Explained with ayahs 93–95
مدین والوں پر عذاب الٰہی
جب اللہ کے نبی ؑ اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو تھک کر فرمایا اچھا تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں۔ تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والے عذاب کن پر نازل ہوتے ہیں اور اللہ کے نزدیک جھوٹا کون ہے ؟ تم منظر رہو میں بھی انتظار میں ہوں۔ آخرش ان پر بھی عذاب الٰہی اترا اس وقت نبی اللہ اور مومن بچا دیئے گئے ان پر رحمت رب ہوئی اور ظالموں کو تہس نہس کردیا گیا۔ وہ جل بھجے۔ بےحس و حرکت رہ گئے۔ ایسے کہ گویا کبھی اپنے گھروں میں آباد ہی نہ تھے۔ اور جیسے کہ ان سے پہلے کے ثمودی تھے اللہ کی لعنت کا باعث بنے ویسے ہی یہ بھی ہوگئے۔ ثمودی ان کے پڑوسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–97
سورة هُوْد 102
یہ سمجھ میں نہ آنا کچھ اس بنا پر نہ تھا کہ حضر شعیبؑ کسی غیر زبان میں کلام کرتے تھے، یا ان کی باتیں بہت مُغلق اور پیچیدہ ہوتی تھیں۔ باتیں تو سب صاف اور سیدھی ہی تھیں اور اُسی زبان میں کی جاتی تھیں جو یہ لوگ بولتے تھے، لیکن ان کے ذہن کا سانچا اس قدر ٹیڑھا ہو چاک تھا کہ حضرت شعیبؑ کی سیدھی باتیں کسی طرح اس میں نہ اُتر سکتی تھیں۔ قاعدے کی بات ہے کہ جو لوگ تعصبات اور خواہش نفس کی بندگی میں شدت کے ساتھ مبتلا ہوتے ہیں اور کسی خاص طرزِ خیال پر جامد ہو چکے ہوتے ہیں، وہ اوّل تو کوئی ایسی بات سن ہی نہیں سکتے جو ان کے خیالات سے مختلف ہو، اور اگر سُن بھی لیں تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–95
اس پند و نصیحت کے بعد پھر ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا، (آیت) وَيٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْٓ اَنْ يُّصِيْبَكُمْ مِّثْلُ مَآ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ ۭ وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ ، یعنی تم سوچو سمجھو، ایسا نہ ہو کہ میری مخالفت اور عداوت تم پر کوئی ایسا عذاب لا ڈالے جیسا تم سے پہلے قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح (علیہم السلام) پر آچکا ہے، او لوط ؑ کی قوم اور ان کا عبرتناک عذاب تو تم سے کچھ دور بھی نہیں، یعنی مقامی اعتبار سے بھی قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں مدین کے قریب ہی ہیں اور زمانہ کے اعتبار سے بھی تم سے بہت قریب زمانہ میں ان…
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ ۭ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ ۭ وَارْتَقِبُوْٓا اِنِّىْ مَعَكُمْ رَقِيْبٌ۔
انی عامل، یعنی انی عامل علی مکانتی، مکانۃ کے معنی جگہ اور منزلت کے ہیں۔ یعنی تم اپنی جگہ پر کام کرو۔ میں اپنی جگہ پر کام کرتا ہوں۔ تم میری ضد اور مخالفت میں جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر گزرو اور میں اپنے رب کی جانب سے انذار وتبشیر کے جس مشن پر مامور ہوں گا وہ کرتا رہوں گا۔ سوف تعلمون من یاتیہ عذاب یخزیہ ومن ھو کاذب۔ جلد تم جان لوگے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے، وارتقبوا انی معکم رقیب۔ تم بھی…
Read the full tafseer →93۔ 1 جب انہوں نے دیکھا کہ یہ قوم اپنے کفر و شرک پر مصر ہے اور وعظ و نصیحت کا بھی کوئی اثر ان پر نہیں ہو رہا، تو کہا اچھا تم اپنی ڈگر پر چلتے رہو، عنقریب تمہیں جھوٹے سچے کا اور اس بات کا کہ رسوا کن عذاب کا مستحق کون ہے ؟ علم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →57: یعنی میری تبلیغ کے باوجود اگر تم اپنی ضد پر قائم رہتے ہو تو آخری چارہ کار یہی ہے کہ تم اپنے طریقے پر قائم رہو، اور میں اپنے طریقے پر۔ پھر دیکھو کہ کس کا انجام کیا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ (92 : 11) “۔ ” تم اپنے راستے اور اپنے منصوبے پر عمل کرو میں اپنے پر کر رہا ہوں۔ اب میں نے تم سے اپنے ہاتھ جھاڑ لیے ہیں۔
إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ (11 : 93) “ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا ، جلدی ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔ ”
تم اپنے طریقے پر کام کرو میں اپنے پر کر رہا ہوں۔ عنقریب تمہیں اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور ہمیں اپنا۔ نیز جو عذاب تمہارے…
Read the full tafseer →9 یعنی اچھا، تم اپنی ضد اور ہٹ پر جمے رہو، میں خدا کی توفیق سے راہ ہدایت پر ثابت قدم ہوں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے کس کو خدا کا عذاب فضیحت کرتا ہے اور کون جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ اب ہم اور تم دونوں آسمانی فیصلہ کا انتظار کرتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
آیت 93 وَيٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ
تم میرے خلاف جو بھی ریشہ دوانیاں کرسکتے ہو جو بھی چالیں چل سکتے ہو ‘ اور جو اقدامات بھی کرسکتے ہو کر گزرو۔ اپنے طور پر جو کچھ میں کرسکتا ہوں ‘ جو کوشش مجھ سے بن آرہی ہے میں کررہا ہوں۔ یہ چیلنج کرنے کا انداز سورة الانعام سے چلا آ رہا ہے۔ یہ گویا مکہ کے حالات کے ساتھ تطابق کیا جا رہا ہے۔ مکہ میں حق و باطل کی کشمکش بھی اب انتہا کو پہنچ چکی تھی اور اس کی وجہ سے آپ کی طبیعت کے اندر ایک طرح کی بیزاری پیدا ہوچکی تھی کہ اب جو کچھ تم کرسکتے ہو کرلو !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
105 گویا تم میری برادری کے دباؤ کے تحت میرا لحاظ کر رہے ہو جو ابھی تک مجھے سنگسار نہیں کیا حالانکہ حقیقت میں اصل دباؤ تو اس اللہ کا سمجھنا چاہیے جس کے قبضہ قدرت میں کائنات کی ایک ایک چیز ہے اور تم خود بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہو جس کا تمہیں کبھی بھولے سے بھی خیال نہیں آتا۔ اور اگر تمہیں میری باتیں اتنی ہی ناگوار معلوم ہوتی ہیں تو جو کچھ کر رہے ہو کیے جاؤ بہرحال میں تو اپنا کام جاری رکھوں گا۔ تاآنکہ اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی فیصلہ کی ایسی صورت پیدا کردے جس سے ہر ایک کو معلوم ہوجائے کہ ہم میں راہ راست پر کون تھا اور غلط کار کون ؟
Read the full tafseer →137۔ اب عنقریب عذاب الہی خود ہی عملی فیصلہ کئے دیتا ہے کہ واقعی جھوٹا کون تھا اور سزائے ذلت کا کون مستحق تھا۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بالکل آخری اپیل ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ سارے دلائل بےاثر رہے اور کسی تبلیغ کا کچھ اثر ہی نہ ہوا تو آخر میں آپ (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ اچھا اب تک تو تم مجھ کو جھوٹا سمجھتے ہی رہے اب عنقریب عذاب الہی خود ہی عملی شکل میں فیصلہ کیے دیتا ہے کہ واقعی جھوٹا کون تھا اور سزائے ذلت کا مستحق کون ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیت نمبر 84 تا 95
ترجمہ : اور ہم نے اہل مدین کی جانب ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا میرے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کو ایک سمجھو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو، میں تم کو خوش حالی میں دیکھ رہا ہوں جس کی وجہ سے تم کو تولنے اور کم ناپنے سے مستغنی ہو، اگر تم ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے میں تم کو گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہلاک کر دے گا، اور یوم کی صفت محیط مجاز ہے عذاب کے اس میں واقع ہونے کی وجہ سے، اور اے میرے برادران قوم تم انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہنچاؤ، (یعنی)…
