12. Surah Yusuf
يوسفJoseph · 111 ayahsبیان القرآن
قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader
کہنے لگے کہ (صاحب) اگر اس نے چوری کی تو (تعجب نہیں کیوں کہ) اس کا ایک بھائی (تھا وہ) بھی اسی (طرح) اس کے پہلے چوری کرچکا ہے پس یوسف (علیہ السلام) نے اس بات سے (جو آگے آتی ہے) اپنے دل میں پوشیدہ رکھا اور اس کو ان کے سامنے زبان سے ظاہر نہیں کیا یعنی (دل میں) یوں کہا کہ اس (چوری) کے درجہ میں تم تو اور بھی زیادہ برے ہو اور جو کچھ تم بیان کررہے ہو اس (کی حقیقت کا) اللہ ہی کو خوب علم ہے۔ (ف 6) (77)
قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader
کہنے لگے اے عزیز اس (بنیامین) کے ایک بہت بوڑھا باپ ہے (سو آپ ایسا کیجیئے کہ اس کی جگہ ہم میں سے ایک کو رکھ لیجیئے اور (اپنا مملوک بنا لیجیئے) ہم آپ کو نیک مزاج دیکھتے ہیں۔ (78)
قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader
یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ ایسی (بےانصافی کی) بات سے خدا بچاوے کہ جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا دوسرے شخص کو پکڑ کر رکھ لیں اس حالت میں تو ہم بڑے بےانصاف سمجھے جاویں گے۔ (79)
فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader
پھر جب ان کو یوسف (علیہ السلام) سے تو بالکل امید نہ رہی (کہ بنیامین کو دیں گے) تو (اس جگہ سے) علیحدہ ہو کر باہم مشورے کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا اس نے کہا کہ تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ تم سے خدا کی قسم کھلا کر پکا قول لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کس قدر کوتاہی کرچکے ہو سو میں تو اس زمین سے ٹلتا نہیں تاوقتیکہ میرے باپ مجھ کو (حاضری کی) اجازت نہ دیں یا اللہ تعالیٰ اس کی مشکل کو سلجھا دے اور وہی خوب سلجھانے والا ہے۔ (80)
اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader
تم واپس اپنے باپ کے پاس جاؤ اور (جا کر ان سے کہو) کہ اے ابا آپ کے صاحبزادے (بنیامین) نے چوری کی ہے (اس لیے گرفتار ہوئے) اور ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہم کو مشاہدے سے معلوم ہوا ہے اور ہم غیب کی باتوں کے تو حافظ تھے نہیں۔ (81)
وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader
اور اس بستی (یعنی مصر) والوں سے پوچھ لیجیئے جہاں ہم (اس وقت) موجود تھے اور اس قافلہ والوں سے پوچھ لیجیئے جن میں ہم شامل ہو کر (یہاں) آئے ہیں (ف 1) اور یقین جانیئے ہم بالکل سچ کہتے ہیں۔ (82)
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader
یعقوب (علیہ السلام) فرمانے لگے بلکہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنا لی ہے سو صبر ہی کروں گا جس میں شکایت کا نام نہ ہوگا (مجھ) کو اللہ سے امید ہے کہ ان سب کو مجھ تک پہنچا دے گا (کیونکہ) وہ خوب واقف ہے (ف 2) بڑی حکمت والا ہے۔ (ف 3) (83)
وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader
اور ان سے دوسری طرف رخ کرلیا اور کہنے لگے ہائے یوسف (علیہ السلام) افسوس اور غم سے (روتے روتے) ان کی آنکھیں سفید پڑگئیں اور (غم سے جی ہی جی میں) گھٹا کرتے تھے۔ (ف 4) (84)
قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader
بیٹے کہنے لگے بخدا ( معلوم ہوتا ہے) تم سدا کے سدا یوسف (علیہ السلام) کی یادگاری میں لگے رہو گے یہاں تک کہ گھل گھل کر دم بلب ہوجاؤ گے یا یہ کہ بالکل مر ہی جاؤ۔ (ف 5) (85)
قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader
یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تو اپنے رنج و غم کی صرف اللہ سے شکایت کرتا ہوں اور اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ (86)
یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader
اے میرے بیٹو جاؤ اور یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو بیشک اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں۔ (87)
