10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 10:1–4

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں پر حکمت کتاب کی۔

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے انہیں سے ایک شخص کی طرف (یہ) وحی بھیجی کہ لوگوں کو عذاب سے ڈراؤ اور ایمانداروں کو بشارت دو کہ ان کا پایہ ان کے رب کے نزدیک مضبوط ہے۔ کافر کہہ اٹھے یہ تو صریح جادوگر ہے۔

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

تمہارا رب تو اللہ ہے کہ جس نے چھ روز میں آسمانوں اور زمین کو بنایا پھر تخت پر بیٹھ کر انتظام کرنے لگا۔ کوئی سفارش نہیں کرسکتا مگر اس کی اجازت کے بعد۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب سو اسی کی عبادت کرو۔ کیا تم (پھر بھی) نہیں سمجھتے۔

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کے پاس تم سب کو پھر کر جانا ہے۔ اللہ نے سچا وعدہ کیا ہے وہی اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی بار دیگر پیدا کرے گا تاکہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ان کو انصاف سے بدلہ دے اور جنہوں نے انکار کیا ہے ان کے لئے کھولتا پانی اور عذاب الیم ہے۔

ترکیب : للناس کان سے متعلق ان اوحینا اسم عجبًا خبر ان انذر تفسیر ہے اوحینا کی وعد اللّٰہ اور اسی طرح حقًا منصوب ہیں فعل محذوف کے مصدر ہو کر لآیات اسم ان فی اختلاف اللیل خبر اور والنہار اللیل پر معطوف وما الخ بھی یہ سب مجرور ہیں فی کے جو خبر میں شامل ہیں۔ الذین اسم ان اسم والذین ھم اس پر معطوف اولئک خبر دعواھم مبتدا سبحانک اللہم خبر استعجالہم منصوب ہے بنزع خافض ای کا ستعجالہم۔
Ayahs 10:5–8

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

ان کے انکار کرنے کے بدلہ میں۔ وہی تو ہے کہ جس نے سورج کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو روشن کردیا اور اس کی منزلیں 1 ؎ مقرر کردیں تاکہ تم کو برسوں کی گنتی اور حساب معلوم رہے۔ نہیں بنایا اللہ نے یہ سب کچھ مگر تدبیر سے وہ سمجھداروں کے لئے کھول کر نشانیاں بیان کرتا ہے۔

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

بیشک رات دن کے بدلنے میں اور جو کچھ اس نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کر رکھا ہے (اس میں) البتہ پرہیزگاروں کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جو لوگ کہ ہم سے ملنے کی 1 ؎ امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر ریجھ گئے اور اسی پر مطمئن ہوگئے اور وہ جو ہماری آیتوں سے غافل ہیں ‘

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے، ان کے کاموں کے بدلہ میں جو وہ کیا کرتے تھے۔

1 ؎ چاند کی منزلیں یہ ہیں کہ وہ نمودار ہونے کے بعد ہر روز تھوڑا تھوڑا چلتا آتا ہے یہاں تک تیس یا انتیس دن میں پھر وہی آنمودار ہوتا ہے۔ اس بات کی اہل تقویم و اہل نجوم نے یہ تشریح بیان کی ہے کہ آسمان کے بارہ حصہ ہیں یعنی فرضی ٹکڑے جیسے خرپزہ کی پھانکیں جن کو برج کہتے ہیں۔ اپنی ذاتی رفتار سے چاند ایک رات دن میں ایک برج کے نصف حصہ سے کم کو طے کرتا ہے۔ جس طرح کہ آفتاب اپنی رفتار سے برس بھر میں ان بارہ برجوں کو طے کرتا ہے۔ یہ مہینے بھر میں۔ اس سے موسم اور رات دن بدلتے ہیں جن سے دنیا بھر کے اسباب زندگی غلہ اور پھول وغیرہ پیدا ہوتے ہیں اور اسی سے شمسی اور قمری مہینوں کا حساب قائم ہوا ہے۔ حقانی
Ayah 10:9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

بیشک جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کئے تو ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب ان کو رہنمائی کرے گا (مقامات سعادت کی طرف) ان کے نیچے جنات النعیم میں نہریں بہتی ہوں گی۔

