10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

ا ل ر ، یہ اس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت و دانش سے لبریز ہے۔

درس نمبر 95 ایک نظر میں جس طرح ہم نے اس سورة کے دیباچے میں کہا ہے یہ پوری سورة ایک ٹکڑا ہے۔ اس کو مختلف اسباق میں تقسیم کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح پارہ ہفتم میں سورة انعام اور جس کے بارے میں یہی رائے ہم نے دی کہ ہر سورة کا اپنا مزاج اور اپنی شخصیت اور اپنی خصوصیات ہوتی ہیں۔ اسی طرح اس سورت کا بھی معاملہ ہے۔ اس سبق میں ان متعدد امور کا ذکر کیا گیا ہے جو حکیمانہ امور ہیں اور کتاب کی صفت حکمت کی تشریح کے طور پر ان امور کا ذکر کیا ہے۔ مثلا رسول اللہ کی طرف نزول وحی اور یہ کہ وحی ایک انسان پر کیوں اتاری ہے ؟ پھر یہ بتایا گیا ہے کہ تخلیق کائنات اور زمین و آسمان کے فزیکلل نظام میں کس قدر گہری حکمت ہے کہ اس میں سورج کو تیز روشنی اور چاند کو نورانیت عطا کی گئی اور پھر چاند کے لیے منازل طے کی گئیں تاکہ لوگ ماہ و سال کا حساب رکھ سکیں۔ پھر رات اور دن کا اختلاف اور اس کی حکمتیں ۔ درس نمبر 95 تشریح آیات 1 تا 25: الۗرٰ سورة البقرہ کے شروع میں (حروف مقطعات کی) بحث گزر چکی ہے (یہ بھی دوسرے حروف مقطعات کی طرح ہے) ۔ تلک یہ۔ سورت یا قرآن کی آیات کی طرف اس لفظ سے اشارہ ہے۔ بعض نے کہا : ان آیات کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر اس سورت اس پہلے کردیا گیا۔ اٰیٰت الکتب الحکیم۔ پر حکمت قرآن کی آیات ہیں۔ الحکیم ‘ الکتاب کی صفت ہے : پر حکمت ‘ یا حکیم کا کلام ‘ یا محکم غیر منسوخ۔ مؤخر الذکر مطلب اس وقت ہوگا جب آیات سے مراد صرف اس سورت کی آیات ہیں (اس سورت میں کوئی آیت منسوخ نہیں لیکن پورا قرآن مراد ہو تو حکیم بمعنی غیر منسوخ ...... نہیں کہا جاسکتا (قرآن میں تو بعض آیات کے احکام منسوخ بھی ہیں) یا حکیم بمعنی محکم سے یہ مراد ہے کہ اس میں کوئی آیت غلط نہیں اور کلام میں کہیں اختلاف نہیں۔ حسن نے کہا : آیات کتاب میں حکم دیا گیا ہے : انصاف اور بھلائی کرنے کا ‘ قرابتداروں کو دینے کا ‘ بےحیائی ‘ برے کام اور ظلم و زیادتی سے باز رہنے کا ‘ فرمانبرداروں کیلئے جنت اور نافرمانوں کیلئے دوزخ کا۔ ابن جریر نے بطریق ضحاک ‘ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے جب محمد (ﷺ) کو نبی بنا کر بھیجا تو عرب نے اس کو ماننے سے انکار کردیا اور کہا : اللہ کسی انسان کو پیغمبر بنا کر بھیجے ‘ اس کی شان اس سے بہت بڑی ہے (وہ انسانوں کا محتاج نہیں) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی : 1 :۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ (جسے حروف مقطعات ) سے مراد ہیں سورتوں کو کھولنے والے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے یہ بھی ہیں ۔ 2 :۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں وابن النجار (رح) نے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) ” الٓر “ سے مراد ہے کہ میں اللہ ہوں اور میں دیکھتا ہوں (ساری مخلوق کو ) ۔ 3 :۔ ابن منذر (رح) رحمۃ اللہ علیہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ سے مراد ہے کہ میں اللہ دیکھ رہا ہوں ۔ 4 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ سے مراد ہے کہ میں اللہ دیکھ رہا ہوں ۔ 5 :۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ اور حمٓ اور نٓ “ یہ سب اسم مقطع ہیں (یعنی یہ آیت ایک اسم ہے جو الگ الگ حروس میں لھ گیا اور وہ اسم الرحمن ہے۔ 6 :ـ۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الرحیم “ اور نٓ میں لفظ رحمن کے حروف ہیں جدا جدا کئے ہوئے ۔ 7 :۔ ابوالشیخ (رح) نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ اس میں الف اور لام اور راء یہ لفظ رحمن میں سے ہیں ۔ واما قولہ : تلک ایت الکتب الحکیم (1) 8 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” تلک “ سے مراد وہ ہے ھذ۔ 9 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) تلک ایت الکتب “ سے مراد ہے وہ کتابیں جو قرآن مجید سے پہلے گزر گئیں ۔
Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

'' کیا لوگوں کے یہ ایک عجیب بات ہوگئی کہ ہم نے خود انہی میں سے ایک آدمی پر وحی بھیجی کہ (غفلت میں پڑے ہوئے) لوگوں کو چونکا دے اور جو مان لیں ان کو خوشخبری دے دے کہ ان کے لئے ان کے رب کی موجودگی میں سچے قدم ہیں۔ منکرین نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے ''۔

