12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsبیان القرآن

Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے قید خانہ کے رفیقوتم میں ایک تو (جرم سے بری ہو کر) اپنے آقا کو (بدستور) شراب پلایا کرے گا اور دوسرا (مجرم قرار) پا کر سولی دیا جاوے گا اور اس کے سر کو پرندے (نوچ نوچ) کھا جاویں گے جس بارے میں تم پوچھتے تھے وہ اسی طرح مقدر ہوچکا۔ (ف 6) (41)

ف 6۔ چناچہ بعد تنقیح مقدمہ ایک بری ثابت ہوا دوسرا مجرم دونوں جیل خانہ سے بلائے گئے ایک رہائی کے لیے دوسرا سزا کے لیے۔
Ayahs 12:42–43

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور جس شخص پر رہائی کا گمان تھا اس سے یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اپنے آقا کے سامنے میرا بھی تذکرہ کرنا پھر اس کو اپنے آقا سے (یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ کرنا شیطان نے بھلا دیا تو (اس وجہ سے) قید خانہ میں اور بھی چند سال ان کا رہنا ہوا۔ (ف 7) (42)

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ ( مصر) نے کہا کہ میں (خواب میں کیا) دیکھتا ہوں کہ سات گائیں فربہ ہیں جن کو سات لاغر گائیں کھا گئیں اور سات بالیں سبز ہیں اور ان کے علاوہ سات اور ہیں جو کہ خشک ہیں اے دربار والو اگر تم (خواب) کی تعبیر دے سکتے ہو تو میرے اس خواب کے بارے میں مجھ کو جواب دو ۔ (43)

ف 7۔ بضع کا اطلاق عربی میں تین سے دس تک آتا ہے اس کے درمیان جتنے عدد ہیں ہر عدد کا آیت میں احتمال ہے۔
Ayahs 12:44–49

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ یونہی پریشان خیالات ہیں اور دوسرے ہم لوگ (کہ صرف امور سلطنت میں ماہر ہیں) خوابوں کی تعبیر کا علم نہیں رکھتے۔ (ف 1) (44)

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور ان (مذکورہ) دو قیدیوں میں سے جو رہا ہوگیا تھا (وہ مجلس میں حاضر تھا) اس نے کہا اور مدت کے بعد اس کو خیال آیا میں اس کی تعبیر کی خبر لائے دیتا ہوں آپ لوگ مجھ کو ذرا جانے کی اجازت دیجیئے۔ (45)

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

اے یوسف (علیہ السلام) اے صدق مجسم آپ ہم لوگوں کو اس (خواب) کا جواب (یعنی تعبیر) دیجیئے کہ سات گائیں موٹی ہیں ان کو سات دبلی گائیں کھا گئیں اور سات بالیں ہری ہیں اور اس کے علاوہ (سات) خشک بھی ہیں تاکہ میں ان لوگوں کے پاس لوٹ کر جاؤں اور بیان کروں تاکہ ان کو بھی معلوم ہوجاوے۔ (46)

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

آپ نے فرمایا تم سات سال متواتر (خوب) غلہ بونا پھر جو فصل کاٹو تو اس کو بالوں میں رہنے دینا (تاکہ گھن نہ لگ جاوے) ہاں مگر تھوڑا سا جو تمہارے کھانے میں آوے۔ (47)

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس سات برس کے بعد سات برس اور ایسے سخت ( اور قحط کے) آویں گے جو کہ اس (تما تر) ذخیرہ کو کھا جاویں گے جس کو تم نے ان برسوں کے واسطے جمع کر کے رکھا ہوگا ہاں مگر تھوڑا سا جو بیج کے واسطے چھوڑو گے۔ (48)

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس (سات برس) کے بعد ایک برس ایسا آوے گا جس میں لوگوں کے لیے خوب بارش ہوگی اس میں شیرہ بھی نچوڑیں گے ( اور شرابیں پیئیں گے) ۔ (49)

ف 1۔ دو جواب اس لیے دیے کہ اول جواب سے بادشاہ کے قلب سے پریشانی اور وسواس دور کرنا ہے اور دوسرے جواب سے اپناعذر ظاہر کرنا ہے خلاصہ یہ کہ اول تو ایسی خواب قابل تعبیر نہیں دوسرے ہم اس فن سے واقف نہیں۔
Ayah 12:50

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

اور بادشاہ نے حکم دیا کہ ان کو میرے پاس لاؤ چناچہ یہاں سے قاصد چلا پھر جب ان کے پاس (وہ) قاصد پہنچا ( اور پیغام دیا تو) آپ نے فرمایا کہ تو اپنی سرکار کے پاس لوٹ جا پھر اس سے دریافت کر کہ (کچھ تم کو خبر ہے) ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے میرا رب ان عورتوں کے فرقہ کے فریب کو خوب جانتا ہے۔ (ف 2) (50)