تفسیر : اس سورة میں چونکہ یونس (علیہ السلام) کا عبرت انگیز ایک نیا قصہ ہے اس لئے اسی نام سے یہ سورة صحابہ میں نامزد ہوگئی۔ یہاں تک وہ سورتیں تھیں جو مدینہ میں نازل ہوئی تھیں جن میں نکاح ‘ طلاق ‘ میراث ‘ قصاص ‘ جہاد و سیاست کے احکام اور حلال و حرام کا بیان تھا۔ اب یہاں سے وہ سورتیں شروع ہوتی ہیں جو ہجرت سے پہلے آنحضرت (علیہ السلام) پر مکہ میں نازل ہوئیں جبکہ مکہ اور اس کے اطراف بلکہ بیشتر عرب بلکہ تمام دنیا پر گمراہی اور الحاد اور بدکاری اور بت پرستی اور اوہام باطلہ کے دریا موجزن تھے۔ خاص عرب میں چند گروہ تھے : (1) وہ کہ جو سرے سے خدا تعالیٰ کے وجود ہی کے قائل نہ تھے صرف دہر اور طبائع اجسام کو موجد و منفی خیال کرتے تھے۔ وما یہلکنا الا الدہر نہ حشر و نشر نہ حساب کے قائل اور نہ سلسلہ نبوت کے قائل تھے۔ (2) خدا کے تو قائل تھے مگر حشر بالا جساد اور سلسلہ نبوت کے منکر تھے۔ بتوں 1 ؎ یعنی ان کو یقین نہیں کہ مرنے کے بعد خدا کے سامنے جانا ہے۔ 12 منہ اور جنوں اور دیگر مخلوقات کی پرستش کو خدا کی رضامندی کا ذریعہ اور دنیاوی کامیابی کا وسیلہ جانتے تھے جیسا کہ ہنود کا قول ہے۔ مانعبدھم الالیقربونا الی اللّٰہ زلفٰی پھر ان چیزوں میں سے کسی کو اپنے زعم فاسد میں خدا کا بیٹا یا بیٹی ‘ کسی کو غیب دان ‘ کسی کو اس کے کارخانہ کا مدار المہام خیال کرتے تھے جس کے جواب میں اس سورة میں اپنی نسبت یدبر الامر کہنا پڑا۔ (3) کچھ حکیمانہ خیالات کے لوگ بھی تھے کہ نبوت کے منکر تھے اور عقل کو حسن و قبح کے ادراک میں کافی جانتے تھے۔ الہام اور آسمانی کتابوں کے منکر تھے۔ خصوصاً آدمی کا رسول ہو کر آنا بھی تعجب انگیز امر تھا کہ انسان باہم مساوی ہیں۔ پھر ایک شخص کو خدا سے ایسا قرب حاصل ہونا ایک امر خلاف عقل ہے۔ خصوصاً آنحضرت ﷺ کو امی اور فقیر خیال کرکے اور بھی تعجب کرتے تھے۔ یہود اور نصاریٰ اور مجوس ان کے علاوہ تھے جو اطراف عرب عراق و یمن میں رہتے تھے اور اب بھی دنیا میں جس قدر گمراہ فریق ہیں وہ انہیں اقسام ثلاثہ کی کوئی نہ کوئی شاخ ہیں۔ خدا تعالیٰ اس سورة میں ان تینوں فریق کا رد کرتا ہے اور ان کے اقوال و عقائد کا مفصلاً جواب دیتا ہے۔ فقال الر اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ قرآن بھی انہیں حروف سے مرکب ہے کہ جن سے اے فصحاء عرب تمہارے کلام مرکب ہوتے ہیں۔ پھر اگر اس میں کوئی بات انسان کی قوت سے بڑھ کر نہیں تو پھر تم بھی معمولی فصاحت و بلاغت اور زبان دانی میں محمد (صلعم) کے ہم قوم ہم ملک ہو ایسا تم بھی کہہ لاؤ لیکن نہیں کہہ سکتے کس لئے کہ تلک آیات الکتاب المبین کہ یہ آیات کتاب مبین کی آیات ہیں کہ جو انسان کی سعادت و شقاوت اور عالم آخرت کا حال اور حرام و حلال ‘ نجاست و پاکیزگی کے احکام اور قتل و میراث اور جملہ معاشرت کے قوانین بیان کرتی ہے کہ جو خاص الہامِ الٰہی کا کام ہے۔ سب سے اول قرآن مجید کا کلام الٰہی ثابت کرنا آیندہ مطالب کے لئے پر ضرور تھا۔ اس لئے سب سے اول اسی بات کو ثابت کیا۔ اس کے بعد مسئلہ نبوت شروع کیا۔ فقال اکان للناس عجبًا ان اوحینا الی رجل منہم کہ کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے انہیں میں سے ایک شخص کی طرف (یعنی محمد ﷺ کی طرف) وحی بھیجی اور وہ اس لئے کہ ان انذر الناس وبشر الذین آمنوا ان لہم قدم صدق عندربہم کہ لوگوں کو ان کے برے اعمال اور برے عقائد کے برے نتائج سے جو دنیا میں اور بیشتر مرنے کے بعد پیش آتے ہیں ٗ ڈرا دے اور ایمانداروں کو اس بات کا مژدہ سنا دے کہ ان کے رب کے پاس ان کا راستی کا پایہ ہے وہ اس کے ہاں راستباز اور اجر عظیم کے مستحق ہیں۔ اس بات پر تعجب ہی نہیں کیا بلکہ قال الکفرون ان ھذا السٰحر مبین کافریہ بول اٹھے کہ یہ نبی تو کھلا کھلا جادوگر ہے۔ مسئلہ نبوت پر جو کچھ منکرین کا شبہ اور اعتراض تھا تو یہی تھا اور اس کے سوا بطلان نبوت پر اور کوئی دلیل بھی نہیں رکھتے اور جب اغراض و مقاصد نبوت پر غور کیا جاوے جیسا کہ آیت میں مذکور ہوا تو یہ شبہ خودبخود لچر اور پوچ ہوجاتا ہے کیونکہ خدا اپنی رحمت سے کیونکر بنی آدم کو وادی ضلالت میں ٹکراتے چھوڑ دیتا۔ یہاں تک قرآن کا کتاب الٰہی ہونا اور آنحضرت ﷺ کا نبی ہونا ثابت کردیا۔ تیسرے فریق کا اور جو ان کا ہم مشرب تھا ان کا بھی رد ہوچکا۔ نبوت ثابت ہوگئی تو منصب نبوت کے پیرایہ میں فریق اول کا رد کرتا ہے۔ فقال ان ربکم الذی افلا تذکرون تک کہ تمہارا رب تو وہ ہے کہ جس نے چھ روز کے عرصہ میں آسمانوں اور زمین کو بنایا اور تخت حکومت پر بیٹھ کر ہر کام کی تدبیر و انتظام کرتا ہے یعنی یہ محسوسات ازخود نہیں بن گئے ہیں۔ یہ حادث ہیں ان کے لئے محدث ضرور ہے اور محدث بھی علیم و حکیم جو ہر شے کا انتظام شائستہ کرتا ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے اس میں فریق اول کا بکمال خوبی رد ہے اور نیز ان اوہام پرست قوموں کا بھی جو خدائی کارخانوں میں اس کی مخلوق کو ساجھی جان کر پوجتے ‘ نذر و نیاز کرتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ سب چیزوں کو تو اللہ نے بنایا اور پھر وہی سب کچھ تدبیر و تصرف بھی جہان میں کرتا ہے۔ پھر اس کا کس بات میں شریک بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا پیدا کیا ہے وہ کیا تدبیر و تصرف جہان میں کرتے ہیں اس میں دوسرے فریق کا بھی رد ہے جو مخلوق پرستی کرتا ہے یہاں تک تو مبدء کا ذکر تھا اب معاد کا ذکر کرتا ہے۔ فقال الیہ مرجعکم جمیعًا۔ کہ تم سب کو اسی کے پاس پھر کر جانا ہے۔ جدھر سے وجود عطا ہوا تھا اس کی طرف پھر کر جائے گا اور بڑی دلیل اس کی یہ ہے وعد اللّٰہ حقًا کہ اللہ نے سچا وعدہ کرلیا ہے اور اللہ بھی وہ کہ جس نے آسمان اور زمین بنائے نبی بھیجا ‘ قرآن اتارا۔ اس کے نزدیک اس کا ایفاء کیا بات ہے اور کیونکر جھوٹ ہوسکتا ہے اور اے بنی آدم ! کچھ تمہارے ہی وجود کا اعادہ نہ ہوگا بلکہ انہ یبدؤ الخلق اس نے مخلوق کو پیدا کیا یا کہو ہر وقت پیدا کرتا ہے کسی شے کا وجود ایسا نہیں کہ اس کو ایک آن بھی استقلال نصیب ہو بلکہ ہر لحظہ اسی کی طرف محتاج ہے۔ پھر جس نے یہ بساط مخلوق بچھایا ہے ثم یعیدہ وہی باردگر نیست کے بعد ہست کر دے گا۔ یہ اس لئے لیجزی الذین آمنوا الخ اول وجودِ کا رنگ وجود ثانی میں نمایاں ہوجاوے جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایمانداروں کو نیک بدلہ انصاف سے دے اور منکروں کو عذاب الیم ان کے کفر کا بدلہ ملے۔ یہاں حشر کا مسئلہ تھا اور اس کے منکرین کی پر الفاظ میں تسکین کردی گئی۔ اس کے بعد جو کچھ مخلوق آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے اس کے اندر اپنی قدرت و کمال کے دلائل اپنے حیرت انگیز تصرفات سے ثابت کرا کے امکان حشر اور اپنے وجود اور صفات کا ثبوت اور شرک کا رد کرتا ہے۔ فقال ھو الذی جعل الشمس ضیاء الخ کہ وہی تو ہے کہ جس نے آفتاب کو روشنی عطا کی ورنہ مادہ اجسام تو ایک ہی ہے پھر یہ خصوصیت کہاں سے ازخود آگئی ہے اور چاند کو اس کی منازل پر روانہ کیا۔ اس میں اپنی قدرت بھی دکھا دی اور اس سے بندوں کا فائدہ بھی کردیا کہ برسوں کا اندازہ اور ہر شے کی عمر کا حساب اس سے ہوتا ہے اور اسی طرح رات دن کے بدلنے میں اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں اس نے پیدا کیا ہے ‘ اس میں خدا ترس کے لئے بہت نشان قدرت ہیں۔ آسمانوں کے اندر ہزاروں نیّرات اور بادل اور بجلی اور بارش اور ان میں جو جو قدرت کی رنگینیاں ہیں حیرت بخش ہیں مگر نہ سب کے لئے بلکہ پرہیزگاروں کے لئے کیونکہ جو لذائذِ دنیا اور اس کے نشے میں مست ہو کر اندھے ہوگئے ہوں ھم عن آیاتنا غافلون وہ تو ہماری آیات قدرت سے غافل ہیں۔ اب یہاں سے پھر عالم آخرت کی کیفیت شروع ہوتی ہے۔ فقال اولئک ماواھم النار کہ ان کا ٹھکانا آگ ہے نہ زبردستی سے بلکہ بماکانوا یکسبون انہیں کی بری کرتوتوں سے اس کے مقابلہ میں نیکوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ ان الذین آمنوا کہ جو ایمان لائے اور ایمان ہی پر بس کرکے نہیں بیٹھ گئے بلکہ وعملوا الصالحات انہوں نے نیک کام بھی کئے ہیں۔ یہدیہم ان کا رب ان کے ایمان کی برکت سے کیونکہ اصل وہی ہے ان کو ایسے باغوں کی طرف رہنمائی کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ ان کے ایمان و اعمال صالحہ کی نہریں ہیں اور وہ جنت میں خدا کی تسبیح و تقدیس کیا کریں گے۔ دعواھم فیہا سبحانک اللہم الخ منکرین حشر جو دنیا کی نعماء میں مسرور تھے اس بیان پر یہ شبہ پیدا کیا کرتے تھے کہ اب کیوں خدا ہم کو ہمارے برے کاموں کی سزا نہیں دیتا۔ حشر پر کیوں موقوف کیا ہے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے ولو یجعل اللّٰہ الخ کہ اگر خدا لوگوں کی برائی کی سزا ایسی جلد دیا کرے کہ جیسا وہ نیکی یعنی بھلائی کے لئے جلدی کیا کرتے ہیں تو ان کا فیصلہ کبھی کا ہو چکتا۔ ہم ایک وقت تک مہلت دیتے ہیں۔ پر وہ اس میں بھی اپنی سرکشی ہی میں اندھے بنے رہتے ہیں۔ توبہ وزاری نہیں کرتے۔ اب فرماتا ہے کہ دنیا میں بھی ہم برائی کے بدلہ میں مصیبت بھیج دیا کرتے ہیں مگر اس وقت تو انسان کھڑا اور پڑا ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب اس سے وہ مصیبت دور کردیتے ہیں تو پھر آنکھیں پھیر لیتا ہے۔ گویا ہم سے کوئی سابقہ ہی نہیں پڑا تھا۔ بیہودہ لوگ اپنی ان باتوں پر خوش ہوتے ہیں۔ ہم نے بھی ان کی نظروں میں بیہودگی کو کھبا رکھا ہے۔ اس کے بعد پہلی امتوں کا ذکر کرتا ہے جس سے یہ ثابت کرتا ہے کہ (1) اول لوگوں کو بھی ہم نے کبھی دنیا میں ان کی بدکاری سے ہلاک کردیا ہے۔ (2) اور اول بھی رسول آئے تھے۔ ان سے بھی یہی معاملات پیش آئے تھے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ فقال ولقد اھلکنا القرون الخ اب یہ بتلایا جاتا ہے کہ ان کے ہلاک کرنے کے بعد ان کے جانشین برپا کئے تاکہ دیکھیں وہ کیا کرتے ہیں اور کیا کرنے کے ذیل میں جو کچھ قریش مکہ محمد ﷺ کے ساتھ کرتے تھے ٗ اس کا ذکر کرتا ہے۔ فقال واذا تتلی علیہم آیتنا الخ کہ جب ان کو ہماری آیات روشن جن میں کچھ ابہام و اخفاء نہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور ان میں ان کی بت پرستی اور برے کاموں کی مذمت ہوتی ہے تو قرآن سے ناراض ہو کر کہتے ہیں کہ اس قرآن کے بدلہ اور لایا ‘ اس کو بدل ڈال کہ اس میں یہ مذمت نہ ہو۔ آنحضرت ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ ان سے کہہ دو میں نہیں بدل سکتا۔ میں تو حکم کا تابع ہوں جو مجھے ارشاد ہوتا ہے تم سے کہتا ہوں۔ اگر ذرا بھی بدلوں تو عذاب عظیم تیار ہے اور تم نے یہ کیوں خیال کرلیا کہ میں اپنی طرف سے تمہیں سناتا ہوں۔ میری تم میں ایک عمر گذر گئی ہے۔ پہلے کبھی ایسا نہیں کیا افلا تعقلون پھر بھی تم نہیں سمجھتے۔ پس میں مامورمن اللہ ہوں ٗ خدا پر کوئی بہتان باندھ کر نہیں لایا ہوں کیونکہ جو ایسا کرتا ہے وانہ لایفلح المجرمون اور مجرموں کو کبھی فلاح نہیں۔ اگر تم دیکھو کہ مجھے فلاح اور فتح مبین ہے تو یقین کرلینا کہ من اللہ ہوں توریت سفر استثنیٰ کے 18 باب میں ہے کہ ” جو کوئی نبی کوئی بات میرا نام لے کر اپنی طرف سے کہے گا وہ مارا جاوے گا “۔ اب نبی ﷺ کی روز افزوں کامیابی سے بڑھ کر اور کونسا صریح معجزہ اور آپ کی صداقت کا نشان ہوسکتا ہے۔ آمنا بہ۔ ان آیات میں سعادت ازلیہ سے محروم ہونے والوں کی چار صفتیں ذکر فرمائیں : (اول) لایرجون لقاء نا۔ ابن عباس و مقاتل و کلبی کہتے ہیں اس کے معنی ہیں کہ وہ حشر سے نہیں ڈرتے۔ بعض کہتے ہیں الرجاء الطمع وھو محمول علی ظاہرہ لاوجہ لعدولہ کہ اس عالم فانی کے لذائذِ حسیہ ( خسیسہ) ‘ اکل و شرب ‘ جماع وغیرہ میں یہاں تک مستغرق ہیں کہ اس خیال نے ہمارا شوق ان کے دل سے بھلا دیا۔ ایسوں کے خاسر ہونے میں کیا کلام ہے۔ بعد مرنے کے ان کی جدائی میں تڑپیں گے۔ دوم رضوا بالحیوۃ الدنیا صفت اول میں اس طرف اشارہ تھا کہ ان کے دل میں لذات روحانیہ اور سعادت معارف ربانیہ کا شوق بھی نہیں اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ لذائذِ جسمانیہ پر غش ہیں۔ اسی کو بس سمجھتے ہیں۔ کہا کرتے ہیں کہ دنیا ہر کار میں مقدم ہے۔ شب و روز اسی کے حاصل کرنے میں سرگرداں اور ہمہ وقت اسی پر شاداں وفرحاں رہتے ہیں۔ بڑے مستحکم مکان بنائے جاتے ہیں۔ سینکڑوں برسوں کے پٹے لکھوائے جاتے ہیں۔ ادھر چند روز کے بعد دم نکل گیا سب کچھ دھرا رہ گیا۔ سوم اطمانوا بہا کہ اس پر اطمینان بھی ہے کہ جس طرح اہل سعادت کو ذکر الٰہی سے اطمینان ہوتا ہے اسی طرح ان کو حیات دنیا سے۔ چہارم والذین ھم عن آیتنا غافلون کہ ان کو خدا کی آیات قدرت اور آیات کتاب سے محض غفلت ہے۔ محبت دنیا نے عالم آخرت کی جگہ ہی دل میں باقی نہیں رکھی۔ موت کا نام سن کر گھبراتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ذکر فرماتا ہے۔ اولئک ما واھم النار بما کانوا یکسبون ان چیزوں کی محبت بعد مفارقت بدن آتش جہنم بن کر جلائے گی۔ ان کے مقابلے میں اہل سعادت کے درجات ذکر کرتا ہے۔ فقال (1) ان الذین آمنوا (2) وعملوا الصالحات انسان کی دو قوت ہیں نظری اور عملی پہلی قوت کی تکمیل تو ایمان اور معارف سے حاصل ہوتی ہے اور دوسرے ہر قسم کا عمدہ کام کرنے سے سو ان کی دونوں قوتیں کامل ہیں اور یہی سعادت کا پورا سامان ہے۔ ان مجمل لفظوں میں تمام حسنات کی طرف اشارہ ہے کہ جن کی تعلیم کے لئے انبیاء (علیہم السلام) بھیجے گئے ہیں۔ ان کے درجات ذکر فرماتا ہے : (1) یہدیھم ربہم بایمانہم کہ ان کے ایمان کی وجہ سے جو ایک نور اور چراغ ہدایت ہے اس عالم میں جنت کی طرف رہنمائی کرے گا اور نیز دنیا میں بھی ایمان ہر مراتب سعادت کی طرف ترقی کرنے کا محرک ہوتا ہے اور ذات حق اور دیگر اسرار معرفت کی طرف بھی یہی انسان کو کھینچ کرلے جایا کرتا ہے۔ (3) تجری من تحتہم الانہار فی جنات النعیم کہ ناز و نعیم کے ایسے باغوں میں رہا کریں گے جہاں ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان کے معارف جاریہ اور اعمال صالحہ جن پر وہ اس عالم میں سوار ہیں وہاں انہار الطاف رحمانی کی صورت میں ظہور کریں گے۔ یہاں تک جنت اور نعمائِ جسمانیہ کی طرف اشارہ تھا اس کے بعد نعماء روحانیہ کا ذکر کرتا ہے (3) دعواھم فیہا سبحانک اللہم دعویٰ بمعنی دعاء (یقال دعاید عودعا ودعوی کما یقال شکی یشکو شکایۃً وشکوی) یعنی وہاں ان کی دعا ان الفاظ سے ہوگی۔ بعض کہتے ہیں دعا سے مراد عبادت ہے کہ وہاں بجز اس قول کہنے کے اور کوئی عبادت نہ ہوگی۔ ابو مسلم کہتے ہیں کہ دعوے سے مراد بات چیت ‘ آپس میں پکارنا سو وہ اس قول سے ہوگی۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد طریقہ ہے کہ ان کا وہاں یہ طریقہ ہوگا۔ (4) تحیتہم فیہا سلام کہ بوقت ملاقات آپس میں تحیہ بلفظ سلام ہوگا (5) آخر دعواھم ان الحمد للّٰہ رب العلمین ان تینوں جملوں کی تفسیر میں مفسرین نے بہت سے احتمالات بیان فرمائے ہیں۔ ازا نجملہ یہ کہ اول بار جب جنت میں وعدہ الٰہی کے موافق نعماء دیکھیں گے تو سبحانک اللہم کہیں گے اور جب ایک دوسرے سے ملے گا تو سلام اور جب کلام تمام کر چکیں گے تو الحمد للّٰہ رب العلمین کہیں گے اوراقویٰ یہ ہے کہ معارفِ الٰہی میں جب ترقی کریں گے تو سبحانک اللہم کہیں گے یعنی ملائکہ کی طرح اس کے انوار و تسبیح و تقدیس میں مستغرق رہیں گے اور جب باہمی اختلاط ہوگا تو ایک دوسرے کو سلامتی کے ساتھ خطاب کرے گا اور وہاں کی لذائذِ روحانیہ و جسمانیہ پر مخطوظ ہو کر الحمد للّٰہ رب العلمین کہیں گے یعنی شادی اور سرور میں ہوں گے۔ والعلم عند اللہ
Ayahs 10:10–17

