11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsبیان القرآن

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الرا (کے معنی تو اللہ کو معلوم) یہ (قرآن) ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں (دلائل سے) محکم کی گئی ہیں پھر (اس کے ساتھ) صاف صاف (بھی) بیان کی گئی ہیں۔ (1)

Ayah 11:2

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

ایک حکیم باخبر کی طرف سے ہے یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو (الله) کی طرف سے (ایمان نہ لانے پر عذاب سے) ڈرانے والا اور (ایمان لانے پر ثواب کی) بشارت دینے والا ہوں۔ (2)

Ayahs 11:3–4

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور (یہ بھی ہے کہ) تم لوگ اپنے گناہ (شرک و کفر وغیرہ) اپنے رب سے معاف کراؤ (ف 4) پھر (ایمان لا کر) اس کی طرف (عبادت سے) متوجہ رہو وہ تم کو وقت مقرر (یعنی وقت موت) تک (دنیا میں) خوش عیشی دے گا اور (آخرت میں) ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ ثواب دے گا اور اگر (ایمان لانے سے) تم لوگ اعراض (ہی) کرتے رہے تو مجھ کو (اس صورت میں) تمہارے لیے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ (3)

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم (سب) کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے اور وہ ہر شے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ (4)

ف 4۔ خوش عیشی سے مراد وہ ہے جس کواٰتنا فی الدنیا حسنة اور لنحیینہ حیوة طیبہ میں ذکر فرمایا ہے۔
Ayahs 11:5–6

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

یاد رکھو وہ لوگ دہرا کیے دیتے ہیں اپنے سینوں کو ( اور اوپر سے کپڑا لپیٹ دیتے ہیں) تاکہ اپنی باتیں اس (خدا) سے چھپا سکیں (ف 5) یاد رکھو کہ وہ لوگ جس وقت دہرے ہو کر اپنے کپڑے (اپنے اوپر) لپیٹتے ہیں وہ اس وقت بھی سب جانتا ہے جو کچھ چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں اور جو کچھ وہ باتیں ظاہر کرتے ہیں (کیوں کہ) بالیقین وہ (تو) دلوں کے اندر کی باتیں جانتا ہے۔ (5)

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور کوئی ( رزق کھانے والا) جاندار روئے زمین پر چلنے والا ایسا نہیں کہ اسکی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو اور وہ ہر ایک کی زیادہ رہنے کی جگہ کو اور چند روز رہنے کی جگہ کو جانتا ہے سب چیزیں کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں (منضبط اور مندرج ہیں۔ (6)

ف 5۔ یعنی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو باتیں کرتے ہیں تو اس ہیئت سے کرتے ہیں کہ کسی کو خبر نہ ہوجائے اور جس کو اعتقاد ہوگا کہ خدا کو ضرور خبر ہوتی ہے اور آپ کا صاحب وحی ہونا دلائل سے ثابت ہے پس وہ اخفاء کی یہ تدبیر کبھی نہ کرے گا پس یہ تدبیر کرنا گویا بدلالت حال اللہ سے پوشیدہ رہنے کی کوشش کرنا ہے۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہ ( الله) ایسا ہے کہ سب آسمان اور زمین کو چھ دن (کی مقدار) میں پیدا کیا اور اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تم کو آزماوے کہ (دیکھیں) تم میں اچھا عمل کرنے والا کون ہے (ف 1) اور اگر (آپ لوگوں سے) کہتے ہیں کہ یقینا تم لوگ مرنے کے بعد (قیامت کے دن دوبارہ) زندہ کیے جاؤ گے تو (ان میں) جو لوگ کافر ہیں (وہ قرآن کی نسبت جس میں بعث کی خبر ہے) کہتے ہیں کہ یہ تو نرا صاف جادو ہے۔ (ف 2) (7)

ف 1۔ مطلب یہ کہ زمین و آسمان کو پیدا کیا تمہارے حوائج و منافع اس میں پیدا کیے تاکہ تم ان کو دیکھ کر توحید پر استدلال کرو اور ان سے منتفع ہوکرمنعم کا شکر اور خدمت کہ عبادت ہے عمل صالح سے بجا لاو سو بعض نے ایسا کیا بعض نے نہ کیا۔ 2۔ جادو اس لیے کہتے ہیں کہ وہ باطل ہوتا ہے مگر موثر اسی طرح قرآن کو نعوذ باللہ باطل سمجھتے تھے لیکن اس کے مضامین کا موثر ہونا بھی مشاہدہ کرتے تھے اس مجموعہ پر یہ حکم کیا نعوذباللہ منہ۔
Ayahs 11:8–10

