Ayah 11:11۔ (اور متکلم کی حکمت اور باخبری کا ظہور کلام کے ایک ایک جزء سے بھی قدرۃ ہورہا ہے) (آیت) ” احکمت “۔ اس کی آیتیں مضبوط کی گئی ہیں دلائل و شواہد کے ساتھ۔ (آیت) ” ثم “۔ کا واضح ہوگا۔ (آیت) ” ثم “۔ کا یہاں یہ مطلب نہیں کہ آیتیں پہلے مضبوط کی گئیں اور اس کے بعد ان کی تفصیل کی گئی بلکہ مراد یہ ہے کہ ان میں قوت و پختگی واستحکام کے علاوہ دوسرا وصف تفصیل ووضاحت کا ہے۔ لیس معنا ھا التراخی فی الوقت ولکن فی الحال کما تقولھی محکمۃ احسن الاحکام ثم مفصلۃ احسن التفصیل (کشاف) ثم جاءت لترتیب الاخبار لا لترتیب الوقوع فی الزمان (بحر)
2۔ یعنی اس کتاب حکیم وخبیر کا سب سے اہم ومقدم مضمون یہی ہے۔
Ayahs 11:2–33۔ یعنی مدت حیات تک، آیت سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ تقوی و طہارت کی زندگی اختیار کرنے سے دنیا کا عیش کچھ گھٹ نہیں جاتا بلکہ یہ صالحانہ زندگی حصول راحت و سکون میں اور معین ہی ہوتی ہے۔ (آیت) ” ان ستغفرواربکم “۔ یعنی کفر وشرک وغیرہ کے گناہوں سے معافی چاہو۔ اور ایمان صحیح اختیار کرو، (آیت) ” ثم توبوا الیہ “۔ یہ رجوع اللہ کی طرف طاعت، عبادت عمل صالح کے ذریعہ سے رہنا چاہیے۔ (آیت) ” یمتعکم متاعا حسنا الی اجل مسمی “۔ اس سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ نظام صالح کے ماتحت صالحانہ زندگی گذارنا دنیوی عیش و راحت کا بھی سبب بن جاتا ہے۔
4۔ (آخرت میں) یعنی جو عالی ہمت طالبان حق ہیں، انہیں آخرت میں مرتبے بھی انہی کی جانکاہیوں کے مطابق ملیں گے۔ اور جس طرح طاعت وتقوی کی کوئی حد معین نہیں، مراتب اخروی کی بھی کوئی حدونہایت نہیں اور فضل سے مراد موجبات فضل ہی لی گئی کہ موجبات فضل بھی اللہ ہی عطا کرتا ہے۔ معناہ ویؤت کل ذی فضلہ ومعلولہ (کبیر) (آیت) ” ذی فضل “۔ سے مراد عمل میں صاحب فضل ہے۔ اے ذی فضل فی العمل (جلالین)
Ayah 11:45۔ (تو پھر ایسے قدرت لامحدود والے کو ماننے کے بعد تمہیں نظام آخرت اور سلسلہ جزا کی کسی کڑی پر بھی حیرت کیوں ہے ؟ ) (آیت) ” الی اللہ مرجعکم “۔ یعنی آخری واسطہ اسی ایک سے پڑنا ہے نہ کہ کسی اور سے ترکیب کلام کلمہ حصر کی ہے۔ فیہ دقیقۃ وھی ان ھذا اللفظ یفید الحصر یعنی ان مرجعنا الی اللہ لا الی غیرہ فیدل ھذا علی انہ لا مدبر ولا متصرف ھناک الا ھو (کبیر) فخر المفسرین فخر رازی (رح) نے آیت مذکور کے تحت میں جو نکتہ سنجی کی ہے، اس کے لئے اصل تفسیر کبیر ہی مطالعہ کرلیجائے۔
Ayah 11:56۔ منافق اور کافر اللہ کی اس صفت عالم الغیبی کو برابر بھولے رہتے ہیں، ورنہ ان کی ہمت بھی سازشوں کی نہ پڑے۔ قرآن بار بار اسی کا استحضار چاہتا ہے۔ (آیت) ” انھم۔۔۔ منہ “۔ رسول اللہ ﷺ کو بھی ہر مزاج وطبیعت اور ہر ذہنیت کے مخالفین سے سابقہ پڑا تھا۔ ایک گروہ ان ” عقلمندوں “ میں ایسا بھی تھا کہ جب یہ لوگ آپس میں چپکے چپکے اسلام اور رسول اسلام کے خلاف سازشیں کرتے سو ان سرگوشیوں کے وقت افراط سعی اخفاء میں اس اس طرح سمٹ سمٹ کر رہتے کہ گویا اپنے سینوں کو دہرا کئے ڈالتے ہیں۔ اور کپڑا اپنے اوپر الگ ڈالتے چلے جاتے ! قرآن مجید نے ان کی اسی ہیئت کذائی کو بےنقاب کردیا اور ان پر گرفت یہ کی کہ کیا تمہاری یہ راز داری حق تعالیٰ تعالیٰ عالم الغیب کے مقابلہ میں بھی چل جائے گی ! روی ان طائفۃ من المشرکین قالوا اذا اغلقنا ابوابنا وارسلنا ستورنا واستغشینا ثیابنا وثنینا صدورنا علی عدواۃ محمد فیکف یعلم بنا (کبیر) صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ انسان اگر اس آیت کا مراقبہ عادۃ جاری رکھے۔ اور اپنی خلوت ومجلس اور خطرۂ قلب و حدیث نفس میں اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظر یقین کرے اور یہ سمجھے رہے کہ وہ دیکھ رہا ہے تو گناہ کی جرات ہی شاید نہ ہوسکے۔ تقوی کی اصل بنیاد یہی اللہ کی عالم الغیبی کا استحضار ہے :۔
Ayah 11:67۔ یعنی ادنی سے ادنی، حقیر سے حقیر کیڑے کے لئے بھی سامان رزق کی فراہمی کے اسباب وہی پیدا کرتا رہتا ہے اس کی ربوبیت اور صفت علم کا احاطہ کون کرسکتا ہے۔ آیت کا یہ مطلب نہیں کہ انسان اسباب رزق کی طرف سے غافل وبے فکر ہوجائے بلکہ مراد یہ ہے کہ تکیہ اسباب پر نہ کرے، سبب کا مبدأ مرجع ومنتہا اللہ کو ہی سمجھے رہے۔ (آیت) ” دآبۃ “۔ کے معنی مطلق جانور کے ہیں اور اس کا اطلاق ہر قسم کے حیوان پر ہوتا ہے۔ قال الزجاج الدابۃ اسم لکل حیوان واطلق علی کل حیوان ذی روح (کبیر) یہاں بھی اپنے اسی وسیع مفہوم میں ہے اور اس پر اکابر تفسیر کا اتفاق ہے۔ والمراد بھذا اللفظ فی ھذہ الایۃ الموضوع الاصلی اللغوی فیدخل فیہ جمیع الحیوانات وھذا متفق علیہ بین المفسرین (کبیر) (آیت) ” علی اللہ “۔ یعنی اللہ نے اپنے فضل وکرم سے اسے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے، اے واجب علی اللہ بحسب الوعد والفضل والاحسان (کبیر) ورنہ حقیقۃ تو کوئی شے بھی حق تعالیٰ کو پابند نہیں بنا سکتی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اسباب کو اگر اس اعتقاد کے ساتھ اختیار کیا جائے کہ (آیت) ” مسبب “۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور یہ اعتقاد نہ رکھا جائے کہ بدون اسباب کے رزق حاصل ہی نہیں ہوتا تو یہ توکل کے منافی نہیں حاصل یہ کہ وثوق اور ربط قلب بس حق تعالیٰ ہی کے ساتھ ہونا چاہیے۔