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

جہاں ان کی گفتگو سبحانک اللہم 2 ؎ (یعنی اے خدا تیری ذات پاک ہے) اور ان کی باہمی دعا خیر سلام علیکم ہوگی اور ان کی اخیر بات الحمد للہ رب العلمین ہوگی

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر اللہ بھی ویسی ہی سزا دینے میں جلدی کیا کرتا جیسا کہ لوگ اپنے فوائد کے لئے جلدی کیا کرتے ہیں تو ان کا وقت بھی پورا ہوچکا ہوتا (لیکن) ہم ان لوگوں کو کہ جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے ان کی گمراہی میں سرگرداں ہی چھوڑے رکھتے ہیں

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جبکہ انسان کو دکھ پہنچتا ہے تو لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے ہم کو پکارتا ہے۔ پھر ہم اس کا دکھ اس سے دور کردیتے ہیں تو ایسا ہو کر چلتا ہے کہ گویا اس نے (کبھی) ہم کو اس دکھ کے رفع کرنے کے لئے جو اس کو پہنچا تھا پکارا ہی نہ تھا۔ بیہودہ لوگوں کے کام ان کی (نگاہ میں) یوں آراستہ کئے گئے ہیں

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور تم سے پہلے ہم بہت سی امتوں کو ہلاک کرچکے ہیں جبکہ وہ ظلم کرنے لگے تھے اور ان کے پاس ان کے رسول معجزے (بھی) لے کر آئے تھے اور وہ کیا ماننے والے تھے۔ ہم نافرمانوں کو یوں بدلہ دیا کرتے ہیں۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے تم کو زمین پر جانشین کیا تاکہ ہم دیکھیں گے تم کیسے کام کرتے ہو ؟

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جبکہ ان کو ہماری کھلی کھلی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ کہ جن کو ہم سے ملنے کی امید نہیں یہ کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لے آیا اس کو بدل دے (سو اے رسول ! آپ ان سے) کہہ دیجئے۔ میرا کیا مقدور کہ میں اس کو اپنی طرف سے بدل دوں۔ میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی کیا گیا۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے۔

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

کہو اگر اللہ چاہتا تو میں اسے پڑھ کر نہ سناتا (اور) نہ اس کی تمہیں خبر کرتا کیونکہ میں تو اس سے پہلے تم میں ایک عمر گزار چکا ہوں۔ پھر کیا تم نہیں سمجھتے۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

سو اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلا دے۔ بیشک نافرمانوں کو ہرگز فلاح نہ ہوگی۔

2 ؎ ہر قسم کی خوبیاں اللہ ہی کو سزا وار ہیں۔ جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔
Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور وہ اللہ کے سوا اس چیز کو پوجتے ہیں کہ جو نہ ان کو ضرر ہی دے سکتی ہے نہ نفع اور کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کے نزدیک ہماری سفارش کرنے والے ہیں (سو کہہ دیجئے) کہ کیا تم اللہ کو وہ بات بتلاتے ہو کہ جس کو نہ وہ آسمانوں میں پاتا ہے نہ زمین 1 ؎ میں (ان سے کہہ دو کہ) وہ پاک اور بری ہیں ان کے شریک مقرر کرنے سے

