پھر یہوداہ کی صلاح سے سب نے متفق ہو کر یوسف (علیہ السلام) کو قافلے والوں کے ہاتھ بیس روپیہ کو بیچ دیا اور اس کے قبا پر بکری کے بچے کا خون لگا کر یعقوب (علیہ السلام) کے پاس لے گئے کہ بھیڑئیے 1 ؎ نے پھاڑ کھایا تب یعقوب (علیہ السلام) اس کے لیے رویا کیے اور کہا کہ میں اس کے غم میں روتا ہوا گور میں اتروں گا۔ قافلے والوں نے مصر میں جا کر نوطیفاریا نوتیمار کے ہاتھ فروخت کردیا جو فرعون کا ایک امیر اور لشکر کا سردار تھا جس کو عزیز کہتے تھے۔ عزیز نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے گھر اور تمام کارخانوں کا مختار کردیا اور اپنی بیوی کو اس کی عزت و توقیر کرنے کی تاکید کی۔ یوسف (علیہ السلام) خوبصورت اور نو پیکر تھے عزیز کی بیوی (زلیخا) ان پر فریفتہ ہوگئی اور اپنے ساتھ ہم بستر ہونے کی خواستگار ہوئی۔ آخر جب یوسف (علیہ السلام) نہ مانے ایک روز تخلیہ پاکر یوسف (علیہ السلام) کا پیراہن پکڑ کر کہنے لگی کہ میرے ساتھ ہم بستر ہو وہ اپنا پیرا ہن اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگے پیچھے یہ بھی بھاگی اور باہر سے آتے ہوئے دونوں کو عزیز دروازہ پر مل گیا۔ زلیخا نے الٹا یوسف (علیہ السلام) پر دعویٰ کیا کہ مجھ سے برا ارادہ رکھتا تھا میں چلائی تو پیراہن میرے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگ نکلا یوسف (علیہ السلام) نے انکار کیا تب زلیخا کے خاندان میں سے ایک شخص نے یہ کہا کہ اگر کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہے تو یہ سچی اور اگر پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو وہ سچا جب پیچھے سے پھٹا دیکھا تو عزیز سمجھ گیا کہ اسی کی چالاکی ہے مگر اس بات کا شہر کی عورتوں میں چرچا ہوگیا۔ زلیخا کو بھی خبر ملی اس نے دعوت کرکے ان عورتوں کو بلایا اور ترنج کاٹنے کے لیے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دی اور یوسف (علیہ السلام) کو بنا سنوار کر چھپا رکھا تھا اور کہا کہ میں اس کو بلاتی ہوں اس وقت تم کھانا شروع کرنا۔ جب یوسف (علیہ السلام) برآمد ہوئے تو سب دیکھ کر حیرت میں آگئیں اور بجائے ترنج کے اپنے ہاتھ چھری سے کاٹ لیے (یعنی زخمی کرلیے) ۔ تب زلیخا نے تعریضا ً کہا کہ یہی تو وہ ہے کہ جس کی نسبت تم مجھے ملامت کرتی تھیں۔ تب زلیخا نے پھر کہا کہ اگر میرا کہنا نہ مانے گا تو یہ ذلیل ہوگا اور قید میں جائے گا یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ مجھے قید بہتر ہے۔ باوجود یکہ یوسف (علیہ السلام) کی صداقت اور عصمت بہت نشانیوں سے دیکھ چکے تھے مگر دفع طعن کے لیے یوسف (علیہ السلام) کو ناحق قید خانہ بھیجا۔ اس کے ساتھ دو شخص اور بھی اتفاقاً قید خانہ میں بھیجے گئے ایک فرعون کا ساقی اور دوسرا نان بزوں کا داروغہ۔ ایک رات دونوں نے خواب دیکھا یوسف (علیہ السلام) سے ساقی نے بیان کیا کہ میں نے ایک انگور کا درخت دیکھا اس کی تین شاخیں نکلیں اور اس کے پھل پھول آئے اور اس کے گچھوں میں انگور پکے اور فرعون کا پیالہ میرے ہاتھ میں تھا میں نے اس میں انگوروں کو نچوڑا اور فرعون کے ہاتھ میں دیا۔ دوسرے نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ میرے سر پر تین ٹوکرے روٹیوں کے ہیں فرعون کے لیے اوپر کے ٹوکرے میں سے پرندے کھا رہے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے تعبیر بیان کرنے سے پہلے ان کو دین حق کی تعلیم کی اور پیشتر بطور تمہید کے یہ فرمایا لایا تیکما طعام الخ کہ خواب کی تعبیر پر کیا موقوف ہے اللہ نے مجھے اور بہت سی باتوں پر مطلع کیا ہے ادنیٰ مرتبہ یہ کہ جو تم کو قید میں کھانا ہر روز دیا جاتا ہے میں اس کے آنے سے پہلے اس کا حل تمہیں بیان کردوں گا کہ وہ کس قسم کا اور کتنا ہوگا۔ (تاویل الشیء مایرجع الیہ وہو الذی یول الیہ آخرذ لک الامر یعنی جس بات پر کوئی شے آخر الامر آ ٹھہرتی ہے اس کو تاویل کہتے ہیں اس میں خواب کی تعبیر بھی آگئی) یا یوں کہو کہ یوسف (علیہ السلام) نے یہ فرمایا کہ کھانا آنے سے پہلے میں تمہا رے خواب کی تعبیر بیان کرچکا ہوں گا۔ 1 ؎ اس جنگل میں بھیڑیئے بہت تھے۔ 12 منہ اس نصیحت کرنے میں دیر ہونے سے نہ گھبرائو۔ پھر ذلک مما علمنی سے لے کر لایعلمون تک اپنا خاندانی موحد ہونا اور بت پرستوں کے مذہب سے الگ ہونا اور خدائے واحد کا وحدہ لاشریک ہونا اور خدا پرستوں پر اس کے افضال وانعام کا صادر ہونا بیان فرما کر یا صاحبی السجن سے ان کے لیے تعبیر شروع کی کہ تین خوشوں سے مراد تین روز ہیں سو تین روز کے بعد تو فرعون کو شراب پلانے کے عہدہ پر مقرر ہوگا اور دوسرے سے کہا تین ٹوکروں سے مراد تین دن ہیں۔ تین دن کے بعد تو سولی دیا جاوے گا پرندے تیرے سر کا بھیجا کھاویں گے۔ چناچہ تین روز کے بعد فرعون نے جشن سالگرہ کیا اور ان دونوں کی روبکاری ہوئی۔ ساقی کو پھر اسی عہدہ پر مقرر کیا اور خانساماں کو اس کے جرم پر پھانسی دی گئی ساقی سے یوسف (علیہ السلام) نے کہہ دیا تھا کہ فرعون سے میرا حال کہنا کہ ایک غریب پردیسی کہ جس کو بھائیوں نے غلام بنا کر بیچ دیا اور مصر میں تیرے عزیز کے ہاتھ آکر بکا عزیز کی جورو نے اس پر تہمت لگا کے قید میں ڈلوا رکھا ہے مگر ساقی جا کر ایسے مست ہوئے کہ کہنا ہی بھول گئے۔ پھر فرعون نے دوسرے سال کے آخر دنوں میں ایک خواب دیکھا کہ وہ لب دریا کھڑا ہے کہ دریا سے سات موٹی اور خوبصورت گائیں نکلیں اور نیستان میں چرنے لگیں اور کیا دیکھتا ہے کہ ان کے بعد اور سات گائے بد شکل اور دبلی دریا سے نکلیں اور گھاٹ پر آکر کھڑی ہوئیں اور ان موٹی اور خوبصورت گایوں کو کھا گئیں۔ تب فرعون جاگا اور پھر سو گیا دوبارہ پھر دیکھا کہ سبز اور اناج کی بھری ہوئی سات بالیں ایک ٹہنی میں ظاہر ہوئیں اور ان کے بعد سات بالیں پتلی اور خشک نکلیں اور ان بالوں کو کھائیں۔ صبح کو فرعون جاگا اور اس کا جی گھبرایا مصر کے تمام دانشمندوں کو بلایا کسی سے تعبیر 1 ؎ نہ دی گئی تب اس ساقی کو یاد آیا فرعون سے بیان کیا کہ جب میں اور خانساماں قید میں ڈالے گئے تھے وہاں ایک ہی رات ہم دونوں نے خواب 2 ؎ دیکھا تھا اور ایک عبری جوان بھی وہاں قید تھا اس نے ہمارے خوابوں کی تعبیر دی اور جیسی تعبیر دی تھی ویسا ہی ہوا۔ مجھے اپنے منصب پر قائم کیا اس کو پھانسی دی گئی۔ مجھے حکم ہو تو اس سے پوچھ کر آئوں۔ ساقی یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا اور فرعون کا خواب بیان کیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے تعبیر دی کہ یہ ایک ہی خواب ہے خدا تعالیٰ نے اس کو دوبارہ یوں دکھایا کہ یہ بات ہونے والی ہے خدا کے ہاں سے مقرر ہوچکی وہ اچھی سات گائے اور سات ہری بالیں سات سال ارزانی اور سستے سمے کے ہیں اور وہ سات دبلی اور بدشکل گائے اور سات خشک بالیں قحط کے سال ہیں مصر میں سات برس تک نہایت ارزانی اور پیداواری ہوگی پھر اس کے بعد سات برس سخت قحط پڑے گا۔ فرعون کو چاہیے کہ ایک ہوشیار آدمی مصر کی زمین پر مختار مقرر کرے کہ وہ تحصیلدار مقرر کرے اور ارزانی کے سالوں میں ضروری خوراک چھوڑ کر ایک ذخیرہ جمع کریں فذروہ فی سنبلہ الا قلیلا مما تاکلون اور پھر قحط کے سالوں میں اس سب ذخیرہ کو کھالیا جائے گا مگر قدرے قلیل جو احتیاط سے رکھا ہوگا بچ رہے گا۔ پھر اس کے بعد بارش ہوگی اور تاکستان سے لوگ شیرہ نچوڑیں گے (یہ جملہ خواب سے نہیں بلکہ الہام سے فرمایا ہوگا) ۔ ساقی نے آ کر فرعون سے بیان کیا اس نے سن کر بہت پسند کیا اور تمام ارکان دولت نے تحسین کی۔ فرعون مشتاق ملاقات ہوا چوبدار شاہی حضرت (علیہ السلام) کو لینے آئے آپ نے فرمایا پیشتر میرے اس جرم کی تحقیق کرلو کہ جس میں مجھ کو قید کیا گیا ہے ان عورتوں سے تحقیق فرما لیا جاوے کہ جن کے روبرو عزیز کی بیوی نے مجھے بلا لیا تھا اور ان کے ہاتھ چھری سے کٹ گئے تھے۔ فرعون نے ان سے دریافت کیا سب نے اور خود عزیز کی بیوی نے ان کی پاک دامنی کا اقرار کیا (وما ابری نفسی) الخ حضرت (علیہ السلام) نے کسر نفسی کے طور پر فرمایا کہ میں اس بات سے کچھ اپنا تفاخر نہیں چاہتا بندہ بشر ہے نفس ساتھ لگا ہوا ہے اللہ ہی جس کو چاہتا ہے اس کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ 1 ؎ خدا تعالیٰ نے انسان کی روح یا نفس ناطقہ میں جو جوہر نورانی ہے یہ قدرت عطا کی ہے کہ وہ عالم بالا کی طرف صعود کرکے وہاں کے بعض واقعات پر مطلع ہوجاتا ہے لیکن قوت خیالیہ ان مطالب کو مخلوط کردیتی ہے۔ تعبیر دینے والا اس خلط کو علیحدہ کرکے اصل مطلب بتلا دیتا ہے۔ 12 منہ 2 ؎ رویاء کو حدیث میں نبوت کا ایک جزء قرار دیا ہے اور قرآن اور برہان اس کے حق ہونے پر شاہد عدل ہے۔ 12 منہ جب آپ فرعون کے پاس گئے اور فرعون نے حسن صورت اور خدا داد لیاقت باتوں سے دریافت کی تو شیفتہ ہوگیا اور کہا کہ خدا نے تجھ کو ازبس بینائی دی ہے سو کوئی تجھ سا عاقل اور دانشور نہیں ہے میں نے تجھ کو اپنی تمام رعیت پر اختیار دیا بجز تخت نشینی کے اور کوئی مرتبہ میں نے تجھ سے باقی نہیں رکھا اور اپنی انگشتری اس کے ہاتھ میں پہنا دی (اس وقت آپ کی عمر تیس برس کی تھی) حضرت (علیہ السلام) نے وہ کام جو محاصل ملک سے متعلق تھا اپنے لیے لے کر قحط آیندہ کا تعبیر کے موافق انتظام کیا اور مصر کی سرزمین پر حاکم اور متصرف ہوگئے یہ ان کی ایمانداری کا دنیاوی نتیجہ تھا اور اجر آخرت اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ جب قحط کے سال شروع ہوئے اور تمام ملکوں میں لوگ بھوکے مرنے لگے مصریوں نے فرعون سے کہا اس نے کہا یوسف (علیہ السلام) کے پاس جاؤ جو وہ کہے کرو یوسف (علیہ السلام) نے لوگوں کے ہاتھ غلہ فروخت کرنا شروع کردیا جب یعقوب (علیہ السلام) نے دیکھا کہ مصر میں غلہ ہے تو بیٹوں سے کہا تم کیوں ایک دوسرے کا منہ تکتے ہو مصر سے غلہ خرید کر لاؤ کہ ہم کھا کر جئیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے دس بھائی غلہ مول لینے مصر آئے پر یعقوب (علیہ السلام) نے بن یامین کو ان کے ساتھ نہ بھیجا کہ مباد ایہ تلف ہوجائے۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آئے اس کے آگے خم ہوئے۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو دیکھا اور انہیں پہچان گیا پر اس نے اپنے آپ کو ناواقف بنایا اور پوچھا تم کون ہو کہاں سے آئے ہو ؟ جاسوس معلوم ہوتے ہو اس ملک کی خراب حالت دریافت کرنے کے لیے آئے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں اے خدا وند ! تیرے غلام کنعان کے رہنے والے ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں بارہ تھے ایک وہیں ہے ‘ ایک کھو گیا۔ ہم دس غلہ مول لینے آئے ہیں۔ پھر یوسف (علیہ السلام) نے کہا تم اپنے میں سے ایک کو یہیں رہنے دو اور باقی غلہ لے کر جاؤ اور اپنے چھوٹے بھائی کو میرے پاس لاؤ اگر سچے ہو ورنہ جاسوس ہو۔ انہوں نے آپس میں کہا کہ سچ ہے ہم اپنے بھائی کی بابت مجرم ہیں اس نے ہماری منت اور زاری کی ہم نے اس کی خستہ دلی دیکھی اور اس کی نہ سنی اس لیے یہ مصیبت ہم پر پڑی تب روبن نے کہا کہ کیا میں تمہیں نہ کہتا تھا کہ اس بچے پر ظلم نہ کرو مگر تم نے نہ سنی آج اس کے خون کی باز پرس تم سے ہوئی اور وہ یہ نہ جانتے تھے کہ یوسف (علیہ السلام) ان کی باتیں سمجھتا ہے کیونکہ ان کے درمیان ایک ترجمان تھا یہ باتیں سن کر یوسف (علیہ السلام) کا دل بھر آیا اور کنارے جاکر پھوٹ پھوٹ کر رویا اور پھر ان کے پاس آکر باتیں کرنے لگا اور شمعون کو ان کے سامنے مقید کرلیا اور حکم دیا کہ ان کے بورے غلہ سے بھر دیں اور ہر شخص کی نقدی اس کے بورے میں رکھ کر پھیر دیں اور انہیں سفر کی خورش بھی دے دیں۔ ان کے ساتھ بہت سا سلوک کرکے ان کو کنعان کی طرف روانہ کیا اور بنیامین کے لانے کی بہت تاکید وتہدید کی وہ جب کنعان میں آئے تو تمام ماجرا اپنے باپ سے بیان کیا۔ وہ سن کر مغموم ہوا۔ اس نے کہا میرا بیٹا تمہارے ساتھ نہ جائے گا اس کا بھائی مرگیا وہ اکیلا رہ گیا اگر اس پر کچھ رستہ میں آفت ہو تو تم میرے بڑھاپے کے بالوں کو غم کے ساتھ گور میں اتارو گے۔ پھر جب وہ غلہ کھاچکے تو ان کے باپ نے کہا پھر جاؤ اور غلہ لاؤ یہوداہ نے کہا کہ اس مرد نے ہم سے بتاکید کہا ہے کہ اپنے بھائی کو ساتھ لانا ورنہ میرا منہ نہ دیکھنا اس کو ہمارے ساتھ کردیں تاکہ ہم جائیں اور غلہ لائیں کہ ہم اور تو اناج کھا کر جئیں اور میں اس کا ضامن ہوتا ہوں تو میرے ہاتھ سے اس کو طلب کیجیو۔ اگر تیرے پاس لا کر نہ بٹھائوں تو اس کا گناہ مجھ پر ابد تک ہے۔ آخر یعقوب (علیہ السلام) نے قسم واقرار دے کر بنیامین کو ساتھ کردیا اور وہ نقدی جو واپس آئی بوروں میں سے واپس ملی تھی اس کو بھی لے جانے کا حکم دیا اور کچھ میوے اور روغن بلسان اور شہد اور گرم مصالح ہدیہ کے طور پر ساتھ کیا اور کہا مصر کے ایک دروازہ سے نہ گھسنا اس خیال سے کہ وہ خوبصورت تھے کہیں نظر نہ لگ جائے مگر ساتھ اس کے یہ بھی کہہ دیا کہ اللہ کی قضاء وقدر کو کوئی تدبیر ٹال بھی نہیں سکتی اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اس بات کو خدا فرماتا ہے کہ یہ صرف یعقوب (علیہ السلام) کے دل کی شفقت پدری کے طور سے ایک خواہش تھی ورنہ وہ خدا پر متوکل اور ذو علم تھا۔ پھر جب وہ مصر پہنچے اور متفرق دروازوں سے یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے اور جو ہدیہ لائے تھے پیش کیا اور تعظیم کے لیے جھکے اور جو قیمت بوروں میں دھری چلی گئی تھی وہ بھی پیش کی یوسف (علیہ السلام) نے خیر و عافیت پوچھی اور کہا کہ تمہارا باپ اچھی طرح ہے وہ بوڑھا کہ جس کا ذکر تم نے مجھ سے کیا تھا ابھی تک زندہ ہے ؟ اور بنیامین کو دیکھ کر کہا کہ تمہارا چھوٹا بھائی یہی ہے۔ پھر کہا کہ اے میرے فرزند ! خدا تجھ پر مہربان ہے یوسف (علیہ السلام) کا دل بھر آیا باپ کا حال سن کر بھائی کو دیکھ کر وطن یاد کرکے دل قابو میں نہ رہا وہاں سے اٹھ کر ایک خلوتخانہ میں جا کر بہت روئے اور پھر منہ دھو کر ان کے پاس آئے اور کھانا کھلایا اور بھائی کو اپنے پاس جگہ دی بنیامین کو جدا بٹھایا تھا وہاں اس کے دل پر جو کچھ بھائی کا خیال آگیا یاد کرکے رونے لگا یوسف (علیہ السلام) نے گلے سے لپٹا لیا اور منہ سے برقع اٹھا دیا اور کہہ دیا کہ میں ہی یوسف ہوں پھر تو گلے لگ کر دونوں بھائی بڑی دیر تک روتے رہے اور بنیامین کو ساتھ رکھنے کی تدبیر کی کہ اپنا چاندی کا پیالہ اس کے بورے میں رکھوا دیا جب وہ سب غلہ لے کر روانہ ہوگئے تو پیچھے سے آدمی دوڑا آیا کہ تم ہمارا پیالہ چرا کے لے گئے ہو۔ انہوں نے انکار کیا اسباب کی تلاشی ہوئی بڑے بھائی کے اسباب سے شروع ہو کر بنیامین کی نوبت آئی اس میں وہ پیالہ نکل آیا وہ اقرار کرچکے تھے کہ جس کے اسباب میں سے نکلے اس کی سزا میں اس کو غلام بنا لیا جائے۔ یہ مصر کا قانون تھا۔ چونکہ انہیں کی منظور کی ہوئی بات تھی اس لیے بنیامین کے رکھنے کی تدبیر خدا تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کے دل میں القا کی اس میں عقلاً بھی کوئی قبح نہیں۔ یہوداہ چونکہ ضامنی دے کر بنیامین کو لائے تھے وہ اور ان کے ساتھ اور بھی یوسف (علیہ السلام) سے عرض کرنے لگے کہ ہمار بوڑھا باپ ہے وہ سن کر مرجائے گا اس کی جگہ ہم میں سے آپ ایک کو رکھ لیجیے اس سے پہلے اس کا بھائی یوسف بھی چوری کرچکا ہے (یا تو یوں ہی حسد میں اتہام لگایا یا اس سے مراد وہ بات ہے کہ راحیل اپنے باپ کے بت چرا لائی تھی جو یوسف (علیہ السلام) کی معرفت منگائے ہوں گے کیونکہ لڑکے ایسی ایسی چیزیں اٹھا لیا کرتے ہیں یا اس قصہ کی طرف اشارہ ہو جو مشہور ہے کہ ان کی پھوپھی انہیں چاہتی تھی۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا پٹکا جو تبر کاً چلا آتا تھا یوسف (علیہ السلام) کی کمر میں باندھ دیا تاکہ چوری کی علت میں ان کے دستور کے موافق انہیں کے پاس رہے) یوسف (علیہ السلام) نے کہا ایسا نہیں ہوسکتا پھر باہم انہوں نے کہا کہ اب کیا کرنا چاہیے بڑے بھائی روبن نے کہا میں تو یہاں سے نہیں جاسکتا تم اپنے باپ سے جا کر یہ سب ماجرا بیان کردو۔ بھائیوں نے آکر سب حال بیان کیا یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا یہ بھی تمہاری بنائی ہوئی کوئی بات ہے۔ پس بجز صبر کے اور کیا بن آتا ہے پھر ان سے الگ اپنے خیمہ میں بیٹھ کر زار زار رونے لگے کہ ہائے یوسف ! تجھ کو کہاں ڈھونڈوں ؟ اور غم کے مارے آنکھیں سفید ہوگئیں بینائی جاتی رہی مگر اس کے ساتھ یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف ( علیہ السلام) کے خواب سے کہ اس کو بھائی اور ماں باپ ایک روز سجدہ کریں گے یا الہام سے یہ امید تھی کہ ایک روز اللہ مجھے ان سے ملائے گا۔ واعلم من اللّٰہ مالا تعلمون میں اسی طرف اشارہ ہے۔ اس امید پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں سے کہا کہ جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو کیونکہ ناامیدی کافروں کی شان ہے پھر وہ مصر میں آئے اور آکر یوسف (علیہ السلام) سے اپنے باپ کا سلام اور درد آمیز پیام (کہ میں بوڑھا ہوں میرا ایک بیٹا تو پہلے جا چکا ہے جس کے غم میں میری آنکھیں سفید ہوگئیں اس کے چھوٹے بھائی کو دیکھ کر تسلی کرلیتا تھا اب اس کو آپ نے قید کرلیا مجھ پر رحم کھا کر اسے چھوڑ دیجیے ہم خاندان نبوت کے لوگ ہیں چوری ‘ بدکاری ہمارا پیشہ نہیں اور ہم پر مصیبت پڑی ہے) پہنچا کر نہایت عجز سے کہنے لگے کہ ہم مصیبت زدہ ہیں اور کھوٹے دام لے کر تیرے پاس آئے ہیں (کیونکہ کنعان کا سکہ مصر میں نہیں چلتا تھا) ہم کو غلہ عنایت کر اور صدقہ دے الخ یہ سن کر یوسف (علیہ السلام) کو ضبط نہ ہوسکا اور غیر لوگوں کو اپنے پاس سے دور کرکے اپنے بھائیوں سے کہا کہ تمہیں یاد ہے تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا تھا ؟ بھائیوں نے کہا کہ کیا آپ یوسف ہیں ؟ اس نے کہا ہاں تب تو ہر ایک دوسرے کے گلے لگ کر خوب روئے پھر بھائیوں نے شرمندگی کے مارے سر نیچا کرلیا اور اپنی خطا کا اقرار کرنے لگے۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو معاف کیا اور تسلی دی یہ خبر مصر میں اور فرعون کے پاس بھی پہنچی کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آئے ہیں فرعون نے کہا کہ اے یوسف اپنے گھرانے کو یہیں بلا لے میں ان کی عزت کروں گا۔ یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کو بڑے سامان کے ساتھ اپنا پیراہن دے کر روانہ کیا کہ میرے باپ کے منہ پر ڈال دو وہ بینا ہوجائے گا یا تو یہ ایک معجزہ تھا یا یہ کہو کہ آنکھیں بالکل نہیں گئی تھیں غم کے مارے ضعف بصر ہوگیا تھا جب پیراہن ڈالا تو یعقوب (علیہ السلام) کو خوشی ہوئی اور ضعف دور ہوگیا ‘ بینائی آگئی جیسا کہ توانائی آجاتی ہے اور یہ بھی کہا کہ اپنے تمام خاندان کو میرے پاس لے آؤ اور جب مصر سے یہ قافلہ چلا تو کئی منزل سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف (علیہ السلام) کے پیراہن کی خوشبو معلوم ہوئی یہ بھی ایک معجزہ تھا۔ یعقوب نے اپنے لوگوں سے کہا کہ آج تو مجھے یوسف کی بو آتی ہے۔ مگر تم مجھے دیوانہ کہو گے وہ کہنے لگے بخدا ! ہنوز آپ اپنی اسی پرانی دھن اور بلائے محبت میں گرفتار ہیں ابھی یوسف (علیہ السلام) آپ کے دل سے نہیں بھولا پھر جب کنعان میں وہ بشیر یعنی خوشخبری لانے والا سب سے پہلے آپہنچا (کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا یہوداہ پیراہن لایا تھا کیونکہ خون آلودہ پیراہن بھی انہیں کو دے کر غم سنانے کے لیے یعقوب (علیہ السلام) کے پاس بھیجا تھا) اور اس نے آکر پیراہن یعقوب (علیہ السلام) کے منہ پر ڈال دیا اور یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین کی خیر و عافیت اور یوسف (علیہ السلام) کا مصر میں جاہ و جلال بیان کیا (اس وقت یعقوب (علیہ السلام) پر شادی مرگ کا حال ہوگا) اس کے ڈالتے ہی آنکھوں میں نور ‘ دل میں سرور آگیا اور اپنی اولاد سے کہا کہ کیوں میں نہیں کہتا تھا کہ انی اعلم مجھے اللہ کی طرف سے وہ بات معلوم ہے جو تمہیں نہیں معلوم۔ تب بیٹے باپ کے قدموں پر گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہماری خطا اللہ سے معاف کرا دیجیے ہم خطا وار ہیں یعقوب (علیہ السلام) نے کہا معاف کراتا ہوں (شاید وقت سحر جو نہایت مقبول وقت ہوتا ہے اس وقت پر معافی و استغفار کو محول رکھا ہو یا دیر کرنے میں کچھ اور مصلحت ہو) ۔ یعقوب (علیہ السلام) مع اپنے بیٹوں پوتوں صلبی اولاد کے ستر شخص تھے بیٹوں کی بیویوں کے علاوہ یہ سب فرعون کی سواریوں پر سوار ہوئے جو اس نے مصر سے ان کے لینے کو بھیجی تھیں اور اپنا اسباب لاد کر منزل بمنزل مصر کو روانہ ہوئے اور جب قریب پہنچے تو یہوداہ کو پیشتر یوسف (علیہ السلام) کے پاس بھیجا تب یوسف (علیہ السلام) اپنی سواری لے کر جشن تک استقبال کو نکلا اور پہنچ کر اس کے گلے سے لپٹا اور دیر تک رویا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے کہا بس اب مجھے مرنا بہتر ہے میں نے زندگی میں تجھے پھر دیکھ لیا یوسف (علیہ السلام) نے اپنے محل میں لے جا کر انہیں بڑی عزت کے ساتھ اتارا اور اپنے تخت پر یعقوب (علیہ السلام) اور اپنی سوتیلی ماں کو بٹھایا اور پھر یوسف (علیہ السلام) کے آگے اس کے گیارہ بھائی اور ماں باپ سجدے میں گرے (یا اس وقت میں غیر اللہ کو سجدہ حرام نہ ہوگا یا سجدہ میں گرنے سے مراد تعظیماً جھکنا ہے) تب یوسف (علیہ السلام) نے کہا میرے اس خواب کی تعبیر یہی ہے جو میں نے دیکھا تھا کہ مجھے گیارہ ستارے اور چاند سورج سجدہ کرتے ہیں اس کے بعد یوسف (علیہ السلام) نے اللہ کے انعام بیان کرنے شروع کئے جو اس پر ہوئے تھے قد احسن بی کہ اس نے مجھے قید سے نکال کر سرداری دی جاء بکم اور اس قحط شدید میں تمہارے خاندان کی پرورش کا سبب کردیا جس لیے تم کو یہاں بلا لیا گیا کنعان میں جہاں حضرت اسرائیل (علیہ السلام) رہتے تھے کوئی شہر یا عمدہ قصبہ نہ تھا صحرایا چھوٹے گائوں میں خیمہ زن تھے اور بھیڑ بکریوں پر بسر اوقات کرتے تھے ان کی نسبت مصر جیسے شہر دارالسلطنت میں آنا جنگل سے آنا کہنا بجا تھا۔ اور انہیں احسانات کے ضمن میں بھائیوں کی بدسلوکی جو انجام کار مراتب عالیہ کا ذریعہ ہوئی کریمانہ پیرا یہ میں بیان فرما کے من بعد ان نزغ الشیطان الخ پھر رب قد اتیتنی من الملک الخ، یوسف (علیہ السلام) کی دعا وقت موت کو ذکر فرما کر خدا تعالیٰ قصہ کو نہایت لطف اور مقاصد تعلیم توحید پر تمام فرماتا ہے اس کے بیچ میں قحط کی باقی کیفیت اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی موت کا بیان جو اس محل پر مقصود بالذات نہ تھا چھوڑ دیا گیا کیونکہ یہ کام اہل تاریخ کا ہے اور قرآن میں جو کسی کا حال بیان ہوتا ہے تو محض عبرت ونصیحت کے لیے نہ مؤر خانہ طور پر تمام سرگزشت قحط کی مختصر کیفیت یہ ہے کہ ایک سال میں مصریوں نے مال واسباب یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ بیچ کر غلہ لیا پھر اگلے سال زمین اور جائیداد کی نوبت آئی پھر جان تک روٹیوں پر فروخت ہوئی فرعون کی غلامی اختیار کرنی پڑی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو فرعون سے ملوایا بڑی عزت کے ساتھ اس نے ملاقات کی۔ حضرت (علیہ السلام) نے اس کو دعائِ خیر دی پھر بنی اسرائیل کے لیے اطراف شہر میں ایک جداگانہ قطع عمدہ زمین کا عطا ہوا جس کو رعمسیس کہتے تھے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) جب مصر میں تشریف لائے تو ان کی عمر ایک سو تیس برس کی تھی ایک سو پینتالیس برس کی عمر میں بقول اہل کتاب مصر میں انتقال ہوا مگر مرنے سے پیشتر یوسف (علیہ السلام) کو بلا کر وصیت کی کہ مجھ کو مصر میں مت گاڑیو کیونکہ اپنے باپ دادوں کے پاس سوئوں گا اور میرے باپ دادا کے گورستان میں مجھے گاڑنا۔ اور مرنے سے کچھ دیر پہلے اپنی اولاد کو بلا کر خدا پرستی اور ملت ابراہیمیہ پر ثابت قدم رہنے کی وصیت کی اور ایک بیٹے کو اس کے موافق برکت دی۔ پھر بستر پر پائوں کھینچ لیے اور جاں بحق ہوگئے اور اپنے لوگوں میں جاملے۔ تب یوسف (علیہ السلام) اپنے باپ کے منہ پر گر پڑے اور بہت روئے اور ان کو چوما اور مصری حکیموں کو بلوا کر ان پر خوشبو 1 ؎ ملوائی اور تمام اہل مصر نے اس پر سخت ماتم کیا پھر فرعون کے معزز اہلکار اور یوسف (علیہ السلام) اور ان کا خاندان ایک انبوہ کثیر کنعان میں حضرت (علیہ السلام) کی نعش کو لایا اور ان کے قبرستان میں دفن کیا اور سات روز تک ورد آلود نالے کرکے روتے رہے اور اس گنج گرانما یہ کو زمین میں مدفون کرکے حسرت کے ساتھ واپس گئے اس کے بعد جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عمر ایک سو دس برس کی ہوئی اور اپنے بیٹوں افرائم اور منسّٰی کے بیٹے بھی دیکھ لیے تو بقول بعض اہل سیر ایک رات ایک خواب دیکھا کہ ایک نہایت پر فضاء جگہ ہے (عالم قدس) وہاں چند کرسیاں رکھی ہیں ایک پر ابراہیم (علیہ السلام) اور ایک پر اسحاق (علیہ السلام) اور ایک پر یعقوب ی اور ایک پر راحیل حضرت یوسف ی کی والدہ ماجدہ تشریف رکھتی ہیں اور ایک کرسی خالی ہے گویا سب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور راحیل روکر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے لپٹ گئے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ اے فرزند اب کب تک اپنی راہ دکھائے گا آ تیرے ہم مشتاق بیٹھے ہیں۔ حضرت کی آنکھ کھلی تو روح پر عالم قدس میں اپنے بزرگوں سے ملنے کی ایک سخت بےقراری تھی جس طرح قفس میں مرغان چمن کی آواز سن کر طائر تڑپتا ہے اس طرح سے آپ تڑپنے لگے اور تمام دنیا کے لذائذِ فانیہ سے یک لخت دل سرد ہوگیا (اور اکثر باخدا لوگوں کو اخیر عمر میں دنیا سے نفرت اور عالم قدس کا شوق ہوجایا کرتا ہے) بیدار ہوتے ہی حضرت (علیہ السلام) نے یہ دعا کی اور خدا تعالیٰ سے اس کے احسانات ذکر کرکے مناجات شروع کی کہ رب قداتیتنی من الملک اس میں تمام عالم حسی کے لذائذ کی طرف اشارہ ہے وعلمتنی من تاویل الاحادیث اس میں تمام کمالات روحانیہ کی طرف اشارہ ہے جو علم سے متعلق ہیں۔ فاطر السٰموٰت والارض اس میں اس کی عظمت قدرت اور عالم ملکوت وناسوت کی وسعت کا ذکر ہے انت ولی فی الدنیا والآخرۃ اس کی عنایت اور رحمت خاصہ کی طرف اشارہ ہے جو حضرت کے ساتھ تھی (اور ہر شخص سے خدا تعالیٰ کا ایک واسطہ خاص ہوتا ہے توفنی مسلما والحقنی بالصالحین یہ ان کی اصل مطلب کی دعا ہے کہ دنیا کی سرداری اور اس کی یہ طمطراق مجھے اس طریق انبیاء سے مانع نہ آوے اور میں اپنے بزرگوں میں جاملوں۔ چناچہ ان کی دعا قبول ہوئی اور وہ جاں بحق ہوئے۔ اور بھائیوں سے وصیت کی ایک بار پھر تم کو خدا ملک شام میں لے جائے گا تم میری نعش کو ساتھ لے جانا مصر میں حضرت کی وفات پر سخت ماتم ہوا ان کی نعش میں خوشبو بھر کے سنگ مر مر کے صندوق میں رکھ کر دفن کردی پھر کئی سو برس کے بعد جب اور فرعون بادشاہ جبار ہوا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے شام کو چلے تو ان کی ہڈیاں میں بھی ساتھ لیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رستہ ہی میں فوت ہوئے بعد میں بنی اسرائیل نے ان کو کنعان میں مقام نابلس دفن کیا۔ زلیخا جو عزیز کی بیوی حضرت پر عاشق تھی پر اس کا باقی حصہ نہ قرآن نے بیان کیا نہ توریت موجودہ نے مگر اہل سیر نے لکھا ہے کہ اس سے شادی ہوئی اور دو بیٹے ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ ذلک من انباء الغیب سے لے کر اخیر تک آنحضرت ﷺ کی تسلی اور کفار کے شبہات کا رد اور توحید اور نبوت کے دلائل بیان فرماتا ہے اور کفار کے نڈر ہونے پر تنبیہ فرماتا ہے اور بعد میں قرآن مجید کی وہ صفات بیان فرمائیں کہ جن سے اس کا من جانب اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ (1) ذلک من انباء الغیب الی یمکر ون اس سے ثابت کرتا ہے کہ محمد ﷺ باوجود یکہ مکہ کے رہنے والے ہیں کہ جو اہل علم و کمال کا شہر نہ تھا ‘ نہ وہاں کوئی تاریخ کی کتاب تھی ‘ نہ آنحضرت ﷺ پڑھ لکھ سکتے تھے اور نہ خاص یوسف (علیہ السلام) اور ان کے 1 ؎ حکماء مصر مردے کی لاش میں کوئی ایسی چیز خوشبودار بھرتے تھے کہ وہ لاش بگڑتی نہ تھی چناچہ خلفاء اسلام کے عہد میں اس عہد کی لاشیں صندوقوں میں بند ان مشہور میناروں کے تہ خانوں سے برآمد ہوئی ہیں۔ 12 منہ بھائیوں کے واقعہ کے وقت موجود تھے پھر اس طرح سے بےکم وکاست یہ واقعہ بیان کرنا کہ جس کو یہود نے توریت کے سراسر موافق پایا اگر الہام نہیں تو اور کیا ہے ؟ اس لیے نوحیہ الیک اور من انباء الغیب کہنا بہت صحیح ہے۔ اس سے آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کا الہامی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ (2) ما اکثر الناس سے لے کر وھم معرضون تک آنحضرت ﷺ کی تسلی کرتا ہے کہ گو آپ کتنی ہی خواہش کریں اور ان کے کہنے کے موافق معجزات بھی دکھا دیں لیکن وہ ایمان نہیں لانے کے۔ اور آپ پر اور قرآن پر اگر ایمان نہ لاویں تو کچھ تعجب نہیں وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر بھی تو ایمان نہیں لاتے باوجود یکہ افلاک سے لے کر عناصر اور نباتات و جمادات وحیوانات تک میں بلکہ اپنے وجود میں رات دن سینکڑوں وہ نشانیاں دیکھتے ہیں کہ جو ہمارے وحدہ لاشریک ہونے پر زبان حال سے گواہی دے رہی ہیں ؎ ہر گیا ہے کہ از زمین روید وحدہ لاشریک لہ گوید اور جو ایمان بھی اللہ پر لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کا اڑنگا بھی ساتھ ہی لگائے رکھتے ہیں مایؤمن اکثر ھم باللّٰہ الاوھم مشرکون مکہ کے بت پرست خدا تعالیٰ کے قائل تھے مگر اس کے ساتھ اپنے معبودوں کو بھی شریک سمجھتے تھے۔ فرشتوں اور جنوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ حج کے ایام میں جو خاص اس کی عبادت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نمونہ اور یاد گاری پر کی جاتی ہے وہاں بھی تلبیہ میں یہ کہتے تھے لبیک لا شریک لک الاشریک ھو لک تملکہ و ما یملک (رواہ مسلم) کہ تیرا کوئی شریک نہیں بجز ایک شریک کے جس کا تو مالک ہے وہ تیرا مالک نہیں۔ اسی طرح عیسائی بھی اللہ کو ایک کہتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں مگر تین اقنوم اور نکالتے ہیں جن میں سے ایک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں جن کو خدا اور خدا کا بیٹا کہتے ہیں اسی طرح ہنود اور دیگر اقوام باوجود یکہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں مگر دیوی دیو تے ہزاروں اس کے شریک بنا رکھے ہیں کہ جن کی مورتیں اب تک پوجی جاتی ہیں پھر ایسے جنم کے اندھوں سے کیا افسوس ہے کہ وہ آپ سے ایسے واقعات دیکھ کر خصوصاً معجزہ کے طور پر یہود کے کہنے سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا صحیح صحیح حال سن کر بھی قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ پس ان سے کہہ دو قل ھذہ سبیلی اوعو الی اللّٰہ علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی کہ میرا تو یہی طریقہ ہے کہ بصیرت یعنی دلیل اور حجت کے ساتھ نہ صرف میں بلکہ میرے بعد اور روبرو میرے متبع لوگ بھی خاص اللہ کی طرف بلاتے ہیں وسبحان اللّٰہ اور اللہ تمہارے شریک ٹھہرانے سے پاک ہے وما انا من المشرکین اور میں ہرگز مشرک نہیں ہوں کہ کسی کو اس کا بیٹا یا اس کے گھر کا مختار کار بنائوں۔ وہی جو چاہتا ہے کرتا ہے اور چاہا کیا یعنی قطع نظر معجزات وآیات کے میرے طریقہ توحید کو دیکھو کہ اس میں کیا برائی ہے۔ جس لیے تم نہیں مانتے۔ (3) ما ارسلنا من قبلک الا رجالا یوحی الیہم سے لے کر افلا تعقلون تک مشرکین عرب اور یہود ونصاریٰ کے بیجا شبہ کا جواب دیتا ہے عرب کے مشرکین یہ کہتے تھے کہ خیر اگر اللہ کو ہماری ہدایت مقصود ہے۔ اور اس کے نزدیک ہمارا یہ طریقہ ناپسند ہے تو وہ آسمان سے فرشتہ ہی کیوں نہیں بھیج دیتا کہ جن کے کہنے میں کسی کو بھی شبہ نہ رہے اس کا تحقیقی جواب بھی ایک موقع پر دیا ہے کہ اگر فرشتے آتے تو انسان ہی کی شکل میں ہو کر آتے پھر ان پر بھی وہی شبہ ہوتا جو بشر رسولوں پر ہوتا ہے۔ اور یہاں یہ جواب الزامی دیتا ہے کہ آخر تم ابراہیم واسمٰعیل ( علیہ السلام) کو تو برگزیدہ اور خدا کا ہادی مانتے ہو پھر وہ کیا فرشتہ تھے ؟ اور یہود و نصاریٰ اپنے واہی تباہی شبہات سے یہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ خدا کا رسول نہیں ان کو جواب دیتا ہے آخر موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے درمیانی سینکڑوں رسولوں کے تم بھی تو قائل ہو پھر ان میں وہ کیا بات تھی جو حضرت محمد ﷺ میں نہیں پاتے ؟ اگر کہو ان سے معجزات صادر ہوئے ہیں تو تم پہلے معجزہ کی کوئی حقیقت وماہیت مقرر کرلو (یہی کہو گے کہ خلاف عادت کوئی بات مدعی نبوت سے سر زد ہونے کو معجزہ کہتے ہیں) پھر دیکھو کہ وہ حضرت محمد ﷺ میں کس قدر ہیں ؟ اس میں کچھ بھی مبالغہ نہیں کہ ایسے کسی نبی سے معجزے صادر نہیں ہوئے اگر کہو کہ ان کی طرف وحی والہام ہوتا تھا تو آنحضرت ﷺ بھی اس میں سب سے بڑھ کر ہیں اگر کہو طریقہ تعلیم اوردین کی خوبی تو قرآن اور آنحضرت ﷺ کی سیرت اور تعلیم کا ان کی تعلیم و سیرت سے مقابلہ کرلو۔ الغرض وہ بھی بستیوں کے لوگ تھے کہ جن کی طرف خدا نے وحی کی تھی آنحضرت پر بھی ہوئی۔ اس آیت سے چند باتیں ثابت ہوئیں : اول یہ کہ انبیا رجال یعنی مرد تھے عورتیں نہ تھیں۔ دوم یہ کہ کوئی بھی وحی اور الہام سے خالی نہ تھا یوحی الیہم ہاں یہ اور بات ہے کہ بعض پر کتاب نہیں نازل ہوئی۔ (4) اس پر منکروں کو تہدیداً فرماتا ہے کہ ذرا زمین پر پھر کر تو دیکھو کہ انبیاء کے جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ عادو ثمود کی بستیاں اور قوم لوط کے دیہات اجڑے ہوئے پڑے ہیں کہاں ہے فرعون اور اس کا وہ شہر ‘ کہاں گئے اگلے جبار اور کدھر ہیں ان کے وہ زور شور ؟ عبرت ! عبرت ! ! ! (5) حتی اذا استایئس الرسل وظنوا انہم قد کذبوا الی قولہ عن القوم المجرمین میں یہ بات بیان فرماتا ہے کہ ہم جلد باز نہیں ہم نے ان کو یوں ہی ہلاک اور برباد نہیں کردیا ہے بلکہ جب رسول بالکل ناامید ہوگئے اور اپنی تکذیب کا ان کو یقین یا گمان غالب ہوگیا پھر تو ہماری مدد آپہنچی اور پہنچنے پر پھر بھلا اس کو کون روک سکتا ہے ؟ پھر جو ایماندار تھے وہی بچے ورنہ سب غارت ہوئے۔ کسی کو زلزلہ نے آلیا کسی کو آندھی کے سخت طوفان نے غارت کیا انہم قدکذبوا عاصم وحمزہ وکسائی نے کذبو کو بالتحفیف وکسرہ ذال پڑھا ہے جس کے معنے یہ ہوئے کہ انبیاء نے حالت اضطرار میں بشریت سے یہ گمان کرلیا کہ ہم سے جو وعدے مدد آنے کے ہوئے تھے وہ غلط نکلے یا کذبوا کی ضمیر قوم کی طرف راجع ہے کہ لوگوں نے عذاب میں دیر ہونے سے یہ گمان کرلیا تھا کہ یہ وعدے غلط ہیں اور یہی احتمال قوی ہے کیونکہ انبیاء کی شان سے ایسا گمان کرنا بعید ہے اور باقی قرآء نے کذبو اتشدید سے پڑھا ہے کہ جس کے معنی یہ ہیں کہ رسولوں کو گمان غالب ہوگیا کہ لوگوں نے ہماری تکذیب کردی اور ہم جھٹلائے گئے تب عذاب آیا (6) لقد کان سے لے کر لقوم یؤمنون تک ان چند باتوں پر سورة کو تمام کرتا ہے۔ (7) فی قصصہم عبرۃ کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں عقلمندوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔ ابتدائِ سورة میں بھی فرمایا تھا لقد کان فی یوسف واخوتہ آیات للسائلین منجملہ عبرتوں کے ایک یہ بھی ہے کہ جس نے یوسف (علیہ السلام) کو اس کی خوبی خداداد پر محسود بنا کر بھائیوں کے ہاتھ سے کنویں میں ڈلوایا بیع کروایا پھر اس کمال کی بدولت قید میں پہنچا پھر آخر عزیز مصر کردیا وہی محمد ﷺ کو بھی قریش کی سخت قید و تکالیف سے جو صرف بجرمِ حق پرستی ہے نجات دے کر عزیز دارین کرے گا چناچہ کیا۔ از انجملہ یہ کہ ہر ذی کمال اور صاحب صدق کو مخالفین کی ایذا پر صبر کرنا چاہیے جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) نے کیا آخر وہ یہ عزیزیہ ذلیل ہوئے۔ از انجملہ یہ کہ جس طرح یعقوب (علیہ السلام) کو برسوں رونے کے بعد یوسف (علیہ السلام) سے ملا دیا طالب صادق رہنا چاہیے خدا سے ملنا بھی یا اور مقاصد و احباب کا ملنا بھی دنیا یا دارآخرت میں اس کی رحمت سے ممکن ہے۔ (8) یہ کہ قرآن جس میں قصہ یوسف صداقت سے بیان ہوا جھوٹا بنایا ہوا نہیں بلکہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق اور ہر چیز کی کہ جس کی دین میں ضرورت ہے تفصیل ہے خواہ بواسطہ حدیث پیغمبر (علیہ السلام) خواہ بواسطہ قیاس ائمہ دین جو عبرت کی ایک فرد ہے اور ایمانداروں کے لیے ہدایت کا دستور العمل اور خدا کی رحمت ہے جس کی وجہ سے دارین کے مقاصد حاصل ہوں گے۔ آمین۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح سے (یعنی خواب کے موافق) خدا تجھ کو برگزیدہ کرے گا اور خواب کی تعبیر دینی سیکھا دے گا اور اپنی نعمتیں تجھ پر اور یعقوب کے گھرانے پر پوری کردے گا جس طرح کہ اس سے پہلے تیرے باپ دادا ابراہیم و اسحٰق پر پوری کرچکا ہے کیونکہ تیرا رب علیم 1 ؎ (اور) حکیم ہے۔

