12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsبیان القرآن

Ayahs 12:77–81

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

کہنے لگے کہ (صاحب) اگر اس نے چوری کی تو (تعجب نہیں کیوں کہ) اس کا ایک بھائی (تھا وہ) بھی اسی (طرح) اس کے پہلے چوری کرچکا ہے پس یوسف (علیہ السلام) نے اس بات سے (جو آگے آتی ہے) اپنے دل میں پوشیدہ رکھا اور اس کو ان کے سامنے زبان سے ظاہر نہیں کیا یعنی (دل میں) یوں کہا کہ اس (چوری) کے درجہ میں تم تو اور بھی زیادہ برے ہو اور جو کچھ تم بیان کررہے ہو اس (کی حقیقت کا) اللہ ہی کو خوب علم ہے۔ (ف 6) (77)

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

کہنے لگے اے عزیز اس (بنیامین) کے ایک بہت بوڑھا باپ ہے (سو آپ ایسا کیجیئے کہ اس کی جگہ ہم میں سے ایک کو رکھ لیجیئے اور (اپنا مملوک بنا لیجیئے) ہم آپ کو نیک مزاج دیکھتے ہیں۔ (78)

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ ایسی (بےانصافی کی) بات سے خدا بچاوے کہ جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا دوسرے شخص کو پکڑ کر رکھ لیں اس حالت میں تو ہم بڑے بےانصاف سمجھے جاویں گے۔ (79)

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

پھر جب ان کو یوسف (علیہ السلام) سے تو بالکل امید نہ رہی (کہ بنیامین کو دیں گے) تو (اس جگہ سے) علیحدہ ہو کر باہم مشورے کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا اس نے کہا کہ تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ تم سے خدا کی قسم کھلا کر پکا قول لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کس قدر کوتاہی کرچکے ہو سو میں تو اس زمین سے ٹلتا نہیں تاوقتیکہ میرے باپ مجھ کو (حاضری کی) اجازت نہ دیں یا اللہ تعالیٰ اس کی مشکل کو سلجھا دے اور وہی خوب سلجھانے والا ہے۔ (80)

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم واپس اپنے باپ کے پاس جاؤ اور (جا کر ان سے کہو) کہ اے ابا آپ کے صاحبزادے (بنیامین) نے چوری کی ہے (اس لیے گرفتار ہوئے) اور ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہم کو مشاہدے سے معلوم ہوا ہے اور ہم غیب کی باتوں کے تو حافظ تھے نہیں۔ (81)

ف 6۔ یعنی ہم دونوں بھائیوں سے تو حقیقت سرقہ کی صادر نہیں ہوئی اور تم نے تو اتنا بڑا کام کیا کہ کوئی مال غائب کرتا ہے تم نے آدمی غائب کردیا کہ مجھ کو باپ سے بچھڑا دیا اور ظاہر ہے کہ آدمی چوری مال کی چوری سے زشت تر ہے اور برادران یوسف نے جو کہا کہ اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی اس کی حقیقت درمنثور میں یہ لکھی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو ان کی پھوپھی پرورش کرتی تھیں جب ہوشیار ہوئے تو یعقوب (علیہ السلام) نے انہیں واپس لینا چاہا لیکن وہ اپنے پاس رکھنا چاہتی تھیں اس لیے ان کی کمر میں ایک پٹکا کپڑوں کے اندر باندھ کر مشہور کردیا کہ پٹکا گم ہوگیا اور سب کی تلاشی لی تو ان کی کمر سے نکلا اور اس شریعت کے قانون کے موافق یوسف (علیہ السلام) کو پھوپھی کے قبضہ میں رہنا پڑا یہاں تک کہ ان کی پھوپھی نے وفات پائی اور آپ نے یعقوب (علیہ السلام) کے پاس آگئے۔
Ayah 12:82