اکان للناس عجبًا ان اوحینآ کیا لوگوں کیلئے عجیب ہے یہ بات کہ ہم نے وحی بھیجی۔ یہ استفہام تعجبی انکاری ہے (یعنی تعجب ہے کہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ اللہ نے انسان کے پاس وحی بھیجی ‘ ان کو اس بات پر تعجب نہ کرنا چاہئے) لِلنَّاسِمیں لازم بتا رہا ہے کہ انسان کا پیغمبر ہونا ان کی نظر میں ایک اعجوبہ تھا ‘ قابل انکار و استہزاء۔ کسی نادر واقعہ کو دیکھ کر اور معمول و عادت کے خلاف کوئی بات مشاہدہ کرنے سے جو حالت پیدا ہوتی ہے ‘ اس کو عجب کہتے ہیں۔ لوگوں کے تعجب کو آیت میں جو تعجب آفریں قرار دیا گیا ہے اور ان کے تعجب کو واجب الانکار بتایا ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا پیغمبر بنایا جانا کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ تخلیق آدم (علیہ السلام) کے وقت سے ہی اللہ کا معمول رہا ہے کہ ہمیشہ انسانوں کو ہی پیغمبر بنایا گیا ہے ‘ اسی لئے اللہ نے فرمایا ہے : وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ الاَّ رِجَالاً ہم نے آپ سے پہلے بھی ہمیشہ مردوں کو پیغمبر بنایا۔ بادشاہوں کا یہی قاعدہ ہے کہ تحریر و تقریر کی زبان وہی اختیار کرتے ہیں جس کو مخاطب جانتا ہو اور قاصد بھی اسی کو بنا کر بھیجا جاتا ہے جو ان لوگوں کی جنس سے ہو جن کے پاس بھیجا گیا ہو۔ فائدہ اندوزی اور فائدہ رسانی بغیر مناسبت کے ممکن نہیں۔ اللہ نے اسی لئے فرمایا ہے : قُلْ لَّوْ کَانَ فِی الْاَرْضِ مَلَآءِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَءِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوْلاً اگر زمین پر ملائکہ چلتے پھرتے اور رہتے ہوتے تو ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے۔ الی رجل منھم ان میں سے ایک شخص کے پاس۔ یعنی ایک معمولی آدمی کے پاس جو (دنیوی دولت و حکومت کے اعتبار سے) بڑے آدمیوں میں سے نہیں ہے۔ کافروں نے کہا تھا کہ اگر انسان کو ہی رسول بنانا تھا تو محمد (ﷺ) کے علاوہ دوسرے بڑے لوگ اس کے مستحق تھے کہ ان کو رسول بنایا جاتا۔ اللہ نے (اسی قول کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے اور) فرمایا ہے : لَوْ لاَ نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍیعنی دونوں بستیوں (مکہ اور طائف) میں کے کسی بڑے عظیم آدمی پر قرآن کیوں نہیں نازل کیا گیا۔ بڑے آدمی سے ان کا مقصد تھا : ولید بن مغیرہ مکی اور مسعود بن عمر ثقفی طائفی۔ اس کے رد میں اللہ نے نازل فرمایا : ___ اَھُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَۃَ رَبِّکَ کیا وہ اللہ کی رحمت یعنی نبوت و رسالت کو خود بانٹ رہے ہیں (کہ جس کو چاہیں اس کو نبوت دے دیں۔ یہ کافروں کی حماقت اور وحی سے ناواقفیت تھی کہ وہ دنیوی دولت کی افزونی اور قومی سیادت پر استحقاق وحی و رسالت کا مدار سمجھتے تھے) رسول اللہ (ﷺ) کو رجل عظیم نہیں سمجھتے تھے ‘ حالانکہ سوائے مال کے باقی تمام انسانی صفات و خصائل کے اعتبار سے رسول اللہ (ﷺ) سب سے بڑے اور سب سے کامل تھے۔ مال کی کمی کو نبوت میں دخل نہیں ‘ آپ سے پہلے اکثر انبیاء بھی ایسے ہی گذرے ہیں۔ ان انذر الناس وبشر الذین امنوا کہ لوگوں کو (ا اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کے برے نتیجہ سے) ڈراؤ اور اہل ایمان کو بشارت دو ۔ سب لوگوں کو عموماً ڈرانے کا حکم دیا کہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنے اعمال کے لحاظ سے مستحق انذار نہیں ہیں۔ اور کافر چونکہ مستحق بشارت نہیں ‘ اسلئے بشارت دینے کا حکم صرف اہل ایمان کیلئے مخصوص کیا۔ ان لھم قدم صدق عند ربھم کہ ان کے رب کے پاس (پہنچ کر) ان کو پورا مرتبہ ملے گا۔ عطاء کے نزدیک قدم صدق سے مراد ہے صدق کا مقام جس میں نہ کوئی زوال ہے نہ دشواری اور تکلیف۔ (مؤلف کے نزدیک) قدم صدق سے مراد ہے اونچا مرتبہ جس کی طرف اہل ایمان بڑھ رہے ہیں اور جہاں ان کا قیام ہوگا۔ مرتبہ کو قدم سے تعبیر اسلئے کیا گیا کہ آگے بڑھنے اور قیام کرنے کا ذریعہ قدم ہی ہوتا ہے (یعنی سبب بول کر مسبب مراد لیا گیا ہے) جیسے نعمت کو ہاتھ کہا جاتا ہے کیونکہ نعمت کی عطاء ہاتھ کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔ آیت میں لفظ قدم صدق سے اس امر پر تنبیہ ہے کہ اللہ کے ہاں ان کو اونچا درجہ صرف قول اور نیت کی سچائی کی وجہ سے حاصل ہوگا۔ اور سب سے زیادہ سچی بات لا الٰہ الا اللہ ہے۔ ہم نے جو قدم صدق کی تفسیر مرتبہ سے کی ہے ‘ یہی حاصل حضرت ابن عباس اور ضحاک کی تفسیر کا ہے۔ حضرت ابن عباس نے لفظ قدم کی تشریف میں فرمایا : انہوں نے جو اعمال پہلے سے بھیج دئیے ہوں گے ‘ ان کا اچھا بدلہ ان کو ملے گا (اچھا بدلہ اور مرتبہ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے) ضحاک نے کہا : قَدَمَ صدقٍ یعنی سچائی کا ثواب (ضحاک نے مرتبہ کی تعبیر ثواب سے کی اور حضرت ابن عباس نے اجر حسن سے) ۔ حسن نے کہا : قَدَمَ صدقٍ سے مراد وہ نیک اعمال ہیں جو اہل ایمان نے (مرنے سے پہلے) کئے ہوں ‘ گویا حسن کے نزدیک قدم بمعنی تقدیم ہے (یعنی پہلے سے کئے ہوئے اچھے اعمال) اللہ نے اس لفظ سے بشارت دے دی کہ اہل ایمان نے جو اچھے اعمال پہلے سے (یعنی مرنے سے پہلے) کئے ہوں گے ‘ وہ اللہ کے ہاں ان کو ملیں گے۔ ابو عبیدہ نے کہا : عرب کے نزدیک ہر آگے بڑھنے والے کو قدم کہا جاتا ہے ‘ خیر کی طرف بڑھے یا شر کی طرف۔ فلاں شخص کو اسلام میں قدم (سبقت) حاصل ہے۔ میرے پاس اس کو قدم حاصل ہے یا برائی کا قدم ‘ یعنی میرے نزدیک وہ خیر میں سبقت کر رہا ہے یا بدی میں۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ قدم صدق سے مراد ہے سعادت سابقہ۔ زید بن اسلم نے کہا : اس سے رسول اللہ (ﷺ) کی شفاعت مراد ہے۔ بخاری نے لکھا ہے کہ زید بن اسلم نے کہا : ان کیلئے قدم صدق ہے ‘ یعنی رسول اللہ (ﷺ) (کی شفاعت) ۔ قال الکفرون کافروں نے کہا۔ یعنی کافروں نے جب رسول اللہ (ﷺ) کے معجزات دیکھے اور ناقابل مقابلہ کلام سنا تو محض عناد اور ضد سے کہا۔ ان ھذا السحر المبین۔ بیشک یہ (یعنی مدعی نبوت) کھلا ہوا جادوگر ہے۔
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

'' حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ، پھر تخت سلطنت پر جلوہ گر ہوکر کائنات کا انتظام چلا رہا ہے۔ کوئی شفاعت '' سفارش '' کرنے والا نہیں ہے۔ الا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ لہذا تم اسی کی عبادت کرو۔ پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے۔

ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض حقیقت ناقابل شک یہ ہے کہ تمہارا مالک وہ اللہ ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ آسمان و زمین تمام ممکنات (مخلوقات) کے اصول ہیں (تمام چیزیں بقول فلاسفۂ یونان انہی کی تائید و تأثر سے بنی ہیں۔ فی ستۃ ایام چھ دن میں ‘ یعنی دنیا کے چھ روز کے بقدر مدت میں۔ یوں تو اللہ آن کی آن میں سارے جہان کو پیدا کرسکتا تھا مگر مخلوق کو آہستہ روی اور تدریج کی تعلیم دینے کیلئے اس نے چھ روز میں آسمان و زمین بنائے۔ ثم استوی علی العرش پھر عرش (تخت شاہی) پر وہ قائم ہوا۔ سلف سے خلف تک تمام اہل سنت کا باتفاق عقیدہ ہے کہ اللہ تمام جسمانی صفات اور حدوث کے عوارض سے پاک ہے ‘ لیکن آیت مذکورۃ الصدر اور اسی جیسی دوسری آیات (جن میں صفات جسم کے ساتھ اللہ کا انصاف ظاہر کیا گیا ہے) بظاہر اہل سنت کے مسلک و عقیدے کے خلاف نظر آتی ہیں۔ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے دو جواب دئیے گئے ہیں : (1) تاویل کا مسلک اختیار کیا گیا ہے ‘ یعنی ظاہری الفاظ کے وہ (مجازی) معنی لئے گئے ہیں جو شان خداوندی کے مناسب ہیں کیونکہ آیت وَمَا یَعْلَمُ تَأوِیْلَہٗٓ الاَّ اَللّٰہُ وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ میں الراسخوان کا عطف اللّٰہُ پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ متشابہات کا صحیح علم اللہ کو اور مضبوط علم رکھنے والوں کو ہی ہے (اس سے معلوم ہوا کہ متشابہات کی حقیقی مراد اور تاویل سے علماء ربانیین بھی واقف ہیں) اس کی تفصیلی بحث سورة آل عمران میں گذر چکی ہے۔ اس توجیہ کی روشنی میں آیت مذکور میں استَوٰی کو بمعنی اِسْتَولٰیقرار دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عرش جو سب سے اعلیٰ اور بالا مخلوق ہے ‘ جب اللہ اس پر غلبہ رکھتا ہے تو دوسری مخلوق پر اللہ کا تسلط بدرجۂ اولیٰ ظاہر ہے۔ پس ساری مخلوق اس کے زیرتسلط ہے۔ (1) [ استویٰکا معنی استولٰی اور تَسَلَّطَ عربی کلام میں بکثرت آیا ہے۔ کسی شاعر کا ایک شعر ہے ؂ قَدِ اسْتَویٰ بَشَرٌ عَلَی الْعِرَقِ مِنْ غَیْرِ سَیْفٍ وَدَمٍ مُّھْراقٍ ۔۔ یعنی بشر نے بغیر تلوار چلائے اور خون بہائے عراق پر تسلط کرلیا (مترجم)] لیکن بغوی نے کہا : استواء کو بمعنی استیلاء وتسلُّط قرار دینا معتزلہ کا قول ہے۔ (2) سلف صالحین کا مسلک ‘ اہل تاویل کے مسلک کے خلاف ہے۔ تمام علماء سلف کا قول ہے کہ اس قسم کی آیات کے ظاہر پر ایمان لانا واجب ہے۔ ان کی تنقیح اور موشگافیوں سے اجتناب لازم ہے۔ ان کی حقیقت کے علم کو اللہ کے سپرد کردینا ضروری ہے۔ اسی بناء پر امام محمد بن حسن نے فرمایا تھا کہ پورب سے پچھم تک تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ قرآن اور صحیح احادیث میں اللہ کی جو صفات آئی ہیں ‘ ان کو (یونہی) بغیر تشریح و تنقیح و توضیح کے ماننا اور ان پر ایمان لانا واجب ہے۔ جو شخص ان کی توضیح کرتا ہے ‘ وہ رسول اللہ (ﷺ) اور اجماع سلف کے خلاف عمل کرتا ہے۔ اس کا رسول اللہ (ﷺ) کے لائے ہوئے دین اور جماعت مسلمین کے اختیار کردہ مسلک سے تعلق نہیں۔ امام مالک بن انس نے فرمایا : استواء (کا حقیقی ترجمہ) مجہول نہیں (استواء کی) کیفیت معلوم نہیں اور کیفیت استواء کو دریافت کرنا بدعت ہے۔ سلف صالحین ‘ تنزیہ باری تعالیٰ کے قائل تھے ‘ اسی کے ساتھ استواء علی العرش کو (بغیر تاویل کے) مانتے تھے۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا : اللہ آسمان میں یقیناً ہے ‘ زمین میں نہیں۔ رواہ البیہقی۔ اس قول کی نسبت بھی امام ابوحنیفہ کی طرف کی گئی ہے کہ جس نے کہا : مجھے نہیں معلوم کہ میرا رب آسمان میں ہے یا زمین میں ‘ وہ کافر ہوگیا کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرَشِ استَوٰی۔ اور عرش آسمانوں کے ادھر ہے۔ امام ابوحنیفہ کا ایک قول یہ بھی آیا ہے کہ جس نے اللہ کے آسمان میں ہونے کا انکار کیا ‘ وہ کافر ہوگیا۔ امام شافعی نے فرمایا : اللہ اپنے عرش پر اپنے آسمان میں ہے۔ وہ جیسا چاہتا ہے ‘ اپنی مخلوق کے قریب بھی ہوتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے ‘ اترتا ہے (یعنی اللہ کا عرش پر ہونا مخلوق کے قریب ہونا اور نیچے اترنا ‘ تینوں قول صحیح ہیں لیکن عرش پر موجود ہونے ‘ مخلوق کے قریب ہونے اور نیچے اترنے کی کیفیت معلوم نہیں) ایسا ہی قول امام احمد بن حنبل کا بھی مروی ہے۔ اسحاق بن راہویہ کا بیان ہے : تمام اہل علم کا اجماع ہے کہ اللہ عرش کے اوپر مستوی ہے اور ہر چیز کو جانتا ہے۔ مزنی ‘ ذہبی ‘ بخاری ‘ ابو داؤد و ترمذی ‘ ابن ماجہ ‘ ابن ابی شیبہ ‘ ابو یعلی ‘ بیہقی اور دوسرے ائمۂ حدیث کا یہی قول ہے۔ ابو زرعہ رازی کے قول سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسی قول پر اہل سنت کا اجماع ہے۔ حافظ عثمان بن سعید دارمی نے لکھا ہے کہ تمام مسلمان اس قول پر متفق ہیں کہ اللہ اپنے عرش پر آسمانوں کے اوپر ہے۔ سہل بن عبد اللہ تستری نے فرمایا : یہ کہنا جائز نہیں کہ جس نے استواء کو پیدا کیا ‘ وہ کیسے مستوی ہو سکتا ہے۔ ہمارے لئے (استواء کو) ماننا اور تسلیم کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے۔ محمد بن جریر طبری نے لکھا ہے : مسلمان کیلئے اتنا جان لینا کافی ہے کہ اس کا رب عرش پر مستوی ہے۔ جو اس سے آگے بڑھے گا ‘ وہ نامراد اور خسران مآب ہوگا۔ محمد بن خزیمہ نے کہا : جو شخص اللہ کو عرش پر ساتوں آسمانوں کے اوپر مستوی اور سب مخلوق سے جدا نہیں کہتا وہ کافر ہے ‘ اس سے توبہ کرائی جائے توبہ کرلے تو خیر ‘ ورنہ اس کی گردن مار دی جائے۔ طحاوی نے لکھا ہے کہ عرش و کرسی ویسے ہی ہیں جیسے اللہ نے اپنی کتاب میں ان کو بیان کیا ہے۔ اللہ عرش سے بےنیاز ہے اور عرش کے نیچے والی چیزوں سے بھی۔ وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور ہر چیز سے اوپر ہے۔ شیخ ابو الحسن اشعری بصری نے کتاب ” اختلاف المضلین و مقالات الاسلامیین “ میں اہل سنت اور اصحاب حدیث کا ایک قول لکھا ہے ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کا ‘ اللہ کے فرشتوں ‘ کتابوں اور پیغمبروں کا ماننا اور جو کلام اللہ کی طرف سے آیا ہے اور جو رسول اللہ (ﷺ) کی صحیح حدیثوں میں مذکور ہے ‘ سب کا اقرار کرنا ضروری ہے۔ ان میں سے کسی چیز کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی ماننا لازم ہے کہ اللہ اپنے عرش پر ہے ‘ جیسا کہ اس نے خود آیت الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرَشِ استَوٰی میں فرمایا ہے اور اللہ کے دو ہاتھ بھی ہیں مگر بغیر کیفیت (مخلوقیہ) کے۔ اس نے خود فرمایا ہے : خَلَقْتُ بِیَدَیَّ ۔ ابو نعیم نے حلیہ میں لکھا ہے : ہمارا طریقہ سلف کے طریقے کے موافق ہے جو کتاب اللہ ‘ احادیث رسول اللہ (ﷺ) اور اجماع کے پیرو تھے اور اس بات کا اعتقاد رکھتے تھے کہ اللہ ہمیشہ سے اپنی تمام صفات میں کامل ہے ...... آخر میں ابو نعیم نے کہا : جن احادیث میں اللہ کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر ہے ‘ سلف ان کو مانتے تھے اور اللہ کو عرش پر بغیر کسی (مخلوقی) کیفیت اور تشبیہ کے مستوی مانتے تھے اور اس امر کے بھی قائل تھے کہ اللہ اپنی مخلوق سے جدا ہے۔ ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ اللہ آسمان میں عرش پر سات آسمانوں کے اوپر ہے ‘ جیسا کہ اہل سنت کا قول ہے۔ خطیب نے کہا : سلف کا مسلک یہ ہے کہ ایسی (متشابہ) آیات کا اقرار کیا جائے اور ان کے ظاہری معنی پر ہی الفاظ کو محمول کیا جائے اور کیفیت و تشبیہ کی نفی کی جائے (یعنی کوئی کیفیت اور تمثیل و تشبیہ نہ بیان کی جائے کہ معنی معلوم ہے مگر معنی کی کیفیت مجہول ہے اور وجہ اللہ یا ید اللہ یا استواء علی العرش کو ہم مخلوق کے چہرے ‘ ہاتھ اور استواء سے تشبیہ نہیں دے سکتے۔ یہ چیزیں اللہ کی صفات ہیں مگر ویسی ہیں جیسی اس کی شان کے مناسب ہیں) امام الحرمین نے کہا : عقیدۂ سلف کا اتباع ہی پسندیدہ اعتقاد اور دین اللہ ہے۔ ائمۂ سلف نے تاویل سے اجتناب کیا ہے ‘ الفاظ کے ظاہری معنی کو اختیار کیا ہے اور معانی (کی وضاحت و تفصیل) کو اللہ کے سپرد کیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : اہل سنت قائل ہیں کہ استواء علی العرش اللہ کی صفت ہے بلاکیف۔ اس پر ایمان واجب ہے۔ بیضاوی نے لکھا : اس کا مطلب یہ ہے کہ استواء علی العرش اللہ کیلئے ویسا ہے جیسا اس کے مناسب ہے۔ استقرار اور مکانیت کی آمیزش سے پاک ہے۔ ابوبکرعلی بن عیسیٰ شبلی جو اپنے زمانہ کے صوفیاء میں سب سے بڑے عالم تھے ‘ کہتے ہیں : رب آسمان میں ہے ‘ حکم دیتا ہے اور فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ شیخ الاسلام عبد اللہ انصاری نے اخبار شتّٰی میں لکھا ہے کہ اللہ ساتویں آسمان میں عرش پر ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی نے غنیۃ الطالبین میں لکھا ہے اور اس موضوع پر بہت تفصیلی بحث کی ہے (جس کا خلاصہ وہی ہے جو علمائے سلف سے منقول ہے کہ معانی معلوم ہیں ‘ کیفیت نامعلوم اور ہر تشبیہ سے پاک) ۔ یہ تمام اقوال ذہبی نے ” کتاب العلو “ میں نقل کئے ہیں۔ صحابہ ‘ تابعین ‘ محدثین ‘ فقہاء اور صوفیہ کی کثیر جماعت (تقریباً کل) کا یہی مسلک ہے۔ میں نے مختصراً سورة الاعراف کی آیت ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی اللَّیْلَ النَّھَارَاور سورة البقرہ کی آیت یَأتِیَھُمُ اللّٰہُ فِی ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِکی تفسیر میں بیان کردیا ہے کہ اصحاب قلوب کے نزدیک ذات باری تعالیٰ کی خصوصی تجلی اور خاص پرتو بعض مخلوق پر پڑتا ہے ‘ وہ مخلوق نورانی لہروں سے نور چیں ہوتی ہے۔ اس سے ذات باری محل حوادث نہیں بن جاتی ‘ نہ خالص مرتبۂ تنزیہ سے اس کا (تشبیہ کی طرف) تنزل ہوتا ہے ‘ بلکہ ممکنات میں ایسا جوہر پیدا ہوجاتا ہے جو پرتو اندوزی کے قابل بن جاتا ہے (امکان و حدوث کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ اس میں جلوہ پزیری کی قابلیت بڑھ جاتی ہے اور بڑھتی رہتی ہے۔ اس جلوہ پاشی سے وجوب و قدم میں کوئی تغیر نہیں آتا۔ وجوب سے امکان اور قدم سے حدوث کی طرف ذات واجب و قدیم کا تنزل نہیں جاتا) میں نے سورة البقرہ میں آیت ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوَّاھُنَّ سَبْعَ سَّمٰوٰتٍ کی تفسیر کے ذیل میں اس جلوہ پاشی کی تنقیح کردی ہے جو مؤمن کے دل پر ‘ کعبہ پر اور عرش عظیم پر خصوصیت کے ساتھ ہوتی ہے (یعنی بعض مخلوق تجلئ الٰہی کی خصوصی جو لانگاہ ہے ‘ خصوصیت کے ساتھ وہ جلوۂ خداوندی سے نورچیں ہوتی ہے ‘ اس پر خاص چمکار 1 اور پرتو پڑتا ہے ‘ اس سے جلوہ ریزی اور نور پاشی کرنے والی ذات کا محتاج مکان و زمان اور حامل کیف و کم ہونا لازم نہیں آتا ہے۔ وہ جلوۂ قدیم بےکیف ہے ........ بےمکان ہے ‘ بےزمان ہے اور ہر حادث مقدار و عوارض سے پاک ہے۔ یدبر الامر ہر کام کی (مناسب) تدبیر کرتا ہے۔ یعنی حسب تقاضائے حکمت وہ کائنات کے تمام امور کا فیصلہ کرتا ہے۔ تدبیر کا معنی ہے تمام امور کے ادبار (یعنی انجام) پر نظر رکھ کر کام کرنا تاکہ نتیجہ اچھا نکلے۔ ما من شفیع الا من بعد اذنہ کوئی (کسی کا) سفارشی نہ ہوگا مگر اس کے اذن کے بعد۔ اللہ کی عظمت کا اظہار اس فقرہ میں کیا گیا ہے۔ اس آیت کا نزول نضر بن حارث کے متعلق ہوا جس نے کہا تھا کہ اگر قیامت کا دن ہوا تو لات و عزّٰی میری سفارش کردیں گے (لات و عزّٰی عورت کی شکل کے دو بت تھے جن کی پوجا کی جاتی تھی) آیت میں اشارہ ہے کہ قیامت کے دن شفاعت ضرور ہوگی مگر اللہ کی اجازت کے بعد ہوگی۔ ذلکم اللہ یہ اللہ ہے۔ یعنی وہ ذات جو صفات مذکورہ کا مجموعہ ہے اور صفات مذکورہ کا تقاضۂ الوہیت ہے ‘ وہی ذات اللہ ہے۔ ربکم تمہارا رب ہے۔ یعنی وہی تمہارا رب ہے ‘ اس کے سوا کوئی رب نہیں۔ یا اس کی صفات میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ فاعبدوہ پس تم اس کی پوجا کرو۔ یعنی اس کے سوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ جماد تو الگ رہے ‘ ان میں تو نفع و نقصان پہنچانے کی صلاحیت ہی نہیں ‘ کسی انسان اور فرشتے کی بھی پوجا نہ کرو۔ افلا تذکرون۔ کیا تم بالکل غور نہیں کرتے کہ غور کرنے سے اتنا سمجھ لو کہ اللہ ہی معبودیت کا مستحق ہے۔ جن کی تم پوجا کرتے ہو ‘ ان میں سے کوئی بھی معبود بننے کے قابل نہیں۔
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے۔ یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بیشک پیدائش کی ابتدا وہی کرتا ہے ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان کو پورے انصاف کے ساتھ جزا دے۔ اور جنہوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا ہو کھولتا ہوا پانی پئیں اور درد ناک سزا بھگتیں اس انکار حق کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے ،