Read the full tafseer →ویقوم اعملوا علی مکانتکم انی عامل سوف تعلمون من یاتیہ عذاب یخزیہ ومن ھو کاذب اور اے میری قوم ! تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو ‘ میں بھی (اپنے طو رپر) عمل کر رہا ہوں۔ اب جلد ہی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ وہ کون شخص ہے جس پر ایسا عذاب آیا چاہتا ہے جو اس کو رسوا کر دے اور وہ کون شخص ہے جو جھوٹا ہے۔ مکانتہ سے مراد ہے : عداوت پر قائم رہنا۔ مَنْ یَّاْتِیْہِ میں مَن استفہامیہ ہے (کس پر عذاب آئے گا ‘ تم پر یا مجھ پر) یا موصولہ ہے (جس پر عذاب آئے گا) سورة انعام میں بھی ایسی آیت گذر چکی ہے۔ وَمَنْ ھُوَ کَاذِبٌ کا عطف مَنْ یَّاْتِیْہِ پر ہے ‘ یعنی عنقریب تم جانو گے کہ کس پر عذاب آتا ہے ‘ تم پر یا مجھ پر…
Read the full tafseer →(93) حضرت شعیب ؑ نے کہا اے میری قوم تم اپنے گھروں میں اپنے دین کے مطابق میری ہلاکت کی تدابیر کرتے رہو، میں بھی تمہاری ہلاکت کا منتظر ہوں، اب جلدی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ کون شخص ہے جس پر ایسا عذاب آنے والا ہے جو اس کو ذلیل اور ہلاک کردے گا اور کون شخص ہے جو جھوٹا تھا، تم بھی میری ہلاکت کا انتطار کرو میں بھی تمہاری ہلاکت کا منتظر ہوں۔
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ۔۔ : اس آیت میں لہجہ پچھلی آیت سے بھی سخت ہے، کیونکہ شعیب ؑ ان کے اللہ تعالیٰ کی سطوت و عزت سے بےبس انسانوں کی عزت و سطوت زیادہ سمجھنے اور ان کے ایمان لانے سے ناامید ہونے پر انھیں اللہ کے عذاب کی دھمکی دے رہے ہیں کہ تم اپنی جگہ عمل کرو، میں بھی اپنے رب کے بتائے ہوئے طریقے پر دعوت کا کام جاری رکھوں گا۔ نتیجہ بہت جلد سامنے آجائے گا۔ ان دونوں آیات میں کفار کی ان تمام باتوں کا جواب موجود ہے جو پچھلی آیت میں ذکر ہوئی ہیں کہ تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ سے باہر ہیں، ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں، صرف اپنی برادری کی وجہ سے تو سنگسار ہونے سے بچا ہوا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیت نمبر 84 تا 95
اللہ تعالیٰ کا ارشاد والیٰ مدین اخاھم شعیبا یعنی وارسلناإلی مدینہم نے مدین کی طرف بھیجا، مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ ان کی وجہ تسمیہ کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ مدین کہا گیا ہے جب کہ مراد بنو مدین ہیں۔ جس طرح مضر کہا جاتا ہے اور مراد بنومضر ہوتے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ان کے شہر کا نام ہے اس لیے اس کی طرف ان کو منسوب کردیا گیا۔ نحاس نے کہا : مدین غیر منصرف ہئ، کیونکہ یہ شہر کا نام ہے، سورة اعراف میں یہ معنی گزرچکا ہے اور کچھ اس سے زیادہ بھی۔ قال یٰقوم اعبدوا اللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ (اس کی تفسیر) گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–97
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقوم لا یجرمنکم شقاقی “ یعنی تم کو نہ آمادہ کرے میری جدائی۔
2:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” شقاقی “ سے مراد ہے میری دشمنی۔
3:۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر (رح) نے جوہر کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم ! یاد کروتم قوم نوح کو قوم عاد کو اور قوم ثمود کو (آیت) ” وما قوم لوط منکم ببعید “ اور لوط کی قوم ان سے زیادہ قریب تھی شعیب تک اور ان کا ہلاکت کا زمانہ ان سے زیادہ قریب تھا۔ (آیت) ” واستغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ ان ربی رحیم “…
