7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsبیان القرآن

Ayah 7:1

الٓمّٓصٓۚ Open ayah 7:1 in the Quran reader

الم ص (ف 4) (1)

ف 4۔ تمام سورت پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ مضامین اس میں معاد اور نبوت کے متعلق ہیں۔
Ayah 7:2

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

یہ ایک کتاب ہے جو آپ کے پاس اس لیے بھیجی گئی ہے کہ آپ اس کے ذریعہ ڈرائیں سو آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہونا چاہیے (ف 5) اور یہ نصیحت ہے ایمان والوں کے لیے۔ (2)

ف 5۔ کیونکہ کسی کے نہ ماننے سے آپ کے انذار میں تو جو کہ اصلی غرض ہے خلل نہیں پڑتا پھر آپ کیوں تنگدل ہوں۔
Ayahs 7:3–4

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

تم لوگ اس کا اتباع کرو جو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے (ف 6) اور خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کا اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو۔ (3)

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور بہت بستیوں کو ہم نے تباہ کردیا اور ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت پہنچا یا ایسی حالت میں کہ وہ دوپہر کے وقت آرام میں تھے۔ (4)

ف 6۔ اتباع یہ کہ تصدیق بھی کرو عمل بھی کرو۔
Ayah 7:5

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

سو جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا اس وقت ان کے منہ سے بجز اس کے اور کوئی بات نہ نکلتی تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے۔ (ف 7) (5)

ف 7۔ یعنی اس وقت اپنے جرم کا اقرار کیا جب کہ اقرار کا وقت گزر گیا۔
Ayahs 7:6–7

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ہم پیغمبروں سے ضرور پوچھیں گے۔ (ف 8) (6)

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر ہم چونکہ پوری خبر رکھتے ہیں ان کے روبرو بیان کردینگے اور ہم کچھ بیخبر نہ تھے۔ (7)

ف 8۔ دونوں سوالوں سے توبیح ہوگی کفار کو۔
Ayah 7:8

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور اس روز وزن بھی ٹھیک واقع ہوگا (ف 1) پھر جس شخص کا پلہ بھاری ہوگا سو ایسے لوگ کامیاب ہونگے۔ (8)

ف 1۔ یعنی قیامت کے روز۔
Ayah 7:9

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جس شخص کا پلہ ہلکا ہوگا سو وہ لوگ ہونگے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کی حق تلفی کرتے تھے۔ (ف 2) (9)

ف 2۔ میزان میں ایمان وکفر کا وزن کیا جائے گا اور اسی وزن میں ایک پلہ خالی رہ جائے گا اور ایک پلہ میں اگر وہ مومن ہے تو ایمان اور اگر وہ کافر ہے تو کفر رکھا جائے گا جب اس تول سے مومن و کافر متمیز ہوجائیں گے تو پھر خاص مومنین کے لیے ایک پلہ میں ان کے حسنات اور دوسرے پلہ میں ان کے سیئات رکھ کر ان اعمال کا وزن ہوگا اور جیسا کہ در منثور میں ابن عباس سے مروی ہے اگر حسنات غالب ہوئے تو جنت اور اگر سیئات غالب ہوئے تو دوزخ اور اگر دونوں برابر ہوئے تو اعراف اس کے لیے تجویز ہوگی پھر خواہ شفاعت سے قبل سزا خواہ سزا کے بعد مغفرت ہوجائے گی۔
Ayahs 7:10–14

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لیے اس میں سامان زندگانی پیدا کیا تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ (ف 3) (10)

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو پیدا کیا پھر ہم نے ہی تمہاری صورت بنائی پھر ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ (11)

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

حق تعالیٰ نے فرمایا تو جو سجدہ نہیں کرتا تجھ کو اس سے کون امر مانع ہے جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے۔ (12)

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

حق تعالیٰ نے فرمایا تو اس (آسمان) سے اتر تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ تو تکبر کرے اس (آسمان) میں (رہ کر) سو نکل بیشک تو ذلیلوں میں (شمار) ہونے لگا۔ (13)

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

وہ کہنے لگا کہ مجھ کو مہلت دیجئیے قیامت کے دن تک۔ (14)

ف 3۔ مراد شکر سے اطاعت ہے۔
Ayahs 7:15–16

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تجھ کو مہلت دی گئی۔ (ف 4) (15)

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

وہ کہنے لگا بسبب اس کے کہ آپ نے مجھ کو گمراہ کیا ہے ( میں قسم کھاتا ہوں کہ) میں ان کے لیے آپ کی سیدھی راہ پر ضرور بیٹھوں گا۔ (16)

ف 4۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر کی دعا بھی گاہے قبول ہوجاتی ہے اور یہ مستلزم اکرام و محبت نہیں۔
Ayah 7:17

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر ان پر ضرور حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کے داہنی جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی (ف 5) اور آپ ان میں اکثروں کو احسان ماننے والے نہ پائیے گا۔ (17)

ف 5۔ یعنی ان کے بہانے میں خوب کوشش کروں گا جس سے آپ کی عبادت نہ کرنے پائیں۔
Ayahs 7:18–21

