11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsبیان القرآن

Ayahs 11:74–77

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) کا خوف زائل ہوگیا اور ان کو خوشی کی خبر ملی (کہ اولاد پیدا ہوگی) تو ہم سے لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں جدال کرنا شروع کیا۔ (ف 3) (74)

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

واقعی ابراہیم (علیہ السلام) بڑے حلیم الطبع رحیم المزاج رقیق القلب تھے۔ (75)

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم اس بات کو جانے دو تمہارے رب کا حکم (اس کے متعلق) آ چکا ہے اور (اس کے سبب سے) ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے جو کسی طرح ہٹنے والا نہیں۔ (76)

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب وہ ہمارے فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو لوط (علیہ السلام) ان کے (آنے کی) وجہ سے مغموم ہوئے (کہ وہ بہت حسین نوجوان کی شکل میں تھے اور ان کو آدمی سمجھ کر) اور ان کے (آنے کے) سبب تنگدل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بہت بھاری ہے۔ (77)

ف 3۔ سفارش جو باعتبار مبالغہ وصرار کے صورة جدال تھا اور یہ گفتگو فرشتوں سے ہوئی تھی مگر مقصود اللہ سے عرض کرنا تھا اس لیے یجادلنا فرمایا۔
Ayahs 11:78–82

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور ان کی قوم ان کے پاس دوڑی ہوئی آئی اور پہلے سے نامعقول حرکتیں کیا ہی کرتے تھے لوط (علیہ السلام) فرمانے لگے کہ اے میری قوم یہ میری (بہو) بیٹیاں موجود ہیں (ف 4) وہ تمہارے (نفس کی کامرانی کے) لیے (اچھی) خاصی ہیں سو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھ کو فضیحت مت کرو کیا تم میں کوئی بھی (معقول آدمی اور) بھلا مانس نہیں۔ (78)

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم کو آپ کی ان (بہو) بیٹیوں کی کوئی ضرورت نہیں اور آپ کو معلوم ہے (یہاں آنے سے) جو ہمارا مطلب ہے۔ (79)

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط (علیہ السلام) فرمانے لگے کیا خوب ہوتا اگر میرا تم پر کچھ زور چلتا یا کسی مظبوط پایہ کی پناہ پکڑتا۔ (80)

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرشتے کہنے لگے کہ اے لوط (علیہ السلام) ہم تو آپ کے رب کے بھیجے ہوئے (فرشے) ہیں آپ تک (بھی) ہرگز ان کی رسائی نہیں ہوگی سو آپ رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر (یہاں سے باہر) چلے جائيے اور تم میں سے کوئی پیچھا پھر کر بھی نہ دیکھے ہاں مگر آپ کی بیوی (بوجہ مسلمان نہ ہونے کے) نہ جاوے گی اس پر بھی آفت آنے والی ہے جو اور لوگوں پر آوے گی ان کے (عذاب کے) وعدہ کا وقت صبح کا وقت ہے کیا صبح کا وقت قریب نہیں۔ (81)

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

سو جب ہمارا حکم (عذاب کے لیے) آپہنچا تو ہم نے اس زمین (کو الٹ کر اس) کا اوپر کا تختہ تو نیچے کردیا اور اس زمین پر کھنگر کے پتھر برسانا شروع کیے جو لگا تار گر رہے تھے۔ (82)

ف 4۔ بناتی سے مجازا امت کی عورتیں مراد ہیں کیونکہ نبی امت کے لیے بجائے باپ کے ہوتا ہے اور حقیقی معنی اس لیے مراد نہیں ہوسکتے کہ آپ کی دویاتین بیٹیاں تھیں سو کس کس سے ان کا نکاح کردیتے وہ تو سارے اسی مرض میں مبتلا تھے۔
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر آپ کے رب کے پاس (یعنی عالم غیب میں) خاص نشان بھی تھا (ف 1) اور یہ بستیاں (قوم لوط (علیہ السلام) کی) ان ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ (83)

ف 1۔ کنکریوں کو جو مماز کہا سودرمنثور میں روایات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر کچھ خاص رنگ اور ہیبت کے نقوش بنے تھے جو دنیا کے احجار میں نہیں دیکھے جاتے۔
Ayahs 11:84–85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور ہم نے مدین (والوں) کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے (اہل مدین سے) فرمایا کہ اے میری قوم تم (صرف) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (بننے کے قابل) نہیں اور تم ناپ اور تول میں کمی مت کرو (کیونکہ) میں تم کو فراغت کی حالت میں دیکھتا ہوں (ف 2) اور مجھ کو تم پر اندیشہ ہے ایسے دن کے عذاب کا جو انواع مصائب کا جامع ہوگا۔ (84)

