9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsبیان القرآن

Ayahs 9:1–4

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

اللہ کی طرف سے (ف 4) اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ان مشرکین (کے عہد) سے دست برداری ہے جن سے تم نے (بلاتعین مدت) عہد کر رکھا تھا۔ (1)

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

سو تم اس سرزمین میں چار مہینے چل پھر لو اور یہ (بھی) جان رکھو کہ تم خدائے تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے اور یہ (بھی جان رکھو) کہ بیشک اللہ تعالیٰ کافروں کو (آخرت میں) رسوا کرینگے۔ (2)

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور اللہ اور رسول ﷺ کی طرف سے بڑے حج کی تاریخوں میں عام لوگوں کے سامنے اعلان کیا جاتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ دونوں دست بردار ہوتے ہیں ان مشرکین (کو امن دینے) سے۔ پھر اگر تم (کفر سے) توبہ کرلو تو تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر تم نے (اسلام سے) اعراض کیا تو یہ سمجھ رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے اور ان کافروں کو ایک دردناک سزا کی خبر سنادیجئیے۔ (3)

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

ہاں مگر وہ مشرکین مستثنے ٰ ہیں جن سے تم نے عہد لیا پھر انہوں نے تمہارے ساتھ ذرا کمی نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلہ میں کسی کی مدد کی سو ان کے معاہدہ کو ان کی مدت (مقررہ) تک پورا کردو۔ واقعی اللہ تعالیٰ (بدعہدی سے) احتیاط رکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔ (4)

ف 4۔ اس سورت میں چند غزوات اور چند واقعات کا ذکر ہے اعلان نقض عہد بقبائل عرب۔ فتح مکہ غزوہ حنین، اخراج کفار از حرم، غزوہ تبوک اور ان ہی آیتوں کے ضمن میں تبعا واقعہ ہجرت۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

سو جب اشہر حرم گزر جائیں تو (اس وقت) ان مشرکین کو جہاں پاؤ مارو اور پکڑو اور باندھو اور داؤ گھات کے موقعوں پر ان کی تاک میں بیٹھو (ف 1) پھر اگر (کفر سے) توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کا رستہ چھوڑ دو ۔ واقعی اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والے بڑی رحمت کرنے والے ہیں۔ (5)

ف 1۔ یعنی لڑائی میں جو ہوتا ہے سب کی اجازت ہے۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر کوئی شخص مشرکین میں سے آپ سے پناہ کا طالب ہو تو آپ اس کو پناہ دیجئیے تاکہ وہ کلام الہیٰ سن لے (ف 2) پھر اس کو اس کے امن کی جگہ میں پہنچا دیجئیے (ف 3) یہ حکم اس سبب سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ پوری خبر نہیں رکھتے۔ (ف 4) (6)

ف 2۔ مراد مطلق دلائل دین حق کے ہیں۔ 3۔ یعنی پہنچے دیجیے کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنی رائے قائم کرے۔ 4۔ اس لیے قدرے مہلت دینا ضروری ہے۔
Ayahs 9:7–10

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

ان مشرکین (قریش) کا عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کیسے ( قابل رعایت) رہے گا (ف 5) مگر جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام کے نزدیک عہد لیا ہے (ف 6) سو جب تک یہ لوگ تم سے سیدھی طرح رہیں تم بھی ان سے سیدھی طرح رہو۔ (ف 7) بلاشبہ اللہ تعالیٰ (بد عہدی) سے احتیاط رکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔ (ف 8) (7)

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

کیسے (ان کو عہد قابل رعایت رہے گا حالانکہ ان کی حالت یہ ہے کہ) اور اگر وہ تم پر کہیں غلبہ پاجائیں تو تمہارے بارے میں نہ قرابت کا پاس کریں اور نہ قول وقرار کا۔ یہ لوگ تم کو اپنی زبانی باتوں سے راضی کررہے ہیں اور ان کے دل (ان باتوں کو) نہیں مانتے۔ اور ان میں زیادہ آدمی شریر ہیں۔ (8)

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

انہوں نے احکام الہیہٰ کے عوض (دنیا کی) متاع ناپائدار کو اختیار کر رکھا ہے سو یہ لوگ اللہ کے رستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔ اور یقینا یہ ان کا عمل بہت ہی برا ہے۔ (9)