8۔ (اور اسی صحیفہ علم الہی کا دوسرا نام لوح محفوظ ہے) (آیت) ” مستقر “۔ اور مستودع “۔ کی تفسرین متعدد نقل ہوئی ہیں لیکن ان میں سے ماثور کوئی بھی نہیں اور نہ ماہرین لغت ہی کا کسی ایک مفہوم پر اتفاق ہے۔ ترجیح اسی مفہوم کو ہے جو ترجمہ میں ظاہر کردیا گیا۔
Ayah 11:79۔ یہاں یہ تصریح کے ساتھ بتادیا گیا ہے کہ دنیوی زندگی جو کل سلسلہ حیات وکائنات کا ایک بہت مختصر و محدود حصہ ہے اس کی آفرینش کی غرض وغایت، ہی یہ ہے کہ انسانی اعمال کی جانچ کرکے نیکوں کو حشر میں انعام سے سرفراز کیا جائے۔ ایام عرش۔۔ یوم اور عرش دونوں پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔ جن میں دکھایا جاچکا ہے کہ اس قبل آفرینش والے یوم سے مراد یہ بعد آفرینش والا 24 گھنٹے کا دن رات تو ہی نہیں سکتا، بلکہ اس سے مراد صرف چھ حالتیں یا چھ مختلف زمانے ہیں۔ علی ھذا عرش سے مراد کوئی بچھا ہوا مادی تخت نہیں بلکہ تخت حکومت ہی مراد ہوسکتا ہے۔ گویا ارشاد یہ ہورہا ہے کہ یہ آسمان و زمین اور سارا نظام کائنات سب حادث و مخلوق ہیں ان کو قدیم اور معبود سمجھنے والے، انہیں دیوی دیوتا قرار دینے والے، ان کی پوجا پاٹ میں لگے رہنے والے سن لیں کہ یہ سب اسی قادر مطلق کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور ایک زمانہ ایساگزرا ہے جب یہ کچھ بھی نہ تھے۔ اس پر جاہلی دماغوں میں معایہ سوال پیدا ہوگا کہ مانا لیکن جب یہ کچھ عالم ومافی العالم تھا ہی نہیں تو پھر آخر خدا کی خدائی اور حکومت کہاں اور کس پر تھی ؟ اسی سوال کی مناسبت سے معا بعد ارشاد ہوتا ہے کہ بیشک اس کی حکومت قدیم ہے۔ وہ اس عالم سے قبل اس عالم پر تھی جو اس وقت موجود تھا یعنی عالم آب ! (آیت) ” کان عرشہ علی المآء “۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کو ایک دوسری جگہ یہ کہہ کر اور زیادہ صاف کردیا ہے کہ اس کائنات کی جاندار مخلوق کا مادہ حیات پانی ہی ہے۔ وجعلنا من الماء کل شیء حی (سورۃ الانبیاء) (آیت) ” لیبلوکم “ کا نحوی تعلق خلق سے ہے یعنی آفرینش کی غرض وغایت یہی امتحان آزمائش اور جانچ ہے۔ اللام للتعلیل متعلقۃ بخلق (روح) اے خلقھن لحکمۃ بالغۃ وھی ان یجعلھا مساکن لعبادہ وینعم علیھم فیھا بفنون النعم ویکلفھم الطاعات واجتناب المعاصی فمن شکر واطاع اثابہ ومن کفر وعصی عاقبہ ولما اشبہ ذلک اختبار المختبر قال لیبلوکم یرید لیفعل بکم ما یفعل المبتلی لاحوالکم کیف تعملون (کشاف)
10۔ (جوموثر تو ضرور ہے لیکن حقیقت وصداقت سے خالی) (آیت) ” الذین کفروا “۔ یعنی جو لوگ عقیدۂ بعث وحشر کے منکر ہیں۔ منکرو مومن کے درمیان یہی تو بڑا فرق ہے کہ مومن اپنے ہر ” آج “ کا دامن ” کل “ سے وابستہ سمجھتا ہے۔ (آیت) ” ھذا “۔ یعنی وہ کتاب جو اس عقیدۂ حشر کی تبلیغ کررہی ہے یا خود یہ عقیدہ ہی۔ اشاروا بھذا الی القران لان القران ھو الناطق بالبعث (کشاف) والظاھر الاشارۃ بھذا الی القول (بحر) ای القول بہ اوالقران المتضمن لذکرہ (بیضاوی) (آیت) ” سحرمبین “۔ یعنی یہ کلام ہے تو باطل ہی اور غیر خدائی لیکن بڑا موثر۔۔ بجنسہ اسی خیال باطل کی ترجمانی ” عقلاء فرنگ “ فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ نے اپنے کلام اور عمل سے انقلاب تو عظیم الشان پیدا کردیا ہے اصلاحیں بھی بہت کچھ کردیں لیکن تھے وہ ایک خود ساختہ ہی نبی، زمانہ شناس، بڑے صاحب تدبیر !
Ayah 11:811۔ جاہلی ذہنیت پر مزید روشنی ڈالی ہے کہ یہ بھی عجب الٹی سمجھ کے لوگ ہیں جس عذاب کے یہ ہر طرح مستحق ہیں، اسے ہم عارضی طور پر روکتے تو اپنی کسی حکمت ومصلحت سے ہیں اور یہ لگتے ہیں طنز وتعریض کے ساتھ مسلمانوں سے دریافت کرنے کہ آخر اس عذاب موعود میں دیر ہی کیا ہے ہم پر آ کیوں نہیں پڑتا ؟ (آیت) ” اخرنا عنھم العذاب “۔ یہ ارادی تاخیر کسی نہ کسی مصلحت و حکمت تکوینی ہی کے ماتحت ہوتی ہے۔ (آیت) ” لیقولن “۔ ان کا یہ قول محض استفسارا نہیں ہوتا انکار واستہزاہی سے ناشی ہوتا ہے۔ (آیت) ” امۃ معدودۃ “۔ امۃ “۔ یہاں اپنے مجازی معنی میں یعنی حصہ وقت کے مرادف ہے۔ معناہ الی حین ووقت معلوم (بحر) ابن عباس ؓ صحابی سے لے کر مشاہیر تابعین اور اکابر مفسرین سب نے یہی معنی لئے ہیں۔ الامۃ ھنا المدۃ من الزمان قالہ ابن عباس وقتادۃ و مجاھد والجمھور (محر) (آیت) ” یوم یاتیھم “۔ سے مراد اس عذاب کا وقت موعود ہے۔ (آیت) ” حاق “۔ صیغہ ماضی ہے حالانکہ ذکر عذاب مستقبل کا ہورہا ہے تو ایسے موقع پر صیغۂ ماضی لانا کمال تاکید اور زور کے لئے ہے۔ اخبر عن احوال القیامۃ بلفظ الماضی مبالغۃ فی التاکید والتقریر (کبیر) وضع الماضی موضع المستقبل تحقیقا ومبالغۃ فی التھدید (بیضاوی)
Ayah 11:912۔ (کہ گویا اسے اعادۂ رحمت کا احتمال ہی نہیں رہتا) عام فطرت بشری کا بیان ہے۔
Ayah 11:1013۔ (کہ گویا اب پھر وہ دکھ درد کبھی ہونے ہی کا نہیں) اب بیان اسی فطرت بشری کے دوسرے پہلو کا ہورہا ہے۔۔۔۔ واقعی ان گڑھ، تربیت سے محروم انسان بھی کیسا افراط وتفریط کے دونوں سروں کے درمیان جھولا کرتا ہے۔
