11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsبیان القرآن

Ayahs 11:114–115

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور اے محمد ﷺ آپ نماز کی پابندی رکھیئے دن کے دونوں سروں پر (یعنی اول و آخر میں) اور رات کے کچھ حصوں میں (ف 1) بیشک نیک کام (نامہٴ اعمال سے) مٹا دیتے ہیں برے کاموں کو یہ بات ایک (جامع) نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لیے۔ (114)

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کیا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ (115)

ف 1۔ دن کے دوسروں سے مراد بعض کے نزدیک فجر اور عصر ہے اور بعض کے نزدیک دوسروں سے مراد دو حصے اول کا اور آخر کا اول کے حصہ میں نماز صبح ہے اور آخر کے حصہ میں ظہر اور عصر اور رات کے حصوں سے مراد مغرب اور عشاء کا وقت پس ایک قول پر اس آیت میں پانچوں نمازیں مراد ہیں اور ایک قول پر ظہر کی چانمازیں اور ظہر دوسری آیت میں مذکور ہے جو سورة روم میں ہے وحین تظہرون۔
Ayahs 11:116–118

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

تو جو امتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان میں ایسے سمجھدار لوگ نہ ہوئے جو کہ (دوسروں کو) ملک میں فساد (یعنی کفر و شرک) پھیلانے سے منع کرتے بجز چند آدمیوں کے کہ جن کو ان میں سے ہم نے ( عذاب سے) بچا لیا تھا (ف 2) اور جو لوگ نافرمان تھے وہ جس ناز و نعمت میں تھے اس کے پیچھے پڑے رہے اور جرائم کے خو گر ہوگئے۔ (ف 3) (116)

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور آپ کا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو کفر کے سبب ہلاک کر دے اور ان کے رہنے والے (اپنے اور دوسروں کی) اصلاح میں لگے ہوں۔ (117)

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اللہ کو منظور ہوتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی طریقہ کا بناتا اور آئندہ بھی ہمیشہ اختلاف (ہی) کرتے رہیں گے۔ (118)

ف 2۔ وہ جیسے خود کفر و شرک سے تائب ہوگئے تھے اور ان کو بھی منع کرتے رہتے تھے اور ان ہی دونوں عمل کی برکت سے وہ عذاب سے بچ گئے تھے اور باقی لوگ چونکہ خود ہی کفر میں مبتلا تھے انہوں نے اوروں کو بھی منع نہ کیا۔ 3۔ خلاصہ مطلب یہ کہ نافرمانی تو ان میں عام طور پر رہی اور منع کرنے والا کوئی ہوا نہیں اس لیے سب ایک ہی عذاب میں مبتلا ہوئے ورنہ کفر کا عذاب عام ہوتا۔ اور فساد کا خاص اب بوجہ منع کرنے کے غیر مفسد بھی مفسد ہونے میں شریک قرار دیے گئے اس لیے جو عذاب مجموعہ کفر و فساد پر نازل ہوا وہ بھی عام رہا۔
Ayah 11:119

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جس پر آپ کے رب کی رحمت ہو اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اسی واسطے پیدا کیا ہے اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہوگی کہ میں جہنم کو جنات سے اور انسانوں سے دونوں سے بھر دوں گا۔ (ف 4) (119)

ف 4۔ خود اس کی حکمت یہ ہے کہ جس طرح مرحومین میں صفت رحمت کا ظہور ہوا مغضوبین میں صفت غضب کی ظاہر ہو پھر اس ظہور کی حکمت یا اس حکمت کی حکمت اللہ ہی کو معلوم غرض اس ظہور کی حکمت سے جہنم میں جانا بعضوں کا ضرور اور جہنم میں جانے کے لیے وجود کفار کا تکوینا ضروری اور وجود کفار کے لیے اختلاف لازم یہ وجہ ہے سب کے مسلمان نہ ہونے کی۔
Ayahs 11:120–123

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور ہم پیغمبروں کے قصوں میں سے یہ سارے (مذکورہ) قصے آپ سے بیان کرتے ہیں جن کے ذریعے ہم آپ کے دل کو تقویت دیتے ہیں اور ان قصوں میں آپ کے پاس ایسا مضمون پہنچا ہے جو خود بھی راست ( اور واقعی) ہے اور مسلمانوں کے لیے نصیحت ہے اور یاد دہانی ہے۔ (ف 1) (120)

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور جو لوگ (باوجود ان حجج قاطعہ کے بھی) ایمان نہیں لاتے ان سے کہہ دیجیئے کہ ( میں تم سے الجھتا نہیں) تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو ہم بھی (اپنے طور پر) عمل کر رہے ہیں۔ (121)

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

اور (ان اعمال کے نتیجہ کے) تم (بھی) منتظر رہو ہم بھی منتظر ہیں۔ (122)

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

عنقریب حق و باطل کھل جاوے گا اور آسمانوں اور زمین میں جتنی غیب کی باتیں ہیں ان کا علم خدا ہی کو ہے اور سب امور اسی کی طرف رجوع ہوں گے تو اے محمد ﷺ آپ اسی کی عبادت کیجیئے جس میں تبلیغ بھی داخل ہے اور اسی پر بھروسہ رکھیئے اور آپ کا رب ان باتوں سے بیخبر نہیں جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو۔ (123)

ف 1۔ یعنی ایک فائدہ نبی کے لیے دوسرا امت کے لیے ہے۔ فائدہ۔ حق صفت ذاتیہ ہے آیات قرآنیہ کی جو قصص پر مشتمل ہیں اور موعظت اور ذکری اس کی صفات اضافیہ ہیں جن میں ایک زاجر اور ایک آمر ہے۔