12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsبیان القرآن

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الر یہ آیتیں ہیں ایک کتاب واضع کی۔ (1)

Ayah 12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم (بوجہ اہل لسان ہونے کے اولا) سمجھو ( اور تمہارے واسطے سے اور لوگ سمجھیں) ۔ (2)

Ayahs 12:3–5

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

ہم نے جو یہ قرآن آپ کے پاس بھیجا ہے (اس کے بھیجنے) کے ذریعے سے ہم آپ سے ایک بڑا عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں اور اس (ہمارے بیان کرنے) کے قبل آپ (اس سے) محض بیخبر تھے۔ (ف 3) (3)

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

(وہ وقت قابل ذکر ہے) جب کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد یعقوب (علیہ السلام) سے کہا ابا میں نے (خواب میں گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے ہیں ان کو اپنے روبرو سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ (4)

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

انہوں نے (جواب میں) فرمایا کہ بیٹا اپنے اس خواب کو اپنے بھائیوں کے روبرو بیان مت کرنا پس یہ (سمجھ کر) وہ تمہاری (ایذا رسانی کے) لیے کوئی خاص تدبیر کریں گے بلاشبہ شیطان آدمی کا صریح دشمن ہے۔ (5)

ف 3۔ کیونکہ آپ نے نہ کوئی کتاب پڑھی تھی نہ کسی صاحب کتاب سے فائدہ حاصل کیا تھا اور عوام میں ایسی کامل صحت کے ساتھ یہ قصہ مشہور نہ تھا پس اس سے ثابت ہوگیا کہ یہ قرآن وحی ہے۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح تمہارا رب تم کو منتخب کرے گا اور (تم کو علوم دقیقہ بھی دے گا مثلا) تم کو خوابوں کی تعبیر کا علم دے گا اور (نعمتیں دے کر بھی) تم پر اور یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان پر اپنا انعام کامل کرے گا جیسا اس سے قبل تمہارے دادا پر دادا یعنی ابراہیم (علیہ السلام) و اسحٰق (علیہ السلام) پر انعام کامل کرچکا ہے واقعی تمہارا رب بڑا علم و حکمت والا ہے۔ (ف 4) (6)

ف 4۔ یہ بشارتیں جو یعقوب (علیہ السلام) نے دیں یا تو اس خواب سے سمجھے یا وحی سے۔
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) اور ان کے (علاتی) بھائیوں کے قصہ میں دلائل موجود ہیں ان لوگوں کے لیے جو آپ سے ان لوگوں کا قصہ پوچھتے ہیں۔ (ف 1) (7)

ف 1۔ یوسف (علیہ السلام) کو ایسی بےکسی اور بےبسی سے اس سلطنت و رفعت کو پہنچا دینا یہ خدا ہی کا کام تھا اس سے مسلمانوں کو جو کہ کسی قصہ کے خواہاں تھے عبرت اور قوت ایمان حاصل ہوگی اور یہود کو کہ انہوں نے خصوصیت کے ساتھ یہ قصہ پوچھا تھا دلیل نبوت مل سکتی ہے اگر غور کریں۔
Ayah 12:8

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

وہ وقت قابل ذکر ہے جب ان کے (علاتی) بھائیوں نے (باہم مشورہ کے مطابق) گفتگو کی کہ (یہ کیا بات ہے کہ) یوسف (علیہ السلام) اور ان کا (حقیقی) بھائی (بنیامین) ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں واقعی ہمارے باپ (اس مقدمے میں) کھلی غلطی میں ہیں۔ (ف 2) (8)

ف 2۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ سب سے زیادہ محبت ہونے کی وجوہ بیان کی گئی ہیں اقرب یہ ہے کہ فراست نبوت سے یعقوب (علیہ السلام) ان کو ہونہار دیکھتے تھے اور خواب سننے کے بعد یہ امرا اور زیادہ موکد ہوگیا تھا جیسا کہ ان کے ارشاد وکذالک یجتبیک۔ سے یہ امرمترشح ہوتا ہے۔
Ayah 12:9