Ayah 11:1114۔ عام فطرت بشری اور اس کے مقتضائے طبعی کا بیان اوپر ہوچکا۔ اب ذکران خوش نصیبوں کا ہے جنہیں ایمان وتقوی کی تربیت مل چکی ہے۔ یہ ایسے نہیں ہوتے۔ ہر زوال نعمت کے وقت صبر و تسلیم سے اور حصول نعمت کے وقت شکر وطاعت سے کام لیتے رہتے ہیں۔
Ayah 11:1215۔ (رسول معصوم سے اس کا وقوع ممکن کیونکر ہے) (آیت) ” لعل “۔ کے عام معنی توقع وترجی کے ہیں۔ اس صورت میں بےتکلف توجیہ کلام یہ ہوگی کہ یہ کافر اور منکر آپ ﷺ سے اس جزئی ترک تبلیغ کی لو لگائے بیٹھے ہیں۔ ای یظن بک الناس ذلک (راغب) اے انک بلغت من التھالک علی ایمانھم مبلغا یرجون ان تترک بعض ما یوحی الیک (ابو البقاء) اور یہ آپ ﷺ کے لئے عصمت رسالت کی بنا پر ممتنع ہے۔ تو آپ ﷺ کو چاہیے کہ آپ باب تبلیغ میں اور زیادہ مستعد وباہمت ہوجائیں۔ والمقصود من ذلک تحریضہ ﷺ وتھییج داعیتہ لاداء الرسالۃ (روح) باقی لعل کا استعمال محاورۂ عرب میں علاوہ ترجی کے موقع تبعید پر بھی ہوتا ہے۔ یعنی اظہار بعد کے لئے اس صورت میں مفہوم صاف یہ ہوگا کہ آپ بھلا اسے کیسے ترک کرسکتے ہیں۔ آپ ﷺ ہرگز اسے ترک نہ کیجیے گا۔ قیل ان لعل ھنا لیست للترجی بلھی للتبعید وقد تستعمل لذلک کما تقول العرب لعلک تفعل کذالمن لا یقدر فالمعنی لاتترک (روح) المراد ھنا الزجر والعرب تقول للرجل اذا ارادوا ابعادہ عن امر لعلک تقدر ان تفعل کذا مع انہ لا شک فیہ (کبیر)
16۔ (نہ کہ اس کا برگزیدہ بندہ اور رسول) آیت میں اہل جاہلیت کے جہل اور دنیا کی عام غلط فہمی کے رفع کرنے کو ایک بار پھر یہ صاف صاف بتایا کہ خدا اور فرستادۂ خدا کے حدود الگ الگ ہیں رسول کا کام تو محض پیام الہی صداقت ودیانت سے پہنچا نا یہ اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہیں۔ باقی تکوینیات میں ہر شے کو بہم پہنچانا یہ اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہیں یہ امور کسی بڑے سے بڑے برگزیدہ رسول یہ نبی کی بھی دسترس میں نہیں۔ (آیت) ” لولا۔۔۔ ملک “۔ اہل جاہلیت نے رسول ﷺ کے اصل پیام اور تعلیمات پر غور کرنے کے بجائے ہمیشہ فرمائیش ایسے ہی اعجوبوں اور خوارق کی کی ہے۔ (آیت) ” ضآئق بہ صدرک “۔ مصلح اعظم ﷺ کی طبع لطیف و فطرت سلیم کا ایسی بےجا فرمایشوں سے گرانی محسوس کرنا ایک بالکل امر طبعی تھا۔ (آیت) ” انما انت نذیر “۔ کلمہ ان کے حصر نے اسے خوب واضح کردیا کہ رسول کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وہ تو تمام تر ایک مبلغ ومناد ہوتا ہے۔ نعتیہ اشعار میں شاعرانہ مبالغہ آرائیوں سے کام لینے والے مشائخ وصوفیہ، کاش قرآن مجید کی ان تصریحات کو فضول اور بےمعنی نہ سمجھیں۔ (آیت) ” افتراہ “۔ ضمیرہ ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی جانب ہے۔ (آیت) ” مثلہ “۔ میں مثلیت زبان وحسن بیان، معنویت و خوبی مضامین ہر اعتبار ولحاظ سے ہے۔ بہ لحاظ معنویت چیلنج ساری دنیا کے لئے ہے اور بہ لحاظ ادب وانشاء اہل عرب کے لئے۔ (آیت) ” فاتوا بعشر سور “۔ سورة ہود مکی ہے اس وقت تحدی دس سورتوں کی بابت رکھی گئی۔ سورة بقرہ جو اس سے بہت متاخر اور مدنی ہے۔ اس میں یہ مقدار دسویں حصہ تک گھٹا کر صرف ایک سورت تک لے آئی گئی ہے۔ فاتوا بسورۃ من مثلہ۔ گویا آخری چیلنج ایک ہی سورت کا ہے۔
Ayah 11:1317۔ (اپنے اس پندار باطل میں کہ قرآن ایک انسانی تصنیف ہے۔ ) آج کے ” روشن دماغ فرنگی محققین “ ہی کی طرح عرب جاہلیت کے ” روشن خیال “ بھی اپنی اس تحقیق پر نازاں تھے کہ قرآن کلام محمدی ﷺ ہے ان کے اس خیال کے جواب میں ان سے ارشاد ہورہا ہے کہ اچھا اگر محمد ﷺ ایسے کلام کے اتنے بڑے مجموعہ پر قادر ہوسکتے ہیں تو تم کیوں نہیں قادر ہوسکتے ؟ تم میں سے ایک ایک نہ سہی تم سب مل ملا کر اپنے سارے حمایتیوں کو شریک کر کرا کے تو اس قرآن کا کوئی تھوڑا سا حصہ تو تیار کر ہی سکتے ہو۔ پھر آؤ اس میں دیر ہی کیا ہے ؟
Ayah 11:1418۔ (یا ابھی کوئی اور انتظار باقی ہے ؟ ) (آیت) ” لکم “۔ یہ خطاب جمع عام مومنین سے ہے۔ تحدی جس طرح رسول اللہ ﷺ کرسکتے تھے ساری امت بھی کرسکتی ہے۔ جمع الضمیر لان ال مومنین ایضا کانوا یتحدونھم (بیضاوی) (آیت) ” فاعلموا “۔ تقدیر کلام یہاں یوں مانی گئی ہے کہ اے مومنین ! کفار سے کہو کہ یقین کرلو، فیہ اضمار والتقدیر تقولوا ایھا المسلمون للکفار اعلموا (کبیر) (آیت) ” انما انزل بعلم اللہ “۔ یعنی اللہ ہی کے علم وقدرت سے اترا ہے نہ کہ کسی اور کے۔
