Ayahs 11:1–4لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 4
احکمت (مضبوط کی گئی ہے) فصلت (کھول کھول کر بیان کی گئی) الاتعبدوا (یہ کہ تم عبادت نہ کرو گے) نذیر (برے انجام سے ڈرانے والا) بشیر (اچھے اعمال پر خوش خبری دینے والا) استغفروا (تم گناہوں کی معافی مانگو) تو بوا (تم توبہ کرو، توجہ کرو) یمتع (وہ سامان (زندگی) دے گا مسمی (مقرر ، متعین) یوت (وہ دے گا) ذی فضل (فضل والا، زیادہ کام کرنے والا) اخاف (میں ڈرتا ہوں)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 4
سورئہ ھود کی ان چار آیات میں سمندر کو کو زے میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ ان آیات کی مختصر تشریح ملاحظہ کر لیجیے۔
1) آلر
اس سورت کا آغاز حروف مقطعات سے کیا گیا ہے۔ یعنی جن حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ رب العزت ہی کو ہے۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے معانی اپنے محبوب رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بتا دیئے ہوں۔ لیکن آپ ﷺ نے ان کے معافی نہیں بتائے۔ صحابہ کرام نے بھی ان حروف کے معانی نہیں پوچھے لہٰذا اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے ہمیں اس بات پر یقین رکھنا چاہئے کہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ ان کے معنی اور مراد کیا ہیں۔
اس سے پہلے سورة بقرہ وغیرہ میں تفصیل سے بتا دیا گیا ہے۔ ان معلومات کی ذہن میں تازہ کرنے کے لئے اتنا سمجھل یجیے کہ حروف مقطعات قرآن کریم کی انتسل سورتوں کی ابتداء میں آئے ہیں۔ کہیں یہ حروف ایک حرف ہیں کہیں دو تین، چار اور پانچ کا مجموعہ ہیں۔ بہرحال پانچ حروف سے زیادہ کا مجموعہ نہیں ہے۔
2) کتاب احکمت ایتہ
یعنی ان قرآنی آیات کو اللہ تعالیٰ نے نہایت مستحکم ، مضبوط جچی تلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا ہے۔ دنیا کے حالات کسی بھی رخ پر جائیں۔ کوئی بھی کروٹ لیں کائنات میں کتنی ہی بڑی سے بڑی تبدیلی آجائے۔ علم و تحقیق میں جتنی بھی ترقی ہوجائے لیکن قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصولوں اور حقائق میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ ہمارا دور کمپیوٹر اور سائنسی ترقی کا دور ہے۔ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کمپیوٹر اور سائنس جنتی بھی ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں وہ ہر دن اسلام کیا صولوں کی سچائی کو کھولتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں ان سائنسی ترقیات سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کی فکر تو ان مذہبوں کو ہونی چاہئے جن کی بنیاد مستحکم اور مضبوط سچائیوں پر نہیں ہے لیکن جس قرآن کریم کی بنیاد ان مستحکم بنیادوں پر ہے جو اللہ نے ہمیں عطا فرمائی ہیں تو انسان کے علم و تحقیق کو جوان ہونے دیجئے پھر دنیا کی ہر قوم قرآن کی سچائیوں کو ماننے پر مجبور ہوجائے گی۔
3) لم فصلت من لدن حکمک خبیر
ترجمہ : پھر ان آیات کو ایک حکمت اور خبر رکھنے والی ذات نے صاف صاف اور کھول کر بیان کردیا ہے۔
قرآن کریم کی ہزاروں خصوصیات میں سے ایک سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی آیات اس قدر واضح اور کھلی ہوئی ہیں کہ جن میں گہرائی کے باوجود کوئی منطقی اور فلسفیانہ انداز نہیں ہے بلکہ اس قدر سادہ اور صاف صاف باتیں بتائی گئی ہیں جن کو ہر شخص نہایت آسانی اور سہولت سے سمجھ سکتا ہے اور ان کو ان آیات پر عمل کرنے میں کوئی دشواری محسوس نہیں ہوتی۔ ایک تو واضح اور کھلی ہوئی آیات ہیں اور پھر اس ذات کی طرف سے ان آیات کو نازل کیا گیا ہے جس کی نگاہ سے کائنتا کا کوئی ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ وہی ذات ہر طرح کی حکمت و مصلحت سے بخوبی واقف ہے۔
4) الا تعبدوا الا اللہ
ترجمہ :- تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کرو۔
اس حکیم وخبیر ذات کا پہلا حکم ی ہے کہ اللہ ہی سب کا پروردگار ہے وہی خلاق ومالک ہے اس کے سوا کسی کی عبادت و بندگی نہ کی جائے، کیونکہ انسان جب اس در سے اپنی پیشانی کو ہٹا کر کسی بھی غیر اللہ کے در پر اپنی ” جبین نیاز “ کو جھکاتا ہے تو یہ اس کی سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔ وہی معبود ہے اس کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے لہٰذا انسان کی عزت و عظمت کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ سوائے اللہ کے کسی کے سامنے سر نیاز کو نہ جھکائے ورنہ اس کو ہر در پر اپنی پیشانی جھکانی پڑے گی۔ کسی شاعر نے اچھی بات کہی ہے۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
تمام انبیاء کرام صرف اسی پغیام کو لے کر آئے ہیں کہ انسان کی تباہی اس دن سے شروع ہوجاتی ہے جب وہ اللہ کی ذات صفات میں شرک کرتے ہوئے اپنی پیشانی کو دوسروں کے سامنے جھکاتا ہے ۔ قرآن کریم میں تمام انبیاء کرام کی زبان سے یہی کہلوایا گیا ہے کہ اے لوگو ! تم ایک اللہ کو چھوڑ کر کسی کی عبادت و بندگی نہ کرو۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بات بھی اپنی اپنی قوم کو بتا دی تھی کہ اگر تم اللہ کے ساتھ شرک و کفر سے باز نہ آئے تو اللہ تمہاری بستیوں کو اور تمہاری ترقیات کو تہس نہس کر دے گا کیونکہ وہ ہر گناہ کو معاف کردیتا ہے لیکن شرک بہت بڑا گناہ ہے یہ وہ ظلم عظیم ہے جس کو اللہ کبھی معاف نہیں کرتا۔ اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بھی یہی پغیام دیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر و شرک کے ہر انداز سے توبہ کر کے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کی وہی کامیاب و بامراد ہوئے۔ دنیا بھی ان کو ملی اور آخرت بھی ان کا مقدر بن گئی لیکن جنہوں نے کفر و شرک کو اپنا دین و ایمان بنا لیا اللہ تعالیٰ نے ان سے سب کچھ چھین کر دنیا اور آخرت کی بربادی ان کے لئے مقرر فرما دی۔
جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت سارے عرب میں غیر اللہ کی عبادت و بندگی کا یہ حال تھا کہ بیت اللہ میں تین سو ساٹھ پتھروں کے بےجان بت رکھے ہوئے تھے جو ان کی مختلف تمناؤں کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے جب یہ فرمایا کہ اے مکہ کے لوگو ! اللہ کے گھر میں غیر اللہ کے بت۔ یہ کیا تماشا ہے۔ اس کو بیت اللہ بھی کہتے ہو اور غیروں سے مانگتے ہو۔ ان کا جواب یہی ہوتا تھا کہ ہم مانتے ہیں کہ اللہ ہی سب کچھ ہے لیکن جب تک یہ بت اس کی بارگاہ میں ہماری سفارش نہ کردیں اس وقت تک اللہ ہماری بات نہیں سن سکتا۔ ان کا یہ بھی جواب ہوتا تھا کہ ہم ہی کیا ہمارے باپ داداے یہی کرتے آئے ہیں جن بارگاہوں اور آستانوں سے ہمارے باپ دادا سب کچھ حاصل کرتے رہے ہیں وہی ہمارے حاجت روا ہیں۔ نبی مکرم ﷺ نے بتایا کہ یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے۔ اگر تم ان سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ تمہارا انجام بھی وہی کرے گا جو تم سے پہلی قوموں کا کرچکا ہے۔ بہرحال سعادت مند روحیں آپ کی طرف متوجہ ہوئیں۔ ان لوگوں نے اللہ سے معافی مانگی اور وہ صحابیت کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہوگئے وہ ایسی عظمتوں کے پیکر بن گئے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ان کی عظمت پر ناز کرتا ہے۔ لیکن جن لوگوں نے اپنی روش زندگی کو تبدیل نہیں کیا انہوں نے اپنی دنیا میں خراب کرلی اور آخرت بھی۔
(5) اننی لکم منہ نذیر و بشیر
ترجمہ،- بیشک میں تو اس کی طرف سے ڈرانے والا اور بشارت دینے والا با کر بھیجا گیا ہوں۔
آیت کے اس ٹکڑے میں نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سب سے یہ کہہ دیجئے کہ میں تو اس اللہ کی طرف سے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا ہوں جو اس ساری کائنات کا مالک ہے۔ میرا کام تو یہ ہے کہ میں تمہیں یہ بات بتا دوں کہ اگر تم نے اللہ کو ایک نہ مانا اور اس کی عبادت و بندگی سے منہ موڑا تو تمہارے ان اعمال کا اثر یہ ہوگا کہ تمہاری دنیا اور آخرت سب کچھ برباد ہو کر رہ جائے گی اور اگر تم نے اللہ کی عبادت و بندگی اختیار کرلی اور ہر طرح کے کفر و شرک سے توبہ کرلی تو دنیا بھی تمہاری ہے اور آخرت کا عیش و آرام بھی تمہیں دیا جائے گا۔
6) وان استغفرواربکم
ترجمہ :- تم اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگ لو۔
درحقیقت انسان کی کامیابی اس دن شروع ہوجاتی ہے جس دن اس کے اندر یہ احساس زندہ ہوجاتا ہے کہ وہ گناہوں کی جس دلدل میں پھنسا ہوا ہے وہ اس کو تباہ و برباد کر دے گی۔ اس احساس کے ساتھ جب وہ اپنے پروردگار سے استغفار کرتا ہے۔ اپنے گناہوں سے معافی مانگتا ہے اور یہ طے کرلیتا ہے کہ میں اب ان گناہوں میں ملوث نہ ہوں گا تو اس سچی توبہ اور استغفار کے نتیجے میں اس کی دونوں جہانوں کی کامیابی شروع ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو انسان کا احساس ندامت بہت پسند ہے۔ جب وہ اس طرف قدم بڑھاتا ہے تو اللہ اس کو اپنی رحمت کے دامن میں پناہ عطا فرما دیتا ہے۔
7) ثم تو بوالیہ
ترجمہ،- پھر اسی کی طرف متوجہ رہو۔ جس کی طرف لوٹ کرجاتا ہے۔
توبہ کے معنی ہیں پلٹ جانا یعنی جب انسان اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر پوری طرح اللہ کا ہو رہتا ہے تو پھر وہ اللہ کی تمام رحمتوں کا مستحق بن جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کوئی انسان اللہ سے توبہ کرتا ہے اسی کے سامنے جھکا رہتا ہے تو اللہ اس کے گناہوں کو اسی طرح معاف فرما دیتا ہے جیسے یہ آج ہی ” ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توبہ و استغفار کی توفیق عطا فرمائے۔ “ آمین
8) یمتعکم متاعاً حسنا الی اجل مسمی و یوت کل ذی فضل فضلہ
ترجمہ :- پھر وہ تمہیں ایک مقرر اور معین مدت تک بہترین سامان زندگی اور اس پر اپنا مزید فضل و کرم عطا فرمائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک انسان اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر اور اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اس سے ماگنتا ہے تو پھر دنیا کی طلب اس کا مقصد نہیں ہوتی بلکہ آخرت کی کامیابی پیش نظر ہوتی ہے۔ لیکن اللہ کا نظام یہ ہے کہ وہ آخرت کے ساتھ ساتھ اس کی دنیا کو بھی اچھا کردیتا ہے اور یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ وہ سکون قلب کی دولت سے مالا مال کردیتا ہے۔ اگر وہ ایک طرف قیصر و کسریٰ کے تاج و تخت کو ان کے پاؤں کی دھول بنا دیتا ہے تو دوسری طرف ان کو ایسے اطمینان قلب کی دولت عطا کردیتا ہے جو ان کو دنیا کے ہزاروں غموں سے اور لالچوں سے بےنیاز کردیتا ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس دولت کی کثرت ہو لیکن نہ تو اس کو سکون قلب ہو نہ بیوی بچوں کی خوشیاں نصیب ہوں تو وہ دولت کے ڈھیر اس کے کس کام کے۔ انسان ساری زندگی سکون حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرتا رہتا ہے اور وہی اس کو حاصل نہیں ہوتا تو پھر اس دولت سے تو وہ غربت اچھی جس میں کم از کم ذہنی فکری اور قلبی سکون تو نصیب ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں بالکل وضاحت سے فرما دیا گیا ہے کہ سکون قلب صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد میں ہے اور کسی چیز میں سکون نہیں ہے۔
9) وان تولوا فانی اخاف علیکم عذاب یوم کبیر
ترجمہ :- اور اگر تم پلٹ گئے تو مجھے تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ و خوف ہے۔
یعنی اگر تم پھر اسی روشن زندگی پر پلٹ گئے تو پھر قیامت کے دن اس عذاب سے بچنانا ممکن ہوگا جو ایک بہت بڑا عذاب ثابت ہوگا۔
10) الی اللہ مرجعکم دھو علی کل شئی قدیر
ترجمہ،- اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہی وہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
یعنی انسان کی دارین کی کامیابی صرف اللہ کی طرف لوٹنے میں ہے۔ وہی ہر چیز پر پوری پوری قدرت کا ملہ رکھتا ہے۔ انسان کی کامیابی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے اس رحیم و کریم اللہ کی طرف پلٹ جائے جو اس کا خالق ومالک ہے اور ہر نعمت دینے پر مکمل قدرت و طاقت رکھتا ہے۔
Ayahs 11:5–6لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 6
