11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 11:49–60

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے کہا " اے برادران قوم ، اللہ کی بندگی کرو ، تمہارا کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے تم نے محض جھوٹ گھڑ رکھے ہیں

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے برادران قوم ، اس کام پر میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا ، میرا اجر تو اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے ، کیا تم عقل سے ذرا کام نہیں لیتے ؟

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ، اپنے رب سے معافی چاہو ، پھر اس کی طرف پلٹو وہ تم پر آسمان کے دھانے کھول دے گا اور تمہاری موجودہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا ، تم مجرم بن کر بندگی سے منہ نہ پھیرو

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

انہوں نے (جواب میں) کہا اے ہود تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا ، اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہی ہم تجھ کو ماننے والے ہیں

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تیرے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑگئی ہے ہود نے کہا " میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں ، اور تم گواہرہو کہ یہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے خدائی میں شریک ٹھہرا رکھا ہے ، اس سے میں بیزار ہوں

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

تم سب کے سب مل کر میرے خلاف اپنی کرنی میں کسر نہ اٹھا رکھو ، اور مجھ کو ذرا مہلت نہ دو

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بیشک میرا رب سیدھی راہ پر ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

اگر تم منہ پھیرتے ہو تو پھیر لو ، جو پیغام دے کر میں تمہارے پاس بھیجا گیا تھا وہ میں تم کو پہنچا چکا ہوں۔ اب میرا رب تمہاری جگہ دوسری قوم اٹھائے گا ، اور تم اس کا کا کچھ بگاڑ نہ سکوگے ، یقینا میرا رب ہر چیز پر نگران ہے

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے ، نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے انہیں بچا لیا

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

یہ ہیں عاد ، اپنے رب کی آیات سے انہوں نے انکار کیا اور اس کے رسولوں کی بات انہوں نے نہ مانی اور ہر جبار دشمن حق کی پیروی کرتے رہے

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

آخر کار اس دنیا میں بھی ان پر پھٹکار پڑی اور قیامت کے روز بھی۔ عاد نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سنو دور پھینک دئیے گئے عاد ہود کی قوم کے لوگ

