8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsبیان القرآن

Ayahs 8:1–4

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

یہ لوگ (ف 3) آپ سے (خاص) غنیمتوں کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ آپ فرمادیجئیے کہ غنیمتیں اللہ کی ہیں اور رسول کی ہیں سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو۔ (1)

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

(کیونکہ) بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈرجاتے ہیں اور جب اس (الله) کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ (آیتیں) ان کے ایمان کو اور زیادہ (مضبوط) کردیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ (2)

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

( اور) جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے انکو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (3)

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

(بس) سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں۔ ان کے لیے (بڑے) درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور (ان کے لیے) مغفرت ہے اور عزت کی روزی۔ (4)

ف 3۔ اوپر کی سورت میں زیادہ مشرکین کے جہل وعناد کا اور کسی قدر اہل کتاب کے کفروفساد کا ان پر جو دنیا میں وبال ونکال بدر میں مشرکین پر اور دیگر بعض وقائع میں اہل کتاب یہود پر نازل ہوا اس کا بیان ہے بدر کا زیادہ اور واقعہ اہل کتاب کا کم۔
Ayahs 8:5–6

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

جیسا آپ کے رب نے آپ کے گھر ( اور بستی) سے مصلحت کے ساتھ آپ کو (بدر کی طرف) روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی۔ (ف 4) (5)

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

( اور) وہ اس مصلحت (کے کام) میں بعد اس کے کہ اس کو ظہور ہوگیا تھا (اپنے بچاؤ کے لیے) آپ سے (بطور مشورہ) اس طرح جھگڑ رہے تھے کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکے لیا جاتا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں۔ (6)

ف 4۔ ایک قافلہ مختصر تاجران مکہ کا شام سے مکہ کو چلا جس کے ساتھ مال و اسباب بہت تھا آپ کو وحی سے معلوم ہوا آپ نے صحابہ کو خبر دی صحابہ کو قلت رجال اور کثرت مال کا حال معلوم ہونے سے غنیمت کا خیال ہوا اور اسی ارادہ سے مدینہ سے چلے یہ خبر جو مکہ پہنچی تو ابوجہل وہاں کے روساء وجنود کے ہمراہ اس قافلہ کی حفاظت کے لیے نکلا اور قافلہ سمندر کے کنارہ کنارہ ہولیا اور ابوجہل مع لشکر بدر میں آکر ٹھہرا اس وقت جناب رسول اللہ ﷺ وادی وجران میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کو سارا قصہ بذریعہ وحی معلوم ہوا اور آپ سے وعدہ خداوندی ہوا کہ ان دو گروہ یعنی قافلہ اور لشکر میں سے آپ کو ایک گروہ پر غلبہ ہوگا آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا چونکہ بارادہ مقابلہ لشکر کے نہ آئے تھے اس لیے سامان حرب کافی ساتھ نہ تھا ونیز خود تین سو چند آدمی تھے اور لشکر میں ایک ہزار آدمی تھے اس لیے بعض کو پس وپیش ہوا اور عرض کیا کہ اس لشکر کا مقابلہ نہ کیجیے قافلہ کا تعاقب مناسب ہے آپ رنجیدہ ہوئے تو اس وقت حضرت ابوبکر وعمر و حضرت مقداد و حضرت سعد بن معاذ ؓ اجمعین نے اطاعت کی تقریریں کیں تب آپ بدر کی طرف روانہ ہوئے۔
Ayahs 8:7–10

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور (تم لوگ اس وقت کو یاد کرو) جبکہ اللہ تعالیٰ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کرتے تھے کہ وہ تمہارے ہاتھ آجاوے گی اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت (یعنی قافلہ) تمہارے ہاتھ آجاوے اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا (عملا) ثابت کردے اور ان کافروں کی بنیاد ( اور قوت) کو قطع کردے۔ (ف 1) (7)

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا (عملا) ثابت کردے گویہ مجرم لوگ ناپسند ہی کریں۔ (8)

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

(اس وقت کو یاد کرو) جب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو سلسہ دار چلیں آویں گے۔ (9)