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور اس بستی (یعنی مصر) والوں سے پوچھ لیجیئے جہاں ہم (اس وقت) موجود تھے اور اس قافلہ والوں سے پوچھ لیجیئے جن میں ہم شامل ہو کر (یہاں) آئے ہیں (ف 1) اور یقین جانیئے ہم بالکل سچ کہتے ہیں۔ (82)

ف 1۔ معلوم ہوتا ہے کہ اور بھی کنعان یا آس پاس کے لوگ غلہ لینے گئے ہوں گے۔
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) فرمانے لگے بلکہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنا لی ہے سو صبر ہی کروں گا جس میں شکایت کا نام نہ ہوگا (مجھ) کو اللہ سے امید ہے کہ ان سب کو مجھ تک پہنچا دے گا (کیونکہ) وہ خوب واقف ہے (ف 2) بڑی حکمت والا ہے۔ (ف 3) (83)

ف 2۔ اس لیے اس کو سب کی خبر ہے کہ کہاں کہاں اور کس کس حال میں ہیں۔ 3۔ وہ جب ملانا چاہے گا ہزاروں اسباب وتدابیر درست کردے گا۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

اور ان سے دوسری طرف رخ کرلیا اور کہنے لگے ہائے یوسف (علیہ السلام) افسوس اور غم سے (روتے روتے) ان کی آنکھیں سفید پڑگئیں اور (غم سے جی ہی جی میں) گھٹا کرتے تھے۔ (ف 4) (84)

ف 4۔ کیونکہ زیادہ رونے سے سیاہی آنکھوں کی کم ہوجاتی ہے اور آنکھیں بےرونق یا بالکل بےنور ہوجاتی ہیں اور شدت غم کے ساتھ جب شدت ضبط ہوگا جیسا کہ صابرین کی شان ہے تو کظم کی کیفیت پیدا ہوگی۔
Ayahs 12:85–89

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

بیٹے کہنے لگے بخدا ( معلوم ہوتا ہے) تم سدا کے سدا یوسف (علیہ السلام) کی یادگاری میں لگے رہو گے یہاں تک کہ گھل گھل کر دم بلب ہوجاؤ گے یا یہ کہ بالکل مر ہی جاؤ۔ (ف 5) (85)

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تو اپنے رنج و غم کی صرف اللہ سے شکایت کرتا ہوں اور اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ (86)

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

اے میرے بیٹو جاؤ اور یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو بیشک اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں۔ (87)

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

پھر جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے کہنے لگے اے عزیز ہم کو اور ہمارے گھر والوں کو (قحط کی وجہ سے) بڑی تکلیف پہنچ رہی ہے اور ہم کچھ یہ نکمی چیز لائیں ہیں سو آپ پورا غلہ دے دیجیئے اور ہم کو خیرات (سمجھ کر) دے دیجیئے بیشک اللہ تعالیٰ خیرات دینے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے۔ (88)

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (کہو) وہ بھی تم کو یاد ہے جو کچھ تم نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ (برتاؤ) کیا تھا جب کہ تمہاری جہالت کا زمانہ تھا۔ (89)

ف 5۔ یعقوب (علیہ السلام) کا حب مخلوق میں اس قدر رونا موجب وسوسہ نہ ہو کیونکہ محبت امر اضطراری ہے اور گریہ بھی دلیل رقت قلب وترحم ہے اور خاص کر جب کہ محبت کا سبب کوئی امر دینی ہو اور کسی کو شبہ نہ ہو کہ جب یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا تھا فصبر جمیل تو پھر شکایت کیوں زبان پر لائے اس کا جواب خود قرآن میں ہے کہ اشکو ابثی وحزنی الی اللہ۔ یعنی شکایت الی الخلق منافی ہے صبر جمیل کے نہ کہ شکایت الی الخالق کہ عین دعاء والتجائے مطلوب ہے۔
Ayahs 12:90–91