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر تھوڑے دنوں تک (مراد دنیوی زندگی سے ہے) ہم ان سے عذاب (موعود) کو ملتوی رکھتے ہیں (کہ اس میں حکمتیں ہیں) تو (بطور انکار و استہزاء کے) کہنے لگے کہ اس عذاب کو کون چیز روک رہی ہے (ف 3) یاد رکھو جس دن (وقت موعود پر) وہ (عذاب) ان پر ان پڑے گا تو پھر کسی کے ٹالے نہ ٹلے گا اور جس (عذاب) کے ساتھ یہ استہزاء کر رہے تھے وہ ان کو آ گھیرے گا۔ (ف 4) (8)

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان کو اپنی مہربانی کا مزہ چکھا کر اس سے چھین لیتے ہیں تو وہ ناامید اور ناشکر ہوجاتا ہے۔ (9)

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر اس کو کسی تکلیف کے بعد جو اس پر واقع ہوئی کسی نعمت کا مزہ چکھا دیں تو ایسا اتراتا ہے کہ) کہنے لگتا ہے کہ میرا سب دکھ رخصت ہوا اب کبھی نہ ہوگا پس) وہ اترانے لگتا ہے شیخی بگھارنے لگتا ہے۔ (10)

ف 3۔ یعنی اگر عذاب کوئی چیز ہوتی تو اب تک ہو چکتا۔ جب نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں۔ 4۔ مطلب یہ ہوا کہ باوجود استحقاق کے یہ تاخیر اس لیے ہے کہ بعض حکمتوں سے اس کا وقت معین ہے پھر اس وقت ساری کسر نکل جائے گی۔
Ayahs 11:11–14

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

مگر جو مستقل مزاج ہیں اور نیک کام کرتے ہیں (ف 5) وہ ایسے نہیں ہوتے (ف 6) ایسے لوگوں کے لیے بڑی مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ (ف 7) (11)

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

سو شاید آپ (تنگ ہوکر) ان احکام میں سے جو آپ کے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیجے جاتے ہیں بعض کو (کہ وہ تبلعغ ہے) چھوڑ دینا چاہتے ہیں اور آپ کا دل اس بات سے تنگ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ (اگر یہ نبی ہیں تو) ان پر کوئی خزانہ کیوں نازل نہیں ہوا یا ان کے ہمراہ کوئی فرشتہ (جو ہم سے بھی بولا جاتا) کیوں نہیں آیا آپ تو (ان کفار کے اعتبار سے) صرف ڈرانے والے ہیں اور پورا اختیار رکھنے والا ہر شے پر (تو) اللہ ہی ہے۔ (12)

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

کیا (اس کی نسبت) یوں کہتے ہیں کہ (نعوذ بالله) آپ نے اس کو (اپنی طرف سے) خود بنا لیا ہے آپ (جواب میں) فرما دیجیئے کہ (اگر یہ میرا بنایا ہوا ہے) تو (اچھا) تم بھی اس جیسی دس سورتیں (جو تمہاری) بنائی ہوئی (ہوں) لے آؤ اور اپنی مدد کے لیے جن جن غیر اللہ کو بلا سکو بلا لو اگر تم سچے ہو۔ (13)

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

پھر یہ کفار اگر تم لوگوں کا کہنا (کہ اس کی مثل بنا لاؤ) نہ کرسکیں تو تم (ان سے کہہ دو کہ اب تو) یقین کرلو کہ یہ قرآن اللہ ہی کے علم ( اور قدرت) سے اترا ہے اور (یہ بھی یقین کرلو) کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو پھر اب مسلمان ہوتے ہو یا نہیں۔ (14)

ف 5۔ مراد اس سے مومنین ہیں۔ 6۔ وہ زوال نعمت کے وقت صبر سے کام لیتے ہیں اور عطائے نعمت کے وقت شکر وطاعت کہ حاصل ہے اعمال صالحہ کا بجالاتے ہیں۔ 7۔ خلاصہ یہ کہ بجز مومنین کے اکثر آدمی ایسے ہی ہیں کہ ذرا سی میں نڈر ہوجائیں اس لیے یہ لوگ تاخیر عذاب کے سبب بےخوف اور منکر ہوگئے۔
Ayah 11:15