Ayah 11:1519۔ آیت میں ایک بڑی تلخ مگر گہری حقیقت کا اعلان ہے جو لوگ یا قومیں سرتاسر دنیا ہی کو اسی کو ” ترقیوں “ کو اپنا منتہائے نظر اور نصب العین بنائے ہوئے ہیں اور اپنی ساری سرگرمیوں کا مرکز اسی کو قرار دیئے ہوئے ہیں وہ گھبرائیں نہیں، انہیں مایوسی نہ ہوگی، انہیں اپنی ساری جدوجہد کا صلہ یہیں اور ابھی ملا جاتا ہے۔ وہ دولت چاہتے ہیں ان میں کا ایک ایک فرد قارون وقت ہو کر رہے گا۔ انہیں حکومت کی ہوس ہے دنیا کے سارے ملک انہی کے درمیان تقسیم ہو کر رہیں گے، انہیں عزت وناموری فتح مندی کی چاٹ ہے تو اچھا وہ دل کھول کر اپنے دل کے ارمان نکال کر رہیں۔ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا “۔ حیات وزینت حیات سے الفت تو ایک امر طبعی ہے اور ہر انسان بڑے سے بڑا متقی انسان بھی کسی درجہ میں اس کا آرزو مند ضرور رہتا ہے البتہ حیات دنیوی اور زینت دنیوی کو آخرت کی طرف سے آنکھیں بند کرکے اپنا مقصود بنالینا اور اپنے وقت وقوت کو اسی میں خرچ کئے چلے جانا یہ ایک بالکل دوسری چیز ہے اور یہاں ذکر اسی کا ہے جیسا کہ لفظ یرید سے ظاہر ہے۔ اے تکون ارادتہ مقصورۃ علی حب الدنیا وزینتھا ولم یکن طالبا لسعادات الاخرۃ کان حکمہ کذا وکذا (کبیر) فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ بھی نکالا ہے کہ جو اعمال محض دنیوی نفع اور حصول معاوضہ کے خیال سے انجام دیئے جاتے ہیں گو وہ ذکر وتلاوت ہی پر شامل ہوں، موجب ثواب وحسن آخرت نہ ہوں گے۔ ھذا یدل علی ان ما سبیلہ ان لا یفعل الا علی وجہ القربۃ لایجوز اخذ الاجرۃ علیہ لان الاجرۃ من حظوظ الدنیا فمتی اخذ علیہ الاجرۃ فقد خرج من ان یکون قربۃ بمقتضے الکتاب والسنۃ (جصاص)
Ayah 11:1620۔ ظاہر ہے کہ جب دوسری دنیا کا تخیل ہی سرے سے ان کے دماغوں میں نہیں اور اس کا کوئی ادنی محرک عمل بھی رضائے الہی یا ثواب آخرت نہیں تو ظاہر ہے انہیں آخرت میں نمبر کس چیز کے ملیں گے نمبر سب کے سب کٹ ہی جائیں گے۔ (آیت) ” ماصنعوا “۔ اس عموم میں ان کے وہ اعمال بھی داخل ہیں جنہیں وہ کار خیر سمجھ کر کرتے رہے تھے۔ (آیت) ” فیھا “۔ اس کا تعلق (آیت) ” حبط “۔ سے ہے اور ضمیر ھا سے مراد (آیت) ” الاخرۃ “ ہے والظاھر انہ عائد علی الاخرۃ (بحر) (آیت) ” بطل “۔ نفس الامر اور ان لوگوں کے فسادنیت کے اعتبار سے تو ان اعمال کا کھوکھلا اور باطل ہونا اب بھی ظاہر ہے۔ آخرت میں اس کا مشاہدہ سب کو ہوجائے گا۔
Ayah 11:1721۔ (نہیں دونوں برابر ہرگز نہیں ہوسکتے) (آیت) ” بینۃ “۔ سے مراد قرآن ہی سمجھی گئی ہے۔ البینۃ ھو القران (کبیر) والمراد بھا القران (روح) (آیت) ” بینۃ “۔ تنوین اس دلیل کی عظمت واہمیت کے لئے ہے۔ التنوین فیھا ھنا للتعظیم ای بینۃ عظیم الشان (روح) تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ افمن کان علی بینۃ من ربہ کمن یرید الحیوۃ الدنیا (کبیر)
22۔ امام تو اپنی تعلیمات و احکام کی عظیم الشان اہمیت تقدس کے لحاظ سے اور رحمت اس معنی میں کہ باعث رحمت ہے۔ ؛ (آیت) ” ویتلوہ شاھد منہ “۔ یتلوہ کو یتبعہ کے مرادف سمجھا گیا ہے اور مراد یہ لی گئی ہے کہ قرآن کا ایک گواہ تو خود قرآن کے اندر موجود ہے اور یہ داخلی گواہ قرآن کا معجز ہونا ہے۔ ومعنی کونہ منہ انہ غیر خارج منہ (روح) (آیت) ” ومن قبلہ کتب موسیٰ “۔ یہ شہادت خارجی ہوئی کتاب توریت کی جو قرآن مجید سے مدتوں قبل نازل ہوچکی تھی اور کلام کا عطف (آیت) ” شاھد منہ “۔ پر ہے۔ عطف علی شاھد والضمیر المجرورلہ ای یتلوہ فی التصدیق کتاب موسیٰ منزلا من قبلہ (روح) (آیت) ” اماما “۔ یعنی دین کے لحاظ سے مقتدا ومتبوع۔ ومعنی کونہ اماما انہ کان مقتدی العالمین واماما لھم یرجعون الیہ فی معرفۃ الدین والشرائع (کبیر) مؤتما بہ فی الدین ومقتدی (روح) (آیت) ” رحمۃ “۔ یعنی رحمت کا ذریعہ وسبب۔ لانہ یھدی الی الحق فی الدنیا والدین وذلک سبب لحصول الرحمۃ والثواب فلما کان سببا للرحمۃ اطلق اسم الرحمۃ علیہ (کبیر)
23۔ (آیت) ” اولئک یؤمنون بہ “۔ میں (آیت) ” اولئک “۔ سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا ذکر ابھی گزر چکا ہے یعنی اپنے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی دلیل پر قائم رہنے والے (آیت) ” من الاحزاب “۔ احزاب سے مراد کفار ہی کے مختلف گروہ ہیں خواہ وہ کسی ملک کسی قوم کسی دین باطل سے تعلق رکھنے والے ہوں۔ الاحزاب جمیع الملل قالہ ابن جبیر (بحر) عن قتادۃ ان الاحزاب الکفار مطلقا لانھم تحزبوا علی الکفر (روح) آیت میں یہ بتادیا گیا کہ قرآن کا منکر کوئی بھی ہو اور کفار کے کسی گروہ اور فرقہ سے بھی تعلق رکھنے والا ہو، انجام بہرحال سب کا دوزخ ہی ہے۔
24۔ (ان کھلے ہوئے دلائل و شواہد کے باوجود) (آیت) ” تک ربک “۔ خطاب اب عام مخاطب اور ناظر قرآن سے ہے۔
Ayah 11:1825۔ ان مجرموں کی عدالت خداوندی میں حاضری اور فرشتوں کی گواہی یہ سب عالم آخرت کے واقعات ہیں۔ (آیت) ” ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا “۔ اللہ پر جھوٹ گڑھنا یہی ہے کہ اس کی توحید سے یا رسول اللہ ﷺ کی رسالت سے یا قرآن کے کلام الہی ہونے سے انکار کردیا جائے یا کسی کو اس کا شریک وہمسر قرار دے لیا جائے۔ (آیت) ” یقول الاشھاد “۔ ان گواہوں کے بیان سے مجرموں کی مزید تفضیح ورسوائی تو خیر ہو ہی گی لیکن سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ یہ گواہی دینے والے ہوں گے کون ؟ مجاہد تابعی اور بعض اور اکابر سے منقول ہے کہ یہ گواہ کاتب اعمال فرشتے ہوں گے۔ ھم الملئکۃ الذین کانوا یحفظون اعمالھم علیھم فی الدنیا (کبیر عن مجاہد) لیکن لفظ قرآن کا عموم، سفارش کرتا ہے کہ انبیاء اور مومنین اور خود ان کافروں کے اعضاء وجوارح بھی شامل کئے جائیں۔ قیل المراد بھم الملیکۃ والانبیاء وال مومن ون (روح) من الملائکۃ والنبیین اومن جو ارحھم (بیضاوی)
