10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsبیان القرآن

Ayahs 10:1–3

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

ال ر۔ یہ پر حکمت کتاب یعنی قرآن کی آیتیں ہیں۔ (1)

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا ان (مکہ کے) لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ سب آدمیوں کو (احکام خداوندی کے خلاف کرنے پر) ڈرائیے اور جو ایمان لے آئے ان کو یہ خوشخبری سنا دیجیئے کہ ان کے رب کے پاس (پہنچ کر) ان کو پورا رتبہ ملے گا کافر کہنے لگے کہ (نعوذ بالله) یہ شخص تو بلا شبہ صریح جادوگر ہے۔ (2)

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا رب (حقیقی) اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ روز (کی مقدار) میں پیدا کردیا پھر عرش (یعنی تخت شاہی) پر قائم ہوا (ف 1) وہ ہر کام کی (مناسب) تدبیر کرتا ہے (اس کے سامنے) کوئی سفارش کرنے والا (سفارش) نہیں (کرسکتا) بدون اس کی اجازت کے ایسا اللہ تمہارا رب (حقیقی) ہے سو تم اس کی عبادت کرو ( اور شرک مت کرو) کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے۔ (3)

ف 1۔ یعنی زمین و آسمان میں احکام جاری کرنے لگا۔
Ayahs 10:4–5

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

تم سب کو اس (الله) ہی کے پاس جانا ہے اللہ نے (اس کا) سچا وعدہ کر رکھا ہے بیشک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی (قیامت) کو پیدا کرے گا تاکہ ایسے لوگوں کو جو کہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے انصاف کے ساتھ (پوری پوری) جزا دے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے واسطے (آخرت میں) کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور دردناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی وجہ سے۔ (4)

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہ اللہ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو (بھی) نورانی بنایا اور اس کی (چال کے لئے) منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو (ف 2) اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بےفائدہ نہیں پیدا کیں یہ دلائل ان لوگوں کو صاف صاف بتلا رہے ہیں جو دانش رکھتے ہیں۔ (ف 3) (5)

ف 2۔ مزل سے مراد وہ مسافت ہے جس کو کوئی کو کب شب وروز میں قطع کرلے خواہ وہ مسافت خلا ہو یا ملا ہو اور اس معنی کر آفتاب بھی ذی منازل ہے لیکن چونکہ قمر کی چال بہ نسبت سورج کے سریع ہے اور اس کا منازل کو طے کرنا محسوس ہے اس لیے اس کے سیر منازل کی تخصیص مناسب ہوئی اور اس اعتبار سے قمر کی انتیس یا تیس منزلیں ہوئیں مگر چونکہ اٹھائیس رات سے زیادہ نظر نہیں آتا اس لیے اٹھائیس منزلیں اس کی مشہور ہیں اور ہرچند کہ شمس وقمر دونوں عدد سنین اور حساب کے آلات میں سے ہیں لین آفتاب کا دورہ ایک سال میں پورا ہونے کی وجہ سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ عددالسنین کو شمس کے متعلق کہا جائے اور اس سے چھوٹے حساب کو قمر کے متعلق کہا جائے اور اسی واسطے حساب کا لفظ بڑھایا گیا بطور تعمیم بعد تخصیص کے۔ 3۔ یوں تو غیر اہل علم وغیرہ تقوی کے لیے بھی دلائل بیان کیے گئے ہیں مگر تخصیص باعتبار انتفاع کے ہے۔
Ayahs 10:6–8

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

بلاشبہ رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کے واسطے (توحید کے) دلائل ہیں جو (خدا کا) ڈر مانتے ہیں۔ (6)

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے اور وہ دنیوی زندگی پر راضی ہوگئے ہیں (آخرت کی طلب نہیں کرتے) اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں (آئندہ کی کچھ خبر نہیں) اور جو لوگ ہماری آیتوں سے بالکل غافل ہیں۔ (7)

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ایسے لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے۔ (ف 1) (8)

ف 1۔ یہاں اولٰئک ماوھم النار میں کفار کا آخرت میں معذب ہونا بیان فرمایا ہے ایسے مضامین پر کفار تکذیب کی غرض سے کہا کرتے کہ ہم تو عذاب کو حق جب سمجھیں گے کہ ہم پر یہاں دنیا ہی میں نازل ہوجائے اور اس کے بعد عذاب نازل نہ ہونے سے تنبیہ عدم عذاب فی المعاد کا ہوسکتا تھا آگے اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے۔
Ayahs 10:9–11