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جو شخص ان میں سے تیرا کہنا مانے گا میں ضرور تم سے (ف 6) جہنم کو بھر دوں گا۔ (18)

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور (ہم نے حکم دیا کہ) اے آدم (علیہ السلام) تم اور تمہاری بی بی جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو دونوں آدمی کھاؤ اور اس درخت کے پاس مت جاؤ کبھی ان لوگوں کے (شمار) میں آجاؤ جن سے نامناسب کام ہوجایا کرتا ہے۔ (19)

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کا پردہ کا بدن جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھا دونوں کے روبرو بےپردہ کردے اور کہنے لگا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اور کسی سبب سے منع نہیں فرمایا مگر محض اس وجہ سے کہ تم دونوں فرشتے ہوجاؤ یا ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (20)

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور ان دونوں کے روبرو قسم کھائی کہ یقین جانئیے میں آپ دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ (21)

ف 6۔ یعنی تجھ سے اور ان سے۔
Ayahs 7:22–23

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

پس ان دونوں کو فریب سے نیچے لے آیا (ف 1) پس ان دونوں نے جو درخت کو چکھا دونوں کے پردہ کا بدن ایک دوسرے کے روبرو بےپردہ ہوگیا اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ رکھنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا کیا میں تم دونوں کو اس درخت سے ممانعت نہ کرچکا تھا اور یہ نہ کہہ چکا تھا کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے۔ (22)

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

دونوں کہنے لگے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر آپ ہماری مغفرت نہ کریں گے اور ہم پر رحم نہ کرینگے تو واقعی ہمارا بڑا نقصان ہوجائے گا۔ (23)

ف 1۔ نیچے لے آیا باعتبار حالت اور رائے کے بھی اور باعتبار مکان کے بھی حتی کہ اپنی رائے عالی سے اس کی رائے سافل کی طرف مائل ہوگئے جس سے جنت سے اسفل کی طرف اتارے گئے۔
Ayah 7:24

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

نیچے ایسی حالت میں جاؤ کہ تم باہم بعضے دوسرے بعضوں کے دشمن رہوگے (ف 2) اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ ہے اور نفع حاصل کرنا ایک مدت تک۔ (ف 3) (24)

ف 2۔ یعنی جنت سے نیچے زمین پر جاو۔ 3۔ مطلب فیھا تحیون۔ کا یہ ہے کہ مسکن اصلی اور مصتادا تمہارا یہ ہوگا اور اگر کسی عارض کی وجہ سے خرق عادت ہوجائے تو اس کی نفی نہیں ہے پس اس سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر زندہ جانے اور رہنے کی نفی پر استدلال کرنا محض باطل ہے۔
Ayah 7:25

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

فرمایا کہ تم کو وہاں ہی زندگی بسر کرنا ہے اور وہاں ہی مرنا ہے اور اسی میں سے پھر پیدا ہونا ہے۔ (ف 4) (25)

ف 4۔ اوپر کے قصہ میں ابلیس کی ضلالت اور بنی آدم سے اس کی عداوت مذکور تھی آگے اس کے اضلال اور اس سے حذر اور احتیاط کی تاکید کا بیان ہے۔
Ayahs 7:26–27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے اولاد آدم (علیہ السلام) کی ہم نے تمہارے لیے لباس پیدا کیا جو کہ تمہاری پردہ داریوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقویٰ کا لباس یہ اس سے بڑھ کر ہے (ف 5) یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں۔ (26)

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے اولاد آدم (علیہ السلام) کی شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا اس نے تمہارے دادا دادی کو جنت سے باہر کرادیا ایسی حالت سے کہ ان کا لباس بھی ان سے اتروا دیا تاکہ ان کو ان کا پردہ کا بدن دکھلائی دینے لگے وہ اور اس کا لشکرتم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو ہم شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق ہونے دیتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔ (27)

ف 5۔ کیونکہ اس ظاہری لباس کا مطلوب شرعی ہونا اسی تقوی کے وجوب کی فرع ہے پس اصلی مقصود جو ہر حالت میں ضروری ہے وہ یہ لباس ہے۔
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں (ف 1) تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ہم کو یہی بتلایا ہے آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ فحش بات کی تعلیم نہیں دیتا کیا خدا کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جس کی تم سند نہیں رکھتے۔ (ف 2) (28)

ف 1۔ خواہ عقائد میں سے جیسے شرک کہ اعلی درجہ کی بیجائی ہے خواہ اعمال میں سے جیسے طواف کے وقت برہنہ ہوجاتا۔ 2۔ تقلید اس مسئلہ میں جائز ہے جس میں تقلید کرنے کے لیے اذان وسند شرعی ہو جو موقوف ہے اس کے شرائط کے اجتماع پر۔ اور یہاں خو نص قطعی کی مخالفت سے شرائط مفقود ہی پس ایسی تقلید سے احتجاج خود باطل ہوگیا۔
Ayah 7:29