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

کہنے لگے کیا سچ مچ تم ہی یوسف (علیہ السلام) ہو انہوں نے فرمایا (ہاں) میں یوسف ہوں اور یہ (بنیامین) میرا (حقیقی) بھائی ہے ہم پر اللہ تعالیٰ نے بڑا احسان کیا (ف 1) واقعی جو شخص گناہوں سے بچتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (90)

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ کہنے لگے بخدا کچھ شک نہیں تم کو اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضیلت عطا فرمائی اور بیشک ہم (اس میں) خطا وار تھے۔ (91)

ف 1۔ یعنی ہم دونوں کو اول توفیق صبر وتقوی کی عطا فرمائی پھر اس کی برکت سے ہماری تکلیف کو راحت سے اور افتراق کو اجتماع سے اور قلت مال وجاہ سے مدل فرما دیا۔
Ayah 12:92

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم پر آج کوئی الزام نہیں (ف 2) اللہ تمہارا قصور معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ (ف 3) (92)

ف 2۔ یعنی بےفکر رہو میرا دل صاف ہوگیا۔ 3۔ اسی دعا سے یہ بھی مفہوم ہوگی کیا کہ میں نے بھی معاف کردیا۔
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

اب تم میرا یہ کرتہ (بھی) لیتے جاؤ اور اس کو میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو (اس سے) ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں گی (ف 4) اور اپنے (باقی) گھر والوں کو (بھی) سب کو میرے پاس لے آؤ۔ (93)

ف 4۔ یہ اس لیے فرمایا کہ ان کو خلل بصارت کا علم ہوگیا ہوگا اور یعقوب (علیہ السلام) کا اس کرتے کے ڈالنے بینا ہوجانا بطور معجزہ کے تھا اور قمیص علی الاصح کوئی خاص نہ تھا یہی معمولی لباس تھا۔
Ayahs 12:94–96

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ چلا تو ان کے باپ نے کہنا شروع کیا کہ اگر مجھ کو بڑھاپے میں بہکی باتیں کرنے والا نہ سمجھو تو ایک بات کہوں کہ مجھ کو تو یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آ رہی ہے۔ (ف 5) (94)

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ (پاس والے) کہنے لگے کہ بخدا آپ تو اپنے اسی پرانے غلط خیالوں میں مبتلا ہیں۔ (95)

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پس جب خوشخبری لانے والا آپہنچا تو (آتے ہی) اس نے وہ کرتہ ان کے منہ پر لا کر ڈال دیا پس فورا ہی ان کی آنکھیں کھل گئیں آپ نے (بیٹوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ (96)

ف 5۔ یہ معجزہ تھا یعقوب (علیہ السلام) کا اس کرتہ میں جو یوسف (علیہ السلام) کے بدن کا اثر تھا وہ محسوس ہوگیا اور چونکہ معجزہ اختیاری نہیں ہوتا اس سے پہلے یہ ادراک نہ ہوا۔
Ayah 12:97

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

سب بیٹوں نے کہا اے باپ ہمارے لیے (خدا سے) ہمارے گناہوں کی دعائے مغفرت کیجیئے ہم بیشک خطا وار تھے۔ (ف 6) (97)

ف 6۔ مطلب یہ کہ آپ بھی معاف کردیجیے کیونکہ عادتا کسی کے لیے استغفار وہی کرتا ہے جو خود بھی مواخذہ کرنا نہیں چاہتا۔
Ayahs 12:98–99

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا بیشک وہ غفور و رحیم ہے۔ (ف 7) (98)

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب یہ سب کے سب یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے والدین کو اپنے پاس (تعظیما) جگہ دی اور کہا کہ سب مصر میں چلیے اور خدا کو منظور ہے تو (وہاں) امن چین سے رہیئے۔ (99)