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

یا تو یوسف (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالو یا ان کو کسی (دور دراز) سر زمین میں ڈال آؤ (پھر) تمہارے باپ کا رخ خالص تمہاری طرف ہوجائے گا (ف 3) اور تمہارے سب کام بن جاویں گے۔ (9)

ف 3۔ کیونکہ وہ دونوں صورتوں میں باپ سے جدا ہوجائیں گے۔
Ayahs 12:10–11

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

انہیں میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو قتل مت کرو (اس کی صورت یہ ہے کہ) ان کو کسی (ایسے) اندھیرے کنؤیں میں ڈال دو (ف 4) تاکہ ان کو کوئی راہ چلتا نکال لے جاوے اگر تم کو (یہ کام) کرنا ہے۔ (10)

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

سب نے (مل کر باپ سے) کہا کہ ابا اس کی کیا وجہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں آپ ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم ان کے (دل و جان سے) خیر خواہ ہیں۔ (11)

ف 4۔ جس میں پانی بھی زیادہ نہ ہو کہ ڈوبنے کا ڈر ہو ورنہ تو قتل ہی ہے اور یکایک ہر کسی کو اطلاع بھی نہ ہو کیونکہ اندھیرا کنواں ہے اور رہ گزر سے بھی دور نہ ہو۔
Ayahs 12:12–14

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

آپ ان کو کل کے روز ہمارے ساتھ (جنگل کو) بھیجیئے کہ ذرا وہ کھاویں کھیلیں (ف 5) اور ہم ان کی پوری محافظت رکھیں گے۔ (12)

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھ کو یہ بات غم میں ڈالتی ہے ہے کہ اس کو تم لے جاؤ اور (خوف یہ کہ) میں اندیشہ کرتا ہوں کہ اس کو کوئی بھیڑیا کھا جاوے اور تم (اپنے مشاغل میں) اس سے بیخبر رہو۔ (13)

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

وہ بولے کہ اگر ان کو بھیڑیا کھا جاوے اور ہم ایک جماعت کی جماعت (موجود) ہوں تو ہم بالکل ہی گئے گزرے ہوئے۔ (14)

ف 5۔ ظاہر لعب کو یعقوب (علیہ السلام) نے جائز رکھا باوجودیکہ امر عبث کی تجویز شان انبیاء کے خلاف ہے سو اصل یہ ہے کہ یہ لعب عبث نہیں مراد اس سے مسابقت وتیراندازی وغیرہ ہے جو کہ امور مفیدہ میں سے ہے جواب مشہور تو یہ ہے اور احقر کہتا ہے کہ تجدید نشاط بھی ہے جو کہ بچوں کے لیے ضروری اور مشاغل ضروریہ میں جی لگنے کا موقوف علیہ ہے اور ضروری کا مقدمہ بھی ضروری ہوتا ہے۔
Ayahs 12:15–17

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

سو جب ان کو لے گئے اور سب نے پختہ عزم کرلیا کہ ان کو کسی اندھیرے کنوئیں میں ڈال دیں اور ہم نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ تم ان لوگوں کو یہ بات جتلاؤ گے اور وہ تم کو پہچانیں گے بھی نہیں۔ (ف 6) (15)

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور (ادھر) وہ لوگ اپنے باپ کے پاس عشاء کے وقت روتے ہوئے پہنچے۔ (16)

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

کہنے لگے کہ ابا ہم سب تو آپس میں دوڑنے میں لگ گئے اور یوسف (علیہ السلام) کو ہم نے اپنی چیز بست کے پاس چھوڑ دیا بس (اتفاقا) ایک بھیڑیا (آیا اور) ان کو کھا گیا اور آپ تو ہمارا کا ہے کا یقین کرنے لگے گو ہم کیسے ہی سچے (کیوں نہ) ہوں۔ (17)

ف 6۔ چناچہ یہ وعدہ واقع ہوا۔
Ayah 12:18

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) کی قمیض پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے تھے یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا بلکہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنا لی ہے (ف 7) سو (خیر) صبر ہی کروں گا جس میں شکایت کا نام نہ ہوگا اور جو باتیں تم بناتے ہو ان میں اللہ ہی مدد کرے۔ (ف 8) (18)