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے یہ امداد محض اس (حکمت) کے لیے کی کہ (غلبہ کی) بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو (اضطراب سے) قرار ہوجاوے اور (واقع میں تو) نصرت ( اور غلبہ) صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ جو کہ زبردست حکمت والے ہیں۔ (10)

ف 1۔ اس غلبہ کے باوجود اس کے تمام کفار قریش ہلاک نہ ہوئے تھے قطع دابر اس لیے کہا گیا کہ اس واقعہ سے ان کی قوت بالکل فنا ہوگئی تھی کیونکہ ان کے بڑے بڑے سردار ستر قتل اور ستر قید ہوئے تھے اس طرح گویا وہ سب ہی ختم ہوگئے تھے۔
Ayahs 8:11–15

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

(اس وقت کو یاد کرو) جب کہ اللہ تعالیٰ تم پر اونگھ طاری کررہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لیے اور (اس کے قبل) تم پر آسمان سے پانی برسارہا تھا تاکہ اس پانی کے ذریعہ تم کو (حدث اصغر و اکبر سے) پاک کردے اور تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کردے اور تمھاے دلوں کو مضبوط کردے اور تمہارے پاؤں جمادے۔ (ف 2) (11)

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

(اس وقت کو یاد کرو) جب کہ آپ کا رب (ان) فرشتوں کو حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھی (مددگار) ہوں سو (مجھ کو مددگار سمجھ کر) تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ۔ میں ابھی کفار کے قلاب میں رعب ڈالے دیتا ہوں سو تم (کفار کی) گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور کو مارو۔ (12)

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ (اس بات کی سزا ہے) کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی۔ اور جو اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی مخالفت کرتا ہے سو اللہ تعالیٰ (اس کو) سخت سزا دیتے ہیں۔ (13)

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

سو یہ (سزا) تو تم چکھو اور جان رکھو کہ کافروں کے لیے جہنم کا عذاب (مقرر) ہی ہے۔ (14)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم کافروں سے (جہاد میں) دوبدومقابل ہوجاؤ تو ان سے پشت مت پھیرنا۔ (15)

ف 2۔ اس میں اشارہ ہے ایک قصہ کی طرف بیان اس اجمال کا یہ ہے کہ بدر میں مشرکین پہلے جاپہنچے تھے اور پانی پر قبضہ کرلیا تھا مسلمان بعد میں پہنچے اور ایک خشک ریگستان میں اترے جہاں پانی نہ ہونے سے پیاس کی بھی شدت اور نماز کے وقت وضو اور غسل سے بھی عاجز اور تیمم کا حکم اس وقت نازل نہ ہوا تھا ادھر ریگستان میں چلنا پھرنا مصیبت کہ اس میں پاوں دھنسے جاتے تھے ان اسباب سے قلب سخت پریشان ہوا اوپر سے شیطان نے وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم اگر اللہ کے نزدیک مقبول ومنصور ہوتے تو اس پریشانی میں کیوں پھنستے حالانکہ یہ وسوسہ محض بےبنیاد تھا مگر پریشانی بڑھانے کے لیے کافی تھا اللہ نے اول باران رحمت نازل فرمایا جس سے پانی کی افراط ہوگئی پیا بھی وضو وغیرہ بھی کیا اور اس سے ریت بھی جم گئی اور دھسن جاتی رہی برخلاف اس کے کفار نرم زمین میں تھے وہاں کیچڑ ہوگئی جس سے چلنے پھرنے میں تکلف ہونے لگا غرض سب وساوس وتشویشات دفع ہوگئی اس کے بعد ان پر اونگھ کا غلبہ ہوا جس سے پوری رات راحت ہوگئی اور سب بےچینی جاتی رہی اس آیت میں ان واقعات کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 8:16–17

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو شخص ان سے اس موقع پر (مقابلہ کے وقت) پشت پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لیے پیترا بدلتا ہو یا اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے آتا ہو وہ مستثنے ٰ ہے باقی اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کے غضب میں آجاوے گا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہوگا۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ (ف 1) (16)