Ayah 11:1926۔ (آیت) ” وھم بالاخرۃ ھم کفرون “۔ یہ ایک ہی اسم کے لئے ضمیر ھم کی تکرار تاکید اور زور دینے کے لئے ہے۔ تکریرھم لتاکید کفرھم واختصاصھم بہ (بیضاوی) قال الزجاج کلمۃ ھم کر رت علی جھۃ التوکید (کبیر) اس مفہوم تاکید کے ادا کرنے کے لئے اردو ترجمہ میں ” تک “ لایا گیا ہے۔ (آیت) ” یبغونھا “۔ میں ضمیر ھا اسی (آیت) ” سبیل اللہ “۔ کی جانب ہے۔
Ayah 11:2027۔ (کہ کوشش کرکے یا سفارش کرکے انہیں چھڑا دیتا۔ (آیت) ” من اولیآء “۔ میں من۔ زائدہ استغراق یا کلیت نفی کے لئے ہے۔ من زائدۃ لاستغراق النفی (روح) اردو ترجمہ میں ” بھی “ اس مفہوم کے اظہار کے لئے ہے۔ (آیت) ” لم یکونوا معجزین فی الارض “۔ ان کا اللہ کو عاجز کرنا یہی تھا کہ یہ کہیں چھپ جاتے اور اللہ کے ہاتھ نہ آتے۔ اور اگر یصدون کے معنی محض (آیت) ” یعرضون “۔ کے لئے جائیں تو سزا کا دوگنا ہونا تعدد عمل کی بناء پر نہیں شدت عمل کی بنا پر ہوگا۔
28۔ یعنی نہ کلام حق کو غایت عناد سے سنتے تھے اور نہ راہ حق کو غایت عناد سے دیکھتے تھے، روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ جس بات سے ضد اور نفرت دل میں بیٹھ جاتی ہے۔ اس کے نہ سننے کی تاب دل میں باقی رہ جاتی ہے نہ دیکھنے کی۔ (آیت) ” یضعف لھم العذاب “۔ دوگنی سزا یوں کہ ایک سزا خود کافر رہنے کی، اور دوسری دوسروں کو کافر بنانے کی۔ (آیت) ’ یضعف “۔ کے ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ ان پر سزا برابر بڑھتی رہے گی۔ اور عجب نہیں جو صیغہ مضارع اسی استمرار کی دلالت کے لئے ہو۔
Ayah 11:2129۔ (اور کوئی بھی ان کے کام نہ آیا ! )
Ayah 11:2230۔ (آیت) ” لاجرم “۔ کا مفہوم عربی میں وہی ہے جو اردو میں ” لامحالہ “ یا ” ناگزیر ہے “ سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ معناہ انہ لا یقطع قاطع عنھم (کبیر) قال الفراء انھا بمنزلۃ قولنا لا بد ولا محالۃ (کبیر) (آیت) ” انھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون “۔ جملہ کی ترتیب ھم کی تکرار ان اور (آیت) ” لاجرم “۔ کا اضافہ سب کلام میں انتہائی زور اور تاکید پیدا کرنے کے لئے ہیں۔
Ayah 11:2331۔ (آیت) ” اخبتوا الی ربھم “۔ یعنی اپنے پروردگار کا خشوع وانقیاد دل میں پیدا کرلیا۔ الاخبات ھو الخشوع والخضوع (کبیر) اصحاب جنت کے اوصاف کی ترتیب آیت میں خاص طور پر قابل لحاظ ہے۔ (آیت) ” الذین امنوا “۔ پہلا درجہ تو ایمان یا تصحیح عقائد کا ہوا (آیت) ” وعملوا الصلحت “۔ دوسرا مرتبہ عمل صالح کا یا اصلاح اعمال واخلاق کا ہوا۔ (آیت) ” واخبتوا “۔ تیسرا مرتبہ تزکیہ نفس کا ہوا۔
Ayah 11:2432۔ یعنی دونوں کے درمیان اتنے موٹے اور بین فرق کو محسوس نہیں کرتے ؟ (آیت) ” فریقین “۔ سے مراد ظاہر ہے کہ ایک طرف مومن اور فرمانبردار ہیں اور دوسری طرف کافر ونافرمان جن کے انجام ومآل کا فرق ابھی اوپر بیان ہوچکا ہے۔ ایک ہدایت سے موصوف دوسرا ہدایت سے محروم۔
Ayah 11:2533۔ (پیغمبر بنا کر اور یہ پیام دے کر) نوح (علیہ السلام) اور قوم نوح (علیہ السلام) پر حاشیے پارہ نمبر 11 میں سورة یونس میں گزر چکے۔
Ayah 11:2634۔ پیغمبروں کا پیام شروع سے ایک ہی چلا آیا ہے۔ یعنی پیام توحید اور پھر اس دعوت سے انکار پر وعید عذاب۔۔ کوئی قوم وحشی ہو یا کوئی قوم متمدن، پیغمبر بہرحال سب سے پہلے اس کے عقائد ہی کی اصلاح کرتے ہیں اور عقائد میں ر اس المسائل یہی عقیدۂ توحید ہے۔ (آیت) ” فقال الملاالذین کفروا من قومہ “۔ میں صاف اشارہ اس طرف ہے کہ پیغمبروں کی مخالفت قوم کے اکابر ہی کی طرف سے شروع ہوتی ہے۔
Ayah 11:2735۔ (اور کوئی بات تم میں بشریت سے مافوق پاتے نہیں پھر تمہیں مرد خدا کیسے مان لیں) مشرکوں اور مشرک صفتوں کی سمجھ میں کسی بشر کا خدا رسیدہ ہونا یا فرستادہ خدا ہونا نہ پہلے کبھی آیا نہ اب آرہا ہے وہ بزرگی کے صرف اسی کے قائل ہوتے ہیں جو نہ کھاتا پیتا ہو، نہ سوتا ہو، نہ عورت کی خواہش رکھتا ہو، پانی پر چلتا ہو، آگ پر بےتکلف قدم رکھ دیتا ہو، ہوا پر اڑتا ہو، غرض طرح طرح کے خوارق اور کرشمے دکھا کر اپنے ” مافوق البشر “ ہونے کا اعلان کرتا رہتا ہو۔۔۔ بشر کو دیوتا تسلیم کرلینا ان کے لئے اس سے کہیں آسان ہے کہ وہ بشر کو خدا کا بندہ مقرب ومقبول اور ایلچی تصور کریں، (آیت) ” مثلنا “۔ بشریت کی تاکید کے لئے ہے۔ یعنی بشر بھی ایسے جو ہم سے ذرا ممتاز نہیں بس ہماری ہی طرح کھانے پینے، رہنے بسنے والے،
36۔ (سو ان کا تمہیں نبی مان لینا کون سی سند اور افتخار کی بات ہے بلکہ ہم شرفاء ومعززین کو تو الٹا ننگ آتا ہے ان کی صف میں بیٹھنے سے، بڑے اور چھوٹے اونچ اور نیچ کا یہ نسبی ونسلی معیار جاہلی قوموں میں ہمیشہ مشترک رہا ہے۔ دعوت توحید پر ایمان اس وقت تک صرف عوام لائے تھے یہ ان عوام پر طنز بڑے لوگوں کی طرف سے ہے۔
