13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsبیان القرآن

Ayahs 13:1–2

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

المرا (یہ جو آپ سن رہے ہیں) آیتیں ہیں ایک بڑی کتاب (یعنی قرآن) کی اور جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے بالکل سچ ہے اور لیکن بہت سے آدمی ایمان نہیں لاتے۔ (1)

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ ایسا (قادر) ہے کہ اس نے آسمانوں کو بدون ستون کے اونچا کھڑا کردیا چناچہ تم ان (آسمانوں) کو (اسی طرح) دیکھ رہے ہو پھر عرش پر قائم ہوا (ف 6) اور آفتاب و ماہتاب کو کام میں لگا دیا ہر ایک ایک وقت معین میں چلتا رہتا ہے (ف 7) وہی (الله) ہر کام کی تدبیر کرتا ہے اور دلائل کو صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کے پاس جانے کا یقین کرلو۔ (ف 8) (2)

ف 6۔ یعنی زمین و آسمان میں احکام جاری کرنے لگا۔ 7۔ چناچہ سورج اپنے مدار کو سال بھی میں قطع کرلیتا ہے اور چاند مہینہ بھر میں۔ 8۔ یعنی بعث ونشر کا یقین کرلو اس کے امکان کا تو اس طرح کہ جب اللہ ایسی عظیم چیزوں کی تخلیق پر قادر ہے تو مردوں کو زندہ کرنے پر کیوں قادر نہیں ہوگا اور اس کے وقوع کا یقین اس طرح کہ مخبر صادق نے ایک امرممکن کے وقوع کی خبر دی لامحالہ وہ واقع ہے۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے کہ اس نے زمین کو پھیلایا اور اس (زمین میں) پہاڑ اور نہریں اور اس میں ہر قسم کے پھلوں سے دو دو قسم کے پیدا کیے (ف 9) شب کی (تاریکی) سے دن (کی روشنی) کو چھپا دیتا ہے ان امور (مذکورہ) میں سوچنے والوں کے (سمجھنے کے) واسطے (توحید پر) دلائل (موجود) ہیں۔ (3)

ف 9۔ مثلا کھٹے میٹھے یاچھوٹے اور بڑے کوئی کسی رنگ کے اور کوئی کسی رنگ کا۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں پاس پاس ( اور پھر مختلف قطعے ہیں اور انگوروں کے باغ ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں ہیں جن میں بعضے تو ایسے ہیں کہ تنہ سے اوپر جا کردو تنے ہوجاتے ہیں اور بعضے دو تنے نہیں ہوتے سب کو ایک ہی طرح کا پانی دیا جاتا ہے اور ہم ایک دوسرے پر پھلوں کو فوقیت دیتے ہیں ان امور (مذکورہ) میں (بھی) سمجھ داروں کے واسطے (توحید کے) دلائل (موجود) ہیں۔ (ف 1) (4)

ف 1۔ اوپر توحید کا اثبات تھا آگے جواب ہے کفار کے شبہات کے جو نبوت کے متعلق تھے مع وعید کے اور وہ تین شبہ تھے اول بعثت ونشر کو وہ لوگ محال سمجھتے تھے اور اس سے نفی نبوت پر استدلال کرتے تھے دوسرا شبہہ یہ تھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو انکار نبوت پر جس عذاب کی آپ وعید سناتے ہیں وہ کیوں نہیں آتا تیسرا شبہہ یہ تھا کہ جن معجزات کی ہم فرمایش کرتے ہیں وہ کیوں نے ظاہر کیے جاتے۔ آیت وان تعجب میں اول شبہ کا رد ہے اور آیت ویستعجلونک میں دوسرے شبہ جواب اور آیت یقول الذین کفرا میں تیسرے شبہ کا جواب ہے۔
Ayahs 13:5–8

