11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 11:25–60

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ (ان سے) کہیں میں تمہیں صاف (صاف) ڈر سنانے والا ہوں

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

(اور یہ بھی) کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہاری نسبت ایک دکھ دینے والے دن کے عذاب کا ڈر لگ رہا ہے

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تب اس کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے کہ ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں اور ہم کو تو تمہارے پیرو وہی دکھائی دیتے ہیں جو ہم میں سے رذیل ہیں سرسری نظر سے (پیرو ہوگئے ہیں) اور ہم تمہارے لئے اپنے اوپر کوئی فضیلت بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

نوح نے کہا اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک سند پر ہوں اور میرے پاس اس کے ہاں سے رحمت بھی آچکی ہو پھر وہ تمہیں دکھائی نہ دیتی ہو تو کیا میں زبردستی سے تمہارے گلے مڑھ دوں اور تم اس سے نفرت کرتے جائو

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے قوم ! اس پر میں تم سے کوئی مال بھی تو نہیں مانگتا۔ میری مزدوری تو اللہ ہی پر ہے اور میں تو ایمان والوں کو دھتکارنے کا نہیں کیونکہ وہ اپنے رب سے ملنا چاہتے ہیں لیکن میں تم کو ایک جاہل قوم دیکھتا ہوں

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے قوم ! مجھے اللہ سے کون چھوڑا سکتا ہے جو میں انہیں دھتکار دوں پھر تم کیا نہیں سمجھتے

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب دان ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کو کہ جنہیں تمہاری آنکھیں حقیر جانتی ہیں۔ یہ کہہ سکتا ہوں کہ اللہ ان کو بہتری نہ دے گا۔ اللہ ہی ان کے دل کی بات خوب جانتا ہے بیشک ایسا کروں تو میں بےانصاف ہوں۔

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

وہ بولے کہ اے نوح ! تو نے ہم سے جھگڑا کیا پس بہت کچھ جھگڑ چکا اب جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے اگر تو سچا ہے تو اس کو لے آ۔

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نو ح نے کہا اس کو تو اگر چاہے گا اللہ ہی لائے گا اور تم اس کو روک نہ سکو گے

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور میری نصیحت تم کو (کچھ بھی) فائدہ نہ دے گی۔ گو میں کتنی ہی نصیحت کرنا چاہوں اگر خدا کو تمہارا گمراہ رکھنا ہی منظور ہے وہ تمہارا رب ہے اور اس کی طرف تم کو پھرجانا ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس نے قرآن خود بنا لیا ہے تو کہہ دو اگر میں نے ازخود بنالیا ہے تو اس کا گناہ مجھ پر ہے اور میں تمہارے گناہوں سے بری ہوں

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کی طرف (یہ) وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے اب کوئی ایمان نہ لائے گا مگر جسے لانا تھا لا چکا پھر تم ان کی باتوں پر جو وہ کر رہے ہیں

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

کچھ غم نہ کرو اور ہماری مدد اور وحی سے کشی بناؤ اور ستمگاروں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ غرق کئے جائیں گے

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور نوح ( علیہ السلام) تو کشتی بنا رہے تھے اور جب ان کی قوم کے لوگ اس کے پاس سے ہو کر گذرتے تھے تو اس سے ہنسی کرتے تھے نوح کہتے تھے اگر تم ہم سے ہنسی کرتے ہو تو اسی طرح ہم بھی تم سے ہنسی کریں گے۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

تم کو ابھی معلوم ہوجاتا ہے کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کرے گا اور کس پر عذاب دائمی اترتا ہے۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آچکا اور تنور (غضبِ الٰہی) جوش میں آگیا تو ہم نے کہہ دیا کہ اے نوح ! اس کشتی میں ہر ایک قسم کے جانوروں میں سے نر و مادہ کے دو دو جوڑوں کو اور اپنے گھر والوں کو مگر ان کو کہ جن کی بابت ہمارا فیصلہ ہوچکا اور جو ایمان لایا سب کو سوار کرلو اور اس کے ساتھ ایمان تو بہت ہی کم لائے تھے

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور نوح ( علیہ السلام) نے کہا آؤ اس میں سوار ہوجاؤ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے کیونکہ میرا رب معاف کرنے والا مہربان ہے