1 ؎ یعنی اس کا کہیں بھی وجود نہیں فرضی بات ہے۔ 12 منہ ترکیب : مالایضرھم مفعول ہے یعبدون کا من دون اللّٰہ مفعول کی صفت سبحانہ منصوب ہے مصدر ہو کر فعل محذوف کا واذا اذقنا شرط اذا مفاجاتیہ جواب اذاھم فلما کا جواب۔ تفسیر : لا یفلح المجرمون کے بعد ان کے جرم صریح اور اعتقاد قبیح کی تصریح فرماتا ہے کہ یعبدون الخ خدا کے سوا ایسی بےسود چیزوں کی عبادت کرتے ہیں کہ نہ ان کو کچھ نفع دے سکتی ہیں عبادت کرنے سے نہ نقصان ترک عبادت سے اور اپنے زعم فاسد میں ان کا ان سے یہ نفع خیال کرنا بھی غلط ہی ہے لا شفاؤنا عند اللّٰہ یہ ہماری خدا کے ہاں سفارش کرتے ہیں ہم ان مورتوں یا اپنے بزرگوں سے مانگتے ہیں وہ اللہ سے سفارش کرکے ہمارے مطالب دلاتے ہیں کیونکہ اتُنَبَّئُوْنَ اللّٰہ الخ جب اللہ ہی کے علم میں ایسے سفارشیوں کا وجود نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں تو پھر تم کہاں سے خدا کے سفارشی بتلا رہے ہو۔ سبحانہ الخ یہ تمہارے سب خیالات فاسدہ ہیں۔ اس قسم کے سفارشی اس کے کارخانہ قدرت میں شریک ٹھہرتے ہیں۔ وہ شریکوں سے پاک اور بری ہیں۔ عرب کے مشرک (بلکہ ہند) وغیرہ بلاد کے اب تک کے مشرکین ایسی بدیہی البطلان باتوں پر الزام کھا کے یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ یہ دستور آج سے نہیں قدیم سے ہے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے : ماکان الناس الخ کہ تمہارا یہ کہنا غلط ہے کس لئے کہ ابتدائِ آفرنیشِ آدم سے مدت دراز تک سب اپنی فطرت کے موافق ایک ہی امت یعنی موحد اور خدا پرست تھے۔ یہ تو بعد میں کجرو وں نے فطرتِ الٰہی میں اختلاف کرکے بت پرستی اور گمراہی نکالی ہے جن کی تم مورتیں پوجتے ہو۔ انہیں کو دیکھو کہ وہ اکثر موحد اور خدا پرست تھے نہ وہ کسی کو پوجتے تھے نہ کسی قبر پر سجدہ کرتے تھے نہ ان کی نذر و نیاز کرکے منتیں مانگتے تھے۔ نوشتہ ازلی یوں ہے ورنہ ابھی فیصلہ ہوجاتا۔ عرب کے جاہلوں کی ایک یہ بھی عادت تھی کہ دل میں قائل ہو کر آنحضرت ﷺ سے اپنی خواہش کے موافق معجزہ طلب کیا کرتے تھے۔ چونکہ ایسے عنادیوں کے کہنے پر معجزہ ظاہر کرنا قانون نبوت اور قاعدہ قضاء و قدر کے خلاف ہے ان کے قول لولا انزلنا علیہ آیۃ من ربہ کے جواب میں انما الغیب الخ فرمایا گیا کہ یہ اسی کے اختیار میں ہے جانے وہ کب ظاہر کرے۔ یہ غیب کی بات وہی جانتا ہے اور ممکن ہے کہ آیت سے مراد ان کی وہ ہلاکی اور کفار کی مغلوبی ہے کہ جس کا آنحضرت ﷺ نے ان سے وعدہ کیا تھا۔ سو وہ اس کا وقت پوچھتے ہوں گے جس پر یہ فرمایا گیا۔ اس لئے اس کے بعد ان سے دو واقعے ایسے بیان کئے جاتے ہیں کہ جن میں آیت اللہ آنکھوں سے دیکھ کر منحرف ہوجاتے ہیں۔ اول کی طرف اذا اذقتا الناس الخ میں اشارہ ہے۔ ارسلنا سے مراد ملائکہ ہیں جو انسان کے نیک و بد اعمال لکھتے ہیں۔ دوم کی طرف ھوالذی یسیرکم الخ میں دریائی سفر میں جب تم طوفان اور گرداب میں پھنستے ہو تو ہمیں کو خالص پکارتے ہو پھر منحرف ہوجاتے ہو ٗ یہ کیا کم نشانی ہے۔
Ayah 10:19

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

(اور شروع میں) لوگ ایک ہی گروہ کے تھے۔ پھر مختلف ہوگئے اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات 2 ؎ نہ ہوچکی ہوتی تو جس میں کہ وہ اختلاف کر رہے ہیں ان کا اس میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا

2 ؎ یعنی حق و باطل کی حقیقت کا انکشاف کلی قیامت ہی پر منحصر ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو دنیا میں بھی کردکھاتے۔ 12 منہ
Ayahs 10:20–21

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اس کے رب کی طرف سے کوئی بڑا معجزہ 3 ؎ کیوں نہ اترا تو کہہ دو کہ غیب کی خبر تو اللہ ہی کو ہے (لیکن) تم انتظار کرو تمہارے ساتھ میں بھی انتظار کر رہا ہوں 4 ؎۔

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو مصیبت کے بعد جو ان پر پڑتی ہے ہم رحمت کا ذائقہ چکھا دیتے ہیں تو فوراً ہماری آیتوں میں حیلہ سازی کرنے لگتے ہیں۔ اے نبی کہہ دو اللہ کا حیلہ تو بہت تیز ہے۔ بیشک ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) تمہاری حیلہ گری لکھ رہے ہیں۔

3 ؎ چناچہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے جب بوقت صلیب یہودیوں نے معجزہ طلب کیا تو نہ دکھایا جیسا کہ انجیل متی کے 28 باب میں ہے پھر پادری صاحب اس آیت سے آنحضرت ﷺ کے معجزات کا انکار کیوں کرتے ہیں۔ 12 منہ 4 ؎ اخیر نتیجہ کا۔ 12 منہ
Ayahs 10:22–23

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں لئے پھرتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور موافق ہوا سے وہ کشتیاں ان کو لئے جا رہی ہیں اور یہ خوش خوش ہیں کہ (دفعۃً ) پر تند ہوا چلنے لگی اور ہر طرف سے ان پر پانی کی دھڑیں گرنے لگیں اور یقین ہوگیا کہ اب تو (برے) گھر گئے۔ جب تو خالص اللہ ہی کو مان کر اس کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دی تو ضرور ہم تیرا شکر کیا کریں گے۔

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

پھر جب وہ ان کو نجات دیتا ہے تو زمین پر اترتے ہی ناحق کی سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ لوگو ! تمہاری سرکشی تمہاری ہی جان کا وبال ہے۔ زندگی دنیا کے مزے ہیں لے لو پھر تو لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے تب ہم تمہیں بتائیں گے کہ تم کیا کیا کرتے تھے۔