Read the full tafseer →[وَيٰقَوْمِ : اور اے میری قوم ] [ اعْمَلُوْا : تم لوگ عمل کرو ] [ عَلٰي مَكَانتِكُمْ : اپنی جگہ پر ] [ انى: بیشک میں (بھی)] [ عَامِلٌ : عمل کرنے والا ہوں ] [سَوْفَ : عنقریب ] [تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ جان لو گے ] [مَنْ : کون ہے ] [ يَاْتِيْهِ : پہنچے گا جس کو ] [عَذَابٌ: ایک ایسا عذاب جو ] [ يُّخْزِيْهِ : رسوا کرے گا اس کو ] [ وَمَنْ هُوَ : اور کون ہے وہ جو ] [ كَاذِبٌ : جھوٹ کہنے والا ہے ] [وَارْتَقِبُوْٓا : اور تم لوگ انتظار کرو ] [ انى: بیشک میں (بھی)] [ مَعَكُمْ : تمہارے ساتھ ] [رَقِيْبٌ: انتظار کرنے والا ہوں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–95
اہل مدین کا بری طرح جواب دینا اور ہلاک ہونا
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت برابر جاری رہی ‘ قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ لوگ اپنے کفر و شرک پر جمے رہے انہوں نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو جو جواب دئیے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ یہ بات انہوں نے استہزاءً یا تحقیراً کہی جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری باتیں سمجھنے کے قابل نہیں ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بعض باتیں نہ سمجھتے ہوں کیونکہ توجہ کے ساتھ سنتے ہی نہ تھے۔ اپنی اس بےہودہ بات کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تم ہماری جماعت کے سامنے کمزور آدمی ہو لیکن تمہارے خاندان کے لوگ جو ہمارے ہم مذہب ہیں ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
قصہ شعیب (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاھم شعیبا .... الیٰ .... الا بعدا لمدین کما بعدت ثمود۔
(ربط) یہ چھٹا قصہ شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو خطیب الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں اور مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بڑے سرمایہ دار تھے انکا مذہب یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں کے تصرف میں آزاد اور مختار ہیں ( جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دار کہتے ہیں) جس طرح چاہیں ان میں تصرف کریں حضرت شعیب (علیہ السلام) یہ فرماتے تھے کہ یہ اموال اگرچہ تمہارے مملوک ہیں مگر تمہاری ملکیت مالک حقیقی کی ملکیت اور اس کے حکم کے ماتحت ہے۔ امانت اور دیانت کے ساتھ اور صحیح کمیل اور وزن کے ساتھ تم اس میں تصرف کرسکتے ہو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
80:۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کے جواب میں فرمایا میری قوم ! یہ کس قدر نادانی کی بات ہے کہ میرا قبیلہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ معزز و محترم ہے۔ تم میرے قبیلے کا لحاظ کرتے ہو مگر اللہ تعالیٰ کا لحاظ نہیں کرتے ہو جس کا میں پیغمبر ہوں اور تم نے اللہ کے احکام کو کمال بےاعتنائی سے پس پشت ڈال دیا ہے۔ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ: مگر یاد رکھو تمہارا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں اس لیے وہ تمہیں ہر ہر فعل کی پوری پوری سزا دے گا۔ وَیٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ : اچھا تم اپنے موقف پر قائم رہ کر اس کا نتیجہ دیکھ لو میں بھی اپنے موقف پر قائم رہ کر اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–95