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ اگر آپ کو تعجب ہو تو (واقعی) ان کا یہ قول تعجب کے لائق ہے کہ جب ہم خاک ہوگئے کیا ہم پھر از سر نو (قیامت کے روز) پیدا ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا اور ایسے لوگوں کی گردنوں میں (دوزخ میں) طوق ڈالے جاویں گے اور ایسے لوگ دوزخی ہیں ( اور) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (5)

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ عافیت کی معیاد ختم ہونے سے پہلے آپ سے مصیبت (کے نزول) کا تقاضا کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے ( اور کفار پر) واقعات عقوبت گزر چکے ہیں اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ آپ کا رب لوگوں کی خطائیں باوجود ان کی بیجا حرکتوں کے معاف کردیتا ہے ( اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ آپ کا رب سخت سزا دیتا ہے۔ (6)

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور یہ کفاریوں (بھی) کہتے ہیں کہ ان پر خاص معجزہ (جو ہم چاہتے ہیں) کیوں نہیں نازل کیا گیا (حالانکہ) آپ صرف ڈرانے والے (نبی) ہیں اور ہر قوم کے لیے ہادی ہوتے چلے آئے ہیں۔ (7)

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کو سب کی خبر رہتی ہے جو کچھ کسی عورت کو حمل رہتا ہے (ف 2) اور جو کچھ رحم میں کمی بیشی ہوتی ہے (ف 3) اور ہر شے اللہ کے نزدیک ایک خاص انداز سے (مقرر) ہے۔ (8)

ف 2۔ یعنی لڑکا ہے یا لڑکی ہے۔ 3۔ بچہ میں یامدت میں مثلا کبھی ایک بچہ ہوتا ہے کبھی زیادہ کبھی جلدی ہوتا ہے کبھی دیر میں۔
Ayahs 13:9–11

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ تمام پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا جاننے والا ہے سب سے بڑا ( اور) عالیشان ہے۔ (9)

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

تم میں سے جو شخص کوئی بات چپکے سے کہے اور جو پکار کر کہے اور جو شخص رات میں کہیں چھپ جاوے اور جو دن میں چلے پھرے یہ سب (خدا کے علم میں) برابر ہیں۔ (10)

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

ہر شخص (کی حفاظت) کے لیے کچھ فرشتے (مقرر) ہیں جن کی بدلی ہوتی رہتی ہے کچھ اس کے آگے اور کچھ اس کے پیچھے کہ وہ بحکم خدا اس کی حفاظت کرتے ہیں واقعی اللہ تعالیٰ کسی قوم کی (اچھی) حالت میں تغیر نہیں کرتا جب تک وہ لوگ خود اپنی (صلاحیت کی) حالت کو نہیں بدل دیتے اور جب اللہ تعالیٰ کس قوم پر مصیبت ڈالنا تجویز کرلیتا ہے تو پھر اس کے ہٹنے کی کوئی صورت نہیں (ف 4) اور کوئی خدا کے سوا ان کا مددگار نہیں رہتا۔ (ف 5) (11)

ف 4۔ یعنی وہ واقع ہو ہی جاتی ہے۔ 5۔ حتی کہ فرشتے بھی ان کی حفاظت نہیں کرتے۔
Ayahs 13:12–14

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہ ایسا ہے کہ تم کو بجلی دکھلاتا ہے جس سے ڈر بھی ہوتا ہے اور امید بھی ہوتی ہے اور وہ بادلوں کو (بھی) بلند کرتا ہے جو پانی سے بھرے ہوتے ہیں۔ (12)

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور رعد (فرشہ) اس کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور (دوسرے) فرشتے) بھی اس کے خوف سے (تسبیح وتحمید کرتے ہیں) اور وہ بجلیاں بھی بھیجتا ہے پھر جس پر چاہے گرا دیتا ہے اور لوگ اللہ کے باب میں جھگڑتے ہیں حالانکہ وہ بڑا شدید القوت ہے۔ (13)