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے میری قوم تم ناپ اور تول پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کا ان کی چیزوں میں نقصان مت کیا کرو اور (شرک اور نقص حقوق کر کے) زمین میں فساد کرتے ہوئے حد (توحید و عدل) سے مت نکلو۔ (85)

ف 2۔ پھر تم کو ناپ تول میں کمی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اللہ کا دیا جو کچھ (حلال مال) بچ جائے وہ تمہارے لیے (اس حرام کی کمائی سے) بدرجاہا بہتر ہے (ف 3) اگر تم کو یقین آوے (تو مان لو) اور میں تمہارا پہرہ دینے والا تو ہوں نہیں۔ (86)

ف 3۔ کیونکہ حرام میں گو وہ کثیر ہو برکت نہیں۔ اور انجام اس کا جہنم اور حلال میں گو وہ قلیل ہو برکت ہوتی ہے اور انجام اس کا رضائے حق۔
Ayahs 11:87–90

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

وہ لوگ یہ (یہ تمام نصائح سن کر) کہنے لگے کہ اے شعیب (علیہ السلام) کیا تمہارا (مصنوعی اور وہمی) تقدس تم کو (ایسی ایسی باتوں) کی تعلیم کر رہا ہے کہ ہم ان چیزوں کی (پرستش) کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے بڑے کرتے آئے ہیں یا اس بات کو چھوڑ دیں کہ ہم اپنے مال میں جو چاہیں تصرف کریں واقعی آپ ہیں بڑے عقلمند دین پر چلنے والے۔ (ف 4) (87)

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر (قائم) ہوں اور اس نے مجھ کو اپنی طرف سے ایک عمدہ دولت (یعنی نبوت) دی ہو تو پھر کیسے تبلیغ نہ کروں اور میں یہ نہیں چاہتا ہوں کہ تمہارے برخلاف ان کاموں کو کروں جن سے تم کو منع کرتا ہوں (ف 5) میں تو اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میرے امکان میں ہے اور مجھ کو جو کچھ (اصلاح کی) توفیق ہوجاتی ہے صرف اللہ ہی کی مدد سے ہے اسی پر میں بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف (تمام امور میں) رجوع کرتا ہوں۔ (ف 1) (88)

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے میری قوم میری ضد ( اور عداوت) تمہارے لیے اس کا باعث نہ ہوجاوے کہ تم پر بھی اس طرح کی مصیبتیں آپڑیں جیسے قوم نوح (علیہ السلام) یا قوم ہود (علیہ السلام) یا قوم صالح (علیہ السلام) پر پڑیں تھیں اور قوم لوط (علیہ السلام) تو (ابھی تم سے بہت دور) (زمانہ میں) نہیں ہوئی۔ (89)

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور تم اپنے رب سے اپنے گناہ (یعنی شرک و ظلم) معاف کراؤ پھر (اطاعت و عبادت کے ساتھ) اس کی طرف متوجہ ہو بیشک میرا رب بڑا مہربان بڑی محبت والا ہے۔ (90)

ف 4۔ یعنی جن باتوں سے ہم کو منع کرتے ہو ان میں کوئی برائی نہیں حلیم ورشد تمسخر سے کہا جیسے بددینوں کی عادت ہوتی ہے دین داروں کے ساتھ۔
Ayahs 11:91–92

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ اے شعیب (علیہ السلام) بہت سی باتیں تمہاری کہی ہوئی ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تم کو اپنے (مجمع) میں کمزور دیکھ رہے ہیں اور اگر تمہارے خاندان کا (کہ ہمارے ہم مذہب ہیں ہم کو) پاس نہ ہوتا تو ہم تم کو (کبھی کا) سنگسار کرچکے ہوتے اور تمہاری تو کچھ توقیر ہی نہیں۔ (ف 2) (91)

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

شیعب (علیہ السلام) نے (جواب میں فرمایا) اے میری قوم کیا میرا خاندان تمہارے نزدیک (نعوذ بالله) اللہ سے بھی بہت زیادہ باتوقیر ہے اور اس کو (یعنی اللہ تعالیٰ کو) تم نے پس پشت ڈال دیا یقینا میرا رب تمہارے سب اعمال کو (اپنے علم میں) احاطہ کیے ہوئے ہے۔ (92)

