Ayah 11:12اللہ کی مخلوقات میں سے جو لوگ سنن الہیہ سے واقف نہیں ہوتے ، اللہ کی حکمت تخلیق سے وہ بےبہرہ ہوتے ہیں۔ وہ کم فہم ، غافل ، مایوس ، متکبر اور جھوٹی باتوں پر فخر کرنے والے ہوتے ہیں جن کو معلوم نہیں ہے کہ رسولوں کے بھیجنے کی حکمت کیا ہوتی ہے اور پھر یہ کہ رسول انسانوں میں سے کیوں بھیجے گئے ہیں اس قسم کے لوگ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ خود رسول فرشتہ کیوں نہیں ہے یا اس کے ساتھ فرشتہ مامور کیوں نہیں ہے ؟ یہ لوگ رسول اور رسالت کے مقام سے اس قدر بیخبر ہوتے ہیں کہ رسول کے لیے مالدار ہونا ضروری خیال کرتے ہیں۔ یہ لوگ جھوٹے عقائد میں گم رہتے ہیں اور یہ لوگ تکذیب کے لیے اس قسم کے بھونڈے جواز تلاش کرتے ہیں۔ لہذا آپ متاثر نہ ہوں۔
۔۔
لعل کا مفہوم یہاں استفہامی ہے۔ اگرچہ خالص استفہامی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نفس انسانی سے شاید متوقع یہی ہے کہ ایسے حالات میں وہ تنگ دل ہوجائے اور اس کام ہی کو چھوڑ دے۔ کیونکہ لوگ جہالت اور عناد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اور اس قسم کی بوگس اور لا یعنی تجاویز پیش کر رہے ہیں ، جن کو رسالت کے مزاج اور اس کی عمل نوعیت اور منصب کے ساتھ کوئی ہم آہنگی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس صورت حالات کے بارے میں ایک متبادل اور ناقابل عمل صورت پیش کرکے سوال کرتا ہے کہ حالات گو برے ہیں لیکن آپ ان میں کیا اپنی دعوت اور ما انزل اللہ کا کچھ چھوڑ سکتے ہیں ، شاید کہ وہ اس جاہلیت اور بغض وعناد کا مظاہر نہ کریں ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ آپ ان باتوں کو تو چھوڑ نہیں سکتے۔
انما انت نذیر (آپ تو خبر دار کرنے والے ہیں) آپ کے فرائض تو یہی ہیں کہ آپ پورا پورا پیغام پہنچا کر لوگوں کو ڈرائیں۔ اور ڈرانا اس لیے ضروری ہے کہ وہ لوگ ایسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں کہ انہیں ڈارنا ضروری ہے لہذا آپ اپنے فرائض سر انجام دیتے چلے جائیں۔
وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ۔ آگے ہر چیز کا حوالہ دار اللہ ہے۔ اللہ ہی ان سب کا ذمہ دار ہے اور وہ اپنی سنت کے مطابق جس طرح چاہے گا ، انہیں پھیر دے گا۔ اور اس کے بعد جو کچھ وہ کمائیں گے اس کی جزاء و سزا دے گا۔ آپ ان کے ذمہ دار یا حوالہ دار نہیں ہیں۔ نہ آپ ان کے کفر کے ذمہ دار ہیں اور ایمان کے۔ آپ تو فقط نذیر ہیں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں اسلامی تحریک کس قدر مشکل حالات سے گزر رہی تھی اور اس دور میں آپ کے دل پر کس قدر بوجھ تھا۔ خصوصاً جبکہ تحریک کے حامی اور مددگار اور خاندانی معاون فوت ہوگئے تھے۔ حضور ﷺ کے دل پر پریشانی کا غلبہ تھا۔ اور مسلمانوں کی قلیل تعداد مشکلات میں گھری ہوئی تھی اور ہر طرف مایوسی کے باد چھائے ہوئے تھے۔
اس آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ کس قدر مشکل حالات تھے اور ان حالات میں حضور اکرم ﷺ کو اللہ کی جانب سے کس قدر تسلی اور اطمینان دلایا جا رہا تھا اور آپ کے اعصاب کو کس قدر سکون اور تازگی عطا ہو رہی تھی۔
Ayahs 11:13–14ایک دوسری بات جسے وہ بار بار دہراتے چلے جاتے تھے ، یہ کہ حضور نبی کریم ﷺ اس کتاب کو اپنی جانب سے پیش کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تم اس جیسی دس سورتیں تو بنا لاؤ اور اس مہم میں پورے جہاں سے مدد بھی لے لو۔
قدماء مفسرین نے کہا ہے یہ چیلنج علی الترتیب تھا۔ پہلے یہ تھا کہ اس قرآن جیسا قرآن لاؤ، پھر دس سورتوں کا چیلنج تھا ، آخر میں ایک سورت کا چیلنج دیا گیا۔ لیکن اس چیلنج کی اس مخصوص ترتیب پر کوئی منقول دلیل نہیں ہے۔ بظاہر دلیل اس کے خلاف ہے کیونکہ سورة یونس اس سورت سے پہلے نازل شدہ ہے اور اس میں ایک سورت کا چیلنج دیا گیا ہے اور زیر نظر سورت اس کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اور اس میں دس سورتوں کا چیلنج ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آیات کا نزول سورتوں کی ترتیب کے مطابق نہیں ہے۔ کیونکہ بعض اوقات کوئی آیت نازل ہوتی تھی لیکن اسے بعض اوقات تو سابقہ سورتوں میں رکھ دیا جاتا تھا اور بعض اوقات ایسی سورت میں جو اس آیت کے بعد نازل ہوئی تھی۔ وقت نزول کی مکمل طور پر نقلی دلیل پر موقوف ہے۔ اسباب نزول میں کوئی ایسی روایت نہیں ہے جو یہ ثابت کرے کہ سورة یونس سورة ہود کے بعد نازل ہوئی ہے اور اپنی جانب سے قیاسی حکم اس موضوع پر مقبول نہیں ہے۔
علامہ رشید رضا مرحوم نے دس سورتوں کے چیلنج کی ایک خاص وجہ بیان کرنے کی سعی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں طویل کوشش کی ہے (دیکھئے تفسیر منار ، ص 32 تا 41، ج 12) فرماتے ہیں کہ یہاں تحدی سے مراد قصص القرآن کا چیلنج ہے۔ تحقیق و تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ جن سورتوں میں طویل قصص نازل ہوئے ہیں ، سورت ہود کے نزول تک ان کی تعداد دس تھی ، چناچہ یہاں دس سورتوں کے لیے چیلنج دیا گیا ، کیونکہ ایک سورت کا چیلنج ان کے لیے دس سورتوں کے چیلنج سے زیادہ مشکل تھا۔ اس لیے کہ دس سورتوں میں بہرحال زیادہ قصے اور زیادہ اسالیب کلام تھے اور جن لوگوں کو یہ چیلنج دیا گیا تھا ، ان کو دس سورتوں جیسی نقل کی ضرورت تھی اگر وہ نقل کرتے۔
