11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 11:1–4

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

ال ر۔ فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ میں اس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں ، اور بشارت دینے والا بھی

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے

درس نمبر 99 ایک نظر میں یہ پہلا سبق ایک مقدمے کی شکل میں ہے اس کے بعد قصص کا حصہ اور آخر میں نتائج اور تبصرے تبصرے ہیں۔ اس تمہیدی حصے میں وہ تمام اساسی باتیں کہی گئیں ہیں جو اسلامی نظریہ حیات کی اساسی باتیں ہیں اور بنیادی حقائق ہیں۔ یعنی اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدلہ لا شریک کی ہوگی اور دین صرف اللہ کا ہوگا۔ اور یہ اعتقاد رکھنا لازم ہوگا کہ ایک دن ہم نے جزاء و سزا اور حساب و کتاب کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور یہ حساب و کتاب دنیا میں اچھے اور برے اعمال کی اساس پر ہوگا۔ کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس ابتدائیہ میں اللہ کی معرفت اور اللہ کی صفات کو اس زاویہ سے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات اس کائنات میں کس قدر موثر ہیں۔ نیز اس سبق میں ذات باری کی حقیقت اور اس کی حکمرانی ، انسان کی جانب سے اس کی بندگی اور اطاعت اور اس کے تقاضوں سے مومنین کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اور انسان کی بندگی کے تقاضے یہ ہیں کہ جس طرح دنیا میں انسان اس کا بندہ ہوگا۔ اسی طرح آخرت میں بھی انسان اس کا بندہ ہوگا۔ اس مقدمے میں قیام رسالت اور حقیقت رسول پر بھی بحث ہے۔ اور رسول کو مخاطب کرکے انہیں تسلی دی گئی ہے کہ آپ کی دعوت کے مقابلے میں منکرین جس طرح اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، چیلنج دے رہے ہیں اور بلا وجہ عناد کر رہے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم نے کہا مکہ میں پوری دعوتی تاریخ میں نبی اکرم کے لیے یہ مشکل ترین دور تھا اور مشرکین قرآن کو کلام الہی تسلیم نہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں مشرکین سے کہا گیا کہ اگر وہ اس قرآن کو کلام الہی تسلیم نہیں کرتے تو وہ اس جیسی دس سورتیں تو پیش کردیں ، جیسا کہ ان کا زعم تھا۔ اس طرح حضور کو تسلی دی گئی کہ وہ ہرگز اس قرآن جیسا کلام نہیں پیش کرسکتے۔ اس طرح ان لوگوں کے لیے یہ چیلنج باعث تسلی تھا ، جو ایمان لا چکے تھے۔ اس تسلی کے ساتھ منکرین حق کو دو ٹوک دھمکی بھی دی گئی ہے کہ وہ جس عذاب کے آجانے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں وہ بہت ہی دردناک ہے اور ان کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جب دنیا میں ان پر کوئی معمولی تکلیف آجاتی ہے تو وہ اسے برداشت نہیں کرسکتے۔ حالانکہ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں دنیا کی ہر تکلیف معمولی ہے۔ اس دھمکی کو مناظر قیامت کے ایک منظر کی صورت میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ مشرکین اور مکذبین اور ان کے شرکاء اور سفارشی قیامت کے دن ان کو کسی طرح بھی عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ جبکہ اہل ایمان جنتوں میں ہوں گے اور انعامات و اکرامات ان کا حصہ ہوگا۔ یہ منطر قرآن کے مخصوص انداز کے مطابق نہایت ہی مجسم اور مصور ہے اور چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور قرآن کہتا ہے : ) مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأعْمَى وَالأصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلا أَفَلا تَذَكَّرُونَ (24): (اور ان دو فریقوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی اندھا اور بہرا ہوا۔ دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا ہو ، کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اس بات سے نصیحت نہیں پکڑتے ؟ " درس نمبر 99 تشریح آیات 1 تا 24: تفسیر آیات 1 تا 4: ان آیات میں درج ذیل حقائق بیان ہوئے جو دین اسلام کے بنیادی حقائق ہیں : ٭۔ وحی اور رسالت کا ثبوت ٭۔ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کا اثبات ٭۔ جو لوگ اس وحی اور ہدایت کی اتباع کریں گے دنیا اور آخرت میں ان کے لیے انعام ہوگا بشرطیکہ وہ اس ہدایت کو بطور نظام زندگی اپنائی۔ ٭۔ وہ لوگ جو اسے جھٹلائیں گے وہ مستوجب سزا ہوں گے۔ چاہے کوئی مطیع فرمان ہو یا منکر ہو ، اسے ایک دن اللہ کے سامن کھڑا ہونا ہوگا۔ ٭۔ اللہ کی قدرت اور سلطنت غیر محدود ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ال ر ، یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر آگے پورا جملہ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب ایسے ہی حروف سے بنی ہے جو لوگوں کی دسترس میں ہیں اور یہ لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں ، اگر ان سے کہا جائے کہ ان حروف سے تم ایسی ہی کتاب بناؤ تو یہ عاجز رہ جاتے ہیں۔ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ : " فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے " اس کی آیات محکم ہیں یعنی وہ مضبوط ترکیب رکھتی ہیں ، گہرا مفہوم رکھتی ہیں ، ان کا ہر حرف اور ہر حکم با مقصد ہے ، ہر مفہوم اور ہر ہدایت مطلوب اور بامقصد ہے۔ اس کا ہر اشارہ ایک ٹارگٹ کی طرف ہے اور یہ نہایت ہی ہم آہنگ اور مربوط ہیں ، تمام آیات کا نظر اور تصور ایک ہے۔ ان آیات کی پھر تفصیلات ہیں اور موضوع اور مطلب کے مطابق وہ منقسم ہیں اور ان کی تبویب کی گئی ہے اور ہر آیت کو اس کے لیے موزوں جگہ پر رکھا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان آیات کو اس طرح مستحکم ترکیب اور نہایت ہی بلیغ مفہوم میں کس نے مرتب فرمایا ہے۔ تو یاد رہے کہ اللہ جل شانہ نے یہ کام خود کیا ہے ، آن آایت کی تشکیل و تسوید میں رسول اللہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ من لدن حکیم خبیر ہیں یہ کتاب اللہ کے احکام بتاتی ہے اور ان کی ضروری تفصیلات بھی دیتی ہے۔ اور یہ اسی طرح اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور جس طرح ہمارے سامنے ہے۔ اس میں کوئی تغیر و تبدل کسی جگہ نہیں ہوا ہے۔ اور ان آیات میں کیا بنیادی نظریہ پیش کیا گیا ہے۔ ان کی تعلیمات کی اساس یہ کلمہ ہے۔ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ یعنی نظام زندگی اللہ کا ہو ، عبادت اللہ کی ہو اور اطاعت و حکمرانی اللہ کی ہو صرف اور صرف اللہ کی۔ اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ ۔ (میں اس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی) یہ تصور رسالت ہے ہے اور رسالت کا بڑا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے انعام کی خوشخبری دے اور برے انجام سے ڈرائے۔ وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ (اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ) یعنی شرک و کفر اور نافرمانی کو چھوڑ کر اللہ کی طرف پلٹ آؤ اور توحید اور اسلامی نظام زندگی کو قبول کرلو۔ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ (تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا) یہ توبہ و استغفار کرنے والوں کے لیے جزا ہے۔ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ (لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں) ۔ یہ ان لوگوں کے لیے ڈراوا ہے جو دعوت سے منہ موڑتے ہیں۔ الی اللہ مرجعکم (تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے) اس میں اس عقیدے کا اظہار ہے کہ آخر کار سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ وَھُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے) اور اس میں اللہ کی قدرت مطلقہ کا ذکر ہے۔ اور یہ کہ وہ ہر کام پر قادر ہے۔ یہ ہیں کتاب اللہ کے مقاصد اور اس کی آیات انہی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ ہیں وہ بنیادی عقائد اور تصورات جن کے اوپر اسلامی نظام حیات کی عمارت کو اٹھایا گیا ہے۔ یہ بات ہر شخص کو اچھی طرح ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کرہ ارض پر کوئی دین اور کوئی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا اور کوئی تہذیب اور کلچر دنیا میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک وہ ان اساسی سوالات کا جواب نہ دے۔ دنیا میں ہر فلسفے اور نظام فکر کو ان سوالات کا جواب دینا لازمی ہے۔ یہ عقیدہ کہ دنیا میں ہر قسم کی بندگی صرف اللہ وحدہ کی ہوگی ، ان تمام راستوں کو بند کردیتا ہے جن پر انسان جا کر انتشار کا شکار ہوتا ہے اور وہ نظریاتی اور فکری بےراہ روی میں مبتلا ہوتا ہے۔ انسانیت کو خام خیالی ، وہم پرستی اور کھوٹے نظریات اور جھوٹے خداؤں کی بندگی اور غلامی سے صرف اس صورت میں نجات دلائی جاسکتی ہے کہ اسے اللہ وحدہ کا غلام بنا دیا جائے۔ دنیا میں کچھ ایسے لوگ اور چیزیں ہم نے تجویز کر رکھی ہیں۔ جن کو ہم اللہ اور بندے کے درمیان رابطے کا مقام دیتے ہیں ، اور یہ لوگ روحانی طور پر لوگوں کو بد راہ کرتے ہیں ، کوئی لوگ اور ادارے ایسے ہیں جن کو ہم نے حاکم اور مقتدر اعلی تصور کرلیا ہے اور یہ لوگ انسانوں کی دنیاوی زندگی کو اپنی منشاء کے مطابق چلاتے ہیں۔ اور اللہ کی مختص ترین خصوصیات یعنی حاکمیت اور اقتدار اعلی کے اختیارات وہ خود اپنے لیے حاصل کرلیتے ہیں۔ اس طرح وہ لوگوں کو ان کھوٹے اور جھوٹے خداؤں کا غلام بناتے ہیں جو شرک جلی ہے۔ دنیا میں جب تک عقیدہ توحید کو اس وسیع مفہوم میں نکھار کر قائم نہ کیا جائے گا اس وقت تک کوئی ایسا اجتماعی ، سیاسی ، اقتصادی ، اخلاقی ، قومی اور بین الاقوامی نظام قائم نہیں ہوسکتا جس میں انسان بعض دوسرے انسانوں کی خواہشات ، ان کی تاویلات اور ذاتی مقاصد کا آلہ کار بننے سے نجات پا سکے۔ ماسوائے قیام عقیدہ توحید کے ، انسان وہ آزادی اور شرف حاصل نہیں کرسکتا جو اللہ نے انسان کے لیے تجویز کیا ہے اور نہ انسان ذلت ، خوف اور بےچینی سے نجات پا سکتا ہے جس سے وہ ہمیشہ دوچار رہتا ہے عقیدہ توحید بھی صرف ان معنوں میں کہ اللہ کو رب ، معبود ، تکوینی حاکم و مدبر اور تشریعی حاکم و قانون ساز تسلیم کیا جائے اور اس دائرہ اختیار سے انسان کو بالکل بےدخل کردیا جائے اور انسان کا کوئی عمل و دخل ان امور میں نہ رہے ، صرف اس صورت میں مکمل عقیدہ توحید قائم ہوسکتا ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں اسلام اور جاہلیت کے درمیان جو کمشک رہی ہے اور حق اور طاغوت کے درمیان تاریخی معرکہ آرائی اور مقابلہ اس موضوع پر نہیں رہا ہے کہ اللہ اس کائنات کا الہ اور رب ہے ، اور اس کائنات کو وہی اپنی تدبیر اور اپنے تکوینی قوانین کے ساتھ چلا رہا ہے بلکہ یہ معرکہ اور یہ اختلاف اس بات پر تھا کہ رب الناس کون ہو ؟ لوگوں پر نظام اور شریعت کس کی نافذ ہو ؟ اور لوگ کس کی اطاعت کریں اور کس کے احکام خصوصا سیاسی احکام قبول کریں ؟ اس دنیا کی طاغوتی قوتیں اللہ کے اس حق کو غصب کرکے لوگوں کی زندگیوں میں اپنے قوانین و فرامین نافذ کرتی رہیں اور اس طرح لوگوں کو اللہ کی حاکمیت سے نکال کر اپنی حاکمیت کے دائرے میں داخل کرتی رہی ہیں۔ تمام انبیاء تمام رسالتوں اور تمام اسلامی تحریکات کا اہدف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ لوگوں کو ان طاغوتی قوتوں کے غصب کردہ اختیارات کے دائرے سے نکال کر اللہ کی حکومت ، اللہ کی بادشاہت اور اللہ کی حاکمیت میں داخل کیا جائے۔ اللہ تو تمام جہانوں سے بےنیاز بادشاہ ہے۔ لوگوں کی نافرمانی اور سرکشی اس کی حکومت میں پرکاہ کی کمی بھی نہیں کرسکتی اور اگر تمام مخلوقت اس کی بندگی پر متفق ہوجائے اور اس کی حکومت کو تسلیم کرلے تب بھی اللہ کی مملکت میں پرکاہ کا اضافہ نہیں ہوسکتا لیکن جب لوگ اللہ کے سوا کسی اور ذات یا ادارے کی حاکمیت کو قبول کرلیں تو خود وہ ذلیل و خوار اور غلام ہوجاتے ہیں۔ اور اگر وہ اللہ وحدہ کی سیاسی اور نظریاتی حاکمیت کو قبول کرلیں تو خود ان کے لے یہ بات باعث عز و شرف ہے۔ وہ غلامی کی جگہ آزادی اور پستیوں کی جگہ سربلندی حاصل کرلیتے ہیں کوئی انسان کسی انسان یا غیر انسان کا غلام نہیں رہتا۔ اللہ چونکہ اپنے بندوں کو معزز شرف اور سربلند دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس نے رسولوں کو بھیجا تاکہ وہ ان کو یہ عزت اور شرف عطا کریں۔ اور ان کو اپنے جیسے بندوں کی غلامی سے نجات دیں۔ غرض اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام میں اگر کوئی بھلائی ہے تو وہ خود انسانوں کے لیے ہے اللہ تو تمام جہانوں سے غنی اور مستغنی ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کو جس قدر معزز دیکھنا چاہتا ہے ، اور اسے جس سطح تک بلند کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس وقت تک بلند نہیں ہوسکتی جب تک تمام انسان اس بات کا عزم نہ کرلیں کہ وہ اپنے گلوں سے غیر اللہ کی غلامی کا جوا اتار کر پھینکیں گے کیونکہ غیر اللہ کی غلامی کا یہ پٹا انسان کے لیے باعث ذلت ہے ، چاہے اس کی صورت جو بھی ہو۔ دین صرف اللہ کے لیے تب ہوگا جب لوگ صرف اللہ وحدہ کو رب تسلیم کرلیں اور اللہ کی ربوبیت کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ اللہ کا نظام ، اللہ کا دستور اور اللہ کے قوانین و فرامین کو اپنا لیں۔ یہ ہے وہ حقیقت جو اس سورت کے آغاز ہی میں منضبط کی گئی ہے : كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۔ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ : فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ یہ ہے عبادت کا مفہوم جس طرح اسے عرب اچھی طرح سمجھتے تھے جن کی زبان میں قرآن کریم نازل ہوا تھا۔ اب دوسرا اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اللہ کی اس حاکمیت کو قائم کس طرح کیا جائے تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ انسان رسالت کا اقرار کریں ، کیونکہ حاکمیت الہیہ کا یہ نظریہ اور نظام صرف اللہ نے پیش کیا ہے اور رسالت کو تسلیم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ رسول جو کچھ دیتا ہے وہ من عنداللہ دیتا ہے۔ اگر کسی رسول کی تعلیمات کو من عنداللہ تسلیم نہ کیا جائے تو انسانی ضمیر میں ان تعلیمات کا جو تقدس اور احترام ہوتا ہے وہ ختم ہوجاتا ہتے کیونکہ اگر یہ تعلیمات کسی رسول اللہ کی جانب سے تصور ہوں تو رسول کا کوئی چاہے جس قدر بھی احترام کرے ، ان تعلیمات کی وہ قدر و قیمت انسان کے دل و دماغ میں جگہ نہیں پکڑتی اور نہ انسان چھوٹے بڑے معاملات میں ان تعلیمات کا احترام کرتا ہے جب انسان کے قلب و نظر میں یہ شعور جاگزیں ہوتا ہے کہ یہ تعلیمات اللہ کی طرف سے ہیں تو پھر یہ شعور ہر وقت انسان کا پیچھا کرتا ہے۔ اور انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ شعور ہی ہے جو متقیوں اور اطاعت شعاروں کو صراط مستقیم سے ادھر ادھر بھٹکنے نہیں دیتا۔ نیز اقرار بالرسالت کے ذریعے ہی وہ سرچشمہ اور ضابطہ متعین ہوتا ہے جس سے انسان وہ تمام ہدایات اکخذ کرسکتا ہے جن کا تعلق اسلامی نظام اور دین سے ہے۔ صرف یہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعے طاغوتی قوتوں کو ختم کیا جاسکتا ہے جن کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ از خود کوئی قانون اور ضابطہ اور نظریہ و عقیدہ گھڑ لیتی ہیں اور پھر کہتی ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے حالانکہ یہ سب کچھ انہوں نے از خود تصنیف کیا ہوتا ہے۔ ہر جاہلیت کی تاریخ یہ ہے کہ کچھ لوگ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنے جانب سے کوئی قانون اور ضابطہ بنایا ، لوگوں کے لیے اقار اور رسم و رواج وضع کیے اور پھر کہا کہ یہ اللہ کی جانب سے ہیں۔ اللہ کے نام پر یہ انتشار تب ہی ختم ہوسکتا ہے کہ ایک رسول پر ایمان لا کر اس کے اقوال کو من جانب اللہ تسلیم کرلیا جائے۔ یہاں شرک سے استغفار اور توبہ کو اس لیے لایا گیا ہے کہ استغفار اس بات کی دلیل ہے کہ دل کے اندر احساس موجود ہے۔ وہ برائی کے خلاف فعال ہے اور اسے گناہ کا شعور ہے اور رجوع اور لوٹنے کی طرف مائل ہے۔ لیکن احساس و شعور کے ساتھ ساتھ حقیقی توبہ یہ ہے کہ انسان عملاً اس گناہ کو ترک بھی کردے اور برے اعمال کے مقابلے میں اچھے کاموں پر عمل پیرا بھی ہوجائے۔ ترک معاصی اور عمل صالح کے بغیر توبہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ توبہ کے لیے دو عملی علامات یہ ہیں۔ یہ دونوں شرطیں توبہ کی ترجمان ہوتی ہیں اور توبہ کا عملی وجود صرف ان دو صورتوں میں متحقق یہ ہوتا ہے اور صرف ایسی ہی توبہ کے بعد مغفرت کی امید کی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی یہ گمان رکھے کہ وہ شرک سے تائب ہوگیا اور اسلام میں داخل ہوگیا ہے۔ لیکن اس کے بعد وہ عملاً اللہ کی اطاعت نہیں کرتا ، اسلامی نظام کو قبول نہیں کرتا اور زندگی کی اقدار اور ترجیحات اسلام سے اخذ نہیں کرتا تو اس قسم کے زعم اور گمان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس اقرار کی تکذیب اس کا عمل کر رہا ہے کہ عملاً وہ طاغوتی قوتوں نظام کو قبول کرتا ہے۔ رسالت کا بنیادی ذریعہ دو چیزوں سے مرکب ہے۔ بشارت و نذارت ، نیکوں کے لیے اچھا اجر اور بروں کے لیے برا انجام دکھانا ، رسالت کا بنیادی کام ہے۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور انسانی نفسیات سے اللہ اچھی طرح باخبر ہے ، اس لیے برے انجام سے ڈرانا اور اچھے انجام کی خوشخبری دینا انسان پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے اور اس کے اندر داعیہ عمل پیدا کرتا ہے۔ آخرت کی جواب دہی کا عقیدہ بھی ضروری اور حق ہے اور اس کے نتیجے میں اس زندگی کے بارے میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک بامقصد اور حکیمانہ زندگی ہے اور وہ بھلائی جس کی طرف تمام رسول دعوت دیتے چلے آئے ہیں وہ زندگی کا اصل مقصد اور مدعا ہے۔ لہذا انسان کو دعوت رسل کے قبول کرنے کا اجر ضرور ملے گا ، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اگر اس دنیا میں اسے کوئی صلہ نہ ملا تو آخرت میں ضرور ملے گا۔ جہاں اس زندگی کی تکمیل ہوگی۔ وہ لوگ جو اسلامی نظام سے کج روی اختیار کرتے ہیں اور اپنی زندگیون میں بےراہ روی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو عذاب کا مستحق ٹھہراتے ہیں۔ اس تصور کے ساتھ فطرت سلیمہ سیدھی راہ پر چل نکلتی ہے اور وہ بےراہ روی اختیار نہیں کرتی۔ اور اگر وہ کبھی بےراہ روی پر چل نکلے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہوتا ہے ، اس لیے یہ نہیں ہوتا کہ وہ نافرمانی میں ڈوب ہی جائے۔ توجہ اور رجوع الی اللہ کے نتیجے ہی میں انسان کی زندگی کا سدھار ہے۔ اور زندگی کا رخ خیر اور بھلائی کی طرف موڑا جاسکتا ہے۔ عقیدہ آخرت بذات خود آخرت کے اجر کا باعث نہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے بلکہ یہ عقیدہ انسان کو اس دنیا میں عمل پر آمادہ کرتا ہے اور اسے صالح اور پاکبازی کی زندگی پر قائم کرتا ہے۔ اور اس طرح انسان وہ زندگی حاسل کرلیتا ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ یہ طرز زندگی انسان کے لائق ہے اور اسی کے ذریعے انسان دوسرے حیوانات سے ممتاز ہوسکتا ہے۔ اسلام نے انسان کو جو تصور دیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے اسے بطور خاص بنایا ہے۔ پھر اس کے اندر اپنی خاص روح پھونکی ہے اور اسے اپنی تمام مخلوقات پر ترجیح دی ہے۔ اور اس طرح اسے حیوانیت کے مقام سے اوپر اٹھایا ہے تاکہ اس کی زندگی کے مقاصد حیوانوں سے بلند ہوسکیں اور اس کے میلانات اور مقاصد محض حیوانی میلانات اور مقاصد سے ذرا برتر ہوجائیں۔ یہ وہ غرض وغایت ہے جس کی وجہ سے اس کتاب محکم میں عقیدہ توحید ، اسلامی نظام کے قیام و اطاعت ، عقیدہ رسالت اور اتباع رسول کے بعد یہ دعوت دی گئی ہے کہ لوگو ، شرک سے توبہ کرو اور اللہ کی طرف لوٹ آؤ یہی عمل صالح اور پاکیزہ زندگی کے قیام کی سبیل ہے۔ عمل صالح کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ انسان کوئی اچھا عمل کرے اور بس بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر اس کرہ ارض پر اصلاح کے ہر مفہوم کے مطابق جدوجہد کی جائے ، اس زمین کی آبادی اور تعمیر کے لیے جدوجہد کی جائے۔ اس کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور جب کوئی قوم اصلاح کے اس مقام پر فائز ہوجائے تو پھر اسے یہ انعام دیا جاتا ہے۔ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ : " تو ایک مدت خاص تک تم کو سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا " اس دنیا میں متاع حسن کبھی تو نوعیت کے اعتبار سے ہوتا ہے اور کبھی کمیت کے اعتبار سے۔ اور آخرت میں تو نوعیت اور کمیت دونوں کے اعتبار سے ہوگا اور اس قدر ہوگا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ البتہ ہم چاہتے ہیں کہ اس دنیا کے متاع حسن پر کچھ بات کریں۔ اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے پاکباز اور نیکوکار اور توبہ و استغفار کرنے والے ، اس دنیاوی زندگی میں بڑی تنگی اور ترشی سے جسم اور روح کا رشتہ جوڑے ہوئے ہوتے ہیں ، حالانکہ ان آیات میں اللہ کی جانب سے متاع حسن کا صریح وعدہ ہے۔ یہ سوال ہم بیشمار لوگوں کی زبان سے سنتے ہیں۔ اس آیت میں جو معنویت پائی جاتی ہے۔ اسے سجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم زندگی کو اس کے وسیع تر مفہوم میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ زندگی کے ظاہری حالات سے ہٹ کر اور وسیع اور گہرے مفہوم کے مطابق سمجھنے کی سعی کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس سوسائٹی میں بھی ایک صالح نظام رائج کیا جائے ، جو ایمان باللہ کی اساس پر تشکیل پایا ہو ، جس میں اطاعت فرمانبرداری صرف اللہ کی ہو ، صرف اللہ کو اس میں شارع اور قانون ساز تسلیم کیا گیا ہو ، اور اس میں لوگ اچھے اعمال اور کردار کے مالک ہوں ، تو لامحالہ وہ سوسائٹی ترقی یافتہ ہوجاتی ہے ، اس میں زندگی کی سہولیات وافر ہوجاتی ہیں ، اور وہ سوسائٹی عمومی طور پر پاک و صاف زندگی کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ ایسی سوسائٹی میں ہر فرد کو اس کی جدوجہد کے مطابق اجرت ملتی ہے۔ اس سوسائٹی کے افراد مطمئن ہوتے ہیں اور انہیں خوشحالی نصیب ہوجاتی ہے اور اس کے مقابلے میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی سوسائٹی میں صالح اور پاک طینت لوگ بڑی مشکل سے وقت گزار رہے ہیں اور وہ سازوسامان اور وسائل رزق کے اعتبار سے محروم لوگوں میں شمار ہوتے ہیں تو لازماً صورت حال یہ ہوگی کہ اس سوسائٹی کی عمارت ایمان باللہ پر تعمیر نہ ہوگی اور اس کا نظام عادلانہ نہ ہوگا اور اس پوری سوسائٹی میں کسی بھی شخص کو اس کی جدوجہد کے مطابق معاوضہ نہ ملتا ہوگا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صالح اور نیکوکار لوگ اگر مالی وسائل اور رزق کے اعتبار سے تنگ و ترش زندگی بسر کر رہے ہوں بھی ، اور ان پر موجود سوسائٹی کی طرف سے مظالم بھی ڈھائے جا رہے ہیں اور ان کا ہر طرف سے پیچھا کیا جا رہا ہو ، جیسا کہ مکہ کے مشرکین اس سورت کے نزول کے وقت مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت پر مظالم ڈھا رہے تھے ، اور جس طرح ہر جاہلیت اسلام کے علم بردار داعیوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی سلوک کرتی رہتی ہے ، تب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ اچھی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ بات محض خیال یا دعوی ہی نہیں ہے ، کیونکہ تعلق باللہ ، اطمینان قلب اور آخرت کی جانب سے اطمینان اور اللہ کے فضل و کرم کی امید بھی درحقیقت بہتر سازوسامان ہے۔ اور جن لوگوں کی نظریں حسی اور مادی زندگی سے ذرا اونچی ہوتی ہیں۔ یہ روحانی دولت ان کے لیے زیادہ متاع حسن ہوتی ہے۔ ہم یہ بات اس لیے نہیں کہتے کہ جن لوگوں کو ان کی محنت کے مطابق اجرت اور متاع حسن عادلانہ اور منصفانہ طور پر نہیں ملتا وہ متاع حسن کی جدوجہد ترک کردیں۔ کیونکہ اسلام کبھی ظلم پر راضی نہیں ہوتا۔ اور اس قسم کے حالات کو دیکھتے ہوئے ایک مومن کبھی خاموش نہیں ہوسکتا ، ایک مومن فرد اور ایک مومن جماعت سے اسلام تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایسے حالات کو بدلنے کی سعی اور جدوجہد جاری رکھیں تاکہ نیکو کار اور صالح کارکن اپنی محنت کے مطابق متاع حسن حاصل کرسکیں۔ بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک صالح فرد کو اپنے حقوق کا احساس کرنا چاہیے اور یہ صورت قبول نہ کرنا چاہیے کہ وہ عمل تو کرتا رہے ، محنت کرتا رہے لیکن اسے اس کا بدلہ اور مزدوری نہ ملے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں جن میں نیک اور خدا ترس لوگوں کو ان کے پورے پورے حقوق ملیں۔ وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ ۔ (اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا ہو) ۔ بعض مفسرین نے اسے آخرت کے فضل سے مختص کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی دنیا اور آخرت دونوں سے متعلق ہے۔ جس طرح ہم نے المتاع الحسن کی تفسیر کی ہے۔ ہر صاحب فضیلت اپنی فضیلت کا اظہار کرتے ہی جزا پا لیتا ہے۔ اسے نفسیاتی اور شعوری خوشی نصیب ہوتی ہے۔ یہ فضل عملی ہو یا مالی۔ اگر فی سبیل اللہ ہو تو اس وقت جزا ملتی ہے۔ اس پر اللہ کی جانب سے جو جزاء ملے گی وہ فضل پر فضل ہوگا اور احسن الجزاء ہوگی۔ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ (اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں) یہ قیامت کے دن کا عذاب ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یوم بدر کا عذاب ہے۔ لیکن یہ رائے درست نہیں ہے کیونکہ یوم کبیر کا لفظ اگر مطلقاً بولا جائے تو اس سے مراد قیامت کا دن ہوتا ہے اور اس رائے کو تقویت اگلے فقرے سے ملتی ہے۔ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ (تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے) اگرچہ دنیا و آخرت دونوں میں مرع اللہ ہے اور ہر لمحہ اور ہر لحظہ انسان اللہ ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ لیکن قرآنی تعبیرات کی رو سے مراد اس دنیا کی زندگی کے بعد کی حالت ہے وَھُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ (اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے) اور یہ فقرہ بھی بتاتا ہے کہ اس یوم کبیر سے مراد یوم القیامت ہے کیونکہ اس میں لوگوں کو دوبارہ اٹھایا جائے گا جسے مشرکین عرب مستبعد سمجھتے تھے ، اس لیے کہا گیا کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ۔۔۔۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

دیکھو ، یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں۔ خبردار ، جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں ، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی ، وہ تو ان بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں

اس اعلان کے بعد کہ یہ کتاب ایک فرمان الہی ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ہیں۔ اور ایک دانا اور باخبر خدا کی طرف سے ہیں۔ یہ بتایا جتا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود جب ڈرانے والے اور بشارت دینے والے نبی ان کو سناتے ہیں تو ان آیات کے حوالے سے بعض لوگوں کا رد عمل کس قدر غلط ہے۔ قرآن کریم ان کے رد عمل اور ان کی جسمانی حرکت کو یکجا کرکے پیش کرتا ہے کہ یہ لوگ سر جھکا لیتے ہیں اور اپنے سینوں کو ایک طرف موڑ لیتے ہیں تاکہ چھپ جائیں اور پہلو تہی کر جائیں۔ کیا خدا سے یہ چھپ سکتے ہیں۔ ان کی یہ کوشش کس قدر عبث ہے۔ خدا تو اس وقت بھی سب کچھ جانتا ہے جب یہ بزعم خود کپڑے اوڑھ کر چھپے ہوتے ہیں بلکہ اللہ تو اس کرہ ارض پر ہر چلنے اور ینگنے والی چیز کو بھی جانتا ہے۔ وہ تو لطیف وخبیر ہے۔ یہ دو آیتیں (آیت 5 تا 6) وہ منظر پیش کرتی ہیں کہ اگر اسے اچھی طرح ذہن میں لایا جائے اور اس پر غور کیا جائے تو انسان مارے خوف کے کانپ اٹھے۔ یہ منظر کس قدر خوفناک ہے اور لرزا دینے والا ہے ، ذرا سوچو تو سہی کہ بندہ ضعیف اللہ سے چھپنا چاہتا ہے جبکہ اللہ کا علم اسے گھیرے ہوئے ہے۔ جب ان کو اللہ کی آیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ چھپتے ہیں لیکن کب چھپ سکتے ہیں ؟ اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ ۭ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ دیکھو ، یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں۔ خبردار ، جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں ، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی ، وہ تو ان بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں۔ شاید اس آیت میں بعض واقعات کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ نبی ﷺ ان لوگوں کو کلام الہی سنان چاہ رہے ہیں اور یہ لوگ روگردانی کرکے اس سے چھپنا چاہتے ہیں اور اپنے سر لٹکائے گزرنا چاہتے ہیں اور اپنی طرف سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ گویا وہ چھپ گئے ہیں اور انہوں نے نظر بچا کر اپنے آپ کو گزار لیا۔ ہوسکتا ہے کہ بعض اوقات انہوں نے ایسی حرکت کی ہو۔ ایک مختصر فقرے میں بتا دیا جاتا ہے کہ ان کی یہ حرکت کس قدر بھونڈی ہے۔ اللہ جس نے یہ آیات نازل کی ہیں ہر حال میں ان کے ساتھ ہے ، یہ ظاہر ہوں یا چھپے ہوں۔ قرآن کریم ایسے مخصوص انداز میں یہاں ان کی اس حرکت کو ان کی خفیہ ترین حسی صورت کو سامنے لا کر غلط بتاتا ہے کہ جب وہ رات کے وقت اپنے گھروں کے اندر ، رات کی تاریکی میں اپنے بستروں پر لیٹے ہوتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ نہیں چھپ سکتے۔ وہ تو حاضر و ناظر اور قاہر ہے۔ ہر ظاہر اور چھپی بات کو جانتا ہے۔ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ( خبردار ، جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں ، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی ، ) ۔ بلکہ اللہ اس سے بھی زیادہ خفی باتوں سے واقف ہے۔ ان کے پردے علم الہی کے سامنے کیا رکاوٹ بنیں گے ؟ البتہ ایسے حالات میں صرف انسان خود یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اکیلا ہے اور اسے کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔ یہ انداز تعبیر انسان کے وجدان کو چھوتا ہے ، اسے جگاتا ہے اور اسے جھنجھوڑتا ہے کہ وہ ذات باری کے بارے میں ذرا غور کرے اور سمجھے کہ ایک آنکھ ہر وقت اسے دیکھتی رہتی ہے۔ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (وہ تو ان بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں) جو راز دلوں میں چھپے ہیں ان کا بھی اسے علم ہے۔ حالانکہ یہ راز ابھی دل میں ہوتے اور دل کے ساتھ اس طرح جڑے ہوتے ہیں۔ جس طرح مالک اپنی ملک سے جڑا ہوتا ہے یا دوست ، دوست کے ساتھ ، یعنی انتہائی رازداری کی وجہ سے ان کو ذات الصدور کہا گیا۔ جب اللہ ایسے دلی بھیدوں سے بھی واقف ہے ، تو پھر اور کیا ہے جو اس سے مخفی رہ سکتا ہے۔ غرض انسان کی کوئی حرکت اور اس کا کوئی سکون اس سے مخفی نہیں رہ سکتا۔
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے ، اور کہا وہ سونپا جاتا ہے ، سب کچھ ایک صٖا دفتر میں درج ہے

اللہ کے علم محیط کی یہ ایک دوسری شکل ہے۔ نہایت ہولناک ، ذرا زمین پر چلنے والے حیوانات اور رینگنے والے کیڑے مکوڑوں پر غور کریں ، ہر وہ چیز جو زمین پر حرکت کرتی ہے وہ دابہ ہے زمین پر حرکت کرنے والے لاتعداد اور بیشمار دواب (جانداروں) میں سے جو کچھ بھی ہے ، زمین کے اطراف و اکناف میں سے جہاں بھی ہے ، اوپر ہے یا اندر ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ صرف علم بھی نہیں بلکہ اللہ ان کو رزق بھی فراہم کرتا ہے اور اللہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کہاں قرار و سکون حاصل کرتے ہیں اور کہاں سونپے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ سب دواب اللہ کے علم محیط کے ضبط اور کنٹرول میں ہیں۔ یہ اللہ کے علم الہی کی نہایت ہی واضح مثال ہے۔ یہ علم ہر وقت مخلوقات کے ساتھ وابستہ رہتا ہے۔ جب انسان اس وسیع علم کے بارے میں سوچتا ہے اور اسے اپنے محدود تصور میں لانا چاہتا ہے تو وہ کانپ اٹھتا ہے اور اس کے تصور ہی سے عاجز آجاتا ہے۔ اب صرف علم کی بات نہیں ہے۔ دواب ارض کی اس ناقابل تصور تعداد کے ہر فرد کے لیے اللہ نے رزق کی کفالت بھی اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ اس زمین میں ہر مخلوق کے لیے وسائل رزق پیدا کیے ہیں اور ہر چیز کو یہ قوت دی ہے کہ وہ بقدر ضرورت رزق حاصل کرے۔ بعض کا رزق بہت سادہ ہے۔ بعض اپنے لیے رزق پیدا کرتے ہیں بعض مصنوعات اور مرکبات اپنے لیے تیار کرتے ہیں اور اب دور جدید میں تو ذرائع رزق بہت ہی پھیلے ہوئے اور متنوع ہیں۔ بعض مخلوق ایسی ہے کہ وہ زندہ مخلوق کے خون پر پلتی ہے مثلا مچھر اور پسو وغیرہ۔ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح پیدا کیا اور جس طرح اس کے اوپر منوع مخلوقات کو وجود بخشا ، اسی طرح ان کے وسائل رزق بھی مہیا کیے۔ اور ہر ایک مخلوق کو اس کی تکنیک تخلیق کے مطابق استعداد اور وسائل بھی فراہم کیے۔ خصوصاً دواب ارض میں سے انسان ہماری توجہ اور مطالعہ کا زیادہ مستحق ہے جو خلیفۃ اللہ فی الارض ہے۔ جسے تحلیل و تجزیہ اور ترکیب اور صنعت کی استعداد بھی دی گئی ہے۔ وہ ترقی اور پیداوار میں بھی آگے جاسکتا ہے۔ وہ اس کرہ ارض کے چہرے کو بھی بدل سکتا ہے۔ زندگی کے رنگ ڈھنگ بدلتا رہتا ہے۔ وہ اپنے لیے متنوع وسائل رزق مہیا کرتا ہے لیکن وہ کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتا۔ اللہ نے اس زمین کے اندر جو وسائل ودیعت کردیے صرف انہی میں ردو بدل کرتا ہے اور یہ ردو بدل اور تحلیل و ترکیب بھی وہ ان قوانین فطرت کے مطابق کرتا ہے جو اللہ نے اس کائنات کے اندر وضع کیے ہیں اس طرح یہ زمین اپنے زندہ دواب کے لیے ہر قسم کی ضروریات فراہم کرتی ہے۔ اللہ کے ذمے رزق ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سعی کے بغیر کسی کس کوئی رزق مل سکتا ہے یا اگر کوئی بیٹھ جائے تو بھی اسے ضرور ملے گا یا سسی اور منفی رویے سے وہ ضائع نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ بعض لوگوں نے غلط طور پر سمجھا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر اسباب اور وسائل اللہ نے کیوں مقرر فرمائے۔ اور یہ کیوں لازم کیا کہ اسباب کو اختیار کیا جائے اور اسباب وسائل کو قوانین قدرت کا حصہ پھر کیوں بنایا اور پھر اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے مختلف لوگوں کو مختلف صلاحیتیں کیوں دیں اور ان وسائل و اسباب کے کام میں لانے کے سوا دنیا کی تعمیر و ترقی کیسے ممکن ہوگئی حالانکہ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں تھا اور اللہ نے اس غرض کے لیے انسان کو اس کرہ ارض پر خلیفہ بنایا تاکہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ ہر مخلوق کے لیے رزق مقرر ہے ، یہ حق ہے۔ لیکن یہ رزق اس کائنات کے اندر ودیعت شدہ ہے اور اللہ کی سنت کے مطابق ہر مخلوق کے لیے مقدر اور متعین ہے۔ اور سنت الہی یہی ہے کہ ہر شخص اپنے مقد رکے لیے جدوجہد کرے گا۔ لہذا سعی و جدوجہد کو کوئی شخص ترک نہ کرے جبکہ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ آسمانوں سے سونے اور چاندی کی بارش نہیں ہوا کرتی بلکہ پانی کی بارش ہوتی ہے اور ہر قسم کا رزق زمین کے اندر پوشیدہ ہے۔ اور تمام مخلوقات کے لیے یہ کافی ہے۔ بشرطیکہ یہ مخلوق خدا سنن الہیہ کے مطابق اس کی تلاش کرے اور سنن الہیہ کسی کی رو رعایت نہین کرتیں۔ دنیا میں معاملہ کسب اور عمل پر ہے۔ کسب و عمل یا طیب ہوگا یا خبیث اور گندہ ہوگا۔ دونوں کے لیے جدوجہد ضروری ہے۔ دونوں کی نوعیت میں فرق ہے اور نتائج جدا جدا ہیں۔ حلال ، حلال ہے اور حرام ، حرام ہے۔ یہاں دواب کے لیے فقط رزق کا لفظ استعمال ہوا ہے جبکہ اس سے قبل مومنین کے لیے رزق حسن کہا گیا ہے۔ انسانوں اور حیوانوں کے لیے سیاق میں بہترین الفاظ کا انتخاب کرنا قرآن مجید کا ایک خاص اسلوب ہے۔ الفاظ کا انتخاب موقعہ و محل اور ماحول کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ دو آیات اس رب کی تعریف اور شان کے بیان کا آغاز ہیں جس کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ لوگ صرف اس کی بندگی اور غلامی کریں۔ کیونکہ وہی عالم ہے ، محیط ہے ، رزاق ہے ، کوئی شخص اس کی ریاست میں بھوکا نہیں رہتا اور یہ تعریف باری تعالیٰ اور یہ حمد ربی ضروری ہے تاکہ بندے اور مخلوق اور خالق کے درمیان حقیقی تعلق پیدا ہو اور لوگ صحیح طرح علی وجہ البصیرت رب اور خالق کی اطاعت اور بندگی کریں۔ ۔۔۔۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ جب کہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ اب اگر اے نبی ، تم کہتے ہو کہ لوگو ! مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے ، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے

اب اس سے آگے رب کریم کی شان کا ایک دوسرا رخ پیش کیا جاتا ہے۔ رب کریم کی قدرت کے بعض و آثار اور مظاہر پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کی حکمت اور کارکردگیوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ دیکھو ، اللہ نے زمین اور آسمانوں کو کس قدر حکیمانہ انداز دیا ہے۔ یہاں اس کائنات کے ان پہلوؤں کو سامنے لایا جاتا ہے جو عمل ، حساب و کتاب ، اور بعث بعد الموت کے عقائد کے ساتھ متناسب ہوں بلکہ یہ تصور دیتے ہوں : وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭ وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْــرٌ مُّبِيْن : اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ جب کہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ اب اگر اے نبی ، تم کہتے ہو کہ لوگو ! مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے ، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔ اللہ نے زمین و آسمان کو چھو دنوں میں پیدا کیا ، اس موضوع پر ہم سورت یونس میں بات کر آئے ہیں۔ وہاں یہ بات سیاق وسباق میں آئی تھی۔ وہ یہ تھا کہ اس کائنات کے قوانین فطرت جن کے مطابق زمین و آسمان چلتے ہیں اور اس نظام کے درمیان جن کے مطابق لوگوں کی زندگی چلتی ہے ، ربط اور مطابقت ہے۔ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (تاکہ تم کو آزما کر دیکھے کہ تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے) یہاں جو نئی بات ہے وہ یہ ہے ، خلق آسمان و زمین کے بیان کے بعد ایک جملہ معترضہ ہے۔ وکان عشہ علی الماء (جبکہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا) اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق کے عمل میں وہ جس طرح کہ موجودہ شکل میں ہیں اس تک پہنچنے سے پہلے یہاں پانی تھا اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ یہ پانی کیسے تھا ، یہ پانی کہاں تھا اور اس کی حالت کیا تھی ، اور اس کے بعد عرش الہی کس طرح تھا ، اس آیت میں ان امور کی کوئی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ جن مفسرین کو اپنے مبلغ علم کی حدود کا علم ہے۔ وہ اس سے زیادہ بہرحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہ غیبی امور ہیں اور ان کے بارے میں اللہ نے ہمیں فقط یہی معلومات دی ہیں جو اس آیت میں ہیں اور محدود ہیں۔ ہمارا کام یہ نہیں ہے کہ ہم قرآنی نصوص کی تائید میں سائنسی نظریات پیش کریں۔ خواہ کوئی نص کسی سائنسی نظریے کے ساتھ منطبق کیوں نہ ہو اس لیے کہ سائنسی نظریات بار بار بدلتے ہیں بلکہ الٹتے رہتے ہیں علماء طبیعیات جب کوئی نظریہ پیش کرتے اور سائنسی تجربات کرکے اسے ثابت کرتے ہیں تو وہ اس جدید نظریے کو سابقہ نظریات کے مقابلے میں تکوینی مظاہر سے زیادہ قریب پاتے ہیں جبکہ نص قرآنی بذات خود صادق اور حق ہے۔ چاہے سائنس اس حق اور حقیقت تک پہنچ سکی ہو یا نہیں۔ پھر سائنسی حقیقت اور سائنسی نظریات کے درمیان فرق بھی ہے۔ سائنسی حقیقت وہ ہوتی ہے جو تجربے میں آجائے۔ اگرچہ تجربات بھی ہمیشہ احتمالی رہتے ہیں ، قطعی نہیں ہوتے۔ رہے سائنسی نظریات تو وہ مفروضوں پر مبنی ہوتے ہیں اور یہ مفروضے بعض کائنات مظاہر یا چند مظاہر کے مجموعے کی بنا پر قائم کیے جاتے ہیں اور ان میں ہر وقت تبدیلی ہوسکتی ہے۔ اس لیے نہ ہم ان نظریات سے قرآن کی تائید کرسکتے ہیں اور نہ ان نظریات پر قرآن سے استدلال کرسکتے ہیں۔ کیونکہ قرآن کا طریقہ کار اور ہے اور سائنس کا اور۔ اس طرح قرآن اور سائنس کے موضوعات کار بھی مختلف ہیں۔ ہمارے دور میں قرآن کریم میں بعض سائنسی نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں یہ طرز فکر نصوص قرآن پر ہمارے ایمان کے منافی ہے۔ قرآن کریم حکیم اور خبیر کی طرف سے ہے ، یہ غلطی اس لیے کی جاتی ہے کہ ہم سائنس کو اپنے دائرہ کار کے اندر محدود نہیں رکھتے۔ اور اسے اپنے دائرے سے وسعت دیتے ہیں۔ یہ در اصل ہماری اخلاقی اور ذہنی شکست خوردگی ہے۔ جبکہ ایسا کرنے والے لوگ اپنے اس فعل کو خدمت قرآن سمجھتے ہیں۔ اور اس طرح اپنے ایمان کو ثابت کرتے ہیں۔ وہ ایمان جسے سائنس کے کسی اصول سے ثابت کیا جاتا ہے ، میں یہ کہوں گا کہ ایسے ایمان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ یہ محل نظر ہے۔ قرآن کریم اصل الاصول ہے اور سائنسی نظریات اس کے موافق ہوں یا مخالف ، قرآن کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ رہے وہ سائنسی حقائق جو تجربات سے ثابت ہیں تو ان کے دائرہ کار اور قرآن کے دائرہ کار میں فرق ہے۔ دونوں موضوعات ہی مختلف ہیں۔ قرآن کریم نے سائنسی حقائق کے دریافت کے کام کو عقل انسانی کے لیے چھوڑ دیا ہے اور اسے مکمل آزادی دی ہے کہ وہ اس میدان میں کام کرے اور تجربے کرکے جن نتائج تک پہنچا جاسکتا ہو ، پہنچا جائے۔ قرآن کریم نے اپنے ذمے صرف یہ ڈیوٹی لی ہے کہ عقل انسانی کی تربیت صحیح سلامت اور سمتقیم انداز میں کرے۔ اور اسے وہم و خرافات اور دیومالائی سوچ سے باہر نکالے۔ اس طرح قرآن نے اپنے ذمہ یہ کام لیا ہے کہ انسانی زندگی کے درست چلن کے لیے ایک نظام تجویز کرے جس کے دائرے کے اندر عقل انسانی بھی درست راہ پر آگے بڑھے اور آزاد ہو کر امن و سلامتی کے ساتھ رہے اور اپنے محدود اور مخصوص دائرے میں کام کرے تاکہ اصول کی روشنی میں جزوی حقائق دریافت کرے۔ قرآن کریم نے سائنسی حقائق کا تذکرہ شاذ و نادر ہی کیا ہے مثلاً یہ کہ تمام جاندار پانی سے زندہ ہیں اور پانی ان کی زندگی کا اہم عنصر ہے۔ مثلاً تمام زندہ جانور اور نباتات جوڑے جوڑے پیدا ہوئے ہیں۔ اور جوڑوں کے ملاپ سے زندگی انسانی ، حیوانی اور نباتاتی اشکال میں نشوونما پاتی ہے۔ یہ وہ بعض حقائق ہیں جن کا قرآن نے تذکرہ کیا ہے (تفصیلات کے لیے دیکھئے پارہ دوئم اور پارہ ہفتم) اس جملہ معترضہ کے بعد ہم دوبارہ قرآنی آیت کی طرف آتے ہیں : وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۔ اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ جب کہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ آسمان اور زمین کو چھ دنوں کے اندر پیدا کیا۔ اس کے بعد کئی فقرے اور جملے محذوف ہیں۔ ان پر بعد کی عبارت دلالت کرتی ہے یعنی اس عرصے میں اسے پیدا کرکے انسان کی رہائش کے لیے اسے صالح اور کار آمد بنایا گیا۔ زمین میں سب چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کیا اور آسمانوں میں وہ انتظام کیا تاکہ تم یہاں زندہ رہ سکو اور اللہ کی ذات اس پوری کائنات پر حاوی ہے۔ ِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (تاکہ تم کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے) ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پوری کائنات کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اس کی کنجیاں اور کنٹرول ہے اور یہ سب انتظام انسان کی آزمائش کے لیے ہے تاکہ معلوم ہو کہ یہ آزمائش ایک اہم معاملہ ہے ، اور یہ محض کھیل تماشا نہیں ہے بلکہ ایک بامقصد اور سنجیدہ اسکیم ہے۔ اور انسان کی تخلیق ایک با مقصد منصوبے کے تحت ہوئی ہے۔ جس طرح اللہ نے زمین و آسمان کو اس طرح تیار کیا ہے کہ وہ جنس انسان کے لیے ممد و معاون ہوں ، اسی طرح جنس انسان کو بھی ایک مخصوص اور جیب صلاحیت اور قوت دی ہے۔ انسان کی تخلیق بھی اسی قانون فطرت کے مطابق ہوئی ہے ، جس کے مطابق اس کائنات کی تخلیق ہوئی ہے۔ لیکن انسان کے اس تکوینی پہلو کے علاوہ اسے ایک صلاحیت اختیار و ارادے کی بھی دی ہے۔ اس اختیاری صلاحیت کی وجہ سے وہ کبھی راہ ہدایت اختیار کرتا ہے اور اللہ اس کے ساتھ معاونت کرتا ہے اور اسے ہدایت مل جاتی ہے اور کبھی وہ راہ ضلالت اختیار کرتا ہے اور اللہ بھی اسے ڈھیل دیتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کو چھوڑتا ہے تاکہ وہ عمل کریں اور یہ اس کی جانب سے ایک آزمائش ہے کہ کون اچھی راہ لیتا ہے اور کون بری۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو آزماتا اور ڈھیل دیتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ اللہ علم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ تو پہلے سے جانتا ہے۔ آزمائش اور عمل کے ذریعے در اصل لوگوں کے خفیہ اعمال لوگوں پر ظاہر ہوجاتے ہیں اور پھر وہ ان اعمال پر جزا پاتے ہیں۔ اور اس طرح اللہ نے یہ اسکیم تیار فرمائی۔ اس لیے بعث بعد الموت اور جزاء و سزا کے عمل کا سر انجام پانے سے انکار اس فضا میں عجیب ہی لگتا ہے۔ کیونکہ قانون مکافات عمل ایک تکوینی مقانون ہے۔ اور یہ اس کائنات کے اصول میں سے ایک مستقل اور بنیادی اصول ہے۔ اور جو لوگ اس اصول کی تکذیب کرتے ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ ان کا رویہ معقول رویہ نہیں ہے۔ اور ایسے لوگ اس کائنات کے عظیم اصولوں کے ادراک سے محروم ہیں۔ اپنی اس ناقص سوچ ہی کی وجہ سے وہ تعجب کرتے ہیں کہ انسان پھر اٹھے گا ، یہ ایک عجیب بات ہوگی : وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْــرٌ مُّبِيْنٌ۔ اب اگر اے نبی ، تم کہتے ہو کہ لوگو ! مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے ، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔ بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے کہ بعث بعد الموت کو عجیب سمجھنے والوں کا یہ قول عجیب و غریب ہے اور مذکورہ بالا واقعات کی روشنی میں اس سے زیادہ جھوٹ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ ۔۔۔ وہ جس طرح بعث بعد الموت کی تکذیب کرتے ہیں اور اس کائنات کے اٹل اصولوں کی روشنی میں نہیں سمجھتے ، اسی طرح دنیاوی عذاب الہی اور تکوینی ہلاکت آفرینیوں کو بھی سمجھ نہیں پا رہے وہ یہ پوچھتے ہیں کہ ان پر پھر عذاب الہی نازل کیوں نہیں ہوتا ؟ حالانکہ اس میں تاخیر بھی بوجہ حکمت ہے۔ اللہ ہر کسی کو مہلت دیتا ہے۔
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ہم ایک خاص مدت تک ان کی سزا کو ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ آخر کس چیز نے اسے روک رکھا ہے ؟ سنو ! جس روز اس سزا کا وقت آگیا تو وہ کسی کے پھیرے نہ پھر سکے گا اور وہی چیز ان کو آ گھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں

قرون اولیٰ کی اقوام پر ایسے ایسے عذاب نازل ہوئے ، جن کی وجہ سے ان اقوام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا لیکن تباہ اور فنا کردینے والے یہ عذاب اس وقت آئے جب رسول اپنی قوم کے سامنے معجزات پیش کرچکے اور انہوں نے معجزات کے باوجود تکذیب جاری رکھی۔ یہ ہمہ گیر تباہی اس لیے آتی رہی کہ اس وقت کی رسالتیں وقتی رسالتیں تھیں ، ایک محدود پیریڈ کے لیے تھیں اور بسا اوقات وہ ایک نسل کے لیے تھیں اور ان معجزات کا مشاہدہ بھی وہی لوگ کرسکتے تھے جو موجود تھے۔ یہ معجزات مسلسل اور جاری اور باقی نہ ہوتے تھے تاکہ بعد میں آنے والی نسلیں بھی انہیں دیکھ سکیں جیسا کہ پہلی نسل نے دیکھا تھا۔ رسالت محمدی کی نوعیت سابقہ رسالتوں سے ذرا مختلف ہے۔ آپ خاتم الرسل ہیں۔ تمام نسلوں کے لیے رسول ہیں اور آپ کو جو معجزہ دیا گیا وہ مادی معجزہ نہیں ہے۔ یہ ایسا معجزہ ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ آنے والی نسلیں بھی اسے دیکھ سکتی ہیں اور اس پر تدبر کرسکتی ہیں اور نسلاً بعد نسل اس پر ایمان لا سکتی ہیں۔ اس لیے اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ آپ کی امت پر ایسا عذاب نازل نہ ہو جس کے ذریعے اسے بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جائے بلکہ یہ عذاب افراد پر نازل ہو اور یہی صورت اللہ نے ان اقوام کے لیے اختیار کی جن کو کتاب دی گئی تھی۔ کس کتابی قوم کو جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا گیا لیکن مشرکین مکہ کی حالت یہ تھی کہ وہ نہ تو اس کائنات کے نظام تخلیق اور اس کے لیے اللہ کے تجویز کردہ قانون قدرت کو سمجھتے تھے اور یہ بات سمجھتے تھے کہ اس کائنات کے اندر اللہ نے انسان کو آزادی اور اختیار کے ساتھ کام کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں اور اسے نیک و بد اختیار کرنے کی آزادی ہے اور زمین کی تخلیق اس طرح ہے کہ وہ انسان کی آزادی و ارادہ کے لیے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اپنے اس جہل کی وجہ سے وہ بعث بعد الموت کا انکار کرتے تھے اور اپنی اس جہالت ہی کی وجہ سے وہ پوچھتے تھے کہ اللہ نے ان کی تکذیب اور انکار کے باوجود ابھی تک انہیں ہلاک کیوں نہیں کیا۔ وہ نہ جانتے تھے کہ موجودہ رسالت اور سابقہ رسالتوں کے لیے اللہ نے کیا اصول طے کر رکھے ہیں چناچہ وہ پوچھتے تھے کہ کئی سال گزر گئے اور عذاب نہیں آ رہا ہے۔ یہ لوگ نہ تو اللہ کی حکمت سے واقف تھے اور نہ ہی اللہ کی رحمت سے۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ جب یہ عذاب آئے گا تو اسے پھر کوئی بھی پھیر نہ سکے گا بلکہ وہ پوری طرح انہیں گھیر لے گا اور یہ ان کے استہزاء اور بدعملی کی سزا ہوگی ، اور وہ نہایت ہی خود سری کی صورت میں سوالات کر رہے تھے۔ اَلَا يَوْمَ يَاْتِيْهِمْ لَيْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ ۔ سنو ! جس روز اس سزا کا وقت آگیا تو وہ کسی کے پھیرے نہ پھر سکے گا اور وہی چیز ان کو آ گھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی سنجیدہ فرد اور صاحب ایمان شخص عذاب الہی کے نزول کے مطالبہ میں جلدی نہیں کرتا۔ اگر عذاب الہی نہیں آتا تو اس میں بھی کوئی حکمت ہوگی اور اللہ کی رحمت اس میں مانع ہوگی تاکہ جو لوگ ایمان کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ ایمان لے آئیں۔ مثلاً قریش پر اللہ نے عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں کی۔ ان کو مہلت دی جاتی رہی۔ اس عرصے میں بیشمار لوگ ایمان لائے۔ ایمان لا کر پھر انہوں نے اسلام کے لیے کارہائے نمایاں سر انجام دیے۔ اور کفار کے ہاں بھی کئی ایسے بچے پیدا ہوئے جنہوں نے بعد کے ادوار میں اسلام کی خدمات سر انجام دیں۔ یہ اور ایسی ہی دیگر معلوم اور نامعلوم حکمتیں ہوسکتی ہیں ، جو جلد باز لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتیں۔
Ayahs 11:9–11

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ، ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے میرے سارے دلدر پار ہوگئے ، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی

تفسیر آیات 9 تا 11:۔ یہ لوگ مطالبہ نزول عذاب میں بےصبری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، انسانی مزاج کے اس پہلو پر یہاں مزید روشنی ڈالی جا رہی ہے کہ انسان کسی حالت پر بھی ثابت قدم اور صحیح رائے قائم کرنے میں صحیح الفکر نہیں ہوتا۔ اس کی نفسیات یہ ہیں : اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ، ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے میرے سارے دلدر پار ہوگئے ، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ انسان فطرتاً جلد باز اور پر تقصیرات ہے اور ان آیات (آیات 9 تا 11) میں اس کی کیا ہی اچھی تصویر کشی کی گئی ہے۔ وہ اس قدر کوتاہ نظر ہے کہ صرف حاضر حالات ہی کو دیکھ سکتا ہے اور اپنے اوپر وہی حالات طاری کردیتا ہے جو اس کے ماحول پر چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ نہ ماضی پر غور کرنے کی تکلیف کرتا ہے اور نہ مستقبل کی فکر کرتا ہے۔ کبھی وہ اس قدر مایوس ہوجاتا ہے کہ اسے کسی بھلائی کی اور اچھے حالات کی امید نہیں رہتی۔ اور اگر اچھے دن گزرتے ہیں تو وہ تمام گزشتہ نعمتوں کا انکار کردیتا ہے۔ حالانکہ یہ تو اللہ کی جانب سے ایک انعام و اکرام تھا۔ اس کا کوئی استحقاق نہ تھا اور مشکلات کے بعد اگر اس کے اچھے دن آجائیں تو وہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے ، غرور کرتا ہے۔ نہ وہ مشکلات بردشت کرکے اللہ کے رحم و کرم کا امیدوار ہوتا ہے اور نہ اپنی خوشی میں اعتدال اختیار کرتا ہے اور خوشیوں اور نعمتوں کے زوال کے لیے اپنے آپ کو تیار کرتا ہے۔ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ یعنی انہوں نے انعامات و اکرامات پر بھی صبر کیا اور مشکلات پر بھی صبر کیا۔ مشکلات میں تو بیشتر لوگ صبر کرتے ہیں اپنی خود داری اور سفید پوشی کی وجہ سے اور اس لیے کہ ان کی کمزوری اور مشکلات کا لوگوں کو پتہ نہ لگ جائے۔ لیکن کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خوشحالی اور مالداری میں اپنے آپ کو سنبھال سکتے ہیں اور غرور اور سرکشی سے اپنے آپو کو بچا سکتے ہیں۔ تاہم جو لوگ اچھی روش بحال رکھتے ہیں ، مشکلات میں بھی اور خوشحالی میں بھی اچھے کام کرتے ہیں اور نعمتوں کا شکر کا دا کرتے ہیں یعنی وعملوا الصلحات کے پیکر ہوتے ہیں ان کے متعلق ارشاد ہے۔ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔ وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ اس لیے کہ انہوں نے مشکلات میں صبر کیا اور خوشحالی میں انہوں نے سنجیدگی اور اعتدال سے کام لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سنجیدہ اور مخلص اور سچا ایمان ہی انسان کو نہایت ہی مشکل حالات میں کافرانہ مایوسی سے بچاتا ہے۔ اسی طرح سچا ایمان باللہ ہی انسان کو اس کی خوشحالی اور فراوانی میں کبر و غرور سے بچاتا ہے۔ غرض قلب انسانی کو یہ سچا ایمان ہی اچھے اور برے دونوں حالات میں متوازن اور مستقیم رکھتا ہے۔ اور قلب مومن اچھی طرح بندھا ہوا ہوتا ہے۔ مشکلات اور مصائب ڈانواں ڈول نہیں ہوتا اور خوشحالی اور مالداری میں پھولتا نہیں اور یوں اہل ایمان کی دونوں حالات اچھے رہتے ہیں اور اہم مقام صرف مومنین کو ملتا ہے جس طرح حضور نے فرمایا۔