Ayah 11:96درس نمبر 104 ایک نظرر میں
یہاں قصص کا خاتمہ ہوتا ہے اور اس خاتمے میں حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے تاکہ یہاں قوم فرعون کی ہلاکت کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے اور یہ بتایا جائے کہ قوم فرعون نے بھی اللہ کے پیغمبر کے مقابلے میں فروعون کی اطاعت کی تھی اس لیے ہلاک ہوئی۔ اس اشارہ میں قصہ فرعون کی ناگفتہ کڑیوں کی طرف بھی اشارہ ہے۔ جبکہ قصے کی بعض اہم جھلکیاں بھی اس منظر میں موجود ہیں۔ ان تمام قصص میں یہی اہم اصول زیر بخث ہے کہ اسلام میں ہر فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے اور اگر کوئی رؤسا اور کبراء کی اطاعت کرتا ہے تو خدا اور رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری کی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوسکتا۔
قصہ فرعون کا آغاز اس منظر سے ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آیات اور دلائل و بینات کے ساتھ فرعون کے باس بھیجا جاتا ہے جن کے اندر خدائی قوت ہے اس لیے کہ فرعون عظیم مادی قوت کا مالک تھا۔ لہذا اس کی قوت کے مقابلے میں قوت کا ہونا ضروری تھا۔
درس نمبر 104 تشریح آیات
Ayah 11:97یہاں سیاق کلام میں اس قصے کو یہات ہی اجمال کے ساھ لایا جاتا ہے کیونکہ یہاں مقصد یہ ہے کہ قصے کا آخری منظری بیش کیا جائے چناچہ نظر آتا ہے کہ آگے آگے فرعون ہے اور اس کے پیچھے پیچھے اس کی قوم ہے۔ یہ لوگ اللہ کی حکم عدولی کر کے فرعون کے احکام مانتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ فرعون کا حکم جاہلانہ ، احمقانہ اور بودا ہے۔
فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ (97)
یہ لوگ جو ن کہ فرعون کے متبعین تھے اس لیے یہ اس کے پیچھے چلیں گے۔ جس طرح یہاں وہ بغیر سوچ اور تدبیر کے اس کے پیچھے چلتے تھے۔ اپنی رائے اور عقل کو استعمال نہ کرتے تھے۔ وہ ذلت پر راضی تھے ، اور اللہ نے عقل ، ارادہ اور آزادی کی جو نعمتیں ان کو دی تھیں ، انہوں نے ان نعمتوں سے دست برداری اختیار کرلی تھی ، اور غلام کی راہ اختیار کرلی تھی ، یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن یہ عذاب میں بھی اسی غلامہ شان سے داخل ہوں گے۔ فرعون وہاں بھی ان کا لیڈر ہو کا۔
Ayah 11:98ذرا اس منظر کو دیکھئے ! آغاز یوں ہوتا ہے کہ قصہ ماضی کا ہے اور مستقبل میں انجام بد کا ڈراوا ہے۔ اچانک یہ منظر عملاً شروع ہوجاتا ہے۔ مستقبل ماضی میں بدل جاتا ہے اور اسکرین پر مابضی کی حالت چتلی ہے۔ فرعون نے گویا قیامت میں ان کی قیادت کر ہی ڈالی۔
(فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ) “ مویشیوں کی طرح انہیں آگ کے گھاٹ پر لے گیا ”۔ جس طرح ایک چروایا اپنی بکریوں کو پانی پلانے کے لیے گھاٹ پر لے جاتا ہے ۔ بیشک یہ لوگ جانوروں کا ایک ریوڑ ہی تو تھے۔ ریوڑ نے کبھی غور وفکر کیا ہے ، کیا انہوں نے انسانیت کی اعلیٰ صفات یعنی غور وفکر کرنے سے انکار نہیں کردیا ؟ اور حریت و اراداہ سے دست برداری اختیار نہیں کرلی ؟ لہذا وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جہنم کے گھاٹ پر پہنچ جائیں ، جاں ان کی پیاس نہ بجھے گی۔ جہاں ان کا سینہ ٹھنڈا نہ ہوگا بلکہ وہاں کا پانی تو ان کی آنتوں اور ہونٹوں کو بھون ڈالے گا ، دل جلا دے گا۔
بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ (11-98) “ کیسی بدتر جائے ورود ہے یہ ”۔ یہ تو ایک منظر تھا جس میں فرعون ان کی قیادت کر رہا ہے اور ان کو آک تک پہنچاتا ہے۔ لیکن اس منظر پر تبصرہ یوں ہے :
Ayah 11:99یہ ایک تو توہین آمیر تبصرہ ہے۔ یوں کہ آگ کو تحفے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ محنت کا صلہ۔ یہ تھا تحفہ جو فرعون نے ان کو دیا۔ وہاں اس نے جادوگروں کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کو عظیم صلہ اور جزاء دے گا۔ یہ ہے اس کی دی ہوئی جزا اور انعام۔ یہ ہے اس کا عظیم انعام کیا ہی برا ہے وہ گھاٹ جس پر اس نے اپنی قوم کو اتارا اور کیا ہی برا ہے وہ صلہ جو اس نے اپنی قوم کو اس کی جانب سے اتباع پر دیا۔
یہاں قرآن کریم کا اسلوب بیان ایسا ہے کہ انسان عش عش کرنے لگتا ہے اور یہ ہے دراصل اعجاز اس کتاب عزیز جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو قرآنی اسلوب کا ذوق رکھتے ہیں۔
Ayahs 11:100–102درس نمبر 105 ایک نظر میں
یہ سبق اس سورت کا اختتامیہ ہے ۔ اس میں کافی تبصرے اور متنوع نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ سورت کے تمام مضامین کو پیش نظر رکھ کر ایک مکمل اختتامیہ ہے۔ سورت کے آغاز اور قصص سب کا خلاصہ یہاں آگیا ہے۔ یہ تبصرے اور نتائج سورت کے مباحث کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں اور سورت کے اغراض و مقاصد کے ساتھ مکمل مناسبت بھی رکھتے ہیں۔
مثلاً پہلا نتیجہ واضح طور پر قصص القرآن کے ساتھ متعلق ہے۔
ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (101) وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102) (11 : 1000 تا 102)
“ یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ، ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ اپنے اوپر ظلم کیا ، اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ، ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہوتے ہے۔ فی الواقعہ اس کی پکڑ سخت اور دردناک ہوتی ہے ”۔
دوسرا تبصرہ ہے ان اقوام کی ہلاکت پر جو اس دنیا میں ہلاکت سے دوچار ہوئیں۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس دنیاوی پکڑ کے بعد آخرت کی پکڑ شدید ہوگی۔ آخرت کے عذات کا یہ نقشہ اس طرح کھینچا جاتا ہے کہ منظر آنکھوں کے سامنے اسکرین پر چلتا پھرتا نظر آتا ہے جس طرح قرآن کریم مشاہد قیامت کے مناظر کو پیش کرتا ہے۔
إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ (103) وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلا لأجَلٍ مَعْدُودٍ (104) يَوْمَ يَأْتِ لا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ (105) فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ (106) خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (107) وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ (108) (11 : 103 تا 108)
“ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے۔ وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس ورز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ہم اس کے لانے میں کچھ زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں۔ بس ایک گنی چنی مدت اسکے لیے مقرر ہے۔ جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے۔ پھر کچھ لوگ اس دن بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت جو بدبخت ہ . ں گے وہ دوزخ میں جائیں گے ، جہاں وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے۔ بیشک تیرا ربت پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے ، کرے۔ رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے تو وہ جنت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ ریھ گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کجھ اور چٔہے۔ ایسی بخشش ان کو ملے گی کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا ”۔
اس کے بعد ان ہلاک شدہ بستیوں کے انجام سے یہ نتینجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جو انجام ان بستیوں کا ہوا ، وہی انجام اہل مکہ کا بھی ہوگا۔ اگر دنیا میں ان کو ہلاک نہ کیا گیا اور ان کو مہلت دے دی گئی جس طرح قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ضرور عذاب سے دوجار ہوں گے ، لہذا اے رسول آپ اور آپ کے ساتھ چلنے والے ساتھی اپنی راہ پر سیدھے آگے بڑھیں اور ان مشرکین اور ظالموں کی طرف ذرا بھی جھکاؤ اختیار نہ کریں ، نماز قائم کریں ، مشکلات پر صبر کریں کیونکہ اللہ محسنین کے اجر کو ذرہ برابر ضائع نہیں کرتا۔
فَلاتَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَؤُلاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلاكَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ (109) وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (110) وَإِنَّ كُلا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (111) فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (112) وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُونَ (113) وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ (114) وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (115) (11 : 109 تا 115)
“ پس اے نبی ، تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ ، جن کی یہ ولوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے ، اور ہم ان کا حصہ انہیں بھر پور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو۔
ہم اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اس کتاب کے بارے میں کیا جارہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیا ہوتا۔ یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا ، یقیناً وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے۔
پس اے نبی ﷺ ، تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و اطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو ، جو کچھ تم کر رہے ہو ، اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ، ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔ اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے۔ اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔ اور دیکھو ، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔ درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔ اور صبر کرو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبہی ضائع نہیں کرتا ”۔
اس کے بعد روئے سخن ان ازمنہ قدیمہ کی اقوام کی طرف مڑجاتا ہے جن میں ایسے لوگ نہ تھے جو لوگوں کو فساد فی الارض سے روکتے ۔ ان اقوام کی اکثریت اسی راہ پر چلتی رہی جس پر وہ چل پرے تھے۔ اس لیے وہ اقوام ہلاکت کی مستحق قرار پائیں۔ اللہ کی یہ سنت نہیں ہے کہ وہ کسی بستی کو ہلاک کر دے اور اس کے باسی مصلح ہوں۔
فَلَوْلا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ أُولُو بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الأرْضِ إِلا قَلِيلا مِمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ (116) وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ (117) (11 : 116 ۔ 117)
“ پھر کیوں نہ ان قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ، ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے ؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچالیا ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کا سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیا گیا اور وہ مجرم بن کر ہے۔ تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں ”۔
اس حصے میں اللہ نے ان سنتوں کا بھی ذکر فرمایا ہے جو اللہ نے اپنی مخلوقات کے اندر جاری کی ہوئی ہے اور وہ سنت یہ ہے کہ لوگوں کے رجحانات اور میلانات مختلف ہوں گے اور ان کے خیایات میں اخلاف ہو کا۔ اگر الہل چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی ملت کردیتا۔ لیکن اللہ نے لوگوں کو فکری اور اختیاری آزادی عطا کردی اور اس وجہ سے ان کے درمیان اختلافات واقع ہوگے۔
وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ (118)إِلا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (119) (11 : 118 – 119)