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader
پھر جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے کہنے لگے اے عزیز ہم کو اور ہمارے گھر والوں کو (قحط کی وجہ سے) بڑی تکلیف پہنچ رہی ہے اور ہم کچھ یہ نکمی چیز لائیں ہیں سو آپ پورا غلہ دے دیجیئے اور ہم کو خیرات (سمجھ کر) دے دیجیئے بیشک اللہ تعالیٰ خیرات دینے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے۔ (88)
قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader
یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (کہو) وہ بھی تم کو یاد ہے جو کچھ تم نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ (برتاؤ) کیا تھا جب کہ تمہاری جہالت کا زمانہ تھا۔ (89)
قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader
کہنے لگے کیا سچ مچ تم ہی یوسف (علیہ السلام) ہو انہوں نے فرمایا (ہاں) میں یوسف ہوں اور یہ (بنیامین) میرا (حقیقی) بھائی ہے ہم پر اللہ تعالیٰ نے بڑا احسان کیا (ف 1) واقعی جو شخص گناہوں سے بچتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (90)
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader
وہ کہنے لگے بخدا کچھ شک نہیں تم کو اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضیلت عطا فرمائی اور بیشک ہم (اس میں) خطا وار تھے۔ (91)
قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader
یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم پر آج کوئی الزام نہیں (ف 2) اللہ تمہارا قصور معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ (ف 3) (92)
اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader
اب تم میرا یہ کرتہ (بھی) لیتے جاؤ اور اس کو میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو (اس سے) ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں گی (ف 4) اور اپنے (باقی) گھر والوں کو (بھی) سب کو میرے پاس لے آؤ۔ (93)
وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader
اور جب قافلہ چلا تو ان کے باپ نے کہنا شروع کیا کہ اگر مجھ کو بڑھاپے میں بہکی باتیں کرنے والا نہ سمجھو تو ایک بات کہوں کہ مجھ کو تو یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آ رہی ہے۔ (ف 5) (94)
قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader
وہ (پاس والے) کہنے لگے کہ بخدا آپ تو اپنے اسی پرانے غلط خیالوں میں مبتلا ہیں۔ (95)
فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader
پس جب خوشخبری لانے والا آپہنچا تو (آتے ہی) اس نے وہ کرتہ ان کے منہ پر لا کر ڈال دیا پس فورا ہی ان کی آنکھیں کھل گئیں آپ نے (بیٹوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ (96)
قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader
سب بیٹوں نے کہا اے باپ ہمارے لیے (خدا سے) ہمارے گناہوں کی دعائے مغفرت کیجیئے ہم بیشک خطا وار تھے۔ (ف 6) (97)
قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader
یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا بیشک وہ غفور و رحیم ہے۔ (ف 7) (98)
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader
پھر جب یہ سب کے سب یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے والدین کو اپنے پاس (تعظیما) جگہ دی اور کہا کہ سب مصر میں چلیے اور خدا کو منظور ہے تو (وہاں) امن چین سے رہیئے۔ (99)
وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader
اور اپنے والدین کو تخت (شاہی) پر اونچا بٹھایا اور سب کے سب یوسف (علیہ السلام) کے آگے سجدے (ف 8) میں گر گئے اور یوسف (علیہ السلام) نے کہا اے میرے باپ یہ ہے میرے خواب کی تعبیر جو پہلے زمانہ میں دیکھا تھا جس کو میرے رب نے سچا کردیا اور خدا نے میرے ساتھ احسان کیا کہ ایک تو اس نے مجھے قید سے نکالا اور دوسرا یہ کہ تم سب کو جنگل سے یہاں لایا (یہ سب کچھ) بعد اس کے ہوا کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوا دیا تھا بلاشبہ میرا رب جو چاہتا ہے اس کی عمدہ تدبیر کرتا ہے بلاشبہ وہ بڑے علم اور حکمت والا ہے۔ (ف 1) (100)
رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader
اے میرے پروردگار آپ نے مجھ کو سلطنت کا بڑا حصہ دیا اور مجھ کو خوابوں کی تعبیر دینا تعلیم فرمایا (جو کہ علم عظیم ہے) اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے آپ میرے کارساز ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی مجھ کو پوری فرمانبرداری کی حالت میں دنیا سے اٹھا لیجیئے اور مجھ کو خاص نیک بندوں میں شامل کر لیجیئے۔ (ف 2) (101)
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader
(اے محمد ﷺ یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو وحی کے ذریعے سے ہم آپ کو بتلاتے ہیں اور آپ ان (برادران یوسف (علیہ السلام) کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جب کہ انہوں نے اپنا ارادہ پختہ کرلیا تھا اور تدبیریں کر رہے تھے۔ (ف 3) (102)
وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader
اور اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے گو آپ کا کیسا ہی جی چاہتا ہو۔ (103)
وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader
اور آپ ان سے اس پر کچھ معاوضہ تو چاہتے نہیں یہ (قرآن) تو صرف تمام جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ (104)
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader
اور بہت سی نشانیاں ہیں آسمانوں میں اور زمین میں جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے (ف 4) اور وہ ان کی طرف (اصلا) توجہ نہیں کرتے۔ (ف 5) (105)
وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader
اور اکثر لوگ جو خدا کو مانتے بھی ہیں تو اس طرح کہ شرک بھی کرتے جاتے ہیں۔ (106)
اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader
سو کیا پھر بھی اس بات سے مطمئن ہوئے بیٹھے ہیں کہ ان پر خدا کے عذاب کی کوئی ایسی آفت آ پڑے جو ان کو محیط ہوجاوے یا ان پر اچانک قیامت آجا وے اور ان کو (پہلے سے) خبر بھی نہ ہو۔ (ف 6) (107)
قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader
آپ فرما دیجیئے کہ یہ میرا طریق ہے میں (لوگوں کو توحید) خدا کی طرف اس طور پر بلاتا ہوں کہ میں دلیل پر قائم ہوں میں بھی اور میرے ساتھ والے بھی (ف 7) اور اللہ (شرک سے) پاک ہے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ (108)
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader
اور ہم نے آپ سے پہلے مختلف بستی والوں میں سے جتنے (رسول) بھیجے سب آدمی ہی تھے (کوئی بھی فرتشہ نہ تھا اور یہ لوگ جو بےفکر ہیں) (ف 8) تو کیا یہ لوگ ملک میں (کہیں) چلے پھرے نہیں کہ (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا کیسا (برا) انجام ہوا جو ان سے پہلے (کافر) ہو گزرے ہیں اور البتہ عالم آخرت میں ان لوگوں کے لیے نہایت بہبودی کی چیز ہے جو احتیاط رکھتے ہیں سو کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ (ف 1) (109)
حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader
یہاں تک کہ پیغمبر (اس بات سے) مایوس ہوگئے اور ان پیغمبروں کو گمان غالب ہوگیا کہ ہمارے فہم نے غلطی کی ان کو ہماری مدد پہنچی (ف 2) پھر اس (عذاب) سے) ہم نے جس کو چاہا وہ بچا لیا گیا (ف 3) اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے نہیں ہٹتا۔ (ف 4) (110)
لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader
ان (انبیاء وامم سابقین) کے قصہ میں سمجھ دار لوگوں کے لیے بڑی عبرت ہے یہ قرآن (جس میں یہ قصے ہیں) کوئی تراشی ہوئی بات تو ہے نہیں (کہ اس سے عبرت نہ ہوتی) بلکہ اس سے پہلے جو (آسمانی) کتابیں ہوچکی ہیں یہ ان کی تصدیق کرنے والا ہے اور ہر (ضروری) بات کی تفصیل کرنے والا ہے اور ایمان والوں کے لیے ذریعہٴ ہدایت و رحمت ہے۔ (111)