ربط آیات
گزشتہ آیات میں شعیب (علیہ السلام) نے قوم کی طرف سے کئے گئے بیہودہ اعتراض کا جواب دیا تھا۔ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی نماز کو طعن کی بنیاد بنایا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم تمہارے کہنے سے اپنے آبائو اجدا کے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور نہ ہی اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے تصرف سے باز آسکتے ہیں۔ شعیب (علیہ السلام) نے اچھے طریقے سے سمجھایا کہ دیکھو ! کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت اور پاکیزہ روزی عطا فرمائی ہے۔ میں جو بات تم سے کہتا ہوں ، اس پر خود بھی عمل کرتا ہوں یعنی میرے قول و فعل میں تضاد نہیں ہے ، میں حسب استطاعت اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں اور میرا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے…
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ 0ۭ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ 0ۙ مَنْ يَّاْتِيْہِ عَذَابٌ يُّخْزِيْہِ وَمَنْ ہُوَكَاذِبٌ 0ۭ وَارْتَقِبُوْٓا اِنِّىْ مَعَكُمْ رَقِيْبٌ 93
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–93
تفسیر : اس کے بعد پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرماتا ہے جو اہل مدین کی طرف رسول بنا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کی عادت بت پرستی اور بدکاری کے علاوہ کم تولنا ‘ خیانت ‘ دغابازی کرنے کی بھی تھی جس کو وہ اپنے مال میں تصرف جائز سمجھ کر طعن کی راہ سے کہتے تھے کہ ایک آپ ہی تو بڑے اچھے شخص ہیں اور ان کی نماز پر طعن کرکے کہتے تھے کہ کیا آپ کی نماز ہم کو بت پرستی سے منع کرتی ہے ؟ باقی قصہ صاف ہے۔ یہ مدین وہی جگہ ہے کہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے بھاگ کر آئے تھے اور یہ وہی شعیب (علیہ السلام) ہیں کہ جن کی ایک صاحبزادی سے آپ کی شادی ہوئی تھی۔…
Read the full tafseer →وَیٰـقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ ط سَوْفَ تَعْلَمُوْن لا مَنْ یَّاْتِیْہِ عَذَابٌ یُّخْزِیْہِ وَمَن ھُوَ کَاذِبٌ ط وَارْتَقِبُوْ ٓٓا اِنِّیْ مَعَکُمْ رَقِیْبٌ۔ (سورۃ ہود : 93)
(اور اے میری قوم تم اپنی جگہ پر عمل کیے جاؤ اور میں اپنی جگہ پر عمل کروں گا۔ تم عنقریب جان لو گے کس پر آتا ہے وہ عذاب، جو اسے رسواکردے گا اور کون جھوٹا ہے اور تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں۔ )
اظہاربراء ت
اب تم سے صرف یہی ایک آخری بات کہی جاسکتی ہے کہ تمہیں اگر میری کسی بات پر اعتماد نہیں بلکہ ہر بات کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھتے ہو تو پھر تم سے اظہار براءت کرتے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قوم کی پے درپے مخالفت اور الزامات کے بعد بالآخر حضرت شعیب (علیہ السلام) مجبور ہو کر یہ جواب دیتے ہیں۔
اے میری قوم ! تم میرے ساتھ مزید اختلاف کرنے اور میرے راستے میں رکاوٹ بننے کی بجائے اپنے انداز سے عمل کرو اور میں اپنی جگہ مستقل مزاجی سے کام کرتا ہوں۔ بہت جلد تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسوا کردینے والا عذاب آتا ہے اور ہم میں سے کون جھوٹا ہے۔ بس تم انتظار کرو بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ انیسویں پارے میں موجود ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں یہ بھی فرمایا کہ میری برادری یا کسی اور سے ڈرنے کی بجائے اس ذات کبریا سے ڈرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے…
