8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsبیان القرآن

Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور اس بات کو جان لو کہ جو شے (کفار سے) بطور غنیمت تم کو حاصل ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ کل کا پانچوں حصہ اللہ کا اور اس کے رسول ﷺ کا ہے اور (ایک حصہ) آپ کے قرابت داروں کا ہے اور (ایک حصہ) یتیموں کا ہے اور (ایک حصہ) غریبوں کا ہے اور (ایک حصہ) مسافروں کا ہے اگر تم اللہ پر یقین رکھتے ہو اور اس چیز پر جس کو ہم نے اپنے بندہ (محمد ﷺ پر فیصلہ کے دن یعنی جس دن (ف 10) کہ (بدر میں) دونوں جماعتیں (مومنین و کفار کی) باہم مقابل ہوئی تھیں نازل فرمایا تھا۔ (ف 1) اور اللہ (ہی) ہر شے پر پوری قدر رکھنے والے ہیں۔ (41)

ف 10۔ فیصلہ کے دن سے مراد یوم بدر ہے کیونکہ اس میں عملا حق و باطل کا فیصلہ واضح ہوگیا۔ 1۔ مراد اس سے امداد غیبی بواسطہ ملائکہ کے ہے یعنی اگر ہم پر اور ہمارے الطاف غیبیہ پر یقین رکھتے ہو تو اس حکم کو جان رکھو اور عمل کرو یہ اس لیے بڑھا دیا کہ خمس نکالنا شاق نہ ہو اور یہ سمجھ لیں کہ یہ ساری غنیمت اللہ ہی کی امداد سے تو ہاتھ آئی پھر اگر ہم کو ایک خمس نہ ملا تو کیا ہوا وہ چار خمس بھی تو ہماری قدرت سے خارج تھے بلکہ محض قدرت الہی سے حاصل ہوئے۔
Ayahs 8:42–47

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

( اور یہ وہ وقت تھا کہ) جب تم (اس میدان کے) ادھر والے کنارے پر تھے (ف 2) اور وہ لوگ (یعنی کفار اس میدان کے) ادھر والے کنارے پر تھے اور وہ قافلہ (قریش کا) تم سے نیچے کی طرف کو (بچا ہوا تھا) (ف 3) اور اگر تم اور وہ کوئی بات ٹھیراتے تو ضرور اس بات سے تم میں اختلاف ہوتا لیکن تاکہ جو بات اللہ کو کرنا منظور تھا اس کی تکمیل کردے یعنی تاکہ جس کو برباد (گمراہ) ہونا ہے وہ نشان آئے پیچھے برباد ہو اور جس کو زندہ (ہدایت یافتہ) ہونا ہے (ف 4) (وہ بھی) نشان آئے پیچھے زندہ ہو۔ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والے خوب جاننے والے ہیں۔ (42)

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

(وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ) جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے خواب میں آپ کو وہ لوگ کم دکھلائے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ آپ کو وہ لوگ زیادہ دکھلادیتے تو تمہاری ہمتیں ہارجاتیں اور اس امر میں تم میں باہم نزاع (اختلاف) ہوجاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے (اس کم ہمتی اور اختلاف سے) بچالیا بیشک وہ دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے۔ (43)

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جبکہ اللہ تعالیٰ تم کو جبکہ تم مقابل ہوئے وہ لوگ تمہاری نظر میں کم کرکے دکھلا رہے تھے اور (اسی طرح) ان کی نگاہ میں تم کو کم کرکے دکھلا رہے تھے تاکہ جو بات اللہ کو کرنا منظور تھا اس کی تکمیل کردے اور سب مقدمے اللہ ہی کی طرف رجوع کیے جائیں گے۔ (44)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم کو کسی جماعت سے (جہاد میں) مقابلہ کا اتفاق ہوا کرے تو (ان آداب کا لحاظ رکھو ایک یہ کہ) ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کا خوب کثرت سے ذکر کرو امید ہے کہ تم کامیاب ہو۔ (45)

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت (کا لحاظ) کیا کرو اور نزاع مت کرو (نہ اپنے امام سے نہ آپس میں) ورنہ کم ہمت ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ (46)

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور ان (کافر) لوگوں کے مثابہ مت ہونا کہ جو (اسی واقعہٴ بدر) میں اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور لوگوں کو اللہ کے رستے (دین) سے روکتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ انکے اعمال کو (اپنے علم میں) احاطہ میں لیے ہوئے ہے۔ (47)