ف 2۔ مطلب یہ تھا کہ ان کو بلا کر میرا حال متعلق اس واقعہ کے جس میں مجھ کو قید کی گئی تفتیش کیا جائے اور عورتوں کے حال سے مراد ان کا واقف یا ناواقف ہونا ہے حال یوسف (علیہ السلام) ہے اور ان عورتوں کی تخصیص شاید اس لیے کی ہو کہ ان کے سامنے زلیخا نے اقرار کیا تھا ولقد روادتہ عن نفسہ۔ فائدہ۔ یوسف کے اس اہتمام برات سے معلوم ہوا کہ رفع تہمت میں سعی کرنا امرمطلوب ہے حدیثوں میں اس کا مطلوب ہوناوارد ہے من جملہ اس کے فوائد کے یہ بھی ہے کہ لوگ غیبت سے بچیں گے اپناقلب بھی تشویش سے محفوظ رہے گا۔
Ayahs 12:51–52

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

کہا کہ تمہارا کیا واقعہ ہے جب تم نے یوسف (علیہ السلام) سے اپنے مطلب کی خواہش کی عورتوں نے جواب دیا کہ حاش اللہ ہم کو ان میں ذرا بھی تو برائی کی بات نہیں معلوم ہوئی (ف 1) عزیز کی بیوی (جو کہ حاضر تھی) کہنے لگی اب تو حق بات (سب پر) ظاہر ہو ہی گئی ہے میں نے ان سے اپنے مطلب کی خواہش کی تھی اور بیشک وہی سچے ہیں۔ (51)

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ تمام اہتمام (جو میں نے کہا) محض اس وجہ سے تاکہ عزیز کو (زائد) یقین کے ساتھ معلوم ہوجاوے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی آبرو میں دست اندازی نہیں کی اور یہ (بھی معلوم ہوجاوے) کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے فریب کو چلنے نہیں دیتا۔ (52)

ف 1۔ یعنی وہ بالکل پاک وصاف ہیں۔
Ayahs 12:53–54

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور (باقی) میں اپنے نفس) کو (بالذات) بری ( اور پاک) نہیں بتلاتا (کیونکہ) نفس تو (ہر ایک کا) بری ہی بات بتلاتا ہے بجز (اس نفس کے) جس پر میرا رب رحم کرے (ف 2) بلا شبہ میرا رب بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے۔ (53)

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور ( سن کر) بادشاہ نے کہا کہ ان کو میرے پاس لاؤ میں ان کو خاص اپنے (کام کے) لیے رکھوں گا پس جب بادشاہ نے ان سے باتیں کیں تو بادشاہ نے (ان سے) کہا کہ تم ہمارے نزدیک آج (سے) بڑے معزز اور معتبر ہو۔ (54)

ف 2۔ خلاف مطلب یہ ہوا کہ میری نزاہت وعصمت میرے نفس کا ذاتی کمال نہیں کہ تخلف محال ہو بلکہ رحمت و عنایت الہیہ کا اثر ہے اس لیے وہ امر بالسور نہیں کرتا ورنہ جیسے اوروں کے نفوس ہیں ویساہی میرا ہوتا۔
Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ملکی خزانوں پر مجھ کو مامور کردو میں (ان کی) حفاظت (بھی) رکھوں گا ( اور) خوب واقف ہوں۔ (ف 3) (55)

ف 3۔ چناچہ بجائے اس کے کہ ان کو کوئی خاص منصب دیتا مثل اپنے پورے اختیارات ہر قسم کے دے دیے گویا حقیقت میں بادشاہ یہی ہوگئے گوبرائے نام وہ بادشاہ رہا اور یہ عزیز کے عہدے سے مشہور ہوئے۔ فائدہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی کام کی لیاقت اپنے اندرمنحصر دیکھے تو خود اس کی درخواست جائز ہے مگر مقصود نفع رسانی ہو نہ کہ نفس پروری۔
Ayah 12:56

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور ہم نے ایسے (عجیب) طور پر یوسف (علیہ السلام) کو با اختیار بنادیا کہ اس میں جہاں چاہیں رہیں سہیں (ف 4) ہم جس پر چاہیں اپنی عنایت متوجہ کردیں اور ہم نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ (ف 5) (56)

ف 4۔ یعنی یا تو وہ وقت تھا کہ کنوئیں میں محبوس تھے پھر عزیز کی ماتحتی میں مقید رہے پھر قیدخانہ میں بند رہے اور یا آج یہ خود مختاری اور آزادی ہوئی۔ 5۔ یعنی دنیا میں بھی نیکی کا اجرملتا ہے کہ حیات طیبہ عطا فرماتے ہیں۔
Ayahs 12:57–66