لیکن حقیقت تو خدا جانتا ہے ، یہ بات اس قدر مشکل نہیں ہے جس قدر انہوں نے مشکل بنا دی ہے کیونکہ چیلنج کے معاملے میں اعتراض کرنے والوں کے اعتراض اور حالات نزول دونوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے اس لیے کہ قرآن کریم عملی حالات کے پیش نظر نازل ہوتا رہا ہے اور ہر سورت اور آیت کے نزول کے وقت متعین صورت حالات ہوا کرتی تھی۔ اس لیے بعض حالات میں کہا گیا کہ قرآن جیسی کتاب لاؤ، بعض میں کہا گیا ، ایک سورت لاؤ اور بعض میں دس سورتوں کا مطالبہ ہوا۔ ان مطالبات میں ترتیب زمانی کا پایا جانا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ اصل مقصد چیلنج تھا کہ نفس قرآن جیسا کلام لاؤ۔ کل قرآن یا جزء یا ایک سورت وغیرہ۔ لہذا چیلنج قرآن جیسے کلام کے بارے میں تھا ، کسی خاص مقدار کی بات نہ تھی۔ اور مخالفین جو عاجز آئے تو وہ قرآن جیسے کلام سے عاجز آئے۔ یہ نہ تھا کہ وہ کوئی سورت نہ لا سکے ، لہذا اس موضوع پر کل اور جزء کا ذکر برابر ہے اور اس سلسلے میں ترتیب لازم نہیں ہے بلکہ بعض مخصوص حالات کی وجہ سے مقدار کا ذکر ہوا۔ یعنی اعتراض کرنے والوں کے اعتراضات کی نوعیت کے اعتبار سے یہ کہا گیا کہ ایک سورت ، دس سورتیں یا پورا قرآن لاؤ۔ یہ مخصوص حالات کیا تھے ؟ آج ہم ان کا تعین بہرحال نہیں کرسکتے۔
وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (اور اللہ کے سوا جو جو (تمہارے معبود) ہیں ان کو مدد کے لیے بلا سکتے ہو تو بلا لو اگر تم (انہیں معبود سمجھنے میں) سچے ہو۔ اپنے شرکاء و خصماء کو بلاؤ، شعراء اور بلغاء کو بلاؤ، جنوں اور انسانوں سب کو بلاؤ اور اس چیلنج کو قبول کرو ، اور اپنی طرف سے بناوٹی دس سورتیں لاؤ۔ اگر تمہاری یہ دعوی سچا ہے کہ قرآن حضرت نبی کریم کی طرف سے بنایا گیا ہے اور اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔
Ayahs 11:15–16اس دنیا میں جو لوگ بھی جدوجہد کرتے ہیں وہ اس کا ثمرہ پاتے ہیں۔ اب بات اس کے نصب العین پر موقوف ہے۔ بعض لوگوں کی نظر اعلی مقاصد اور بلند افق پر ہوتی ہے۔ اور بعض لوگ صرف اپنے قدموں پر نظر رکھتے ہٰں اور دنیا کے قریب اور محدود مقاصد ان کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کے کروفر کے متلاشی ہوتے ہیں تو وہ صرف اس کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ان کو ان کے عمل کا نتیجہ اس دنیا ہی میں ملتا ہے۔ اور پھر وہ اس سے نفع اٹھاتے ہیں جس طرح ان کی مرضی ہوتی ہے۔ لیکن آخرت میں ان کا حصہ صرف آگ ہوتی ہے کیونکہ ایسے شخص نے آخرت کے لیے کچھ کمائی نہیں کی اور نہ آخرت کو اس نے اہمیت دی۔ اس لیے وہ دنیا میں جو بھی اچھا عمل کرے گا ، اس کی جزاء اسے یہاں ہی مل جائے گی اور آخرت میں وہ عمل باطل ہوگا۔ وہاں اس کے اعمال کا کوئی وزن نہ ہوگا۔ آخرت میں ایسے لوگوں کے اعمال حبط ہوں گے۔ یعنی اس طرح جس طرح کسی مویشی کو زہر آلود گھاس پھلا دیتی ہے جبکہ در حقیقت وہ بیمار ہوتا ہے ، موٹا نہیں ہوتا اور اس کا یہ موٹاپا موجب ہلاکت ہوتا ہے۔
اس دنیا میں ہمیں بہت سے افراد اور اقوام نظر آتے ہیں جو رات دن اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں اور ان کو ان کی جدوجہد کے ثمرات بھی ملتے ہیں۔ ان کی دنیا نہایت ہی ترقی یافتہ اور فلاح یافتہ ہوتی ہے ، اور اس طرح پھولی ہوتی ہے جس طرح بیمار جانور۔ لہذا ہمیں ایسے لوگوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی پوچھنا چاہیے کہ کیوں ؟ کیونکہ زمین میں یہی قانون الہی ہے کہ :
مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ " جو شخص حیات دنیا اور اس کی زینت کا طلبگار ہے اس دنیا میں ہم اس کے اعمال کا ثمر پورا پورا دیں گے اور ان کا کچھ نقصان نہ کیا جائے گا " لیکن اللہ کی اس سنت کو تسلیم کرتے ہوئے اور اس کے نتائج کو یقین مانتے ہوئے ہمیں یہ حقیقت بھولنا نہ چاہئے کہ ایک شخص دنیا کے لیے کام کرتے ہوئے بھی آخرت پر نظر رکھ سکتا ہے اور دنیا کی جدوجہد کے دوران بھی آخرت کے لیے کام کرسکتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ اس کی دنیا بھی اچھی اور مزین ہو اور دنیا میں بھی کوئی کمی نہ ہو اور آخرت میں بھی کوئی کمی نہ ہو اور آخرت میں بھی کامیاب ہو
حقیقت یہ ہے کہ آخرت کے لیے کام کرنا ، دنیا کے لیے کام کرنے کے ساتھ تضاد نہیں رکھتا بلکہ دنیا کا کام بھی آخرت کے لیے کام ہے بشرطیکہ توجہ الی اللہ قائم ہو اور اگر ایک انسان دنیا کی جدوجہد میں اللہ کو یاد رکھے تو اس کی جدوجہد میں کمی نہیں ہوتی بلکہ اس میں مزید برکت ہوتی ہے۔ اس کی کمائی پاکیزہ اور ستری ہوتی ہے اور دنیا کے ساتھ آخرت بھی اسے ملتی ہے۔ الا یہ کہ جو شخص دنیا میں حرام خواہشات کی پیروی کرے ناجائز شہوات نہ صرف یہ کہ آخرت میں مردود ہیں بلکہ دنیا میں بھی وہ پسندیدہ نہیں ہیں۔ اس کا تجربہ مغربی اقوام کو ان کی نفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہوچکا ہے اور انسانی تاریخ کا جن لوگوں نے مطالعہ کیا ہے وہ بھی اچھی طرح ان نتائج تک پہنچ چکے ہیں۔
اب سیاق کلام اس رویے کی طرف مڑجاتا ہے ، جو مشرکین نے رسول اللہ کے ساتھ اختیار کر رکھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حضور کی سچائی منجانب اللہ ہے اور پھر یہ قرآن بھی حضور کی رسالت اور حقانیت پر گواہ ہے۔ اور یہ کہ حضور مرسل من جانب اللہ ہیں اور اس پر حضرت موسیٰ کی کتاب بھی گواہ ہے۔ چناچہ رسول اللہ اور آپ کی دعوت کے بارے میں تمام براہین اور دلائل بیان کیے جاتے ہیں۔ اس طرح حضور کی تالیف قلب مقصود ہے۔ نیز آپ کے ساتھ جو مختصر جماعت اس عظیم مقصد کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کی ڈھارس بندھانا بھی پیش نظر ہے۔ اور مخالفین اور کفار کو ان کے انجام بد سے ڈرانا بھی مطلوب ہے کہ اگر انہوں نے روش نہ بدلی تو انجام آگ ہے۔ ان کو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جس میں وہ شرمندگی ، بےعزتی اور ذلت کا شکار ہیں ، محض اس لیے کہ انہوں نے دنیا میں کبر اور غرور کا رویہ اختیار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ جواب ڈینگیں مار رہے ہیں۔ قیامت میں کس قدر ذلیل و خوار اور عاجز ہوں گے اور اللہ کے عذاب سے بچ نکلنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی ولی اور مددگار ہوگا۔