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

( اور) یقینا جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے انکا رب ان کو بوجہ ان کے مومن ہونے کے ان کے مقصد (یعنی جنت) تک پہنچا دے گا ان کے (مسکن کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی چین کے باغوں میں۔ (9)

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

ان کے منہ سے یہ بات نکلے گی کہ سبحان اللہ اور ان کا باہمی سلام یہ ہوگا السلام علیکم اور ان کی (اس وقت کی ان باتوں میں) آخیر بات یہ ہوگی الحمدلله رب العالمین۔ (10)

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر اللہ لوگوں پر (ان کے جلدی مچانے کے موافق) جلدی سے نقصان واقع کردیا کرتا جس طرح وہ فائدے کے لیے جلدی مچاتے ہیں تو ان کا وعدہ (عذاب) کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا سو (اسلئے ان لوگوں کو جن کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے ان کے حال پر بلا عذاب چند روز چھوڑ رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔ (ف 2) (11)

ف 2۔ جو شرونقصان واقع ہوتا ہے اس میں باعتبار شخص خاص یا باعتبار عامہ مصالح کے کوئی چیز مضمر ہوتی ہے اور جس خیر میں توقف ہوتا ہے اسی طرح اس میں کوئی شر مضمر ہوتا ہے پس اس شر کا وقوع واقع میں خیر وقوع ہے اور اس خیر کا عدم وقوع واقع میں شرکا عدم وقوع ہے۔
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے لیٹے بھی بیٹھے بھی کھڑے بھی (ف 3) پھر جب ہم اس کی وہ تکلیف اس سے ہٹا دیتے ہیں تو پھر اپنی پہلی حالت پر آجاتا ہے کہ گویا جو تکلیف اس کو پہنچی تھی اس کے ہٹانے کے لیے کبھی ہم کو پکارا ہی نہ تھا ان حد سے نکلنے والوں کے اعمال (بد) ان کو اسی طرح مستحسن معلوم ہوتے ہیں (جس طرح سے ہم نے بیان کیا ہے) ۔ (12)

ف 3۔ اوپر توحید کا ذکر ہوا ہے یہاں شرک کا باطل ہونا ایک خاص طور پر بیان فرماتے ہیں وہ یہ کہ مصیبت میں خود مشرکین ہی خدا کے سوا سب کو چھوڑ بیٹھتے ہیں پس شرک واقع میں جس طرح باطل ہے اسی طرح اس عقیدہ والوں کے طرف عمل سے بھی وہ لچر ثابت ہوتا ہے۔
Ayahs 10:13–16

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سے گروہوں کو (انواع عذاب سے) ہلاک کردیا ہے جب کہ انہوں نے ظلم کیا یعنی کفر و شرک) حالانکہ ان کے پاس ان کے پیغمبر بھی دلائل لے کر آئے اور وہ (بوجہ غایت عناد کے) ایسے کب تھے کہ ایمان لے آتے ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں (جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے) ۔ (13)

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے دنیا میں بجائے ان کے تم کو آباد کیا تاکہ (ظاہری طور پر) ہم دیکھ لیں کہ تم کس طرح کام کرتے ہو۔ (14)

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو بالکل صاف صاف ہیں تو یہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے ( آپ سے) یوں کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی (پورا) دوسرا قرآن (ہی) لائیے یا (کم سے کم) اس میں کچھ ترمیم کر دیجیئے آپ یوں کہہ دیجیئے کہ یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا کہ میں اپنی طرف سے اس میں ترمیم کر دوں بس میں تو اس کا اتباع کروں گا جو میرے پاس وحی کے ذریعے سے پہنچتا ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے بھاری دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں۔ (15)

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

آپ یوں کہہ دیجیئے اگر خدا تعالیٰ کو منظور ہوتا تو نہ تو میں تم کو یہ (کلام) پڑھ کر سناتا اور نہ اللہ تعالیٰ تم کو اس کی اطلاع دیتا (ف 1) کیونکہ اس سے پہلے بھی تو ایک بڑے حصے عمر تک تم میں رہ چکا ہوں پھر تم کیا اتنی عقل نہیں رکھتے۔ (ف 2) (16)

