11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsبیان القرآن

Ayahs 11:37–41

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور (تم اس طوفان سے بچنے کے لیے) ہماری نگرانی اور ہمارے حکم سے کشتی تیار کرلو اور (یہ سن لو کہ) مجھ سے کافروں (کی نجات) کے بارے میں کچھ گفتگو مت کرنا (کیونکہ) وہ سب غرق کیے جاویں گے۔ (ف 4) (37)

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور وہ کشتی تیار کرنے لگے اور (اثنائے تیاری میں) جب کبھی ان کی قوم میں سے کسی رئیس گروہ کا ان پر گزر ہوتا تو ان سے ہنسی کرتے آپ فرماتے کہ اگر تم ہم پر ہنستے رہو تو ہم تم پر ہنستے ہیں جیسا تم ہم پر ہنستے ہو۔ (38)

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

سو ابھی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون وہ شخص ہے جس پر (دنیا میں) ایسا عذاب آیا چاہتا ہے جو اس کو رسوا کر دے گا اور (بعد از مرگ) اس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے۔ (39)

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم (عذاب کے قریب) آپہنچا اور زمین میں سے پانی ابلنا شروع ہوا ہم نے نوح (علیہ السلام) سے فرمایا کہ ہر قسم (کے جانوروں) میں سے ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ یعنی دو عدد اس (کشتی) میں چڑھا لو اور اپنے گھر والوں کو بھی (چڑھالو) باستثناء اس کے جس پر (غرق ہونے کا) حکم نافذ ہوچکا ہے اور ( گھر والوں کے علاوہ) دوسرے ایمان والوں کو بھی اور بجز قلیل آدمیوں کے ان کے ساتھ کوئی ایمان نہیں لایا تھا۔ (40)

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ (آؤ) اس کشتی میں سوار ہوجاؤ اندیشہ مت کرو (کیونکہ) اس کا چلنا اور اس کا ٹھیرنا (سب) اللہ ہی کے نام سے ہے بالیقین میرا رب غفور رحیم ہے۔ (41)

ف 4۔ یعنی ان کے لیے یہ قطعی طور پر تجویز ہوچکا ہے تو ان کی سفارش بےکار ہوگی۔
Ayahs 11:42–43

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ کشتی ان کو لے کر پہاڑ جیسی موجوں میں چلنے لگی اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے ایک (سگے یا سوتیلے) بیٹے کو پکارا اور وہ (کشتی سے) (ف 1) علیحدٰہ مقام پر تھا کہ اے میرے پیارے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور عقیدہ میں کافروں کے ساتھ نہ ہو۔ (ف 2) (42)

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

وہ کہنے لگا میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھ کو پانی ( میں غرق ہونے) سے بچا لے گا نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آج اللہ کے قہر سے کوئی بچانے والا نہیں (نہ پہاڑ اور نہ کوئی چیز) لیکن جس پر وہی رحم کرے اور دونوں (باپ بیٹوں) کے بیچ میں ایک موج حائل ہوگئی پس وہ (مثل دوسرے کافروں کے) غرق ہوگیا۔ (43)

ف 1۔ وہ باوجود فہمایش کے ایمان نہ لایا تھا اور بوجہ ایمان نہ لانے کے کشتی میں سوار نہ کیا گیا تھا۔ 2۔ یعنی کفر کو چھوڑ دے کہ غرق سے بھی بچ جائے۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور جب کفار غرق ہوچکے تو) حکم ہوگیا کہ اے زمین اپنا پانی (جو کہ تیری سطح پر موجود ہے) نگل جا اور اے آسمان (برسنے سے) تھم جا (چنانچہ دونوں امر واقع ہوگئے) اور پانی گھٹ گیا اور قصہ ختم ہوا اور کشتی (کوہ) جودی پر آ ٹھیری اور کہہ دیا گیا کہ کافر لوگ رحمت سے دور۔ (ف 3) (44)

ف 3۔ اس سے معلوم ہوا کہ طوفان کا پانی پہاڑ سے اونچا تھا اور قصہ ختم ہونے میں سب باتیں آگئیں نوح (علیہ السلام) کی نجات کافروں کا غرق اور طوفان کافرو ہوجانا اور بعدا للقوم الظالمین شاید اس لیے فرمایا گیا کہ عبرت تازہ ہوجائے کہ کفر کا یہ وبال ہے تاکہ آئندہ آنے والے اس سے بچے رہیں۔
Ayahs 11:45–47