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

سو تم نے ان کو قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے (بیشک) انکو قتل کیا اور آپ نے خاک کی مٹی نہیں پھینکی جب آپ نے خاک کی مٹی پھینکی و لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ پھینکی اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ان کی محنت کا خوب عوض دے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ (ان مومنین کے اقوال کے) خوب سننے والے ( اور افعال و احوال کے) خوب جاننے والے ہیں۔ (17)

ف 1۔ جہاد سے بھاگنا حرام ہے ہاں اگر کافر دونے سے زیادہ ہوں تو جائز ہے اور جب دونے سے زیادہ نہ ہوں تب بھی دو صورتیں جواز کی ہیں جن کو آیت میں مستثنی فرمایا ہے ایک یہ کہ دھوکادینے کو سامنے سے بھاگا ہو تاکہ حریف غافل ہوجائے پھر دفعتا لوٹ کر اس پر حملہ کرنے دوسرے یہ کہ مقصود اصلی بھاگنا نہ ہو بلکہ بوجہ بےسروسامانی وغیرہ عوارض کے اپنی جماعت میں اس غرض سے آملا کہ ان سے قوت اور معونت حاصل کرکے پھر جاکر مقابل ہوگا۔
Ayahs 8:18–20

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

ایک (بات) تو یہ ہوئی اور (دوسری) واقعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کافروں کی تدبیر کا کمزور کرنا تھا۔ (ف 2) (18)

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

اور اگر تم لوگ فیصلہ چاہتے ہو تو وہ فیصلہ تو تمہارے سامنے آموجود ہوا۔ اور اگر باز آجاؤ تو یہ تمہارے لیے نہایت خوب ہے۔ اور اگر تم پھر وہی کام کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کام کریں گے اور تمہاری جمعیت تمہاری ذرا بھی کام نہ آوے گی گو گنتی زیادہ ہو اور واقعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔ (19)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کا کہنا مانو اور اس کے رسول ﷺ کا اور اس (کہنا ماننے) سے روگردانی مت کرو اور تم (اعتقاد سے) سن تو لیتے ہی ہو۔ (20)

ف 2۔ اس میں بھی ایک قصہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ آپ نے بدر کے روز ایک مٹھی کنکریوں کی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی جس کے ریزے سب کی آنکھوں میں جاگرے اور انکو شکست ہوئی مٹھی خاک پھینکنے کا قصہ کئی بار ہوا بدر میں احد میں حنین میں لیکن یہاں سیاق وسباق کلام سے بدر کا مراد لینا راجح ہے۔
Ayahs 8:21–23

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ سنتے سناتے کچھ نہیں۔ (ف 3) (21)

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

بیشک بدترین خلائق اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو بہرے ہیں گونگے ہیں جو کہ ذرا نہیں سمجھتے۔ (22)

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی دیکھتے تو ان کو سننے کی توفیق دیتے اور اگر ان کو سناویں تو ضرور روگردانی کرینگے بےرخی کرتے ہوئے۔ (23)

ف 3۔ مطلب یہ کہ ثمرہ اعتقاد سے سننے کا عمل ہے جب عمل نہ ہوا تو بعض وجوہ سے مشابہ اسی کے ہوگیا کہ جیسے اعتقاد کے ساتھ سناہی نہیں۔
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

اے ایمان والو تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کہنے کو بجا لایا کرو جب کہ رسول ﷺ تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں۔ (ف 4) اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ آڑبن جایا کرتا ہے آدمی اور اس کے قلب کے درمیان میں (ف 5) اور بلاشبہ تم سب کو خدا ہی کے پاس جمع ہونا ہے۔ (24)