1 ؎ ریح عاصف ہے ذات عصف وقیل العصوف مختص بالریح فلاحاجۃ الی الفارق وقیل الریح قدیذکر 12 ابو السعود۔ ومعنی العصف السرعۃ یقال ناقۃ عاصف کبیر 12 منہ
Ayahs 10:24–27

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

زندگی دنیا کی مثال تو بس پانی کی سی ہے کہ جس کو ہم نے آسمان سے برسایاجس سے زمین 1 ؎ کی وہ بوٹیاں اس سے مل کر نکلیں کہ جن کو آدمی اور چارپائے کھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب زمین اپنی تازگی پر آئی اور ہری بھری ہوگئی اور زمین والوں نے سمجھ لیا کہ اب یہ ہمارے قابو میں آگئی (کہ یکایک) رات یا دن میں اس پر ہمارا حکم آپہنچا۔ تو ہم نے اس کا ایسا ستھراؤ کردیا کہ گویا یہاں کل کچھ بھی نہ تھا۔ ہم اس طرح سے کھول کھول کر سوچنے والوں کے لئے (اپنی قدرت کے) دلائل بیان کر رہے ہیں

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ تم کو دار السلام (جنت) کی طرف بلا رہا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھاتا ہے۔

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

نیکوں کو نیک بدلہ ہے اور کچھ بڑھ کر بھی ہے اور نہ ان کے مونہوں پر سیاہی چڑھے گی اور نہ رسوائی۔ یہی ہیں جنت والے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہا کریں گے

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جنہوں نے کہ برائیاں کمائی ہیں ان کو ویسا ہی برائی کا بدلہ ملے گا اور ان پر رسوائی طاری ہوگی۔ اللہ سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ گویا کہ ان کے چہروں پر سیاہ رات کا ایک ٹکڑا اڑھایا گیا ہے یہی ہیں دوزخی جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

1 ؎ یعنی پانی سے۔ پانی جب زمین میں پیوست ہوتا ہے تو اس امتزاج سے نباتات پیدا ہوتی ہیں جن کو انسان وبہائم کھاتے ہیں۔ آسمان کا پانی بمنزلہ زوج کے پانی کے اور زمین بمنزلہ رحم انثیٰ کے ہے۔ یہ اختلاطان کے اختلاط کے مشابہ ہے نباتات کی روئیدگی انسانی تولد سے مشابہ ہے یا برعکس کہو کیونکہ مشابہت طرفین سے ہے اب جس طرح یہ نباتات لہلہاتی اور بہار پر آتی ہیں اسی طرح انسان بھی جوانی اور بالیدگی کے ایام میں لہلہاتا ہے۔ پر جس طرح اس چند روزہ بہار کے بعد اس روئیدگی پر فنا کے آثار نمودار ہونے لگتے ہیں کہ زرد پڑتی گئی آخر گر پڑی اور ہوا میں ذرہ ذرہ ہو کر اڑنے لگی اور پائوں میں روندی گئی اور خاک سے نکلی تھی پھر خاک میں جا ملی۔ آثار پیری نمودار ہونے لگتے ہیں۔ آخر مرجاتا ہے اور خاک میں جا ملتا ہے۔ اس کی زندگی کے عیش اور اسباب کامرانی کا کہیں پتا بھی نہیں ملتا۔ پھر اس بےثبات عمر پر یہ سرکشی یہ نافرمانی پھر جس طرح سال گذشتہ کی نباتات پھر سال آیندہ میں بارش ہوتے ہی زمین سے نکل پڑتی ہے اسی طرح قیامت کے روز ایک پانی برسے گا جو ماء الحیات کے نام سے موسوم ہوگا۔ اس سے تمام انسان نباتات کی طرح زمین سے یکبارگی نکل پڑیں گے اور وہ حیات حیات ابدی ہوگی جہاں نیکی بدی کا ثمرہ ملے گا۔ انسان کی آسمانی بارش اور اس کی روئیدگی سے کیا یہی عمدہ مثال ہے۔ گویا اس کی ابتداء سے انتہاء تک کی حالت کا اسی کو مشاہدہ کرا دیا۔ 12 منہ ترکیب : کماء خبر مثل الحیوۃ بہ الباقیل للسبب ای اختلاط النبات بسبب اتصال الماء بہ وقیل المعنی خالطہ نبات الارض ممایاکل حال من النبات اتٰہا جواب اذا بالامس یرادبہ الزمان الماضی مطلقا واذا ا ریدبہ الیوم الذی قبل یومک کان یغیر اللام والذین کسبوا مبتداء اس کی خبر یا مالہم یا کانما اولئک جزا سَیّئَۃ جملہ معترضہ مبتداء بمثلہا خبر۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ یہ دنیا جس میں تم سرکشی کرتے ہو متاع ہے یعنی برتنے کی ایک بےحقیقت چیز ہے اب یہاں دنیا کی بےثباتی بیان فرماتا ہے بارش کے پانی اور اس کی روئیدگی کے ساتھ تشبیہ دے کر کہ جس طرح بارش سے زمین پر گھاس اناج اگتا ہے اور اس کی سبزی دلکش ہوتی ہے جس کو دیکھ کر کھیتی والا خوش ہوتا ہے کہ اب ہم اس سے نفع حاصل کریں گے کہ یکایک اس پر اولے پڑجاویں یا کوئی اور مصیبت آجاوے کہ کھیت صاف نظر آوے۔ اس وقت مالک کے دل میں کس قدر حسرت ہوتی ہے ؟ اسی طرح انسان منی کے پانی سے عورت کے رحم میں پیدا ہوتا اور باہر آکر جوان رعنا ہوتا ہے۔ دنیا کی چیزیں بڑی بڑی امیدوں پر سمیٹتا پھرتا ہے کہ یکایک اجل کا پیغام آتا ہے۔ پھر دنیا سے ایسا ناپید ہوتا ہے کہ گویا یہاں کبھی آیا ہی نہ تھا۔ اس ہری گھاس کی طرح جس کی عمر طبعی چند ایام تھی۔ چند برسوں کے بعد روندن ہوجاتا ہے۔ کہیں ہڈی ‘ کہیں سر کی کھوپڑی ‘ کہیں ٹانگ ‘ کہیں ہاتھ پڑا پھرتا ہے۔ پھر اس کی خاک ہو کر ذرہ اور غبار میں اڑتی پھرتی ہے۔ اس عالم میں اس کو ہزاروں حسرتیں اور اس کے مرنے پر اس کے بعد اعزہ کے دل میں داغ رہ جاتے ہیں۔ اس کے بعد عالم باقی کی طرف رغبت دلاتا ہے کہ اللہ تم کو دارالسلام یعنی جنت کی طرف بلا رہا ہے۔ وہ سلامتی کا گھر ہے نہ وہاں کوئی دکھ ہے نہ درد مگر یہ بیخبر جس طرح ماں کے پیٹ کو عمدہ جگہ سمجھ کر اس فضا میں آنے پر روتا تھا اسی طرح اس تنگ و تار دنیا سے عالم نورو سرور کی طرف جانے میں کوتاہی کر رہا ہے۔ پھر اس عالم کے لئے اس کشت دنیا میں عمدہ اور بڑے پھل بونے اور ان کے نتائج پیدا ہونے کا ذکر کرتا ہے کہ للذین نیکوں کو نیکی اور زیادہ یعنی دیدارِ الٰہی اور بروں کے لئے عذاب دائمی اور روسیاہی ہے۔ ہائے غفلت ! خدا تعالیٰ دارالسلام کی طرف بلا رہا ہے اور ہم دارالآم میں پھنسے جاتے ہیں۔
Ayahs 10:28–32