“ بیشک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا۔ مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے اور بےراہ رویوں سے صرف وہی لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ اسی (آزادی انتخاب و اختیار اور امتحان) کے لیے تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔ اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا ”۔
آخر میں ، اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ان قصص کے بیان سے غرض وغایت کیا ہے ؟ یہ کہ نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ کفار کو آخری وارننگ دے دیں اور ان کو بتادیں کہ کس قدر عظیم عذاب آخرت ان کے انتظار میں ہے ، اور یہ کہ آپ اللہ پر توکل کر کے اللہ کی عبادت کریں اور لوگون کو اللہ کے حوالے کردیں تاکہ اللہ ان کو ان کے عمل کے مطابق جزا دے۔
وَكُلا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءَكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ (120) وَقُلْ لِلَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ (121) وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ (122) وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الأمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (123) (11 : 121 ۔ 123)
“ اور اے نبی ﷺ ، یہ پیغمبروں کے قصے ، جو ہم تمہیں سناتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں۔ ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا۔ اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی۔ رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کا کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جارہے ہیں ، انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں۔ آسمان اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے ۔ سب الہل کے قبضہ قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اللہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ بس اے نبی تو اس کسی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ رکھ ، جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو ، تیرا رب اس سے بیخبر نہیں ہے ”۔
درس نمبر 105 تشریح
100۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 123
ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (101) وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102)
“ یہ چند بستیوں کی سر گزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے ، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے ”۔
اس سے قبل جو مناظر پیش کیے گئے وہ آنکھوں کے سامنے ہیں۔ پردہ خیال پر مناظر و تصاویر بری تیزی سے آرہی ہے اور گزر رہی ہیں۔ نظر آتا ہے کہ بعض لوگ ایک عظیم طوفان میں موجوں کے تھپیڑے کھا رہے ہیں۔ بعض لوگ سخت آندھی میں گھرے ہوئے ہیں جو سب کچھ تباہ کرتی آگے بڑہ رہی ہے ، بعض لوگوں پر اس قدر شدید آواز اور چیخ آئی وہ دھڑام سے گرے اور ڈھیرے ہوگئے۔ بعض لوگ اپنے گھروں سمیت زمین کے پیٹ میں دھنس گئے اور بعض ایسے ہیں کہ جو اپنے متبعین کے جلوس کی قیادت کر رہے ہیں لیکن پورے کا پورا جلوس جاکر جہنم میں گر جاتا ہے ، غرض اقوام سابقہ کو پیش آنے والے تمام واقعات نظروں کے سامنے آجاتے ہیں اور بات لوگوں کے دل و دماغ اور ان کے شعور کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے تو اس حالت میں درج ذیل تبصرہ آتا ہے۔
ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (11 : 100)
“ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے ”۔
یہ چند بستیوں کی مختصر سرگزشت ہے ، عبرت آموزی کے علاوہ یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ جو پیغمبر یہ علم پیش کر رہا ہے ، مسلمہ طور پر اس سے قبل وہ ان باتوں کو نہ جانتا تھا ، لہذا اس کے پاس یہ معلومات بذریعہ وحی ہی آرہی ہیں اور قصص قرآن کے بیش کرنے کے بیشمار مقاصد میں سے یہ بھی ایک مقصد ہے۔
(منہا قائم) “ یعنی ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں ، لوگ دیکھ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ یہ کس قدر متمدن اور ترقی یافتہ اقوام تھیں مثلا علاقہ احقاف میں عاد کے آثار ہیں ، اور علاقہ حجر میں وقم ثمور کے آثار ابھی تک موجود ہیں اور ان میں سے بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ یعنی وہ “ زرع محصور ” کی طرح ہیں کہ فصل کٹ جانے کے بعد زمین چٹیل رہ گئی ہے ، مثلاً قوم نوح (علیہ السلام) اور قوم لوط (علیہ السلام) جن کے آثار بھی غائب ہیں۔
اقوام اور گروہوں کی حیثیت کی کیا ہے ، کبھی ہم نے غور کیا ہے ؟ دراصل وہ بھی انسانوں کی فصلیں ہیں ، بوئی جاتی ہیں ، بری ہوتی ہیں اور کٹ جاتی ہیں۔ ان میں سے بعض فصلیں اچھی ہوتی ہیں اور بعض بری ہوتی ہیں ، بعض فصلیں بڑھتی ہیں اور بعض گھٹتے گھٹتے مرجاتی ہیں۔
وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ (11 : 101) ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا۔ ” انہوں نے اپنے فہم و ادارت کے ذرائع کو معطل کردیا تھا۔ ہدایت سے منہ موڑ لیا تھا ، اللہ کی آیات و معجزات کی تکذیب کردی تھی اور ان کو جن باتوں سے ڈرایا گیا تھا اس کے ساتھ انہوں نے مذاق کیا تھا ، لہذا وہ مظلوم نہ تھے بلکہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔
فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (11 : 101) “ اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سواء انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ ”
