Ayah 11:70وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُ سُلُنَآ اِبْرٰھِیْمَ بِالْبُشْرٰی
یہاں قرآن کریم نے خوشخبری کے بیان کو بعد میں آپ کی بیوی کی موجودگی کے وقت تک موخر کردیا کیونکہ یہاں تو ابھی قاری کو معلوم نہیں کہ آنے والے فرشتے ہیں۔ یہاں مفسرین نے ان آنے والوں کے بارے میں جو تفیصلات دی ہیں ہم ان کے ذکر کو ضروری نہیں سمجھتے۔ کیونکہ یہ تفصیلات بلا دلیل ہیں :
قَالُوْا سَلٰمًا قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذِ (69) فَلَمَّارَآاَ یْدِیَھُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْہِ نَکِرَھُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْھُمْ خِیْفَۃً ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عراق کے لدانیوں میں پیدا ہوئے اور یہاں سے انہوں نے ہجرت کر کے دریائے اردن کو عبور کرتے ہوئے کنعان کی صحرائی سرزمین میں بودباش اختیار کرلی۔ اور جس طرح دیہاتی رسم و رواج کے مطابق جو شخص کھان نہیں کھاتا اس سے یہ خوف کیا جاتا ہے کہ شاید یہ کسی جنایت اور دشمنی کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ تمام دیہاتی لوگ کھانا کھانے کے بعد اہل خانہ کے ساتھ برائے کا ارتکاب کرنے سے ابا کرتے ہیں۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ مہمان کھان نہیں کھا رہے تو قدرتی طور پر انہیں خوف دامن گیر ہوا اور طرح طرح کی باتیں سوچنے لگے۔ غرض اس صورت حالات کو دیکھ کر انہوں نے مناسب سمجھا کہ اپنا تعارف کرا دیں اور اپنی مہم سے ان کو آگاہ کردیں۔
قَالُوا لا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمِ لُوطٍ (70)
‘۔ ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو فوراً سمجھ گئے کہ قوم لوط کی طرف فرشتوں کے بھیجنے کے کیا معنی ہیں ، لیکن اچانک روئے سخن ایک ایسے موضوع کی طرف مڑ گیا جو زیر بحث نہ تھا۔
Ayah 11:71حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کیوں ہنس پڑی۔ اس لیے کہ اسے بھی معلوم تھا کہ حضرت لوط کس برائی اور غلاظت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔
اور وہ چونکہ بانجھ تھی اس کی کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اور اس طرح وہ معمر ہوگئی تھی اس لیے اس کے لیے یہ خوشخبری ایک عجوبہ تھی اور یہ خوشی اس وقت دوگنی ہوگئی جب ان کو خوشخبری دی گئی کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوں گے۔ عورت اور پھر بانجھ باعورت کو اگر اس قسم کی خوشخبری ملے تو لازمی ہے کہ وہ غیر معمولی اور اچانک خوشی کا مظاہرہ کرے گی۔
Ayah 11:72فی الواقعہ یہ ایک عجیب بات تھی ، ایک معین مدت کے بعد عورت کا حیض ختم ہوجاتا ہے اور اس کے بعد اس کا حمل رک جاتا ہے لیکن اللہ کی قدرت اپنے قوانین کی پابند نہیں ہے۔
Ayah 11:73بیشک امر الٰہی میں تعجب کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اگر ایک روٹین کسی حکم کے مطابق چل رہی ہو تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس عادت اور حکم کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن جب اللہ کی حکمت چاہے تو یہ روٹین بدل بھی سکتی ہے۔ یہاں اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھرانے پر رحم کرتے ہوئے اس کو بدلا لیکن جب ہمیں بظاہر نظر آتا ہے کہ واقعات کی روٹین بدل گئی ہے اور کوئی واقعہ خلاف عادت ہے تو بھی دراصل وہ ایک گہری عادت کے مطابق ہوتا ہے۔
کیونکہ ہمیں سنن الہیہ کا بالاستیعاب علم حاصل نہیں ہے۔ اس کی حدود بہت ہی وسیع ہیں۔ ہم تو ایک حد تک حقائق کو دیکھ سکتے ہیں اور یہ حد بہت ہی مختصر اور محدود ہوتی ہے جبکہ ہم واقعات کی حقیقت کا استقراء اور استیعاب کرنے سے قاصر ہیں۔
جو لوگ ذات باری کی قدرت و حکمت کو اپنے علم کے محدود پیمانے سے ناپتے ہیں۔ حتی کہ وہ لوگ جو اللہ کی مشیت کو خود اللہ کے بنائے ہوئے قواعد میں محدود کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ ذات باری کی ماہیت اور حقیقت کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ کیونکہ اللہ کی مشیت خود اللہ کے بنائے ہوئے قواعد سے بھی آزاد ہے ، اللہ کی مشیت خود اللہ کے بنائے ہوئے نوامیس قدرت کی پابند بھی نہیں ہے۔
یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کو ان قوانین قدرت کے مطابق چلاتا ہے جو اس نے اس جہاں کے لیے تیار کیے ہیں لکین یہ ایک علیحدہ بات ہے اور یہ کہنا کہ اللہ کی مشیت قوانین طبیعہ کی پابند ہے تو یہ ایک دوسری بات ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قوانین طبیعہ ٹھیک ٹھیک چلتے ہیں اورو لیکن ہر مرتبہ ان کا جزئی عمل جو اثرات مرتب کرتا ہے وہ اللہ کے حکم سے کرتا ہے۔ یہ اثرات خود کار طور پر نہیں ہوتے تو اگر کسی موقعہ پر اللہ تعالیٰ یہ حکم کر دے کہ کوئی جزوی طبیعی عمل وہ اثرات نہیں ظاہر کرے گا تو ایسا نہ ہوگا اور پھر ہم یہ نہ کہیں گے کہ اللہ کا قانون قدرت بدل گیا ہے بلکہ درست یہ ہوگا کہ قانون قدرت اب یہ ہے کو خارق عادت نظر آتا ہے۔ لہذا نوامیس قدرت اور قوانین طبیعت دراصل اللہ کے ارادے کا مظہر ہوتے ہیں جب اللہ کا ارادہ کچھ اور چاہتا ہے تو وہ اور قانون قدرت بن جاتا ہے۔ اصل قانون قدرت اللہ کا بےقید ارادہ ہے۔
چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مطمئن ہوگئے کہ یہ اللہ کے نمائندگان قدرت ہیں اور پھر وہ اس پر بھی مطمئن ہوگئے کہ ان کے لیے یہ لوگ جو خوشخبری لائے ہیں وہ بھی لازماً متحقق ہونے والی ہے۔ لیکن وہ ان حالات میں بھی حضرت لوط اور ان کی قوم کو نہ بھولے کیونکہ وہ ان کے بھائی تازح کے بیٹے تھے اور ان کے قریب ہی رہائش پذیر تھے۔ اب چونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ اللہ نے جن لوگوں کو بھیجا ہے وہ تو قوم لوط (علیہ السلام) کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکیں گے اور حضرت ابراہیم نہایت ہی مشفق اور رحم دل تھے۔ چناچہ قوم لوط (علیہ السلام) کے بارے میں فرشتوں سے یہ مکالمہ شروع کردیا۔
Ayahs 11:74–75حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایسے حلیم الطبع تھے کہ وہ موجبات غیظ و غضب کو برداشت کرلیتے تھے ، صبر کرتے تھے اور جوش میں نہ آتے تھے۔ اور اواہ کے معنی یہ ہیں کہ خدا خوفی کی وجہ سے وہ ہر وقت آہ وزاری فرماتے تھے اور منیب کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہر معاملے میں جلدی سے اپنے رب کی طرف رجوع فرماتے تھے۔ ان تمام صفات کے باعث حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے فرشتوں کے ساتھ قوم لوط (علیہ السلام) کے حوالے سے جھگڑنا شروع کردیا۔ اب یہ کہ حضرت نے کیا جھگڑا فرمایا ؟ قرآن کریم نے اس کی کوئی تشریح نہیں کی ہے لیکن عین اس وقت اللہ کا حکم آگیا اور فرمایا گیا کہ اس معاملے میں نہ جھگڑو ، لہذا جھگڑا ختم ہوگیا۔