ینوتن (وہ دہرا کرتے ہیں) صدور (صدر) سینے لیستخفو (تاکہ وہ چھپا سکیں ) یستغشون (وہ پہنتے ہیں) ثیاب (ثوب) کپڑے یسرون (وہ چھپاتے ہیں) یعلنون (وہ ظاہر کرتے ہیں) دابۃ (زمین پر رینگنے چلنے والا جان دار) مستقر (ٹھکانا) مستودع (سپرد کئے جانے کی جگہ)
تشریح :- آیت نمبر 5 تا 6
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے جس کائنات کو پیدا کیا ہے وہ اس کے ذرے ذرے کا علم رکھتا ہے اس کی نظروں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ اس کو مخلوقات کی حیثئیت کا بھی علم ہے اور ان کی ضرویرات سے بھی وہ بیخبر نہیں ہے۔ یہاں تک کہ انسانوں کے دلوں میں جن جذبات خائلات اور آرزؤں کی پر وشر ہوتی ہے وہ ان سے بھی واقف ہے اور زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑوں، ہواؤں میں اڑنے والے پرندوں جنگلوں میں بسنے والے درندوں اور خوردبین سے نظر آنے والی مخلوق سے نہ صرف باخبر ہے بلکہ ان کو رزق پہچانا، ان کی پر وشر کرنا اور ان کو ٹھکانا دینا اللہ کے ذمہ ہے۔ جو اللہ ہر مخلوق تک رزق پہنچاتا ہے اس کو ان کی ضروریات کا پوری طرح اندازہ ہے۔ اگر رزق پہنچانے والے کو یہی نہ معلوم ہو کہ کس مخلوق کی کیا ضرورت ہے تو وہ انہیں ان کا رزق کیسے پہنچا سکتا ہے یقینا اللہ کو اچھی طرح معلوم ہے اور اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔
بعض مفسرین نے ان آیات کے پس منظر میں یہ لکھا ہے کہ کچھ مشرکین اور منافقین جن کا کام ہی نبی کریم ﷺ سے دشمنی اور حسد رکھنا تھا وہ یہ سمجھتے تھے کہ جب ہم اپنے گھروں کے دروازے بند کر کے ان پر کپڑے لٹکا لیتے ہیں یا اپنے آپ کو فریب کے خول میں بند کرلیتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کے خلاف مشورے اور سازشیں کرتے ہیں تو ان باتوں کا کسی کو کیا علم ہو سکتا ہے ؟
اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب عنایت فرمایا ہے کہ یہ منافقین، کفار اور مشرکین اپنے ان دلی جذبات پر کتنے بھی پردے کیوں نہ لٹکا لیں۔ اپنی شخصیت پر کتنے بھی خول کیوں نہ چڑھا لیں اس اللہ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتے جس کو انسان کے دلی خیالات اور پرورش پانے والے جذبات تک کا علم ہے۔ وہ اچھی طرح واقف ہے کہ دین اسلام کے خلاف کون کو ہاں اور کیا سازشیں کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ” کتاب مبین “ لوح محفوظ میں یہ لکھ دیا ہے کہ کس مخلوق کو کتنی مہلت عمل دی جائے گی۔ اگر یہ لکھا وہا نہ ہوتا تو ان کی منافقتوں کا بہت جلد فیصلہ ہوجاتا اللہ کو پوری قدرت ہے کہ وہ آج بھی جس طرح چاہے فیصلہ کر دے وہ مجبور نہیں ہے لیکن یہ اللہ کا حلم اور برداشت ہے کہ وہ ان کو فوراً ہی نہیں پڑکتا بلکہ ان کو ایک مدت تک ڈھیل دیئے چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر بسنے والی ہر مخلوق کا رزق اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ اس نے کائنات میں ایسے اسباب پیدا کئے ہیں جن سے ہر مخلوق کو اس کا رزق اور عارضی یا مستقل ٹھکانا مل جاتا ہے وہ اللہ مخلوق کی ہر ضرورت سے اچھی طرح واقف ہے اور اس کا علم کائنات پر محیط ہے۔
وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا میں اللہ نے اسی کی وضاحت فرمائی ہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ کونسی مخلوق کہاں ہے اس کو رزق پہنچانا اللہ کا کام ہے وہ رات کو کسی کو بھوکا نہیں سلاتا۔ اس آیت کی تشریح تو واضح ہے لیکن امام قرطبی نے اپنے قبیلہ اشعر کے کچھ حضرات کا واقعہ لکھا ہے کہ اگر اس بات کا یقین کامل ہوجائے کہ رزق کا ذمہ اللہ نے لے رکھا ہے۔ وہ جنگل میں بھی کسی کو بھوکا نہیں رکھتا اور غیب سے ان کو رزق عطا کرتا ہے تو سارے کام درست ہوجائیں۔ واقعہ یہ ہے کہ قبیلہ اشعری کے چند حضرات جب ہجرت کے کر کے مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو جو کچھ کھانے پینے کا سامان تھا وہ سب ختم ہوگیا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایک کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس غرض سے بھیجا کہ ان کے کھانے وغیرہ کا کوئی انتظام فرما دیں۔ یہ صاحب جب نبی کریم ﷺ کے دروازے پر پہنچے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے اس آیت وما من دابتہ کو سنا۔ ان صاحب نے اس آیت کو سن کر سوچا کہ جب سب جانداروں کے رزق کا ذمہ اللہ نے لے رکھا ہے تو ہم اشعری لوگ اللہ کے نزدیک ان جانوروں سے گئے گذرے تو نہیں ہیں۔ وہ ہمیں رزق ضرور دے گا۔ یہ خیال کر کے وہ واپس ہوگئے اور نبی کریم ﷺ کو اپنے حال کی خبر نہ کی۔ واپس جا کر انہوں اپنے ساتھیوں حضرت ابو موسیٰ اور حضرت ابومالک اشعری سے کہا کہ خوش ہو جائو تمہارے لئے اللہ کی مدد آرہی ہے۔ اشعری لوگوں نے یہ سمجھا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اتنظام ہو رہا ہے۔ وہ اس تصور کے ساتھ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر نہیں گذری تھی دیکھا کہ دو آدمی ایک بڑے سے برتن میں گوشت اور روٹی لئے چلے آ رہے ہیں۔ لانے والوں نے یہ کھانا ان لوگوں کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ ان سب نے خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ پھر بھی کچھ کھانا بچ گیا۔ انہوں نے مناسب سمجھا کہ جو کچھ کھانا بچ گیا ہے وہ نبی مکرم ﷺ کی خدمت میں واپس بھیج دیں تاکہ آپ اپنی ضرورت میں صرف فرما لیں۔ اپنے دو آدمیوں کو یہ کھانا دے کر آپ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا۔ اس کے بعد یہ حضرات نبی کریم ﷺ کی خمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کا بھیجا ہوا کھانا بہت عمدہ اور لذیذ تھا۔ اس نے واپس آ کر یہ جواب دیا جس سے ہم یہ سمجھے کہ کھانا آپ نے بھیجا ہے۔ یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ کھانا میں نے نہیں بلکہ اس ذات اقدس نے بھیجا ہے جس نے ہر جان دار کا رزق اپنے ذمے لے رکھا ع ہے۔ یہ اور اس طرح کے واقعات اللہ کی طرف سے ہیں تاکہ ہر شخص کو اس بات کا علم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ رزق پہنچانے میں دنیا کے ذرائع اور اسباب کا محتاج نہیں ہے وہ چاہے تو ہر طرح رزق پہنچا دیتا ہے کسی کو بھوکا نہیں رکھتا۔ مگر اللہ کا قانون اپنی جگہ پر اٹل ہے کہ بغیر محنت کئے وہ گھر بیٹھے کسی کو رزق نہیں پہنچاتا، پرندے اور درندے بھی سارا دن محنت کر کے اپنا رزق حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں تب ان کا پیٹ بھرتا ہے۔ ایک پرندہ بھی جانتا ہے کہ جب میں دن بھر محنت کروں گا تب ہی میرا پیٹ بھرے گا۔ یہ میں نے اس لئے عرض کردیا کہ کہیں یہ تاثر نہ پیدا ہوجائے کہ محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے گھر بیٹھے سب کچھ مل جائے گا بیشک یہ اللہ کی قدرت ہے کہ وہ رزق بغیر اسباب کے بھی عطا فرما دے لیکن اس کا قانون کائنات یہی ہے کہ ” انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ جدوجہد کرتا ہے۔