ف 1۔ پس جب میں تم کو سنا رہا ہوں اور میرے ذریعے سے تم کو اطلاع ہورہی ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کو اس کلام معجز کا سنورنا اور اطلاع کرنا منظور ہوا اور سنانا اور اطلاع دینا بدون وحی کے بوجہ اس کے معجز ہونے کے ممکن نہیں اس سے معلوم ہوتا ہے وہ وحی منزل اور کلام الٰہی ہے۔ 2۔ یعنی اگر یہ میرا کلام ہے تو یا تو اتنی مدت تک ایک جملہ بھی اس طرح کانہ نکلا اور یا دفعتا اتنی بڑی بات بنالی یہ تو بالکل عق کے خلاف ہے۔ فائدہ۔ اعجاز کے اثبات میں فقد لبثت فیکم سے استدلال علی سبیل التنزل ہے یعنی استدلال یہ ہے فاتوا بسورة من مثلہ اور اس میں کوئی بعید احتمال نکالنا کہ شاید عام اس پر قادر نہ ہوں آپ قادر ہوں اس احتمال پر یہ جواب دیا ہے کہ دفعتا ایسے اعلی طرف کا کلام طویل پیش کردینا ممتنعات عادیہ سے ہے اور اعجاز میں امتناع عادی ہی پر مدار ہوتا ہے۔
Ayahs 10:17–19

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

سو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتلاوے یقینا ایسے مجرموں کو اصلا فلاح نہ ہوگی (بلکہ معذب ابدی ہوں گے) ۔ (17)

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کی (توحید) کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں آپ کہہ دیجیئے کہ کیا تم خدا تعالیٰ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اس (خدا تعالیٰ ) کو معلوم نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں وہ پاک ہے اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے۔ (18)

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور تمام آدمی ایک ہی طریقے کے تھے (ف 3) پھر اپنی کجرائی سے) انہوں نے اختلاف پیدا کرلیا اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو جس چیز میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں ان کا قطعی فیصلہ (دنیا ہی میں) ہوچکا ہوتا۔ (19)

ف 3۔ یعنی سب موحد تھے کیونکہ آدم (علیہ السلام) موحد تھے بہت روز تک ان کی اولاد ان ہی کے طریقہ پر رہی پس سب موحد رہے۔
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان پر کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل ہوا (ف 4) ان کے رب کی طرف سے سو آپ فرمادیجیئے کہ غیب کی خبر صرف خدا کو ہے (مجھ کو نہیں) سو تم بھی منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔ (ف 5) (20)

ف 4۔ یعنی محمد ﷺ پر۔ 5۔ خلاصہ یہ کہ ان امور کو منصب رسالت یا اس کے لوازم سے کوئی تعلق نہیں میں نہیں جانتا نہ مجھ کو کوئی دخل۔ اصل مقصود کے اثبات کے لیے البتہ ہر وقت آمادہ ہوں اور ثابت بھی کرچکا ہوں۔
Ayah 10:21

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو بعد اس کے کہ کوئی مصیبت پڑچکی ہو کسی نعمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو فورا ہی ہماری آیتوں کے بارے میں شرارت کرنے لگتے ہیں (ف 6) آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ اس شرارت کی سزا بہت جلد دے گا بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب شرارتوں کو لکھ رہے ہیں۔ (21)

ف 6۔ یعنی اس سے اعراض کرتے ہیں اور ان کے ساتھ تکذیب و استہزاء سے پیش آتے ہیں اور براہ عناد و اعتراض دوسرے معجزات کی فرمائشیں کرتے ہیں اور مصیبت گذشتہ سے عبرت نہیں پکڑتے پس علت اعتراض ہے اور اس کی علت تنعم ہے۔
Ayah 10:22

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

اور (الله) ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں لیے پھرتا ہے (ف 7) یہاں تک کہ جب بعض (اوقات) تم کشتی میں (سوار) ہوتے ہو اور وہ (کشتیاں) لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان (کی رفتار) سے خوش ہوتے ہیں (اس حالت میں دفعتا) ان پر ایک جھونکا (مخالف) ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ (برے) آ گھرے (اس وقت) سب خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں (کہ اے الله) اگر آپ ہم کو اس (مصیبت) سے بچا لیں تو ضرور ہم حق شناس (موحد) بن جاویں۔ (22)

ف 7۔ یعنی جن آلات و اسباب سے تم چلتے پھرتے ہو وہ سب اللہ ہی کے دیے ہوئے ہیں۔
Ayah 10:23

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

پھر جب وہ (الله تعالیٰ ) ان کو (اس مہلکہ سے) بچا لیتا ہے تو فورا ہی وہ (اطراف واقطار) زمین میں ناحق کی سرکشی کرنے لگتے ہیں (ف 1) اے لوگو (سن لو) یہ تمہاری سرکشی تمہارے لیے وبال (جان) ہونے والی ہے (بس) دنیوی زندگی میں (چندے اس سے) حظ اٹھا رہے ہو پھر ہمارے پاس تم کو آنا ہے پھر ہم سب تمہارا کیا ہوا تم کو جتلا دینگے ( اور اس کی سزا دیں گے) ۔ (ف 2) (23)