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔ ٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔ ٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔ ٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔ ٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔ ٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔ ۔۔۔۔ اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔ یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، تاریخی واقعہ سچا بھی اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کو جرح و تعدیل کے عقلی اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی اور ذریعہ سے پوچھا جائے جبکہ ایک سچے خبر دینے والے نے اس بارے میں اطلاع دے دی ہو۔ کیونکہ اگر ہم ایسے واقعات کے بارے میں کسی اور سے پوچھیں گے تو ہم الٹی گنگا بہائیں گے اور اس بات کو کوئی ایسی عقل تسلیم نہ کرے گی جس کے اندر دین کی حقیقت اچھی طرح بیٹھ چکی ہو۔ اس وقت دنیا میں جس قدر اقوام آباد ہیں ، ان کی قدیم ، پیچیدہ اور غیر مصدقہ لٹریچر میں بھی طوفان نوح کا ذکر ملتا ہے۔ ان تذکروں میں یہ کہا گیا ہے کہ قدیم زمانوں میں کسی وقت اس قسم کا ایک طوفان گزر ہے۔ اور یہ عظیم حادثہ ان اقوام کی نافرمانی اور جہالت کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کی مرتب کردہ کہانیوں میں جن کو وہ عہد قدیم کے نام سے پکارتے ہیں ، طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن قرآن کریم نے طوفان نوح کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے ضمن میں ان اسرائیلی کہانیوں کا تذکرہ موزوں نہیں ہے۔ اور قرآن کریم کی سچی اور صاف کہانیوں کے ساتھ ان مجہول الاصل ، پیچیدہ افسانوں کو نہیں ملانا چاہیے ، جن کی پشت پر کوئی سند نہٰں ہے۔ اگرچہ ان تمام کہانیوں سے ایک حقیقت واضح ہوکر سامنے اتی ہے کہ ان اقوام کی سرزمین پر بھی طوفان آیا تھا یا یہ کہ اس طوفان سے کشتی نوح میں جو لوگ بچ گئے تھے اور ان کی اولاد جہاں جہاں بھی گئی تھی انہوں نے اپنے ساتھ ان یادوں کو سینہ بہ سینہ یہاں سے وہاں تک پھیلایا۔ یوں ان لوگوں نے جہان کے اطراف و اکناف میں پھیل کر زمین کو آباد کیا۔ یہاں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلینی چاہیے کہ جس دستاویز کو کتاب مقدس کا نام دیا جاتا ہے ، چاہے وہ یہودیوں کی کتابوں پر مشتمل عہد قدیم یا عیسائی لٹریچر پر مشتمل عہد جدید ہو ، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تورات کا وہ نسخہ جو اللہ نے نازل فرمایا تھا ، اسے اہل بابل نے برباد کرکے اس کے اندر تحریف کردی تھی۔ اس دور میں جب انہوں نے تمام یہودیوں کو غلام بنا کر بابل منقتل کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد سے قریبا پانچ صدیاں پہلے تک عہد قدیم کتابی شکل میں بھی دوبارہ مرتب نہ کیا جاسکا۔ اسے عزرا کاہن نے مرتب کیا اور ممکن ہے کہ عزرا حضرت عزیر ہی ہوں انہوں نے تورات کے باقی ماندہ حصوں کو جمع کیا۔ تورات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان کی تالیف ہے۔ یہی حال اناجیل کا ہے۔ ان میں بھی وہی مضامین مذکور ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں کے حافظے میں محفوظ رہے تے اور ان کو بھی تقریبا حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے ایک صدی بعد لکھا گیا۔ اس کے بعد بھی ان میں بیشمار قصے کہانیاں اور افسانے جمع کردئیے گئے۔ چناچہ مسلمانوں کو ہدایت یہی ہے کہ وہ ان کتابوں کی کسی چیز کو بھی ہدایت نہ سمجھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قصے سے انسان کو کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اس میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ صرف ایک ہی عبرت نہیں ہے۔ درج ذیل صفحات میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے اور اس کے بعد پھر حضرت ہود کے قصے کی طرف بات چل نکلے گی۔ ۔۔۔۔ حضرت نوح کے قصے سے ان کی قوم کے جو خدوخال معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ انتہائی درجے کے جاہل ہیں۔ وہ باطل پر سخت اصرار کرتے ہیں اور حضرت نوح کی خالص دعوت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی دعوت یہ تھی کہ ہمارا خالق اللہ واحد ہے اور تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اسی الہ واحد کی غلامی کریں اور اسے اپنا بادشاہ اور حاکم تصور کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم نہ سمجھیں۔ قوم نوح حضرت آدم کی اولاد سے تھی اور حضرت آدم کا قصہ اس سے قبل سورت اعراف میں مذکور ہوچکا ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ میں بھی اس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ادم کو جنت سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر فریضہ خلافت ادا کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کی تمام صلاحیتیں اللہ نے حضرت آدم کے اندر پیدا کی ہوئی تھیں۔ حضرت آدم سے جنت میں جو لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے ان کو تعلیم دے دی تھی۔ انہوں نے اللہ سے کچھ کلمات سیکھے اور ان کی ادائیگی کے بعد اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اور اس کے بعد اللہ نے ان سے ان کی بیوی سے اور ان کی اولاد سے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول ہدایت لے کر آئے گا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اور یہ کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں گے کیونکہ شیطان خود ان کا دشمن ہے ، ان کی اولاد کا دشمن ہے اور قیامت تک کے لیے دشمن ہے۔ اب حضرت آدم جنت سے زمین پر ایک مسلمان کی حیثیت میں اترے ، اللہ کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوئے اترے اور اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت آدم نے نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو اسلام کی تعلیم دینے کا انتظام فرمایا ہوگا۔ اور یہ کہ اسلام ہی وہ پہلا اور حقیقی نظریہ حیات ہے جو انسانیت نے سیکھا اور اسے سکھایا گیا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل نہ کوئی دوسری نسل تھی اور نہ کوئی دوسرا عقیدہ تھا۔ اور جب حضرت آدم کے صدیوں بعد حضرت نوح تشریف لائے ، اگرچہ آج ہمارے پاس کوئی ذریعہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم کے کتنے عرصہ بعد حضرت نوح تشریف لائے تو اس عرصے میں آدم کی تمام اولاد نے اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کا عقیدہ اختیار کرلیا تھا۔ اور اس جاہلیت کی تفصیلات اس قصے میں قرآن کریم نے دی ہیں۔ تو ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کی موجودہ بت پرستیوں ، دیومالائی کہانیوں ، خرافاتتی عقائد ، بت پرستیوں ، غلط تصورات اور غلط رسم و رواج کو انسان پر اس کے ماحول اور اس کی جاہلیت نے مسلط کی ہے اور انسان پہلے جادہ مستقیم پر تھا اور وہ شیطان لعین کی سعی نا مشکور کی وجہ سے گمراہ ہو کر جاہلیت کا پیرو بنا ہے۔ یہ گمراہی اس پر اس لیے مسلط ہوگئی کہ شیطان کی بیرونی مساعی کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھ دی تھیں اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے انسان کو گمراہ کیا جو اللہ کا بھی دشمن ہے اور انسان کا بھی ازلی دشمن ہے اور شیطان انسان ہر اس وقت کامیاب حملہ کرتا ہے۔ جب انسان ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑے نہیں رکھتا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کسی قدر اختیار بھی دیا۔ اور انسان کا یہ اختیار تمیزی ہی اس کے لیے سبب ابتلا ہے۔ اگر وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو درست طور پر اختیار کرکے صرف اللہ کی رسی اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لے تو اس کے دشمن شیطان کا انسان پر کوئی داؤ نہ چلے گا۔ اور انسان کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اس ہدایت سے انحراف کرے اگرچہ وہ معمولی انحراف ہو اور جب انسان معمولی سا انحراف کرلے تو شیطان پھر اسے اسلام اور راہ مستقیم سے بہت ہی دور پھینکتا ہے۔ اور آخر کار اسے مکمل طور پر جاہلیت کا پیرو کار بنا دیتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی قوم نے جاہلیت کو اختیار کیا۔ اور یہ عمل صدیوں کے تغیرات کے بعد مکمل ہوتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ حقیقت کہ اسلام وہ عقیدہ ہے جس سے یہ دنیا سب سے پہلے متعارف ہوئی اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ الہہ ، حاکم ، مقتدر اعلی ، اور رب صرف اللہ وحدہ ہے ، ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ نام نہاد علماء ادیان اور ان کے درمیان تقابلی مطالعہ کرنے والوں کا یہ نظریہ کعقیدہ توحید درحقیقت ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ شکل کو پہنچا ہے اور اس موجود وہ شکل سے پہلے یہ مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ محض ایک مفروضہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تصورات یہ ہیں کہ پہلے لوگ کئی راہوں کے قائل تھے۔ وہ طبیعی قوتوں وک الہ مانتے تھے ، پھر وہ ارواح کو الٰہ مانتے تھے ، پھر شمس و قمر اور مختلف ستاروں کو الٰہ مانتے تھے۔ ان لوگوں کے نظریات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ادیان کو لوگوں کے نفسیاتی ، سیاسی اور ماحول کے حالات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تو درپردہ ادیان سماوی کا انکار کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ دینی تصورات بھی مختلف مرحلوں سے گزر کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں اور ان تبدیلیوں اور ترقی میں زمانے کے ماحول کا دخل ہے۔ اس طرح یہ لوگ در اصل وحی الہی ، منصب رسالت کا انکار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام ادیان اور ان کے بنیادی تصورات بھی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور انسانی فکر کا شاخسانہ ہیں۔ اب ذرا ان لوگوں کے طرز عمل کا جائزہ لیجئے جو ادیان سماوی کے بارے میں لکھتے ہیں اور جو ان مغربی اہل علم سے متاثر ہوتے ہیں چناچہ یہ لوگ اسی لغزش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مستشرقین کے وضع کردہ طریقے کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر اس غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ جس میں ان کے اساتذہ مشتشرقین مبتلا ہوئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مصنفین اپنے زعم میں اسلام کی مدافعت کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے حامی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اسلام کے ان اصل نظریات اور اعتقادات کی نفی کرتے ہیں جن کا اثبات پورے قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اور نہایت دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مکمل اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد سے لے کر جنت سے زمین پر اترے تھے اور پھر صدیوں بعد حضرت نوح نے اولاد آدم کو اسی اسلام کی طرف دعوت دی جنہیں شیطان نے گمراہ کرکے بت پرستی میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ عقائد و نظریات مکمل توحید پر مبنی تھے۔ اور حضرت نوح کے بعد دوبارہ یہ شیطانی چکر چلا اور اس نے پھر لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے رسول آتے رہے اور انسانیت وک پکڑ پکڑ کر پھر جادہ مستقیم پر ڈالتے رہے۔ اور توحید مطلق پر مبنی نظریہ حیات انہیں عطا کرتے رہے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کتب سماوی کے اندر مذکور صحیح اعتقادات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی ہوئی ہے۔ البتہ اگر کوئی ترقی اور تبدیلی ہوئی ہے تو وہ ان قانونی نظاموں میں ہوئی ہے جو مختلف اوقات میں اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہوئے۔ اگر جاہلیت کے عقائد میں سے کسی عقیدے میں تغیر اور ترقی ہوئی ہے تو اس سے یہ بات کس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں بھی ارتقاء کا عمل ہوا ہے۔ اور جاہلیت کے عقائد میں بھی اگر کوئی ارتقائی عمل ہوا ہے تو وہ بھی اسلام کے حقیقی عقیدہ توحید کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے ، جو وقتاً فوقتاً نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ہے باوجود اس کے کہ بعد کی نسلیں عقیدہ توحید سے منحرف ہوتی رہی ہیں لیکن وہ تدریجاً عقیدہ توحید کے قریب آتی رہی ہیں۔ رہا عقیدہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تاریخ کا قدیم ترین عقیدہ ہے اور یہ تمام بت پرستانہ عقائد سے پہلے موجود تھا۔ جب سے حضرت آدم نے اسے پیش کیا ہے۔ اسی وقت سے یہ ہمیشہ اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔ اس لیے کہ عقیدہ توحید انسانی دماغ کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جب سے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسے عقیدہ توحید سکھایا ہے اسی وقت سے یہ عقیدہ موجود ہے اور اسی وقت سے اپنی اس شکل میں موجود ہے۔ یہ سچائی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے اور پہلے ہی دن سے اپنی مکمل شکل میں ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کو قرآن ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی حقیقت پر پورا اسلامی تصور حیات قائم ہے ، اس لیے کوئی مسلم محقق خصوصا وہ شخص جو اسلام کی مدافعت میں قلم اٹھاتا ہے ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ان خطوط کے علاوہ کسی اور لائن پر تحقیق کرسکتا ہے کیونکہ ادیان کے بارے میں اہل عرب کے ہاں جو تصورات پائے جائے تے ہیں وہ غلط ہیں اور ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مدون کیا گیا ہے۔ یہاں فی ظلال القرآن میں ہم اس قسم کے غلط تصورات سے تفصیلی بحث کرسکتے ، کیونکہ اس کے لیے میری ایک مستقل کتاب زیر ترتیب ہے جس کا عنوان ہوگا " موجودہ دور میں فکر اسلامی میں ضروری تصحیحات "۔ البتہ یہاں ہم بطور مثال ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں کہ بعض محققین کیا کہتے ہیں اور قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ استاد عقاد اپنی " کتاب اللہ " میں لکھتے ہیں : انسان نے جس طرح علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح عقائد میں ترقی کی ہے۔ اور جس طرح اس نے علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح صنعتوں میں ترقی کی ہے۔ ابتدائی دور میں جس طرح اس کی زندگی تھی اسی طرح اس کے عقائد بھی تھے۔ یہی حالات اس کے علوم اور صنعتوں کی ہے۔ لہذا اس کے ابتدائی دور کے علوم اور صنعت اس کے ابتدائی دور کے ادیان اور عبادات سے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے اندر حقیقت کے عناصر کسی اور کے اندر پائے جانے والے حقیقت کے عناصر سے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ دین کے معاملے میں انسانی کاوشیں ، علوم اور صناعات کے مدین میں انسانی کاوشوں سے بہت زیادہ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم سچائی تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل کام ہے بمقابلہ ان متفرق اشیاء اور مفردات کی حقیقت تک رسائی کے ، جن تک رسائی محض علمی یا محض صنعتی مطلوب ہو۔ ذرا دیکھئے کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کائنات کی ان چیزوں میں سے ہے جو بالکل ظاہر ہیں اور جسے انسانی جسم محسوس کرتا ہے اور ماضی قریب تک اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات یہ تھے کہ یہ سورج زمین کے ارد گرد پھرتا ہے اور علماء فلکیات سورج کی حرکات اور اس کے حالات کے بارے میں ایسی تفسیرات بیان کرتے تھے جس طرح پہیلیوں کی تشریح کی جاتی ہے یا محض تخیلات کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سورج کا سرے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سورج کے بارے میں جو خیالات تھے وہ تاریکیوں کے تہہ بہ تہہ پردوں میں تھے اور شاید اب بھی سورج کے بارے میں لوگ تاریک خیالی میں مبتلا ہوں۔ لہذا قدیم جاہلیت کے ادوار میں لوگوں کا اصول دین کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دینداری کی کوئی حقیقت نہیں ہے یا یہ کہ دین داری محالات پر طبع آزمائی کرتی ہے۔ مطالعہ ادیان سے جو بات معلوم وہتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے عظیم سچائی یکبارگی ظاہر نہیں ہوئی اور وہ کسی ایک ہی زمانے میں حقیقت کبریٰ کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگ عظیم حقیقت کے سمجھ سکنے کے لیے زمانے گزرنے کے بعد تیار ہوئے اور اس راہ میں انہیں طویل راستے طے کرنے پڑے اور وہ مختلف اسالیب سے غور کرکے اس حقیقت تک پہنچے جیسا کہ وہ دوسرے چھوٹے حقائق بڑی صبر آزما جدوجہد کے بعد دریافت کیے۔ ادیان کے تقابلی مطالعہ مطالعہ کے موضوع نے بیشمار وہ حقائق غلط ثابت کرکے رکھ دئیے ہیں جن پر ابتدائی دور کے انسان ایمان لاتے تھے اور آج بھی دنیا کے پسماندہ قبائل میں ان لوگوں کے بقایا اور نمونے موجود ہیں بلکہ ان متمدن اقوام کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے جن کی تہذیب و تمدن کی خاصی طویل تاریخ ہے۔ علم تقابل ادیان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کے ادیان ان جہالتوں اور گمراہیوں سے خالی ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہی وہ معقول نتیجہ ہے جس کی توقع کسی بھی معقول انداز فکر سے کی جاسکتی ہے۔ اس اسلوب فکر کے اندر کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں ہے جسے کوئی اہل علم بعید از قیاس سمجھے یا دین کی حقیقت اور اصلیت کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اپنا لے۔ علمائے ادیان کے جو محققین اس تلاش میں ہیں کہ ابتدائی ادیان میں کوئی ایسی حقیقت بھی پائی جاتی تھی یا ان کے ہاں سچائی کا کوئی ایسا تصور بھی موجود تھا جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو تو ایسے محققین محال کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اس کتاب کے فصل " تصور خدا میں ارتقاء " میں وہ لکھتے ہیں : علماء تقابل ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی زمانے کی اقوام کے ہاں جو تصور دین تھا اس میں تصور خدا اور تصور رب تین مراحل سے گزرا۔ پہلے دور میں متعدد الٰہوں (Poly theism) اس کے بعد دوسرے دور میں لوگوں نے ان الٰہوں اور ارباب کے درمیان فرق و امتیاز کیا اور کسی کو کسی پر ترجیح (Heno theism) دی۔ اور سب سے آخر میں وحدانیت (Mono theism) کا دور آیا۔ تعداد ارباب کے ابتدائی دور میں دسیوں بلکہ سینکڑوں ارباب اور الہ تھے۔ اس دور میں ہر خاندان اور ہر قبیلے کا اپنا الہ ہوا کرتا تھا۔ یہ الہ یا تو بذات خود الہ تصور ہوتا تھا یا نائب الہ ہوتا اور لوگ اس کی پناہ مانگتے تھے اور یہ الہ قربانیاں اور عبادات قبول کرتا تھا۔ دوسرا دور جو دور تمیز و ترجیح کہلاتا ہے ، اگرچہ اس میں الہ اور ارباب متعدد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض ارباب اور الہ متعدد اسباب کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔ مثلا یوں کہ اگر کوئی قبیلہ علاقے اور ملک میں سیاسی طور پر چھا گیا تو اس کا معبود بھی علاقے میں چھا گیا۔ اور اس الٰہ سے لوگ معاشری حاجات اور آفات و بلیات سے بچاؤ کی مدد مانگتے تھے۔ بعض الٰہ اس لیے نمایاں ہوگئے کہ لوگوں کے زعم کے مطابق وہ زیادہ لوگوں کے زیادہ مفید تھے اور دوسرے الٰہوں کے مقابلے میں وہ انسان کے زیادہ مطالبات پورے کرتے تھے۔ مثلاً بارش کا دیوتا ، اس علاقے میں بہت مانا جاتا جہاں بارش کی ضرورت ہوتی تھی یا جن سے ڈر زیادہ ہوتا تھا مثلاً مصائب کے الہ یا طوفان باد و باراں کا الہ ، یعنی جہاں ڈر ہوتا لوگ اس سے ڈر کے الہ سے ڈرتے اور جہاں امید ہوتی لوگ اس الہ سے امید رکھتے ، غرض اس کائنات میں دوسرے طبعی مظاہر کے مطابق الٰہوں کا تصور بھی قائم ہوتا۔ تیسرے دور میں جب قبائل اقوام و امم کی شکل اختیار کر گئے ہیں تو اب ارباب متفرقہ کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک مشترکہ عبادت کا طریقہ ایجاد کرلیا اور مختلف علاقوں اور مختلف اقوام کے ہاں عبادت کے مختلف طریقے رائج ہوگئے۔ اس دور کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ جس طرح ایک قوم دوسری اقوام پر اپنا اقتدار اور قیادت و سیادت اور کلچر مسلط کرتی اسی طرح ان پر اپنا طریقہ عبادت بھی مسلط کرتی۔ بعض اوقات مغلوب کے الہوں کو یہ حکمران تسلیم کرلیتے تھے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے حاشیہ نشینوں کی کوئی بات مان لیتا ہے اس طرح تابع اور متبوع کا تعلق باہم قائم رہتا۔ اس کمزور قسم کے ذہنی اتحاد تک بھی کوئی قوم ایک طویل تہذیبی جو جہد کے بعد پہنچتی ہے۔ اور اس کے بعد پہنچی جب اس کے اندر علم و معرفت کی ایک وافر مقدار پیدا ہوگئی اور اس علم و معرفت کی بدولت انسان کے لیے خالص جاہلانہ تصورات کا قبول کرنا مشکل ہوگیا۔ اب انسان نے اپنے سابقہ تصورات کے ملبے میں سے اچھے اور اللہ کی پاکی اور قدوسیت کے قریب تر صفات کے ساتھ اللہ کو متصف کرنا شروع کردیا۔ عبادت کے اندر اس کائنات کے اسرار و رموز کو بھی شامل کردیا گیا۔ اور اس کائنات کے پیچھے کام کرنے والی گہری حکمت کی بات بھی ہونے لگی۔ اور ان اقوام و ملل کے اندر اللہ کو حقیقی مقام ربوبیت دیا جانے لگا۔ اور دوسرے تمام اچھے درجے کے الٰہوں کو فرشتوں کا مقام دیا جانے لگا یا ان کو ایسے خدا قرار دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے حظیرہ قدس سے دھتکارے گئے تھے یعنی جو برے تھے۔ درج بالا اقتباسات میں مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو یا ان علماء کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جو اپنے لیے اپنے عقائد خود ہی گھڑتے ہیں ، بہرحال یہ خیالات اسلام کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دینی تصورات میں انسان کے عقلی ، علمی ، تہذیبی اور سیاسی واقعات دخیل نظر آتے ہیں۔ اور ان کے سلسلہ خیال کے مطابق ترقی یوں ہوئی ہے کہ لوگ شرک اور بیشمار الٰہوں کے قائل ہونے کے بعد توحید کی طرف لوٹے ہیں اور یہ بات مؤلف کے مقدمہ کتاب کے پہلے فقرے ہی سے واضح ہے جس میں وہ کہتے ہیں : " اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ انسان نے عقیدہ الہ کس طرح اختیار کیا۔ جب انسان نے اپنے لیے مختلف الٰہوں کو رب تسلیم کیا ، پھر اس نے اللہ وحدہ کو دریافت کیا اور پھر وہ عقیدہ توحید کی پاکیزگی میں داخل ہوا۔ یہ تو ہیں دور جدید کے علمائے ادیان اور کتاب " اللہ " کے مصنف کے خیالات۔ اس کتاب میں مصنف دور جدید کے علمائے تقابل ادیان سے متاثر نظر آتے ہیں حالانکہ اللہ نے دین کی اصلیت کے بارے میں اس سے بالکل علیحدہ اور دو ٹوک بات کہی ہے۔ وہ کہ یہ کہ حضرت آدم جو ابوالبشر ہیں پوری طرح حقیقت توحید کو جانتے تھے اور ان کا عقیدہ توحید اسی طرح صاف اور ستھرا تھا جس طرح حضرت محمد کا تھا اور اس میں شرک کوئی آلودگی نہ تھی ، اس میں کوئی تعدد اور ثنائیت نہ تھی۔ حضرت آدم براہ راست اللہ سے ہدایت لیتے تھے۔ اور صرف اللہ کی ہدایات کے متبع تھے اور حضرت آدم نے اپنی اولاد کو یہی پاک صاف تعلیم دی۔ لہذا انسان کی قدیم ترین تاریخ میں ایسی نسلیں تھیں جو اسلام کے بغیر کسی اور دین سے واقف ہی نہ تھیں۔ ان کا عقیدہ صرف عقیدہ توحید تھا۔ ہاں جب آدم کے بعد ان کی اولاد پر ایک طویل عرصہ گزرا تو ان کی اولاد نے عقیدہ توحید سے انحراف اکتیار کرلیا۔ بعض اوقات انہوں نے دو خداؤں کا اور بعض اوقات متعدد خداؤں کا نظریہ اپنایا اور متعدد الٰہوں کا دین اختیار کرلی۔ اس کے بعد حضرت نوح مبعوث ہوئے اور انہوں نے پوری نسل انسانی کو از سر نو عقیدہ توحید پر قائم فرمایا اور جو لوگ شرک کرتے تھے اور نظام جاہلیت پر مصر تھے ، ان سب کو طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اس طوفان سے صرف ان لوگوں نے نجات پائی جو پاک و صاف توحید کو جانتے تھے۔ اور وہ دو خداؤں یا بیشمار الٰہوں اور متعدد ارباب کے دین سے بیزار تھے۔ اس تاریخ کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ایک عرصے تک کشتی نوح کے سواروں کی اولاد توحید مطلق کے عقیدے پر قائم رہی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد انہوں نے پھر عقیدہ توحید کو ترک کرکے شرک اور بت پرست کو اپنایا۔ چناچہ انسانی تاریخ میں جو رسول مبعوث کیے گئے ان سب کا مشن قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون " اور آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اس کی طرف ہم نے وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے اس لیے صرف میری پیروی کرو "۔ اب یہ ابت واضح ہے کہ اگر اللہ کی کتاب کسی معاملے کو ایک فیصلہ کن انداز میں بیان کردے اور اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اسی بات کو بالکل متضاد صورت میں پیش کرے تو ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کے قول کی اطاعت کرے۔ خصوصاً ایسا شخص جو بزعم خود اسلام کی مدافعت کر رہا ہو ، اور وہ یہ بتاتا ہو کہ وہ اسلام اور دین کے بارے میں اساسی شبہات کو دور کرنے کے موضوع پر کلام کر رہا ہے۔ یہ بات ہر لکھنے والے کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ اس دین کی کوئی خدمت نہیں ہے کہ اس بات کا سرے سے انکار کردیا جائے کہ دین اسلام اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس دین کو اس حد تک خود انسان نے پہنچایا ہے۔ انسان نے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے انسان کو عقیدہ توحید بذریعہ وحی سکھایا۔ اور اللہ نے انسان کو کسی دور میں بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ عقیدہ توحید کے علاوہ کوئی اور عقیدہ اختیار کرے نہ اس مضمون کی کوئی رسالت اللہ نے بھیجی ہے۔ نہ اس قسم کے نظریات کا پیش کرنا کسی معنی میں بھی اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ خصوصاً اس حال میں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو کہ علمائے تقابل ادیان اسلام کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی اور ایک خاص لائن پر کام کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی تصورات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جبکہ اسلام کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی جانب سے وحیپر مبنی ہے اور یہ انسان کے ترقی پذیر فکر کا نتیجہ نہیں ہے جس طرح مادی میدان میں انسان نے آہستہ آہستہ تجربات حاصل کرکے علمی ترقی کی۔ اس نکتے پر یہ مختصر نوٹ ، امید ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے کافی ہوگا۔ اس سے زیادہ طویل بحث ہم یہاں فی ظلال القرآن میں نہیں کرسکتے۔ غرض ایسے اساسی تصورات اور موضوعات پر ہم کسی غیر اسلامی سرچشمنے سے کوئی ہدایت نہیں لے سکتے اور ہمیں اس مختصر بحث سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ ایسے حساس موضوعات پر مغربی افکار پڑھتے ہیں اور مغربی مفکرین کی نہج پر تحقیقات کرتے ہیں وہ کس قدر صحیح راہ سے دور چلے جاتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کرتے ہیں حالانکہ : ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوام : قرآن ہی مضبوط ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب حضرت نوح کے قصے کا ایک دوسرا پہلو ، ذرا مزید رکیے۔ نئی بات یہ ہے کہ اللہ حضرت نوح کے حقیقی بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے۔ اسلام کے نظریاتی اور تحریکی سفر کا یہ ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ایک اہم موڑ ہے اور اس پر رک کر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (37): " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں " حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ (40): " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے " وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ (42) قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ (43) کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔ وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (45) قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (46) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (47):" نوح نے اپنے رب کو پکارا ، کہا "" اے رب ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ " جواب میں ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔ توح نے فورا عرض کیا اے میرے رب ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تونے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم کے لوگ ، اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ، وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے۔ لہذا تم اس سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، یقینا میرا رب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے

لیکن ان لوگوں کے دل اس قدر مسخ ہوگئے تھے ، اس قدر بگڑ گئے تھے ، اور ان کی ماہیت اس قدر بدل گئی تھی کہ وہ اس کلام کے کمال و جمال کو سمجھنے سے عاجز تھے ، وہ اس کلام کی جلالت قدر اور بلند تصورات و نظریات کے ادراک سے قاصر تھے۔ یہ کلام کس قدر نرم اور تشفی بخش ہے ، کس قدر صاف اور روشن ہے ، لیکن ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ وہ اس کو سن کر کس قدر نا موافق رد عمل کا اظہار کرتے ہیں ، ذرا سنئے اور غور کیجئے :
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

“ انہوں نے کہا ” “ اے صالح ” اس سے پہلے تو ہمارے درمیان ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں کیا تو ان معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ؟ تو جس طریقے کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے۔ ”

ہماری امیدیں تم سے وابستہ تھیں۔ ہم یہ سمجھتے تھے کہ تمہارعلم ، تمہاری عقلمندی ، تمہاری سچائی اور تمہار حسن تدبیر یہ سب صلاحیتیں ہمارے لیے مفید ثابت ہوں گی لیکن یہ امیدیں سب کی سب اکارت گئیں اور ہم لوگ مایوسی کا شکار ہوگئے۔ أَتَنْهَانَا أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا (11 : 26) “ کیا تو ہمیں ان معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ”۔ یہ تو ایک تباہ کن بات ہے ، ہم ہر بات برادشت کرسکتے ہیں مگر یہ بات برداشت نہیں کرسکتے اور ہمیں تم سے یہ توقع ہر گز نہ تھی کہ یہ بات تمہارے منہ سے نکلے گی ، تم سے ہمیں جو بلند توقعات تھیں ، وہ ڈھیر ہوگئیں ۔ اس پر مزید یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ جو بات تم کرتے ہو اس سے ہم گہرے شک میں ہیں۔ یہ شک اس قدر قوی ہے کہ اس کی وجہ سے ہمارے دلوں میں ایک مستقل خلجان بیٹھا ہوا ہے۔ إِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ (11 : 62) “ تو جس طریقے کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے۔ ” اس طرح یہ لوگ ایک ایسے معاملے میں تعجب کر رہے تھے جس میں تعجب کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی بلکہ وہ ایک لازمی اور فرض بات کو ایک ناپسندیدہ امر تصور کرتے تھے۔ ان کو اپنے بھائی سے محض اس لیے وحشت ہونے لگی کہ وہ انہیں صرف ایک خدا کی بندگی کی طرف بلا رہے تھے اور جو وحشت انہیں کسی دلیل کی بناء پر نہ تھی ، نہ انہوں نے اس معاملے پر کوئی تحقیق یا غور و فکر کیا تھا بلکہ محض اس لیے تھی کہ ان کے آباء و اجداد متعدد الٰہوں کی پوجا اور پرستش کرتے تھے۔ آباؤ اجداد کے رسم و رواج پر چلتے چلتے لوگوں کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ وہ جمود کا شکار ہوجاتے ہیں اور ثابت شدہ اور واضح سچائی پر تعجب کرنے لگتے ہیں ، عقائد پر دلیل وبرہان پیش کرنے کی بجائے عقائد کو اپنے آباؤ اداد کے عمل سے ثابت کرتے ہیں۔ ان تمام آیات سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ عقیدہ توحید دراصل ذہنی جمود کے خلاف بغاوت ہے اور یہ عقیدہ انسان کو فکری آزادی عطا کرتا ہے اور یہ ہدایت کرتا ہے کہ عقل انسانی کو آباؤ اجداد کے رسوم وقیود سے آزاد کیا جائے۔ اسی طرح وہم و خرافات سے بھی عقل انسانی کو نجات دی جائے اور ایسے عقائد کو قبول کیا جائے جسے عقل تسلیم کرتی ہو اور جس پر کوئی سند موجود ہو۔ اہل ثمود نے صالح کو جو کہا۔ قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَذَا (26 : 11) “ انہوں نے کہا ’ “ اے صالح ” اس سے پہلے تو ہمارے درمیان ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں۔ ” یہی توقعات اہل قریش در حقیقت حضرت محمد ﷺ کے ساتھ وابستہ کیے ہوئے تھے۔ جب حضور ﷺ نے ان کو بتایا کہ اللہ کے سواء کوئی الٰہ نہیں ہے تو ان لوگوں نے حضور ﷺ سے ایسی ہی وحشت کا اظہار کیا جس طرح قوم صالح نے حضرت صالح علیہ والسلام سے کیا۔ جس طرح انہوں نے کہا کہ تو ساحر ہے اور افترا باندھنے والا ہے۔ اسی طرح انہوں نے بھی یہی کہا اور شہادت حق دینے سے انکار کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جاہلیت کا ہمیشہ ایک ہی مزاج ہوتا ہے اور پوری اسلامی تاریخ میں پیغمبر اور احیائے اسلام کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا گیا۔ اور پھر پیغمبروں نے بھی پوری تاریخ میں ایک ہی بات کی۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی بات بالکل ایک ہے۔
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