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس روز کہ ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر شرک کرنے والوں کو کہیں گے تم اور جن کو تم شریک ٹھہراتے تھے یہیں ٹھہرے رہو۔ پھر ان میں ہم جدائی کردیں گے اور ان کے معبود کہیں گے کہ تم تو ہماری بندگی نہیں کرتے تھے۔

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

پس (اب) ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ ہی کی شہادت بس ہے کہ ہم کو تو تمہاری عبادت کی خبر بھی نہ تھی۔

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

وہاں ہر شخص جو کچھ اس نے آگے بھیجا تھا جانچ لے گا اور سب اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹا کر لائے جائیں گے اور جو کچھ وہ منصوبے باندھتے تھے سب کھولے جائیں گے۔

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

پوچھئے وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی پہنچایا کرتا ہے وہ کون ہے کہ جس کے بس میں شنوائی اور بینائی ہے اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردے سے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو ہر کام کا انتظام کیا کرتا ہے۔ سو وہ عنقریب کہیں گے کہ اللہ۔ بس ان سے کہو کہ کیوں نہیں ڈرتے۔

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

پھر بھی اللہ تو تمہارا پر ورگار برحق ہے۔ پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور ہے کیا ؟ پس کدھر پھرے چلے جا رہے ہو

ترکیب : عامل یوم اذکر محذوف مکانکم ظرف مبنی ہے لوقوعہ موقع الامر ای الزموا وفیہ ضمیر فاعل وانتم توکید لہ والکاف والمیم فی موضع جر عند قوم وعند آخرین الکاف للخطاب لا موضع لھا کاف فی ایاکم وشرکاء کم عطف علی الفاعل فزیلنا عین الکلمۃ و اولانہ من زال 2 ؎ یزول وقیل ہومن زلت الشیء ازیلہ فعینہ یائ۔ تفسیر : ویوم نحشرھم یہ بیان سابقہ کا تتمہ ہے یعنی ان بت پرستوں کے ساتھ حشر کے روز یہ کیا جاوے گا جو لوگ دنیا میں اللہ کے سوا اور کسی کو پوجتے ہیں خواہ ملائکہ کو ‘ خواہ جنوں اور ارواح انبیاء و اولیاء اللہ کو ‘ خواہ عناصر اور کواکب کو ‘ خواہ ان کے نام کی مورتیں بنا کر یا یونہی ان کو پکارتے ہر کاروبار میں ان کو حاجت روا مشکل کشا جانتے ہیں۔ ان کی نذر بھینٹ کرتے ہیں جیسا کہ مکہ اور عرب کی قومیں کرتی تھیں۔ سو یہ چیزیں ان کے شرکاء یعنی فرضی معبود ہیں اور بڑا حیلہ ان کی پرستش کا یہ تھا کہ ان چیزوں کو اللہ کے پاس اپنا سفارشی خیال کرتے تھے۔ اب جو حشر کے دن ان سے اور ان سے معاملہ درپیش ہوگا حق سبحانہ اس کا ذکر فرماتا ہے کہ ہم سب کو یعنی عابدین و معبودین کو جمع کرکے یہ کہیں گے کہ ٹھہرو پھر ان عابدین اور معبودین میں فرق کردیں گے یعنی ان کو ان سے الگ کر دے گا تاکہ ان کو وہ گمان فاسد کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں غلط ثابت ہوجاوے اور اس سے بڑھ کر یہ ہوگا کہ وہ معبود خدا کی قسمیں کھا کر کہیں گے کہ اے مشرکین ! تم ہماری ہرگز عبادت نہ کرتے تھے (بلکہ اپنے شیطانی خیالات و وسواسات کی) اور ہم کو تمہاری عبادت کی خبر بھی نہیں۔ فرماتا ہے اس وقت ہر شخص کو حقیقت حال معلوم ہوجاوے گی۔ تبلو الابتلاء والاختسارر قال تعالیٰ (ویلوناھم بالحسنات والسیئات) کہ اس نے دنیا میں کیا کیا تھا یہاں کھرا کھوٹا پرکھا جاوے گا اور جب یہ معلوم ہوگا کہ تو ردوا الی اللّٰہ الخ سب معبودوں کو چھوڑ اپنے حقیقی مولیٰ کی طرف پھیر کر لائے جائیں گے اور سب منصوبے بھول جائیں گے۔ قل من یرزقکم حشر کا واقعہ جانگداز بیان فرما کر ان کے فساد مذہب پر دلائل قائم کرتا ہے۔ دلیل اول یہ چار باتیں کہ جو الوہیت کا خاصہ مختصہ اور عبودیت کے مقتضی ہیں کافر اور بت پرست بھی اللہ کے لئے مانتے تھے : (1) آسمان و زمین سے روزی دینا ‘ بارش کرنا ‘ آفتاب و ماہتاب کی گرمی سردی موافق رکھنا ‘ اولوں اور دیگر مصائب سے محفوظ رکھنا ‘ زمین سے یہ کہ اس سے طرح طرح کی نباتات اگانا ان کا اچھا پھل پھول لانا۔ (2) من یملک الخ انسان کے حواس سمع و بصر پر قادر ہونا ان سے بندوں کو منتفع کرنا۔ (3) ومن یخرج مردے سے زندہ کو پیدا کرنا اور اس کے برعکس جیسا کہ درخت یا انسان کا تخم مردہ چیز ہوتی ہے اس سے سرسبز درخت یا چلتا پھرتا انسان پیدا کرنا پھر درخت میں سے وہ دانہ اور انسان سے وہی مردہ منی پیدا کردینا یہ الٹ پلٹ اسی کا کام ہے یا کافر سے مومن ‘ مومن سے کافر پیدا کرنا وغیرہ۔ (4) من یدبر الامر تمام نظام عالم کے کاروبار ‘ تندرستی ‘ بیماری ‘ فقیری ‘ امیری۔ پھر فرماتا ہے کہ ان سے پوچھو یہ کس کے بس میں ہیں۔ وہ جب کہیں کہ اسی کے تو کہو قابل پرستش تو یہ اللہ ہے نہ کہ جن کو تم پوجتے ہو ہدایت کے چھوڑنے کے بعد بجز گمراہی کے اور کیا ہے ؟ پھر فرماتا ہے کہ باوجود اس کے جو وہ باز نہیں آتے تو یہی بات ہے کہ ازلی نوشتہ کی مار ہے۔
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

آپ کے رب کا فرمان نافرمانوں پر یوں صادق ہو کر رہا کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔

1 ؎ یعنی توحید اور ایمان قبول نہ کرنے میں ان بدبختوں کے پاس کوئی حجت نہیں اب بھی وہ نہیں مانتے تو نصیبہ ازلی کی مار ہے۔ 12 منہ
Ayahs 10:34–37

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

(اے رسول ! ان سے) پوچھو تمہارے معبودوں میں سے بھی آیا کوئی ایسا ہے کہ جو اول بار پیدا کرکے پھر بار دیگرپیدا کرتا ہو۔ کہہ دیجئے اللہ ہی مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے پھر وہی ان کو لوٹائے گا پھر تم کدھر بہکے جا رہے ہو