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور جب نوح (علیہ السلام) نے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب میرا یہ بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور آپ کا (یہ) وعدہ بالکل سچا ہے اور آپ احکم الحاکمین ( اور بڑی قدرت) والے ہیں۔ (ف 4) (45)

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے نوح (علیہ السلام) یہ شخص ( ہمارے علم ازلی میں) تمہارے (ان) گھر والوں میں نہیں (جو ایمان لا کر نجات پاویں گے بلکہ ( یہ خاتمہ تک) تباہ کار (یعنی کافر رہنے والا) ہے سو مجھ سے ایسی (محتمل) چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم (آئندہ) نادان نہ بن جاؤ (یعنی ایسی دعا نادانی کی بات ہے) ۔ (46)

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں اس امر سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں کہ (آئندہ) آپ سے ایسے امر کی درخواست کروں جس کی مجھے خبر نہ ہو اور (گزشتہ معاف کر دیجیئے کیونکہ) اگر آپ میری مغفرت نہ فرماویں گے اور مجھ پر رحم نہ فرما ویں گے تو میں تو بالکل تباہ ہی ہوجاؤں گا۔ (47)

ف 4۔ خلاصہ معروض کا دعا تھی اس کے مومن ہونے کے لیے۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

کہا گیا کہ اے نوح (علیہ السلام) (اب جودی پر سے زمین پر) اترو ہماری طرف سے سلام اور برکتیں لے کر جو تم پر نازل ہوں گی اور ان جماعتوں پر کہ تمہارے ساتھ ہیں اور بہت سی ایسی جماعتیں بھی ہوں گی کہ ہم ان کو (دنیا میں) چند روز عیش دیں گے پھر ( آخرت میں) ان پر ہماری طرف سے سزائے سخت واقع ہوگی۔ (ف 5) (48)

ف 5۔ قصہ نوح (علیہ السلام) کا ختم کرکے من جملہ فوائد قصص کے دو فائدے بیان فرماتے ہیں۔ دلالت نبوت محمدیہ پر۔ تسلی رسول اللہ ﷺ ۔
Ayahs 11:49–50

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ قصہ (آپ کے اعتبار سے) منجملہ اخبار غیب کے ہے جس کو ہم وحی کے ذریعہ سے آپ کو پہنچاتے ہیں اس (قصہ) کو اس (ہمارے بتلانے) کے قبل نہ آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم (ف 1) سو صبر کیجیئے یقینا نیک انجامی متقیوں ہی کے لیے ہے۔ (49)

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے (قوم) عاد کی طرف ان کے (برادری یا وطن کے) بھائی (حضرت) ہود (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں تم محض مفتری ہو۔ (50)

ف 1۔ اس اعتبار سے غیب تھا اور بجز وحی کے دوسرے سب اسباب علم کے یقینا مفقود ہیں پس ثابت ہوگیا کہ آپ کو وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوا ہے اور یہی نبوت ہے لیکن یہ لوگ بعد ثبوت نبوت کے بھی آپ سے مخالفت کرتے ہیں۔
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم میں تم سے اس (تبلیغ) پر کچھ معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو صرف اس (الله) کے ذمہ ہے جس نے مجھ کو (عدم محض سے) پیدا کیا پھر کیا (تم اس کو) نہیں سمجھتے۔ (ف 2) (51)

ف 2۔ دلیل مصح نبوت موجود اور مانع صحت نبوت یعنی خود غرضی مرتفع پھر نبوت میں شبہ کی کیا وجہ۔
Ayahs 11:52–55

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے میری قوم تم اپنے گناہ (کفر و شرک وغیرہ) اپنے رب سے معاف کراؤ (یعنی ایمان لاؤ اور) پھر (ایمان لا کر) اس کی طرف متوجہ رہو (ف 3) وہ تم پر خوب بارشیں برسا دے گا اور (ایمان و عمل کی برکت سے) تم کو اور قوت دے کر تمہاری قوت (موجودہ) میں ترقی کر دے گا (پس ایمان لے آؤ) اور مجرم رہ کر (ایمان سے) اعراض مت کرو۔ (52)

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہود (علیہ السلام) آپ نے ہمارے سامنے کوئی دلیل تو پیش کی نہیں اور ہم آپ کے (مجرد) کہنے سے تو اپنے معبودوں کی (عبادت) کو چھوڑنے والوں میں نہیں اور ہم کسی طرح آپ کا یقین کرنے والے نہیں۔ (53)