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

سچا پکارنا اسی کے لیے خاص ہے (ف 1) اور خدا کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ ان کی درخواست کو اس سے زیادہ منظور نہیں کرسکتے جتنا پانی اس شخص کی درخواست کو منظور کرتا ہے جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے تاکہ وہ اس کے منہ تک (اڑ) کر آجاوے اور وہ اس کے منہ تک (از خود) آنے والا نہیں اور کافروں کی درخواست (ان معبودان باطل سے) کرنا محض بےاثر ہے۔ (ف 2) (14)

ف 1۔ کیونکہ اس کو قبول کرنے کی قدرت ہے۔ 2۔ پس جس طرح پانی ان کی درخواست قبول کرنے سے عاجز ہے اس طرح ان کے معبود عاجز ہیں۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے سامنے سب سر خم کیے ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں خوشی سے اور مجبوری سے (ف 3) اور ان کے سائے بھی صبح اور شام کے وقتوں میں۔ (15)

ف 3۔ خوشی سے یہ کہ باختیار خود عبادت کرتے ہیں اور مجبوری کے یہ معنی ہیں کہ اللہ جس مخلوق میں جو تصرف کرنا چاہتے ہیں وہ اس کی مخالفت نہیں کرسکتا۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

آپ کہیئے آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے آپ (ہی) کہہ دیجیئے اللہ ہے (پھر) آپ یہ کہیئے کہ کیا پھر بھی تم نے خدا کے سوا دوسرے مددگار قرار دے رکھے ہیں جو خود اپنی ذات کے نفع و نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے آپ یہ (بھی) کہیئے کہ کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتا ہے (ف 4) یا کہیں تاریکی اور روشنی برابر ہو سکتی ہے (ف 5) یا انہوں نے اللہ کے ایسے شریک قرار دے رکھے ہیں کہ انہوں نے بھی (کسی چیز کو) پیدا کیا ہو جیسا خدا پیدا کرتا ہے پھر ان کو پیدا کرنا ایک سا معلوم ہوا ہو آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ہی واحد ہے غالب ہے۔ (16)

ف 4۔ یہ مثال ہے مشرک اور موحد کی۔ ف۔ 5۔ یہ مثال ہے شرک اور توحید کی۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا پھر نالے (بھر کر) اپنی مقدار کے موافق چلنے لگے پھر وہ سیلاب خس و خاشاک کو بہا لایا جو اس (پانی کے اوپر آ رہا) ہے اور جن چیزوں کو آگ کے اندر زیوریا اور اسباب بنانے کی غرض سے تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی میل کچیل (اوپرآ جاتا) ہے (ف 6) اللہ تعالیٰ حق (یعنی ایمان وغیرہ) اور باطل (یعنی کفر وغیرہ) کی اسی طرح مثال بیان کر رہا ہے سو جو میل کچیل تھا وہ تو پھینک دیا جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے کار آمد ہے وہ دنیا میں (نفع رسانی کے ساتھ) رہتی ہے اللہ تعالیٰ اسی طرح (ہر ضروری مضمون میں) مثالیں بیان کرتے ہیں۔ (ف 1) (17)

ف 6۔ ان دو مثالوں میں دو چیزیں ہیں ایک کارآمد چیز کہ اصل پانی اور اصل مال ہے اور ایک ناکارہ چیز کہ کوڑا کرکٹ اور میل کچیل ہے۔ 1۔ حاصل دونوں مثالوں کا یہ ہے کہ جیسا ان مثالوں میں میل کچیل برائے چندے اصلی چیز کے اوپر نظرآتا ہے لیکن انجام کار وہ پھینک دیا جاتا ہے اور اصلی چیز رہ جاتی ہے اس طرح باطل گوبرائے چندے حق کے اوپر غالب نظرآوے لیکن آخر کار باطل محو اور مغلوب ہوجاتا ہے اور حق باقی اور ثابت رہتا ہے۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کا کہنا مان لیا ان کے واسطے اچھا بدلہ ہے (ف 2) اور جن لوگوں نے اس کا کہنا نہ مانا ان کے پاس اگر تمام دنیا بھر کی چیزیں (موجود ہوں) اور (بلکہ) اس کے ساتھ اسی کے برابر اور بھی ہو تو وہ سب اپنی رہائی کے لیے دے ڈالیں ان لوگوں کا سخت حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ برا قرار گاہ ہے۔ (18)