ف 7۔ اس سے ان کا معاف کردینا بھی معلوم ہوگیا۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو تخت (شاہی) پر اونچا بٹھایا اور سب کے سب یوسف (علیہ السلام) کے آگے سجدے (ف 8) میں گر گئے اور یوسف (علیہ السلام) نے کہا اے میرے باپ یہ ہے میرے خواب کی تعبیر جو پہلے زمانہ میں دیکھا تھا جس کو میرے رب نے سچا کردیا اور خدا نے میرے ساتھ احسان کیا کہ ایک تو اس نے مجھے قید سے نکالا اور دوسرا یہ کہ تم سب کو جنگل سے یہاں لایا (یہ سب کچھ) بعد اس کے ہوا کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوا دیا تھا بلاشبہ میرا رب جو چاہتا ہے اس کی عمدہ تدبیر کرتا ہے بلاشبہ وہ بڑے علم اور حکمت والا ہے۔ (ف 1) (100)

ف 8۔ یہ سجدہ بطور تحیت کے تھا جو امم سابقہ میں جائز تھا۔ 1۔ وہ اپنے علم و حکمت سے سب امور کی تدبیر درست کرتا ہے۔
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

اے میرے پروردگار آپ نے مجھ کو سلطنت کا بڑا حصہ دیا اور مجھ کو خوابوں کی تعبیر دینا تعلیم فرمایا (جو کہ علم عظیم ہے) اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے آپ میرے کارساز ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی مجھ کو پوری فرمانبرداری کی حالت میں دنیا سے اٹھا لیجیئے اور مجھ کو خاص نیک بندوں میں شامل کر لیجیئے۔ (ف 2) (101)

ف 2۔ یعنی جس طرح دنیا میں میرے سب کام بنادیے کہ سلطنت دی علم دیا اسی طرح آخرت کے کام بھی بنادیجیے اور میرے بزرگوں میں جو انبیاء عظام ہوئے ہیں ان میں مجھ کو پہنچا دیجیے۔ فائدہ۔ اشتیاق موت کا اگر شوقا الی لقاء اللہ ہو تو جائز ہے۔
Ayahs 12:102–106

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو وحی کے ذریعے سے ہم آپ کو بتلاتے ہیں اور آپ ان (برادران یوسف (علیہ السلام) کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جب کہ انہوں نے اپنا ارادہ پختہ کرلیا تھا اور تدبیریں کر رہے تھے۔ (ف 3) (102)

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے گو آپ کا کیسا ہی جی چاہتا ہو۔ (103)

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور آپ ان سے اس پر کچھ معاوضہ تو چاہتے نہیں یہ (قرآن) تو صرف تمام جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ (104)

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور بہت سی نشانیاں ہیں آسمانوں میں اور زمین میں جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے (ف 4) اور وہ ان کی طرف (اصلا) توجہ نہیں کرتے۔ (ف 5) (105)

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور اکثر لوگ جو خدا کو مانتے بھی ہیں تو اس طرح کہ شرک بھی کرتے جاتے ہیں۔ (106)

ف 3۔ امر یقینی ہے کہ آپ نے کسی سے یہ قصہ سنا سنایا دلیل ہے نبوت کی اور صاحب وحی ہونے کی۔
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

سو کیا پھر بھی اس بات سے مطمئن ہوئے بیٹھے ہیں کہ ان پر خدا کے عذاب کی کوئی ایسی آفت آ پڑے جو ان کو محیط ہوجاوے یا ان پر اچانک قیامت آجا وے اور ان کو (پہلے سے) خبر بھی نہ ہو۔ (ف 6) (107)

ف 6۔ مطلب یہ کہ مقتضا کفر کا عقوبت ہے خواہ دنیا میں نازل ہوجائے یا قیامت کے دن واقع ہوجائے ان کو ڈرنا اور کفر چھوڑ دینا چاہیے۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

آپ فرما دیجیئے کہ یہ میرا طریق ہے میں (لوگوں کو توحید) خدا کی طرف اس طور پر بلاتا ہوں کہ میں دلیل پر قائم ہوں میں بھی اور میرے ساتھ والے بھی (ف 7) اور اللہ (شرک سے) پاک ہے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ (108)