لاجرم انہم فی الاخرۃ ھم الاخسرون (یہ لازمی بات ہے کہ آخرت میں یہی لوگ سخت خسارے میں ہوں گے) چناچہ اب (اگلی آیات میں) کفار اور مومنین کے درمیان ایک مشاہداتی موزانہ کیا جاتا ہے اور دونوں کے درمیان فرق کو نمایاں کی ا جاتا ہے کہ دونوں کا حال اور مآل کس قدر مختلف ہے۔ ذرا غور سے پڑھیے :
Ayah 11:17یہ (آیات 17 تا 24) ایک طویل تنقیدی جملہ ہے ، اس کے اندر پائے جانے والے اشارات و ہدایات ، متنوع یاد دہانیوں اور تنبیہا اور موثر ضربات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کے اس دور میں مسلمانوں کی قلیل تعداد اور دعوت اسلامی کو کن مشکلات کا سامنا تھا اور یہ کہ اس اشاراتی تقریر کی اس دور میں کیوں ضرور پیش آئی۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم اپنے اندر ایک تحریکی مزاج رکھتا ہے۔ اور وہ ایک واقع حالات میں ان تھک جدوجہد کی ہدایات دیتا ہے اور قیامت تک کے لیے ایسی تحریکات کے لیے ایک گائیڈ بک ہے۔
اس قرآن کا مزہ وہی شخص چکھ سکتا ہے جو عملاً احیائے اسلام کے معرکے میں کود چکا ہوتا ہے اور اسے انہی حالات سے سابقہ پیش ہوتا ہے جن حالات میں یہ قرآن سب سے پہلے نازل ہوا تھا اور پھر یہ شخص حالات کا مقابلہ کرتا ہے اور ان حالات کو اپنے راستے پر موڑتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو آرام سے گھروں میں بیٹھے ہوں اور قرآن کریم کو سمجھنا چاہیں اور اس کا مطالعہ فنی اور محض علمی انداز میں کریں تو اس قسم کے آرام طلب ، سرد مزاج اور زمن پسند لوگ اس کتاب کو نہیں سمجھ سکتے ، جو زندگی کے عملی معرکے سے دور ہوں اور کسی اسلامی تحریک میں کوئی دلچسپی نہ رکھتے ہوں غرض اس قسم کے آرام طلب مسند نشینوں پر قرآن کے اسرار کبھی بھی نہیں کھلتے ، جو لوگ اللہ کے سوا دوسری قوتوں کے غلام ہوں ، امن پسند ہوں اور آرام طلب ہوں اور کسی بھی طاغوتی نظام کے تحت زندگی بسر کرنے پر راضی ہوں۔ ان کے لیے اسرار قرآن اسی طرح ہیں جس طرح کور مادر زاد و نور آفتاب۔
اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ ۔ پھر بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا ، اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے (اس شہادت کی تائید میں) آگیا ، اور پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود تھی (کیا وہ بھی دنیا پرستوں کی طرح اس سے انکار کرسکتا ہے ؟ ) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کو وعدہ ہے وہ دوزخ ہے۔ پس اے پیغمبر تم اس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا ، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے۔
اس آیت کے بارے میں بیشمار روایات وارد ہیں کہ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ کا مطلب کیا ہے اور وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ سے مراد کیا ہے۔ نیز ربہ اور یتلوہ کی ضمیروں کا مرجع کیا ہے ؟ منہ کے ضمیر کا مرجع کون ہے ؟ میرے خیال میں اس عبارت کا سب سے راجح اور موزوں مفہوم یہ ہے کہ جو شخص (یعنی رسول اللہ) اپنے رب کی طرف سے صاف صاف شہادت اور ثبوت رکھتا ہے اور رسول اللہ کے بعد اس سے مراد تمام مسلمان ہوں گے اور اللہ کی طرف سے مزید گواہ جو آیا جو اس کی نبوت کے لیے ایک ناقابل انکار ثبوت ہے۔ وہ قرآن کریم ہے ، جو بذات خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ وحی الہی ہے اور اس قسم کا کلام پیش کرنے سے لوگ عاجز آگئے ہیں اور اس گواہ سے قبل یعنی قرآن سے قبل حضرت موسیٰ کی کتاب بھی موجود ہے جو حضرت محمد ﷺ کی نبوت کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ اس کتاب میں رسول اللہ کے بارے میں واضح خوشخبری موجود ہے اور اس کتاب کی تعلیمات اور اس کی تعلیمات بالکل ایک جیسی ہیں۔
اس آیت کی جو تاویل و تفسیر میں نے بیان کی ہے اس پر اس پوری سورت کا انداز کلام بھی دلالت کرتا ہے۔ اس سورت میں تمام رسولوں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ خود اپنی ذات کے اندر باری تعالیٰ کی طرف سے دلائل پاتے ہیں اور ان کو اس بات پر بھرپور یقین اور مشاہدہ حاصل ہے کہ ان کی طرف اللہ کی جانب سے وحی آتی ہے۔ وہ ذات باری کو اپنی ذات میں نہایت ہی واضح ، نہایت ہی یقینی اور نہایت ہی قریب پاتے ہیں اور ان کو ذات باری اور وحی الہی کے بارے میں مشاہداتی یقین حاصل ہے۔ ذارا ملاحظہ فرمائیں کہ حضرت نوح نے فرمایا : قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي رَحْمَةً مِنْ عِنْدِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَارِهُونَ (28) " اے برادران قوم ، ذرا سوچو تو سہی کہ اگر میں اس رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا اور پھر اس نے مجھ پر اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا مگر تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہماری پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا نہ چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سر چپک دیں "
اور حضرت صالح نے بھی فرمایا : قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ (63) " اے برادران قوم ، تم نے کچھ اس بات پر غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھ کو کون بچائے گا۔ اگر میں اس کی نافرمانی کروں گا ، تم میرے کس کام آسکتے ہو ، سوائے اس کے کہ مجھے اور خسارے میں ڈال دو "
اور حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی ایسی ہی بات کہی : قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا " اے بھائیو ، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا ، اور پھر اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھا رزق بھی عطا کیا "