Ayah 11:7لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 8
عرش (تخت) ل بیلو (تاکہ وہ آزمائے) ایکم (تم میں سے کون ؟ ) مبعوثون (اٹھائی جانے والے) امۃ معدودۃ (کچھ مدت) ما یحسبہ (اس کو کس چیز نے روک لیا) حاق (گھیر لے گا (گھیر لیا)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 8
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ انسان پر ایک ایسا زمانہ اور وقت بھی گذرا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تم مردے تھے یعنی تمہارے اندر زندگی کا کوئی وجود نہ تھا پھر اس نے تمہیں زندگی دی۔ پھر وہ تمہیں موت دے گا اس کے بعد پھر تمہیں زندہ کر کے پھر اپنی طرف لوٹا لے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان کا وجود ہی نہ تھا بعد میں اللہ نے اسے زندگی عطا فرمائی۔ اسی طرح زمین، آسمان، چاند، سورج، ستارے، چرند پرندے اور درند کچھ بھی نہ تھا صرف اللہ کی ذات تھی۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت جابر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے جابر اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں سے پہلے تیرے نبی ﷺ کے نور کو اپنے فیض سے پیدا کیا ۔ پھر وہ نور، قدرت الٰہی سے جہاں اللہ کو منظور ہوا سیر کرتا رہا۔ اس وقت لوح، قلم، جنت، جہنم، فرشتے، زمین اور آسمان کچھ بھی نہ تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جب اپنی مخلوقات کو پیدا کرنا چاہا تو اس کے چار حصے کئے۔
1) ایک حصے سے قلم پیدا کیا۔
2) دوسرے سے لوح کو پیدا کیا۔
3) تیسرے سے عرش کو۔
(4) چوتھے حصے سے اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا فرمایا۔
قرآن کریم میں متعدد جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا۔ اس کے بعد اس نے نظام کائنات کو درست کیا۔ اس میں ایک تو یہود و نصاریٰ کے اس عقیدے کی تردید کی گئی ہے جس میں انہوں نے اس عقیدے کو گھڑ رکھا تھا کہ اللہ نے چھ دن تک اس دنیا کی تعمیر فرمائی اور پھر نعوذ باللہ ساتویں دن اس نے آرام کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیشک اللہ نے چھ دن میں زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ پھر اس نے آرام نہیں کیا کیونکہ چھ دن کام کرنے کے بعد تو اس کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے جو تھک جاتا ہے۔ جب کہ اللہ نے فرمایا کہ ” وہ اللہ جس نے عرش و کرسی اور زمین و آسمان کو پیدا کیا وہ اس کی حفاظت سے نہیں تھکتا۔ “
چھ دن سے مراد دنیا کے چھ دن ہیں یا آخرت کے چھ دن اس کے بارے میں بعض مفسرین کا تو وہی خیال ہے جواد پر عرض کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن کا ذکر یہود نصاریٰ کے غلط عقیدے کی تردید میں ارشاد فرمایا ہے بعض مفسرین نے چھ دن سے مراد آخرت کے چھ دن کے لئے ہیں جہاں ایک دن ایک ہزار سال کا ہوتا ہے۔ ویسے تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن اس حساب سے گویا اس دنیا کو چھ ہزار سال میں تکمیل تک پہنچایا گیا ہے۔
قرآن کریم اور بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے پانی کو پیدا فرمایا اور جس طرح اب عرش الٰہی ساتویں آسمان پر ہے پہلے پانی پر تھا۔ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ” ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندگی دی ہے “ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے چیزوں میں پانی کو پہلے پیدا کیا جو آئندہ تمام اشیاء کا مادہ حیات “ بننے والا تھا۔
یہ تو کائنات اور اس کی مخلوقات کا ذکر تھا کہ اللہ نے کس طرح ان تمام چیزوں کو پیدا کیا۔ لیکن قرآن کریم ان تمام باتوں کے ساتھ اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان ساری زندگی اسی میں نہ لگا رہے کہ فلاں چیز کب اور کیسے یدا ہوئی بلکہ غور کرنے کی چیز یہ ہے کہ ان سب چیزوں کے پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ کیوں اس نظام کائنات کو سجایا گیا ہے ، زیر مطالعہ آیات میں اسی بات پر زور دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و طاقت سے ان چیزوں کو انسان کے لئے پیدا کیا ہے تاکہ اس کا امحتان لے کر اس کو جنت یا جہنم کا مستحق قرار دیا جاسکے۔ اس کا امحتان لیا جائے گا وہ انسان اس کائنات کی چیزوں میں غور و فکر کر کے اللہ کی ذات تک پہنچتا ہے یا ان ہی چیزوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے اور اپنی آخرت کی حقیقی زندگی کو برباد کرلیتا ہے۔ یقینا وہی لوگ اس امحتان میں پورے اتریں گے جو ” حسن عمل “ کو اختیار کرنے والے ہیں اور اس بات پر یقین رکھنے والے ہیں کہ ایک دن اس دنیا کو ختم کر کے ایک اور جہان تعمیر کیا جائے گا جس میں وہ ہر چیز کا حساب کتاب لیا جائے گا۔ فرمایا گیا جب نبی کریم ﷺ ان کفار کو یہ بات سمجھاتے کہ ایک وقت وہ آئے گا کہ جب تم سب انسانوں کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا تو وہ کہتے کہ جس طرح جادو ایک غلط چیز پر نعوذ باللہ آپ کا یہ ارشاد بھی جادو کی طرح بےحقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی ان باتوں پر اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دے سکتا تھا لیکن اس کو ایک مقرر مدت تک روکا ہوا ہے۔ ان کی یہ بکواس کہ آخر وہ عذاب کیوں نہیں آتا جس کے لئے کہا گیا ہے تو فرمایا کہ جب وہ عذاب آئے گا تب کوئی اس سے بچ نہ سکے گا اور اس دن ان کو پتہ چل جائے گا کہ وہ جس حقیقت کو مذاق میں اڑا رہے تھے ایک سچائی بن کر سامنے آئے گی اور اس عذاب سے کفار اپنا دامن نہ بچا سکیں گے۔