ف 7۔ یعقوب (علیہ السلام) کا بل سولت فرمایا بنا برقول مشہور اس قمیص مسلم دیکھنے سے تھا لیکن اگر وہ روایت ثابت نہ ہو تو ذوق اجتہاد و شہادت قلب سے ہوگا جو کہ انبیاء میں اکثر تو مطابق واقع کے ہوتا ہے اور کبھی وہ گمان واقع کے خلاف بھی ہوجاتا ہے۔ 8۔ جب یعقوب کو یقینا ظنا یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا بیان غلط ہونامعلوم تھا تو یوسف کو تلاش کیوں نہ کیا غالب یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کو وحی سے اجمالا معلوم ہوگیا ہوگا کہ وہ تلف نہ ہوں گے لیکن میری قسمت میں مفارقت طویلہ مقدر ہے میری تلاش سے نہ ملیں گے۔
Ayahs 12:19–20

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

اور ایک قافلہ آ نکلا (جو مصر کو جاتا تھا) اور انہوں نے اپنا آدمی پانی لانے کے واسطے (یہاں کنوئیں پر) بھیجا اور اس نے اپنا ڈول ڈال کر کہنے لگا کہ ارے بڑی خوشی کی بات ہے یہ تو بڑا اچھا لڑکا نکل آیا اور ان کو مال (تجارت) قرار دے کر چھپا لیا (ف 1) اور اللہ کو ان کی سب کار گزاریاں معلوم تھیں۔ (ف 2) (19)

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور (یہ کہہ کر) ان کو بہت ہی کم قیمت پر بیچ ڈالا یعنی گنتی کے چند درہم کے عوض اور وہ لوگ کچھ ان کے قدردان تو تھے ہی نہیں۔ (20)

ف 1۔ کہ کوئی آکر دعویدار نہ ہو پھر اس کو مصر میں لے جاکر کسی بڑے آدمی کے ہاتھ بیچ کر خوب نفع کماویں گے۔ 2۔ کہ بھائی ان کو ببوطن اور قافلہ والے ذریعہ ثمن بنا رہے تھے اور اللہ ان کو شاہ زمن بنارہا تھا۔
Ayah 12:21

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور جس شخص نے مصر میں ان کو خریدا تھا (یعنی عزیز مصر) اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو خاطر سے رکھنا کیا عجب ہے کہ (بڑا ہو کر) ہمارے کام آوے یا ہم اسکو بیٹا بنالیں اور ہم نے اسی طرح یوسف (علیہ السلام) کو اس سر زمین (مصر) میں خوب قوت دی (مراد اس سلطنت سے ہے) اور تاکہ ہم ان کی خوابوں کی تعبیر بتلا دیں (ف 3) اور اللہ تعالیٰ اپنے (چاہے ہوئے) کام پر غالب ( اور قادر) ہے (جو چاہے کرے) لیکن اکثر آدمی (اس بات) کو نہیں جانتے۔ (ف 4) (21)

ف 3۔ مطلب یہ کہ نجات دینے سے مقصود یہ تھا کہ دولت ظاہری و باطنی سے مالامال کریں۔ 4۔ یہ جملہ قصہ کے درمیان میں بطور جملہ معترضہ کے آگیا تاکہ بیع وشراء کے ساتھ اول ہی سے سامعین کو معلوم ہوجائے کہ گویہ اس وقت ظاہرا ایسی ناگواری حالت میں ہیں مگر ہم نے ان کو اصل میں سلطنت رفعیہ وعلوم بدیعہ کے لیے بچایا ہے اور یہ حالتیں عارضی اور مقاصد اصلیہ کا مقدر نہیں ہیں کیونکہ ترقی سلطنت کا زینہ عزیز کے گھر کا آنا ہی ہوا اور اسی طرح علوم ووردات قلبیہ کے لیے مکار ومشاق سبب ہوجاتے ہیں پس اس اعتبار سے علوم کے فیضان میں بھی اس کو دخل ہوا اور مشترک طور پر امراء کے گھر میں پرورش پائی سلیقہ و تجربہ بڑھاتا ہے جس کی ضرورت سلطنت اور علوم دونوں میں ہے خصوص علم تعبیر میں۔
Ayahs 12:22–23