ف 2۔ مطلب ان کا یہ تھا کہ تم ہم کو یہ مضامین مت سناو ورنہ تمہاری جان کا خطرہ ہے۔
Ayahs 11:93–95

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے میری قوم تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی (اپنے طور پر) عمل کر رہا ہوں (سو) اب جلدی تم کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کون شخص ہے جس پر ایسا عذاب آیا چاہتا ہے جو اس کو رسوا کرے گا اور کون شخص ہے جو جھوٹا تھا اور تم بھی منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔ (ف 3) (93)

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم (عذاب کے لیے) آپہنچا (تو) ہم نے (اس عذاب سے) شعیب (علیہ السلام) اور جو ان کی ہمراہی میں اہل ایمان تھے ان کو اپنی عنایت (خاص) سے بچا لیا اور ان ظالموں کو ایک سخت آواز نے (کہ نعرہٴ جبرائیل تھا) آپکڑا سو اپنے گھروں کے اندر اوندھے گرے رہ گئے ( اور مر گئے) ۔ (94)

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

جیسے کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے خوب سن لو ( اور عبرت پکڑ لو) مدین کو رحمت سے دوری ہوئی جیسا ثمود رحمت سے دور ہوئے تھے۔ (95)

ف 3۔ یعنی تم دعوی نبوت میں مجھ کو جھوٹا کہتے ہو اور حقیر سمجھتے ہو تو اب معلوم ہوجائے گا کہ جرم کذب کا مرتکب اور سزائے ذلت کا مستوجب کون تھا تم یا میں دیکھیں عذاب کا وقوع ہوتا ہے جیسا میں کہتا ہوں یا عدم وقوع جیسا تمہارا زعم ہے۔
Ayahs 11:96–98

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (بھی) اپنے معجزات اور دلیل روشن دے کر (ف 4) ۔ (96)

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس سو وہ لوگ (بھی) فرعون (ہی) کی رائے پر چلتے رہے اور فرعون کی رائے کچھ صحیح نہ تھی۔ (97)

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ (فرعون) قیامت کے دن اپنی قوم سے آگے آگے ہوگا پھر ان (سب) کو دوزخ میں اتارا جائے گا اور وہ دوزخ بہت بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جاوینگے۔ (98)

ف 4۔ سلطان مبین سے مراد یا تو عصا اور یدبیضاء ہے جو منجملہ آیات تسعہ کے جو پارہ نہم کے ربع پر مذکور ہیں اعظم ہیں اور یا موسیٰ کی تقریر بلیغ ہے جو فرعون کے سامنے دوبارہ توحید کے انہوں نے فرمائی۔
Ayah 11:99

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ رہی اور قیامت کے دن بھی (ف 1) برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا۔ (99)

ف 1۔ چناچہ یہاں قہر سے غرق ہوئے اور وہاں دوزخ نصیب ہوگا۔
Ayah 11:100

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ غارت شدہ بستیوں کے بعض حالات تھے جن کو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں (سو) بعض بستیاں تو ان میں ( اب بھی) قائم ہیں (ف 2) اور بعض کا بالکل خاتمہ ہوگیا ہے۔ (100)

ف 2۔ مثلا مصر کہ بعد اہلاک فرعونیوں کے آبار رہا۔
Ayah 11:101

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا سو ان کے وہ معبود جن کو وہ خدا کو چھوڑ کر پوجتے تھے ان کو کچھ فائدہ نہ پہنچا سکے جب آپ کے رب کا حکم (عذاب کے لیے) آپہنچا (کہ ان کو عذاب سے بچا لیتے) اور الٹا ان کو نقصان پہنچایا۔ (ف 3) (101)

ف 3۔ یعنی سبب نقصان کے ہوئے کہ ان کی پرستش کی بدلوت سزا یاب ہوئے۔
Ayah 11:102

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور آپ کے رب کی داروگیر ایسی ہی (سخت) ہے جب وہ کسی بستی والوں پر دارو گیر کرتا ہے جب کہ وہ ظلم (وکفر) کیا کرتے ہوں بلاشبہ اس کی دارو گیر بڑی الم رسان ( اور) سخت ہے۔ (ف 4) (102)