Read the full tafseer →93: وَیٰـقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ (اے میری قوم تم اپنی جگہ کام کرو)
فائدہ : یہ مکانۃ بمعنی مکان ہے۔ کہا جاتا ہے۔ مکان و مکانۃ و مقام و مقامۃ۔ یا نمبر 2۔ مکن کا مصد رہے فھو مکین جب کسی چیز پر قابو پالے۔ مطلب یہ ہوگا تم کام کرو۔ اس حال میں کہ تم اپنی جانب سے ٹھہرنے اور جمنے والے ہو اس جانب جو کہ شرک اور میری دشمنی والی ہے۔ نمبر 3۔ اپنی طاقت بھرمیری عداوت و دشمنی کرلو۔
اِنِّیْ عَامِلٌ (بیشک میں کام کرنے والا ہوں) اس کے مطابق جو اللہ تعالیٰ مجھے نصرت و تائید عنایت فرماتے ہیں اور مجھے ٹھکانہ دینے والے ہیں۔ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ مَنْ یَّاْ تِیْہِ عَذَابٌ یُّخْزِیْہِ وَمَنْ ھُوَ کَاذِبٌ…
Read the full tafseer →93۔” ویا قوم اعملوا علی مکانتکم یعنی اپنے تمکن و وقار پر جیسے کہا جاتا ہے ” فلان یعمل علی مکانتہ اذا عمل علی تودۃ وتمکن انی عامل سوف تعلمون “ کہ ہم میں سے کون اپنے اوپر ظلم کرنے والا ہے اور اپنے فعل میں غلطی کرنے والا ہے۔
” من یاتیہ عذاب یخریہ ومن ھو کاذب وارتقبوا “ اور عذاب کا انتظار کرو۔ ” انی معکم رقیب “ انتظار کرنے والا ہوں ۔
Read the full tafseer →93۔ پہلے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اصحاب مدین کو شرک اور کم تولنے کی عادت سے توبہ استغفار کرنے کی نصیحت کی اور یہ کہا کہ مجھ کو ڈر ہے کہ اگر تم میرا کہنا نہ مانو گے تو قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح اور قوم لوط کی طرح تم ہلاک ہوجاؤ گے جب ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا کہنا نہ مانا تو آخر درجہ انہوں نے یہ فرمایا کہ خیر جو تمہارا جی چاہے وہ کرو اب تم کو معلوم ہوجاوے گا کہ تمہاری کیا رسوائی ہونے والی ہے آخر وہی ہوا کہ تھوڑے دنوں میں عذاب آیا آگ برسی اور سب ہلاک ہوگئے آخری نصیحت حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جو اپنی امت کو کی تھی جب بلوہ کے لوگ حضرت عثمان ؓ کے گھر پر چڑھ آئے اور حضرت…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور “ جب کفار نے ان کو بہت تنگ کرکے ان کو بےبس کردیا تو شعیب (علیہ السلام) نے ان سے کہا : (آیت) ” اے میری قوم ! تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ “ یعنی تم اپنے احوال اور اپنے دین کے مطابق عمل کرتے رہو۔ (آیت) ” میں بھی کام کرتا ہوں، عنقریب تم جان لوگے کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے “ یعنی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کن پر رسوا کن اور ہمیشہ رہنے والا عذاب نازل ہوگا۔ (آیت) ” اور جھوٹا کون ہے۔ “ یعنی یہ بھی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میں جھوٹا ہوں یا تم جھوٹے ہو اور جب ان پر عذاب واقع ہوا تو انہیں معلوم ہوگیا کہ کون جھوٹا تھا ؟ (آیت) ” اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظا ر کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–112
حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا
قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
189 ۔ منکرین و معاندین کے لیے آخری جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے آخری جواب کے طور پر ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر کام کرتا ہوں۔ عن قریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ سو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔ سو اس وقت تم پر واضح ہوجائے گا کہ جھوٹا کون تھا تم یا ہم۔ کیونکہ وہ لوگ آپ کو کاذب کہتے تھے۔ (جامع البیان) جیسا کہ دوسرے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بھی کہا گیا ہے۔ بلکہ " کاذب " سے بڑھ کر ان کو " کذاب " کہا گیا جو کہ کذب سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی گمراہی اور عذاب