ف 1۔ یعنی وہی شرک و معصیت۔ 2۔ اوپر یا ایھا الناس انما بغیکم میں فرمایا تھا کہ یہ تمہاری کامرانی کفرومعاصی سے دنیا میں چند روزہ ہے پھر آخرت میں اس کی سزا بھگتنا ہے آگے دنیا کا فانی ہونا اور آخرت کی جزا وسزا کا باقی ہونا مع تفصیل جزا وسزا اور اس کے مستحقین کے مذکور ہے۔
Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

بس دنیوی زندگی کی حالت تو ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس (پانی) سے زمین کے نباتات جن کو آدمی اور جو پائے کھاتے ہیں خوب گنجان ہو کر نکلے یہاں تک کہ جب وہ زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہوگئی (ف 3) اور اس (زمین) کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب ہم اس پر بالکل قابض ہوچکے تو (ایسی حالت میں) دن میں یا رات میں اس پر ہماری طرف سے کوئی حادثہ آ پڑا (جیسے پالا یا خشکی یا اور کچھ) سو ہم نے اس کو ایسا صاف کردیا کہ گویا کل (یہاں) وہ موجود ہی نہ تھی ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو سوچتے ہیں۔ (24)

ف 3۔ یعنی سبزہ سے خوش نما معلوم ہونے لگی۔
Ayahs 10:25–27

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ دارالبقا کی طرف تم کو بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ راست پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔ (25)

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی (یعنی جنت) ہے اور مزید برآں (خدا کا دیدار) بھی اور ان کے چہروں پر نہ کدورت (غم کی) چھاوے گی اور نہ ذلت یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (26)

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے بدکام کیے (ف 4) ان کی بدی کی سزا اس کے برابر ملے گی اور ان کو ذلت چھائے گی ان کو اللہ (کے عذاب) سے کوئی بچا نہ سکے گا (ان کے چہروں کی کدورت کی ایسی حالت ہوگی کہ) گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت کے پرت لپیٹ دیے گئے ہیں یہ لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمشیہ رہیں گے۔ (ف 5) (27)

ف 4۔ یعنی شرک وکفر کیا۔ 5۔ اوپر مشرکین کے حق میں فرمایا تھا مالھم من اللہ من عاصم چونکہ وہ لوگ اپنے معبودوں کو اپناشفیع کہتے تھے اس لیے آگے ان معبودین کا ان عابدین سے قیامت میں بےتعلقی ظاہر کرنا جس کے لیے عدم نفع لازم ہے بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 10:28–29

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس روز ہم ان سب (خلائق) کو (میدان قیامت میں) جمع کریں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھیرو پھر ہم ان عابدین و معبودین) کے آپس میں پھوٹ ڈالیں گے اور ان کے وہ شرکاء (ان سے خطاب کرکے) کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔ (28)

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

سو ہمارے تمہارے درمیان خدا کافی گواہ ہے (ف 1) کہ ہم کو تمہاری عبادت کی خبر بھی نہ تھی۔ (ف 2) (29)

ف 1۔ اگر کسی کو شبہہ ہوگیا کہ کیا بت بھی بولیں گے تو جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی محال نہیں۔ 2۔ ان کا غافل ہونا ان کی عبادت سے ظاہر ہے اس واسطے کہ بتوں کو ایسا شعور ظاہر ہے اس کہ یہاں نہیں ہے اور اگر معبودین مثل ملائکہ وغیرہم کو بھی عام لیا جائے تو بھی غافل ہونا صحیح ہے کیونکہ علم ملائکہ وغیرہم کا محیط نہیں ہے اور سب اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کئے ہوئے کاموں کا امتحان کرے گا اور یہ لوگ اللہ (کے عذاب) کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جاویں گے (ف 3) اور جو کچھ معبود تراش رکھے تھے سب ان سے غائب ( اور گم) ہوجاویں گے (کوئی بھی تو کام نہ آوے گا) ۔ (30)

ف 3۔ یہاں اللہ کا کفار کا مولی فرمادینا باعتبار معنی مالکیت کے ہے لامولی لھم میں نفی باعتبار معنی محب وناصر کے ہے۔
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

آپ ان مشرکین سے کہیئے کہ (بتلاؤ) وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے (ف 4) یا (یہ بتلاؤ) وہ کون ہے جو (تمہارے) کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور کون ہے جو جاندار (چیز) کو بےجان (چیز) سے نکالتا ہے اور بےجان (چیز) کو جاندار سے نکالتا ہے اور کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے (ان سے یہ سوالات کیجیئے) سو ضرور وہ (جواب میں یہی کہیں گے کہ (ان سب افعال کا فاعل) اللہ ہے۔ (31)