ان قصص کے لانے کی یہ ایک دوسری غرض ہے۔ اس سورت کا آغاز ہی اس بات سے ہوا تھا کہ جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کے دین اور نظام کی پیروی کرتے ہیں ، ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ اس کے بعد قصص رسل میں تمام رسولوں نے لوگوں کو باری باری بےانجام سے ڈرایا۔ تمام رسولوں نے لوگوں کو کہا کہ تم نے جن خود ساختہ الہوں کی پیروی اختیار کر رکھی ہے ، وہ تمہیں نہیں بچا سکتے چناچہ تمام قصص کا یہ خلاصہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ بھی کسی کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتا اور جب اللہ کا حکم آئے گا اور قیامت برپا ہوگی تو وہاں یہ الہ کسی بھی پیروکار کو عذاب سے نہ بچا سکیں گے بلکہ ان کی وجہ سے خسارہ اور بربادی ہوگی (یہاں لفظ تتبیب استعمال ہوا ہے۔ جو لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے سخت بربادی کا اظہار کرتا ہے) یہ بربادی زیادہ اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے ان جھوٹے خداؤں پر اندھا اعتماد کیا اور اس وجہ سے یہ اعراض اور تکذیب میں آگے بڑھ گئے اس وجہ سے وہ زیادہ سے زیادہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے یہ الہ تو جس طرح نفع نہیں دے سکتے تھے اسی طرح نقصان بھی نہ دے سکتے تھے لیکن اس اندھے اعتماد کی وجہ سے خسارہ بڑھ گیا۔
وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ (11 : 102) “ اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے۔ ” (اسی طرح) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قصص میں بیان ہوا ، جس طرح اقوام ملل کو تباہ اور ہلاک کیا گیا ، جب انہوں نے ظلم کیا۔ ظالم سے مراد مشرکہ ہے یعنی جب وہ اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت سے رو گردانی کر کے کسی اور کو رب اور حاکم بنا لیتی ہیں اس طرح وہ اپنے اوپر ظلم کرتی ہیں کیونکہ شرک و فساد میں مبتلا ہو کر عذاب آخرت کی مستحق بنتی ہیں ایسی اقوام شرک کی وجہ سے دعوت توحید دعوت اصلاح سے محروم ہوجاتی ہیں اور اس طرح زمین ظلم و فساد سے بھر جاتی ہے۔
إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (11 : 102) “ فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے۔ ” یہ سزائے شدید اللہ تعالیٰ مہلت کے بعد دیتا ہے جب لوگ خوب عیاشی کرلیتے ہیں ، یوں وہ ابتلاء میں پڑجاتے ہیں۔ پھر ان کے عذرات بھی غتم ہوجاتے ہیں ، اس لیے کہ رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ ان پر حجت تمام کردیتا ہے۔ پھر جب ان اقوام میں ظلم کا دور دورہ ہوتا ہے اور مظلوموں پر ظالموں کی گرفت مضبوط ہوجاتی ہے اور حالت یہ ہوجاتی ہے کہ دعوت حق دینے والے مصلحین نہایت ہی قلیل اور بےاثر رہ جاتے ہیں اور ظالموں کے آگے ان کی ایک نہیں چلتی۔ کیونکہ وہ ظلم میں بہت آگے جا چکے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اہل ایمان ان ظالموں سے علیحدہ ہوجاتے ہیں جو ظلم میں بہت آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں۔ یہ اہل ایمان پھر اپنے آپ ہی کو امت سمجھتے ہیں ، اپنے دین اور اپنے رب کی پیروی کرتے ہیں ، ان کا اپنا قائد ہوتا ہے اور اپنے روابط ہوتے ہیں اور امت ظالمہ کو وہ چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے قدرتی انجام تک پہنچ جائے اللہ کی اس سنت کے مطابق جو اس نے اس کائنات کے لیے تجویز کر رکھی ہے ، ہمیشہ ہمیشہ کے ۔
یہ دنیاوی پکڑ دراصل آخرت کے لیے ایک علامتی سزا ہوتی ہے اور جو لوگ عذاب آخرت سے ڈرتے ہیں وہ اس پکڑ سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں ان کو اللہ نے بہرحال یہ بصیرت دے دی ہوتی ہے کہ جو خدا دنیا میں اس قدر شدید عذاب کسی قوم کو دے سکتا ہے وہ آخرت میں اس سے بھی شدید عذاب دے سکتا ہے ، اس لیے وہ ڈرتے ہیں۔ یہاں قرآن مجید انسان کو اچانک دنیا کے مناظرے قیامت کے مناظر کی طرف لے جاتا ہے اور یہ قرآن مجید کا خاص اسلوب ہے کہ وہ دنیا کے مناظر کے بعد اچانک آخرت کا منظر پیش کردیتا ہے۔
Ayahs 11:103–104دنییا کی یہ پکڑ عذاب آخرت کی یاددہانی کرانے والی اور دل میں خوف بٹھانے والی ہے۔
إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ (103 : 11) “ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے۔ ” لیکن حقیقت ہے کہ یہ عبرت وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جن کے دل میں آخرت کے عذاب کا ڈر ہو ، ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کے فکر و نظر کو جلا ملتی ہے۔
لیکن جن کے دل میں آخرت کا خوف نہیں ہوتا ، ان کے دل بہرے ہوتے ہیں ان کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ، وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس نے پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کی نظر قاصر ہوتی ہے اور وہ صرف اس دنیا ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس دنیا میں جو عبرت انگیز حالات پیش آتے ہیں وہ ان سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرسکتے ہیں۔
اب بتایا جاتا ہے کہ یہ دن کیسا ہوگا ؟
ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ (103 : 11) “ وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ”
یہ ایک منظر ہے جس میں سب لوگ جمع کردیئے جائیں گے ، اس اکٹھ میں ان کے اپنے ارادے کا کوئی دخل نہ ہوگا بلکہ اس نظر آنے والے منظر میں ان کو چلا کر لایا جائے گا ، تمام کے تمام لوگ یکجا حاضر ہوں گے اور سب کی سب انجام کے منتظر ہوں گے۔
Ayah 11:105يَوْمَ يَأْتِ لا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلا بِإِذْنِهِ (105 : 11) “ جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی ، الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے۔ ” سب لوگوں پر ہیبت طاری ہوگی اور خوفناک سکوت کا ماحول ہوگا ، لوگ سہمے ہوں گے ، وہاں بات اجازت سے ہوگی مگر اجازت طلب کرنا کارے دارد۔ یہ اللہ ہی ہوگا جو کسی کو اجازت دے دے ، تو کچھ عرض کی جاسکتے گی۔
اب لوگوں کو ان کے انجام کے مطابق تقسیم کردیا جائے گا :
فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ (11 : 105) “ پھر کچھ لوگ اس روز بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔ ” انداز تعبیر ایسا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ بدبختی کا شکار ہوئے وہ دوزخ میں پڑے ہوئے ہیں ، ان کی سانس پھولی ہوئی ہے اور ہانپ رہے ہیں اور پھنکارے مار رہے ہیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ جنت میں ہیں وہ بھی نظر آتے ہیں اور ان کے لیے ایسے عطیات ہیں جو دائمی ہیں اور ختم ہونے والے نہیں ہیں۔