37۔ (تمہارے اس دعوائے نبوت وزعم رسالت میں) (آیت) ” من فضل “۔ سے مراد مال، جاہ، ثروت و ریاست ہیں جو دنیوی ومادی اعتبار سے معیار فضیلت سمجھے گئے ہیں، علامہ زمخشری آیت کے تحت میں لکھتے ہیں کہ خیر وہ لوگ تو اہل جاہلیت میں سے تھے ہی، دنیا کے صرف ظاہری ومادی پہلوؤں کو دیکھنے والے لیکن غضب تو یہ ہے کہ اپنے کو مسلمان کہلانے والے بھی آج اسی مرض حب دنیا میں مبتلا ہیں اور عزت وتحقیر کا معیار اسی دولت دنیوی کی زیادتی اور کمی کو بنائے ہوئے ہیں۔ کانوا جھالا ماکانوا یعلمون الاظاھرا من الحیاۃ الدنیا فکان الاشراف عندھم من لہ جاہ ومال کماتری اکثر المتسمین بالاسلام یعتقدون ذلک ویبنون علیہ اکرامھم واھانتھم (کشاف) اور آگے بھی سطروں پر سطریں اسی رنگ میں لکھتے چلے گئے ہیں (اور صاحب مدارک نے بھی ان کی تقلید میں بعض انہی فقروں کو دہرا دیا ہے۔۔۔۔ حب دنیا اس امت مرحومہ پر جب پانچویں اور چھٹی صدی میں اس قدر غالب آچکا تھا تو پھر اب چودھویں صدی ہجری کا ذکر ہی کیا ! افسوس ہے کہ انبیاء اور اولیاء کی حقیقی بزرگی کی طرف سے ان کے باطنی کمالات، ان کے اخلاقی فضائل کی طرف سے دنیا کی آنکھیں کل بھی بند رہیں اور آج بھی بند ہیں۔
Ayah 11:2838۔ (اور اپنے کو صریح صاحب وحی پارہا ہوں)
39۔ یعنی دلائل و شواہد پر جب تم غور کیا ہی نہ چاہوتو کیا اسے میں زبردستی تمہارے حلق میں اتاردوں ؟ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” انلزمکموھا “۔ الخ سے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ منکر کو اہل اللہ سے استفادہ نہیں ہوسکتا اور جب تک وہ منکر رہے گا ان سے نفع نہ حاصل کرسکے گا۔
Ayah 11:2940۔ (جیسا کہ تم چاہتے ہو) (آیت) ” ان اجری الا علی اللہ “۔ یعنی میرا سہارا تو صرف رضاء الہی اور اجر اخروی ہے۔ (آیت) ” لا اسئلکم علیہ مالا “۔ میں کیا اپنے موعظت و دعوت کی کوئی فیس تم سے طلب کررہا ہوں جو تم اس کی گراں باری سے کچلے جاتے ہو۔ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ عبادت واجب پر معاوضہ لینا ناجائز ہے۔ (آیت) ” وما انا بطارد الذین امنوا “۔ محققین صوفیہ نے کہا ہے کہ مسکینوں اور کم حیثیت والوں کو حضوری مجالس اور التفات خاص سے محروم نہ رکھنا عین سنت انبیاء ہے)
41۔ (کہ توحید جیسے عقیدہ سے جو سرتا سر فطرت سلیم کے عین مطابق ہے گزیز کئے چلے جارہے ہو) (آیت) ” انھم ملقوا ربھم “۔ یعنی یہ لوگ عزت ومقبولیت کے ساتھ اپنے پروردگار کے حضور میں حاضر ہونے والے ہیں۔ سو ان کی اہانت میں کیسے کرسکتا ہوں۔ لانھم من اھل الزلفی المقربون الفائزون عند اللہ تعالیٰ (روح) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے پاس حاضری کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ ای مصدقون بلقاء ربھم یؤمنون بہ (کشاف)
Ayah 11:3042۔ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ بالفرض میں تمہاری خوشی پوری کرنے کو انہیں اپنے پاس سے دھتکار بھی دوں تو خود ہی اللہ کی گرفت میں آجاؤں گا۔ اس وقت مجھے کون بچائے گا ؟ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” من ینصرنی من اللہ ان طردتھم “۔ کے تحت میں طالب کے حقوق شیخ پر آگئے، آیت کے الفاظ میں اشارہ ادھر ہے کہ جو شخص حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو، اس سے اعراض نہ چاہیے کیونکہ اس کی طرف حق تعالیٰ کو بھی توجہ ہوتی ہے۔
Ayah 11:3143۔ یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے مخاطبین کے ایک ایک شبہ کا ازالہ فرما رہے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ میں نہ اللہ کی خزانوں کا خزانچی ہوں کہ دنیوی نعمتوں میں سے جو جس کو چاہوں اسے دلادوں اور نہ کاہنوں کی طرف غیب دانی کا دعوی رکھتا ہوں، اور نہ دیوتا کی قسم سے ہوں اور نہ (ان) عوام ہی کی قسمت کا ذمہ لئے ہوں پیغمبر کی اس تقریر میں وقت کی ایک ایک گمراہی کا رد موجود ہے۔ (آیت) ” لااقول لکم عندی خزآئن اللہ “۔ جاہلی قومیں بس یہی چاہتی ہیں کہ جس کا دامن پکڑیں اس کے وسیلہ سے دنیوی فلاح و ترقی بھی ہر قسم کی حاصل ہوجائے۔ (آیت) ” ولآ اعلم الغیب “۔ جاہلی قوموں نے بزرگی کا ایک لازمہ غیب دانی کو بھی سمجھا ہے۔ (آیت) ” انی ملک “۔ ملک کا ترجمہ جاہلی قوموں کے سیاق میں ” دیوتا “ یا ” مافوق البشر “۔ سے ہونا چاہیے۔ (آیت) ” لااقول۔۔۔ خیرا “۔ جاہلی قوموں میں خواص کو بڑی فکر اس کی لگی رہتی ہے کہ عوام بھی کہیں ان کے برابر نہ آجائیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ صاحب ارشاد کا صاحب تصرف ہونا یا صاحب کشف ہونا، یاضروریات بشری میں عام انسانوں سے ممتاز ہونا ہرگز ضروری نہیں، صرف صاحب علم وعمل ہونا ضروری ہے۔
44۔ (میں ان کی قسمت کی بھلائی سے انکار کرنے والا کون، اگر یہ مخلص وصادق ہیں تو خیر دارین ان کا حصہ ہے اور ان کے صدق واخلاص کا جاننے والا اللہ ہے ، )
45۔ یعنی اگر میں نے خواہ مخواہ تمہاری رائے کی موافقت میں اپنے ان پیرو وں کو منافق ٹھہرا دیا۔
Ayah 11:3246۔ اب منکرین کھلم کھلا پیغمبر وقت کو چیلنج کررہے ہیں کہ جس عذاب کی دھمکی دیتے چلے آئے ہو وہ اب لے آؤ نا ! (آیت) ” ینوح۔۔۔ جدالنا “۔ آیت سے یہ مضمون نکل رہا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) عقائد حق کی تائید میں دلائل و شواہد ایک طویل مدت تک پیش کرتے رہے۔
Ayah 11:3347۔ (کہ وہ عذاب واقع کرنا چاہے اور تم نہ ہونے دو ) (آیت) ” انما۔۔۔۔ شآء “۔ یعنی میں عذاب لانے والا کون میرا کام تو بس احکام اور پیام کا پہنچا دینا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ایسا ہی کہنا اہل حق کی شان ہے ورنہ اہل باطل کی زبان پر تو بڑے بڑے دعوے رہتے ہیں کہ جو میرا مخالف ہے اس کا حال یہ کردوں گا اور وہ کردوں گا۔