Ayah 11:76پردہ گرتا ہے اور یہ خوش کن اور دلربا منظر آنکھوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ سیاق کلام پر خاموشی طاری ہوجاتی ہے۔ لازمی ہے کہ حکم باری کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی خاموش ہوگئے ہوں گے۔ لیکن اچانک آنکھوں کے سامنے ایک دوسرا منظر آجاتا ہے جو ہاو و ہو سے پر ہے۔ اردن کے ایک شہر میں قوم لوط (علیہ السلام) سامنے آتی ہے۔ یہ شہر عموریہ اور صدوم ہیں :
Ayah 11:77آپ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ، ان کی فطرت کے اندر جو بگاڑ اور گندگی پیدا ہوگئی تھی وہ ناقابل تصور اور بےمثل تھی۔ وہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوانی تعلقات قائم کرتے تھے۔ اور یہ حرکت اس نظام فطرت کے خلاف تھی جس کے مطابق اللہ نے تمام مخلوقات کو نر اور مادہ کی شکل میں پیدا کیا ، تا کہ تمام انواع کی بقا اور تسلسل قائم رہ سکے اور جس کے ذریعے نوامیس فطرت نے انسان کے لیے جو لذت اور خوشی ودیعت کی ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔
یہ راہ فطرت انسان خود اپنے غور و فکر اور اپنی تدابیر اور محنت سے حاصل نہیں کرسکتا ، صرف راہ راست پر استقامت اور ہدایت ربانی سے یہ لذت مل سکتی ہے۔ جنسی بےراہ روی کے سلسلے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کے اندر اس قسم کی شاذ ونادر بےراہ روی تو انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ بعض انسان بیمار ہوتے ہیں لیکن قوم لوط (علیہ السلام) کی بیماری ایک عجیب اور ہمہ گیر بیماری تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفسیاتی بیماریاں بھی اسی طرح پیھل جاتی ہیں جس طرح جسمانی بیماریاں پھیل جاتی ہیں اور اگر کسی سوسائٹی کا معیار حسن و قبح بدل جائے تو اس کے اندر ایسی بیماریاں بھی پھیل جاتی ہیں اور قوم پوری کی پو ری اخلاقی بگاڑ کا شکار ہوجاتی ہے اور یہ بگاڑ سوسائٹی کے بگڑے ہوئے تصورات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ بگاڑ انسانی فطرت سلیمہ کے ساتھ متصادم ہوتا ہے ، کیونکہ فطرت سلیمہ تو کائنات کے نوامیس کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے اور وہ موجبات حیات کی ممد ہوتی ہے ، متصادم نہیں ہوتی جبکہ یہ جنسی بےراہ روی امتداد حیات کے نظام کے ساتھ متصادم ہوتی ہے۔ انسان تخم حیات کو ایسی سرزمین میں بوتا ہے جہاں سے زندگی کی نشوونما نہیں ہو سکتی ، یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی جنسی بےراہ روی سے انسانی فطرت نہ صرف یہ کہ اخلاقی طور پر متصادم ہوتی ہے بلکہ قوانین فطرت بھی اس سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ عمل قوم لوط نہ صرف یہ کہ فطرت کے خلاف ہے بلکہ نظام امتداد حیات اور حقیقی لذت کے بھی خلاف ہے۔
بعض اوقات انسان موت میں وہ لذت محسوس کرتا ہے جو حیات میں نہیں ہوتی لیکن یہ لذت اعلیٰ اقدار اور بلند مقاصد کے حصول کے لیے ہوتی ہے۔ یہ حسی اور جسمانی لذت نہیں ہوتی اور جہاد میں سر قربان کرنا نظام بقائے حیات کے ساتھ متصادم نہیں ہے بلکہ اس طرح زندگی کو کم کرنا دوسرے پہلو سے زندگی کو بلند کرنا ہے۔ اللہ کی راہ میں شہادت سے زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ زندگی ایک دوسرا انداز اختیار کرتی ہے۔
تو حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کو دیکھ کر بہت ہی کبیدہ خاطر ہوئے ، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ ان کی قوم ان خوبصورت مہمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی اور اس طرح انہیں بہت ہی شرمندہ ہونا پڑے گا۔ هَذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ “ آج بڑی مصیبت کا دن ہے
Ayah 11:78(يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ ) یعنی اس طرح دوڑے جس طرح بخار میں مبتلا شخص کانپتے ہوئے دوڑتا ہے۔ بےچینی سے ، ہرع بخار کی حالت میں کانپنا۔
اس سے قبل ان کے ہاں مہمانوں کے ساتھ بد سلوکی عام تھی۔ اس لیے حضرت لوط (علیہ السلام) ان فرشتوں کے بارے میں سخت دل تنگ ہوئے اور اس دن کو مصیبت کے دن سے تعبیر کیا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) نے دیکھا کہ یہ لوگ بدکاری کے لیے اس طرح بےاختیار دوڑے چلے آتے ہیں جس طرح بخار میں مبتلا شخص بےاختیار کانپتا ہے اور ان کے مہمانوں کی توہین پر تلے ہوئے ہیں تو انہوں نے ان کی ذات کے اندرموجود فطرت سلیمہ کو اپیل کی۔ ان کو متوجہ کیا کہ دیکھو عورتیں موجود ہیں جن کو اللہ نے اسی مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ خود حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں لڑکیاں موجود تھیں اور وہ اسی وقت جائز طریقوں سے ان کے جوش لذت کو تسکین دے سکتی تھیں۔ جن کو اسی مقصد کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔ وہ اسی وقت ان کو نکاح کر کے ان کے حوالے کرنے کے لیے تیار تھے تا کہ وہ ان کی جنونی شہوت رانی کے لیے سکون کا سامان فراہم کریں۔
قَالَ يَا قَوْمِ هَؤُلاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلا تُخْزُونِي فِي ضَيْفِي أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ (11 : 78) ۔ لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا ، “ بھائیو ، یہ میری بیٹیاں موجود ہیں ، یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں۔ کچھ خدا کا خوف کرو اور میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں ؟ ”
هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ (78 : 11) “ وہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں ”۔ یعنی وہ ہر لحاظ سے پاکیزہ ہیں۔ نفسیاتی اعتبار سے پاکیزہ ، حسی اعتبار سے پاکیزہ اور اخلاقی اعتبار سے پاکیزہ ہیں۔ وہ پاک فطرت ہیں اور پاک جذبات کی تسکین کے لیے تیار ہیں۔ ان کے اخلاق اور ان کا دین پاکیزہ ہے اور قدرت نے بھی انہیں اس پاک اور عظیم مقصد کے لیے تیار کیا ہے اور یہ راستہ بھی بمقابلہ اس راہ کے جو وہ اختیار کر رہے ہیں پاکیزہ ہے۔
فَاتَّقُوا اللَّهَ (87 : 11) “ پس اللہ سے ڈرو ” پہلے فقرے میں ان کو سمجھایا گیا کہ فطری طور پر پاکیزہ راہ اختیار کرو ، یہاں کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو اور اس غلط روش سے باز آجاؤ ”