Ayahs 11:8–11لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 11
اذقنا (ہم نے چکھا دیا) منا (ہم سے) نزعنا (ہم نے کھینچ لیا، واپس لے لیا) یئوس (مایوس ہوجاتا ہے) کفور (ناشکرا) نعمآء (نعمتیں) مستہ (اس کو پہنچتی ہے) السیئات (خرابیاں، برائیاں ) فرح (وہ اترانے والے فخور (شیخی بگھارنا، بڑائی کرنا) اجر کبیر (بہت بڑا بدلہ)
تشریح : آیت نمبر 9 تا 11
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ :
ہم نے ان کو برو بحر یعنی خشکی اور تری میں عزت و سربلندی سے نوازا ہے اور ان کو ہر طرح کا پاکیزہ رزق عطا فرمایا ہے۔
دوسری جگہ ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا نائب اور خلیفہ بنا کر تمام فرشتوں کو اس کی عظمت کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ شیطان کو اس کے تکبر کی بنیاد پر ہمیشہ کے لئے بار گاہ الٰہی سے نکال دیا گیا کہ اس نے اپنے آپ کو انسان سے افضل و برتر ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ اور اسی طرح قرآن کریم میں انسان کی عزت و سربلندی کا ذکر کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پوری کائنات میں سب سے افضل و اشرف مقام عطا فرمایا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا گیا کہ انسان میں چند بہت بڑی بڑی کمزوریاں بھی ہیں ” وہ بہت کمزور پیدا کیا گیا ہے “ وہ بہت جلد باز ہے “ یعنی ہر نتیجہ کو فوراً حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کو رحمت کا مزا چکھا دیا جاتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے، فخر و غرور کرنے لگتا ہے اور اگر حالات اس کے لئے ناموافق ہوجائیں تو وہ ناشکرا پن کرتا ہے اور مایوس ہوجاتا ہے۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کو برو بحر میں فضیلت و عظمت نصیب فرمائی ہے وہیں وہ بہت سی بنیادی کمزوریوں کا مجموعہ بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان پر اگر نعمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں تو وہ ان میں مگن اور بدمست ہو کر غرور وتکبر کا پیکر بن جاتا ہے۔ اس مال و دولت کو اپنا حق سمجھ کر دوسروں کو ذلیل و خوار سمجھنے لگتا ہے اور اگر مفلسی اور تنگ دستی، پریشانی اور آزمائش کی گھڑی آجاتی ہے تو وہ شکوے شکایتیں، رونا چلانا اور مایوسی کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ مایوس ہو کر ناشکرے پن اور کفر کی باتیں شروع کردیتا ہے حالانکہ اچھے اور برے حالات ، خوش حالی و بد حالی یہ انسان کی محض ایک آزمائش ہے کبھی وہ دنیا بھر کی نعمتیں دے کر آزماتا ہے اور کبھی سب کچھ چھین کر اور مشکلات میں ڈال کر اس کا امتحان لیتا ہے۔ لیکن کون لوگ ناشکرے اور غرور وتکبر کے پتلے ہیں اور کون سب کچھ پا کر بھی اپنی، اپنے خاندان اور مال و دولت کی بڑائی کے بجائے شکر کا راستہ اپناتے ہیں فرمایا کہ وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والے جن کی خطاؤں کی معافی اور اجر عظیم ان کا منتظر ہے وہ لوگ غلط راستہ اختیار نہیں کرتے بلکہ وہ اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہو کر نیکی اور ایمان کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان اور عمل صالح ہر طرح کی خیر اور فلاح کا ذریعہ ہے جو انسان ایمان اور اعمال صالح سے دور ہیں وہی درحقیقت تکبر اور غرور کا پیکر ہیں لیکن اللہ نے جن کو ایمان اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائی ہے وہی لوگ ناموافق اور برے حالات میں بھی مایوس ہونے کے بجائے صبر و تحمل سے ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کرتے ہیں اور پانی بدحالی سے شکستہ خاطر نہیں ہوتے۔ اسی طرح آزمائش مفلسی اور تنگ حالی کی گھڑی گذرنے کے بعد جب ان کو راحتوں کا مزا چکھا دیا جاتا ہے تو اپنے آپے سے باہر نہیں ہوجاتے بلکہ شکر کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
اس مقام پر اور قرآن کریم میں متعدد جگہ فرمایا گیا کہ ” اگر ہم ان کو رحمت کا مزا چکھا دیں “ اس سے اس بات کا اظہار کرنا مقصود ہے کہ اس دنیا میں جتنی بھی راحتیں اور آرام ملتے ہیں وہ حقیقی نہیں ہیں بلک حقیقی راحت و آرام صرف آخرت میں نصیب ہوگا۔ البتہ وہ نعمتیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل پر اس کا گمان بھی گذرا (الحدیث) وہ تمام نعمتیں آخرت میں عطا کی جائیں گی ان نعمتوں کا تو اس دنیا میں تصور بھی ناممکن ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان و عمل صالح اور انبیاء و رسل کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری دنیا اور آخرت بہتر فرما کر ہمیں جہنم کی آگ سے محفوظ فرمائے۔ آمین ثم آمین
Ayahs 11:12–14لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 14
لعلک (شاید کہ آپ) تارک (چھوڑنے والا) ضائق (تنگ ہونے والا) کنز (خزانہ) ملک (فرشتہ) عشر سور (دس سورتیں) مفتریت (گھڑی گئیں) استطعتم (تم میں طاقت ہو، استطاعت ہو) لم یستجیبوا (انہوں نے جواب نہ دیا) اعلموا (تم جان لو) مسلمون (فرماں بردار، گردن جھکانے والے )
تشریح : آیت نمبر 12 تا 14
نبی کریم ﷺ کو اللہ نے اس لئے مبعوث فرمایا تھا تاکہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو اس صراط مستقیم کی طرف دعوت دیں جن میں ان کی حقیقی کامیابی اور بھلائی ہے۔ جب آپ اللہ کے پیغام کو پہنچانے کی کوشش فرماتے تو کفار و مشرکین چاروں سے آپ کو عاجز و بےبس کرنے کے لئے طرح طرح کے اعتراضات کرتے تاکہ نبی کریم ﷺ یا تو اس پیغام کو پہنچانا چھوڑ دیں یا کم از کم اس میں نرمی کا رویہ اختیار فرمائیں جس میں ان کی بت پرست اور جاہلانہ رسموں پر کوئی اعتراض نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اللہ کی طرف سے بد اعمالیوں اور کفر و شرک میں مبتلا لوگوں کو ان کے برے انجام اور نیک راہوں پر چلنے والوں کے لئے آخرت کی تمام بھلائیوں کی خوش خبری دینے والے بنا کر (بشیر و نذیر) بھیجے گئے ہیں۔ آپ اپنے فرض منصبی کو پورا کیجیے اور اللہ کے دین اور اصولوں میں کسی طرح کی نرمی اختیار نہ کیجیے۔