Ayah 11:3448۔ (تمہارے عناد و استکبار کی بناء پر) (آیت) ” ان کان اللہ “۔ اللہ کا ذکر یہاں بہ حیثیت تکوینی علت العلل یا مسبب الاسباب کے ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ارشاد کا مطلب یہ ہوا کہ جب اپنی بدقسمتی سے تم خود ہی اپنے لئے نفع حاصل کرنا اور نقصان سے بچنا نہ چاہو تو میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ہدایت شیخ کے قبضہ میں نہیں۔
Ayah 11:3549۔ یہ آخری اور انقطاعی جواب ہے کہ خیرتم کسی طرح نہیں سمجھتے تو نہ سمجھو اپنا جرم میں خود بھگت لوں گا تو خود اپنی خبر لو، منکرین کے اعتراض کا اصل جواب آیت نمبر 13 کے ذیل میں آچکا ہے کہ اگر میں قرآن تصنیف کرسکتا ہوں تو خیر تم سب مل ملا کر پورا قرآن نہ سہی اس کی دس ہی سورتیں تیار کرکے دکھادو۔ اوپر سے حکایت حضرت نوح (علیہ السلام) کی چل رہی تھی آگے بھی وہی ملے گی درمیان میں مناسبت مقام سے یہ آیت رسول اللہ ﷺ اور آپ کے معاند معاصرین سے متعلق آگئی، عن مقاتل انھا فی شان النبی ﷺ مع مشرکی مکۃ (روح) ھذا کلام معترض فی وسط ھذہ القصۃ مؤکد لھا مقرر لھا بقولہ تعالیٰ لمحمد ﷺ ام یقول ھؤلاء الکفافرون الجاحدون افتری ھذا وافتعلہ من عندہ (ابن کثیر) لیکن دوسرے اقوال میں اسے حکایت نوح (علیہ السلام) ہی سے متعلق قرار دیا ہے۔ (آیت) ” مماتجرمون “۔ یعنی یہ کہ افترائے وحی کا الزام مجھ پر رکھ رہے ہو۔ اے من اجرامکم فی اسناد الافتراء الی (کشاف۔ بیضاوی) (آیت) ” علی اجرامی “۔ یعنی میرے گناہ کا وبال میرے ہی اوپر رہے گا۔ تقدیر کلام فعلی عقاب اجرامی سمجھی گئی ہے اے ان کنت افتریتہ فعلی عقاب جرمی وان کنت صادقا وکذبتمونی فعلیکم عقاب ذلک التکذیب (کبیر)
Ayah 11:3650۔ (جب دعوت وتبلیغ کو مدت مدید ہوچکی) توریت میں ہے : اور نوح (علیہ السلام) خدا کے ساتھ چلتا تھا۔ پر زمین خدا کے آگے بگڑی ہوئی تھی اور زمین ظلم سے بھری تھی اور خدا نے زمین پر نظر کی اور دیکھا کہ وہ بگڑگئی، کیونکہ ہر ایک بشر نے اپنے اپنے طریقہ کو زمین پر بگاڑا تھا۔ “۔ (پیدائش 6: 10۔ 12)
51۔ (کیونکہ غم تو خلاف توقع سے ہوتا ہے اور اب ان سے کوئی توقع ہی بجز مخالفت کے نہیں) گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم مل گیا کہ اب نصیحت وانتظار بےسود ہے بددعا کیجیے سزا دی جائے، توریت میں ہے :۔ ”’ اور خدا نے نوح سے کہا کہ سب بشر کی اجل میرے سامنے آپہنچی ہے۔ اس لئے کہ ان کے سبب زمین ظلم سے بھر گئی اور دیکھ میں ان کو زمین کے ساتھ نابود کروں گا۔ “۔ (پیدائش 6 : 13)
Ayah 11:3752۔ (کہ اس کے ذریعہ سے تم اور مومنین طوفان سے محفوظ رکھے جاؤگے) (آیت) ” الفلک “۔ مسیحی علماء کی تحقیق کے مطابق یہ کشتی طول میں 525 فٹ، عرض میں 2187 فٹ اور بلندی میں 2152 فٹ تھی، ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر القرآن انگریزی، نیز ملاحظہ ہو پارہ 11 میں سورة یونس میں حواشی متعلقہ۔ توریت میں ہے :۔” تو اپنے واسطے گو پھر کی لکڑی کی ایک کشتی بنا۔ اس کشتی میں کوٹھریاں تیار کر اور اس کے باہر اور بھتیر رال لگا اور اس کی ایسی بنا کہ اس کی لمبائی تین سو ہاتھ اور اس کی چواڑئی پچاس ہاتھ اور اس کی اونچائی تیس ہاتھ کی ہو اور اس کشتی میں ایک روشندان بنا۔ اوپر سے لے کر ہاتھ بھر میں اسے تمام کر اور کشتی کی ایک طرف دروازہ بنا اور نیچے کا طبقہ اور دوسرا اور تیسرا بھی بنا “۔ (پیدائش 6: 14۔ 16) یہ کشتی کس ساخت اور پیمانہ کی تھی ؟ اس کی جو تفصیلات بائبل میں ہیں، قرآن نے ان سے یکسر قطع نظر کرلی ہے اس لئے کہ ان تفصیلات سے حاصل کچھ بھی نہیں اور اسی لئے اس قسم کی تحقیقات کے زیادہ درپے ہوجانا کوئی مفید خدمت دین کی نہیں۔ امام رازی (رح) نے خوب فرمایا ہے کہ یہ ساری بحثیں بیکار ہیں۔ مومن کے لئے بس اس قدر جان لینا کافی ہے کہ کشتی میں اتنی گنجائش تھی کہ اس وقت کی مومن آبادی اور جانوروں کے جوڑے اس میں سماگئے تھے کہ قرآن میں مذکور اسی قدر ہے۔ (کبیر) اور صاحب روح المعانی نے بھی اسی قسم کی تقریر کی ہے۔ (آیت) ’ باعیننا “۔ محاورہ میں اس سے کنایہ ہوتا ہے حفاظت ونگرانی سے۔ جعل العین کنایۃ عن الاحتیاط فلھذا قال المفسرون معناہ بحفظنا ایاک (کبیر) قیل ان ملابسۃ العین کنایۃ عن الحفظ وملا بسۃ الاعین لمکان الجمع کنایۃ عن کمال الحفظ والمبالغۃ فیہ (روح) ذکر العین لتضمنھا معنی الرعایۃ وقولہ تعالیٰ واصنع الفلک باعیننا اے برعایۃ منا وحفظ (ابو البقا)
53۔ (اور ان کے حق میں سفارش بیکار ہے) توریت میں ہے :۔ ” اور دیکھ میں ہاں، میں ہی زمین پر طوفان کا پانی لاتا ہوں کہ ہر ایک جسم کو جس میں زندگی کا دم ہے، آسمان کے نیچے سے مٹا ڈالوں اور سب جو زمین پر ہیں مرجائیں گے، پر میں تجھ سے اپنا عہد قائم رکھوں گا۔ (پیدائش 6: 17)
Ayah 11:3854۔ اس کا یہ مطلب لازمی طور پر نہیں کہ خود اپنے ہاتھ سے بنانے لگے۔ اپنی نگرانی میں کاریگروں سے بنوانا بھی اپنے ہی بنانے کے حکم میں داخل ہے۔