ف 4۔ حدیث ترمذی سے کہ حضور ﷺ نے ابھی بن کعب کو پکارا اور وہ نماز میں تھے تو ان کے عذر پر آپ نے ان کو یہ آیت یاد دلائی معلوم ہوتا ہے کہ استجیبوا اپنے عموم سے اس سورت کو بھی شامل ہے کہ جب رسول اللہ کسی کو پکاریں تو جواب دینا واجب ہے اور اپنے اطلاق سے اس صورت کو بھی شامل ہے کہ یہ شخص نماز میں مشغول ہو تو نماز ہی میں جواب دینا واجب ہے۔ 5۔ دو طریق سے ایک طریق یہ کہ مومن کے قلب میں سب طاعت کی برکت سے کفر و معصیت کو نہیں آنے دیتا دوسرا طریق یہ کہ کافر کے قلب میں مخالفت کی نحوست سے ایمان اطاعت کو نہیں آنے دینا اس سے معلوم ہوا کہ اطاعت کی مداومت بڑی نافع چیز ہے اور مخالفت کی مواظبت بڑی مضر چیز ہے۔
Ayah 8:25

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور تم ایسے وبال سے بچوجو خاص انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں ان گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں (ف 6) اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزادینے والے ہیں۔ (25)

ف 6۔ بلکہ ان گناہوں کو دیکھ کر جنہوں نے مداہنت کی ہے وہ بھی اس میں شریک ہیں۔
Ayahs 8:26–32

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور (اس حالت کو) یاد کرو جب کہ تم قلیل تھے (ف 1) سرزمین میں کمزور (ف 2) شمار کیے جاتے تھے اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو (مخالف) لوگ نوچ کھسوٹ لیں سو (ایسی حالت میں) اللہ نے تم کو (مدینے میں) رہنے کو جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو۔ (26)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو تم اللہ اور رسول کے حقوق میں خلل مت ڈالو اور اپنی قابل حفاظت چیزوں میں خلل مت ڈالو۔ اور تم تو اس کو (مضر ہونا) جانتے ہو۔ (27)

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایک امتحان کی چیز ہے اور اس بات کو بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا بھاری اجر (موجود) ہے۔ (28)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

اے ایمان والو اگر تم اللہ سے ڈرتے رہوگے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کرے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔ (29)

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور اس (واقعہ کا بھی ذکر کیجئیے) جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت (بڑی بڑی) تدبیریں سوچ رہے تھے کہ آیا آپ کو قید کرلیں یا تو آپ کو قتل کرڈالیں یا آپ کو خارج وطن کردیں۔ اور وہ تو اپنی تدبیریں کررہے تھے اور اللہ (میاں) اپنی تدبیر کررہے تھے اور سب سے زیادہ مستحکم تدبیر والا اللہ ہے۔ (30)

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور اگر ہم ارادہ کریں تو اس کی برابر ہم بھی کہہ لادیں یہ تو کچھ بھی نہیں صرف بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے منقول چلی آرہی ہیں۔ (31)

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور جب کہ ان لوگوں نے کہا کہ اے اللہ اگر یہ (قرآن) آپ کی طرف سے واقعی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسائیے یا ہم پر کوئی (دردناک) عذاب واقع کردیجئیے۔ (32)

ف 1۔ یعنی قبل ہجرت۔ 2۔ یعنی مکہ۔
Ayah 8:33

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرینگے کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو (ایسا) عذاب دیں اور (نیز) اللہ تعالیٰ ان کو (ایسا) عذاب نہ دینگے جس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے رہتے ہیں۔ (ف 3) (33)

ف 3۔ مطلب یہ کہ ان عقوبات خارقہ سے دوامر مانع ہیں ایک نبی ﷺ کا تشریف رکھنا مکہ میں یا دنیا میں اور دوسرا لوگوں کا اپنے طواف وغیرہ میں یہ کہنا غفرانک غفرانک جو کہ بعد ہجرت بعد وفات بھی باقی تھا۔
Ayah 8:34

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور (نیز) ان کا کیا استحقاق ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو (بالکل ہی معمولی) سزا (بھی) نہ دے حالانکہ وہ لوگ (مسلمانوں کو) مسجد حرام سے روکتے ہیں (ف 4) حالانکہ وہ لوگ اس اس مسجد کے متولی (بننے کے بھی لائق) نہیں۔ اس کے متولی تو سوا متقیوں کے اور کوئی بھی اشخاص نہیں لیکن ان میں اکژ لوگ (اپنی نالائقی کا) علم نہیں رکھتے۔ (ف 1) (34)