وَلا تُخْزُونِي فِي ضَيْفِي (87 : 11) “ اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ ” یہ فقرہ ان کے جذبہ انسانی غیرت کو بیدار کرنے کے لیے کہا گیا اور دیہاتی لوگ مہمان کا عموماً خیال رکھتے ہیں اور مہمانوں کی توہین کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔
أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ (11 : 78) “ کیا تم میں سے کوئی بھلا آدمی نہیں ہے۔ ” یہ معاملہ بھی ہدایت ، نیکی اور بھلائی کا ہے۔ نیز فطرت اور مروت اور اخلاق کا بھی یہی تقاضا ہے۔ لیکن یہ تمام اپیلیں بد فطرت لوگوں پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔ اس لیے کہ ان لوگوں کے دل منحرف ہوگئے تھے۔ ان کی عقل ماؤف ہوگئی تھی اور ان کا ناقابل مثال شہوانی جوش ان پر غالب تھا۔
Ayah 11:79انہوں نے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اگر ہم تمہاری بیٹیوں کا رشتہ چاہتے تو تم ضرور نکاح کر کے ہمارے حوالے کردیتے اور تم جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں ؟ یہ ان کی جانب سے ان کے خبیث اور گندے ارادے کی طرف نہایت ہی خبیثانہ اشارہ ہے۔
اس موقعہ پر حضرت لوط (علیہ السلام) نڈھال ہوگئے۔ انہوں نے محسوس کرلیا کہ وہ اب ان کے مقابلے میں بالکل بےبس ہیں ، وہ اس قوم میں اس طرح ہیں جس طرح ایک مسافر ہوتا ہے۔ گویا یہاں ان کا کوئی خاندان اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ اور اس مصیبت کے وقت کوئی نہیں ہے جو ان کی دستگیری کرے۔ ایسے حالات میں وہ جس پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں ، وہ یہ ہے :
Ayah 11:80جب حضرت لوط (علیہ السلام) یہ کلمات کہہ رہے تھے تو روئے سخن ان نوجوانوں کی طرف تھا۔ یعنی فرشتوں کی طرف جو خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں موجود تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی نظر میں یہ نوجوان اس قدر مضبوط نہ تھے کہ اپنا دفاع کرسکیں۔ چناچہ حضرت لوط (علیہ السلام) یہ اشارہ دینا چاہتے تھے کہ اگر تم لوگ مضبوط ہوتے تو بھی ان ظالموں کا مقابلہ کیا جا سکتا تھا یا یہ کہ اور کوئی ان کا حامی و مدد گار ہوتا تو وہ اس کی مدد اور معاونت طلب کرلیتے لیکن کوئی نہیں ہے۔
حضرت لوط جن مشکلات سے دو چار تھے اور جس پریشانی میں مبتلا تھے۔ اس میں ان کی نظروں سے وقتی طور پر یہ حقیقت اوجھل ہوگئی کہ وہ تو ایک مضبوط سہارے کی پناہ میں ہیں۔ حضور ﷺ نے جب یہ آیت پڑھی ، ایک حدیث میں فرمایا ، “ اللہ حضرت لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے وہ تو اس وقت بھی ایک مضبوط سارے کی پناہ میں تھے۔ ”
غرض جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی پریشانی انتہاؤں کو چھونے لگی اور مصیبت کا دائرہ ان پر تنگ ہوگیا ، تو اس وقت اللہ کے رسولوں نے اپنا تعارف کرا دیا اور بتا دیا کہ وہ تو ایک نہایت ہی مضبوط سہارے کی پناہ میں ہیں۔ خدائی قوت آپ کی پشت پر ہے۔
Ayah 11:81چناچہ انہوں نے اپنے مشن کی بابت بتادیا اور حکم دیا کہ وہ اپنے پاکیزہ خاندان کے ساتھ نکل جائیں۔ ہاں تمہاری بیوی تمہارے ساتھ نہیں ہے۔ یہ فاسقین کی جماعت میں شامل ہے۔
اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍِ (81 : 11) “ کیا صبح کا وقت قریب نہیں ہے۔ ” یہ فقرہ اس لیے آیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی روح خوش ہوجائے کیونکہ انہوں نے گزشتہ محفل بڑی اذیت کے ساتھ گزاری تھی۔
مقصد یہ تھا کہ ان لوگوں کا انجام بہت ہی قریب ہے۔ صبح ہوتے ہی یہ لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔ اب وہ خواہش اللہ پوری فرمائیں گے جو خواہش حضرت لوط اپنی کم قوت کی بناء پر پوری نہ کرسکتے تھے۔
Ayahs 11:82–83یعنی جب ان پر عذاب نافذ کرنے کا وقت آیا تو ہم نے ان کی بستی کو اوپر نیچے کردیا۔ یعنی یہ سزا ان کے لیے اس لیے تجویز ہوئی کہ انہوں نے بھی اپنے آپ کو مقام انسانیت سے گرا کر مقام حیوانیت تک لے آئے تھے۔ بلکہ وہ حیوانات سے بھی نیچے گر گئے تھے کیونکہ حیوانات بہرحال حیوانی فطرت کے اصولوں کے تابع ہوتے ہیں اور اپنی حدود کے اندر رہتے ہیں۔ لیکن انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو فطرت کی حدود کو بھی پار کرلیتا ہے۔
أَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ (83 : 11) اور ہم نے ان پر مٹی آلود پتھر برسائے۔ ” یعنی ایسے پتھر جن کے ساتھ مٹی لگی ہوئی تھی۔ اس مقام پر ان کے لیے خاک آلود پتھر ان کے حال اور مقام سے زیادہ مناسب تھے۔ منضود کے معنی ہیں اوپر تلے آنے والے پتھر اور یہ پتھر
مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ (83 : 11) “ تمہارے رب کے ہاں نشان زدہ تھے۔ ” جس طرح مویشیوں پر نشان لگا کر چھوڑ دیا جاتا ہے تا کہ پڑھے جاسکیں۔ گویا ان پتھروں کو اللہ نے اس طرح چھوڑا کہ وہ خود کار عمل سے پڑتے تھے اور ضرورت کے وقت اپنا کام کرتے تھے۔ یہ ایک عجیب تصویر کشی ہے۔ ذہن پر اس کے بےپناہ اثرات پڑتے ہیں۔ اس تصویر کشی سے ذہن پر جو اثر مرتب ہوتا ہے وہ لمبی لمبی تشریحات سے نہیں پڑتا۔
وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ (11 : 83) “ ظالموں سے یہ سزا کوئی دور نہیں ہے۔ ” یہ سزا قریب ہے ، تیار ہے اور اللہ کسی بھی وقت نازل کرسکتا ہے۔
یہاں آل لوط (علیہ السلام) کی اس سزا کو جن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ، اس کی تصویربعض آتش فشاں پہاڑوں کے بالکل مشابہ ہے۔ کیونکہ آتش فشانی کے عمل میں پتھر اور غبار آلود پتھر برستے ہیں اور ظالم اقوام کو اللہ ان کے ظلم کی سزا دیتے ہیں۔
ہم اس مشابہت کا ذکر کر کے یہ کہنا نہیں چاہتے کہ یہ سزا کوئی آتش فشانی تھی اور کسی مخصوص وقت میں عمل واقع ہوگیا۔ نہ ہم اس کی نفی کرتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں ان لوگوں کے لیے آتش فشانی کی سزا مقرر کی ہو۔ یہ بھی سزا کا ایک طریقہ ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس قوم کو اللہ نے ایک عام اور معمولی آتش فشانی کے ذریعے سے سزا دی ہو۔ اور روز ازل سے ان کے لیے یہ عمل تجویز ہوا ہو۔ اور یہ بھی اللہ کی قدرت ہے کہ اس نے اس مجرم قوم کے لیے اپنے تصرفات قدرت میں سے ایک عمل کو مخصوص کر یدا ہو۔ اور یہ بھی درست ہو سکتا ہے کہ یہ آتش فشانی عام طبیعی عمل کا حصہ نہ ہو اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے خارق عادت طریقے سے کوئی سنگ باری کی ہو اور اس کا تعلق طبیعی آتش فشانی سے بالکل نہ ہو۔ یہ عمل اسی طرح خارق عادت ہو جس طرح حضرت ابراہیم کے ہاں بچے کی ولادت کا عمل معتاد طریقے کے بالکل برعکس ہوگیا تھا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ جس طرح چاہے ، کرسکتا ہے۔ اس کی مشیت بےقید ہے اور انسان کے لیے اس کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔
Ayah 11:84درس نمبر 103 ایک نظر میں
اسلامی نظریہ حیات انسانی تاریخ میں واحد ، دائمی اور مسلسل نظریہ ہے ، اب ہم حضرت شعیب (علیہ السلام) کے دور میں پہنچ گئے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم اہل مدین میں اس کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔ لیکن ان کی دعوت میں اسلامی نظریہ حیات کے ساتھ ساتھ سوسائٹی کا ایک دوسرا اہم مسئلہ بھی سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ سوسائٹی میں امانت عدل اور حسن معاملہ کے اصول نافذ کرو ، ان معاملات کا تعلق بھی اسلامی عقائد سے ہے۔ کیونکہ اللہ وحدہ کے دین میں داخل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ صرف اللہ کی شریعت کا اتباع کیا جائے۔ لیکن اہل مدین کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی یہ دعوت سن کر بڑا تعجب ہوا اور یہ بات ان کو انوکھی لگی۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ دین کے ساتھ ناپ تول جیسے دنیاوی معاملات کا تعلق کیا ہے ؟ نماز اور ترازو کے درمیان کیا نسبت ؟ عبادت اور مالی معاملات بالکل الگ الگ نوعیت کے حامل ہیں۔
یہ قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کے قصے اور حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود کے قصے کے بعد آتا ہے۔ لیکن اس قصے کا انجام اور اس کا اسلوب بیان اور عذاب کی نوعیت قصہ صالح کے ساتھ زیادہ مماثلت رکھتی ہے۔ ان کا عذاب بھی ایک جیسا ہے اور اس عذاب کا اسلوب تعبیر بھی یکساں ہے۔
درس نمبر 103 تشریح آیات
84۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 95
صرف اللہ کی بندگی کرنا دین اسلام کی خشت اول ہے۔ اور اسلامی نظام زندگی کی اساس ہے۔ اسلامی شریعت کا بھی یہ قاعدہ اول ہے۔ اسلامی سوسائٹی کا نظام عمل سب کا سب اسی قاعدے پر مبنی ہے۔ یہ وہ عقیدہ ہے جس کے بعیر کوئی عقیدہ ، کوئی پرستش ، کو سی طرز عمل مکمل اور اسلامی نہیں کہلا سکتی۔
ان آیات میں جو اہم معاملہ اٹھایا گیا ہے وہ عدل و انصاف اور امانت و دیانت کا اور معاشی ضابطہ بندی کا مسئلہ ہے۔ اس سے قبل کی آیات میں اسلام کی نظریاتی اساس کا تعین تھا۔ لیکن یہاں جو مالی ہدایات دی گئی ہیں وہ اس نظریہ حیات کا فطری نتیجہ ہیں۔ اہل مدین کا علاقہ حجاز سے شام تک جانے والے تجارتی راستے پر تھا۔ اور ان میں یہ کمزوری پائی جاتی تھی کہ وہ ناپ تول میں لوگوں کا حق مارتے تھے۔ لوگوں کی چیزوں کی قیمت کم دیتے۔ یہ وہ کمزوری ہے جو انسان کے قلب و عمل ، دونوں کو گندہ کردیتی ہے اور انسان سے مروت اور عزت نفس کے بلند اوصاف جاتے رہتے ہیں۔ اس رزالت کے علاوہ یہ لوگ شمالی عرب میں شام کی طرف آنے جانے والے قافلوں کو بھی لوٹ لیتے تھے اور آنے جانے والوں پر ناجائزراہداری عائد کرکے ظلم کرتے تھے۔ اس صورت میں ان کے اس عیب کی تفصیلات دی گئی ہیں۔
اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلامی نظام حیات میں نظریات ، عقائد کا تعق براہ راست امانت ، دیانت ، عدذل و انصاف اور لین دین میں اصول انصاف کے قیام اور سوسائٹی سے چوری ، ڈکیتی اور تمام دور سے معاشری جرائم کے ، خاتمے سے ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ کسی معاشرے میں عدل و انصاف تب قائم ہو سکتا ہے جب اس کے افراد کے اندر خدا خوفی اور آخرت کی جواب دہی کا احساس ہو۔ صرف ایسے عقائد اور ایسے اخلاق کے ذریعے سوسائٹی میں عدل و انصاف اور منصفانہ معاشی نظام اور معاشی روابط قائم ہو سکتے ہیں اور ایک ٹھوس انسانی معاشرہ قائم کیا جاسکتا ہے۔
کسی بھی صحت مند معاشرے میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ باہم معاملات کا نظام اور معاشرہ کا اخلاقی نظام ایک مستحکم نظریاتی اساس پر مبنی ہوں اور معاملات اور اخلاق ایسے اصولوں اور تصورات پر مبنی نہ ہوں جو آئے دن بدلنے والے ہوں۔ اسلامی نظریہ حیات میں یہی خوبی ہے۔ اسلامی نظام تمام دوسرے نظاموں اور اسلامی سوسائٹی تمام دوسری سوسائیٹوں سے اس پہلو میں منفرد ہے کہ اس میں افراد کی پوری زندگی اسلامی عقائد و تصورات پر استوار ہوتی ہے اس میں محض عارضی اور ظاہری مظاہر و مطالب ہی پش نظر نہیں ہوتے۔
جب اسلامی سوسائٹی اپنے اخلاق و معاملات ان اصولوں اور مستحکم بنیادوں پر رکھتی ہے تو پھر وہ گردش دوران کے عارضی موثرات سے بدلتی نہیں اور نہ ہی وہ کسی مروجہ عارضی سیلاب اور تپش سے متاثر ہوتی ہے۔
لوگوں کے اخلاق ، ان کے باہم معاملات کا اخلاقی رنگ یہ نہیں ہورتا کہ وہ زرعی معیشت پر تکیہ رکھتے ہیں یا وہ جانور پال کر زندگی بسر کرتے ہیں یا ان کا تعلق صنعت و حرفت کے پیشوں سے ہے یہ عوامل ان کے اخلاق اور طرز عمل پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ اسلام کے اخلاقی نقطہ نظر میں اور اسلام کے اخلاقی اصولوں میں ان عوامل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے کیونکہ اسلامی اخلاقیات اور اسلامی شریعت و قوانین کا ماخذ قرآن اور سنت ہیں اور اسلامی قانون اور اخلاق کا نصب العین صرف رضائے الہی کا حصول ہے اور آخرت کے عذاب کا خوف اور ثواب کا حصول اسلامی نظام اور معاشرے میں اصل محرک ہے۔ دنیا میں انسانوں کے وضع کردہ نظام ہائے قانون و اخلاق چونکہ تجارتی روابط ، اقتصادی حالات اور ذاتی اور قومی مفادات کو پیش نظر رکھ کر بنائے اور وضع کیے جاتے ہیں ، اس لیے یہ تصورات اور یہ اخلاقیات اسلامی زاویہ نگاہ سے بالکل لغو اور بودے ہوتے ہیں۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے امیر جماعت اسلامی پاکستان سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب “ اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر ” اور مولف کی کتاب (نحو مجتمع اسلامی) کی فصل “ نظام اخلاق ”)
وَلا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِنِّي أَرَاكُمْ بِخَيْرٍ (84 : 11) “ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں۔ ” یعنی اللہ نے تمہیں رزق حسن دیا ہے۔ اس لیے تمہیں اس قسم کی گھٹیا حرکت کرنے کی نہ ضرورت ہے اور نہ مجبور ہے۔ تم پہلے سے غنی ہو۔ اگر تم ناپ اور تول کے پیمانوں میں یہ بےقاعدگی چھوڑ دو تو تم غریب نہ ہو گے اور اگر اسے جاری رکھو تو تم امیر تر نہیں بن سکتے۔ بلکہ خطرہ یہ ہے کہ اس بےقاعدگی کی وجہ سے تمہارے اچھے دن ختم ہوجائیں اور تمہاری مالی مار دھاڑ کے مواقع ہی نا پید ہوجائیں۔
وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُحِيطٍ (11 : 84) “ مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیر لے گا۔ ” یہ عذاب آخرت میں بھی آسکتا ہے جہاں پر چھوٹے بڑے معاملے کا فیصلہ ہوگا اور اس جہان میں بھی آسکتا ہے ، جب لوگوں پر تمہاری یہ غلط کاری واضح ہوگی اور تمہاری تجارت ماند پڑجائے گی اور معاشرے کے اندر کشمکش شروع ہوگی اور تم ایک دوسرے کے برسرپیکار ہوجاؤ گے اور رسہ کشی شروع ہوجائے گی۔
Ayah 11:85وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ (85 : 11) “ اور اے برادران قوم ، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پوارا ناپو اور تولو ”۔ یہاں یہ کہا کہ ناپ اور تول پورا پورا کرو ، یعنی کم ناپ تول کے مقابلے میں پورا ناپنے اور تولنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ پورے سے بھی دقرے زیادہ ہو۔ چناچہ اس انداز تعبیر یعنی
أَوْفُوا الْمِكْيَالَ (85 : 11) کے اندر وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ (84 : 11) کے مقابلے میں زیادہ خوبصورتی ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ زیادتی کی طرف مائل ناپ و تول کی راہ لو۔
وَلا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ (85 : 11) “ اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو۔ ” یہ فقرہ ناپ تول کی اشیاء تک محدود نہیں ہے۔ یہ عام ہے یعنی تمام قیمتی اشیاء خواہ ناپ سے متعلق ہوں ، یا تول سے ، قیمت سے ہوں یا ویلیو سے۔ کیونکہ “ شیئٌ” کے لفظ کا اطلاق بہت عام ہے۔ اس کا اطلاق محسوسات اور غیر محسوسات دونوں پر ہوتا ہے۔
لوگوں کی چیزوں کو گھٹانا ایک پہلو سے تو ظلم ہے لیکن اس کے بعض دوسرے مفاسد بھی ہیں۔ لوگوں کے اندر اس کی وجہ سے نفرت اور دوسرے برے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کو کوفت ہوتی ہے اور معاشرے کے اندر ایک دور سے کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے اور جب عدل و انصاف کے اداروں پر لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے تو معاشرے کے اندر اجتماعی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور لوگوں کے دل ایک دوسرے کے خلاف بھر جاتے ہیں اور اجتماعی زندگی سے اصلاح اور نیکی کا اثر ختم ہوجاتا ہے۔
وَلا تَعْثَوْا فِي الأرْضِ مُفْسِدِينَ (11 : 85) “ اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ ” عثو کے معنی بگاڑ پیدا کرنے کے ہیں۔ یعنی فساد پھیلانے کے منصوبے نہ بناتے پھرو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کے اندر موجود بھلائی کے میلانات کو ابھارتے ہیں کہ اللہ نے ان کو جائز ذرائع سے جو دولت دی ہے وہ اس ناپاک دولت سے بہت ہی بہتر ہے جو ناپ تول میں کمی بیشی کر کے وہ کماتے ہیں اور لوگوں کے حقوق مار کر جمع کرتے ہیں۔
Ayah 11:86بَقِيَّةُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (11 : 85) “ اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ ” کیونکہ اللہ کے ہاں جو اجر ہے یا اللہ کی شریعت کے مطابق جائز ذرائع سے آنے والی کمائی زیادہ قیمتی اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔ اس سے قبل اللہ نے بتایا تھا کہ صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کرو اور اللہ کے دین میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔ اور اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس دین کے مطابق جو منافع وہ کمائیں گے وہ زیادہ نفع بخش کام ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور معاشی سرگرمیوں میں پاکیزہ راہ اختیار کرنا اس ایمان اور نظریہ کا لازمی تقاضا بھی ہے۔
اب حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو اور ان کے سامنے پیش کی گئی دعوت کو ایک طرف چھوڑتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ بذات خود کسی تصرف کے مالک نہیں ہیں ، کوئی گارنٹی تمہیں نہیں دے سکتے اور وہ عملا شر اور عذاب اور فساد سے تمہیں روک دینے پر قدرت نہیں رکھتے ۔ اور وہ اس بات کے ذمہ دار نہیں ہیں کہ وہ ہر حال میں تمہیں ہدایت پر لے آئیں اور اگر تم لوگ ضلالت پر اصرار کرتے ہو تو اس بات کی عند اللہ کوئی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے۔ میرا فرض تو صرف ابلاغ مبین ہے اور تبلیغ دین کا فریضہ ظاہر ہے کہ میں نے ادا کردیا ہے۔
وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٍ (11 : 86) “ اور بہرحال میں تمہارے اوپر کوئی نگران کار نہیں ہوں۔ ” یہ انداز کلام ایک سننے والے کو اس بات پر مجبور کردیتا ہے کہ معاملہ بڑا سنگین ہے۔ اس کے نتائج خطرناک ہوں گے اور اگر وہ غور نہ کریں گے تو برے انجام سے خود وہ دو چار ہوں گے اور کوئی وہاں نہ رکاوٹ ڈال سکتے گا اور نہ کوئٍ بچانے والا ہوگا۔
لیکن قوم بگڑی ہوئی تھی اور وہ فساد اور بےراہ روی کے عادی ہوگئے تھے اور وہ لوگوں کا استحصال صدیوں سے کرتے چلے آئے تھے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں :
Ayah 11:87یہ جواب نہایت ہی توہین آمیز اور خود سری پر مبنی ہے۔ ایک جاہل اور بگاڑ میں مبتلا اور مسخ شدہ فطرت پر مبنی جاہل شخص کا جواب ہے اور جواب دینے والا مخاطب کے ساتھ سخت عناد اور دشمنی رکھتا ہے ، ذرا غور کیجئے۔
قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ (87 : 11) “ انہوں نے جواب دیا ، “ اے شعیب (علیہ السلام) کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو ؟ ”
وہ اس بات کو نہیں سمجھتے یا اس بات کو وہ سمجھنا نہیں چاہتے کہ نماز اسلامی نظریہ حیات اور ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اور اللہ کی پرستش اور بندگی کا متعین طریقہ ہے۔ وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ کوئی عقیدہ و نظریہ ، عقیدہ توحید کے بغیر حق نہیں ہو سکتا اور کوئی نظام اس کے سوا درست نہیں ہو سکتا کہ آباؤ اجداد کے تمام غلط طریقوں کی کلی نفی کردی جائے۔ نیز اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک اسلامی شریعت قائم نہ کردی جائے اور اسلامی شریعت بھی زندگی کے تمام شعبوں میں نہ نافذ کردی جائے۔ تجارت اور مالی معاملات میں زندگی کے انفرادی معاملات میں اور زندگی کے اجتمائی معاملات میں۔ کیونکہ عقیدہ و عمل اسلامی نظامی میں ایک ہی مجموعہ ہیں۔ ان میں تفریق نہیں ہو سکتی اور نہ عمل کے بغیر محض خالی خولی نعرے کی اسلام میں کوئی اہمیت ہے۔