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا اور ہم نیک لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ (ف 5) (22)

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

اور جس عورت کے گھر میں یوسف (علیہ السلام) رہتے تھے وہ ان پر مفتون ہوگئی اور ان سے اپنا مطلب حاصل کرنے کو ان کو پھسلانے لگی ( اور گھر کے) سارے دروازے بند کردیئے ( اور ان سے) کہنے لگی کہ آجاؤ تم ہی سے کہتی ہوں یوسف (علیہ السلام) نے کہا اللهبچائے (گناہ کے علاوہ) وہ (یعنی تیرا شوہر) میرا مربی ( اور محسن) ہے کہ مجھ کو کیسی اچھی طرح رکھا۔ ایسے حق فراموشوں کو فلاح نہیں ہوا کرتی۔ (23)

ف 5۔ اس میں پہلے سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جو کچھ آگے قصہ میں بعض امور کی تہمت آپ کی نسبت آئے گی وہ سب غلط ہوگا کیونکہ وہ صاحب حکمت تھے جس کا حاصل ہے علم نافع یعنی علم مع العمل اور ان امور کا صدور غلط ہے۔
Ayahs 12:24–25

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور اس عورت کے دل میں تو ان کا خیال (عزم کے درجے میں) جم ہی رہا تھا اور ان کو بھی اس عورت کا کچھ کچھ خیال ہو چلا تھا (ف 6) اگر اپنے رب کی دلیل (ف 7) کو انہوں نے نہ دیکھا ہوتا (ف 8) تو زیادہ خیال ہوجانا عجب نہ تھا (ف 9) ہم نے اسی طرح ان کو علم دیا تاکہ ہم ان کے صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو دور رکھیں (ف 10) وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھے۔ (24)

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف دوڑے اور اس عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے پھاڑ ڈالا اور دونوں نے (اتفاقا) اس عورت کے شوہرکو دروازے کے پاس کھڑا پایا بولی کہ جو شخص تیری بی بی کے ساتھ بدکاری کا ارادہ کرے اس کی سزا بجزا اس کے اور کیا (ہو سکتی) ہے کہ وہ جیل خانہ بھیجا جائے یا اور کوئی دردناک سزا ہو۔ (25)

ف 6۔ امر طبعی کے درجہ میں جو کہ اختیار سے باہر ہے جیسا گرمی کے روزہ میں پانی کی طرف میلان طبعی ہوتا ہے گوروزہ توڑنے کا وسوسہ تک بھی نہیں آتا۔ 7۔ یعنی اس فعل کے گناہ ہونے کی دلیل کو کہ حکم شرعی ہے۔ 8۔ یعنی ان کو علم شریعت جو مقرون قوت عملیہ کے ساتھ ہے نہ ہوتا۔ 9۔ کیونکہ داعی اور اسباب ایسے ہی قوی تھے۔ 10۔ یعنی ارادے سے بھی بچایا اور فعل سے بھی بچایا۔
Ayahs 12:26–30

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا یہی مجھ سے اپنا مطلب نکالنے کو مجھ کو پھسلاتی تھی اور (اس موقع پر) اس عورت کے خاندان میں سے ایک گواہ نے شہادت دی (ف 11) کہ ان کا کرتہ ( دیکھو کہاں سے پھٹا ہے) اگر آگے سے پھٹا ہے تو عورت سچی اور یہ جھوٹے۔ (ف 12) (26)

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر وہ کرتہ پیچھے سے پھٹا ہے تو (عادة یقینی ہے کہ) عورت جھوٹی اور یہ سچے۔ (27)

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

سو جب (عزیز نے) ان کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا (عورت سے) کہنے لگا کہ یہ تم عورتوں کی چالاکی ہے بیشک تمہاری چالاکیاں بھی غضب ہی کی ہوتی ہیں۔ (28)

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

اے یوسف (علیہ السلام) اس بات کو جانے دو اور (عورت سے کہا) اے عورت تو (یوسف (علیہ السلام) سے) اپنے قصور کی معافی مانگ بیشک سر تا سر تو ہی قصور وار ہے۔ (29)