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور آخرت کا اجر کہیں زیادہ بڑھ کر ہے ایمان اور تقویٰ والوں کے لیے۔ (ف 6) (57)

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور (بنیا من کے سوا) یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آئے پھر یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو نہیں پہچانا۔ (58)

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب یوسف (علیہ السلام) نے ان کا سامان (غلہ) تیار کردیا تو (چلتے وقت) فرمایا اپنے علاتی بھائیوں کو بھی ساتھ) لانا (تاکہ اس کا حصہ بھی دیا جاسکے) تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں پورا ناپ کردیتا ہوں اور میں سب سے زیادہ مہمان نوازی کرتا ہوں۔ (59)

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اور اگر تم (دوبارہ آئے اور) اس کو میرے ہ اس نہ لائے تو نہ میرے پاس تمہارے نام کا غلہ ہوگا اور نہ تم میرے پاس آنا۔ (60)

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

وہ بولے (دیکھیئے) ہم (اپنے حد امکان تک تو) اس کے باپ سے اس کو مانگیں گے اور ہم اس کام کو ضرور کریں گے۔ (61)

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے نوکروں سے کہہ دیا ان کی جمع پونجی ان (ہی) کے اسباب میں (چھپا) کر رکھ دو تاکہ جب اپنے گھر جاویں تو اس کو پہنچانیں شاید (یہ احسان و کرم دیکھ کر) پھر دوبارہ آویں۔ (62)

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

غرض جب لوٹ کر اپنے باپ یعقوب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے کہنے لگے ابا ہمارے لیے (مطلقا) غلہ کی بندش کردی گئی سو آپ ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیئے تاکہ ہم (پھر) غلہ لا سکیں اور ہم ان کی پوری حفاظت رکھیں گے۔ (63)

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا بس (رہنے دو ) میں اس کے بارے میں بھی تمہارا ویسا ہی اعتبار کرتا ہوں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی (یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تمہارا اعتبار کرچکا ہوں سو اللہ ( کے سپرد وہی) سب سے بڑھ کر نگہبان ہے اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ (64)

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور اس گفتگو کے بعد جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو (اس میں) ان کو ان کی جمع پونجی (بھی) ملی کہ انہی کو واپس کردی گئی کہنے لگے کہ ابا (لیجیئے) اور ہم کو کیا چاہیئے یہ ہماری جمع پونجی بھی تو ہم ہی کو لوٹا دی گئی اور اپنے گھر والوں کے واسطے ( اور) رسد لا ویں گے اور اپنے بھائی کی خوب حفاظت رکھیں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ غلہ اور زیادہ لا دیں گے یہ تھوڑا سا غلہ ہے۔ (65)

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس وقت تک ہرگز اسکو تمہارے ہم راہ نہیں بھیجوں گا جب تک کہ اللہ کی قسم کھا کر مجھ کو پکا قول نہ دوگے کہ تم اس کو ضرور لے ہی آؤ گے ہاں اگر کہیں گھر ہی جاؤ تو مجبوری ہے (چنانچہ سب نے اس پر قسم کھائی) سو وہ جب قسم کھا کر اپنے باپ کو قول دے چکے تو انھوں نے فرمایا ہم لوگ جو کچھ بات چیت کررہے ہیں یہ سب اللہ ہی کے حوالے۔ (66)

ف 6۔ غرض یوسف (علیہ السلام) نے باختیار ہوکرغلہ کاشت کرانا اور جمع کرانا شروع کردیا اور سات برس کے بعد قحط شروع ہوا یہاں تک کہ دور دور سے یہ خبر سن کر کہ مصر میں سلطنت کی طرف سے غلہ فروخت ہوتا ہے جوق درجوق لوگ آنا شروع ہوئے اور کنعان میں بھی قحط ہوا تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بجز بنیامین کے غلہ لینے مصر آئے۔
Ayahs 12:67–68

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور چلتے وقت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ اے میرے بیٹو سب کے سب ایک ہی دروازے سے مت جانا بلکہ علیحدہ علیحدہ دروازوں سے جانا (ف 1) اور خدا کے حکم کو تم پر سے نہیں ٹال سکتا حکم تو بس اللہ ہی کا (چلتا) ہے (باوجود اس تدبیر ظاہری کے دل سے) اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ (ف 2) (67)

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب مصر (پہنچ کر) جس طرح ان کے باپ نے کہا تھا (اسی شہر کے) اندر داخل ہوئے تو باپ کا ارمان پورا ہوگیا (باقی) ان کے باپ کو ان سے (یہ تدبیر بتلا کر) خدا کا حکم ٹالنا مقصود نہ تھا لیکن یعقوب (علیہ السلام) کے جی میں (درجہ تدبیر میں) ایک ارمان (آیا) تھا جس کو انھوں نے ظاہر کردیا اور وہ بلاشبہ بڑے عالم تھے بایں وجہ کہ ہم نے ان کو علم دیا تھا لیکن اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے۔ (68)