اس سے قبل کہ ہم دین و معاملات کے درمیان افتراق کے اس احمقانہ تصور کی تردید میں مزید بحث کریں۔ یہاں اس بات کو نوٹ کرنا ضروری ہے کہ آج کی جاہلیت کے عمل برادار اس سلسلے میں وہی کچھ سوچتے ہیں جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی سوچ تھی۔ اور دور جدید کی جاہلیت نے اس غلط سوچ کے لیے قوم شعیب (علیہ السلام) سے برھ کر آگے کوئی دلائل فراہم نہیں کیے۔ جس طرح اس معاملے میں قوم شعیب مشرک تھی ، جدید جاہلیت کے پیروکار بھی اس شرک میں مبتلا ہیں۔ چاہے وہ یہودی ہوں ، چاہے عیسائی ، چاہے وہ آج کے نام نہاد مسلمان ہوں کیونکہ یہ سب لوگ دور جدید میں امیان و عقیدے اور اعمال وشعائر کے درمیان افتراق کرتے ہیں ، شریعت اور عمل کو جدا کرتے ہیں ، یہ لوگ عقائد و عبادات کو اللہ کے لیے مخصوص کرتے ہیں اور معاملات اور دنیاوی امور اپنے دوسرے مبعودوں اور لیڈروں کے احکام کے مطابق سر انجام دیتے ہیں اور یہی ہے حقیقی اور اصلی شرک۔
ہاں ، اس بات کا اعتراف کرنا بےجا نہ ہوگا کہ جو لوگ یہودی عقائد کے پیروکار ہیں اور ان کے عقائد بار ہا کی تحر یفات کے عمل سے بھی گزرے ہیں ، لیکن اس کے باوجود ان کی اسمبلی میں جب یہ مسئلہ پیش ہوا کہ ان کے بحری جہاز بعض مسافروں کو غیر شرعی حرام کھانا پیش کرتے ہیں تو ان کی اسمبلی نے ایسے جہازوں کو حکم دے دیا کہ جس قدر خسارہ بھی ہو ، ان کو چاہیے کہ ہر مسافر کو اسرائیلی شریعت کے مطابق صرف حلال کھانا پیش کیا جائے۔ اب ذرا ان لوگوں کو اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے جو دعوائے مسلمانی کے ساتھ ساتھ یہ سب کچھ کرتے ہیں۔
آن ہم میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں ، جو مسلمانی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ اخلاقی نیز معاشی اور معاملات کے میدان میں شریعت کی پابندی نہیں کرتے۔
اور بعض ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس دنیا کی مشہور ترین یونیورسٹیوں کی ڈگریاں ہیں ، یہ لوگ نہایت ہی تعجب سے پوچھتے ہیں اسلام کو ہمارے ذاتی اور انفرادی معاملات سے کیا تعلق ہے۔ اسلام کو اس بات سے کیا تعلق ہے کہ کوئی ساحلوں پر ننگا پھرتا ہے یا باپردہ۔ اسلام کو اس سے کیا تعلق ہے کہ کوئی عورت گلیوں میں پھرتے ہوئے کیسا لباس زیب تن کرتی ہے۔ پھر اسلام کو اس سے کیا واسطہ کہ کوئی اپنی جنسی قوت کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ پھر اگر کوئی اپنا مزاج درست کرنے کے لیے شراب پیتا ہے تو اسلام کو کیا تکلیف ہے ، پھر اس جدید دور کے تقاضے ہیں اور کچھ لوگ ان تقاضوں کو پورا کرتے ہیں تو اسلام کو کیا تکلیف ہے ؟ یہ سوالات اور قوم شعیب کے اس سوال میں فرق کیا ہے ؟ (اَصَلَوتٰک تَاْمُرُکَ ) “ کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے ان تمام معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پوجا ہمارے آباء کرتے چلے آئے ہیں۔ ”
پھر وہ دوسرا سوال بڑی شدت اور استکار سے کرتے ہیں کہ اسلام کو اقتصادی تعلقات میں دخل دے یا ہمارے لیے اقتصادی اخلاقیات کا کوئی نظام وضع کرے۔ دین کا سودی لین دین کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ دین کو اس سے کیا لگی کہ اگر کوئی مہارت اور دھوکے سے لوگوں سے مال جمع کرتا ہے تو وہ ایسا نہ کرے بشرطیکہ یہ چالاکی و عیاری انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کے دائرے کے اندر ہو ، بلکہ یہ لوگ بڑھی ڈھٹائی سے یہاں تک کہتے ہیں کہ جب بزنس میں اخلاق دخل اندازی کرے تو بزنس تباہ ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ بعض مغربی مفکرین کے اخلاقی نظام اقتصاد کو بھی برا سمجھتے ہیں اور ان کا یہ خیال ہے کہ ہمارے دور کے بعض مخلصین کا مغالطہ ہے۔
قدیم جاہلیت کے علم بردار اہل مدین کی مذمت میں ہمیں بہت آگے نہیں بڑھنا چاہیے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دور جدید کی جاہلیت اس کے مقابلے میں کہیں آگے بڑھ گئی ہے۔ اگر چہ جدید جاہلیت علم ، ترقی اور تہذیب کی مدعی ہے اور یہ جاہلیت ان لوگوں کو رجعت پسندی اور جہالت جمود اور تعصب کا الزام دیتی ہے جو لوگ یہ دعوت دیتے ہیں کہ ایمان ، شخصی طرز عمل اور بازار کے مادی اور اقتصادی طرز عمل کو باہم مربوط کردیا جائے۔
کوئی شخص اس وقت تک صحیح موحد نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے شخصی معاملات کو اپنے اجتماعی معالمات کو اپنے عقیدے کے ساتھ منسلک نہ کرے ، کیونکہ اگر کوئی ایسا نہ کرے تو وہ مشرک ہے اور مشرک اور توحید ایک دل میں کسی طرح جمع ہو سکتے ہیں یاد رہے کہ شرک کی کئی قسمیں اور کئی رنگ ہیں ایک رنگ اس کا وہ ہے جو آج کل رائج ہے اور ہم اس کے اندر زندگی بسر کر رہے ہیں اور اصل اور حقیقی شرک کی طرح اس پر بھی تمام مشرکین کا اتفاق ہے ، جدید ہوں کہ قدیم۔ جس دور میں ہوں اور جس مقام پر ہوں۔
ذرا ملاحظہ کیجئے اہل مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھ کیسا طنز کرتے ہیں اور یہی حرکت آج کے مدعیان توحید بھی کرتے ہیں۔
إِنَّكَ لأنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ (11 : 87) “ بس تو ہی تو ایک عالی ظرف اور راست باز آدمی رہ گیا ہے ؟ ان کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو فی الواقعہ راست باز سمجھتے تھے ، بلکہ وہ اس کے برعکس سمجھتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک دانش مندی اور راست بازی یہ تھی کہ وہ ان بتوں کی پوجا کریں جن کی پوجا ان کے آباؤ اجداد کرتے چلے آئے ہیں اور یہ کام بغیر سوچے سمجھے کیا جائے اور یہ کہ عبادت کے دائرے سے تجارت و معاملات کو آزاد رکھا جائے۔ اور یہی تنازعہ آج نام نہاد ترقی پسندوں اور دنام رجعت پسندوں کے درمیان اسی انداز سے چل رہا ہے۔
اب حضرت شعیب (علیہ السلام) ایک ایسے داعی حق کی طرح جیسے اپنی سچائی پر پورا پورا یقین ہو ، ان کے ساتھ نہایت ہی نرمی سے ہم کلام ہوتے ہیں وہ ان کے اس مذاق کو سنجیدگی کے ساتھ نظر انداز کردیتے ہیں۔ اور ان کی جہالت اور ان کے قصور کو خاطر میں نہیں لاتے۔ آپ ان کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف سے پوری شہادت رکھتے ہیں اور ان کو اپنے مشن کے بارے میں شرح صدر حاصل ہے اور یہ کہ ان کو وہ علم نبوت دیا گیا ہے جس سے یہ لوگ محروم ہیں ، نیز جب یہ اپنے معاملات کو اسلامی طریقہ کار کے مطابق استوار کریں گے تو ان کو جلد ہی اسلامی نظام معیشت کے فوائد کا علم ہوجائے گا۔ جیسا کہ خود حضرت شعیب (علیہ السلام) اس پر عمل پیرا ہیں اور صاحب مال و تجارت ہیں ، کیونکہ وہ اس دعوت پر ان سے کسی ذاتی مفاد کے طلب گار نہیں ہیں اور نہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو اچھے طرز عمل کی تلقین کر کے خود برے اعمال پر عمل پیرا ہوں اور بازار کو خالی پا کر خود مفاد سمیٹ لیں ان کی دعوت تو ان لوگوں کے لیے اور عوام الناس سب کے لیے عام ہے اور اس میں ان کے لیے کوئی نقصان بھی نہیں ہے۔ یہ محض ایک وہم ہے کہ معیشت میں اسلامی ہدایات کے نفاد سے شاید ان کو نقصان ہوگا۔