ف 4۔ یعنی آسمان سے بارش کرتا ہے اور زمین سے نباتات پیدا کرتا ہے جس سے تمہارا رزق تیار ہوتا ہے۔
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

تو ان سے کہیئے کہ پھر (شرک سے) کیوں نہیں پرہیز کرتے سو یہ ہے اللہ جو تمہارا رب حقیقی ہے پھر (امر) حق کے بعد اور کیا رہ گیا بجز گمراہی کے (ف 5) پھر حق کو چھوڑ کر) کہاں (باطل کی طرف) پھرے جاتے ہو۔ (ف 6) (32)

ف 5۔ یعنی جو امر حق کی ضد ہوگی وہ گمراہی ہے اور توحید کا حق ہوناثابت ہوگیا پس شرک یقینا گمراہی ہے۔ 6۔ آگے تسلی ہے رسول اللہ ﷺ کو کہ ان لوگوں کی باطل پرستی پر مغموم ہوا کرتے تھے۔
Ayahs 10:33–35

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح آپ کے رب کی یہ (ازلی) بات کہ یہ ایمان نہ لاوینگے تمام متمرد (سرکش) لوگوں کے حق میں ثابت ہوچکی ہے۔ (33)

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

آپ (ان سے) یوں (بھی) کہیئے کہ کیا تمہارے (تجویز کیے ہوئے) شرکاء میں کوئی ایسا ہے جو پہلی بار بھی (مخلوق کو) پیدا کرے پھر ( قیامت میں) دوبارہ بھی پیدا کرے آپ کہہ دیجیئے اللہ ہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا سو پھر تم کہاں (حق سے) پھرے جاتے ہو۔ (34)

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

اور آپ (ان سے یوں بھی) کہیئے کہ تمہارے شرکاء میں کوئی ایسا ہے کہ امر حق کا رستہ بتلاتا آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ ہی امر حق کا رستہ (بھی) بتلاتا ہے (ف 7) تو پھر آیا جو شخص امر حق کا رستہ بتلاتا ہو وہ زیادہ اتباع کے لائق ہے یا وہ شخص جس کو بےبتلائے خود ہی رستہ نہ سوجھے تو (اے مشرکین تم کو کیا ہوگیا تم کیسی تجویزیں کرتے ہو۔ (35)

ف 7۔ چناچہ اس نے عقل دی انبیاء بھیجے بخلاف شیاطین کے کہ اولا وہ ان افعال پر قادر نہیں اور محض تعلیم جس کی قدرت ان کو دی گئی ہے وہ اس کا اضلال واغوا میں صرف کرتے ہیں۔
Ayahs 10:36–38

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثر لوگ صرف بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں ( اور) یقینا بےاصل خیالات امر حق (کے اثبات) میں ذرا بھی مفید نہیں (خیر) جو کچھ کر رہے ہیں یقینا اللہ کو سب خبر ہے (وقت پر سزا دے گا) ۔ (36)

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن افتراء کیا ہوا نہیں ہے کہ غیر اللہ سے صادر ہوا ہو بلکہ یہ تو ان کی (کتابوں) کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس کے قبل نازل ہوچکی ہیں اور احکام ضروریہ (الہیٰہ) کی تفصیل بیان کرنے والا ہے ( اور) اس میں کوئی بات شک و (شبہ) کی نہیں ( اور وہ) رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا۔ (37)

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو افتراء کرلیا ہے آپ کہہ دیجیئے کہ تو پھر تم اس کے مثل ایک ہی سورت (بنا) لاؤ اور (اکیلے نہیں) جن جن غیر اللہ کو بلا سکو ان کو (مدد کے لیے) بلا لو اگر تم سچے ہو۔ (ف 1) (38)

ف 1۔ یعنی اگر نعوذ باللہ میں نے تصنیف کرلیا ہے تو تم بھی تصنیف کرلاو۔
Ayah 10:39

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

بلکہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس (کے صحیح و سقیم ہونے) کو اپنے احاطہ علمی میں نہیں لائے اور ہنوز ان کو اس (قرآن کی تکذیب) کا اخیر نتیجہ نہیں ملا جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں اسی طرح انھوں نے بھی (امور حقہ) کو جھٹلایا تھا (ف 2) سو دیکھ لیجیئے ان ظالموں کا انجام کیسا (برا) ہوا (اسی طرح ان کا ہوگا) ۔ (39)

ف 2۔ لم یحیطوا کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس امر میں کلام کرے پہلے اس کی تحقیق تو کرلے بعد تحقیق جو کلام کرنا ہوکرے۔