ف 2۔ یعنی جنت۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

جو شخص یہ یقین رکھتا ہو کہ جو کچھ آپ کے رب سے آپ پر نازل ہوا ہے وہ سب حق ہے کیا ایسا شخص اس کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہے (ف 3) پس نصیحت تو سمجدار لوگ ہی قبول کرتے ہیں۔ (19)

ف 3۔ یعنی کافرو مومن برابر نہیں۔
Ayahs 13:20–22

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

( اور) یہ سمجھدار لوگ ایسے ہیں کہ اللہ سے جو کچھ انہوں نے عہد کیا ہے اس کو پورا کرتے ہیں اور اس عہد کو توڑتے نہیں۔ (20)

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور یہ ایسے ہیں کہ اللہ نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم کیا ہے ان کو قائم رکھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور سخت عذاب کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ (21)

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور یہ لوگ ایسے ہیں کہ اپنے رب کی رضا مندی کے جویاں رہ کر مضبوط رہتے ہیں نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو روزی دی ہے اس میں چپکے بھی اور ظاہر کر کے بھی خرچ کرتے ہیں اور بد سلوکی کو حسن سلوک سے ٹال دیتے ہیں (ف 4) اس جہاں میں نیک انجام ان لوگوں کے واسطے ہے۔ (22)

ف 4۔ یعنی کوئی ان کے ساتھ بدسلوکی کرے تو کچھ خیال نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ سلوک کرتے ہیں۔
Ayah 13:23

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

یعنی ہمیشہ رہنے کی جنتیں جن میں وہ لوگ بھی داخل ہوں گے اور ان کے ماں باپ اور بی بیوں (ف 5) اور اولاد میں جو (جنت کی) لائق ہوں گے وہ بھی داخل ہوں گے اور فرشتے ان کے پاس ہر (سمت کے) دروازے سے آتے ہوں گے۔ (23)

ف 5۔ مقربین کی برکت سے ان کے ماں باپ اور بیویاں اور اولاد بھی اسی درجہ میں بالتبع داخل ہوں گے چناچہ اس آیت کی تفسیر میں ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے کہ مومن جنت میں داخل ہوکرک ہے گا کہ میری ماں کہاں ہے میرا بیٹا کہاں ہے میری بیوی کہاں ہے اس سے کہا جائے گا کہ ان کے اعمال تمہارے عملوں کی مانند نہیں تھے جنتی کہے گا کہ میں جو کرتا رہا ہوں وہ اپنے لیے بھی تھے اور ان کے کے لیے بھی اور مراد آباء واولاد سے وہ میں جو بلاواسطہ ہوں۔
Ayahs 13:24–28

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

( اور یہ کہتے ہوں گے) تم صحیح سلامت رہو گے بدولت اس کے کہ تم (دین حق پر) مضبوط تھے سو اس جہان میں تمہارا انجام بہت اچھا ہے۔ (24)

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے معاہدوں کو ان کی پختگی کے بعد توڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے جن علاقوں کو قائم رکھنے کا حکم فرمایا ہے ان کو قطع کرتے ہیں اور دنیا میں فساد کرتے ہیں ایسے لوگوں پر لعنت ہوگی اور ان کے لیے اس جہاں میں خرابی ہوگی۔ (25)

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ جس کو چاہے رزق زیادہ دیتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے اور یہ (کفار) لوگ دنیوی زندگی پر اتراتے ہیں اور دنیوی زندگی آخرت کے مقابلے میں بجز ایک متاع قلیل کے اور کچھ نہیں۔ (26)