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

یہ لوگ کسی مسلمان کے بارے میں نہ قرابت کا پاس کریں اور نہ قول وقرار کا۔ اور یہ لوگ بہت سی زیادتی کررہے ہیں۔ (10)

ف 5۔ کیونکہ رعایت تو اس عہد کی ہوتی ہے جس کو دوسراشخص خود نہ توڑے ورنہ رعایت نہیں باقی رہتی مطلب یہ کہ یہ لوگ عہد کو توڑیں گے اس وقت اس طرف سے بھی رعایت نہ ہوگی۔ 6۔ یعنی ان سے امید ہے کہ یہ عہد قائم رکھیں گے۔ 7۔ یعنی جب تک یہ لوگ عہد نہ توڑیں تم بھی مدت عہد کی ان سے پوری کرو چناچہ زمانہ نزول برات میں اس مدت میں نوماہ باقی رہے تھے اور بوجہ ان کی عہد شکنی نہ کرنے کے ان کی یہ مدت پوری کی گئی۔ 8۔ پس تم بھی احتیاط رکھنے سے پسندیدہ حق ہوجاو گے۔
Ayahs 9:11–12

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

سو اگر یہ لوگ (کفر سے) توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰة دینے لگیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہوجائیں گے (ف 1) اور ہم سمجھ دار لوگوں کے لیے احکام کو خوب تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ (11)

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے (دین) اسلام پر طعن کریں تو تم لوگ اس قصد سے کہ یہ باز آجاویں پیشوایان کفر سے لڑو کیونکہ اس صورت میں ان کی قسمیں (باقی) نہیں رہیں۔ (12)

ف 1۔ یعنی ان کی عہد شکنی پر اصلا نظر نہ ہوگی خواہ انہوں نے کچھ ہی کیا اسلام لانے سے۔
Ayahs 9:13–14

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

تم ایسے لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور رسول ﷺ کے جلاوطن کردینے کی تجویز کی اور انہوں نے تم سے خود پہلے چھیڑ نکالی (ف 2) کیا ان سے (لڑنے میں) ڈرتے ہو سو اللہ تعالیٰ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ تم ان سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ (13)

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے لڑو اللہ تعالیٰ (کا وعدہ ہے کہ) ان کو تمہارے ہاتھوں سزا دے گا اور ان کو ذلیل (و خوار) کرے گا اور تم کو ان پر غالب کرے گا اور بہت سے مسلمانوں کے قلوب کو شفادے گا۔ (14)

ف 2۔ یعنی تمہاری طرف سے وفائے عہد میں کوئی کمی نہیں ہوئی انہوں نے بیٹھے بٹھائے خود ایک شوشہ چھوڑا پس ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو۔
Ayah 9:15

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے قلوب کے غیظ (وغضب) کو دور کرے گا اور جس پر منظور ہوگا اللہ تعالیٰ توجہ (بھی) فرمائے گا (ف 3) اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں۔ (15)

ف 3۔ یعنی مسلمان ہونے کی توفیق دے گا چناچہ فتح مکہ میں بعض لڑے اور ذلیل و مقتول ہوئے اور بعض مسلمان ہوگئے۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم (یوں ہی) چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے (ظاہر طور پر) ان لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے (ایسے موقع پر) جہاد کیا اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو خصوصیت کا دوست نہ بنایا ہو۔ (ف 4) اور اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے تمہارے سب کاموں کی۔ (ف 5) (16)

ف 4۔ جس کے ظاہر ہونے کا اچھاذریعہ ایسے موقع کا جہاد ہے جہاں مقابلہ اپنے اعزہ و اقارب سے ہو پورا امتحان ہوجاتا ہے کہ کون اللہ کو چاہتا ہے اور کون برادری کو۔ 5۔ اور مشرکین کے شنائع مذکور تھے چونکہ ان کو اپنے بعض اعمال پر جیسے مسجد حرام کی خدمت اور حجاج کا پانی پلانا وغیرہ افتخار تھا اس لیے آگے مضمون سابق کی تمیم کے لیے ان کے افتخار کا ان چند آیتوں میں جواب دیتے ہیں اور اسی کے ضمن میں مسلمانوں کے ایک اختلافی مسئلہ کا جس میں اس وقت کلام ہوا تھا کہ ایمان کے بعض افضل اعمال عمارت مسجد حرام ہے یا سقایہ حاج یا جہاد آیت اجعلتم الخ۔ میں جواب دیتے ہیں۔
Ayahs 9:17–18