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

( اور) ہمارا قول تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے آپ کو کسی خرابی میں (مثل جنوں وغیرہ کے) مبتلا کردیا ہے ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں (علی اعلان) اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی (سن لو اور) گواہ رہو کہ میں ان چیزوں سے (بالکل) بےزار ہوں جن کو تم خدا کے سوا شریک (عبادت) قرار دیتے ہو سو تم ( اور وہ) سب مل کر میرے ساتھ (ہر طرح کا) داؤ گھات کرلو ( اور) پھر ذرا مجھ کو مہلت نہ دو ۔ (54)

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

میں نے اللہ پر توکل کرلیا ہے جو میرا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے جتنے روئے زمین پر چلنے والے ہیں سب کی چوٹی اس نے پکڑ رکھی ہے یقینا میرا رب صراط مستقیم پر (چلنے سے ملتا) ہے۔ (55)

ف 3۔ یعنی عمل صالح کرو۔
Ayahs 11:56–58

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں نے اللہ پر توکل کرلیا ہے جو میرا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے جتنے روئے زمین پر چلنے والے ہیں سب کی چوٹی اس نے پکڑ رکھی ہے (ف 4) یقینا " میرا رب صراط مستقیم پر (چلنے سے ملتا) ہے (ف 5) (56)

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر اگر (اس بیان بلیغ کے بعد بھی) تم (راہ حق سے) پھرے رہو گے تو میں تو (معذور سمجھا جاؤں گا کیونکہ) جو پیغام مجھ کو دے کر بھیجا گیا تھا وہ تمکو پہنچا چکا ہوں اور تمہاری جگہ میرا رب اور دوسرے لوگوں کو زمین میں آباد کرے گا اور اس کا تم کچھ نقصان نہیں کر رہے بالیقین میرا رب ہر شے کی نگہداشت کرتا ہے۔ (57)

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور (سامان عذاب شروع ہوا سو) جب ہمارا حکم (عذاب کے لیے) پہنچا ہم نے ہود (علیہ السلام) کو اور جو ان کے ہمراہ اہل ایمان تھے ان کو اپنی عنایت سے (اس عذاب سے) بچا لیا اور ان کو کیسی چیز سے بچا لیا) ایک بہت ہی سخت عذاب سے بچا لیا۔ (58)

ف 4۔ یعنی سب اس کے قبضے میں ہیں بے اس کے حکم کے کوئی کان نہیں ہلاسکتا۔ 5۔ پس تم بھی اس صراط مستقیم کو اختیار کرو تاکہ مقبول ومقرب ہوجاو۔
Ayah 11:59

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ (جن کا ذکر ہوا) قوم عاد تھی جنھوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا (ف 6) اور اس کے روسولوں کا کہنا نہ مانا اور تمام تر ایسے لوگوں کے کہنے پر چلتے رہے جو ظالم ( اور) ضدی تھے۔ (ف 1) (59)

ف 6۔ یعنی دلائل اور احکام کا انکار کیا۔ 1۔ یہ جو فرمایا کہ عاد نے رسولوں کا کہنا نہ مانا حالانکہ ان کے پاس صرف ہود (علیہ السلام) کا تشریف لانا ثابت ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ پیغمبر مسئلہ توحید میں سب متفق ہیں جب ہود (علیہ السلام) کا کہنا نہ ماناتوجتنے پیغمبر ان سے پہلے گزرے تھے بلکہ جو آئندہ بھی ہوئے ان سب ہی کی مخالفت ہوئی۔
Ayahs 11:60–62

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور (ان افعال کا نتیجہ یہ ہوا کہ) اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ ساتھ رہی اور قیامت کے دن بھی (ف 2) خوب سن لو قوم عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا خوب سن لو رحمت سے دوری ہوئی (دونوں جہاں میں) عاد کو جو کہ ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔ (60)

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ہم نے قوم ثمود کے پاس انکے بھائی صالح (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا اے میری قوم تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ( ہونے کے قابل) نہیں اس نے تم کو زمین (کے مادہ) سے پیدا کیا اور تم کو اس (زمین) میں آباد کیا تو تم ایسے گناہ (شرک و کفر وغیرہ) اس سے معاف کراؤ پھر (ایمان لا کر) اس کی طرف (عبادت سے) متوجہ رہو بیشک میرا رب (اس شخص سے) قریب ہے قبول کرنے والا ہے۔ (61)