ف 1۔ یہ محض ایک تدبیر ظاہری ہے بعض مکروہات مثل نظر بدوغیرہ سے بچنے کی۔ 2۔ یعنی تم بھی اسی پر بھروسہ رکھنا تدبیر پر نظر مت کرنا۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ (برادران یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے بھائی کو اپنے ساتھ ملا لیا اور تنہائی میں ان سے کہا کہ میں تیرا بھائی یوسف ہوں سو یہ لوگ جو کچھ (بدسلوکی) کرتے رہے ہیں اس کا رنج مت کرنا۔ (ف 3) (69)

ف 3۔ کیونکہ اب تو اللہ نے ہم کو ملادیا ہے اب اس غم بھلادینا چاہیے۔ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بدسلوکی تو ظاہر ہے مشہور ہے رہا بنیامین کے ساتھ سویا تو ان کو بھی کچھ تکلیف دی ہو ورنہ یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کیا ان کے حق میں کچھ کم تکلیف تھی پھر دونوں بھائیوں نے مشورہ کیا کہ کوئی ایسی صورت ہو کہ بنیامین یوسف (علیہ السلام) کے پاس رہیں کیونکہ ویسے رہنے میں تو اور بھائیوں کا بوجہ عہد وسوگند کے اصرار ہوگا ناحق جھگڑا ہوگا اور پھر اگر وجہ بھی ظاہر ہوگئی تو راز کھلا اور اگر مخفی رہی تو یعقوب (علیہ السلام) کا رنج بڑھے گا بلاسبب کیوں رکھے گئے یا کیوں رہے بعض علماء نے لکھا ہے کہ بنیامین کو جو حضرت یوسف نے آرزو سے بلایا اوروں کو حسد لگا اس سفر میں اس کو ہر بات پر جھڑکتے اور طعنے دیتے تھے۔
Ayahs 12:70–72

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب یوسف (علیہ السلام) نے ان کا سامان تیار کردیا تو پانی پینے کا برتن اپنے بھائی کے اسباب میں رکھ دیا (ف 1) پھر ایک پکارنے والے نے پکارا اے قافلہ والو تم ضرور چور ہو۔ (70)

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ ان (تلاش کرنے والوں) کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے۔ (71)

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم کو بادشاہی پیمانہ نہیں ملتا (وہ غائب ہے) اور جو شخص اس کو (لاکر) حاضر کرے اس کو ایک بار شتر غلہ ملے گا اور میں اس (کے دلوانے) کا ذمہ دار ہوں۔ (72)

ف 1۔ وہی برتن پیمانہ غلہ دینے کا بھی تھا۔
Ayahs 12:73–74

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

یہ لوگ کہنے لگے بخدا تم کو معلوم ہے کہ ہم لوگ ملک میں فساد پھیلانے نہیں آئے اور ہم لوگ چوری کرنے والے نہیں۔ (ف 2) (73)

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

ان (ڈھونڈنے والے) لوگوں نے کہا اگر تم جھوٹے نکلے تو اس (چور) کی کیا سزا۔ (74)

ف 2۔ یعنی ہمارا یہ شیوہ نہیں۔
Ayah 12:75

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کے اسباب میں ملے پس وہی شخص اپنی سزا۔ (ف 3) ہم لوگ ظالموں (یعنی چوروں) کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ (ف 4) (75)

ف 3۔ یعنی چوری کرنے کے عوض میں خود اس کی ذات کو صاحب مال اپناغلام بنالے۔ 4۔ یعنی ہماری شریعت میں یہی مسئلہ اور عمل ہے۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی (کے اسباب) کے تھیلے سے قبل تلاشی کی ابتداء اول دوسرے بھائيوں کے (اسباب کے) تھیلوں سے کی پھر (آخر میں) اس (برتن) کو اپنے بھائی کے تھیلے سے برآمد کرلیا ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی خاطر سے اس طرح تدبیر فرمائی (ف 5) یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو اس بادشاہ (مصر) کے قانون کی رو سے نہیں لے سکتے تھے مگر یہ ہے کہ اللہ ہی کو منظور تھا ہم جس کو چاہتے ہیں (علم میں) خاص درجوں تک بڑھا دیتے ہیں اور تمام علم والوں سے بڑھ کر ایک بڑا علم والا ہے۔ (76)

ف 5۔ یعنی یوسف (علیہ السلام) بڑے عالم عاقل تھے مگر پھر بھی ہمارے القاء تدبیر کے محتاج تھے وجہ یہ کہ کسی کا علم ذاتی اور محیط نہیں۔