تشریح : یہاں قوم مدین کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ قوم مدین اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد تھی۔ بحر احمر کا وہ مقام جہاں جزیرہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آکر ملتی تھیں یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے، یعنی مدین بہت بڑی تجارتی منڈی تھی اسی لیے وہاں کے لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ مگر ان میں بت پرستی، عیش پرستی اور ناپ تول میں بددیانتی کی عادت حد سے بڑھ چکی تھی اور اس حرام خوری کی وجہ سے ان میں تمام اخلاقی برائیاں، اللہ سے دوری اور حرص و لالچ پیدا ہوچکا تھا دیکھا جائے تو مال کی حرص بہت سی اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے یہی حال ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–95
آیات 84 تا 95
اسرار و معارف
شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ مدین جو ملک شام کا مشہور شہر تھا اس کے رہنے والوں کی طرف ان ہی میں سے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ شجرپرستی میں مبتلا تھے اور مختلف درختوں کی پوجا کرتے تھے جیسے ہندومت میں آج بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کا لین دین بھی ہندؤوں جیسا تھا ڈنڈی مارنے سے نہ چوکتے ناپ تول میں کمی کردیتے ۔ سونے کے سکوں میں سے تھوڑابہت سونا کاٹ لیتے اور سکہ پوری قیمت پر چلتا کردیتے۔
ناپ تول میں کمی
چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ لہٰذا…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ میں یا تم ؟
Read the full tafseer →(11:93) اعملوا علی مکانتکم۔ (1) اپنے طریقہ کے مطابق عمل کرو۔ (2) اپنے حدّ امکان تک کوشش کرو (3) اپنی حالت کے مطابق کام کرو۔ (4) اپنی جگہ پر کام کرو۔
انی عامل۔ ای انی عامل علی مکانتی۔ یخزیہ۔ (جو) اس کو رسوا کرے گا۔
ارتقبوا امر جمع مذکر حاضر۔ ارتقاب مصدر باب افتعال۔ تم انتظار کرو۔ رقیب بروزن فعیل بمعنی فاعل۔ انتظار کرنیوالا، منتظر
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–95
لغات القرآن آیت نمبر 89 تا 95
لایجرمن (مجرم نہ بنا دے) شقاق (ضد، ہٹ دھرمی) ان یصیب (یہ کہ پہنچے گی) ودود (محبت کرنے والا) مانفقہ (ہم نہیں سمجھتے ) ضعیف (کمزور) رھط (خاندان، قبیلہ) رجمنا (ہم رجم کرتے (پتھر مار مار کر ہلاک کرنا) عزیز (زبردست، قوت و طاقت والا) اعز (زیادہ طاقتور، زیادہ قوت والا) اعز (زیادہ، طاقتور، زیادہ قوت والا) ظھری (پشت، پیٹھ) محیط (گھیرنے والا) عامل (کام کرنے والا) مکان (جگہ) یخزی (رسوا کر دے گا) کاذب (جھوٹ بولنے والا) ارتقبوا (نگرانی کرو، انتظار کرو) رقیب نگران الصیحۃ (چنگھاڑ تیز آواز) اصبحوا (وہ رہ گئے) جثمین (اوندھے پڑے رہنے والے) لم یغنوا (آباد نہ تھے) بعدت (دور…
Read the full tafseer →جن ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا کہنا نہ مانا تو آخر درجہ انہوں نے یہ فرمایا کہ '' خیر تمہارا جو جی چاہے وہ کرو، اب تم کو معلوم ہوجاوے گا کہ تمہاری کیا رسوائی ہونے والی ہے '' آخر وہی ہوا کہ تھوڑے دنوں میں عذاب آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–99