ف 2۔ ادھر والے سے مراد مدینہ سے نزدیک کا موقع اور ادھر والے سے مراد مدینہ سے دور کا موقع ہے۔ 3۔ یعنی سمندر کے کنارے کنارے جارہا تھا۔ 4۔ مطلب یہ کہ اللہ کو منظور تھا لڑائی ہونا تاکہ ایک خاص طریق سے اسلام کا حق ہونا ظاہر ہوجائے کہ اس قلت عدد وکم سامانی پر مسلمان غالب آئے جو کہ خارق عادت ہے جس سے معلوم ہوا کہ اسلام حق ہے پس اس سے حجت الہیہ تام ہوگئی اس کے بعد جو گمراہ ہوگا وہ وضوح حق کے بعد ہوگا جس میں عذاب کا پورا استحقاق ہوگیا اور عذر کی گنجائش ہی نہ رہی اسی طرح جس کو ہدایت ہونا ہوگا وہ حق کو قبول کرے گا خلاصہ حکمت کا یہ ہوا کہ حق واضح ہوجائے۔
Ayah 8:48

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور (اس وقت کا ان سے ذکر کیجئیے) جبکہ شیطان نے ان (کفار) کو ان کے اعمال خوشنما کرکے دکھلائے اور کہا کہ لوگوں میں سے آج کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور میں تمہارا حامی ہوں۔ پھر جب دونوں جماعتیں (کفار و مسلمین کی) ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں تو وہ الٹے پاؤں بھاگا اور یہ کہا کہ میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں میں ان چیزوں کو دیکھ رہا ہوں جو تم کو نظر نہیں آتیں (مراد فرشتے) میں تو خدا سے ڈرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔ (ف 1) (48)

ف 1۔ چونکہ نر اخوف بدون ایمان کے مقبول نہیں اس لیے شیطان کا خدا سے ڈرنا اگر واقعی بھی ہو تو کچھ محل اشکال نہیں۔
Ayahs 8:49–50

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

( اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ) جب منافقین (ف 2) اور جن کے دلوں میں (شک کی) بیماری تھی (ف 3) یوں کہتے تھے کہ ان (مسلمان) لوگوں کو ان کے دین نے بھول میں ڈال رکھا ہے۔ اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ زبردست ہیں ( اور) حکمت والے (بھی) ہیں۔ (ف 4) (49)

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور اگر آپ (اس وقت کا واقعہ) دیکھیں جبکہ فرشتے ان (موجودہ) کافروں کی جان قبض کرنے جاتے ہیں ( اور) ان کے منہ پر اور ان کی پشتوں پر مارتے جاتے ہیں اور (یہ کہتے جاتے ہیں کہ ابھی کیا ہے آگے چل کر) آگ کی سزا جھیلنا۔ (50)

ف 2۔ مدینہ والوں میں سے۔ 3۔ مکہ والوں میں سے۔ 4۔ غرض ظاہری سامان وبے سامانی پر مدار نہیں قادر کوئی اور ہی ہے۔
Ayah 8:51

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

( اور) عذاب ان اعمال (کفریہ) کی وجہ سے ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں اور یہ امر ثابت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں۔ (ف 5) (51)

ف 5۔ سو اللہ نے بےجرم سز انہیں دی۔
Ayah 8:52

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

ان کی حالت ایسی ہے جیسے فرعون والوں کی اور ان سے پہلے کے (کافر) لوگوں کی (حالت تھی) کہ انہوں نے آیات الہیہ کا انکار کیا سو خدا تعالیٰ نے ان کے (ان) گناہوں پر ان کو پکڑ لیا بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی قوت والے سخت سزا دینے والے ہیں۔ (ف 6) (52)

ف 6۔ ان کے مقابلہ میں کوئی ایسی قوت نہیں رکھتا کہ ان کے عذاب کو ہٹاسکے۔
Ayahs 8:53–54

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ بات اس سبب سے ہے (ف 7) کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی نعمت کو جو کسی قوم کو عطا فرمائی ہو نہیں بدلتے جب تک کہ وہی لوگ اپنے ذاتی اعمال کو نہیں بدل ڈالتے (ف 8) اور یہ امر ثابت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑے سننے والے بڑے جاننے والے ہیں۔ (53)