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ اے صالح تم تو اس کے قبل ہم میں ہونہار (معلوم ہوتے) تھے کیا تم ہم کو ان چیزوں کی عبادت سے منع کرتے ہو جن کی عبادت ہمارے بڑے کرتے آئے ہیں (یعنی تم اس سے منع مت کرو) اور جس دین کی طرف تم ہم کو بلا رہے ہو (یعنی توحید) واقعی ہم تو اس کی طرف سے بڑے (بھاری) شبہہ میں ہیں جس نے ہم کو تردد میں ڈال رکھا ہے۔ (62)

ف 2۔ چناچہ دنیا میں اس کا آخر عذاب ہلاک تھا۔ اور آخرت میں عذاب مخلد ہوگا۔
Ayahs 11:63–65

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

آپ نے (جواب میں) فرمایا اے میری قوم بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر (قائم) ہوں اور اس نے مجھ کو اپنی طرف سے حمت (یعنی نبوت) عطا فرمائی ہو سو (اس حالت میں) اگر میں خدا کا کہنا مانوں تو (یہ بتلاؤ کہ) پھر مجھ کو خدا (کے عذاب) سے کون بچالے گا تو تم تو سراسر میرا ہی نقصان کر رہے ہو۔ (ف 3) (63)

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے میری قوم یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لیے دلیل ہے سو اس کو چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرا کرے اور اس کو برائی ( اور تکلیف دہی) کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا کبھی تم کو فوری عذاب آپکڑے۔ (64)

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

سو انہوں نے اس (اونٹنی) کو مار ڈالا تو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا (خیر) تم اپنے گھروں میں تین دن اور بسر کرلو اور یہ ایسا وعدہ ہے جسی میں ذرا جھوٹ نہیں۔ (65)

ف 3۔ یعنی اگر خدانخواستہ قبول کرلوں تو بجز نقصان کے اور کیا ہاتھ آئے۔
Ayah 11:66

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

سو جب ہمارا حکم (عذاب کے لیے) آپہنچا ہم نے صالح (علیہ السلام) کو اور جو ان کے اہل ایمان تھے ان کو اپنی عنایت سے (اس عذاب سے) بچا لیا اور اس دن کی بڑی رسوائی سے بچا لیا بیشک آپ کا رب ہی بڑی قوت والا غلبہ والا ہے۔۔ (ف 4) (66)

ف 4۔ جس کو چاہے سزا دے جس کو چاہے بچالے۔
Ayahs 11:67–69

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور ان ظالموں کو ایک نعرہ نے آ دبایا (ف 5) جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (67)

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

جیسے ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے خوب سن لو (قوم) ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا خوب سن لو رحمت سے ثمود کو دوری ہوئی۔ (68)

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے (بشکل بشر) ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر آئے اور (آنے کے وقت) انہوں نے سلام کیا ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی سلام کیا پھر دیر نہیں لگائی کہ ایک تلا ہوا بچھڑا لائے۔ (69)

ف 5۔ وہ آواز تھی جبرائیل (علیہ السلام) کی۔
Ayahs 11:70–72

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

سو جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کھانے تک نہیں بڑھتے تو ان سے متوحش ہوئے اور ان سے دل میں خوف زدہ ہوئے وہ فرشتے کہنے لگے ڈرو مت ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ (ف 1) (70)

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) کی بی بی (حضرت سارہ کہیں) کھڑی سن رہی تھیں پس ہنسیں سو ہم نے ان کو (مکرر) بشارت دی اسحٰق (کے پیدا ہونے) کی اور اسحٰق کے پیچھے یعقوب (علیہ السلام) کی۔ (71)

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

کہنے لگیں ہائے خاک پڑے اب میں بچہ جنوں گی بڑھیا ہو کر اور میرے میاں (بیٹھے) ہیں بالکل بوڑھے واقعی یہ بھی عجیب بات ہے۔ (72)

ف 1۔ تاکہ ان کو سزائے کفر میں ہلاک کریں۔
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا کہ تم خدا کہ کاموں میں تعجب کرتی ہو ( اور خصوصا) اس خاندان کے لوگو ! تم پر اللہ کی (خاص) رحمت اور اسکی (انواع و اقسام) کی برکتیں (نازل ہوتی رہتی) ہیں بیشک وہ (ا لله تعالیٰ ) تعریف کے لائق ( اور) بڑی شان والا ہے۔ (ف 2) (73)

ف 2۔ وہ بڑے سے بڑا کام کرسکتا ہے پس بجائے تعجب کے اس کی تعریف اور شکر میں مشغول ہو۔