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ کشتی انہیں لے کر پہاڑ سی موجوں میں لے کر چلنے گی اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جبکہ وہ کنارے پر تھا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہو لے اور کافروں کے ساتھ نہ رہ۔

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اس نے کہا میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لئے لیتا ہوں۔ وہ مجھے پانی سے بچاوے گا۔ نوح نے کہا آج تو اس کے حکم (عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہیں مگر اللہ ہی جس پر مہربانی کرے (تو بچے) اور ان کے درمیان موج آ حائل ہوئی سو وہ ڈوب کر رہ گیا

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم ہوا کہ اے زمین ! اپنا پانی جذب کرلے اور اے آسمان ! تھم جا اور پانی اتر گیا اور کام ہوچکا اور کشتی جودی پر جا لگی اور کہہ دیا گیا کہ ظالموں پر پھٹکار ہے

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے رب کو پکار کر کہا اے رب ! میرا بیٹا تو میرے کنبے میں سے تھا اور تیرا وعدہ بھی حق ہے اور تو حاکموں کا حاکم ہے۔

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

خدا نے فرمایا اے نوح ! وہ تمہارے کنبے میں سے نہیں کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے پھر تم جس چیز سے واقف ہی نہیں اس کی ہم سے درخواست نہ کرو میں تمہیں نصیحت کئے دیتا ہوں۔ نادانی نہ کیا کرو۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح نے کہا اے رب ! میں اس بات کے سوال کرنے سے کہ جس کا مجھے علم نہیں تیری پناہ مانگتا ہوں اور اگر تو مجھے معاف نہ کرے گا اور مجھ پر مہربانی نہ فرمائے گا تو میں خراب ہوجائوں گا۔

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا اے نوح ! ہماری سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تم پر اور تمہارے ساتھ والوں پر رہیں گی کشتی سے اترو اور (بعد میں) ایسے گروہ بھی ہوں گے کہ جن کو ہم (دنیا میں) بردمند کریں گے پھر (آخرت میں) ان کی بدکاری سے ان پر ہماری طرف کا دردناک عذاب پہنچے گا۔

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ ہیں غیب کی خبریں کہ جن کو ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں اس سے پہلے نہ تو آپ ہی جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم جانتی تھی۔ پس صبر کر کیونکہ انجام کار پرہیزگاروں کے لئے ہے

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا ٗ اے قوم ! اللہ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم تو محض جھوٹی باتیں بنایا کرتے ہو۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے قوم ! میں تم سے اس پر کچھ مزدوری بھی تو نہیں چاہتا۔ میری مزدوری تو اسی پر ہے کہ جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر تم کیا نہیں سمجھتے

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو وہ تم پر برستے ہوئے بادل بھیجے گا اور تمہاری قوت اور بھی بڑھاوے گا اور تم نافرمان ہو کر نہ پھر جائو۔

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

کہنے گے اے ہود ! تو تو ہمارے پاس کوئی بھی معجزہ نہیں لایا اور ہم تو تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تجھ پر ایمان لاویں گے

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تجھ کو ہمارے کسی دیوتا نے بری طرح سے جھپٹ لیا ہے۔ اس نے کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان چیزوں سے کہ جنہیں تم اس کے سوا شریک ٹھہراتے ہو بیزار ہوں۔

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

سو تم سب مل کر میرے لئے داؤ کرلو پھر مجھے مہلت نہ دو ۔

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں نے تو اللہ ہی پر بھروسہ کرلیا ہے جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ کوئی بھی زمین پر ایسا چلنے والا نہیں کہ جس کی چوٹی اس نے نہ پکڑ رکھی ہو۔ بیشک میرا رب ہی سیدھے رستہ پر ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر اگر تم نے نہ مانا تو جو مجھے دے کر بھیجا گیا تھا وہ تو تم کو پہنچا دیا اور تمہاری جگہ میرا رب اور قوم پیدا کر دے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے۔ البتہ میرا رب ہر چیز کا نگہبان ہے

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جبکہ ہمارا حکم پہنچا تو ہم نے ہود کو اور ان کو جو اس کے ساتھ ایمان لے آئے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے نجات دی