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور چند عورتوں نے جو کہ شہر میں رہتی تھیں یہ بات کہی کہ عزیز کی بی بی اپنے غلام کو اس سے اپنا (ناجائز) مطلب حاصل کرنے کے واسطے پھسلاتی ہے اس غلام کا عشق اس کے دل میں جگہ کر گیا ہے ہم تو اس کو صریحا غلطی میں دیکھتے ہیں۔ (30)

ف 11۔ ایک شیرخوار بچہ تھا جو یوسف (علیہ السلام) کے معجزہ سے بول پڑا اگر یوسف اس وقت نبی نہ ہوں تو اس خارق کو اصطلاح میں بجائے معجزہ کے ارہاص کہیں گے۔ 12۔ اس شاہد نے جو فیصلہ بتایا یہ کوئی حجت شرعی نہیں حجت کافیہ تو صرف اس کا نطق ہے لیکن حاضرین کے مذاق کے موافق اس کیا بیان کردینا حجت اصلیہ کے لیے زیادہ موید ہوگیا۔
Ayahs 12:31–32

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

سو جب اس عورت نے ان عورتوں کی بدگوئی کی (خبر) سنی تو کسی کے ہاتھ ان کو بلا بھیجا (کہ تمہاری دعوت ہے) اور ان کے واسطے مسند تکیہ لگا یا اور ہر ایک کو ان میں سے ایک ایک چاقو بھی دے دیا اور کہا ذرا ان کے سامنے تو آجاؤ سو عورتوں نے جو ان کو دیکھا تو (ان کے جمال سے) حیران رہ گئیں اور اس حیرت میں اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور کہنے لگیں ماشا اللہ یہ شخص آدمی ہرگز نہیں یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔ (ف 1) (31)

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

وہ عورت بولی تو (دیکھ لو) وہ شخص یہی ہے جس کے بارے میں تم مجھ کو برا بھلا کہتی تھیں (کہ اپنے غلام کو چاہتی ہے) اور واقعی میں نے اس سے اپنا مطلب حاصل کرنے کی خواہش کی تھی مگر یہ پاک صاف رہا اور اگر آئندہ کو میرا کہنا نہ کرے گا (جیسا کہ اب تک نہیں کیا) تو بیشک جیل خانہ بھیجا جاوے گا اور بےعزت بھی ہوگا۔ (32)

ف 1۔ مطلب یہ کہ ایسا حسن و جمال آدمی میں کب ہوتا ہے فرشتے البتہ ایسے نورانی ہوتے ہیں۔
Ayahs 12:33–36

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے رب جس (واہیات) کام کی طرف یہ عورتیں مجھ کو بلا رہی ہیں اس سے تو جیل خانہ ہی جانا مجھ کو زیادہ پسند ہے اور اگر آپ ان کے داؤ پیچ کو مجھ سے دفع نہ کریں گے تو ان کی (صلاح کی) طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانی کا کام کر بیٹھوں گا۔ (ف 2) (33)

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

سو ان کی دعا ان کے رب نے قبول کی اور ان عورتوں کے داؤ پیچ کو ان سے دور رکھا بیشک وہ (دعاؤں کا) بڑا سننے والا اور ان کے حال کا خوب جاننے والا ہے۔ (34)

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر مختلف نشانیاں دیکھنے کے بعد ان لوگوں کو (یعنی عزیز کو اور اس کے متعلقین کو) یہی مصلحت معلوم ہوا کہ ان کو ایک وقت (خاص) تک قید میں رکھیں۔ (35)

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ یعنی (اسی زمانہ میں) اور بھی دو غلام (بادشاہ کے) جیل خانہ میں داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے اپنے خواب میں (کیا) دیکھتا ہوں کہ (جیسے) شراب نچوڑ رہا ہوں دوسرے نے کہا میں اپنے کو اس طرح دیکھتا ہوں کہ (جیسے) اپنے سر پر روٹیاں لیے جاتا ہوں ( اور) اس میں سے پرندے (نوچ نوچ) کر کھاتے ہیں ہم کو اس خواب کی تعبیر بتلائیے آپ ہم کو نیک آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ (36)