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو شخص (اپنے اعمال خیر سے محض حیات دنیوی کی (منعفت) اور اس کی رونق (حاصل کرنا) چاہتا ہے تو ہم ان لوگوں کے (ان) اعمال (کی جزاء) ان کو دنیا ہی میں پورے طور سے بھگتا دیتے ہیں اور ان کے لیے دنیا میں کچھ کمی نہیں ہوتی۔ (ف 1) (15)

ف 1۔ یعنی دنیا میں ہی ان اعمال کے عوض ان کو نیک نامی اور صحت وفراغ عیش و کثرت اموال اولا عنایت کردیا جاتا ہے۔
Ayah 11:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں کہ انکے لیے آخرت میں بجز دوزخ کے اور کچھ (ثواب وغیرہ) نہیں اور انہوں نے جو کچھ کیا تھا وہ آخرت میں سب کا (سب) ناکارہ (ثابت) ہوگا اور (واقع میں تو) جو کچھ کر رہے ہیں وہ (اب بھی) بےاثر ہے۔ (ف 2) (16)

ف 2۔ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ کفار کی نیت بجز دنیا کے کچھ نہیں ہوتی بلکہ ان میں جو ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی نیت بجز دنیا کے کچھ نہ ہو اس آیت میں ان کا بیان ہے۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

کیا منکر قرآن ایسے شخص کی برابری کرسکتا ہے جو قرآن پر قائم ہو جو کہ اس کے رب کی طرف سے آیا ہے اور اس (قرآن) کے ساتھ ایک گواہ تو اسی میں موجود ہے (ف 3) اور (ایک) اس سے پہلے (یعنی) موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہے جو کہ (احکام بتلانے کے اعتبار سے) امام ہے اور رحمت ہے (ف 4) ایسے لوگ اس قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اور (کافر کا حال یہ ہے کہ) جو شخص دوسرے فرقوں میں سے اس قرآن کا انکار کرے گا تو دوزخ اس کے وعدہ کی جگہ ہے سو (اے مخاطب) تم قرآن کی طرف سے شک میں مت پڑنا بلا شک و شبہ وہ سچی کتاب ہے تمہارے رب کے پاس سے آئی ہے لیکن (باوجود دلائل کے غضب ہے کہ) بہت سے آدمی ایمان نہیں لاتے۔ (17)

ف 3۔ یعنی اس کا معجزہ ہونا جو کہ دلیل عقلی ہے۔ 4۔ یہ دلیل نقلی ہے غرض قرآن کے صدق وصحت کے لیے دونوں دلیلیں موجود ہیں۔
Ayahs 11:18–19

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور ایسے شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف 5) ایسے لوگ (قیامت کے روز) اپنے رب کے سامنے پیش کیے جاویں گے اور (اعمال کے) گواہ فرشتے (علی اعلان) یوں کہیں گے کہ یہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنے رب کی نسبت جھوٹی باتیں لگائی تھیں سب سن لو کہ ایسے ظالموں پر خدا کی (زیادہ) لعنت ہے۔ (18)

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو کہ (اپنے کفر و ظلم کے ساتھ) دوسروں کو بھی خدا کی راہ (یعنی دین) سے روکتے تھے اور اس (راہ) میں کجی ( اور شبہات) نکالنے کی تلاش ( اور فکر) میں رہا کرتے تھے (تاکہ دوسروں کو گمراہ کریں اور آخرت کے بھی منکر تھے۔ (19)

ف 5۔ یعنی اس توحید کا اس کے رسول کی رسالت کا اس کے کلام کے کلام ہونے کا انکار کرے۔
Ayahs 11:20–21

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ (تمام) زمین (کے تختہ) پر (بھی) خدا تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے تھے اور نہ ان کا خدا کے سوا کوئی مددگار ہوا (کہ بعد گرفتاری کے چھڑا لیتا) ایسوں کو ( اوروں سے) دونی سزا ہوگی (ف 6) یہ لوگ سن نہ سکتے تھے اور نہ (غایت عناد سے راہ حق کو) دیکھتے تھے۔ (20)

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ برباد کر بیٹھے اور جو معبود انھوں نے تراش کر رکھے تھے (آج) ان سے سب غائب ( اور گم) ہوگئے (کوئی بھی تو کام نہ آیا بس لازمی بات ہے) ۔ (21)