Ayahs 11:106–108یہ سب لوگ جنت و جہنم میں “ اس وقت تک رہیں گے جب تک زمین و آسمان ہیں۔ ” یہ عربی محاورہ ہے جو استمرار اور دوام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ محاورات کا اپنا مفہوم ہوتا ہے اور ایک خاص اثر انگیزی ہوتی ہے ، یہاں بھی یہ محاورہ انداز تعبیر کے اعتبار سے بہت ہی خوب ہے۔
اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (11 : 107) “ بیشک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے ” یہ فقرہ ان لوگوں کے قلبی اطمینان کے لیے ہے جو خوش قسمت وافعہ ہوئے تھے کہ ان کا انعام دائمی ہوگا اور کبھی منقطع نہ ہوگا ، اگر چہ مفروصہ اپنی جگہ ہو کر اللہ تبدیل کرسکتا ہے لیکن چونکہ اللہ نے ان کے لیے ایسا ارادہ کرلیا ہے ، اس لیے انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ اس کی مشیت بہرحال آزاد ہے۔
جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ آخرت میں دونوں فریقوں کا انجام کیا ہوگا اور یہ بتا دیا گیا کہ دنیا میں بد خبت اقوام کا حشر کیا ہوگا اور آخ ، رت میں ان کی حالت کیا ہوگی ، یہاں ان پر کیا کیا عذاب آئے گا اور آخرت میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا اب سیاق کلام میں بات کا رخ نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے اور خطاب اب آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں سے ہے جو مکہ میں کمزور حالت میں ہیں ، ان کو تسلی دی جاتی ہے اور ان کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ جس راہ پر چل پڑے ہیں اس پر ثابت قدم رہیں اور مکہ کے منکریں کو مزید ڈرایا جاتا ہے کہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو ان اقوام کا ہوا جن کے قصص بیان ہوئے ۔ اگر چہ عذاب الہی میں تاخیر ہوئی ہے لیکن اس سے قبل بھی اللہ نے کئی اقوام کو لمبی مہلت دی ہے اور مہلت ختم ہونے کے بعد سب کو ان کے لیے کا اچھا یا برا پورا پورا بدلہ دے دیا گیا لیکن اپنی مقررہ معیاد کے بعد۔ عذاب اور حساب و کتاب میں تاخیر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اقوام حق پر تھیں ، جس طرح ان اقوام کے آباؤ و اجداد باطل پر تھے اسی طرح یہ بھی باطل پر تھیں۔
Ayah 11:109آپ اپنے دل میں ذرہ برابر شک نہ کریں کہ یہ لوگ جن بتوں کی پیروں کرتے ہیں وہ غلط ہیں ، خطاب تو حضور ﷺ کو ہے لیکن ڈر اور اقوام کو ہے یہ اسلوب بسا اوقات زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہ معاملہ طے ہوچکا ہے۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو آخری احکامات دے دئیے ہیں اب اس میں کوئی نزاع کا موقعہ نہیں ہے اور جو لوگ مجرم ہیں ان کو ایک طرف چھوڑ دیا گیا گویا وہ بات کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں ، اس طرح ان پر زیادہ اثر ہوگا ، بمقابلہ اس کے کہ اگر ان کو براہ راست خطاب کیا جاتا۔
فَلا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَؤُلاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلا كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ (109 : 11) “ پس اے نبی ﷺ تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ ، جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے۔ ”
لہذا ان کا انجام بھی اقوام سابقہ کی طرح ہوگا ، یعنی دائمی عذاب۔ لکین یہاں صراحت نہیں کی جاتی کیونکہ ان کا انجام معروف و معلوم ہے۔
وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ (11 : 109) اور ہم ان کا حصہ انہیں بھرپور دیں گے ، بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو۔ ” اور ان کا انجام اسی طرح مشہور و معروف ہے جس طرح ان سے پہلے لوگوں کے بارے میں سے شدہ ہے اور سابقہ لوگوں کے کچھ مناظر اس سے قبل پیش کیے بھی جا چکے ہیں ، ہاں دنیا میں تو یہ بھی ممکن ہے کہ قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح انہیں مہلت دے دی جائے۔
Ayah 11:110وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيه (110 : 11) “ ہم اس سے پہلے موسیٰ ٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اس کتاب کے بارے میں کیا جا رہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) ”
قوم موسیٰ ٰ (علیہ السلام) نے اپنی کتاب کے بارے میں بہت سے اختلافات کیے ، ان کے اعتقادات کیا سے کیا بن گئے اور وہ فرقے فرقے بن گئے۔ لیکن اللہ کی طرف سے حکم یہ تھا کہ ان کو تباہ نہ کیا جائے اور ان سے پورا پورا حساب قیامت کے دن لیا جائے۔
وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ (110 : 11) “ اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصہل چکا دیا گیا ہوتا۔ ”
اور اللہ کے اس کلمے اور فیصلے سے بھی پہلے اللہ کی حکمت کا یہ تقاضا تھا کہ بنی اسرائیل کے مقدمے کو قیامت تک موخر کردیا جائے کیونکہ بنی اسرائیل اہل کتاب تھے اور تمام ایسے رسول جو اہل کتاب تھے ، ان کی امتوں کو قیامت تک کے لیے مہلت دی گئی۔ کیونکہ کتاب اس بات پر دلیل تھی کہ ہدایت باقی ہے اور بعد کی نسلیں بھی ان پر اس طرح غور کرسکتی ہیں جس طرح انہوں نے غور کیا جن کی طرف نازل ہوئی تھی اور مادی معجزات اور خارق عادت امور کا معاملہ بالکل مختلف ہے کو ین کہ مادی معجزات کو صرف وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں جن کے سامنے وہ معجزات ظاہر ہوئے لوگوں کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں یا تو ایمان لائیں اور یا پھر ہلاکت کے لیے تیار ہوجائیں۔ تورات اور انجیل دو مستقل کتابیں تھیں جو نزول قرآن تک لوگوں کے سامنے موجود تھیں۔ یہاں تک کہ قرآن مجید نازل ہوا۔ قرآن کریم نے تورات و انجیل کی تصدیق کی اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ اب آخری کتاب ہے اور تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور اب قیامت میں تمام انسانوں کا حساب و کتاب قرآنی احکام کی اساس پر ہوگا۔
وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (110 : 11) “ یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں۔ ” سے مراد یہ ہے کہ قوم موسیٰ اس کتاب کے بارے میں سخت خلجان میں ہے کیونکہ یہ کتاب موسیٰ ٰ (علیہ السلام) سے صدیوں بعد لکھی گئی اور اس کی آیات و مضامین کے بارے میں روایات میں سخت اضطراب پیدا ہوگیا ، لہذا یہ کتاب قابل یقین نہ رہی۔
یہ درست ہے کہ عذاب موخر کردیا گیا ہے ، لیکن قیامت میں سب کو ان کے اعمال کی جزاء و سزا دی جائے گی اور یہ سزا ان لوگوں کو علیم وخبر دے گا جو ہر گز کسی چیز کو ضائع نہیں کرتا۔
Ayah 11:111وَإِنَّ كُلا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (11 : 111) “ اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا ، یقینا وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے۔ ”
اس میں اس قدر تاکیدی انداز تعبیر اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی مہلت اور تاخیر کی وج کہ سے پوری پوری جزاء و سزا میں شک نہ کرنے لگے۔ کوئی یہ شک نہ کرے کہ اہل مکہ نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ باطل ہے اور اس کے باطل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے یہ شرک ہے اور یہ شرکیہ دین اس سے پہلے بھی کئی اقوام نے اختیار کیا ہے۔
یہاں یہ تاکیدی انداز اختیار کرنے کا پس منظر بھی تھا ، اس وقت تحریک اسلامی کے حالات واقعات یہ تھے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں اہل کفر ایک معاند قوت کی طرح کھڑے تھے ، وہ رسول اللہ کے راستے کو ہر طرف سے روک رہے تھے ، مسلمان قلیل تعداد میں تھے اور ان پر مظالم ڈھائے جا رہے تھے ، دعوت کا پھیلاؤ تقریبا منجمد ہوگیا تھا اور خدا کی طرف سے عذاب کا آنا بھی قیامت تک ملتوی ہوگیا تھا۔ مومنین کو ہر طرح کی اذیت دی جا رہی تھی اور ان کے دشمن بظاہر کامیاب جا رہے تھے۔ ایسے حالات میں بعض کمزور قسم کے دل متزلزل ہو سکتے تھے نیز ثابت قدم لوگ بھی بہرحال پریشانی کا شکار ہو سکتے تھے ، لہذا تحریک اسلامی کو اس قسم کی تسلی اور ہمت بندھانے کی ضرورت تھی ، اس سے زیادہ مسلمانوں کے دل کسی اور چیز سے حوصلہ نہیں پاتے کہ اللہ ان کے دشمنوں کو اپنا دشمن بتلا دے اور یہ اعلان کر دے کہ بلا شک و بلا ریب و باطل پر ہیں۔ معرکے میں حصہ لیتا ہے اور کس طرح صحابہ کرام کو موقع بموقع نشانات راہ بتلاتا جاتا ہے۔
یہ تاکیدی بیان کہ اللہ کے دشمنوں کا یہ انجام ہو کر رہے گا ، نفس کے اندر قدرتی طور پر یہ بات بٹھاتا ہے کہ سنت الہیہ اس کی مخلوق میں جاری وساری ہے اس کا دین بھی اس کی سنت کے مطابق غالب ہوگا اس کا وعدہ بھی اور اس کی دھمکی بھی سنت الہیہ کے مطابق روبعمل ہوگی ، لہذا جو لوگ اس دین کو قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اس دین کی دعوت دیتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ مسنون طریقے کے مطابق دعوت دیتے رہیں جس طرح کہ ان کو حکم دیا گیا ہے ، نہ اس میں کمی کریں ، نہ اس میں زیادتی کریں نہ ظالموں کے سامنے جھکیں ، اگر چہ وہ جبار ہوں ، وہ غیر اللہ کے دین کو قبول نہ کریں ، اگر چہ راستہ طویل ہوجائے ، وہ مشکلات راہ کے لیے تیاریاں کریں اور اس وقت تک صبر کریں جب تک اللہ وہ کام نہیں کرتا جو وہ چاہتا ہے۔
Ayah 11:112فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ (112 : 11) “ پس اے نبی ﷺ تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و اطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ”
اس حکم کی مشکلات اور شدت اور ہیبت کو حضور ﷺ نے محسوس فرمایا تھا۔ حضور ﷺ سے روایت میں آتا ہے کہ “ مجھے ہود اور اس کے ساتھی سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے۔ ” استقامت کا مفہوم ہے کہ اعتدال سے چلو اور اسلامی منہاج کے مطابق سیدھے چلو ، کوئی انحراف نہ ہونے پائے۔ ہر وقت غور فکر کی ضرورت پڑتی ہے اور ہر وقت حدود اللہ پر نظر رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ہے اور ان انسانی میلانات اور رحجانات کو ضبط کرنے کی ضرورت پڑتی ہے جو کبھی زیادہ ہوتے ہیں اور کبھی کم ، غرض کسی بھی تحریک میں یہ ایک دائمی اور مسلسل ڈیوٹی ہے اور زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون میں اسے ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔
وَلا تَطْغَوْا (112 : 11) “ اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو ” یہاں اس بات کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ استقامت کے حکم کے بعد یہ نہیں اس لیے نہیں ہے کہ استقامت میں قصور نہ کرو ، بلکہ یہ نہیں طغیان اور حد سے گزرنے کی نہی ہے ، یہ اس لیے وارد ہوئی ہے کہ استقامت کے مسلسل حکم کے نتیجے میں انسان کے ذہن میں اس قدر بیداری پیدا ہوجاتی ہے اور انسان اس قدر حزم اور احتیاط کرنے لگتا ہے کہ وہ غلو اور مبالغے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے اور اس غلو اور مبالغے کے نتیجے میں “ الدین یسر ” بن جاتا ہے دین میں افراط وتفریط شروع ہوجاتی ہے۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے اور ایک مسلمان کو معتدل مزاج اور صراط مستقیم پر گامزن رہنا چاہیے ، غافل بھی نہیں ہونا چاہیے اور غالی بھی نہیں۔
إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (11 : 112) “ جو کچھ تم کر رہے ہو ، اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ” بصیر ، بصیرت کا لفظ یہاں پر محل ہے ، یعنی دیکھتا بھی ہے اور اس کا دیکھنا سرسری نہیں ہے۔ بصیرت اور گہرائی سے دیکھتا ہے لہذا اے پیغمبر ﷺ تم اور تمہارے ساتھی خدا سے ڈرتے ہوئے سیدھی راہ پر گامزن رہو۔