ف 4۔ یعنی مسجد حرام میں جانے اور اس میں نماز پڑھنے اور اس میں طواف کرنے سے روکتے تھے۔ 1۔ خواہ علم ہی نہ ہو یا یہ کہ جب اس علم پر عمل نہ کیا تو وہ مثل عدم علم کے ہے۔
Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور ان کی نماز خانٴہ کعبہ کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا (ف 2) سو اس عذاب کا مزہ چکھو ( ّف 3) اپنے کفر کے سبب۔ (ف 4) (35)

ف 2۔ یعنی بجائے نماز کے ان کی یہ نامعقول حرکتیں ہوتی تھیں۔ 3۔ چناچہ غزوات متعددہ میں یہ سزا واقع ہوئی۔ 4۔ یہاں تک تو ان لوگوں کے اقوال و اعمال بدنیہ کا ذکر تھا آگے ان کے اعمال مالیہ کا بیان ہے۔
Ayahs 8:36–37

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لیے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں (ف 5) سو یہ لوگ (اپنے) ان (مالوں) کو خرچ کرتے ہی رہیں گے (مگر) پھر وہ (مال) ان کے حق میں باعث حسرت ہوجائیں گے پھر آخر مغلوب ہی ہوجاویں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جاوے گا۔ (36)

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ اللہ تعالیٰ ناپاک (لوگوں) کو پاک (لوگوں) سے الگ کردے اور (ان سے الگ کرکے) ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملاوے یعنی ان سب کو متصل کردے پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے ایسے ہی لوگ پورے خسارے میں ہیں۔ (37)

ف 5۔ چناچہ نبی ﷺ کے مقابلہ اور مخالفت کے سامان جمع کرنے میں ظاہر ہے کہ جو خرچ ہوتا تھا اس میں یہی غرض تھی۔
Ayah 8:38

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

آپ ان کافروں سے کہہ دیجئیے کہ اگر یہ لوگ (اپنے کفر سے) باز آجاوینگے تو ان کے گناہ سارے (جو اسلام سے) پہلے ہوچکے ہیں سب معاف کردیے جاوینگے اور اگر اپنی وہی (کفر کی) عادت رکھیں گے تو (ان کو سنادیجئیے کہ) کفار سابقین کے حق میں قانون نافذ ہوچکا ہے۔ (ف 6) (38)

ف 6۔ یعنی دنیا میں ہلاک اور آخرت میں عذاب۔
Ayah 8:39

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور تم ان (کفار عرب) سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیدہ (یعنی شرک) نہ رہے اور دین (خالص) اللہ ہی کا ہوجاوے (ف 7) پھر اگر کفر سے باز آجاویں تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو خوب دیکھتے ہیں۔ (ف 8) (39)

ف 7۔ کسی کے دین کا خالصا اللہ ہی کے لیے ہوجانا موقوف ہے قبول اسلام پر تو حاصل یہ ہوا کہ شرک چھوڑ کر اسلام نہ لائیں تو ان سے لڑو جب تک کہ اسلام نہ لائیں کیونکہ کفار عرب سے جزیہ نہیں لیا جاتا۔ 8۔ یعنی اگر کفر سے باز آجائیں تو ان کے ظاہری اسلام کو قبول کرو دل کا حال مت ٹٹولو اگر یہ دل سے ایمان نہ لائیں گے تو اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھتے ہیں وہ آپ سمجھ لیں گے تم کو کیا۔
Ayah 8:40

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر روگردانی کریں تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا رفیق ہے وہ بہت اچھا رفیق ہے اور بہت اچھا مددگار ہے۔ (ف 9) (40)

ف 9۔ اوپر آیت وقاتلوھم میں قتال کا حکم تھا چونکہ گاہے قتال میں غنیمت بھی حاصل ہوتی ہے اس لیے آگے اس کا حکم بیان فرماتے ہیں۔