الیہ مرجعکم جمیعًا (مرنے کے بعد قیامت کے دن زندہ ہو کر) تم سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے۔ مرجع مصدر ہے یا ظرف مکان۔ وعد اللہ حقًا اللہ نے اس کا سچا وعدہ کر رکھا ہے۔ وعد اللہ مفعول مطلق ہے۔ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ اللہ کی طرف سے وعدہ ہے ‘ اس وعدہ کی تاکید وعد اللہ کا لفظ کر رہا ہے۔ حقًّا بھی مفعول مطلق ہے اور اس مضمون کی تاکید کر رہا ہے جس پر وعد اللہ کا لفظ دلالت کر رہا ہے۔ گویا اول مفعول مطلق ہے تاکید لنفسہ کا اور دوسرا تاکید بغیرہ کا فائدہ دے رہا ہے۔ انہ یبدوا الخلق بلاشبہ وہی ابتدائی تخلیق کرتا ہے۔ یعنی یہ دنیوی زندگی وہی دیتا ہے۔ ثم یعیدہ پھر (موت دینے کے بعد آخرت میں) دوبارہ زندگی بھی وہی دے گا) ۔ لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت بالقسط تاکہ جن مؤمنوں نے نیک کام کئے ‘ ان کو انصاف کے ساتھ جزاء عنایت کرے) اس صورت میں بالقسط سے مراد ہوگا اللہ کی طرف سے انصاف) یا قسط سے مراد ہے اہل ایمان کا عادل ہونا اور تمام امور میں عدل پر قائم رہنا۔ یا ایمان مراد ہے کیونکہ ایمان ہی سب سے بڑا عدل ہے ‘ جس طرح شرک ظلم عظیم ہے۔ مؤخر الذکر معنی مراد لینا ہی اس جگہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ آئندہ آیت میں کافروں کو کفر کی پاداش دئیے جانے کا ذکر ہے (اسلئے اوپر کی آیت میں اہل ایمان کو ان کے ایمان کی جزاء ملنے کا ذکر کیا جانا زیادہ مناسب ہے) ۔ والذین کفروا لھم شراب من حمیم و عذاب الیم بما کانوا یکفرون اور جن لوگوں نے کفر کیا ‘ ان کیلئے کفر کی سزا میں انتہائی کھولتا پانی اور درد رساں عذاب ہوگا۔ عبارت کی رفتار سے کافروں کا مستحق عذاب ہونا پرزور طور پر ظاہر ہو رہا ہے اور اس امر پر تنبیہ بھی مستفاد ہو رہی ہے کہ تخلیق اول و دوئم کی اصل غرض تو مؤمنوں کو ثواب دینا ہے ‘ کافروں کا عذاب تو بالواسطہ (ذیلی طور پر) ہوجائے گا ‘ گویا عذاب ایک بیماری ہے جو بداعتقادی اور بداعمالی سے پیدا ہوتی ہے۔
Ayah 10:5

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی ہے جس نے سورج کو اجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کردیں تاکہ تم اس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو۔ اللہ نے یہ سب کچھ برحق ہی پیدا کیا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔

ھو الذی جعل الشمس ضیآء اللہ وہی ہے جس نے آفتاب کو روشنی والا بنایا۔ ضیاءً سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی ذات۔ ضیاءٍ روشنی والا۔ ضیاءً قیام کی طرح مصدر ہے یا سیاط کی طرح جمع ہے۔ اس کا واحد ضوء ہے جیس سیاطکا واحد سَوْطہے۔ والقمر نورًا اور چاند کو نور والا۔ نور کا لفظ معنی کے اعتبار سے ضوء سے عام ہے۔ نور کے اعلیٰ مرتبہ کا نام ضوء ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ براہ راست روشنی کو ضوء اور بالواسطہ روشنی کو نور کہتے ہیں (اور چاند کا نور چونکہ آفتاب کا عکس پڑنے سے حاصل ہوتا ہے ‘ اسلئے شمس کے ساتھ ضیاء اور قمر کے ساتھ نور کا لفظ استعمال کیا) ۔ وقدرہ منازل اور اس (کی چال) کیلئے منزلیں مقرر کیں۔ یعنی چاند اور سیورج میں سے ہر ایک کی منازل سیر مقرر کردیں ‘ یا ہر ایک کو منازل والا بنا دیا (یعنی منازل سے پہلے مضاف محذوف ہے) یا ہٗ کی ضمیر چاند کی طرف راجع ہے۔ صرف چاند کی منازل کا تذکرہ اسلئے کیا کہ سیر قمر کی منزلیں نظروں کے سامنے ہیں۔ اس کے علاوہ روزہ ‘ زکوٰۃ ‘ حج وغیرہ کے احکام اسی کی رفتار سے وابستہ ہیں۔ آئندہ آیت میں تقرر منازل قمر کی علت یہی بیان فرمائی ہے۔ لتعلموا عدد السنین تاکہ تم جان لو برسوں کی گنتی۔ یعنی چاند کی رفتار سے مہینوں کی گنتی کر کے برسوں کی گنتی جان لو۔ والحساب اور (اپنے معاملات میں دنوں اور مہینوں کے اوقات کے) حساب کو جان لو۔ ما خلق اللہ ذلک الا بالحق اللہ نے اس مخلوق کو نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ۔ یعنی اپنی حکمت کاملہ کے مطابق اپنی کاریگری اور قدرت کو ظاہر کرنے کیلئے۔ یفصل الایت لقوم یعلمون یہ دلائل ان لوگوں کو صاف صاف بتا رہے ہیں جو دانش رکھتے ہیں۔
Ayah 10:6