ف 7۔ یعنی میرے پاس بھی دلیل ہے توحید و رسالت کی اور میرے ساتھ والے بھی استدلال کے ساتھ مجھ پر ایمان لائے ہیں میں بےدلیل بات کی طرف کسی کو نہیں بلاتا لہذا دلیل سنو اور سمجھو۔ حاصل طریق یہ ہوا کہ خدا واحد ہے اور میں داعی ہوں۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے مختلف بستی والوں میں سے جتنے (رسول) بھیجے سب آدمی ہی تھے (کوئی بھی فرتشہ نہ تھا اور یہ لوگ جو بےفکر ہیں) (ف 8) تو کیا یہ لوگ ملک میں (کہیں) چلے پھرے نہیں کہ (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا کیسا (برا) انجام ہوا جو ان سے پہلے (کافر) ہو گزرے ہیں اور البتہ عالم آخرت میں ان لوگوں کے لیے نہایت بہبودی کی چیز ہے جو احتیاط رکھتے ہیں سو کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ (ف 1) (109)

ف 8۔ خلاصہ یہ ہوا کہ میرا مقصود دعوی نبوت سے اپنا بندہ بنانا ہے لیکن اس کا طریق بذریعہ داعی من اللہ کے بتلایا جاتا ہے اس لیے میرا داعی ماننا جبکہ میرے پاس اس کی دلیل بھی ہے واجب ہے۔ 1۔ کہ فانی کا اختیار کرنا بہتر ہے یا باقی کا اگر تم کو تاخیر عذاب ہے شبہ عدم وقوع کا ہوتا ہے تو تمہاری غلطی ہے اس لیے کفار امم سابقہ کو بھی بڑی بڑی مہلتیں دی گئی۔
Ayahs 12:110–111

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ پیغمبر (اس بات سے) مایوس ہوگئے اور ان پیغمبروں کو گمان غالب ہوگیا کہ ہمارے فہم نے غلطی کی ان کو ہماری مدد پہنچی (ف 2) پھر اس (عذاب) سے) ہم نے جس کو چاہا وہ بچا لیا گیا (ف 3) اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے نہیں ہٹتا۔ (ف 4) (110)

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

ان (انبیاء وامم سابقین) کے قصہ میں سمجھ دار لوگوں کے لیے بڑی عبرت ہے یہ قرآن (جس میں یہ قصے ہیں) کوئی تراشی ہوئی بات تو ہے نہیں (کہ اس سے عبرت نہ ہوتی) بلکہ اس سے پہلے جو (آسمانی) کتابیں ہوچکی ہیں یہ ان کی تصدیق کرنے والا ہے اور ہر (ضروری) بات کی تفصیل کرنے والا ہے اور ایمان والوں کے لیے ذریعہٴ ہدایت و رحمت ہے۔ (111)

ف 2۔ طویل مدت مہلت کی وجہ سے پیغمبروں نے سمجھ لیا کہ وعدہ الٰہی کا جو اجمالی وقت اپنے اجتہاد سے معین کرکے ہم نے اپنے ذہن میں قرار دے رکھا تھا اس وقت ہم منصور اور کفار مقہور ہوں گے اور گمان غالب ہوگیا کہ وعدہ خداوندی کی تحدید میں ہم سے غلطی ہوئی کہ بلاتنصیص محض قرائن یاحب استعجال نصر سے قریب کا وقت معین کرلیا حالانکہ وعدہ مطلق تھا ایسی حالت میں کفار پر عذاب آپہنچا۔ 3۔ مراد اس سے مومنین ہیں۔ 4۔ بلکہ ان پر ضرر واقع ہوتا ہے گوبدیر سہی پس یہ کفار مکہ بھی دھوکہ میں نہ رہیں۔