یہ تمام تعبیرات بتاتی ہیں کہ ان میں رسولوں کا خا کے ساتھ ایک مخصوص تعلق بتایا گیا۔ اور اس کی نوعیت کچھ اس طرح ہے کہ وہ اپنے اندر ایک ایسی بصیرت پاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ حقیت الوہیت کو اپنے اندر واضح شہادت کی طرح پاتے ہیں کیونکہ وحی کے ذریعے ان کے ساتھ رب کا ایسا تعلق ہوتا ہے جس طرح کسی نظر کا مشاہدات کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ انداز تعبیر اور وحدت تعبیر یہ بتاتی ہے کہ ان آیات میں اللہ اور رسول کے ذاتی تعلق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جب کہ ہم نے کہا کہ اس بینۃ سے مراد ہے رسول کی اندرونی شہادت جس کی طرف دوسرے رسولوں کے کلام میں بھی شارہ موجود ہے۔ اور یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ کے مشاہدات وہی ہے جو سابقہ رسل کے تھے۔ لہذا مشرکین مکہ کے تمام دعوے باطل ہیں۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ آپ اور آپ کے مٹھی بھر ماننے والوں کو یہ تسلی ہوجائے کہ وہ سابقہ رسل کی طرح حق پر ہیں اور یہ کہ مسلمانوں نے جس تعلیم کو قبول کیا ہے وہ تمام نبیوں کی تعلیم ہے۔
اب اس آیت کا اصولی مفہوم یہ ہوگا کہ یہ نبی جس کی صداقت پر بیشمار دلائل و براہیں قائم ہوگئے ہیں اس یقین و ایمان اور اس کے نظریات حق ہیں ، کیونکہ ایک طرف وہ خود اپنے نفس میں اس ایمان کو مشاہداتی طور پر دیکھ رہا ہے اور اسے یقین ہے۔ اور اس کے اس یقین کے اوپر خدا کی طرف سے بھی ہر وقت قرآن کی صورت میں شواہد چلے آ رہے ہیں اور جو اس بات پر بین دلیل ہیں کہ یہ قرآن بھی اسی ربانی سرچشمے سے آ رہا ہے اور ایک دوسرا بیرونی گواہ کتاب موسیٰ ہے۔ جو بنی اسرائیل کی قیادت کے لیے امام اور راہنما کتاب تھی اور ایک رحمت تھی جس کا نزول بنی اسرائیل پر ان کے رب کی طرف سے ہوا اور وہ کتاب بھی رسول اللہ کی تصدیق کر رہی ہے۔ کیونکہ آپ کے بارے میں اس کے اندر واضح بشارتیں ہیں اور ان بشارتوں کے علاوہ یہ کتاب اپنے بنیدادی تصورات اور اصولوں کے اندر بھی قرآن سے مطابقت رکھتی ہے۔ تو کیا ایسا شخص اس لائق ہے کہ اس کی تکذیب کی جائے جس طرح تم لوگ کر رہے ہو اور جس طرح مشرکین کے مختلف طبقات اسے لے رہے ہیں۔ یہ گویا نہایت ہی ناپسندیدہ امر ہے اور ایسے ہمہ جہت شواہد و دلائل کے مقابلے میں ایسا طرز عمل نہ اختیار کرنا چاہئے۔
اس کے بعد ان لوگوں کا موقف بھی بیان کردیا جاتا ہے جن لوگوں نے قرآنی تعلیمات پر ایمان لا کر اسے تسلیم کیا اور ان لوگوں کا بھی جنہوں نے اس کا انکار کیا اور پھر ان دونوں کے انجام سے بھی خبردار کردیا گیا۔
اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ " ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کو وعدہ ہے وہ دوزخ ہے۔ پس اے پیغمبر تم اس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا ، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے "
بعض مفسرین کے ذہن میں آیت اولئک یومنون بہ کے مفہوم میں اشکال پیدا ہوا ہے خصوصا اس صورت میں جبکہ أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ سے مراد رسول اللہ کی ذات ہو جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ کیونکہ اس صورت میں اولئک سے مراد مومنین کی وہ جامعت ہوگی جو حضور پر آنے والی وحی پر ایمان لاتی ہو اور اس وحی سے وہی دلائل مراد ہوں گے جو حضور پر نازل ہوتے ہیں لیکن اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے کیونکہ أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ میں ضمیر قرآن کی طرف راجع ہوگی۔ معنی یہ ہوگا کہ لوگ اس گواہ یعنی قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور رسول اللہ تو اول مسلمان ہیں اول مومن ہیں ان باتوں پر جو ان کی طرف نازل ہوتی ہیں اور مومنین حضور کے ایمان کا اتباع کرتے ہیں۔ دوسری جگہ سورت بقرہ میں ہے : امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمومنون۔ کل امن باللہ و ملائکتہ و کتبہ و رسولہ۔ " رسول اس پر ایمان لایا ہے جو اس کی طرف اتارا گیا اور مومنین بھی۔ سب اللہ پر ایمان لائے اور اس کے ملائکہ پر ایمان لائے۔ اس کی کتابوں پر ایمان لائے اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے " یہاں رسول اللہ اور ان لوگوں کے ایمان کو یکجا کر کے بیان کیا گیا اور قرآنی تعبیرا میں یہ انداز کلام بالکل مالوف ہے لہذا اس آیت کے مفہوم میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الأحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ " اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کا وعدہ ہے وہ دوزخ ہے " اور یہ ایسا وعدہ ہے جس کی کوئی خلاف ورزی نہ ہوگی کیونکہ اس کی تقدیر اور تدبیر اللہ نے فرمائی ہے۔
فَلا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يُؤْمِنُونَ " پس اے پیغمبر تم اس چیز کی طرف سے شک میں نہ پڑنا ، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے " یہ تو حقیقت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف جو وحی آرہی تھی اس میں حضور نے شک نہیں فرمایا ، نہ اس میں کبھی ان کو شبہ لاحق ہوا ہے۔ وہ تو اپنے رب کی طرف سے ایک خاص شہادت رکھتے تھے ، لیکن ان دلائل وبراہین کے بعد حضور کو یہ ہدایت اس لیے دی کہ حضور اپنے دل میں تنگی محسوس کرتے تھے اور تبلیغ کرتے کرتے تھک جاتے تھے۔ اور معاندین کی کثرت اور شدید مخالفتوں کی وجہ سے آپ ڈرتے تھے کہ دعوت پر جمود کی حالت طاری نہ ہوجائے اس لیے آپ کو یہ ہدایات محض تسلی کے لیے دی گئیں تاکہ آپ نہایت ہی ثابت قدمی سے اپنے کام کو جاری رکھیں۔ نیز امت مسلمہ بھی ان دونوں نہایت ہی قلق ، کرب اور تنگ دلی میں مبتلا تھی اور اسی طرح ان کے دلوں پر بھی باد یقین کے جھونکے آگئے۔