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

یقینا رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور ہر اس چیز میں جو اللہ نے زمین اور آسمانوں میں پیدا کی ہے ، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غلط بینی وغلط روی سے بچنا چاہتے ہیں ''۔

ان فی اختلاف الیل والنھار بیشک رات دن کے اختلاف میں۔ اختلاف سے مراد ہے ایک کا دوسرے کے پیچھے آنا جانا یا رنگوں کا اختلاف مراد ہے ‘ روشن اور تاریک وما خلق اللہ فی السموت والارض اور جو کائنات آسمانوں میں اور زمین اللہ نے بنائی ہے ‘ اس میں۔ لایٰت بلاشبہ نشانیاں ہیں۔ صانع کے وجود کی ‘ اس کی توحید کی ‘ اس کے کمال علم وقدرت کی اور تمام عیوب و نقائص سے اس کے پاک ہونے کی۔ لقوم یتقون۔ ان لوگوں کیلئے جو (برے انجام سے) ڈرتے ہیں کیونکہ یہ ساری کائنات اہل اتقاء کو غور و فکر کی دعوت دے رہی ہے۔
Ayah 10:7

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

'' حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں ، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں ،

ان الذین لا یرجون لقآء نا بیشک جو لوگ ہم سے ملنے کے امیدوار نہیں۔ ملنے سے مراد ہے ثواب کیونکہ اللہ کی ملاقات اور اس کا دیدار سب سے بڑا ثواب ہے۔ ورضوا بالحیوۃ الدنیا اور دنیوی زندگی پر مگن ہیں ‘ یعنی آخرت کی زندگی پر دنیوی زندگی کو انہوں نے ترجیح دے رکھی ہے۔ واطمانوا بھا اور اسی زندگی پر مطمئن ہو بیٹھے ہیں۔ یعنی اسی زندگی پر وہ ٹھہر گئے ہیں ‘ اسی کی لذتیں اور آرائشیں ان کا منتہائے قصد ہیں اور آخرت میں کام آنے والے اعمال ترک کرچکے ہیں۔ والذین ھم عن ایٰتنا غٰفلون۔ اور وہ لوگ جو ہماری (قدرت و صنعت کی) نشانیوں سے غافل ہیں۔ ترجمۂ مذکورۂ بالا کی صورت میں اوّل الذکر الذین سے مراد ہوں گے یہود و نصاریٰ جو اللہ کی ہستی کو تو مانتے ہیں ‘ حشرنشر کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن اسکے ساتھ ہی دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ‘ ثواب آخرت سے مایوس ہیں۔ ان کا مقصد صرف دنیوی لذت اندوزی اور راحت کوشی ہے اور مؤخر الذکر الذین سے مراد ہیں وہ لوگ جو اللہ کی توحید کو نہیں مانتے اور حشر و جزا کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : اول الَّذِیْنَ سے مراد ہیں وہ لوگ جو قیامت کے منکر ہیں ‘ جزائے آخرت کی ان کو امید ہی نہیں۔ زندگی صرف اسی دنیوی زندگی کو جانتے ہیں اور مؤخر الذکر الَّذِیْنَ سے مراد ہیں وہ لوگ جن کو محبت دنیا نے تصور آخرت اور تیاری آخرت سے غافل بنا رکھا ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک دونوں الَّذِیْنَ سے مراد عام کفار ہی ہیں لیکن تعدد اوصاف کی وجہ سے دونوں کے درمیان حرف عطف ذکر کردیا گیا ہے (جیسے الی الملک القرم وابن الہمام ولیث الکتیبۃ فی المزدحم میں سب اوصاف یعنی قرم ‘ ابن الہمام اور لیث الکتیبۃ کا مصداق الملک ہی ہے لیکن اوصاف کے تغایر کو ذات کے تغایر کے قائم مقام قرار دے کر اوصاف کے درمیان حروف عطف ذکر کئے گئے ہیں اسی طرح آیات میں بھی تعداد اوصاف کو تعدد ذوات کا درجہ دے کر بیچ میں حروف عطف ذکر کردیا گیا ہے) اس امر پر بھی تنبیہ ہے کہ چونکہ وہ دونوں اصاف قبیحہ کے حامل اور جامع ہیں ‘ اسلئے مستحق وعید ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : رجائکا معنی خوف بھی ہے اور طمع بھی۔ اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کو نہ ہمارے عذاب کا خوف ہے نہ ثواب کی امید (گویا ہمارے سامنے آنے کا نہ ان کو کوئی اندیشہ ہے نہ کوئی امید) حضرت ابن عباس نے فرمایا : عَنْ اٰیٰاتِنَا یعنی محمد رسول اللہ (ﷺ) اور قرآن سے غافل ہیں ‘ ان کی طرف سے رخ موڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 10:8

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہوگا ان برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ (اپنے اس غلط عقیدے اور غلط طرز عمل کی وجہ سے) کرتے رہے۔

اولئک ماوٰھم النار ۔ یہی ہیں کہ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ‘ ان کے برے کرتوت کی وجہ سے۔ یعنی کفر پر قائم اور معاصی پر جمے رہنے کی وجہ سے۔
Ayah 10:9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے (یعنی جنہوں نے ان صداقتوں کو قبول کرلیا جو اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں) اور نیک اعمال کرتے رہے انہیں ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے سیدھی راہ چلائے گا ، نعمت بھری جنتوں میں ان کے نیچے نہریں بہیں گی ،

ان الذین امنوا وعملوا الصلحٰت یدیھم ربھم بایمانھم ناقابل شک ہے یہ بات کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ‘ ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب ان کو (جنت میں پہنچانے والے راستہ کی) ہدایت کرے گا۔ مجاہد نے کہا : پل صراط پر ان کو جنت تک پہنچانے والا راستہ بتا دے گا۔ ان کیلئے نور کر دے گا جس کی راہنمائی میں وہ (جنت تک) جائیں گے۔ بعض نے کہا : ہدایت سے مراد یہ ہے کہ ایمان کی وجہ سے اللہ ان کو حقائق دین سمجھنے کا راستہ بتا دے گا۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جس نے جانی چیز پر عمل کیا ‘ اللہ اس کو انجانی چیز کا علم عطا فرما دے گا۔ رواہ ابونعیم فی الحیلۃ۔ بعض نے کہا : یھدیھم کا یہ معنی ہے کہ اللہ ان کو ثواب اور جزا دے گا یا جنت کے اندر ان کے مقاصد ان کو پہنچا دے گا۔ بیضاوی نے لکھا ہے : ترتیب کلام کا مفہوم اگرچہ بتا رہا ہے کہ ہدایت کا سبب ایمان اور عمل صالح (کا مجموعہ) ہے لیکن تنہا بایمانھم کا صریحی لفظ بتا رہا ہے کہ ہدایت کا مستقل سبب ایمان ہے ‘ عمل صالح تو اس کا تکملہ اور تتمہ ہے۔ تجری من تحتھم الانھٰر ان کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ نیچے سے مراد ہے سامنے ‘ جیسا آیت قَدْ جَعَلَ رَبُّکَ تَحْتَکِ سَرِیًّا میں تحت سے مراد سامنے ہے ‘ کیونکہ حضرت مریم کا نہر کے اوپر بیٹھنا اس آیت کا مقصود نہیں ہے بلکہ نہر کا سامنے ہونا مراد ہے۔ فی جنت النعیم۔ چین کے باغوں میں۔
Ayah 10:10

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

وہاں ان کی صدا یہ ہوگی کہ '' پاک ہے تو اے خدا ''، ان کی دعا یہ ہوگی کہ '' سلامتی ہو '' اور ان کی ہر بات کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ '' ساری تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے ''۔