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

ان کی حالت فرعون والوں اور ان سے پہلے والوں سی ہے۔ کہ انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا اس پر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور فرعون والوں کو غرق کردیا اور وہ سب ظالم تھے۔ (54)

ف 7۔ یعنی کہ بلاجرم ہم سزا نہیں دیتے۔ 8۔ ان کفار موجودین نے اپنی یہ حالت بدلی کہ ان میں باوجود کفر کے اول ایمان لانے کی استعداد قریب تھی انکار و مخالفت کرکے اس کو بعید کرڈالا پس ہم نے اپنی نعمت امہال کو جو پہلے سے ان کو حاصل تھی مبدل یہ داروگیر کردیا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ انہوں نے بطریق مذکور نعمت قرب استعداد کو بدل ڈالا۔
Ayah 8:55

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

بلاشبہ بدترین خلائق اللہ کے نزدیک یہ کافر لوگ ہیں تو یہ ایمان نہ لاویں گے۔ (ف 9) (55)

ف 9۔ لایومنون فرماناان ہی کے اعتبار سے ہے جو علم الہی میں عمر کافر رہنے والے تھے۔
Ayahs 8:56–57

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

جن کی یہ کیفیت ہے کہ آپ ان سے (کئی بار) عہد لے چکے ہیں (مگر) پھر (بھی) وہ ہر بار اپنا عہد توڑ ڈالتے ہیں اور وہ (عہد شکنی سے) ڈرتے نہیں۔ (ف 10) (56)

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

سو اگر آپ لڑائی میں ان لوگوں پر قابو پائیں تو ان (پر حملہ کرکے اس) کے ذریعہ سے اور لوگوں کو جو کہ ان کے علاوہ ہیں منتشر کردیجئیے تاکہ وہ لوگ سمجھ جاویں۔ (57)

ف 10۔ سبب نزول اس آیت کا یہود بنی قریظہ کی عہد شکنی ہے کہ انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے عہد کیا تھا کہ ہم آپ کے مخالفین کو مدد نہ دیں گے اور پھر بھی غزوہ احزاب میں مشرکین کو مدد دی اور بھی چند بار ایسا ہوچکا تھا ہر بار کہہ دیتے تھے کہ ہم بھول گئے پھر تازہ عہد کرتے تھے پھر ایسا ہی کرتے تھے اس پر ان آیتوں میں آپ کو حکم ہوا ان سے قتال کا۔
Ayahs 8:58–59

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت (یعنی عہد شکنی) کا اندیشہ ہو تو آپ وہ عہد ان کو اس طرح واپس کردیجئیے کہ آپ اور وہ (اس اطلاع میں) برابر ہوجاویں۔ (ف 1) بلاشبہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ (58)

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر لوگ اپنے کو یہ خیال نہ کریں کہ وہ بچ گئے۔ یقینا وہ لوگ (خدائے تعالیٰ کو) عاجز نہیں کرسکتے۔ (59)

ف 1۔ یعنی اس طرح اس عہد کے باقی نہ رہنے کی اطلاع کردیجیے۔ فائدہ۔ بدون ایسی اطلاع کے لڑناخیانت ہے۔
Ayahs 8:60–62

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور ان کافروں کے لیے جس قدر تم سے ہوسکے قوت (ہتھیار) سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے سامان درست رکھو اور اس کے ذریعہ سے تم (رعب) جمائے رکھو ان پر جو کہ (کفر کی وجہ سے) اللہ کے دشمن ہیں اور تمہارے دشمن ہیں اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جن کو تم (بالیقین) نہیں جانتے ان کو اللہ ہی جانتا ہے۔ اور اللہ کی راہ میں جو چیز بھی خرچ کروگے وہ تم کو پورا پورا دے دیا جاوے گا اور تمہارے لیے کچھ کمی نہ ہوگی۔ (ف 2) (60)

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر وہ (کفار) صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس طرف جھک جائیے اور اللہ پر بھروسہ رکھئیے بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔ (61)

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ آپ کو دھوکا دینا چاہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہیں اور وہی ہے جس نے آپ کو اپنی (غیبی) امداد (ملائکہ) سے اور (ظاہری امداد) مسلمانوں سے قوت دی۔ (62)