Ayah 11:113وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ (113 : 11) “ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔ ” یعنی ظالموں پر بھروسہ نہ کرو اور نہ ان کی جانب سے کسی قسم کا اطمینان کرو ، ظالموں سے مراد وہ جبار وقہار اور سرکش لوگ ہیں جو زمین پر اپنے مظالم کی بنیاد پر اپنی برتری قائم کرتے ہیں اور عوام الناس سے خدا کے مقابلے میں اپنی بندگی کراتے ہیں ان پر بھروسہ بھی نہ کرو اور ان کی جانب سے اطمینان کا اظہار بھی نہ کرو۔ کیونکہ اگر تم ان کی جانب سے اسی طرح غیر جانبدار اطمینان و بھروسے کا اظہار کرو گے تو تم گویا بالواسطہ ان ظالمانہ کاروائیوں میں ان کے موید ہو گے اور اس طرح اس عظیم جرم میں تم بھی حصہ دار بن جاؤ گے ، اگر تم نے ایسا کیا تو تم آگ کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔
وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُونَ (11 : 113) “ اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔ ” ایسے مشکل حالات میں جن سے اس وقت تحریک اسلامی کے مٹھی بھر پیروکار گزر رہے تھے ، سیدھی راہ پر جم جانا فی الواقعہ ایک مشکل کام ہوتا ہے اور اس کے لیے روحانی زادراہ کی ضرورت ہوتی ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ اور آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں کو اخلاقی اور روحانی تربیت اور تعلق باللہ پیدا کرنے کے لیے اس زاد راہ کی نشاندہی فرماتا ہے :
Ayah 11:114وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (11 : 114) “ اور دیکھو ، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے رپ درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ ”
اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ وہ زاد سفر ہے جو اس وقت کام آتا ہے جب تمام زاد سفر ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ روحانی وقت کا زاد سفر ہے اور یہ انسان کو ایسی قوت دیتا ہے جو عظیم تر مشکلات کو برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس لیے یہ زاد راہ معراج المومنین ہے اور یہ اہل ایمان کو رب کریم اور رحیم و ودود سے ملاتا ہے جو قریب ہے اور تمام پکاروں کو خوب سنتا ہے اور جب مومن تنہا ہوتا ہے اور پریشان ہوتا ہے تو ایسے حالات میں یہ زاد راہ اس انس و محبت کی باد نسیم چلاتا ہے اور اس طرح اس پر جاہلیت اور کفر کی گٹھن فضا میں قدر کشادگی پیدا ہوجاتی ہے۔
آیت میں دن کے دو سروں کا ذکر کیا گیا ہے یعنی اول اور آخر اور پھر است کے قریب وقت کا۔ اس میں تمام کے تمام اوقات آگئے ۔ اگر نمازوں کی تعداد کا تعین نہیں ہوا ، تعداد کا تعین بہرحال سنت رسول سے ہوا ہے اور نیز متعین اوقات کا تعین بھی سنت سے ہوا ہے۔
اس آیت میں نماز کی اقامت کے حکم ، یعنی پوری پوری ادائیگی کے حکم کے بعد یہ حکم آیا ہے کہ نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ عام آیت ہے اس سے تمام نیکیاں مراد ہیں اور نماز بہرحال عظیم ترین نیکی ہے لہذا یہ بھی اس آیت میں شامل ہے بہرحال “ المحسنات ” نماز کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جیسا کہ بعض مفسرین کی رائے ہے۔
ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ (11 : 114) “ یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔ ” نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے ذکر الہی ہے۔ اس لیے یہ صفت نہایت ہی مناسب ہے۔
استقامت انسان تب ہی اختیار کرسکتا ہے جب اس میں مشکلات پر صبر کرنے کا حوصلہ ہو ، نیز اللہ کی سنت کے مطابق منکرین کے انجام بد سے دو چار ہونے کے لیے ایک مہلت ہوتی ہے اور اس کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور یہ اتنظار بھی صبر کا محتاج ہے لہذا استقامت اور تمام پچھلی ہدایات پر کامیابی سے عمل پیرا ہونے کے لیے حکم دیا جاتا ہے کہ صبر کرو۔
Ayah 11:115وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (11 : 115) “ اور صبر کر ، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ ” اللہ کی راہ میں استقامت احسان ہے اور وقت پر نماز ادا کرنا بھی احسان ہے ، جھٹلانے والوں کی طرف سے جھٹلانے پر صبر کرنا بھی احسان ہے اللہ محسنین کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔
اقوام وملل کی ہلاکت اور بستیوں کی بربادی پر جو تبصرہ کیا گیا اس کی تکمیل کی طرف روئے سخن پھرجاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر ان بستیوں میں اہل خیر موجود ہوتے اور وہ نہی عن المنکر اور زمین سے فتنہ و فساد کے دور کرنے کی سعی جاری رکھتے اور زمین سے ظلم مٹانے کی سعی کرتے اور دست درازی کرنے والوں کے ہاتھ روکتے تو ان بستیوں اور قوموں پر ایسا عذاب نازل نہ ہوتا جس نے ان کو چڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ بستیوں پر ظلم نہیں کرتا جبکہ لوگ صالح ہوں اور مصلح ہوں۔ یعنی خود بھی نیک ہوں اور بقدر طاقت لوگوں کو نیک بنانے میں بھی مصروف ہوں ، ہاں ان ہلاک شدہ بستیوں میں بھی اہل ایمان کی ایک قلیل تعداد موجود تھی لیکن ان کے پاس بقدر ضرورت قوت اور اثر نہ تھا۔ اس لیے اللہ نے ان کو نجات دے دی ، اکثریت چونکہ مترفین اور مفسدین کی تھی اور دوسرے لوگ ان کے تابع تھے اس لیے اللہ نے پوری کی پوری بستیوں کو ہلاک کردیا۔
Ayahs 11:116–117یہ مختصر سا اشارہ اس پالیسی کو ظصاہر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کے بارے میں اختیار کی ہوئی ہے۔ جس قوم کے اندر بگاڑ اور فساد عام ہوجائے ، جس میں انسان انسان کا غلام ہو ، خواہ اس کی کوئی بھی صورت ہو ، لیکن اس میں ایسے لوگ بھی موجود ہوں جو اصلاح احوال کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو یہ قوم بچنے والی قوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسی قوم کو نیست و نابود نہیں فرماتا۔ لیکن ایسی اقوام جس میں ظالم ظلم کریں اور دندناتے پھریں ، فسادی فساد کرتے رہیں اور کوئی روکنے والا نہ ہو یا ان میں ایسے لوگ ہوں جو ظلم و فساد کو برا سمجھتے ہوں کے وہ صورت حالات کو بدلنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ تو ان قوموں کے بارے سنت الہٰیہ اپنا کام کرتی ہے یا تو اس قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا ہے یا اس پر ایسا عذاب آتا ہے کہ یہ قوم من حیث القوم بکھر جاتی ہے۔