“ صالح (علیہ السلام) نے کہا “ اے برادران قوم ، تم نے کچھ اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا ، اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا ، اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو ، سوائے اس کے کہ مجھے اور زیادہ خسارے میں ڈال دو ”۔

اے میری قوم ، تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں تو اپنے نفس میں اپنے رب کی حقیقت کو واضح طور پر پاتا ہوں اور یہ ربانی حقیقت مجھے صاف صاف بتاتی ہے کہ جس راہ پر میں چل رہا ہوں وہ بالکل واضح اور حقیقی ہے ، پھر اس پر مزید فضل مجھ پر یہ ہوا ہے کہ اللہ نے مجھے منصب رسالت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اور اللہ نے مجھے وہ صلاحتیں دی ہیں جو اس منصب کے لیے ضروری ہیں ، اگر ان حقائق کو جانتے ہوئے بھی میں اللہ کی نافرمانی کروں اور تبلیغ دین میں قصور کا ارتکاب کروں تو میری مدد کون کرے گا ؟ کیا میں تمہاری امیدوں کا پاس رکھوں یا اپنی نجات کی فکر کروں ؟ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ میں اپنے انجام کو محض اس لیے داؤ پر لگا دوں کہ تمہاری امیدیں پوری ہوں۔ فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ (63) “ تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا ، اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو ، سوائے اس کے کہ مجھے اور زیادہ خسارے میں ڈال دو ”۔ اگر میں تمہاری آرزوؤں کا خیال رکھوں تو میں عظیم خسارے میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ میں اللہ کے غضب کا مستحق ہوجاؤں گا۔ اور منصب رسالت سے معزول کردیا جاؤں گا۔ دنیا میں بھی شرمندگی ہوگی اور آخرت میں بھی اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکوں گا۔ اور یہ ایک عظیم اور مسلسل خسارہ ہوگا۔ چناچہ یہ تباہ کن اور ناقابل برداشت گھاٹا ہوگا۔
Ayah 11:64

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

“ اور اے میری قوم کے لوگو ، دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے۔ اسے خدا کی زمین میں چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو ، اس سے ذرا تعرض نہ کرنا ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آجائے گا۔ ”

یہاں یہ قرآن کریم نے اس ناقہ کے بارے میں تفصیلات نہیں دی ہیں جو ان کے لیے ایک نشانی اور علامت تھی۔ لیکن اس ناقہ کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ “ اللہ کی اونٹنی ” ہے۔ اور تمہارے لیے یہ ایک نشانی ہے ان ریمارکس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ممتاز اونٹنی تھی اور وہ جانتے تھے کہ یہ ان کے لیے اللہ کی جانب سے ایک نشانی ہے۔ بس ہم بھی یہاں صرف ان باتوں پر اکتفاء کرتے اور ناقہ صالح (علیہ السلام) کے بارے میں اسرائیلی روایات کے مطابق مفسرین نے جو رطب ویابس جمع کی ہیں ان کے ساتھ یہاں تعرض نہیں کرتے۔ هَذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ وَلا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ (64 : 11) “ دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے۔ اسے خدا کی زمین پر چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو ۔ اس سے ذرا تعرض نہ کرنا۔ ” ورنہ اللہ تمہیں بہت جلد پکڑ لے گا اور عذاب دے گا۔ عبارت میں فاء تعجیل کے لیے ہے۔ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيبٌ (11 : 64) ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آجائے گا ”۔ یعنی تم اللہ کی شدید پکڑ میں آجاؤ گے ، انداز تعبیر محض عذاب ہونے یا عذاب کے نزول سے کہیں زیادہ کسی چیز کو ظاہر کر رہا ہے۔
Ayah 11:65

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

“ مگر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس پر صالح (علیہ السلام) نے ان کو خبردار کردیا کہ “ بس اب تین دن پانے گھروں میں اور رہ لو۔ یہ ایسی معیاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہو گی