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکین کی یہ لیاقت ہی نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کرے (جس حالت میں کہ) وہ خود اپنے اوپر کفر (کی باتوں) کا اقرار کررہے ہیں ان لوگوں کے سب اعمال اکارت ہیں۔ (ف 6) اور دوزخ میں وہ لوگ ہمیشہ رہیں گے۔ (17)

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

ہاں اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا ان ہی لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاویں اور نماز کی پابندی کریں اور زکوٰة دیں اور بجز اللہ کے کسی سے نہ ڈریں سو ایسے لوگوں کی نسبت توقع (یعنی وعدہ) ہے کہ اپنے مقصود تک پہنچ جاوینگے۔ (18)

ف 6۔ بوجہ اس کے کہ ان کی قبولیت کی شرط نہیں پائی جاتی۔
Ayahs 9:19–21

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم لوگوں نے حجاج کے پانی پلانے کو اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کی برابر قرار دے لیا جو کہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہو اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو یہ لوگ برابر نہیں اللہ کے نزدیک اور جو لوگ بےانصاف ہیں (ف 1) اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ نہیں دیتا۔ (19)

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور (الله کے واسطے) انہوں نے ترک وطن کیا اور اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کیا وہ درجہ میں اللہ کے نزدیک بہت بڑے ہیں۔ اور یہی لوگ پورے کامیاب ہیں۔ (20)

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا رب ان کو بشارت دیتا ہے اپنی طرف سے (بڑی) رحمت اور (بڑی) رضامندی اور (جنت کے) ایسے باغوں کی کہ ان کے لیے ان (باغوں) میں دائمی نعمت ہوگی۔ (21)

ف 1۔ مراد مشرک ہیں۔
Ayah 9:22

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

( اور) ان میں یہ ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے۔ بلاشبہ اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ (ف 2) (22)

ف 2۔ اوپر ہجرت کا ذکر تھا جس میں وطن اور اقارب اور اموال واملاک سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے جو کہ طبعا شاق معلوم ہوتا ہے جو گاہے سبب ہوسکتا ہے ترک ہجرت کا اس لیے آگے ان تعلقات کے غلبہ کی مذمت فرماتے ہیں۔
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے ایمان والو اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو (اپنا) رفیق مت بناؤ اگر وہ لوگ کفر کو بمقابلہ ایمان کے (ایسا) عزیز رکھیں (کہ ان کے ایمان لانے کی امید نہ رہے) ۔ اور جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ رفاقت رکھے گا سو ایسے لوگ بڑے نافرمان ہیں۔ (ف 3) (23)

ف 3۔ مطلب یہ کہ برامانع ہجرت سے ان لوگوں کا تعلق ہے اور خوددہی جائز نہیں پھر ہجرت میں کیا دشواری ہے۔
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئیے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بی بیاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس میں نکاسی نہ ہونے کا تم کو اندیشہ ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو تم کو اللہ سے اور اس کے رسول ﷺ سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہوں تو تم منتظر رہو (ف 4) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم (سزائے ترک ہجرت) کا بھیجدیں۔ اور اللہ تعالیٰ بےحکمی کرنے والے لوگوں کو ان کے مقصود تک نہیں پہنچاتا۔ (ف 5) (24)

ف 4۔ ان شیاء کا زیادہ پیارا ہونا جو برا ہے مراد اس سے وہ محبت ہے جو احکام الہیہ ونبویہ پر عمل کرنے سے باز رکھے میلان طبعی مراد نہیں۔ 5۔ یعنی ان کا مقصو تھا ان چیزوں سے تمتع وہ بہت جلد خلاف ان کی توقع کے موت سے منقطع ہوجاتا ہے۔
Ayah 9:25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

تم کو خدائے تعالیٰ نے (لڑائی کے) بہت موقعوں میں (کفار پر) غلبہ دیا اور حنین کے دن بھی (ف 6) جبکہ تم کو اپنے مجمع کی کثرت سے غرہ ہوگیا تھا پھر وہ کثرت تمہارے کچھ کارآمد نہ ہوئی اور تم پر زمین باوجود اپنی فراخی کے تنگی کرنے لگی پھر (آخر) تم پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ (25)