لہذا وہ لوگ جو اس زمین پر اللہ کی ربوبیت کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں ، ایسا نظام جس میں صرف اللہ حاکم ہو اور وہ لوگ جو زمین میں اللہ کی حاکمیت اور شر یعت کی عدالت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں اللہ کے سوا کسی کا حکم نہ چلتا ہو تو ایسے لوگ دراصل زمین کا نمک ہیں اور ان کی وجہ سے اقوام کی ہلاکت رکی ہوئی ہوتی ہے۔ لہذا وہ لوگ جو دنیا میں اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لیے سعی کرتے ہیں۔ وہ بڑی قدر و قیمت کے مالک ہوتے ہیں ، جو ظلم و فساد کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں ، نہ صرف یہ کہ لوگ اپنے رب کی طرف سے عائد شدہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں بلکہ یہ جس قوم میں کام کرتے ہیں وہ قوم کلی ہلاکت اور من حیث القوم ہلاکت کے عذاب سے بچ جاتی ہے ، ان کی وجہ سے اقوام پر اللہ کا عذاب موقوف رہتا ہے۔
آخری تبصرہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، بعض انسان بھلائی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور بعض بگاڑ کی طرف ، اس کائنات میں اللہ نے یہ سنت بھی جاری کردی ہے کہ کچھ لوگ اس طرف ہوں گے اور کچھ اس طرف
Ayahs 11:118–119اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی فکر و نظر پر پیدا کردیتا ایک ہی صلاحیت سب میں ہوتی۔ ایک ہی چھاپ کے لوگ ہوتے۔ ان میں کوئی تفاوت یا تنوع نہ ہوتا۔ لیکن اللہ کو ایسا مطلوب نہ تھا ، کہ وہ مخلوق جو اس کی جانشین اور خلیفہ ہے وہ اس قسم کی ہو ، اس لیے اس نے لوگوں کو مختلف صلاحیتیں اور میلانات دیئے۔
اللہ کی مشیت ہی ایسی تھی کہ انسان اپنای استعداد اور رحجانات کے لحاظ سے مختلف ہوں۔ اس کے بعد اللہ نے لوگوں کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ جس رحجان کو چاہیں ، اپنائیں ، جو راستہ چاہیں اس پر چل پڑیں اور جس راہ پر چلیں اس کے نتائج بھگیں۔ اگر اچھا راستہ اختیار کریں تو جزاء ملے ، اگر برا راستہ اپنائیں تو سزا ملے۔ یہی اللہ کی سنت ہے جو اس کی مشیت کے مطابق جاری وساری ہے۔ اس لیے جو ہدایت کی راہ لیتا ہے وہ اور جو ضلالت اختیار کرتا وہ دونوں ہی اللہ کی سنت کے مطابق چل رہے ہیں اور یہ سنت اللہ کی مشیت کے مطابق ہے اور سزاء و جزاء بھی اللہ کی سنت اور مشیت کے مطابق ہے۔
یہ اللہ کی اسکیم تھی کہ لوگ امت جامدہ نہ ہوں ، اور کامیات وہ لوگ ہوں جن کو اللہ نے ہدایت کی توفیق دی اور وہ حق پر جمع ہوجائیں ، کیونکہ ہدایت اور سچائی ایک ہی ہوتی ہے۔ ان میں عتدد نہیں ہے۔ اگرچہ وہ اہل ضلال کے خلافا ہوں۔ ہدایت یافتہ لوگوں کے بالمقابل یہ لوگ ہیں۔
وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (11 : 119) “ اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ ”
اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جو لوگ ہدایت پر جمع ہوئے ان کا انجام اور ہے ، وہ جنت ہے اور وہ ان سے بھر دی جائے گی جس طرح جہنم ان لوگوں سے بھر دی جائے گی جو اہل حق سے مختلف ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہیں کیونکہ باطل کے انواع و اقسام بہت ہیں۔
اس سورت کا اختتامیہ رسول اللہ ﷺ سے خطاب پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ کی طرف قصص انبیاء وحی کرنے کا مقصد کیا ہے۔ خصوصا اہل ایمان کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو آخری وارننگ دے دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اب ان کے ساتھ تعلق ختم کردیں اور ان کو چھوڑ دیا جائے کہ وہ اس انجام تک جا پہنچیں جو ان کے لیے منتظر ہے اور پردہ غیب کے پیچھے ہے۔ حضور ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی بندگی ، اللہ پر بھروسہ کریں اور ان لوگوں کو چھوڑ دیں کہ جو چاہیں کریں۔
Ayah 11:120خدا کے رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات بھی اپنی قوم کی طرف سے مشکلات کا مقابلہ کررہی تھی ، بعض لوگ حددرجہ منحرف اور گمراہ تھے۔ پھر دعوت اسلامی کے سلسلے میں آپ پر بےحد ذمہ داریاں عائد ہورہی تھیں ۔ اس لیے اس بات کی ضرورت تھی کہ آپ کو تسلی دی جائے اور رب کی طرف سے آپ کی حوصلہ افزائی کی جائے ، اگرچہ آپ ثابت قدم تھے اور مام مشکلات کو مستقل مزاجی سے برداشت کررہے تھے۔
وَكُلا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءَكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ (11 : 120)
اور اے نبی ، یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں ، یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں ۔ ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی۔ٗٗٗ
توقصص میں ایک تو تثبیت قلب ہے ، دعوت اسلامی کے بارے میں حقائق اور سچائیاں ہیں ، مختلف انبیائ کے نمونے اور ماسوے ہیں ۔ سنن الٰہیہ کے مختلف نمونے ہیں خوشخبریاں ہیں اور ڈراوے ہیں اور وہ نصیحت آموزواقعات ہیں جو ان قصص میں موجود ہیں۔
ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا جو اس وعدونصیحت کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے ۔ ان کے لیے یہ قصص بالکل مفید نہیں ہیں ۔ ان کے لیے ان میں فیصلہ کن بات ہے ۔ ان کو کہہ دیں :
Ayahs 11:121–122وَقُلْ لِلَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ (11 : 121)
رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جاتے ہیں انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں ٗٗ ۔
اور اے پیغمبر تمہارے ایک دوسرے بھائی نے بھی اپنی قوم کو ایسا ہی کہا تھا ، جس کا تذکرہ اسی سورت میں ہوچکا ہے اور پھر اپنی قوم کو ایک طرف چھوڑ دیا تھا ، کہ وہ اپنے انجام کا انتظار کرے۔