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور یہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ ان پر کوئی معجزہ ان کے رب کی طرف سے کیوں نہیں نازل کیا گیا آپ کہہ دیجیئے کہ واقعی اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گمراہ کردیتے ہیں اور جو شخص ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے اس کو اپنی طرف ہدایت کردیتے ہیں۔ (27)

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ کے ذکر سے ان کے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے (ف 1) خوب سمجھ لو کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہوجاتا ہے۔ (ف 2) (28)

ف 1۔ یعنی وہ قرآن کے اعجاز کو دلالت علی النبوة کے لیے کافی سمجھتے ہیں اور واہی تباہی فرمایش نہیں کرتے پھر خدا کی یاد اور طاعت میں انکو ایسی رغبت ہوتی ہے کہ متاع حیات دنیا سے مثل کفار کے ان کو رغبت اور فرحت نہیں ہوتی۔ 2۔ یعنی جس مرتبہ کا ذکر ہو اسی مرتبہ کا اطمینان ہوتا ہے۔
Ayah 13:29

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کے لیے خوشحالی اور نیک انجامی ہے۔ (ف 3) (29)

ف 3۔ خلاصہ یہ کہ کفار کے لیے قرآن کے اعجاز کا ناکافی سمجھنا اور ضلال اور اس کے قبل رغبت الی الدنیا اور اس کے حظ کا فنا اور اس کے مقابلہ میں مومنین کے لیے قرآن کو کافی سمجھنا اور ہدایت اور رغبت الی الآخرت اور اس کے ثمرہ کا بقاثابت فرمایا ہے اور اصل مقصود مقام کا بحث رسالت ہے آگے اس بحث کا تتمہ ہے یعنی یہ لوگ جو آپ کی رسالت پر شبہات کرتے ہیں تو آپ کی رسالت کوئی انوکھی چیز تو ہے نہیں پہلے بھی رسول ہوتے آئے ہیں۔
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

( اور) اسی طرح ہم نے آپ کو ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اس (امت) سے پہلے اور بہت سی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ ان کو وہ کتاب پڑھ کر سنا دیں جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے اور وہ لوگ ایسے بڑے رحمت والے کی ناسپاسی کرتے ہیں (ف 4) آپ فرما دیجیئے کہ وہ میرا مربی (نگہبان) ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کرلیا اور اسی کے پاس مجھ کو جانا ہے۔ (30)

ف 4۔ اور قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعے پہاڑ (اپنی جگہ سے) ہٹا دیے جاتے یا اس کے ذریعہ سے زمین جلدی جلدی طے ہوجاتی یا اس کے ذریعہ سے مردوں کے ساتھ کسی کو باتیں کرا دی جاتیں تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے بلکہ سارا اختیار خاص اللہ ہی کو ہے کیا (یہ سن کر) پھر بھی ایمان والوں کو اس بات سے دلچسپی نہیں ہوئی کہ اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو تمام (دنیا بھر کے) آدمیوں کو ہدایات کردیتا اور یہ (مکہ کے) کافر تو ہمیشہ (آئے دن) اس حالت میں رہتے ہیں کہ ان کے (بد) کرداروں کے سبب ان پر کوئی نہ کوئی حادثہ پڑا رہتا ہے یا ان کی بستی کے قریب نازل ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجا وے گا یقینا اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ (ف 5) (31)

ف 5۔ پس عذاب کا وقوع ان پر یقینی ہے گوبعض اوقات توقف سے سہی۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور بہت سے پیغمبروں کے ساتھ جو آپ کے قبل ہوچکے ہیں استہزاء ہوچکا ہے پھر بھی ان کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر میں نے ان پر داروگیر کی سو میری سزا کس طرح کی تھی۔ (ف 6) (32)