ہمارے دور میں اسلامی تحریکات کو ہر جگہ اسی قسم کے حالات درپیش ہیں۔ ہر جگہ ان کو ایسے ہی مشکل حالات سے سابقہ درپیش ہے اور وہ پریشانی اور تنگ دلی کی کیفیات سے دوچار ہیں۔ ان کے خلاف ہر طرف سے استہزاء اور مذاق ہوتا ہے اور لوگ ان کی دعوت سے منہ موڑتے ہیں ، ان کو سخت سے سخت ایذائیں دی جا رہی ہیں اور ان کے خلاف تمام فکری اور نفسیاتی اور مادی وسائل اختیار کیے جا رہے ہیں ، ہر طرف سے جاہلیت کی قوتیں ان کے خلاف ٹوٹ پڑی ہیں۔ مقامی غیر اسلامی قوتیں اور عالمی قوتیں ان کے خلاف رات دن سازشوں میں مصروف عمل ہیں اور ان کے خلاف ہمہ گیر جنگ شروع ہے اور اسلامی تحریکات کے خلاف جو لوگ کام کرتے ہیں ان کی ہر طرف سے حوصلہ افزائی ہو رہی ہے ایسے حالات میں اسلامی تحریکات کو ایسی ربانی تسلیوں کی بےحد ضرورت ہے۔
تمام اسلامی تحریکات کا فرض ہے کہ وہ ان آیات پر اچھی طرح غور کریں۔ ان کے ہر ہر فقرے کو سمجھیں ، ان کے اندر پائی جانے والی ہدایات سے اشارات اخذ کریں اور ان کے خطوط پر آگے گامزن رہیں۔
اللہ تعالیٰ ان آیات میں جس تاکید ، یقین دہانی اور جس سچائی کو بیان کر رہا ہے۔ وہ تحریک اسلامی کی پہلی ضرورت ہے۔ ذرا پھر غور کریں :۔ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ " پس اے پیغمبر ، تم سا چیز کی طرف سے شک میں نہ پڑنا ، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے "۔ اسلامی تحریک کے ہر کارکن پر آج ایسے سایہ عاطفت کی ضرورت ہے جو تمام رسولوں پر ہر وقت سایہ فگن رہتا تھا اور جو خداوند قدوس کی طرف سے ایک گواہ کا مقام رکھتا تھا۔ یہ خداوند کریم کی طرف سے ایک سایہ رحمت ہوا کرتا تھا۔ وہ اس سایہ میں اپنی منزل کی طرف بڑھتے تھے اور اس راہ میں وہ اپنی کامیابی اور اس راہ کی سچائی میں انہیں کوئی شک نہ ہوتا تھا۔ اور اس راہ میں ان کو جو جو مشکلات پیش آتیں وہ ان کو برداشت کرتے ، جیسا کہ حضرت صالح نے فرمایا :
یقوم ارئیتم ان کنت علی بینۃ من ربی واتانی منہ رحمۃ فمن ینصرنی من اللہ ان عصیتہ فما تزیدونن غیر تخسیر " اے برادران قوم ، تم نے کچھ اس بات پر غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھ کو کون بچائے گا۔ اگر میں اس کی نافرمانی کروں گا ، تم میرے کس کام آسکتے ہو ، سوائے اس کے کہ مجھے اور خسارے میں ڈال دو ۔
اس وقت عالم اسلام میں احیائے اسلام کے لیے کام کرنے والی تحریکوں کے مقاصد وہی ہیں جن کے لیے پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا یعنی احیائے اسلام اور جن جاہلیتوں اور مشکلات کا واسطہ ان پیغمبروں کو پڑا تھا ، آج وہی جاہلیتیں ان تحریکی دستوں کو در پیش ہیں۔ جس طرح رسول اللہ نے پوری انسانیت کے سامنے مکمل دین پیش کیا تھا ، آج وہی دین انسانیت کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ گویا وہی زمانہ لوٹ کر آگیا ہے۔ آج اسلامی تحریکات کا مقابلہ اسی جاہلیت سے ہے جس سے حضرت ابراہیم کو واسطہ پڑا تھا ، جس سے اسماعیل ، اسھاق ، یعقوب ، اسباط ، یوسف ، موسیٰ ، ہارون ، داود ، سلیمان ، یحییٰ اور عیسیٰ اور تمام دوسرے نبیوں کو پڑا تھا۔
بعض جاہلیتیں تو وجود باری ہی کی منکر ہوتی ہیں اور بوض وجود باری کو تسلیم کرتی ہیں۔ لیکن وجود باری کو مانتے ہوئے بھی انہوں نے اس کرہ ارض پر ایسے لوگوں کو رب اور حاکم بنا رکھا ہوتا ہے جو لوگوں پر ان قوانین کو نافذ کرتے ہیں جو اللہ نے نازل نہیں کیے۔ اس طرح لوگ ان ارباب کے دین پر ہوتے ہیں۔ آج پورے عالم اسلام میں اسلامی تحریکات کی دعوت یہ ہے کہ لوگ اپنی زندگی کے تمام حالات میں ، اپنے پورے معاشرے سے اپنی اقدار اور قوانین میں سے ان ارباب من دون اللہ کی حکومت اور اقتدار کو ختم کردیں اور اللہ وحدہ کی ربوبیت میں داخل ہوجائیں اور اس طرح مکمل طور پر داخل ہوجائیں کہ ان کی زندگی میں اللہ کی ربوبیت کے ساتھ کوئی دوسرا رب نہ ہو۔ وہ صرف اللہ کی شریعت کی تابع داری کریں۔ صرف اللہ کے اوامرو نواہی کی پابندی کریں۔ اس نظریاتی جدوجہد کے نتیجے میں اس وقت اسلام اور جاہلیت کے درمیان ایک ہمہ گیر کشمکش برپا ہے اور اس معرکے میں اسلامی تحریکات کے مقابلے میں دنیا کے تمام طاغوت ایک صف میں کھڑے ہیں۔
لہذا اسلامی تحریکات کے ان ہر اول دستوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے تمام نظریات اور تمام موقف اور تمام پالیسیاں قرآن سے اخذ کریں۔ اور یہی ہے مطلب اس بات کا جو ہم بار بار کہتے ہیں کہ اس قرآن کا مزہ وہی شخص چکھ سکتا ہے جو اس قسم کے معرکے میں کود پڑے۔ جس میں حضور اکرم کے ساتھی کودے تھے اور وہ ویسا ہی موقف اختیار کرے اور ویسے ہی حالات سے دوچار ہو جس سے وہ لوگ دو چار تھے اور حالات کے دھارے کو اسی طرح بدلنا شروع کردے جس طرح ان حضرات نے بدلا تھا۔ وہ لوگ جو حجروں میں بیٹھ کر قرآن کے معانی تلاش کرتے ہیں اور احیائے اسلام کے لیے عملاً جدوجہد نہیں کرتے اور قرآن کی محض فنی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور محض بیان کی حد تک اس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ وہ قرآن کی حقیقت تک رسائی نہیں پا سکتے۔ ایسے لوگوں کا فہم قرآن محض جامد اور عملی زندگی سے بہت دور ہوتا ہے۔