ف 2۔ حدیث میں تیراندازی کی مشق اور گھوڑوں کے رکھنے اور سواری سیکھنے کی بڑی فضیلت آئی ہے اب بندوق اور توپ قائم مقام تیر کے ہے اور عموم قوت میں یہ سب اور ورزش بھی داخل ہے۔
Ayahs 8:63–64

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے قلوب میں اتفاق پیدا کردیا۔ (ف 3) اور اگر آپ دنیا بھر کا مال خرچ کرتے تب بھی ان کے قلوب میں اتفاق پیدا نہ کرسکتے۔ لیکن اللہ ہی نے ان میں باہم اتفاق پیدا کردیا۔ بیشک وہ زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔ (63)

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ کے لیے اللہ کافی ہے اور جن مومنین نے آپ کا اتباع کیا ہے وہ کافی ہیں۔ (64)

ف 3۔ ظاہر ہے کہ اگر باہم اتفاق نہ ہو تو کوئی کام خصوص دین کی نصرت مل کر نہیں کرسکتے۔
Ayah 8:65

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ مومنین کو جہاد کی ترغیب دیجئیے۔ اگر تم میں کہ بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہونگے تو دو سو پر غالب آجاوینگے اور (اسی طرح) تم میں کے سو آدمی ہونگے تو ایک ہزار کفار پر غالب آجاوینگے (ف 4) اس وجہ سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (دین کو) کچھ نہیں سمجھتے۔ (65)

ف 4۔ ہرچند کہ یہاں لفظا صیغہ خبر کا ہے کہ اتنے آدمی اتنوں پر غالب آجائیں گے لیکن مقصود خبر نہیں بلکہ انشاء اور امر ہے یعنی قرار واجب ہے اور فرارحرام ہے اور بعنوان خبر تعبیر کرنے میں بطور کنایہ کے مبالغہ و تاکید ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جیسا غلبہ کی خبر یقینی ہونے پر ثبات واجب ہونا چاہیے اسی طرح واجب ہے۔
Ayahs 8:66–70

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب اللہ تعالیٰ نے تم پر تخفیف کردی اور معلوم کرلیا کہ تم میں ہمت کی کمی ہے۔ سو اگر تم میں کے سو آدمی ثابت قدم رہنے والے ہونگے تو دو سو پر غالب آجاوینگے اور اگر تم میں کے ہزار ہونگے تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آجاوینگے۔ (ف 1) اور اللہ تعالیٰ صابرین کے ساتھ ہیں۔ (66)

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

نبی کی شان کے لائق نہیں کہ ان کے قیدی باقی رہیں (بلکہ قتل کردیے جائیں) جب تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح (کفار کی) خونریزی نہ کرلیں۔ تم تو دنیا کا مال اسباب چایتے ہو اور اللہ تعالیٰ آخرت (کی مصلحت) کو چاہتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست بڑے حکمت والے ہیں۔ (67)

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر خدائے تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقرر نہ ہوچکتا تو جو امر تم نے اختیار کیا ہے اس کے بارے میں تم پر کوئی بڑی سزا واقع ہوتی۔ (68)

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

سو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کو حلال پاک سمجھ کر کھاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑے بخشنے والے بڑی رحمت والے ہیں۔ (69)

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ کے قبضہ میں جو قیدی ہیں آپ ان سے فرمادیجئیے اگر اللہ تعالیٰ کو تمہارے قلب میں ایمان معلوم ہوگا تو جو کچھ تم سے (فدیہ میں) لیا گیا ہے (دنیا میں) اس سے بہتر تم کو دے دے گا اور (آخرت میں) تم کو بخشدے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے ہیں بڑی رحمت والے ہیں۔ (70)

ف 1۔ یغلبوا باذن اللہ (اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے) یعنی غلبہ اذن الٰہی کے ساتھ مقید ہے پس اگر کسی حکمت کی وجہ سے اذن نہ ہو تو غلبہ بھی نہ ہوگا۔
Ayahs 8:71–72

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر (بالفرض) یہ لوگ آپ کے ساتھ خیانت (نقض عہد) کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو (کچھ فکر نہ کیجئیے) تو اس سے پہلے انہوں نے اللہ کے ساتھ خیانت کی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو گرفتار کرادیا۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے ہیں بڑی حکمت والے ہیں۔ (ف 2) (71)