ف 6۔ حنین ایک مقام ہے مکہ اور طائف کے درمیان میں یہاں قبیلہ ہوازن اور ثقیف سے فتح مکہ کے دوہفتہ بعد لڑائی ہوئی تھی مسلمان بارہ ہزار تھے ارمشرکین چار ہزار بعض مسلمان اپنا مجمع دیکھ کر ایسے طور کہ اس سے پندرا مرشح ہوتا تھا کہنے لگے کہ ہم آج کسی طرح مغلوب نہیں ہوسکتے چناچہ اول مقابلہ میں کفار کو ہزیمت ہوئی بعض مسلمان غنیمت کو جمع کرنے لگے اس وقت کفار لوٹ پڑے اور وہ تیر انداز بڑے تھے مسلمانوں پر تیر برسانے شروع کیے اس گھبراہٹ میں مسلمانوں کے پاوں اکھڑ گئے صرف رسول اللہ مع چند صحابہ کے میدان میں رہ گئے آپ نے حضرت عباس کو آواز دلوائی پھر سب لوٹ کر دوبارہ کفار سے مقابل ہوئے اور آسمان سے فرشتوں کی مدد ہوئی آخر کفار بھاگے اور بہت سے قتل ہوئے پھر ان قبائل کے بہت سے آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوئے اور آپ نے ان کے اہل و عیال جو پکڑے گئے تھے ان کو واپس کردیے۔
Ayahs 9:26–29

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ (کے قلب) پر (ف 1) اور دوسرے مومنین (کے قلوب) پر اپنی (طرف سے) تسلی نازل فرمائی اور (مدد کے لیے) ایسے لشکر نازل فرمائے جن کو تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو سزادی اور یہ کافروں کی (دنیا میں) سزا ہے۔ (26)

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اس کے بعد خدا تعالیٰ جس کو چاہیں توبہ نصیب کردیں اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والے بڑی رحمت کرنے والے ہیں۔ (27)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے ایمان والو مشرک لوگ (بوجہ عقائد خبیثہ) نرے ناپاک ہیں سو یہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ آنے پاویں۔ اور اگر تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو (تم خدا پر توکل رکھو) تم کو اپنے فضل سے اگر چاہے گا (ان کا) محتاج نہ رکھے گا بیشک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔ (28)

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

اہل کتاب جو کہ نہ خدا پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اور اس کے رسول ﷺ نے حرام بتلایا ہے اور نہ سچے دین (اسلام) کو قبول کرتے ہیں ان سے یہاں تک لڑو کہ وہ ماتحت ہو کر اور رعیت بنکر جزیہ دینا منظور کریں۔ (29)

ف 1۔ یہ جو فرمایا کہ رسول پر تسلی نازل ہوئی مراد اس سے مطلق تسلی نہیں وہ تو آپ کو بلکہ وہ صحابہ جو آپ کے ساتھ رہ گئے تھے ان کو بھی حاصل تھی اور وہ اسی وجہ سے ثابت قدم رہے بلکہ مراد اس سے خاصل تسلی ہے جس سے غلبہ کی امید قریب ہوگئی۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہود ( میں سے بعض) نے کہا کہ عزیر خدا کے بیٹے ہیں اور نصارے ٰ ( میں سے اکثر) نے کہا کہ مسیح (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں یہ ان کا قول ہے ان کے منہ سے کہنے کا۔ (ف 2) یہ بھی ان لوگوں کی سی باتیں کرنے لگے جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں (ف 3) خدا ان کو غارت کرے یہ کدھر الٹے جارہے ہیں۔ (30)

ف 2۔ جس کا واقع میں کہیں نام ونشان نہیں۔ 3۔ مراد مشرکین عرب میں جو ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انہوں نے خدا کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو (باعتبار طاعت کے) رب بنا رکھا ہے (ف 4) اور مسیح (علیہ السلام) بن مریم (علیہ السلام) کو بھی حالانکہ ان کو صرف یہ حکم کیا گیا ہے کہ فقط ایک معبود (برحق) کی عبادت کریں۔ جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ وہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ (31)