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ تھی قوم عاد کہ جس نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی تھی اور ہر ایک جبار سرکش کا حکم مانتے تھے

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور اس دنیا میں بھی اپنے پیچھے لعنت چھوڑ گئے اور قیامت کے دن بھی (دیکھو) قوم عاد نے اپنے رب کا انکار کیا تھا دیکھو عاد جو ہود کی قوم تھی خدا کی رحمت سے دور کئے گئے۔

ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع نہ ہوئی۔ تفسیر : مضامین مذکورہ بالا کے بعد چند عبرتناک واقعات بیان فرماتا ہے جن میں سے اول قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی بدبخت قوم کا ہے کہ حضرت نے سینکڑوں برس وعظ و پند کیا۔ طرح طرح سے سمجھایا مگر ان کی بدبختی اور شامت کا ہے کو راہ راست پر آنے دیتی تھی۔ آخر سب غرق ہوئے۔ طوفان آیا اگرچہ یہ قصے آگے بھی کئی بار آچکے ہیں خصوصاً سورة ٔ یونس میں بھی جو مکیہ ہے مگر لطف اور اعجاز یہ ہے کہ ایک ایک قصے کو کس کس رنگ سے پلٹ کر بیان کیا جاتا ہے جو اپنے موقع پر نیا قصہ معلوم ہوتا ہے اور ایک جداگانہ عبرت پیدا کرتا ہے توریت میں بھی یہ قصہ طوفان نہایت وضاحت سے مذکور ہے مگر توریت موجودہ میں اور قرآن میں بجز دو تین باتوں کے کہ جن کو بیان کرتے ہیں اور کچھ اختلاف نہیں۔ اب اس کا سبب غالباً وہی سبب ہے کہ توریت موجودہ میں بیشمار مواقع ہیں اس کے مصنف یا کاتبوں سے غلطیاں سرزد ہوئیں یا بعد میں کچھ کمی زیادتی ہوگی جیسا کہ اس کا ثبوت ہم نے اپنی اس کتاب میں متعدد جگہ کیا ہے اور کتب مناظرہ اظہار الحق وغیرہ میں بڑی تشریح ہے۔ ان اختلافی باتوں میں اہل کتاب قرآن پر غلطی کا الزام لگایا کرتے ہیں اور بعض برائے نام مسلمان جو ان کے مرید اور توریت موجودہ کو اصلی توریت بنانے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں کچھ دور ازکار توجیہیں کرکے باہم توافق پیدا کرتے ہیں کہ اس سے یہ مراد اور اس سے یہ مراد۔ اگر توافق اور تطابق کسی وجہ وجیہ کے ساتھ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں۔ وہ باتیں یہ ہیں اول فارالتنور تنور کا جوش مارنا اور موافق قول اکثر مفسرین تنور سے پانی جوش مار کر نکلنا طوفان کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ توریت میں اس کا کہیں ذکر بھی نہیں۔ اگر تنور سے روٹیاں پکانے کا تنور مراد ہے تو اس کا وہی جواب ہے جو گذرا اور اگر مفسرین اسلام میں سے دوسرے فریق کا قول مان لیا جاوے کہ جس کو امام رازی نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ تنور سے مراد روٹیاں پکانے کا تنور نہیں بلکہ عرب روئے زمین کو تنور کہتے ہیں تب یہ معنی ہوں گے کہ زمین سے پانی پھوٹ نکلا جیسا کہ قرآن کی اس آیت میں ہے ففتحنا الخ ؎ القول الثانی لیس المراد من التنور تنور الخبز وعلی ہذا التقدیر ففیہ اقوال (الاول) انہ انفجرالماء من وجہ الارض کما قال تعالیٰ ففتحنا ابواب السماء بماء منہمر وفجرنا الارض عیونا فالتقی الماء علی امر قدقدر والعرب تسمی وجہ الارض تنوراً تو کچھ بھی باہم مخالفت نہیں رہتی کیونکہ توریت سفر پیدائش کے ساتویں باب میں آسمان سے پانی برسنا اور زمین کے سوتوں میں سے نکلنا لکھا ہے۔ دوم و نادیٰ نوح ابنہ الخ کہ نوح نے اپنے بیٹے کو کشتی میں سوار ہونے کو کہا لیکن وہ سوار نہ ہوا اور غرق ہوگیا حالانکہ توریت کے سفر مذکور میں نوح کے تین بیٹے لکھے ہیں۔ سام حام یافث اور تینوں کا کشتی میں سوار ہونا اور طوفان سے نجات پانا لکھا ہے اور نیز مفسرین اسلام اس بیٹے کا نام کنعان بتلاتے ہیں حالانکہ کنعان حام کا بیٹا نوح کا پوتا ہے جیسا کہ توریت میں تصریح ہے۔ اس کا جواب بھی وہی ہے جو بیان ہوا کہ توریت میں غلطی ہے اور توریت کی غلط بیانی پر ہم اسی سفر اور اسی مقام سے چند نمونے پیش کرتے ہیں کہ جن میں اضطراب پایا جاتا ہے جن کی تفسیر میں علمائے اہل کتاب بھی بہت مضطرب ہیں : شاہد اول توریت سفر پیدائش 7 باب 17 درس میں اور چالیس دن طوفان کی باڑہ زمین پر رہی اور اس کی چند سطر بعد پھر یہ بھی ہے (24) اور پانی کی باڑہ ڈیڑھ سو دن تک زمین پر رہی۔ اب دونوں میں ایک ضرور غلط ہے یا وہم مصنف ہے۔ علاوہ اس کے اول بات کی تائید اسی کے گیارہویں درس سے ہوتی ہے اور نیز 8 باب میں بھی ڈیڑھ سو دن کے بعد پانی کا کم ہونا لکھا ہے اور اس کے بعد کا بیان کہ چالیس دن کے بعد نوح نے کشتی کی کھڑکی کھول کر کوے کو اڑایا اور اس کے بعد کبوتری کو اڑایا اور وہ واپس آئے پھر سات روز بعد اڑایا تو درخت کے پتے منہ میں لائے (اور پتے منہ میں لانا پانی اترنے کی دلیل میں ہے) اس کی تغلیط کرتا ہے۔ شاہد دوم 9 باب میں ہے کہ حام نے اپنے باپ نوح کو خیمہ میں بحالت مخموری عاد پر جو ہود کی قوم تھی برہنہ دیکھا جس پر سام اور یافث نے اس پر کپڑا ڈھانکا 18 تا 23 پھر درس 24 میں ہے کہ جب نوح ( علیہ السلام) اپنی مے کے نشے سے ہوش میں آیا تو جو اس کے چھوٹے بیٹے نے اس کے ساتھ کیا تھا اسے معلوم کیا۔ 25 تب وہ بولا کہ کنعان ملعون ہو وہ اپنے بھائیوں کے غلاموں کا غلام ہوگیا۔ 26 پھر بولا خداوند سام کا خدا مبارک اور کنعان اس کا غلام ہوگا۔ 27 خدا یافث کو پھیلا دے اور وہ سام کے وڈیروں میں رہے اور کنعان اس کا غلام ہو۔ اب غور کرنا چاہیے کہ اگر چھوٹے بیٹے سے مراد جس نے برہنگی دیکھی حام ہے تو اس کے بیٹے کنعان غریب کی کیا خطا ہے جو اس پر لعنت کی گئی اور سام کو حام کا غلام بنایا گیا ؟ اگر کہو نسل حام کے لئے بددعا ہے تو پھر کیا حام کی نسل میں یہی تھا بلکہ کوش اور مصر اور فوط اس کے تین بھائی اور بھی تھے اور اگر چھوٹے بیٹے سے مراد کنعان ہے تو مدعا حاصل ہے۔ اب رہا اس نافرمان کا غرق ہونا تو یہ قرین قیاس ہے اس اختلاف سے صرف یہ بات دکھانی منظور ہے کہ مصنف توریت نے ضرور یہاں کچھ خلط ملط کردیا اور ممکن ہے کہ کنعان دو ہوں ایک حام کا بیٹا دوسرا نوح کا چھوٹا بیٹا جو طوفان میں غرق ہوا۔ شاید اسی بات کو مؤرخ توریت نے خلط کردیا۔ مخالفت سوم واستوت علی الجودی کہ نوح کی کشتی جودی پہاڑ آٹھہری حالانکہ توریت سفر پیدائش 7 باب 4 درس میں ہے اور ساتویں مہینے کی سترہویں تاریخ کو ارارات کے پہاڑوں پر کشتی ٹک گئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مسٹر میتھر جو پادری ہیں اپنی اس کتاب لغات بائبل کے 60۔ 61 صفحہ میں جو اپنی بیوی کے نام سے تصنیف کی ہے یہ کہتے ہیں ارارات یہ سرزمین ملک آرمینہ کا ایک صوبہ ہے لیکن ملک کے کون سے پہاڑ پر نوح کی کشتی ٹکی معلوم نہیں ہے۔ سکندر کے دنوں میں بروسس نے ٹھہرایا کہ جبال جودی جو کردستان کے پہاڑوں میں اور آرمینہ کے دکھن طرف ہے وہی پہاڑ ہے اور اس وقت لوگ سمجھتے تھے کہ کشتی کے ٹکڑے چوٹی پر اب تک موجود ہیں۔ ایک خانقاہ بھی اس جگہ پر تعمیر ہوئی جو کشتی کی خانقاہ کے نام سے نامزد تھی۔ یہ خانقاہ 776 ء میں بجلی سے نیست ہوئی لیکن اتر طرف ایک اور پہاڑ ہے جس کو اکثر عالم ٹھیک سمجھتے ہیں۔ ولایتی اسے ارارات آرمینی میں سیس ترک اگر ی داغ یا بھاری پہاڑ اور فارسی کوہ نوح انتہیٰ ۔ ولیم پنک اپنے جغرافیہ میں کہتا ہے کہ شہر ایروان جو کبھی آرمینہ کا پائے تخت تھا اور بالفعل اس کا قصبہ ہے اس کے پاس کوہ ارارات واقع ہے جس پر کشتی ٹھہری تھی۔ صاحب مراصد کہتے ہیں الجودی بیامشددۃ حبل مطل علی جزیرۃ ابن عمر فی شرقی دجلۃ من اعمال الموصل استوت علیہ سفینۃ نوح لما نضب المائ۔ ان اقوال سے یہ بات بخوبی معلوم ہوگئی کہ کوہ ارارات اور کوہ جودی کا سلسلہ ملتا ہے۔ پس توریت کے بیان کو صحیح تسلیم کرلیا جاوے تو یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ ملک ارارات آرمینہ کا ایک صوبہ ہے جس کے پہاڑوں کا سلسلہ جارجیہ یعنی کردستان کے پہاڑوں سے آملتا ہے اس کی انتہا اور اس کی ابتداء کا موقع جودی پہاڑ ہے۔ اس خاص جگہ کا نام نہ لیا تو سعا کوہ ارارات کہہ دیا۔ قرآن نے اس کا ٹھیک موقع بتلا دیا پس جو صاحب ارارات کے ان پہاڑوں کو لحاظ کرتے ہیں جو جودی سے فاصلہ پر واقع ہیں وہ دونوں بیانوں میں تفاوت سمجھتے ہیں ورنہ دراصل تفاوت نہیں۔ فوائد (1) طوفان نوح کی بابت دو قول ہیں بعض کہتے ہیں کہ صرف آرمینہ اور کردستان وغیرہ ان ملکوں میں آیا تھا کہ جہاں وہ بت پرست قومیں آباد تھیں جن کے لئے نوح بھیجے گئے تھے اور اس عہد میں زیادہ تر آباد یہی ملک تھے گویا ان پر طوفان آنا تمام جہان پر آنا ہے۔ اکثر علمائِ اہل اسلام و اہل کتاب تمام دنیا پر طوفان آنے کے قائل ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ پھر دنیا میں صرف حضرت نوح (علیہ السلام) سے نسل جاری ہوئی جس کی بابت خدا نے وعدہ کرلیا ہے کہ پھر کبھی میں دنیا کو اس طرح ہلاک نہ کروں گا (پیدائش باب 9 درس 9) (2) نوح کی کشتی کی بابت قرآن میں صرف اسی قدر ہے اصنع الفلک باعیننا ووحینا جس کا یہ مطلب کہ نوح نے الہامِ الٰہی سے ایسی کشتی بنائی کہ جس میں اس کے تینوں بیٹے اور ان کی بیویاں اور اسی یا کم زیادہ ایماندار اور ہر جانور کا جوڑا نر و مادہ آسکتا تھا مگر توریت میں ہے کہ اس کی لمبائی تین سو ہاتھ اور چوڑائی پچاس ہاتھ اور اونچائی تیس ہاتھ تھی اور اس کے تین درجہ اور اس میں روشندان اور دروازے اور کھڑکیاں اور کوٹھڑیاں تھیں اور اندر باہر رال لگائی گئی تھی اس کو خشکی میں بنتے دیکھ کر کافر ہنستے تھے کہ نوح سچ مچ دیوانہ ہے جس پر انہوں نے فرمایا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم تم پر اسی طرح ہنسیں گے۔ طوفان کی صورت یہ ہوئی تھی کہ آسمان سے بھی بیشمار مینہ برسا اور زمین سے بھی جا بجا چشموں کی طرح پانی پھوٹ کر ابلنے لگا۔ بڑھتے بڑھتے یہاں تک بڑھا کہ جو بلند سے بلند پہاڑ تھے ان پر بھی پندرہ ہاتھ پانی بڑھ گیا۔ چالیس دن یا کم زیادہ مدت تک یہ حال رہا کشتی پانیوں پر پہاڑ جیسی موجوں میں تیرتی پھرتی تھی۔ پھر خدا نے رحمت کی۔ آسمان کا پانی بند ہوا زمین کا زمین میں پیوست ہوگیا نوح کشتی سے اتر کر ملک آرمینہ میں ایک جگہ آرہے جہاں ایک گائوں ارگوری نام تھا جو 1840 ء میں اس پہاڑ کی آتش فشانی سے غارت ہوگیا۔ پہلے زلزلہ آیا اور لال دھواں نکلا پھر میلوں تک بڑے بڑے پتھر پہاڑ سے جا کر گرتے تھے۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا اس نے کہا اے قوم اللہ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں تم کو آباد کیا۔ پس اس سے (پہلے گناہوں کی) معافی مانگو پھر (آیندہ) اس کی طرف رجوع کرو۔ بیشک میرا رب نزدیک ہے (وہ) قبول کرنے والا ہے۔