دعوٰھم فیھا سبحانک اللھم جنتوں میں ان کی دعاء (اس طرح ) ہوگی : اے اللہ ! تو ہر برائی سے پاک ہے ‘ ہم تجھے ہر عیب و نقص سے پاک جانتے اور مانتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : اہل تفسیر کا بیان ہے کہ اہل جنت اور ان کے خادموں کے درمیان سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ کا لفظ طلب طعام کی علامت ہوگا۔ جب اہل جنت کھانے کے خواہشمند ہوں گے تو کہیں گے : سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ فوراً حسب پسند کھانے کے خوان حاضر کر دئیے جائیں گے۔ ہر خوان ایک میل لمبا ‘ ایک میل چوڑا ہوگا۔ ہر خوان پر ستر ہزار کا سے ہوں گے ‘ ہر کاسہ میں الگ رنگ کا کھانا ہوگا ‘ ایک دوسرے کے مشابہ نہ ہوگا۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب اللہ کی ثنا کریں گے۔ وَاٰخِرُ دَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُِ للّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَکا یہی معنی ہے۔ بعض علماء نے کہا : اہل جنت سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ مزے لے لے کر کہیں گے ‘ یعنی اس کلام کے کہنے میں ان کو لذت آئے گی۔ مسلم ‘ ابو داؤد اور امام احمد نے حضرت جابر کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ سانس لینے کی طرح اللہ کی طرف سے سبحان اللہ اور الحمد اللہ کہنے کا اہل جنت کو الہام ہوگا (یعنی بےاختیار ان کی زبانوں پر تسبیح وتحمید جاری ہوگی) ۔ وتحیتھم فیھا سلم اور جنت کے اندر ان کا ملاقاتی ابتدائی کلام (لفظ) سلام ہوگا۔ ایک دوسرے کو سلام کرے گا اور فرشتے بھی ہر دروازے سے داخل ہو کر کہیں گے۔ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ اور اللہ کی طرف سے بھی سلام لے کر فرشتے آئیں گے اور کہیں گے : اللہ تم کو سلام فرماتا ہے (یعنی بشارت سلامتی دیتا ہے) ابن ماجہ ‘ ابن ابی الدنیا ‘ دارقطنی اور اجری نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جب اہل جنت اپنی راحتوں میں مشغول ہوں گے کہ اچانک ان پر اوپر سے ایک نور چمکے گا۔ سر اٹھا کر دیکھیں گے تو (نظر آئے گا کہ) اللہ اوپر سے ان پر جلوہ پاش ہے۔ اللہ فرمائے گا : ” السلام علیکم یا اہل الجنۃِ “ یہی ہے معنی سَلٰمٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ کا۔ امام احمد ‘ بزار اور ابن حبان نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ کی مخلوق میں سے جنت کے اندر سب سے پہلے فقراء مہاجرین داخل ہوں گے جن سے (اسلام کی) سرحدوں کا انتظام ہوتا ہے اور انہی کے ذریعے سے ناگوار امور سے حفاظت کی جاتی ہے ‘ لیکن (اتنی اہم شخصیت کے حامل ہونے کے باوجود) ان میں سے جب کوئی مرتا ہے تو دل کی خواہش دل ہی میں لے کرجاتا ہے ‘ پورا کرنے کی توفیق ہی اس کو نہیں ملتی۔ اللہ اپنے ملائکہ میں سے جس کو چاہے گا حکم دے گا کہ مہاجرین کے پاس جاؤ اور ان کو میرا سلام پہنچاؤ۔ فرشتے عرض کریں گے : اے ہمارے مالک ! ہم تیرے آسمان کے باشندے ہیں ‘ مخلوق میں تیرے برگزیدہ بندے ہیں۔ کیا تو ہم کو حکم دے رہا ہے کہ ہم ان کے پاس جائیں اور ان کو سلام کریں ؟ اللہ فرمائے گا : یہ میرے ایسے بندے تھے کہ میرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے ‘ کسی کو میرا شریک نہیں قرار دیتے تھے۔ انہی کو سرحدوں پر بھیجا جاتا تھا اور انہی کے ذریعہ سے ناگوار امور سے حفاظت ہوتی تھی اور جب ان میں سے کوئی مرتا تھا تو اپنا ارمان اپنے دل میں ہی لے کر مرتا تھا ‘ پورا کرنے کی اس کو توفیق ہی نہ ہوتی تھی۔ حسب الحکم فرشتے ان کے پاس جنت کے ہر دروازہ سے آئیں گے اور کہیں گے : سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔ واخر دعوٰھم ان الحمد اللہ رب العٰلمین۔ اور ان کی (اس وقت کی باتوں میں) آخری بات ہوگی الْحَمْدُ للّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ شاید اس سے مراد یہ ہے کہ جب اہل جنت ‘ جنت میں داخل ہو کر اللہ کی عظمت کا معائنہ کریں گے تو اس کی بزرگی بیان کریں گے اور صفات جلالیہ کا اظہار کریں گے۔ پھر اللہ کی طرف سے فرشتے حاضر ہو کر ان کو تمام آفتوں سے سالم رہنے اور عزت و کرامت پر فائز ہونے کی دعا دیں گے۔ اس وقت وہ اللہ کی حمد و ثنا کریں گے اور اللہ کی صفت اکرام کو بیان کریں گے۔ بغوی نے لکھا ہے : وہ کلام کا آغاز تسبیح سے کریں گے اور الحمد اللہ پر کلام کو ختم کریں گے اور ان دونوں کے درمیان جو بات کرنی چاہیں گے ‘ کریں گے۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

'' اگر کہیں اللہ لوگوں کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں بھی اتنی جلدی کرتا جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کردی گئی ہوتی۔ (مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے) اس لئے ہم ان لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے ان کی سرکشی میں بھٹکنے کے لئے چھوٹ دے دیتے ہیں۔

ولو یعجل اللہ للناس الشر استجالھم بالخیر اور اگر (لوگوں کی عجلت طلب کے موافق) اللہ فوراً برا نتیجہ دے دیتا ‘ جیسا کہ فوری عجلت طلب پر اچھا نتیجہ دے دیتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس (آیت) سے مراد وہ قول ہے جو عموماً غصہ کے وقت لوگ اپنے اہل و عیال کے متعلق کہتے ہیں کہ تم پر اللہ کی مار ‘ تم پر خدا کی لعنت وغیرہ۔ قتادہ نے کہا : آیت کا تشریحی مطلب یہ ہے کہ لوگ جب اللہ سے کوئی بددعا کرتے ہیں اور فوری شر کے طلبگار ہوتے ہیں ‘ اگر اللہ ان کی بددعا کو قبول کرنے میں اسی عجلت سے کام لے جس عجلت سے وہ لوگوں کی نیک دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ نیک دعاؤں کے نتیجہ کو جلد طلب کرنے کا تو آیت میں ذکر ہے ‘ جلد نتیجہ دینے کا ذکر نہیں۔ اور شر کے ساتھ استعجال کا ذکر نہیں کیا ‘ یعنی بددعا کے ساتھ نتیجہ کی فوری طلب کا ذکر نہیں کیا بلکہ فوری نتیجہ دینے کا ذکر کیا۔ اس طرح کلام میں اختصار ہوگیا اور غیر مذکور مطلب قرینہ سے معلوم ہوگیا۔ روایت میں آیا ہے کہ نضر بن حارث نے (اپنے لئے بددعا کی تھی اور) کہا تھا کہ اے اللہ ! اگر یہی حق ہے جو تیری طرف سے آیا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ لقضی الیھم اجلھم تو ان کا (عذاب کا) وعدہ کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا۔ یعنی مار دئیے گئے ہوتے اور ہلاک ہو چکتے۔ فنذر الذین لا یرجون لقاء نا فی طغیانھم یعمھون۔ سو اسلئے ان لوگوں کو جن کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے ‘ ہم (یونہی بلا عذاب چند روز) چھوڑ رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا یعنی حشر اور عذاب سے نہیں ڈرتے۔ فَنَذَرُالخ کا عطف ایک محذوف جملہ پر ہے ‘ اصل کلام یوں تھا : لیکن ہم ہلاک کرنے میں جلدی نہیں کرتے اور ڈھیل دینے کے بجائے فوری نہیں مار ڈالتے اور ان کافروں کو گمراہی میں چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں سرگرداں پھرتے رہیں۔
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

انسان کا حال یہ ہے کہ جب ان پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے ، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے برے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔ اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لئے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیئے گئے ہیں۔