ف 2۔ یوسف (علیہ السلام) کا یہ فرمانا الاتصرف عنی۔ منافی عصمت کے نہیں کیونکہ یہ عصمت بھی تو بدولت حفاظت خداوندی ہی کے ہے چونکہ انبیاء کی نظر اصلی موثر کی طرف ہوتی ہے اس لیے ان کو اپنی عصمت پر اعتماد اور ناز نہیں ہوتا اور یوسف کا یہ کہنا الاتصرف مقصود اس سے یہ ہے کہ اصرف عنی اس لیے اس کے بعد فاستجاب فرمایا اور اس استجابت کا بیان خود قرآن میں ہے فصرف عنہ۔ فائدہ۔ سجن میں جانا جزو استجابت نہیں جیسا کہ مشہور ہے کہ قید کی دعا کی اس لیے قید میں گئے کیونکہ قید کی درخواست تو نہیں کی صرف فعل قبیح کا سجن سے اقبح ہونا بیان کیا۔
Ayah 12:37

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (دیکھو) جو کھانا تمہارے پاس آتا ہے جو کہ تم کو کھانے کے لیے (جیل خانہ میں) ملتا ہے میں اس کے آنے سے پہلے اس کی حقیقت بتلا دیا کرتا ہوں یہ بتلادینا اس علم کی بدولت ہے جو مجھ کو میرے رب نے تعلیم فرمایا ہے میں نے تو ان لوگوں کا مذہب (پہلے ہی سے) چھوڑ رکھا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ لوگ آخرت کے بھی منکر ہیں۔ (ف 1) (37)

ف 1۔ حضرت یوسف نے چاہا کہ جب یہ میرے معتقد ہیں تو ان کو دعوت ایمان اول کرنا چاہیے تھا اس لیے اول اپنا نبی ہونا ایک معجزہ سے ثابت کیا آگے اثبات توحید ہے یعنی جب میرا کمال اور نبوت دلیل سے ثابت ہے تو جس طریق کو میں اختیار کروں اور اس کو صحیح بتلاوں وہ حق ہوگا سو وہ طریق یہ ہے۔
Ayahs 12:38–39

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور میں نے اپنے ان (بزرگوار) باپ داداؤں کا مذہب اختیار کر رکھا ہے ابراہیم (علیہ السلام) کا اور اسحقٰ (علیہ السلام) کا اور یعقوب (علیہ السلام) کا ہم کو کسی طرح زیبا نہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک (عبادت) قرار دیں (ف 2) ( اور) یہ (عقیدہٴ توحید) ہم پر اور (دوسرے) لوگوں پر (بھی) خدا تعالیٰ کا ایک فضل ہے (ف 3) لیکن اکثر لوگ (اس نعمت) کا شکر (ادا) نہیں کرتے۔ (ف 4) (38)

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے قید خانہ کے رفیقو متفرق معبود اچھے یا ایک معبود برحق جو سب سے زبردست ہے وہ اچھا (جواب اس کا ظاہر ہے) ۔ (39)

ف 2۔ یعنی توحید اس مذہب کا رکن اعظم ہے۔ 3۔ کیونکہ اس کی بدولت دنیا وآخرت کی فلاح ہے۔ 4۔ یعنی توحید کی قدر اور اس کو اختیار نہیں کرتے۔
Ayah 12:40

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

تم لوگ تو خدا کو چھوڑ کر صرف چند بےحقیقت ناموں کی عبادت کرتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادؤں نے (آپ ہی) ٹھیرا لیا ہے خدا تعالیٰ نے تو ان (کے معبود ہونے) کی کوئی دلیل (عقلی یا نقلی) بھیجی نہیں، ( اور) حکم (دینے کا اختیار صرف) خدا ہی کا ہے ( اور) اس نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے اور کسی کی عبادت مت کرو یہی توحید کا سیدھا طریقہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (ف 5) (40)

ف 5۔ ایمان کے ارکان کی تبلیغ کرکے اب ان کے خواب کی تعبیر بتلاتے ہیں۔