ف 4۔ یعنی ان کی اطاعت تحلیل اور تحریم میں مثل طاعت خدا کے کرتے ہیں کہ نص پر ان کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے پس اس حساب سے وہ ان کی عبادت کرتے ہیں۔
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

وہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور (یعنی دین اسلام) کو اپنے منہ سے بجھادیں (ف 1) حالانکہ اللہ تعالیٰ بدون اس کے کہ اپنے نور کو پہنچادے مانے گا نہیں گو کافر لوگ کیسے ہی ناخوش ہوں۔ (32)

ف 1۔ یعنی منہ سے رد و اعتراض کی باتیں اس غرض سے کرتے ہیں کہ دین حق کو فروغ نہ ہو۔
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

(چناچہ) وہ (الله) ایسا ہے کہ اس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت (کا سامان یعنی قرآن) اور سچادین دے کر بھیجا ہے (ف 2) تاکہ اس کو تمام (بقیہ) دینوں پر غالب کردے۔ گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں۔ (ف 3) (33)

ف 2۔ یعنی اسلام۔ 3۔ اتمام یعنی اثبات وتقویت بالدلائل تو اسلام کے لیے ہر زمانہ میں عام ہے اور یہی مقابل ہے اطفاء بمعنی رد کا اور تصیح تفسیر کے لیے کافی ہے اور مع اعتبار انضمام سلطنت مشروط ہے صلاح اہل دین کے ساتھ اور مع محو کال بقیہ ادیان واقع ہوگا زمانہ عیسیٰ (علیہ السلام) میں۔
Ayahs 9:34–35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

اے ایمان والو اکثر احبار اور رہبان (ف 4) لوگوں کے مال نامشروع طریقے سے کھاتے ہیں (ف 5) اور اللہ کی راہ سے باز رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اور (غایت حرص سے) جو لوگ سونا چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے سو آپ ان کو ایک بڑی دردناک سزا کی خبر سنادیجئیے۔ (34)

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

کہ اس روز واقع ہوگی کہ ان کو دوزخ کی آگ میں (اول) تپایا جاوے گا پھر ان سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور ان کی پشتوں کو داغ دیا جاوے گا۔ یہ وہ ہے جس کو تم نے اپنے واسطے جمع کرکے رکھا تھا سو اب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو۔ (35)

ف 4۔ یعنی یہود و نصاری کے علماء اور مشائخ عوام کے مال نامشروع طریقے سے کھاتے اڑاتے ہیں۔ 5۔ یعنی احکام حقہ کو پوشیدہ رکھ کرموافق مرضی عوام کے فتوی دے کر ان سے نذر انے لیتے ہیں۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

یقینا شمار مہینوں کا (جو کہ) کتاب الہیٰ میں اللہ کے نزدیک (معتبر ہیں) بارہ مہینے (قمری) ہیں جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کیے تھے (اسی روز سے اور) ان میں چار خاص مہینے ادب کے ہیں۔ (ف 6) یہی (امر مذکور) دین مستقیم ہے۔ (ف 7) سو تم ان سب مہینوں کے بارے میں (دین کے خلاف کرکے) اپنا نقصان مت کرنا اور ان مشرکین سے سب سے لڑنا جیسا کہ وہ تم سے لڑتے ہیں اور یہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کا ساتھی ہے۔ (ف 8) (36)

ف 6۔ یعنی ذیقعدہ۔ ذی الحجہ محرم اور رجب۔ 7۔ یعنی ان مہینوں کا بارہ ہونا اور چار کا بالتخصیص اشہر حرم ہونا۔ 8۔ مقصود آیت میں اس حساب کا ابطال ہے جس سے احکام شرعیہ میں اختلال یا غلطی ہونے لگے البتہ چونکہ احکام شرعیہ کا مدار حساب قمری پر ہے اس لیے اس کی حفاظت فرض علی الکفایہ ہے پس اگر ساری امت دوسری اصطلاح کو اپنا معمول بنالے جس سے قمری حساب ضائع ہوجائے تو سب گناہ گار ہوں گے اور اگر وہ محفوظ رہے تو دوسرے حساب کا استعمال بھی مباح ہے۔ لیکن خلاف سنت سلف ضرور ہے اور حساب قمری کا برتنا بوجہ اس کے فرج کفایہ ہونے کے لابد افضل واحسن ہے۔