واذا مس الانسان الضر اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ الضر سے مراد ہے سختی ‘ مصیبت۔ دعانا لجنبہ او قاعدًا او قائمًا تو وہ (نجات و خلاص کیلئے) ہم کو پکارتا ہے پہلو کے بل (یعنی لیٹ کر) یا بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر۔ یعنی مصیبت دور ہونے کی ہر حالت میں فوراً ہم سے دعا کرتا ہے لیٹے لیٹے ‘ بیٹھے بیٹھے ‘ کھڑے کھڑے۔ فلما کشفنا عنہ ضرہ مر پھر جب ہم اس کی تکلیف ہٹا دیتے ہیں ‘ کھول دیتے ہیں تو وہ اپنے سابق طریقے پر قائم رہتا ہے ‘ کفر کرتا رہتا ہے ‘ ناشکری کرتا ہے۔ کان لم یدعنا معلوم ہوتا ہے کہ (مصیبت اور دکھ کی حالت میں) اس نے ہم سے دعا ہی نہیں کی تھی ‘ ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔ الی ضر مسہ اس مصیبت کو دور کرنے کیلئے جو اس کو پہنچی تھی۔ کذلک زین للمسرفین ما کانوا یعملون۔ ان حد سے گذرنے والوں کو ان کے اعمال اسی طرح مستحسن معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی خواہشات نفس میں انہماک اور ذکر و عبادت سے اعراض کو ان کی نظر میں محبوب بنا دیا جاتا ہے۔
Ayah 10:13

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

لوگو ، تم سے پہلے کی قوموں کو ہم نے ہلاک کردیا جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لاکر ہی نہ دیا۔ اس طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔

ولقد اھلکنا القرون من قبلکم اور (اے اہل مکہ ! ) تم سے سابق قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ لما ظلموا جب انہوں نے (کفر و بداعمالی کر کے) خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ وجاء تھم رسلھم بالبینت اور ان کے پیغمبر کھلی ہوئی واضح دلیلیں ان کے پاس لا چکے (مگر انہوں نے کسی دلیل کو نہیں مانا) گویا حجت تمام ہوگئی اور ہلاکت کا ان کو استحقاق ہوگیا۔ اسی مضمون کو دوسری آیت میں بیان کیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ۔ وما کانوا لیؤمنوا اور وہ (ظالم قومیں) ایسی تھیں ہی نہیں کہ ایمان لاتیں۔ یعنی ان میں ایمان لانے کی فطری صلاحیت ہی نہ تھی۔ اللہ کے اسم مضل (گمراہ کرنے والا) کا پرتو ان کا مبدء تعین تھا ‘ اسلئے اللہ نے بھی ان کی مدد نہیں کی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے ازلی علم میں وہ مؤمن نہ تھے ‘ اللہ (تخلیق سے پہلے ہی) جانتا تھا کہ وہ کافر مریں گے۔ کذلک نجزی القوم المجرمین۔ ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ یعنی پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں اور کفر پر جمے رہنے والوں کی سزا ان کو ہلاک کردینا ہے جبکہ یہ امر یقین ہوجائے کہ ان کو مہلت دینے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ پس ایسی ہی سزا ہم ہر مجرم کو یا تم کو دیں گے۔ جرم کا تقاضا ہی یہ ہے ‘ جرم ہلاکت کا مستحق بنا دیتا ہے۔
Ayah 10:14

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

اب ان کے بعد ہم نے تم کو ان کی زمین میں جگہ دی ہے ، تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو ''۔

ثم جعلنکم خلئف فی الارض من بعدھم پھر ان کے یعنی ہلاک شدہ قوموں کے بعد ہم نے (اے اہل مکہ ! ) تم کو ان کا جانشین بنایا۔ لننظر کیف تعملون۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو اچھے یا برے اور گزشتہ اقوام کے احوال سے عبرت اندوز ہو کر پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہو یا نہیں کرتے۔ یہ آیت بتا رہی ہے کہ اعمال و افعال بذات خود نہ اچھے ہوتے ہیں نہ برے۔ افعال کی اچھائی برائی ‘ کیفیت و جہت کے اختلاف پر مبنی ہے۔ ایک ہی عمل مختلف وجوہ کے تحت اچھا بھی ہوجاتا ہے اور برا بھی۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : دنیا میٹھی اور سرسبز ہے۔ اللہ تم کو یہاں (گزشتہ اقوام کا) جانشین بنائے گا اور دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

'' جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے ، کہتے ہیں کہ '' اس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں کچھ ترمیم کرو ''۔ اے نبی ، ان سے کہو '' میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر تبدل کرلوں۔ میں تو بس اس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے ''

واذا تتلی علیھم ایاتنا اور جب ان کے سامنے ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں۔ قتادہ کے قول پر مشرکین مکہ مراد ہیں۔ مقاتل نے کہا : پانچ آدمیوں کے حق میں اس آیت کا نزول ہو۔ مکرز بن حفص ‘ عمرو بن عبد اللہ بن ابو قیس عامری ‘ عاص بن عامر بن ہشام ‘ عبد اللہ بن ابی مخزومی ‘ ولید بن مغیرہ۔ بینٰت کھلی ہوئی یعنی جو واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ قال الذین لا یرجون لقاء نا کہتے ہیں : وہ لوگ جو ہماری پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یعنی حشر سے نہیں ڈرتے اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ ائت بقران غیر ھذا اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن لاؤ۔ یعنی اس کے سوا کوئی دوسری کتاب لاؤ جس کو ہم پڑھیں اور اس کے اندر ایسے امور نہ ہوں جو ہماری نظر میں بعید از صداقت ہیں جیسے مرنے کے بعد ثواب و عذاب ہونا ‘ بتوں کی پوجا کی ممانعت اور ان کے عیوب کا اظہار۔ او بدلہ یا اسی کو بدل دو ۔ یعنی ایک آیت کی جگہ دوسری آیت رکھ دو ۔ مقاتل کا بیان ہے : مندرجۂ بالا پانچوں آدمیوں نے رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں عرض کیا تھا : اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو کوئی ایسا قرآن پیش کیجئے جو اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہو یا نہ ہو ‘ لات و منات اور عزّٰی کی برائی اور ان کی پوجا کی ممانعت اس میں نہ ہو۔ اگر اللہ کی طرف سے ایسا قرآن نہ آئے تو آپ خود اپنی طرف سے بنا دیجئے یا اسی کو بدل دیجئے۔ آیت عذاب کی جگہ آیت رحمت اور حرام کی جگہ حلال اور حلال کی جگہ حرام ہونے کا حکم دے دیجئے۔ قل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقآء نفسی (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ اپنی طرف سے اس کو بدل دینا میرے لئے درست نہیں۔ جواب میں صرف تبدیل آیت (یا تبدیل حکم) کا ذکر کیا (دوسرا قرآن پیش کرنے کا ذکر نہیں کیا) کیونکہ جب تبدیل آیت کا امکان نہیں تو دوسرا قرآن پیش کرنا بدرجۂ اولیٰ ناممکن ہوگا۔ یا یوں کہا جائے کہ ایک آیت کی جگہ دوسری آیت پڑھ دینا تو انسانی اختیار میں ہے اور اس قرآن کی طرح دوسرا معجز قرآن پیش کرنا انسانی قدرت سے ہی خارج ہے۔ پس جب امکانی چیز سے انکار کا حکم دے دیا گیا تو خارج از قدرت کام سے انکار بدرجۂ اولیٰ ہوگیا۔ یا یہ کہا جائے کہ اُبَدِّلَہٗ میں تبدیل سے مراد عام تبدیل ہے۔ قرآن کی جگہ دوسرا قرآن لانا یا آیت کی جگہ دوسری آیت ذکر کرنا (یعنی کسی قسم کی تبدیلی میرے لئے درست نہیں) ۔ ان اتبع الا ما یوحی الی میں تو بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس وحی سے آتا ہے۔ یہ جملہ اختیار تبدیل نہ ہونے کی علت ہے جو محض متبع ہوتا ہے ‘ اس کو بذات خود کوئی تصرف اور خرد برد کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ قرآن میں بعض آیات ناسخ اور بعض منسوخ ہیں (اس طرح تبدیل آیات ہوجاتی ہے) اس سے پیدا ہونے والے وہم کا بھی اس جملہ سے ازالہ ہوگیا (کہ یہ تبدیلی بھی میری خودساختہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ کفار بعض آیات کی ناسخیت و منسوخیت کو دیکھ کر شبہ کرسکتے تھے کہ شاید یہ رسول اللہ (ﷺ) کا اپنا کلام ہے ‘ جب چاہا حکم دے دیا ‘ جب چاہا منسوخ کردیا۔ مِنْ تِلْقَآءِ نَفِسِیْ کے لفظ سے اس کی بھی تردید ہوگئی۔ اپنی طرف سے تبدیل کرنے کو آئندہ آیت میں نافرمانی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں گا تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔ بڑے دن سے مراد ہے قیامت کا دن۔ اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ کافر مذکورۂ بالا خواہش (یعنی تبدیل حکم و تغیر قرآن کی درخواست) کی وجہ سے مستحق عذاب ہوگئے۔
Ayah 10:16

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

اور کہو '' اگر اللہ کی مشیت یہی ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا۔ آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گزارچکا ہوں ، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