کفار و مشرکین آپ کو جھٹلانے ، طعنے دینے، مذاق اڑانے اور ہر طرح پریشان کرنے اور بہت سے فضول مطالبات سے رنجیدہ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے تھے۔ کبھی وہ کہتے۔
1) ہم اسلامی تعلیمات کو اس لئے نہیں مانتے کہ اس میں ہمارے بتوں اور رسموں کو برا کہا گیا ہے۔
2) فرمائش کرتے کہ یا تو کوئی دوسرا قرآن لے آئیں یا اس میں ایسی ترمیم کردیں جس میں ہمارے بتوں اور رسموں کو برا نہ کہا گیا ہو۔
3) کبھی کہتے کہ ہم اس بات کا کیسے یقین کرلیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اگر آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا جو ہر وقت آپ کے ساتھ ہوتا تو ہم یقین کرلیتے۔
4) کبھی کہتے کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو آپ کے پاس مال و دولت کے خزانے کیوں نہیں ہیں اگر آپ احد کے پہاڑ کو سونے کا پہاڑ بنا کردیں تو ہم یقین کرلیں گے۔
غرضیکہ یہ اور اسی طرح کے بہت سے طعنے دیتے تاکہ نبی کریم ﷺ عاجز و بےبس ہو کر رہ جائیں اور آپ کو اتنا ستایا جائے اور پریشان کیا جائے کہ آخر کار آپ دین کے اصولوں میں نرمی اختیار فرما لیں۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کفار عرب کو ایک دفعہ پھر یہ بتا دیا ہے کہ یہ قرآن اور اس کی تعلیمات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے خود سے نہیں گھڑ لیں کہ لوگوں کے دبائو میں آ کر پہلے کہی گئی باتوں کو چھوڑ کر دین کیا صولوں میں ترمیم کردیں بلکہ یہ اس کا کلام ہے جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے۔ ہر ایک کو ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے اسی کی ذمہ داری ہے۔ انبیاء کرام کا کام حق و صداقت کی راہوں کو کھول کر پیش کرنا ہے تاکہ ہر شخص کے سامنے ہر اچھے اور برے کام کا انجام آجائے ۔ آگے اس کا اپنا فصلہ ہے کہ وہ کس راستے کو اختیار کرتا ہے۔ اگر کوئی جنت کا راستہ چھوڑ کر جہنم اور بد نصیبی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے۔ اسی فیصلے پر اس کا انجام ہوگا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کو کہئے دیجیے اللہ خود ان سے نبٹ لے گا۔ رہی یہ بات کو قرآن کریم کو نعوذ باللہ آپ نے گھڑ لیا ہے تو فرمایا کہ ان سے کہہ دیجیے کہ تم بھی اہل زبان ہو بلکہ تمہیں تو اپنی زبان دانی پر اتنا گھمنڈ ہے کہ اپنے مقابلے میں دوسروں کو گونگا کہتے ہو۔ فرمایا کہ اس قرآن کے سامنے سب عاجز و بےبس ہو کر کیوں رہ گئے ہو ؟ فرمایا کہ قرآن تو ایک عظیم اور بہت بڑی کتاب ہے تم اور تمہارے سارے مددگار مل کر قرآن جیسی دس سورتیں بنا کر کیوں نہیں لے آتے۔ اگر تم ایک سورت بھی بنا کر نہیں لاسکتے تو ان احمقانہ اور جاہلانہ باتوں میں پھنس کر اپنی آخرت کو کیوں تباہ کر رہے ہو۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اگر یہ لوگ اللہ کے اس کھلے چیلنج کو قبول نہیں کرتے اور اس کا جواب نہیں دیتے تو پھر یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ نے پورے علم کے ساتھ نازل فرمایا ہے اور وہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے قابل نہیں ہے۔ ان کی نجات اسی میں ہے کہ وہ اللہ و رسول کے سامنے اپنی گردن جھکا دیں اور ان کی اطاعت و فرماں برداری کا طریقہ اختیار کریں۔
Ayahs 11:15–16لغات القرآن آیت نمبر 15 تا 16
یرید (وہ چاہتا ہے) زینتھا (اس کی زیب وزینت) نوف (ہم پورا دیں گے) لابیخسون (وہ کمی نہ کئے جائیں گے) حبط (ضائع ہوگیا) صنعوا (جو انہوں نے بتایا تھا) بطل (بیکار، فضول)
تشریح : آیت نمبر 15 تا 16
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے “ اس کی نیت جس طرح کی ہوگی اللہ کا معاملہ بھی اس کے مطابق ہوگا ۔ اگر ایک شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہوئے وہ اعمال سر انجام دیتا ہے جن کی زبردست فضیلتیں بیان کی گئی ہیں لیکن ان اعمال سے اس کا مقصد محض دکھاوا، شہرت اور دنیا کی بےحقیقت دولت اور مال و زر کا حصول ہو تو وہ اس شخص کے دنیاوی زندگی میں عزت و شہرت صحت و تندرستی اور خوش حالی کا ذریعہ بن جائیں گے لیکن آخرت میں اس کا دامن خالی ہوگا کیونکہ جس کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی نہ ہو بلکہ ریا کاری ہو اس کا صلہ دنیا ہی میں دیدیا جاتا ہے۔ اس سے یہ بات بالکل واضح طریقے پر سامنے آجاتی ہے کہ جب ایمان عمل صالح اور اعلیٰ ترین اعمال کے باوجود محض ریاکاری کی وجہ سے ایسے شخص کا انجام اتنا بھیانک ہے تو وہ لوگ جو نیکی اور بھلائی کے کام صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ان کاموں کا مقصد محض دنیاداری ہے تو اس کا صلہ آخرت میں ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کو اس کی نیکیوں کا بدلہ بغیر کسی کمی کے اسی دنیا میں دیدیا جائے گا۔ آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔
صحیح مسلم کی ایک حدیث جس کو حضرت انس نے بیان کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تین ایسے اصحاب کا ذکر کیا ہے صجو ایمان لانے کے بعد اللہ اور اس کے رسول کو بہت پسند ہیں، جہاد ، علم قرآن اور سخاوت) جب ایک مجاہد کو پھر ایک عالم کو پھر ایک سخی آدمی کو اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ سب کی زبان پر ہوگا کہ ہم نے جہاد کیا ہم نے علم دین کو پھیلایا اور ہم نے سخاوت سے غریبوں کا بھلا کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم نے یہ سب کچھ اس لئے کیا تھا تاکہ لوگ تمہیں مجاہد، عالم اور سخی داتا کہیں۔ تمہیں لوگوں کی تعریف اور جو انہوں نے عزت کی ہے وہ دنیا میں صلہ کے طور پر مل چکی ہے۔ اب آخرت میں تمہارے لئے کچھ نہیں ہے۔ پھر ایک کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا کہ اس سے ان کی نیت دنیاداری تھی تو جن کی نیکیوں کی بنیاد یہی دنیا داری ہو ان کی نجات اور آخرت میں صلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی بات کو زیر مطالعہ آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو شخص بھی دنیا کی زندگی اس کی زیب وزینت مانگے گا اس کو اس کے نیک اعمال کے بدلے میں نہ صرف بہت کچھ دیا جائے گا بلکہ کسی طرح کی کمی نہ کی جائے لیکن ان کا صلہ اور بدلہ اسی دنیا میں دیدیا جائے گا اور آخرت میں سوائے جہنم کی آگ کے اور کچھ نہ ہوگا اور وہ تمام کام جو انہوں نے دنیا داری کے لئے کئے تھے آخرت کی زندگی میں بیکار اور فضول بن کر رہ جائیں گے۔