Ayah 11:88حضرت اپنی تقریر میں نہایت ہی ہمدردی ، محبت اور برادرانہ جذبات کا خیال رکھتے ہوئے خطاب کرتے ہیں۔
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي (88 : 11) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا۔ ” میرے نفس کے اندر ایک حقیقت موجود ہے اور میں اسے سچ سمجھتا ہوں ، پھر میری طرف وحی آتی ہے اور مجھے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تبلیغ کرو اور ان واضح شہادتوں کے بعد میں تمہارے سامنے بڑے اعتماد کے ساتھ یہ دعوت پیش کرتا ہوں۔
وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا (88 : 11) “ پھر اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھا رزق بھی عطا کیا ہے۔ ” میں خود بھی مالدار ہوں اور اپنی دولت میں تمہاری طرف تصرفات کرتا ہوں۔
وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ (88 : 11) “ اور میں یہ ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں۔ ” یعنی میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ میں اس بری حرکت سے تمہیں تو روک دوں اور دکان میں جا کر خود یہ کام کروں اور دولت کماؤں ، ہر گز نہیں بلکہ
إِنْ أُرِيدُ إِلا الإصْلاحَ مَا اسْتَطَعْتُ “ میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تم بھی میرا بس چلے۔ ”
اصلاح سے مراد عام اصلاح ہے جس میں پورے معاشرے کی بھلائی ہو ، معاشرے کے تمام افراد اور تمام جماعتوں کی بھلائی ہو۔ اگرچہ بعض لوگ اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ اسلامی نظریہ حیات اپنانے سے مادی لحاظ سے نقصان پہنچتا ہے اور انسان سے نفع اندوزی کے مواقع جاتے رہتے ہیں ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان نہ صرف حرام اور خبیث اور ناپاک دولت کے سمیٹنے سے بچ نکلتا ہے۔ بلکہ حرام اور ناپاک کمائی کی جگہ رزق حلال اسے ملتا ہے اور اسلامی نظریہ حیات کے نتیجے میں ایک ایسا پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں تمام لوگوں کی ضروریات کی ضمانت ہوتی ہے اور جس کے اندر کوئی تعصب نہیں ہوتا اور نہ کوئی جنگ وجدال ہوتا ہے۔
وَمَا تَوْفِيقِي إِلا بِاللَّهِ (88 : 11) “ اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ ” وہی ہے جو میرے اصلاحی کام کو کامیابی تک پہنچا سکتا ہے ، کیونکہ اسے خوب علم ہے کہ میری نیت اور میرا ارادہ کیا ہے اور وہی ہے جو اس جدوجہد پر مجھے جزاء دے سکتا ہے۔
عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ (88 : 11) “ اسی پر میں نے بھروسہ کیا۔ ” یعنی میرا اعتماد صرف پر ہے اور اس کے سوا کسی اور پر میں کوئی بھروسہ نہیں کرتا۔
وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (88 : 11) “ اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ ” میرا رخ اسی کی طرف ہے اور تمام امور میں میرا رجوع اسی کی صرف ہے۔ میری نیت ، میرا ارادہ اور میرا عمل اسی کی طرف متوجہ ہے۔ اور تمام جدوجہد اس کے لیے ہے۔
اب حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو ایک دوسرے میدان میں فہمائش کرتے ہیں۔ ان کو بتاتے ہیں کہ ذرا قوم نوح۔ قوم ہود ، قوم صالح اور قوم لوط کے انجام پر غور کرو۔ تاریخی واقعات کند ذہن افراد پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ جامد اور سنگدل لوگوں پر عقلی دلائل کے مقابلے میں واقعات کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔
Ayah 11:89یعنی میری مخالفت اور دشمنی تمہیں اس بات پر مجبور نہ کر دے کہ تم مخالف اور تکذیب میں بہت آگے چلے جاؤ
Ayah 11:90حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو وعظ و نصیحت یاد دہانی اور تخویف اور اچھے انجام کی یقین دہانی اور تمام دوسرے ذرائع سے راہ راست پر لانے کی سعی کرتے ہیں۔ ہر حربہ استعمال کرتے ہیں کہ ان کے دل نرم ہوجائیں۔ ان کے اندر خدا خوفی پیدا ہوجائے۔ لیکن ان لوگوں کے دل انتہائی درجے تک بگاڑ اور فساد میں مبتلا ہوگئے تھے۔ ان کا تصور حیات ہی غلط تھا ، اس لیے ان کی روش بھی غلط تھی۔ چناچہ وہ ان کی پرسوز گفتگو کے نتیجے میں سرکشی کی راہ میں مزید آگے بڑھ جاتے ہیں۔
Ayah 11:91حق بالکل واضح ہے لیکن ان کا سینہ اس کے لیے تنگ ہے ، وہ چاہتے ہی نہیں کہ حق کا ادراک کرسکیں۔
قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ (91 : 11) “ انہوں نے جواب دیا “ اے شعیب تیزی بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں۔ ”
یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ اقدار حیات کا تعین صرف مادی مفادات کے اصولوں کے مطابق کرتے ہیں اور ہر معاملے کے ظاہری پہلو کو دیکھتے ہیں۔
وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا (91 : 11) “ اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بےزور آدمی ہے۔ ” یہ لوگ مادی قوت ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس حقیقت اور قوت کا کوئی وزن نہیں ہے جو حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
وَلَوْلا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ (91 : 11) “ اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کرچکے ہوتے۔ ” ان کے نزدیک گویا نظریاتی قوت کے مقابلے میں خاندان کی قوت زیادہ اہم ہے۔ دلی جوڑ کے مقابلے میں نسب کا جوڑ زیادہ مضبوط ہے لیکن یہ لوگ دراصل اس بات سے غافل ہیں کہ اللہ اپنے دوستوں پر ، ایک بھائی کے حق میں بھائی کی غیرت سے زیادہ غیور ہے۔
وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ (11 : 91) “ تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو۔ ” یعنی تم ایک بھائی اور معزز آدمی کی حیثیت سے بھی ہم پر غالب نہیں ہو اور نہ ایک طاقتور شخص کی حیثیت سے تمہارا پلہ بھاری ہے ، ہم اگر مجبور ہیں تو خاندانی روابط کی وجہ سے تجھ پر ہاتھ ڈالنے سے مجبور ہیں۔
جب انسان ایک پختہ نظریہ سے محروم ہوجاتا ہے ، اس کے پیش نظر اعلیٰ قدریں اور اعلیٰ روایات نہیں ہوتیں تو وہ زمین پر گر پڑتا ہے ، اس کے ذہن میں اس دنیا کے مفادات ہی اعلیٰ وارفع ہوجاتے ہیں اور وہ دنیاوی قدروں کا گرویدہ ہوجاتا ہے لہذا وہ اس جیسی قیمتی اور بلند دعوت کی قدر نہیں کرتا۔ وہ اعلیٰ حقائق کے ادراک سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس قسم کی ذہنیت کے لوگ ایسی بلند دعوت پر اگر ہاتھ نہیں اٹھاتے تو بھی محض دنیاوی قوت کے ڈر سے نہیں اٹھاتے۔ ایسے لوگ محض مادی قوت کو خاطر میں لاتے ہیں۔ رہے بلند عقائد ، اعلی خیالات اور بلند اقدار تو یہ وہ چیزیں ہیں جن کی کسی مادہ پرست شخص کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ گرے ہوئے پست لوگوں کی ذہینت ہمیشہ کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔
اب حضرت شعیب (علیہ السلام) کی غیری ایمانی جوش میں آتی ہے ، ان سے اللہ رب العالمین کی یہ توہین برداشت نہیں ہوتی وہ اپنی قوم اور کنبے کی مادی قوت سے دست بردار ہوجاتے ہیں۔ وہ ان کو اس برے انجام کے حوالے کردیتے ہیں جو اس کائنات میں ایسے لوگوں کے لیے مقدر ہوتا ہے اور اللہ کے بارے میں ان کے توہین آمیز رویے کی مذمت کرتے ہیں اور ان کے سامنے ایک آخری اور فیصلہ کن دعوت پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں میرا عمل میرا ہے اور تمہارا عمل تمہارا ہے۔ اب وہ ان کو خدائی قوتوں کے حوالے کرتے ہیں اور ان کو صاف صاف بتاتے ہیں کہ تم جیسے لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں ایک بہت بڑا عذاب ہر وقت تیار رہتا ہے لہذا لو اپنا وہ انجام جو تم نے خود اپنے لیے اختیار کیا ہے۔
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (92) وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ (93) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، کیا میری براداری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور ) اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا ؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ اے میری قوم کے لوگو ، تم اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا ، جلدڈی ہی تمہیں معلوم ہو جاؤے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔ ”
Ayah 11:92قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ (92 : 11) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے۔ ” میری برادری تو انسانوں کا فقط ایک مجموعہ ہے۔ جس قدر بھی وہ قوی ہوں بہرحال وہ انسان ہی تو ہیں ، ضعیف مخلوق ہی تو ہیں۔ اللہ کے تو بہرحال وہ بندے اور غلام ہیں ، کیا چند لوگوں سے تم ڈرتے ہو اور اللہ سے نہیں ڈرتے ہو ، کس قدر بودی سوچ ہے تمہاری۔
وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا (92 : 11) “ اور اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا۔ ” کسی کو چھوڑ دیتے اور کسی سے منہ پھیر دینے کا یہ نہایت ہی مخصوص انداز بیان ہے ، واضع تصویر کے انداز میں۔ چونکہ یہ لوگ اللہ سے منہ پھیرتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اس لیے ان کا یہ فعل نہایت ہی گھناؤنا ہے۔ کیونکہ اللہ ہی نے ان کو پیدا کیا ہے۔ جن اچھے حالات میں وہ زندگی بسر کر رہے ہیں ان میں ان کا رازق وہی تو ہے۔ گویا ان کا یہ فعل نہایت متکبرانہ ، ناسیاسی اور سفید چشمی ہے اور شرعی اعتبار سے کفر وتکذیب کا حالم ہے اور نہایت ہی برا اندازہ ہے جو انہوں نے لگایا۔
إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (11 : 92) “ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے ” احاطہ کا مفہوم یہ ہے کہ جس چیز کا احاطہ کیا گیا ہو وہ پوری طرح محیط کے قبضہ اور زیر قدرت ہوتی ہے اس سے مراد قدرت کاملہ ہے۔
ایک مومن کی جانب سے بارگاہ رب العزت میں یہ بڑی جرات ہے کہ وہ اللہ کی عزت کو ہاتھ ڈالے اور اللہ کے غضب کو دعوت دے۔ اللہ کا عذاب جب جب نازل ہوتا ہے تو اس کے مقابلے میں قوم ، خاندان اور ملازم بےبس ہوجاتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خاندانی اور قوم قبیلے کی قوت کا تو انہوں نے اعتراف بھی کیا لیکن وہ تو مومن باللہ تھے۔ انہوں نے اس معمولی قوت کی کوئی پرواہ نہیں کی نہ اسے قابل ذکر سمجھا کہ قوم کی وجہ سے وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ نہ انہوں نے قوم اور قبیلے کی قوت پر اکتفاء کیا اور یہی رویہ ایک سچے مومن کا رویہ ہوتا ہے۔ ایک سچا مومن صرف اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتا ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ بھی صرف اللہ سے ڈریں۔ ایک مومن قوم اور قبیلے کی قوت اور عصبیت کو بھی اسلام اور رب کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ ہے اسلامی اور غیر اسلامی قومیت کے درمیان فرق۔ ہر دور اور زمانے میں قوم قبیلے کے بارے میں اسلام اور جاہلیت کا یہی تصور اور فرق رہا ہے۔
یہ جذبہ ایمانی اور جوش ایمان ہے جس کی تہہ میں اللہ پر بھروسے کے سواء اور کچھ نہیں ہے۔ اسی سے حضرت شعیب (علیہ السلام) اب اپنی قوم کے لوگوں کو یہ سخت چیلنج دیتے ہیں اور ان کے درمیان جدائی ہوجاتی ہے اور اب دونوں کی راہیں جدا ہوجاتی ہیں۔
Ayah 11:93وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ (92 : 11) “۔ ” تم اپنے راستے اور اپنے منصوبے پر عمل کرو میں اپنے پر کر رہا ہوں۔ اب میں نے تم سے اپنے ہاتھ جھاڑ لیے ہیں۔
إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ (11 : 93) “ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا ، جلدی ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔ ”
تم اپنے طریقے پر کام کرو میں اپنے پر کر رہا ہوں۔ عنقریب تمہیں اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور ہمیں اپنا۔ نیز جو عذاب تمہارے انتظار میں ہے اس کے لیے انتظار کرو۔ (اِرْتِقوا) میں انہیں جو انتظار کا مشورہ دیا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر کے دل میں پورا یقین تھا کہ عذاب آنے والا ہے۔ نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان سے مکمل جدائی کا فیصلہ کرلیا تھا۔
اب اس منظر کا پردہ گرتا ہے۔ یہ منظر نظروں سے اوجھل ہونے سے پہلے ایک آخری بات یعنی حق و باطل کی مکمل جدائی کی بات کی جاتی ہے دوسرا منظر اب اس قوم کی مکمل تباہی کا منظر ہوگا۔ اس منظر میں یہ لوگ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہیں۔ ان کو ایسی کڑک نے آ لیا جیسے قوم صالح (علیہ السلام) پر آئی تھی۔ چناچہ دونوں کا انجام ایک جیسا تھا۔ ان کے محلات خالی پڑے تھے گویا کبھی یہاں کوئی بستا ہی نہ تھا گویا کبھی یہ محلات تعمیر ہی نہ ہوئے تھے یہ لوگ بھی قوم صالح (علیہ السلام) کی طرح تاریخ کا حصہ بن گئے اور ابدالاباد تک ملعون ٹھہرے۔ جس طرح ان کا وجود اس کرہ ارض سے لپیٹ لیا گیا۔ اسی طرح صفحات تاریخ سے ان کا ذکر بھی مٹا دیا گیا۔
Ayahs 11:94–95تاریخ کا ایک دوسرا سیاہ ورق الت دیا گیا اور مکذبین پر عذاب الٰہی ایک حقیقت بن کر آیا۔ ان لوگوں پر جو پیغمبروں کے ڈراوے کو جھٹلاتے تھے۔