ف 4۔ اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے اور اس سے بچ نہیں سکتا۔
Ayahs 11:103–106

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

ان واقعات میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو (ف 5) وہ (آخرت کے دن) ایسا ہوگا کہ اس میں تمام آدمی جمع کیے جائیں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے۔ (103)

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم اس کو تھوڑی مدت کے لیے (بعض مصلحتوں سے) ملتوی کیے ہوئے ہیں۔ (104)

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

(پھر) جس وقت وہ دن آوے گا کوئی شخص بدون خدا کی اجازت کے بات تک (بھی) نہ کرسکے گا پھر (آگے) ان میں (یہ فرق ہوگا کہ) بعضے توشقی (یعنی کافر) ہوں گے اور بعضے سعید (یعنی مومن) ہو نگے۔ (105)

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

سو جو لوگ شقی ہیں وہ تو دوزخ میں ایسے حال سے ہوں گے کہ اس میں ان کی چیخ پکار پڑی رہے گی۔ (106)

ف 5۔ وجہ عبرت ظاہر ہے جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دارالجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دارالجزا ہے کیسا سخت ہوگا۔
Ayahs 11:107–108

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

اور ہمیشہ ہمیشہ کو اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں (ف 6) ہاں اگر خدا ہی کو (نکالنا) منظور ہو تو دوسری بات ہے (کیونکہ) آپ کا رب جو کچھ چاہے اس کو پورے طور سے کرسکتا ہے۔ (ف 7) (107)

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور رہ گئے وہ لوگ جو سعید ہیں سو وہ جنت میں ہوں گے ( اور) وہ اس میں (داخل ہونے کے بعد) ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں ہاں اگر خدا ہی کو (نکالنا) منظور ہو تو دوسری بات ہے وہ غیر منقطع عطیہ ہوگا۔ (108)

ف 6۔ یہ محاورہ ابدیت کے لیے۔ 7۔ مگر باوجود قدرت کے یہ یقینی ہے کہ خدا یہ بات نہ چاہے گا اس لیے نکلنا نصیب نہ ہوگا۔
Ayah 11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

سو (اے مخاطب) جس چیز کی پرستش یہ کرتے ہیں اس کے بارے میں ذرا شبہ نہ کرنا (ف 8) یہ لوگ بھی اسی طرح (بلا دلیل بلکہ خلاف دلیل) عبادت (غیر اللہ کی) کر رہے ہیں جس طرح ان کے قبل ان کے باپ دادا عبادت کرتے تھے اور ہم یقینا (قیامت کو) ان کا حصہ (عذاب کا) ان کو پورا پورا بےکم وکاست پہنچا دیں گے۔ (109)

ف 8۔ بلکہ یقین رکھنا کہ ان کا یہ عمل موجب سزا ہے بوجہ باطل ہونے کے۔
Ayahs 11:110–113

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (یعنی توریت) دی تھی تو اس میں (بھی مثل قرآن کے) اختلاف کیا گیا (ف) اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی تو ان کا قطعی فیصلہ (دنیا ہی میں) ہوچکا ہوتا اور یہ لوگ اس کی طرف سے ایسے شک میں (پڑے) ہیں جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا ہے۔ (110)

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور بالیقین سب کے سب ایسے ہی ہیں کہ آپ کا رب ان کو ان کے اعمال (کی جزا) کا پور پورا حصہ دے گا وہ بالیقین ان کے سب اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے۔ (111)

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

تو آپ جس طرح کے آپ کو حکم ہوا ہے (راہ دین پر) مستقیم رہیئے اور وہ لوگ بھی (مستقیم رہیں) جو کفر سے توبہ کر کے آپ کی ہمراہی میں ہیں اور دائرہ (دین) سے ذرا مت نکلو یقینا وہ تم سب کے اعمال کو خوب دیکھتا ہے۔ (112)

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو) ان ظالموں کی طرف مت جھکو کبھی تم کو دوزخ کی آگ لگ جاوے اور (اس وقت) خدا کے سوا تمہارا کوئی رفاقت کرنے والا نہ ہو پھر حمایت تو تمہاری ذرا بھی نہ ہو۔ (113)

ف 9۔ کسی نے مانا کسی نے نہ مانا یہ کوئی آپ کے لیے نئی بات نہیں ہوئی پس آپ مغموم نہ ہوں۔