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اپنے مال اور جان سے اللہ کے رستے میں جہاد بھی کیا اور جن لوگوں نے رہنے کو جگہ دی اور مدد کی یہ لوگ باہم ایک دوسرے کے وارث ہونگے۔ اور جو لوگ ایمان تو لائے اور ہجرت نہیں کی تمہارا ان سے میراث کا کوئی تعلق نہیں جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں اور اگر وہ تم سے دین کے کام میں مددچا ہیں تو تمہارے ذمے مدد کرنا واجب ہے مگر اس قوم کے مقابلہ میں نہیں کہ تم میں اور ان میں باہم عہد (صلح کا) ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو دیکھتے ہیں۔ (72)

ف 2۔ سبب نزول ان آیات کا یہ ہے کہ بدر میں ستر کافر پکڑے ہوئے آئے تو آپ نے صحابہ سے ان کے بارے میں مشورہ کیا بعض نے مشورہ دیا کہ ان کو قتل کردینا چاہیے بعض نے کہا کہ ان سے کچھ مال لے کر چھوڑ دینا چاہیے آپ پر وحی نازل ہوئی کہ ان صحابہ سے فرمادیجیے کہ تم کو اختیار دیا جاتا ہے خواہ ان کو قتل کردو یا فدیہ لے کر چھوڑ دو مگر اس صورت میں اگلے سال ستر آدمی شہید ہوں گے غرض اکثر صحابہ کی یہی رائے تھی کہ خیرہم شہید ہوجائیں گے اس وقت ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے شاید یہ مسلمان ہوجائیں اور اس وقت مسلمانوں کو مالی مدد ملے آپ نے بھی بوجہ رحم دلی کے اس رائے کو پسند فرمایا چناچہ باستثناء بعض کے کہ وہ تو قتل کیے گئے جیسے عقبہ نضر اور طعمہ باقی سب قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا صرف حضرت ابوالعاص کو کہ وہ بھی اس وقت ان میں تھے صحابہ کی مرضی سے بدون کچھ لیے چھوڑ دیا اس کو اصطلاح شرع میں من کہتے ہیں اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ماکان لنبی تاعذاب عظیم۔ ان آیتوں سے صحابہ کو اس فدیہ کے حلال و حرام ہونے کا شبہ ہوگیا تو آیت فکلوا۔ الخ۔ نازل ہوئی چونکہ بعض قیدی فدیہ دینے کے بعد مسلمان ہوگئے تھے جیسے حضرت عباس وغیرہ اور انہوں نے آپ سے بوجہ فدیہ دینے کے مفلس ہوجانے کی شکایت کی اس پر آیت یا ایھا النبی قل لمن فی ایدیکم۔ نازل ہوئی۔ تتمہ اس آیت قصہ کا یہ ہے کہ اس کے بعد بعض صحابہ نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ عذاب کے آثار بہت قریب آگئے تھے مگر اللہ کا فضل ہوا کہ نازل نہیں ہوا۔
Ayahs 8:73–74

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں وہ باہم ایک دوسرے کے وارث ہیں (ف 1) اگر اس (حکم مذکور) پر عمل نہ کروگے تو دنیا میں بڑا فتنہ اور بڑا فساد پھیلے گا۔ (73)

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ (اول) مسلمان ہوئے اور انہوں نے (ہجرت نبویہ کے زمانے میں) ہجرت کی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے رہے اور جن لوگوں نے (ان مہاجرین) کو اپنے یہاں ٹھیرایا اور ان کی مدد کی یہ لوگ ایمان کا پورا حق ادا کرنے والے ہیں ان کے لیے (آخرت میں) بڑی مغفرت اور (جنت میں) بڑی معزز روزی ہے۔ (74)

ف 1۔ یعنی نہ تم انکے وارث نہ وہ تمہارے وارث۔
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ (ہجرت نبویہ کے) بعد کے زمانے میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہاد کیا (ف 2) سو یہ لوگ (گو فضیلت میں تمہارے برابر نہیں لیکن تاہم) تمہارے ہی شمار میں ہیں، اور جو لوگ رشتہ دار ہیں کتاب اللہ میں ایک داسرے (کی میراث) کے زیادہ حقدار ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں۔ (ف 3) (75)

ف 2۔ یعنی کام تو سب کیے مگر بعد میں۔ 3۔ اس لیے ہر وقت کی مصلحت کے مناسب حکم مقرر فرماتے ہیں۔