[49] اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ قوم لوط کا زمانہ بھی تم سے کچھ ایسا دور نہیں۔ ابھی حال ہی کی بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے دھمکی کو صبر و عزیمت کے ساتھ سنا اور کہا ، تمہیں میرے عزیزوں کا تو خیال ہے ، مگر اللہ کا خیال نہیں ، جس کی جانب سے میں مبعوث ہو کر آیا ہوں ، تم اس کی آواز پر کان نہیں دھرتے تمہیں اس بات کی فکر نہیں کہ وہ تمہیں کیا کہے گا تم جو چاہو ، کرتے رہو میں ہرگز تمہارے طرز عمل سے خائف نہیں ، تم عنقریب جان لوگے ، کہ جھوٹا کون ہے ، اور سچا کون ، کس پر اللہ کی رحمتیں ہیں اور کون ذلیل اور کون عذاب کا مستحق ہے ۔
چنانچہ اللہ کا عذاب آیا اور انکار کرنے والے صفحہ ہستی سے ہٹ گئے ،
اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔
Read the full tafseer →93 اور اے میری قوم ! اگر تم کو موجودہ عذاب کا یقین نہیں آتا تو تم اپنے حال پر عمل کرتے رہو میں بھی اپنی حالت پر عمل کررہا ہوں تھوڑے دنوں میں تم کو معلوم ہواجاتا ہے کہ وہ کون شخص ہے جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسکو رسوا کردے گا اور وہ کون شخص ہے جو جھوٹا تھا اور کذاب بیانی کیا کرتا تھا تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں یعنی میر بات کا تو تم کو یقین نہیں آتا میں تم کو آنے والے عذاب سے ڈرتا ہوں تم مجھ کو جھوٹا کہتے ہو اب سوائے اس کے کیا چارئہ کار ہے کہ تم اپنا کام کرتے ہو میں اپنا کام کرتا رہوں اب بہت جلد تم کو معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کن عذاب کس پر آتا ہے اور جھوٹا کون ثابت ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ف 3۔ یعنی تم دعوی نبوت میں مجھ کو جھوٹا کہتے ہو اور حقیر سمجھتے ہو تو اب معلوم ہوجائے گا کہ جرم کذب کا مرتکب اور سزائے ذلت کا مستوجب کون تھا تم یا میں دیکھیں عذاب کا وقوع ہوتا ہے جیسا میں کہتا ہوں یا عدم وقوع جیسا تمہارا زعم ہے۔
Read the full tafseer →تم جو کرتے ہو کرتے جائو اور میرا عمل بھی جاری ہے اور فیصلہ یقینا ہونے والا ہے
۔ 118 شعب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اچھا اگر تم نہیں مانتے تو تم جانو اور تمہارا کام تم وہ سب کچھ کرتے رہو جو کر رہے ہو اور میں بھی جو عمل کر رہا ہوں کرتا رہوں گا اور عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصہل بتا دے گا کہ عذاب کا مستحق کون ہے ؟ اور کون ہے جو جھوٹا اور کاذب ہے ؟ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کر رہا ہوں۔ آخر وہی ہوا جو قانون الٰہی کا ابدی و سرمدی فیصلہ ہے یعنی حجت وبرہان کی روشنی آنے کے بعد بھی جب باطل پر اصرار ہو اور اس کی صداقت کا مذاق اڑایا جائے اور اس کی اشاعت میں رکاوٹیں ڈالی جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–111
After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said:
وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ
And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you.
The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–97
102. When Shu'ayb's people stated that they did not understand much of what Shu'ayb said, they did not say so because Shu'ayb (peace be on him) spoke in some foreign language, or because he talked in an ambiguous or complicated manner. On the contrary, Shu'ayb's teaching was quite clear and simple and was conveyed to his people in a language they fully understood - their own. The difficulty in understanding Shu'ayb's teaching arose from the fact that his people had become simply too perverse to grasp it. It is always the case that when some people become fully seized by their prejudice, are…
Read the full tafseer →