1 ؎ بہت کچھ جاننا ہر حکمت و تدبیر سے واقف ہے قابل نعمت کو اپنی مصلحت سے دیتا ہے۔ 12 منہ 1 ؎ تاویل الاحادیث کے معنی تعبیر خواب بھی ہے اور ہر بات کی اصل حقیقت بیان کرنا اور اس کی حکمت اور مصلحت اور اس کے ہر پہلو پر واقفیت حاصل کرنا بھی یعنی یوسف ( علیہ السلام) کو ہم نے اس تدبیر سے ملک مصر میں عزت و وقعت دی اور حکمت و علم بھی دیا جس میں تعبیر خواب بھی ہے۔
Ayahs 12:7–22

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

البتہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے (قصے میں) سوال 1 ؎ کرنے والوں کے لیے بہت کچھ نشانیاں ہیں

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جبکہ بھائیوں نے کہا کہ البتہ یوسف اور اس کا بھائی تو ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارا ہے حالانکہ ہم جماعۃ ہیں البتہ ہمارا باپ تو صریح خطا میں پڑا ہے۔

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

یوسف کو مار ڈالو یا کہیں پھینک آؤ تاکہ باپ کی توجہ اکیلے تمہی پر رہے اور اس کے بعد نیک قوم ہوجانا (یعنی توبہ کرلیں گے) ۔