55۔ (کہ یہ کیسے خبطی ہیں پانی کا نام نہ نشان اور یہ خواہ مخواہ اپنے کو اس زحمت میں ڈالے ہوئے ہیں) اور کوئی کوئی اس طرح کے فقرہ بھی کہہ گزرتا کہ واہ نبوت کرتے کرتے نجاری بھی کرنے لگے۔ یقولون لہ صرت نجارا بعد ماکنت نبیا (بیضاوی) جہاں یہ قوم آباد تھی وہ کوئی نشیبی علاقہ نہیں ایک بلند میدان تھا اور قریب ترین سمندر یعنی خلیج فارس سے صد ہا میل کے فاصلہ پر اس لیے ان لوگوں کا اپنے نقطہ نظر سے حیرت کرنا کچھ بیجا تھا بھی نہیں۔
56۔ (کہ عذاب کا وقت موعود اتنا قریب آلگا اور تم اسے ہنسی کھیل سمجھ رہے ہو ہمیں اس پر ہنسی آرہی ہے) فانا نسخر منکم مما انتم فیہ من الاعراض عن استدفاعہ فالایمان والطاعۃ (روح) دوسرے معنی صیغہ مستقبل میں بھی ہوسکتے ہیں کہ جس طرح تم آج ہم پر ہنس رہے ہو، ہم کل تم پر ہنسیں گے جب تم غرق اور آخرت میں عذاب میں مبتلا ہورہے ہوگے۔ ان تسخر وا منا فی ھذہ الساعۃ فانا نسخر منکم سخریۃ مثل سخریتکم اذا وقع علیکم الغرق فی الدنیا والخزی فی الاخرۃ (کبیر) یعنی فی المستقبل (کشاف) رہا یہ شبہ کہ تمسخر پیغمبری کی شان سے فروتر ہے بالکل ہی سطحی ہے جواب ومقابلہ کے موقع پر اس قسم کے الفاظ کا استعمال محاورۂ قرآنی میں عام ہے۔ جزاء سیءۃ سیءۃ مثلھا۔ انھم یکیدون کیدا واکید کیدومکروا ومکر اللہ۔ وقس علی ھذا اور دیباطہ تفسیر میں اسلوب عرب کی صنعت مشاکلۃ کا ذکر مستقلا آچکا ہے۔ واطلاق السخریۃ علیھم حقیقۃ و (علیہ السلام) للمشاکلۃ (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ انتقام کے موقع پر جواب بالمثل سے کام لینا مکارم اخلاق کے منافی نہیں۔
Ayah 11:3957۔ عذاب مقیم کا تعلق بعد مرگ اور عالم آخرت سے ہے اور عذاب خزی کا تعلق اسی موجودہ زندگی سے۔ عذاب یخزیہ۔ یرید بالعذاب عذاب الدنیا وھو الغرق (مدارک) عذاب مقیم وھو عذاب الاخرۃ (مدارک)
Ayah 11:4058۔ (جو علامت تھی آغاز عذاب موعود کی) (آیت) ” اذاجآء امرنا “۔ یعنی جب غرقابی کے ذریعہ ان پر عذاب دنیوی کے نزول کا حکم آپہنچا۔ (آیت) ” وفارالتنور “۔ فقرہ کے صحیح معنی صرف اس قدر ہیں کہ زمین سے پانی نے جوش مارنا شروع کیا، تنور کے معنی صرف سطح زمین یا بلند زمین کے ہیں یا چشمہ پھوٹنے کی جگہ کے ہیں۔ ابن عباس ؓ صحابی اور متعدد تابعین سے یہی معنی مروی ہیں۔ التنوروجہ الارض (ابن جریر عن ابن عباس) وجہ الارض (ابن جریر عن الضحاک وعکرمۃ) التنور وجہ الارض والعرب تسمیہ تنورا قالہ ابن عباس وعکرمۃ والزھری وابن عیینۃ (بحر) ۔۔۔ وجہ الارض وکل مفجر ماء ومحفل ماء الوادی (قاموس) التنور اشرف الارض وارفعھا (ابن جریر عن قتادۃ) اہل لغت نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ لفظ اصلاعربی نہیں بلکہ فارسی سے معرب ہو کر آیا ہے۔ فارسی معرب (لسان) لفظی ست مشترک میان فارسی وعربی وتر کی (برہان قاطع) تاج العروس میں ہے کہ دیباج، دینار، سندس، استبرق وغیرہ کی طرح اس باہر سے آئے ہوئے لفظ کو بھی عرب اپنا چکے ہیں۔ تنور کے اگر وہی معنی لیے جائیں جو اردو میں متعارف ومتداول ہیں تو التنور سے مراد یا تو کوئی مخصوص و متعین تنور ہوگا اور یا جنس تنور۔ یحتمل ان تکون ال فیہ للعھد لتنور مخصوص ویحتمل ان تکون للجنس (بحر) قیل لیس المرادبہ تنورا معینا بل الجنس والمراد فار الماء من التنانیر (روح) بہرحال معنی جو بھی لیے جائیں پانی کا یہ جوش مارنا بہ طور طوفان عظیم کی علامت کے ہوگا۔
59۔ (ای نوح) اس کل سے مراد یقیناً آبی اور ہوائی اور زمینی جانوروں کے سارے انواع و اقسام نہیں ہوسکتے بلکہ مراد صرف خشکی ہی کے جانور ہیں اور ان میں بھی صرف وہ جو عادۃ انسان کے کام آتے رہتے ہیں۔ اے من کل نوع من الحیوانات ینتفع بہ الذین ینجون من الغرق (روح) لفظ (آیت) ” کل “۔ کے اس محدود معنی میں استعمال کی مثالیں قرآن مجید ہی میں بہ کثرت مل جاتی ہیں۔ یہ صراحت کہ اس چھوٹے سے جہاز میں پاک وناپاک پرندے اور چارپائے اور حشرات الارض ہر قسم کے جانور آگئے تھے صرف بائبل میں ملتی ہے۔ وہاں وعدۂ الہی بھی یہی ملتا ہے کہ سب وہ جاندار موجودات کو جنہیں میں نے بنایا زمین پر سے مٹاڈالوں گا۔ “ (پیدائش 7: 4) اور عمل بھی اسی وعید کے مطابق ہواچنانچہ ” سب جاندار جو زمین چلتے تھے چرندے اور پرندے اور جنگلی جانور، اور کیڑے مکوڑے جو زمین پر رینگتے تھے اور سب انسان مرگئے۔ سب جن کے نتھنوں میں زندگی کا دم تھا ان میں سے جو خشکی پر رہتے تھے مرگئے بلکہ سب موجودات جو روئے زمین پر جان رکھتی تھیں مٹ گئیں، انسان سے لے کے حیوان تک اور کیڑے مکوڑوں اور آسمان کے پرندوں تک وہ سب زمین سے مٹ گئیں۔ “ (پیدائش 7: 21۔ 23) (آیت) ” زوجین اثنین “۔ یعنی ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ۔
60۔ چناچہ وہی بہت قلیل المقدار مومنین جہاز پر سوار کیے گئے۔ (آیت) ” الا من سبق علیہ القول “۔ یعنی بجز ان کے جن پر ان کے کفر کے کفر کے پاداش میں غرق ہونے کا حکم صادر ہوچکا۔ باوجود نوح (علیہ السلام) کے رشتہ دار ہونے کے توریت میں اس مقام پر ہے :۔ ” اور تو کشتی میں جائے گا، تو اور تیرے بیٹے اور تیری جورو اور تیرے بیٹوں کی جو رواں تیرے ساتھ اور سب جانوروں میں سے ہر ایک جنس کے دو دو اپنے ساتھ کشتی میں لے کہ وہ بچ جائیں، چاہیے کہ وہ نر و مادہ ہوں “۔ (پیدائش 6: 8۔ 9)