Ayahs 11:18–19اب سیاق کلام ان لوگوں کی طرف رخ کرتا ہے جن لوگوں کا زعم یہ ہے کہ حضور نعوذ باللہ اپنی جانب سے اس قرآن کو پیش کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ اور رسول اللہ دونوں کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ لوگ اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں موجود ہیں اور ایسے افتراء پردازوں کا مقدمہ اللہ کے ہاں پیش ہے۔ چاہے ان لوگوں کی تکذیب یہ ہو کہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے منزل ہے یا نہیں یا یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ اور لوگوں کو شریک کرتے ہوں ، یا یہ لوگ اللہ کے ساتھ دوسرے انسانی خداؤں کو اللہ کے اقتدار اعلیٰ میں شریک ٹھہراتے ہوں۔ آیات عام ہیں تاکہ سب قسم کے افتراء پرداز اس کے مدلول میں شامل ہوجائیں۔ غرض ان لوگوں کو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے ، ان کی تشہیر ہو رہی ہے ، انہیں شرمندہ کیا جا رہا ہے ، سر عام۔ اسی منظر میں دوسری جانب مومنین ہیں جو مطمئن کھڑے ہیں اور ان کے لیے ان کے رب کی طرف سے انعامات منتظر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں قسم کے لوگوں کا تقابل اس طرح پیش فرماتا ہے۔ ایک طرف اندھے اور بہرے ہیں اور دوسری جانب سننے اور دیکھنے والے ہیں : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أُولَئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الأشْهَادُ هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ (18) الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُمْ بِالآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ (19) أُولَئِكَ لَمْ يَكُونُوا مُعْجِزِينَ فِي الأرْضِ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ (20) أُولَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (21) لا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الآخِرَةِ هُمُ الأخْسَرُونَ (22)إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُوا إِلَى رَبِّهِمْ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (23) مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأعْمَى وَالأصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلا أَفَلا تَذَكَّرُونَ (24) " اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے ؟ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔ سنو ! خدا کی لعنت ہے ظالموں پر . ان ظالموں پر جو خدا کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں ، اس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں ، اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ وہ زمین میں اللہ کو بےبس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلہ میں کوئی ان کا حامی تھا۔ انہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا۔ وہ نہ کسی کی سن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سوجھتا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ ان سے کھویا گیا جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔ ناگزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے رب ہی کے ہو کر رہے ، تو یقیناً وہ جنتی لوگ ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو ہو اندھا بہرا اور دوسرا ہو دیکھنے اور سننے والا ، کیا یہ دونوں یکساں ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم (اس مثال سے) کوئی سبق نہیں لیتے ؟ "
جھوٹا باندھنا تو بذات خود ایک بڑا جرم ہے ، اور جس پر افترا باندھا جائے یہ اس پر ایک عظیم ظلم ہے۔ لیکن اگر یہ افترا ذات باری پر باندھا جائے تو یہ ایک عظیم جرم ہے ، اور نہایت ہی خطناک جسارت ہے۔ اس لیے کہ أُولَئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الأشْهَادُ هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ ۔ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔
کس پر جھوٹ ؟ اپنے رب پر جھوٹ ، کسی اور پر نہیں۔ اس منظر میں ان جیسے لوگوں کو اچھی طرح شرمندہ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس شرمناک جرم کی سزا کے طور پر ان پر لعنت اور ملامت وارد ہوتی ہے۔
اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ " سنو خدا کی لعنت ہے ظالموں پر " اور گواہ بھی یہ شہادت دے دیں گے۔ یہ گواہ کون لوگ ہوں گے ، ملائکہ ، رسول ، اور اہل ایمان یہ تمام مخلوق خدا سب کی سب گواہ بن جائے گی۔ یہ نہایت ہی بڑی شرمندگی اور سر عام ملامت ہوگی ، مجمع عام ہوگا اور اس کے سامنے ان کو اس شرمندگی سے دوچار ہونا ہوگا۔
اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ " سنو خدا کی لعنت ہے ظالموں پر "۔ ظالموں سے مشرکین مراد ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ پر افتراء باندھتے ہیں تاکہ عوام الناس کو اللہ کی راہ سے روکیں اور یبغونھا عوجا " ان کے راستے کو کجی کرنا چاہتے ہیں " وہ نہ درستگی چاہتے ہیں اور نہ راہ راست کو پسند کرتے ہیں۔ وہ ہر معاملے میں ٹیڑھ ، پہلو تہی اور انحراف کے عاشق ہیں ، چاہے وہ راستے پر جا رہے ہوں ، چاہے وہ زندگی گزارنے کی کوئی حالت ہو یا کوئی اور معاملہ درپیش ہو۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ " اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں " ھُم کے لفظ کو دو بار اس لیے لایا گیا ہے کہ اس سے حصر اور تاکید مقصود ہے اور یہ بتانا مطلوب ہے کہ یہ انکار ان کے رگ و پے میں بسا ہوا ہے اور وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ یہ ان کی علامت ہو۔ وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں وہی ظالم کہلاتے ہیں وہ جب اسلام کے صراط مستقیم اور سواء السبیل سے پھرتے ہیں تو ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے پورے نظام کو ٹیڑھا کردیتا ہے اور انسان کی سوچ کے دھارے پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔
اللہ تو چاہتا ہے کہ انسان راہ مستقیم پر گامزن ہوکر شرف کے مقام تک پہنچ جائے ، جبکہ غیر اللہ کی غلامی نفس انسانی کے اندر ذلت پیدا کردیت ہے اور اس کے نتیجے میں سوسائٹی کے اندر ظلم اور تجاوز پرورش پاتا ہے حالانکہ اللہ کا منشا یہ ہے کہ ہر سوسائٹی میں عدل و انصاف قائم ہو۔ اور لوگوں کی جدوجہد کا رخ اس فضول مقصد کے حصول کی طرف مڑجاتا ہے کہ وہ اہل زمین کو اپنا رب اور الہ بنانا چاہتے ہیں اور انسانوں کے ارد گرد ناچتے اور ڈھول پیٹتے ہیں اور ان کو اس قدر بڑھاتے چڑھاتے ہیں کہ یہ انسان حقیقی رب کی جگہ لے لیں حالانکہ یہ بونے اور حقیر لوگ جو خود مخلوق ہیں ، خالق حقیقی کے خلا کو کس طرح بھر سکتے ہیں۔ ان ارضی ارباب کے یہ حقیر اور بونے بندے رات دن کوشش کرتے ہیں کہ ان جھوٹے خداؤں کی خدائی قائم ہو ، یہ لوگ ان تھک جد و جہد کرتے ہیں۔ وہ ہر وقت ان ارضی بتوں کو روشن رکھتے ہیں اور ان کی شخصیات کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے ارد گرد اور ان کے تکیوں اور آستانوں پر میلے اور ڈھول دھمکاتے برپا رکھتے ہیں اور گانے بجانے اور دوسری دلچسپیوں کے ذریعے ان کی تعریف اور تسبیح بھی کرتے رہتے ہیں لیکن ان تمام دلچسپیوں اور ان تمام انتھک مساعی کے نتیجے میں انسان کے لیے کوئی بھی مفید نتیجہ نہیں نکلتا۔ اس سے زیادہ انسانیت کی بدبختی اور کیا ہوگی کہ انسان کی پوری زندگی کی جدوجہد یوں اکارت جائے۔
Ayah 11:20(اولئک) یہ لوگ جو خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اور جو اللہ کے نزدیک قابل ملامت اور لعنت ہیں۔
اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ " ان کی یہ تمام تدبیریں اللہ کو عاجز کرنے والی نہیں ہیں۔ لہذا اللہ جس وقت بھی چاہے ان پر اپنا عذاب نازل کرسکتا ہے اور خود اس دنیا میں بھی "
وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ " نہ اللہ کے مقابلے میں ان کا کوئی حامی تھا " جو ان کو اللہ سے بچا سکتا یا اللہ کے مقابلے میں ان کی نصرت کرسکتا۔ لیکن اللہ نے ان لوگوں کو اخروی عذاب کے لیے یہاں مہلت دے دی ہے تاکہ وہاں ان کو دنیا اور آخرت دونوں کا عذاب دیا جائے۔
يُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ " انہیں اب دہرا عذاب دیا جائے گا " اس لیے کہ انہوں نے دنیا میں اپنی ان صلاحیتوں سے کام نہ لیا جن کے ذریعے وہ حقیقت کا ادراک کرسکتے تھے۔ انہوں نے زبردستی اپنی آنکھوں کو بند رکھا۔ وہ اس طرح تھے جیسے وہ نہ سن سکتے ہوں اور نہ دیکھ سکتے ہوں۔
مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ " وہ نہ کسی کی سن سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سوجھتا تھا "
Ayah 11:21اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ " یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا " یہ بہت ہی عظیم اور تباہ کن خسارہ ہے ، اس لیے کہ اس کاروبار میں جو شخص خسارہ اٹھائے کوئی دوسرا شخص اس کی امداد نہیں کرسکتا۔ اس قسم کے لوگوں نے خسارہ اٹھا کر اپنی دنیا میں بھی ضائع کردی ، یہاں انہوں نے اپنے انسانی شرف کو بھی گنوایا۔ کیونکہ انسان کو یہاں شرف صرف اسلامی نظام زندگی کے ذریعے مل سکتا ہے اور انہوں نے آخرت بھی گنوا دی کیونکہ انہوں نے آخرت کا انکار کیا جس کی وجہ سے اخروی عذاب ان کے انتظار میں ہے۔
وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ " اور وہ سب کچھ ان سے کھو گیا جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا " دنیا میں انہوں نے جھوٹے خدا بنا رکھے تھے وہ سب غائب۔ اب کوئی بھی کہیں نظر نہیں آتا ہے۔ سب ناپید اور گم ہوگئے۔
Ayah 11:22لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ " ناگزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں گے " اس قدر خسارے میں کہ دنیا و آخرت میں اس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کردیا۔
Ayah 11:23اس کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں اور وہ لوگ جو ایمان کے بعد عمل صالح بھی رکھتے ہیں ، وہ اپنے رب کی جانب سے بےحد مطمئن ہوں گے ، انہیں پورا وثوق ہوگا کہ ان کے اعمال صالح کا پورا پورا اجر ملے گا۔ نہایت ہی پرسکون ، ہر قسم کی پریشانیوں اور شکو وں سے دور۔
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا۔ اخبات کے معنی ہیں اطمینان ، استقرار وثوق اور تسلیم و رضا۔ یہ لفظ ایک حقیقی مومن اور اس کے رب کے درمیان پائے جانے والے تعلق کی بہت ہی اچھی تصویر کشی کرتا ہے۔ مومن مکمل طور پر اللہ کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ اس کی طرف سے اس پر جو حالت بھی آتی ہے اس پر مطمئن ہوتا ہے اس کے نفس میں ایک ٹھہراؤ ہوتا ہے ، اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور اسے امن ، قرار اور رضا کی کیفیت مل جاتی ہے۔
اب دونوں پر تبصرہ دیکھیے (اگلی آیت میں)
Ayah 11:24یہ ایک حسی تصویر کشی ہے جس کے اندر دونوں فریقوں کو مجسم طور پر پیش کردیا گیا ہے۔ پہلا فریق ایک نابینا کی طرح جو کچھ دیکھ ہی نہیں سکتا ، بہرے کی طرح ہے جو کچھ سن نہیں سکتا۔ جس کے قوائے مدرکہ معطل ہیں اور وہ علی امفاہیم کے ادراک سے عاجز ہے۔ چونکہ اس کے اعضائے مدرکہ کام نہیں کرتے اس لیے وہ گویا ان اعضا ہی سے محروم ہے جبکہ دوسرا فریق ان سے کام لیتا ہے اور سمیع وبصیر ہے اور ان قوتوں سے اس کی عقل استفادہ کرتی ہے۔
اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ۔ آخری میں سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ دونوں قسم کے لوگ برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا کیونکہ جواب کی ضرورت ہی کیا ہے ؟
بلکہ دوسرا سوال کردیا جاتا ہے کہ کیا تم لوگ اس مثال سے سبق نہیں لیتے اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ۔ اس لیے کہ بات اس قدر واضح ہے کہ اس پر کسی گہرے غور و فکر کی تو ضرورت ہی نہیں ہے۔
Ayah 11:25درس نمبر 100 ایک نظر میں