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

(پھر) پوچھو تمہارے معبودوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی رہنمائی کرسکے۔ کہہ دو اللہ ہی حق کی رہنمائی کیا کرتا ہے بھلا جو حق کی رہنمائی کرتا ہے اس کا کہا ماننا چاہیے یا اس کا جو اور کی رہنمائی تو کیا آپ ہی رہنمائی کا محتاج ہو۔ پھر تمہیں کیا ہوگیا کیسا انصاف کر رہے ہو

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثر تو خیالات ہی کے تابع ہیں حالانکہ خیال حق کے مقابلہ میں کچھ بھی کام نہیں آتا۔ بیشک خدا خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا ازخود گھڑ لیا گیا ہو بلکہ اگلی (کتابوں) کی تصدیق اور تفصیل ہے اس میں کوئی شبہ نہیں (یہ) تمام جہان کے رب کی طرف سے ہے۔

ترکیب : من الخ مبتداء من شرکاء کم خبر جملہ استفہامیہ افمن یہدی مبتدائء احق خبر ھذا القرآن اسم کان ان یفترٰی خبر افترًا من دون اللّٰہ تفصیل مفعول لا نزل محذوف کا۔ تفسیر : قل ھل من شرکائکم یہ دوسری دلیل ابطال شرک پر ہے اس کی تشریح اور آیات میں ہے کہ وہ انسان کو نطفہ سے علقہ پھر مضغہ سے انسان کیونکر بناتا ہے اور آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر کی چیزوں کو کس طرح سے بنایا اور پھر کیونکر دوبارہ پیدا کرے گا۔ اس لئے یہاں اجمال اور استفہام پر اکتفا کیا گیا اور جو بات مخالف کے نزدیک ظاہر ہو اور اس میں غور کرنے سے یقین کرسکتا ہو تو فصحاؤ بلغا اس کو بطور استفہام کے ذکر کرتے ہیں جس سے مخاطب کے دل پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ گو وہ اعادہ کے قائل نہ تھے اور حشر و نشر کے منکر مگر جبکہ دلائل سے ثابت کردیا گیا تو گویا اقرار کرلیا اس لئے اس کو بھی ان کے مسلمات میں سے قرار دے کر استفہام میں داخل کیا گیا اور اس کا لطف اہل مناظرہ ہی جانتے ہیں۔ ھل من شرکائکم الخ یہ تیسری دلیل ہے دوسری میں مخلوقات کے پیدا کرنے اور ان کے اعادہ سے استدلال تھا اس میں ان کی ہدایت سے استدلال ہے۔ اس میں مخلوق کے جسم سے استدلال تھا تو یہاں روح سے ہے کیونکہ بینائی شنوائی و دیگر حواس و ادراکات جو روح سے متعلق ہیں ہدایت میں کام آتے ہیں۔ ہدایت کا سلسلہ بڑا وسیع ہے۔ ہر شخص انسان سے لے کر چرند و پرند بلکہ نباتات تک اس سے فیضیاب ہے۔ دنیاوی امور اس کی معاش کی اصلاح مضرات کے دفع کرنے کی تدابیر وہی سجھاتا ہے۔ ہر نوع کو اس کے متعلق ہزارہا علوم اس نے سکھائے ہیں حتیٰ کہ نہایت آبدار کپڑا سا مکڑی بنتی ہے ٗ مکھیاں شہد نکالتی ہیں۔ انسان کیسی کلیں ایجاد کرتا اور کیا کیا بناتا ہے ؟ اسی طرح امور آخرت اور خدا پرستی کی رہنمائی بھی اسی کا کام ہے۔ ہدایت عام ہے۔ وما کان ھذا القرآن الخ ان مطالب عالیہ کے بعد پھر ان کے اس تعجب کو جو انہیں قرآن کی بابت تھا رفع کرتا ہے کہ قرآن کے یہ مطالب عالیہ خود اس کے برحق ہونے کی دلیل بین ہوجاویں اس بات کو ان چند دلائل سے ثابت کرتا ہے : (1) تصدیق الذی بین یدیہ کہ محمد (علیہ السلام) مکہ میں پیدا ہوئے ‘ وہیں جوان ہوئے ‘ وہاں نہ کوئی اہل علم تھا نہ کوئی کتب خانہ ‘ نہ آپ نے کسی سے کچھ پڑھا نہ اس کے لئے کہیں کا سفر کیا۔ باوجود اس کے ایسا قرآن ان سے ظاہر ہونا کہ جس میں خدا کی ذات وصفات و ملائکہ و دیگر اصول دینیہ و قصص انبیائِ سابقین اس کثرت سے ہوں اور پھر بھی ان امور میں پہلے انبیاء اور ان کی کتابوں سے مخالف نہ ہو بلکہ ان کا مصدق۔ یہ بات بغیر الہام ربانی و وحیِ الٰہی ممکن نہیں۔ (2) تفصیل الکتاب کہ یہ قرآن کتاب فطری یا لوح محفوظ کی تفصیل ہے۔ بیشمار علوم الٰہیات و عملیات کا اس میں ٹھیک ٹھیک اور صحیح طور پر اور اسی کے مطابق ہونا اس کے من اللہ ہونے کی دلیل بین ہے۔ اسی لئے اس کی نسبت من رب العلمین کہنا بہت صحیح ہے۔ پھر فرماتا ہے اب بھی اس کو جھوٹا کہیں تو ان سے کہہ دو کہ تم اس کی ایک سورة کے برابر تو بنا کر دکھا دو اور جس سے چاہو مدد بھی لے لو۔ پھر فرماتا ہے کہ ان کو اس کی حقیقت نہ معلوم ہوئی اس لئے اپنی نادانی سے جھٹلاتے ہیں اور قرآن کی خبریں پورا ہونے کا تو ابھی وقت بھی نہ آیا تھا۔ پہلے سے جھٹلا دیا۔ پھر جھٹلانے والوں کا انجام بھی بہت ہی برا ہوتا ہے۔
Ayah 10:38

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس کو ازخود بنا لیا ہے۔ کہو ایسی کوئی ایک سورة تم بھی تو بنا لاؤ اور جس کو چاہو خدا کے سوا (مدد کے لئے) بلا لو۔ اگر تم سچے ہو

1 ؎ یعنی قرآن مجید میں دو طرح سے اعجاز ہے۔ اول بلاغت و فصاحت سے سو اس پر بھی غور نہیں کیا کہ ہماری قدرت سے باہر ہے۔ دوم اس میں آنے والی باتیں مذکور ہیں۔ جیسا کہ مرنے کے بعد کا حال اور آنے والے مصائب یا فتوحات۔ سو ان کو بھی بےدھڑک جھٹلا دیا اور ہنوز ان کے پورا ہونے کا وقت بھی انہیں نہیں ملا کہ وقت پر پورا نہ ہونے سے تکذیب کا مضائقہ نہ ہوتا۔ 12 منہ
Ayah 10:39

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

بلکہ جس کو تم سمجھ نہ سکے اسے جھٹلانے لگے اور ابھی تو ان کو اس کا موقع ہی نہیں آیا تھا 1 ؎ ان سے پہلوں نے بھی اسی طرح جھٹلایا تھا۔ پھر دیکھو ظالموں کا کیسا برا انجام ہوا۔

1 ؎ والا فتراؤ افتعال من قریت الادیم اذا قدرتہ للقطع استعمل فی الکذب کما استعمل قولہم اختلق فلان ھذا الحدیث فی الکذب۔ 12 منہ