ف 6۔ ایک اپنے کافر ہونے کی ایک دوسروں کو کافر بنانے کی کوشش کرنے کی۔
Ayah 11:22

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

کہ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ میں یہی لوگ ہوں گے۔ (ف 1) (22)

ف 1۔ یہ تو انجام ہوگا کافروں کا آگے مسلمانوں کا انجام مذکور ہے۔
Ayah 11:23

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اچھے اچھے کام کیے اور (دل سے) اپنے رب کی طرف جھکے (ف 2) ایسے لوگ اہل جنت ہیں ( اور) وہ اس میں ہمشیہ رہا کریں گے۔ (ف 3) (23)

ف 2۔ یعنی انقیاد اور خشوع دل میں پیدا کیا۔ 3۔ یہ دونوں کے انجام کا تفاوت بیان ہوگیا آگے تفاوت حال کی مثال ہے۔ جس پر تفاوت مال مرتب ہوتا ہے۔
Ayahs 11:24–27

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دونوں فریق مذکورین (یعنی مومن و کافر) کی حالت ایسی ہے جیسے ایک شخص ہو اندھا بھی اور بہرا بھی اور ایک شخص ہو کہ دیکھتا بھی ہو اور سنتا بھی ہو (اس کو سمجھنا بہت آسان) کیا یہ دونوں شخص حالت میں برابر ہیں (ف 4) کیا تم (اس تفاوت کو) سمجھتے نہیں۔ (ف 5) (24)

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے پاس رسول بنا کر (یہ پیغام دے کر) بھیجا تم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت مت کرو۔ (25)

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

میں تم کو (در صورت عبادت غیر اللہ کے) صاف صاف ڈراتا ہوں میں تمہارے حق میں ایک بڑے تکلیف دینے والے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں۔ (26)

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

سو ان کی قوم میں جو کافر سردار تھے وہ (جواب میں) کہنے لگے کہ ہم تو تم کو اپنا ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارا اتباع انہیں لوگوں نے کیا ہے جو ہم میں بالکل رذیل ہیں ( جن کی عقل اکثر خفیف ہوتی ہے پھر) وہ (اتباع) بھی محض سرسری رائے سے اور ہم تم لوگوں میں (یعنی تم میں اور مسلمانوں میں) کوئی بات اپنے سے زیادہ بھی نہیں پاتے بلکہ ہم تم کو (بالکل) جھوٹا سمجھتے ہیں۔ (27)

ف 4۔ یہی حالت کافر اور مسلمان کی ہے کہ پہلا ہدایت سے بہت دور ہوا دوسرا ہدایت کے ساتھ موصوف ہے۔ 5۔ یعنی اس میں تردد ہونے کی گنجائش ہی نہیں بہت بدیہی ہے۔
Ayahs 11:28–29

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر (قائم) ہوں (جس سے میری نبوت ثابت ہوتی ہے) اور اس نے مجھ کو اپنے پاس سے رحمت (یعنی نبوت) عطا فرمائی ہو پھر وہ (نبوت یا اس کی حجت) تم کو نہ سوجھتی ہو تو ( میں کیا کروں میں مجبور ہوں) کیا ہم اس (دعویٰ یا دلیل) کو تمہارے گلے مڑھ دیں اور تم اس سے نفرت کیے چلے جاؤ۔ (ف 6) (28)

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور ( اتنی بات اور زائد فرمائی کہ) اے میری قوم میں تم سے اس (تبلیغ پر) کچھ مال نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو صرف اللہ کے ذمہ ہے اور میں تو ان ایمان والوں کو نکالتا نہیں (کیونکہ) یہ لوگ اپنے رب کے پاس (عزت و مقبولیت کے ساتھ) جانے والے ہیں لیکن واقعی تم لوگوں کو دیکھتا ہوں (کہ خواہ مخواہ کی) جہالت کر رہے ہو۔ (29)

ف 6۔ مطلب یہ کہ تمہارا کہنا کہ جی کو نہیں لگتا محض استبعاد ہے امتناع اجتماع نبوت و بشریت کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں اور میرے پاس وقوع اجتماع کی دلیل موجود ہے یعنی معجزہ وغیرہ نہ کہ کسی کا اتباع اس سے اس کا جواب بھی ہوگیا کہ ان کا اتباع حجت نہیں۔ لیکن انتاج دلیل کا موقوف ہے نظر پر تم نظر کرتے نہیں اور یہ میرے بس سے باہر ہے۔
Ayah 11:30