۔ ” انہوں نے ناقہ کی ٹانگیں کاٹ دیں (فعقروھا) اور اس انداز میں اسے قتل کردیا ’ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر مفسد تھے اور کس قدر بےباک تھے ، سیاق کلام میں یہاں نزول ناقہ اور قتل ناقہ کے درمیان مدت کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ، کیونکہ مدت کے ذکر کا دعوت دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ محض ایک تاریخی پہلو ہے۔ البتہ قتل ناقہ کے بعد سیاق کلام میں ان کے عذاب کا ذکر آجاتا ہے۔ یہاں واقعات کے تمام مراحل کو فاء تعقیب کے ساتھ لایا جاتا ہے یعنی پس یہ ہوا ، پس یہ ہوا۔ فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ (11 : 65) “ مگر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس پر صالح (علیہ السلام) نے ان کو خبردار کردیا کہ “ بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو۔ یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی ”۔ یعنی اب تمہاری مہلت زندگی صرف تین دن رہ گئی اور یہ میعاد ایسی ہے جس میں کوئی تغیر و تخلف نہیں ہو سکتا۔ اب یہ فائنل آرڈر ہے۔ فا تعقیب سے یہ مفہوم معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات آگے پیچھے وقوع پذیر ہوئے۔
Ayahs 11:66–67

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

“ آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالح (علیہ السلام) کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے ، بچا لیا اور اس دن کے رسوائی سے ان کو محفوظ رکھا۔ بیشک تیرا رب ہی دراصل طاقتور اور بالا دست ہے ،

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے ان کو دھر لیا اور اپنی بستیوں میں بےحس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے

جب اللہ کے امر کا وقت قریب ہوگیا اور امر یہ تھا کہ یا تو یہ لوگ ڈر جائیں اور ایمان لے آئیں ورنہ پھر انہیں نیست و نابود کردیا جائے تو اس وقت ہم نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے ساتھیوں کو اپنی رحمت کی وجہ سے نجات دی ، یہ نجات صرف ان کے لیے تھی اور ان کے ساتھ مخصوص تھی۔ یعنی ان کو موت سے بھی نجات دی اور اس دن کی شرمندگی اور ذلت سے بھی نجات دی کیونکہ ان کو زندگی سے معمول کے مطابق محروم نہیں کیا گیا بلکہ بڑی ذلت کے ساتھ ان سے حیات کو چھینا گیا۔ اور جب ایک سخت آواز نے ان کو آ لیا تو یہ سب کے سب مر گئے۔ اور جو جہاں تھا ، وہیں گر گیا اور یہ ان کے لیے ذلت آمیز موت تھی۔ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (11 : 66) “ بیشک تیرا رب ہی دراصل طاقتور اور بالادست ہے۔ ” وہ نافرمانوں کو خوب پکڑتا ہے اور یہ کام اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسی طرح وہ اپنے دوستوں کی خوب رعایت بھی کرتا ہے اور ان پر فضل بھی کرتا ہے۔ اب یہاں قرآن مجید اشارہ بتاتا ہے کہ اس عذاب کے نتیجے میں ان کی حالت کیا ہوگئی ۔ تعجب انگیز اور عبرت آموز طریقے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ کس قدر عجلت کے ساتھ نیست ونابود کردیئے گئے۔
Ayah 11:68

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے ’ سنو ، ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا ۔ سنو ، دور پھینک دیئے گئے ثمود

کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا۔ “ گویا ان بستیوں میں کبھی انہوں نے قیام ہی نہ کیا تھا اور نہ عیش و عشرت کی تھی۔ یہ نہایت موثر نظر ہے ، پرتاثیر احساس ہے ، یہ منظر زندگی اور موت کے درمیان ایک کھلا منظر ہے ، لیکن چشم زدن میں یہ نظر کے سامانے سے گزر جاتا ہے اور نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد گویا زندگی ایک ٹیپ ہے۔ جو تزی سے گزر رہی ہے اور نظر یوں آتا ہے کہ شاید خواب و خیال تھا۔ اب اس قصے پر حسب سابق آخری تبصرہ یہ ہے کہ ملامت اور لعنت کے ساتھ اس صفحے کو لپیٹ دیا جاتا ہے ، اور یہ منظر جس طرح نظروں سے اوجھل ہوتا ہے ، اسی طرح لوح حافظہ سے بھی مٹ جاتا ہے۔ اَلَآ اِنَّ ثَمُوْدَاْ کَفَرُوْا رَبَّھُمْ اَلَابُعْداً لِّثَمُوْدَ (68) “۔ ” ایک بار پھر ہمارے سامنے ، اس قصے کی صورت میں دعوت اسلامی کی تاریخ کی ایک لڑی موجود ہے۔ وہی دعوت ہے جو حضور ﷺ دے رہے ہیں۔ اسلامی نظام کے وہی خدو خال ہیں جو حضور ﷺ پیش کر رہے ہیں۔ دعوت یہ دی جا رہی ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرو ، صرف اللہ کے وضع کردہ نظام زندگی کو اپناؤ۔ ہمیں نظر آتا ہے کہ جاہلیت اور اسلام کی وہی کشمکش ہے جو مکہ میں برپا ہے۔ شرک اور توحید کی ٹکر ہے۔ اہل ثمود بھی ان لوگوں میں سے تھے جو عاد کی طرح کشتی نوح میں بچ گئے تھے۔ کشتی نوح کے سواروں کی اولاد تھے لیکن وہ اپنے حقیقی دین ، دین نوح سے منحرف ہو کر جاہلیت میں ڈوب گئے تھے اور تاریخ کے اس مرحلے میں حضرت صالح (علیہ السلام) اب ان کی اصلاح کے لیے مامور ہوئے تھے تا کہ ان کو از سر نو اسلام میں داخل کردیں۔ اس قصے میں ہمیں نظر آتا ہے کہ انہوں نے خود ایک خارق عادت معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ معجزہ انہیں دکھا دیا گیا لیکن انہوں نے اس کا جواب ایمان اور قبول حق کے ساتھ نہ دیا بلکہ انہوں نے صاف صاف انکار کردیا اور ناقہ کی ٹانگیں کاٹ کر اسے ہلاک کردیا۔ مشرکین عرب بھی حضور ﷺ سے ایسے ہی خارق عادت معجزات کے طلب گار تھے تا کہ وہ امیان لائیں تو ان کو سمجھایا جاتا ہے کہ قوم صالح (علیہ السلام) نے بھی معجزات طلب کیے۔ وہ آگئے انہوں نے نہ مانا اور ان کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہ معجزات طلب نہیں کیا کرتے۔ اسلام تو ایک سادہ اور فطری دعوت ہے ، اس کے قبول کرنے کے لیے کسی معجزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے محض غور وفکر اور تعقل و تدبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جاہلیت کی وجہ سے لوگوں کی عقل پر پردے پڑجاتے ہیں اور ان کی عقل مسخ ہوجاتی ہے۔ اس قصے میں بھی ہمارے سامنے حقیقت باری اپنے اس رنگ میں آتی ہے جس طرح اللہ کے مختار بندوں کے ذہنوں میں وہ موجود ہوتی ہے۔ یعنی اللہ کے رسولوں کے ذہن میں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے قول پر ذرا غور فرمائیں : قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ (11 : 63) “ صالح نے کہا ، اے برادران قوم ، تم نے کچھ اس بات پر غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا ، اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو سوائے اس کے کہ مجھے اور خسارے میں ڈال دو ۔ ” اور یہ اظہار حضرت صالح (علیہ السلام) نے اس کے بعد کیا۔ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ (11 : 61) “ میرا رب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے۔ ” ذات باری کی حقیقت حضرات انبیاء کے اذہان وقلوب میں اس طرح منعکس ہوتی ہے اور اس طرح جمال و کمال کے ساتھ موجود ہوتی ہے کہ اس شان سے وہ کسی اور کے دل میں نہیں ہوتی۔ کیونکہ انبیاء کے دل آئینہ کی طرح صاف ہوتے ہیں اور ان میں ذات باری کا انعکاس نہایت ہی صفائی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور نہایت ہی منفرد شان کے ساتھ۔ اس قصے کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمیں اس میں نظر آتا ہے کہ جاہلیت اپنے آپ کو ہدایت کی شکل میں پیش کرتی ہے اور ہدایت کو ضلالت کے جامے ہیں۔ اور وہ نہایت ہی عیاری سے سچائی پر تعجب کرنے لگتی ہے۔ وہ سچائی کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ صالح علہی السلام سے ان کی قوم نے بہت امیدیں وابستہ کی ہوئی تھیں ، کیونکہ وہ ایک صالح ، عقلمند ، باخلاق اور پسندیدہ نوجوان تھے ، لیکن اب قوم ان کے بارے میں سخت مایوسی کا اظہار کرتی ہے ، یہ کیوں ؟ یہ محض اس لیے کہ وہ ان کو اسلامی نظام زندگی کی طرف بلاتے ہیں ، صرف اسلامی نظام کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں اور ان کی دعوت آبا ؤاجداد کی مورثی ڈگر سے مختلف ہے۔ یاد رہے کہ انسانی فکر و نظر اگر جادہ مستقیم سے بال برابر بیھ ادھر ادھر ہوجائے تو ضلالت و گمراہی کی کسی حد پر وہ رکتی نہیں ہے۔ آخر کار انسانی سوچ کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ اسے نہایت ہی واضع اور سادہ سچائی بھی گمراہی نظر آتی ہے اور وہ سچائی کو سن کر تعجب کرنے لگتا ہے اور انسانی سوچ اور تصور اس قدر محدود ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر سادہ سے سادہ حقیقت بھی نہیں سماتی اور کوئی فطری اور سیدھی منطق بھی سمجھ میں نہیں آتی۔ دیکھئے ، حضرت صالح (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ اے قوم صرف اللہ کی بندگی کرو ، اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہی ہے جس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور یہاں تمہیں ترقی دی۔ وہ پکارتے ہیں کہ دیکھو تم اس کرہ ارض پر موجود ہو ، یہ وجود تمہیں اللہ نے بخشا ہے ، یہ ایک حقیقت ہے جس سے تم دیکھتے اور جس کا تم انکار نہیں کرسکتے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو خود نہیں پیدا کیا اور نہ خود اپنے لیے حیات اور رزق کا انتظام کیا ہے۔ یہ بات بالکل واضح بھی تھی ، کیونکہ وہ اس حقیقت کا انکار بھی نہ کرتے تھے کہ انہیں اللہ نے پیدا کیا ہے۔ وہی ہے جس نے انسانی کو وہ عقل دی ہے جس کے ذریعے وہ اس کرہ ارض کو ترقی دے رہا ہے لیکن وہ اس صغریٰ کبریٰ کو تسلیم کرنے کے بعد اس کا منطقی نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے تھے کہ اللہ ہی الٰہ ہے اور اس نے انسان کو یہاں خلیفہ و مختار بنایا ہے۔ لیکن اس پر لازم کیا ہے اور اس کے لیے مناسب بھی یہی ہے کہ وہ صرف اللہ کی ربوبیت کو تسلیم کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور نہ اس کے سوا کسی اور کی اطاعت کرے۔ یہی سادی حقیقت تھی جس کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) دعوت دیتے تھے۔ (یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰہ َ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہ غَیْرُہُ ) مسئلہ کیا تھا ؟ مسئلہ الوہیت و ربوبیت کا تھا۔ کہ کون حاکم اور مطاع ہوگا۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کے گرد تمام انبیاء کے مشن گھومتے ہیں اور اس کے گرد انبیاء کے بعد تمام دعوتی تحریکیں گھومتی ہیں اور یہی ہے آج بھی اسلام اور جاہلیت کی کشمکش کا محور۔
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور دیکھو ، ابراھیم (علیہ السلام) کے پاس ہمارے فرشتے خوشخبری لیے ہوئے پہنچے۔ “ کہا تم پر سلام ہو۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو۔ پھر کچھ دیر نہ گزری کہ ابراہیم (علیہ السلام) ایک بھنا ہوا بچھڑا (ان کی ضیافت کے لیے ) لے آیا۔

درس نمبر 102 ایک نظر میں اب حضرت نوح (علیہ السلام) کے دور کے بعد ، دوسرے ادوار میں کاروان تاریخ اسلامی میں داخل ہوتا ہے ، اب منصہ تاریخ پر کچھ اور بابرکت اقوام آتی ہیں اور کچھ اور ایسی اقوام آتی ہیں جنہیں عاد وثمود کی طرح ہلاک کیا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کے ایک پہلو کو یہاں لیا جاتا ہے۔ آپ کے قصے میں خیر و برکت کا جو پہلو ہے اس پر ایک نظر ڈال کر ہمیں تاریخ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بڑھ جاتی ہے جو مستحق عذاب ٹھہری اور جسے سخت عذاب دیا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصص میں اللہ کا وہ وعدہ حقیقت کا روپ اختیار کرتا ہے جو اللہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کیا تھا۔ کہا گیا تھا۔ قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَمٍ مِمَّنْ مَعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ (11 : 48) “ کہا گیا اے نوح ، ہماری جانب سے سلامتی کے ساتھ اتر جا اور برکتوں کے ساتھ تم پر اور ان اقوام پر جو تمہارے ساتھ ہیں۔ اور ان اقوام پر جن کو ہم عنقریب متاع دیں گے اور اس کے بعد ان کو ہماری جانب سے عذاب الیم پکڑلے گا ”۔ برکات کے مستحق تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد ہوئی اور آپ کی اولاد حضرت اسحٰق اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے انبیاء آئے اور حضرت خاتم النبیین ﷺ سب سے آخر میں آئے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بعض مستحق عذاب بھی ہوئے۔ درس نمبر 102 تشریح آیات 69۔۔۔۔ تا ----83