قل لو شآء اللہ آپ کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کو کچھ اور منظور ہوتا۔ یا یہ مطلب کہ اگر اللہ کو اس قرآن کی تلاوت کرانی منظورنہ ہوتی تو وہ مجھ پر اس کو نازل نہ فرماتا۔ ما تلوتہ علیکم ولا ادرٰں کم بہ نہ میں تم کو پڑھ کر سناتا نہ اللہ اس سے تم کو میری زبانی واقف بناتا۔ فقد لبثت بیکم عمرا من قبلہ میں تمہارے اندر ایک مدت یعنی چالیس سال سے نزول قرآن سے پہلے رہتا ہوں اور جب تک میرے پاس وحی نہیں آئی ‘ میں نے کچھ نہیں بیان کیا۔ اس جملہ سے قرآن کے معجز ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ جو شخص چالیس برس کچھ لوگوں کے ساتھ رہا ہو اور نہ تعلیم حاصل کی ہو ‘ نہ کسی عالم سے ملا ‘ نہ کبھی شعر کہا ہو ‘ نہ خطبہ دیا ہو ‘ پھر اچانک وہ ایسی کتاب پیش کر دے جس کی فصاحت ہر کلام کی فصاحت سے اعلیٰ اور ہر نظم و نثر سے بالا ہو اور انکار و اعمال کے تمام ضابطے اس میں مذکور ہوں اور گذشتہ و آئندہ کے واقعات صحیح صحیح بیان کئے گئے ہوں تو یقیناً ایسی کتاب کسی مخلوق کی ساختہ پرداختہ نہیں ہو سکتی ‘ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہی ہوگی۔ افلا تعقلون کیا تم اپنی دانش و عقل سے قرآن پر غور نہیں کرتے کہ تم کو معلوم ہوجاتا کہ یہ کتاب میری ساختہ پرداختہ نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ فائدہ : وحی سے پہلے چالیس سال کی عمر تک رسول اللہ (ﷺ) مکہ میں رہے ‘ پھر وحی نازل ہوئی تو نزول وحی کے بعد بھی تیرہ سال تک مکہ میں ہی قیام پذیر رہے ‘ اس کے بعد مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کو تشریف لے گئے اور دس سال تک وہاں سکونت پذیر رہے۔ وفات کے وقت حضور (ﷺ) کی عمر 63 سال تھی۔ رواہ مسلم عن ابن عباس۔ محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ تمام علماء کا اس امر پر تو اتفاق ہے کہ ہجرت کے بعد رسول اللہ (ﷺ) مدینہ میں دس سال قیام پذیر رہے اور وحی سے پہلے چالیس سال مکہ میں رہے لیکن نبوت کے بعد مکہ میں کتنی مدت گذری ‘ یہ اختلافی مسئلہ ہے۔ صحیح قول یہ ہے کہ نبوت کے تیرہ سال آپ نے مکہ میں گذارے۔ بغوی نے حضرت انس کا قول نقل کیا ہے کہ آغاز نبوت کے بعد دس سال حضور (ﷺ) مکہ میں رہے اور ساٹھ سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔ ابن سعد ‘ عمرو بن شیبہ اور حاکم نے اکلیل میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بھی یہی قول نقل کیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اوّل روایت (یعنی 63 سال کی عمر میں وفات ہونا اور نبوت کے بعد مکہ میں 13 سال قیام پذیر رہنا) زیادہ مشہور بھی ہے اور واضح بھی ___ مسلم نے حضرت انس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کی وفات 63 سال کی عمر میں ہوئی اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی بھی یہی عمر ہوئی۔ ابو داؤد طیالسی اور مسلم نے معاویہ بن ابی سفیان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر کی وفات 63 سال کی عمر میں ہوئی۔ شیخین نے حضرت عائشہ کی روایت سے لکھا کہ حضور (ﷺ) کی وفات 63 سال کی عمر میں ہوئی۔ نووی نے اسی کو صحیح اور مشہور اور علماء کا متفق علیہ قول قرار دیا ہے۔ احمد اور مسلم نے لکھا ہے کہ عمار بن ابی عمار نے بیان کیا : میں نے حضرت ابن عمر سے دریافت کیا : وفات کے وقت رسول اللہ (ﷺ) کی عمر کیا تھی ؟ فرمایا : کیا تم گنتی نکالو گے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : چالیس جس میں بعثت ہوئی ‘ پندرہ تک مکہ میں امن و خوف کی حالت میں قیام رکھا اور دس ہجرت کے بعد مدینہ میں گذارے۔ حاکم نے اکلیل میں علی بن ابی زید کی وساطت سے یوسف بن مہران کی روایت بیان کی ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : 65 سال کی عمر میں رسول اللہ (ﷺ) کی وفات ہوئی۔ حاکم نے اکلیل میں اور نووی نے لکھا ہے کہ علماء کے نزدیک بالاتفاق صحیح ترین روایت 63 سال والی ہے ‘ باقی روایات کی تاویلیں کی گئی ہیں۔ ساٹھ سال والی روایت میں صرف دہائیاں ذکر کی گئی ہیں ‘ اکائی نظر انداز کردی گئی ہیں ___ 65 والی روایت بھی قابل تاویل یا مشکوک ہے۔ عروہ نے حضرت ابن عباس کی 65 سال والی روایت کا انکار کیا ہے اور اس کو غلط قرار دیا ہے۔ آغاز نبوت کا دور حضرت ابن عباس نے نہیں پایا۔ محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس کا قول اکثر روایتوں میں 63 سال کا آیا ہے ‘ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے حضرت ابن عباس کے قول میں 65 سال کی عمر میں وفات پانے کا ذکر تھا ‘ پھر آپ نے اکثر کے قول کی طرف رجوع کرلیا (یعنی 63 سال کی عمر میں وفات پانا تسلیم کرلیا) ۔ قاضی عیاض نے حضرت ابن عباس اور حضرت سعید بن مسیب کے حوالہ سے 43 سال کی عمر میں بعثت ہونے کا ذکر کیا ہے مگر یہ راویت شاذ ہے ‘ صحیح 40 سال کی عمر ہے۔
Ayah 10:17

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

پھر اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے۔ یقینا مجرم کبھی فلاح نہیں پاسکتے ''۔

فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبًا پس اس سے بڑا کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹی تہمت تراشی کی اور خیال کیا کہ اللہ کا کوئی ساجھی اور اولاد ہے۔ او کذب بٰایٰتہ یا اللہ کی آیتوں کو سچا نہ جانا اور ان (کی صداقت) کا انکار کردیا۔ انہ لا یفلح المجرمون۔ کوئی شبہ نہیں کہ مجرموں یعنی مشرکوں کو فلاح یعنی نجات نہیں ملے گی۔
Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

'' یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع ، اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اے نبی ، ان سے کہو '' کیا تم اللہ کو اس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں ؟ '' پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ''۔

ویعبدون من دون اللہ ما لا یضرھم ولا ینفعھم اور مکہ کے کافر اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہیں کہ اگر ان کی پوجا نہ کریں تو وہ ان پجاریوں کو نقصان نہیں دے سکتیں اور اگر ان کی پوجا کریں تو پجاریوں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔ یعنی بتوں کی پوجا کرتے ہیں جو بالکل بےجان ہیں ‘ نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور معبود میں نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت ہونی چاہئے تاکہ پوجا کرنے والے کو پوجا کا ثواب دے سکے ‘ فائدہ پہنچا سکے یا ضرر کو دفع کرسکے۔ ویقولون ھؤلآ شفعاؤنا عند اللہ اور کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاں یہ (معبود) ہمارے سفارشی ہیں۔ دنیوی امور میں بھی ہماری سفارش کرتے ہیں اور اگر قیامت ہوئی تو وہاں بھی یہ شفاعت کریں گے۔ قل اتنبؤن اللہ بما لا یعلم فی السموت ولا فی الارض آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی بات کی اطلاع دے رہے ہو جس کو وہ نہیں جانتا اور آسمان و زمین میں کہیں اس کا وجود نہیں۔ یعنی اللہ کا شریک قرار دے رہے ہو اور بتا رہے ہو کہ اللہ کے علاوہ بھی دوسرے معبود ہیں۔ اس آیت میں کافروں کو رجز بھی ہے اور استہزاء بھی (کہ آپ بڑے عالم ہیں کہ جو چیز اللہ کو بھی معلوم نہیں اس کی اطلاع آپ دے رہے ہیں) فِی السَّمٰوٰتِ والْاَرْضِ کے الفاظ سے اسی طرف اشارہ ہے کہ جس کو یہ لوگ اللہ کا شریک قرار دے رہے ہیں ‘ وہ آسمانی موجودات میں سے ہوگا مثلاً فرشتہ ہوگا یا زمین کی موجودات میں سے مثلاً پتھر وغیرہ اور کائنات سماوی و ارضی سب کی سب حادث ہے ‘ مغلوب ہے ‘ اس کو شریک الوہیت قرار دینے کیسے درست ہو سکتا ہے۔ سبحٰنہ وتعلیٰ عما یشرکون۔ وہ پاک ہے اور ان کے شرک کرنے یا مشرکوں سے برتر ہے۔