تفسیر : (3) اس کے بعد دوسرا واقعہ قوم عاد اور ان کے پیغمبر ہود (علیہ السلام) کا بیان فرماتا ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد عرب کے جنوبی حصہ ملک یمن میں گذرا ہے۔ اس قوم کی ثروت اور اس پر بدکاری اور بت پرستی حد سے گذر گئی تھی۔ بھلا یہ معزز اور جنٹلمین جو دنیا کی وجاہت اور ثروت کے بندے تھے کوئی غریب بیچارے خدا ترس لوگ تھوڑے ہی تھے کہ جو حضرت ہود (علیہ السلام) کی نصیحت مانتے ان کی حقانی باتوں پر ٹھٹھا اڑانا شروع کردیا کہ ایسے ملا نے یوں ہی باتیں بنایا کرتے ہیں۔ لو ان کے کہنے میں آویں تو دنیا چھوڑ بیٹھیں۔ دیوانہ ہے اس پر ہمارے معبودوں کی پھٹکار پڑگئی ہے۔ آخر پھر قہر الٰہی جوش میں آیا۔ سب سامان دھرے رہے۔ وہ آندھی کا طوفان بھیجا کہ گھروں اور جنگلوں میں لاشیں ہی پڑی پائیں۔ صنعا یمن میں ایک مکان جس کا غمدان نام تھا حضرت عثمان ؓ کی خلافت تک باقی تھا جس کی نسبت صاحب قاموس لکھتے ہیں کہ وہ ایک بلند قصر تھا جس کے سات درجے تھے ہر درجہ دوسرے درجہ سے چالیس گز مرتفع تھا۔ یہ قصر عجائبِ روزگار بھی اسی بدنصیب قوم کی یادگار تھی جس کو شعرائِ عرب اپنے اشعار میں ذکر کرکے زمانہ کی فسوں سازی یاد دلاتے آئے ہیں۔