قصص انبیاء اس سورت کا مرکزی موضوع ہے۔ لیکن ، اصل مقصود بذات خود قصہ نہیں ہے بلکہ اصل مقصود وہ حقیقت ہے جسے ان قصص کے ذریعے ثابت کیا جا رہا ہے اور سورت کے آغاز میں مجملاً اس کا تذکرہ کردیا گیا ہے : الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ (1) أَلا تَعْبُدُوا إِلا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ (2) وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ (3)إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (4): " ال ر۔ فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے۔ کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ میں اس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں ، اور بشارت دینے والا بھی۔ اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ "
سورت کے آغاز میں ان حقائق کے بارے میں متعدد اور مکرر بار تبصرہ ہوچکا ہے۔ زمین اور آسمان کے نظام ، انسانی نفس کی تخلیق اور حشر کے میدان کے مکالموں کے ذریعے ان حقائق کو ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب یہاں کرہ ارض کے اطراف و اکناف میں بسنے والے انسانوں اور ان کی تاریخ کے حوالے سے ان حقائق کو پیش کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام اور جاہلیت کی یہ کشمکش ایک تاریخی کشمکش ہے۔ اور ابتدائے آفرینش سے یونہی چلی آرہی ہے۔
یہ قصص اس سورت میں قدرے تفصیل سے آئے ہیں ، خصوصاً حضرت نوح کا قصہ طوفان۔ اس میں وہی نظریاتی کشمکش ہے جس کا سورت کے آغاز میں ذکر ہوا۔ اور وہی حقائق اس میں موضوع جدال ہیں جن کو لے کر ہر دور میں ہر رسول آیا ہے۔ گویا موجود مکذبین بھی وہی ہیں جو حضرت نوح سے ادھر تکذیب کرتے آئے ہیں۔ ان کا مزاج ایک ہے ، ان کی سوچ ایک جیسی ہے اور پوری تاریخ انسانی میں جس طرح رسولوں کی دعوت ایک ہے ، مکذبین کا جواب بھی ایک ہے۔ اس سورت کے قصے تاریخی ترتیب کے مطابق ہیں۔ آغاز حضرت نوح سے ہوتا ہے ، پھر حضرت ہود ، پھر حضرت صالح ، کچھ اشارہ حضرت ابراہیم کی طرف اور پھر بحث حضرت لوط کی طرف چلی جاتی ہے ، پھر حضرت شعیب اور پھر حضرت موسیٰ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بات آگے بڑھ جاتی ہے اور تاریخی ترتیب کو اس لیے یہاں بحال رکھا ہے کہ مقصد پچھلوں کو اگلوں کے انجام بد سے ڈرانا ہے اور یہ بتانا ہے کہ پوری انسانی تاریخ کا طرز عمل ایک جیسا ہے۔
قصہ نوح تاریخی اعتبار سے بھی مقدم ہے ، سورت میں بھی مقدم ہے تو لیجییے قصہ نوح علیہ السلام۔
۔۔۔
درس نمبر 100 تشریح آیات 25 تا 49
۔۔۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖٓ ۡ اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۔ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ ۭ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ : (اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔ (اس نے کہا) " میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں۔ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا۔
یہ وہی الفاظ ہیں جو آغاز سورت میں حضرت محمد ﷺ کی بعثت اور آپ کے پیغام کے بارے میں کہے گئے ہیں کہ یہ کتاب ہے جس کی آیات پختہ ہیں اور مفصل ہیں اور ایک حکیم اور خبردار ذات کی طرف سے ہیں اور میں اس کی طرف سے نذیر اور بشیر ہوں۔ دعوت کے مفہوم اور مقصد کو ایک ہی جیسے الفاظ میں ادا کرنے سے یہ ثابت کرنا مطلوب ہے کہ تمام انبیاء کا مشن اور ان کی دعوت ایک ہی رہی ہے۔ ان کے نظریات ایک ہی رہے ہیں ، اسی وجہ سے انداز تعبیر بھی ایک ہی جیسا اختیار کیا گیا ہے ، یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ یہاں حضرت نوح کے اپنے الفاظ کو نقل نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان کے مفہوم کو عربی میں ادا کیا گیا ہے اور یہی راجح مذہب ہے کیونکہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ حضرت نوح کی زبان کیا تھی ؟
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖٓ ۡ اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ: " (اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔ (اس نے کہا) " میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں "۔
یہاں متن قرآن میں لفظ " اس نے کہا " نہیں لایا گیا۔ ایک تو اس لیے کہ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ گویا حضرت نوح ہمارے سامنے کھڑے ہیں اور ایک زندہ اور چلتا پھرتا منظر ہمارے سامنے ہے اور آپ تقریر فرما رہے ہیں اور ہم سن رہے ہیں۔ اس لیے ماضی کا بیانی اور حکایتی انداز اختیار نہیں کیا گیا۔ دوسرے یہ کہ یہاں فریضہ رسالت کو نہایت ہی مختصر الفاظ میں اور مخصتر مفہوم میں بتا دیا گیا ہے کہ " میں تم کو صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں " یہ انداز سامعین کے وجدان میں مقاصد رسالت کو اچھی طرح ذہن نشین کردیتا ہے "
Ayah 11:26اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ " کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو "۔ یہ اہداف رسالت کا تعین ہے کہ پیغمبر تمہارے سامنے صرف یہ ابتدائی حقیقت پیش کرتا ہے اور اگر اسے تسلیم نہ کیا گیا تو عذاب الہی آنے کا اندیشہ ہے۔
اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ " ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا "۔ رسالت اور ڈراوے کی یہ اساسی حقیقتیں ہیں کہ میں تمہیں اس ہلاکت سے ڈراتا ہوں ، اور بس اور ان ہی مختصر کلمات میں رسالت کے تمام اہداف کو مختصراً قلم بند کردیا جتا ہے۔
يَوْمٍ اَلِيْمٍ ۔ دن دردناک نہیں ہے۔ الیم سے مراد مولم ہے۔ الیم بمعنی مالوم ہے۔ در اصل اس دن لوگ مالوم ہوں گے۔ لیکن زیادہ مبالغے کے لیے یہ انداز تعبیر اختیار کیا گیا ہے کہ اس دن وقت بھی درد کو محسوس کرے گا۔ دن بھی اس روز کے شدائد کو محسوس کرے گا۔ اس سے لوگوں کے حالات کا انداز کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر دردناک ہوں گے۔