ان آیات سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ جو کام ایمان لانے کے بعد کئے جاتے ہیں اگر نیت صحیح ہو تو اس کا بدلہ دنیا میں اور آخرت دونوں میں عطا کیا جاتا ہے۔ لیکن جن اعمال کی بنیاد میں ایمان نہ ہو اس کا بدلہ اسی دنیا میں بھگتا دیا جاتا ہے۔
Ayahs 11:17–22لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22
بینۃ (کھلی نشانی) شاھد (گواہی دینے والا) امام (رہنما، پیشوا) الاحزاب (حزب) ، جماعتیں موعد (وعدہ کیا گیا) یعرضون (پیش کئے جائیں گے) الاشھاد (شھید) گواہ یصدون (وہ روکتے ہیں) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) معجزین (عاجز و بےبس کرنے والے) یضعف (دوگنا دیا جائے گا) لا جرم (یقینا لازمی) اخسرون (زیادہ نقصان اٹھانے والے)
تشریح : آیت نمبر 17 تا 22
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حق و صداقت پر چلنے والے اور باطل پرستوں کا موازنہ کرتے ہوئے سوالیہ انداز اختیار فرمایا ہے کہ غور کرنے کی بات ہے کیا یہ دونوں کسی طرح بھی برابر ہو سکتے ہیں :
1) ایک وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی نشانیاں لے کر آیا ہو۔ روحانی زندگی کی جسے وہ روشنی حاصل ہو جس پر وہ اللہ کی طرف سے گواہ ہو۔ اس کو پھیلانے کی جدوجہد کرتا ہو حضرت موسیٰ اور گزشتہ انبیاء کرام پر نازل ہونے والی کتابوں کی عظمت کا امین ہو۔
2) اس کے برخلاف دوسرا شخص وہ ہے جو اللہ اور رسول پر جھوٹ گھڑتا ہو۔ جس کا کام نہ صرف خود حق و صداقت کی راہ سے رکنا ہو بلکہ دوسروں کے لئے بھی رکاوٹیں ڈالتا ہو۔ دنیا کے ہر کام میں کمزوری اور ٹیڑھ پن کی تلاش میں لگا رہتا ہو۔ جس کے خلاف انبیاء کرام اور فرشتے قیامت میں گواہی دیں گے۔ جس پر اللہ کی پھٹکار اور لعنت ہوگی۔ کیا یہ دوسرا شخص پہلے سخص کے برابر ہو سکتا ہے ؟
یقینا ہر وہ شخص جس میں ذرا بھی عقل و فہم ہوگی وہ بےساختہ کہہ اٹھے گا کہ یہ دونوں کسی طرح برابر نہیں ہو سکتے۔
فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایک ایسی کتاب ہدایت (قرآن مجید) دے کر بھیجا ہے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے رہبر و رہنما ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ پر کتاب (توریت) نازل کی گئی تھی جو اس زمانہ کے تمام لوگوں کے لئے رہبر و رہنما تھی آج نبی کریم ﷺ پر وہ کتاب نازل کی گئی ہے۔ جو حضرت موسیٰ اور تمام انبیاء کرام کی طرف بھیجی گئی کتابوں کی عظمت کی امین ہے۔ فرمایا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو اللہ کی طرف سے گواہ ہوں گے وہ نہ صرف اس کتاب کی تلاوت کرتے ہیں بلکہ اللہ کے اس ابدی پیغام کو پہنچانے کی جدوجہد فرما رہے ہیں۔ جو لوگ آپ کی لائی ہوئی تعلیمات پر ایمان کی دولت سے مالا مال ہو رہے ہیں وہیں کچھ بدقسمت لوگ وہ بھی ہیں جن کا کام اللہ کے رسول پر جھوٹ گھڑنا، سازشیں کرنا، جھوٹی باتیں مشہور کرنا، حق و صداقت کے ہر راستے سے بچ کر چلنا اور جو لوگ اس سچائی کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں ان کے لئے رکاوٹ بننا جن کا مزاج بن چکا ہے۔ جب یہ لوگ قیامت میں اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور تمام انبیاء کرام اور فرشتے اس بات کو گواہی دیں گے اے رب العالمین یہی وہ لوگ ہیں جو دین کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ تب ان پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار مسلط کردی جائے گی اور اس ہمیشہ کی زندگی میں وہ اللہ کی رحمت کے بجائے اس کی لعنت کے مستحق بن جائیں گے اور جن جھوٹے معبودوں کے سامنے یہ جھکتے تھے اور ان کو اپنا حاجت روا سمجھتے تھے۔ نہ صرف ان کے کام نہ آسکیں گے بلکہ اللہ کے سامنے بالکل صاف صاف کہہ دیں گے کہ الٰہی ہمیں تو معلوم نہیں یہ لوگ ہماری کیوں عبادت و بندگی کرتے تھے۔ ہم نے تو ان سے نہیں کہا تھا کہ ہماری عبادت کریں۔ ان جھوٹے معبودوں کے اس بیان سے ان پر حسرت و افسوس اور بھی بڑھ جائے گا اور وہ اس وقت پچھتائیں گے جو پچھتانا ان کے کام نہ آسکے گا اور یقیناً یہ لوگ دنیا اور آخرت کے لحاظ سے سخت نقصان میں رہیں گے۔
Ayahs 11:23–24لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 24
اخبتوا (وہ جھکے رہے) الریقین (دو جماعتیں) اعمی (اندھا) اصم (بہرا) بصیر (دیکھنے والا) سمع (سننے والا) یستوین (دونوں برابر ہیں) افلا تذکرون (کیا پھر بھی تم دھیان نہیں دیتے ہو)
تشریح : آیت نمبر 23 تا 24
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کی اس کیفیت کو تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ان کا کام ظلم و زیادتی کرنا، اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ گھڑنا، سازشیں کرنا دین کی ہر بات میں ٹیڑھ پن تلاش کرنا نہ تو وہ خود حق و صداقت کی راہ پر چلتے ہوں اور نہ دوسروں کو اس راہ پر چلنے کی کوششوں کو پسند کرتے ہیں بلکہ ان کے لئے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوں۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو دو گنا عذاب دیا جائے گا اور آخرت میں ان کو سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا اور ان کو جہنم میں ہمیشہ کے لئے جھونک دیا جائے گا۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو مان کر ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے والے ہیں جو ہمیشہ اللہ کے سامنے جھکے رہنے والے ہیں ان کے لئے وہ راحت بھری جنتیں ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو فریقین قرار دیا ہے یعنی ایک وہ فریق اور جماعت ہے جو اللہ و رسول کی اطاعت سے منہ پھیر کر چلنے والی ہے اور دوسرا فریق اور جماعت وہ ہے جو ایمان، عمل صالح اور اللہ کے سامنے عاجزی سے جھکے رہنے کو سعادت سمجھنے والی ہے فرمایا کہ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے جس طرح ایک اندھا اور بہرا شخص اس کے برابر نہیں ہو سکتا جو آنکھوں والا اور کانوں سے سننے والا ہو اسی طرح یہ دونوں فریق کبھی برابر کا درجہ، رتبہ اور مقام اور نجات میں برابری حاصل نہیں کرسکتے۔