ف 6۔ یعنی نہایت سخت تھی۔
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

پھر (بھی) کیا جو (خدا) ہر شخص کے اعمال پر مطلع ہو اور ان لوگوں کے شرکاء برابر ہو سکتے ہیں اور ان لوگوں نے خدا کے لیے شرکاء تجویز کیے ہیں آپ کہیئے کہ (ذرا) ان (شرکاء) کا نام تو لو کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو کہ دنیا (بھر) میں (اس کے وجود) کی خبر اللہ کو نہ ہو یا محض ظاہری لفظ کے اعتبار سے ان کو شریک کہتے ہو بلکہ کافروں کو اپنے مغالطے کی باتیں مرغوب معلوم ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے یہ لوگ راہ حق سے محروم رہ گئے ہیں اور جس کو خدا تعالیٰ گمراہی میں رکھے اس کا کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔ (ف 1) (33)

ف 1۔ البتہ وہ اسی کو گمراہ رکھتا ہے جو باوجود وضوح حق کے عناد کرتا رہے۔
Ayah 13:34

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

اس کے لیے دنیوی زندگانی میں (بھی) عذاب ہے (ف 2) اور آخرت کا عذاب اس سے بدرجہا زیادہ سخت ہے اور اللہ کے عذاب سے ان کا کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ (34)

ف 2۔ وہ عذاب قتل وقید وذلت یا امراض و مصائب ہے۔
Ayah 13:35

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

( اور) جس جنت کا (ف 3) متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اسکے (عمارات و اشجار) کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اس کا پھل اور اس کا سایہ دائم رہے گا یہ تو انجام ہوگا متقیوں کا اور کافروں کا انجام دوزخ ہوگا۔ (35)

ف 3۔ یعنی شرک وکفر سے بچنے والے۔
Ayah 13:36

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے (ف 4) اس (کتاب) سے خوش ہوتے ہیں (ف 5) جو آپ پر نازل کی گئی ہے اور ان ہی کے گروہ میں بعضے ایسے ہیں کہ اسکے بعض حصہ کا انکار کرتے ہیں آپ فرمائیے مجھ کو صرف یہ حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور کسی کو شریک نہ ٹھیراؤں میں اللہ ہی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھ کو جانا ہے۔ (36)

ف 4۔ یعنی تورات و انجیل۔ 5۔ جیسے یہود میں عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اور نصاری میں نجاشی اور ان کے فرستادے۔
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس کو اس طور پر نازل کیا کہ وہ ایک خاص حکم ہے عربی زبان میں اور اگر آپ (بفرض محال) ان کے نفسانی خیالات کا اتباع کرنے لگیں بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم (صحیح) پہنچ چکا ہے تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی آپ کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔ (ف 6) (37)

ف 6۔ جب نبی کو ایسا خطاب کیا جارہا ہے تو اور لوگ انکار کرکے کہاں رہیں گے۔
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور ہم نے یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بی بیاں اور بچے بھی دیئے اور کسی پیغمبر کے اختیار میں یہ امر نہیں کہ ایک آیت (ف 7) بھی بدون خدا کیے حکم کے لا سکے ہر زمانے کے مناسب خاص خاص احکام ہوتے ہیں۔ (38)

ف 7۔ یعنی ایک حکم۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

خدا تعالیٰ (ہی) جس حکم کو چاہیں موقوف کردیتے ہیں اور جس حکم کو چاہیں قائم رکھ سکتے ہیں اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔ (ف 8) (39)

ف 8۔ یعنی لوح محفوظ یہ سب احکام ناسخ و منسوخ ومستمر اس میں درج ہیں وہ سب کی جامع اور گویا میزان الکل ہے یعنی جہاں سے یہ احکام آتے ہیں وہ اللہ ہی کے قبضہ میں ہے پس احکام سابقہ کے موافق یا مغایر احکام لانے کی کسی کو گنجائش اور دسترس ہی نہیں ہوسکتی۔