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور بالفرض والتقدیر) اگر میں ان کو نکال بھی دوں تو (یہ بتلاؤ) مجھ کو خدا کی گرفت سے کون بچا لے گا کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ (ف 7) (30)

ف 7۔ اس تقریر میں ان کے تمام مشتبہات کا جواب ہوگیا لیکن آگے ان سب جوابوں کا تتمہ ہے یعنی جب نبوت میری دلیل سے ثابت ہے تو اول دلیل کے سامنے استبعاد کوئی چیز نہیں پھر یہ کہ وہ مستبعد بھی نہیں البتہ کسی امر عجیب و غریب کا اگر دعوی کرتا تو انکار واستبعاد چنداں منکر ومستبعد نہ تھا گودلیل کے بعد وہ بھی مسموع نہیں البتہ اگر دلیل بھی مقتضی استبعاد کو ہو تو پھر واجب ہے لیکن میں تو کسی امر عجیب کا دعوی نہیں کرتا۔
Ayahs 11:31–33

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے تمام خزانے ہیں اور نہ ( میں یہ کہتا ہوں کہ) تمام غیب کی باتیں جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور جو لوگ تمہاری نگاہوں میں حقیر ہوں میں ان کی نسبت (تمہاری طرح) یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ ہرگز ان کو ثواب نہ دے گا ان کے دل میں جو کچھ ہو اس کو اللہ ہی خوب جانتا ہے میں تو اگر ایسی بات کہہ دوں تو اس صورت میں ستم ہی کر دوں۔ (ف 1) (31)

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ اے نوح (علیہ السلام) تم ہم سے بحث کرچکے پھر بحث بھی بہت کرچکے سو (اب ہم بحث وحث نہیں کرتے) جس چیز سے تم ہم کو دھمکایا کرتے ہو (کہ عذاب آجائے گا) وہ ہمارے سامنے لے آؤ۔ (32)

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا اس کو اللہ تعالیٰ بشرطیکہ اس کو منظور ہو تمہارے سامنے لاوے گا اور ( اس وقت پھر) تم اس کو عاجز نہ کرسکو گے۔ (33)

ف 1۔ کیونکہ بےدلیل دعوی کرنا گناہ کی بات ہے۔
Ayah 11:34

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور میری خیر خواہی تمہارے کام نہیں آسکتی گر میں تمہاری کیسی ہی خیر خواہی کرنا چاہوں جب کہ اللہ ہی کو تمہارا گمراہ کرنا منظور ہو (ف 2) وہی تمہارا مالک ہے اور اسی کے پاس تم کو جانا ہے۔ (34)

ف 2۔ مطلب یہ کہ جب تم ہی اپنی بدقسمتی سے اپنے لیے نفع حاصل کرنا اور نقصان سے بچنا نہ چاہو تو میرے چاہنے سے کیا۔
Ayahs 11:35–36

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے (نعوذ بالله) یہ قرآن تراش لیا ہے آپ (جواب میں) فرما دیجیئے کہ (اگر (بالفرض) میں نے تراشہ ہوگا تو میرا یہ جرم مجھ پر (عائد) ہوگا اور تم میرے جرم سے بری الزمہ ہوگے) اور میں تمہارے اس جرم سے بری الزمہ ہوں گا۔ (ف 3) (35)

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی گئی کہ سوا ان کے جو (اس وقت تک) ایمان لا چکے ہیں اور کوئی (نیا) شخص تمہاری قوم میں سے ایمان نہ لاوے گا سو جو کچھ یہ لوگ (کفر و ایذا و استہزاء) کر رہے ہیں ا سپر کچھ غم نہ کرو۔ (36)

ف 3۔ یہ اخیر درجہ کا جواب ہے اور اصل جواب وہ ہے کہ اس افتراء کا افتراء ہونا ثابت کردیا جائے جیسا کہ اسی سورت کے دوسرے رکوع میں جواب دیا ہے۔ قل فاتوبعشر سورمثلہ۔ لیکن جو شخص دلیل میں نہ قدح کرسکے اور نہ تسلیم کرے اخیر درجہ میں یہی کہا جاتا ہے کہ خیر بھائی جیسا میں نے کیا ہوگا بھگتوں گا جیسا کہ تم کررہے ہو تم بھگتو۔