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والے نے یہ کہا کہ اگر تم کو کرنا ہی ہے تو یوسف کو مارو تو نہیں (پر) اندھے کنوئیں میں ڈال دو تاکہ کوئی قافلہ اٹھا کرلے جاوے۔

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

(باپ سے جاکر) کہا کہ ابا جان آپ کس لیے یوسف پر ہمارا اعتبار نہیں کرتے ؟ حالانکہ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں۔

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اس کو ہمارے ساتھ بھیج دو ‘ وہ کھائے کھیلے اور ہم اس کی نگہبانی کریں گے۔

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

اس نے کہا مجھے اس کے لے جانے سے غم ہوتا ہے اور ڈرتا ہوں کہ تمہاری غفلت میں اس کو بھیڑیا نہ کھا جائے۔

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا باوجود یہ کہ ہم ایک جماعت ہوں اور اس کو بھیڑیا کھا جائے تو ہم گئے گزرے ہوئے۔

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

پھر جبکہ اس کو لے گئے اور سب نے اتفاق کرلیا کہ اس کو اندھے کنوئیں میں ڈال دو ۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ تو ضرور ان کو ایک روز اس (بدسلوکی) سے آگاہ کرے گا اور وہ بیخبر ہوں گے

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور کچھ رات گئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ اے ہمارے باپ ! ہم تو آپس میں دوڑنے میں مصروف ہوئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تھے سو اس کو بھیڑیا (آکر) کھا گیا اور آپ ہمارے کہنے کا کبھی یقین نہ کریں گے خواہ ہم سچے ہی کیوں نہ ہوں

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور اس کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا نہیں بلکہ تم نے دل سے ایک بات بنائی ہے۔ پس (اب) صبر ہی اچھا ہے اور اللہ سے تمہاری باتوں پر مدد چاہتا ہوں۔

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

(اور کنویں کے پاس) قافلہ آیا انہوں نے اپنے سقے کو بھیجا تو اس نے ڈول ڈالا (یوسف کو دیکھ کر) کہا اے لو مثدہ ہو یہ تو ایک لڑکا (نکل آیا ہے) اور اس کو اپنے اسباب میں چھپا دیا اور اللہ خوب جانتا تھا جو کچھ وہ کررہے تھے

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

(بھائیوں کو خبر ہوئی) اور اس کو کم قیمت (یعنی) چند درہموں پر بےرغبتی سے بیچ ڈالا

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور اس مصر والے نے کہ جس نے یوسف کو (اہل قافلہ سے) خریدا تھا اپنی بیوی سے کہا کہ اس کی عزت کرنا شاید کہ ہمارے کام آوے یا ہم اس کو بیٹا بنا لیویں۔ اور ہم نے یوسف کو زمین مصر میں یوں جگہ دی اور تاکہ ہم اس کو خواب کی تعبیر سکھا دیں۔ اور اللہ اپنے کام پر قادر ہے لیکن اکثر جانتے نہیں۔

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جبکہ یوسف اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اس کو حکومت اور علم دیا۔ اور ہم نیکوں کو ایسا ہی بدلا دیتے ہیں

1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ
Ayahs 12:23–30

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

اور جس عورت کے گھر میں یوسف تھا وہ اس کو رجھانے لگی اور دروازہ بند کردیا اور کہنے لگی لو آؤ اس نے (یوسف) کہا خدا کی پناہ 2 ؎ وہ تو میرا آقا ہے کہ جس نے مجھے عزت سے رکھا ہے بےانصاف فلاح کو نہیں پہنچا کرتے۔

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور اس عورت نے تو اس پر ارادہ (بد) کرلیا تھا اور وہ بھی کر ہی چکا تھا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا (یوں ہوا) تاکہ ہم اس سے برائی اور فحش کو ٹال دیں۔ کیونکہ وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھا

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

(جب یوسف گھرجانے لگے) اور دونوں دروازہ تک دوڑتے گئے اور عورت نے پیچھے سے اس کا کرتا چیر ڈالا اور دروازے کے پاس دونوں نے اس کے خاوند کو جا پایا۔ عورت کہنے لگی (پیش بندی کے طور پر) جو تیرے گھر کے لوگوں سے برا ارادہ کرے اس کی تو بس یہی سزا ہو کہ قید ہو یا سخت مار ماری جاوے۔

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

یوسف نے کہا یہ خود تو مجھ پر ریجھ گئی تھی اور اس عورت کے گھر والوں میں سے ایک دیکھنے والے نے یہ شہادت دی کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہے تو وہ سچی اور یہ جھوٹا۔

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو وہ جھوٹی اور یہ سچا

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

پھر جبکہ اس کا کرتا پیچھے سے چرا دیکھا تو (اس کے خاوند نے) کہا یہ تو (اے عورتو ! ) تمہارا مکر ہے بیشک تمہارا بڑا مکر ہوتا ہے

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف اس سے در گزر کرو اور تو (اے عورت) اپنے گناہ کی معافی مانگ کیونکہ تو ہی خطا وار ہے۔

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور شہر میں عورتوں نے چرچا کیا کہ عزیز کی عورت اپنے غلام کو چاہتی ہے۔ بیشک اس کی محبت میں فریفتہ ہوگئی ہے ‘ ہم تو اس کو صریح خرابی میں دیکھتے ہیں۔

2 ؎ وہ یعنی تیرا شوہر۔ 12 منہ
Ayahs 12:31–34

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

پھر جب عزیز کی بیوی نے ان کی ملامت سنی تو ان کو بلا بھیجا اور ان کے لیے ایک مجلس کی تیاری کی اور پھل تراشنے کے لیے ہر ایک کو ایک ایک چھری 1 ؎ دے دی اور بولی یوسف ان کے سامنے نکل آ۔ پھر جبکہ انہوں نے اسے دیکھا اور حیرت میں رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور کہنے لگیں ماشا اللہ یہ تو بشر نہیں۔ ہو نہ ہو یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

وہ بولی یہی تو وہ ہے کہ جس کے امر میں تم نے مجھے ملامت کی تھی اور بیشک میں نے اس سے دلی خواہش کی تھی پھر اس نے اپنے آپ کو روک لیا اور اگر وہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید میں پڑے گا اور بےعزت ہو کر رہے گا۔

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

یوسف نے دعا کی یا رب ! مجھے تو قید بہتر ہے اس کام سے کہ جس کی طرف وہ مجھے بلا رہی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کے مکر کو نہ ٹالے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجائوں گا۔ اور نادان بن جائوں گا

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

اس کے رب نے اس کی دعا قبول کی تب اس کا فریب اس سے دور کردیا کیونکہ وہی سنتا جانتا ہے

1 ؎ پھل تراش کر کھانے کو 12 منہ
Ayah 12:35

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر ان کو نشانیاں 2 ؎ دیکھنے کے بعد بھی اس کا ایک وقت تک قید کرنا بہتر معلوم ہوا

2 ؎ یوسف کی بزرگی اور پارسائی کے نشان اور وجوہ دیکھنے کے بعد لازم تھا کہ فوراً قید سے رہا کرتے مگر اپنی کسی مصلحت سے چند روز اور قید رکھنا مناسب جانا۔