فرمایا کہ اہل ایمان وہ ہیں جو ایمان کی روشنی رکھنے والے اور ہمیشہ کی نجات حاصل کرنے والے ہیں ان کو جنتیں اور تمام راعتیں عطا کی جائیں گی۔
Ayahs 11:25–30لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 30
اخاف (میں ڈرتا ہوں، اندیشہ رکھتا ہوں) الملاء (سردار) مانری (ہم نہیں دیکھتے) فضل (برتری، بڑائی) اتبعک (جو تیرے پیچھے چلا) اراذل (رذیل) معمولی حیثیت رکھنے والے بادی الرای (سوچنے سمجھنے والے نہ ہوں) عمیت (اندھا کردیا گیا جو نظر نہ آئے) نلزم (ہم مسلط کریں گے) کرھون (برا سمجھنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا ) طارد (دھکے دینے والا، نکالنے والا) طردت (میں نے نکال دیا) افلا تذکرون (کیا پھر تم اتنا غور نہیں کرتے)
تشریح :- آیت نمبر 25 تا 30
اگر تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو ابتدا سے ہی لوگوں نے انسانی شرافت اور عظمت کو مال و دولت کی ترازو پر تولنے کی کوشش کی ہے۔ جس کے پاس جتنی دولت ہے اس کا رتبہ اتنا ہی بڑا اور وہی عزت و شرافت کا مالک سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جو شخص مفلس، غریب اور خلای ہاتھ ہے وہ اپنی تمام تر شرافتوں کے باوجود معاشرہ کی نگاہ میں بہت ہی معمولی ذلیل اور نچلے طبقہ والا سمجھا جاتا ہے۔ یہ خرابی آج سے ہزاروں سال پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے۔ لیکن تمام انبیاء کرام کو جو بھی تعلیمات عطا فرمائی گئی ہیں ان میں سے اس بات کا صاف صاف اعلان موجود ہے کہ اللہ کی نظر میں صرف وہی ہے سب سے زیادہ عزت و شرافت والا ہے جو تقویٰ اور پرہیزگاری کا پیکر ہے۔ اگر ایک شخص مفلس اور غریب ہے لیکن تقویٰ میں سب سے اونچا ہے تو وہ ایسے ہزاروں لاکھوں مال داروں سے زیادہ افضل و بہتر ہے جن میں تقویٰ کی صفات موجود نہیں ہیں۔ حضرت آدم سے لے کر خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک تقریباً ہر نبی سے کفار و مشرکین نے دو باتیں ضرور کہی ہیں :
1) ہم تمہیں اللہ کا نبی کیسے مان لیں جب کہ بشریت کے لحاظ سے تمہارے اور ہمارے درمیان کوئی فرق نظر نہیں آتا تم ہمارے جیسے انسان ہو۔
2) دوسرے یہ کہ جو لوگ تمہارے ساتھ ہیں وہ معاشرہ کے گھٹیا اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے ہیں (نعوذ باللہ) جب تک تمہاری مجلسوں میں اس طرح کے لوگ موجود ہیں ہم تمہاری مجلس میں بیٹھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔
حضرت نوح پر بھی یہی دو اعتراض کئے گئے ۔ قرآن کریم میں ان دو باتوں کے تفصیلی جوابات دیئے گئے ہیں۔ مثلاً جب کفار و مشرکین نے یہ کہا کہ ” تم ہی جیسے بشر ہو “ تو اس کے جواب میں ہر نبی نے یہی فرمایا کہ بیشک ہم تم جیسے بشر ہیں لیکن ایک بہت واضح فرق ہے اور وہ یہ کہ ہماری طرف اللہ وحی بھیجتا ہے اور ہم اس کی پیروی کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا اسی وحی کی پیروی کر کے دائمی نجات حاصل کرلے یعنی کسی نبی نے کفار کے جواب میں یہ نہیں فرمایا کہ ہم بشر نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تقریباً تمام انبیاء کی زبان سے یہی کہلوایا ہے کہ اے نبی ! اس بات کا اعلان کر دو کہ ہم تم جیسے بشر ہیں لیکن ہماری طرف وحی کی جاتی ہے ۔ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو انبیاء کرام کی بشریت کا انکار کر کے جاہلوں سے ” سبحان اللہ “ کے نعرے بلند کرا کے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر انبیاء کرام بشر نہیں ہوتے تو آخر اللہ کی وہ کونسی مخلوق ہوتے ہیں جس میں وہ ان کو شامل کرتے ہیں۔ ہمیں تو قرآن کریم سے سبق ملتا ہے کہ اللہ نے اپنی ساری مخلوق میں انسان کو سب سے افضل و بہتر بنایا ہے۔ جس شیطان نے بشریت کو صرف مٹی اور گارے سے بنا ہوا پتلا سمجھا اللہ نے اس کو قیامت تک کے لئے اپنی بارگاہ سے نکال دیا اور جنہوں نے بشریت کی عظمت کو پہچان لیا اور اس کی عظمت کے سامنے اپنا سر جھکا دیا وہ اللہ کے مقرب بن گئے۔
بلاشبہ انبیاء کرام بشر ہوتے ہیں مگر ایسے بشر جن پر بشریت ناز کرتی ہے۔ اور وہ انسانی عظمتوں کی یپکر ہوتے ہیں۔
انبیاء کرام پر دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ان کے ماننے والے وہ لوگ ہیں جن کا تعلق معاشرہ کے بہت چھوٹے طبقے سے ہے۔ یہ اعتراض بھی تمام انبیاء کرام پر کیا گیا جس کا جواب ان انبیاء کرام کی زبان سے دلوایا گیا۔ مثلاً حضرت نوح سے ان لوگوں نے جن کے سامنے آپ نے ایمان کی دعوت کو پیش کیا یہی کہا کہ ہم اس بات کا کیسے اقرار کرلیں جب کہ تمہارے ماننے والے وہ سطحی رائے رکھنے والے غریب لوگ ہیں جن کی رائے اور حیثیت کا معاشرہ میں اعتبار نہیں کیا جاتا۔ حضرت نوح نے ان کے اعتراض کا نہایت متانت اور سنجیدگی سے یہی جواب دیا کہ میں تم سے کسی مال و دولت کا سوال نہیں کرتا۔ میرا اجر تو اللہ کے ذمے ہے اور میں ان لوگوں کو جو ایمان لا کر اللہ کے مخلص بندے بن چکے ہیں اپنی مجلس سے نہیں نکال سکتا کیونکہ اللہ کے ہاں کسی کی شرافت کا معیار دنیا کی گھٹیا دولت نہیں ہوتی بلکہ تقویٰ اور پرہیزگاری اور ایمان کا وہ جذبہ ہوتا ہے جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ قیامت میں وہ اللہ کی بارگاہ میں اپنا اعلیٰ مقام حاصل کرلیں گے۔ اگر میں نے اللہ کے ایسے مقرب بندوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیا تو کل قیامت میں میری مدد کون کے گا ؟
نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے بھی اسی طرح کے جاہلانہ سوالات کئے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے بھی یہی اعلان کرایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیے کہ میں تم جیسا بشر ہوں لیکن میری طرف اللہ کی وحی کی جاتی ہے دوسرے یہ کہ جو غریب ، مفلس لیکن مخلص مسلمان میرے اردگرد جمع ہیں میں ان کو اگر چند سرداروں کی خوشی کے لئے نکال دوں گا تو یہ اتنا بڑا ظلم اور زیادتی ہوگی جس کو اللہ معاف نہیں کرے گا۔