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئیے کہ میرے رب نے حکم دیا ہے انصاف کرنے کا اور یہ کہ تم ہر سجدہ کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو اور اللہ کی عبادت اس طور پر کرو کہ اس عبادت کو خاص اس (الله ہی) کے واسطے رکھا کرو (ف 3) تم کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح پھر تم دوبارہ پیدا ہوگے۔ (29)

ف 3۔ ان مامورات میں سب اصول شریعت آگئے قسط میں حقوق العباد اقیموا میں اعمال و طاعات مخلصین میں عقائد۔ مطلب یہ کہ اللہ کے تو یہ احکام ہیں ان کو مانو کیونکہ صرف تم کو حکم دے کر نہیں چھوڑ دیا جائے گا بلکہ ایک وقت حساب و کتاب کے لیے بھی آنے والا ہے یعنی قیامت۔
Ayahs 7:30–31

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور بعض پر گمراہی کا ثبوت ہوچکا ہے ان لوگون نے شیطانوں کو رفیق بنایا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر (ف 4) اور خیال رکھتے ہیں کہ وہ راہ پر ہیں۔ (30)

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے اولاد آدم (علیہ السلام) کی تم مسجد کی ہر حاضری (یعنی عبادت) کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے مت نکلوبیشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے حد سے نکلنے والوں کو۔ (31)

ف 4۔ یعنی اللہ کی اطاعت نہ کی اور شیاطین کی اطاعت کی۔
Ayah 7:32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

آپ فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے کپڑوں کو جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کو کس شخص نے حرام کیا ہے (ف 5) آپ کہہ دیجئیے کہ یہ اشیأ اس طور پر کہ قیامت کے روز بھی خالص رہیں دنیوی زندگی میں خاص اہل ایمان ہی کے لیے ہیں ہم اسی طرح تمام آیات کو سمجھداروں کے واسطے صاف صاف بیان کیا کرتے ہیں۔ (32)

ف 5۔ یعنی تحریم کے لیے تو محرم کی ضرورت ہے وہ محرم خدا کے سواکون ہے۔
Ayah 7:33

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے حرام کیا ہے تمام فحش باتوں کو ان میں جو علانیہ ہیں وہ بھی (ف 6) اور ان میں جو پوشیدہ ہیں وہ بھی (ف 7) اور ہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگاؤ جس کی تم سند نہ رکھو۔ (ف 8) (33)

ف 6۔ جیسے برہنہ طواف کرنا۔ 7۔ جیسے بدکاری۔ 8۔ یعنی جو واقع میں حلال ہیں ان کو تو تم نے حرام سمجھا اور جو واقع میں حرام ہیں ان کو حلال سمجھا۔ عجب جہل میں گرفتار ہو اور جس طرح قل امرربی بالقسط میں تمام امور داخل ہوگئے تھے اسی طرح یہاں۔ انما حرم، میں تمام منہیات داخل ہیں۔ بغی میں تو سب معاملات آگئے۔ اور ان تشرکون اوان تقولو میں تمام عقائد فاسدہ آگئے اور اثم میں تمام اعمال و معاصی آگئے جن میں سے فحش معاصی کی تخصیص ذکر کے ساتھ اہتمام کے لیے کی گئی۔
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر گروہ کے لیے ایک میعاد معین ہے سو جس وقت ان کی میعاد معین آجائیگی اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ (ف 9) (34)

ف 9۔ اس میعاد کے قبل سزانہ ہونا اس کی دلیل نہیں کہ ان محرمات پر سزا نہ ہوگی۔
Ayahs 7:35–36

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے اولاد آدم (علیہ السلام) کی (ف 10) اگر تمہارے پاس پیغمبر آوے جو تم ہی میں سے ہوں گے جو میرے احکام تم سے بیان کرینگے سو جو شخص پرہیز رکھے اور درستی کرے (ف 1) سو ان لوگوں پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہونگے۔ (35)

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جو لوگ ہمارے ان احکام کو جھوٹا بتاویں گے اور ان سے تکبر کریں گے وہ لوگ دوزخ والے ہونگے وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (36)

ف 10۔ اوپر عقائد و اعمال میں ابلیس کے اتباع وموافقت سے ممانعت فرمائی گئی تھی اب یہ بتلاتے ہیں کہ اس مضمون کا خطاب تم کو جدید نہیں بلکہ عالم ارواح میں یہ عہد لے لیا گیا تھا اور وہ وعدہ وعید سنا دیا گیا تھا اب اسی کا عادہ ہے اور اس میں مسئلہ رسالت اور معاد کا اثبات بھی ہوگیا جو کہ اعظم مقاصد سورت ہذا سے ہے۔ 1۔ مراد یہ کہ کامل اتباع کرے۔
Ayah 7:37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

سو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے (ف 2) یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتلاوے ان لوگوں کے نصیب کا جو کچھ کتاب میں ہے وہ ان کو مل جاوے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی جان قبض کرنے آوینگے تو کہیں گے کہ وہ کہاں گئے جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے وہ کہیں گے کہ ہم سے سب غائب ہوگئے (ف 3) اور اپنے کافر ہونے کا اقرار کرنے لگیں گے۔ (ف 4) (37)

ف 2۔ یعنی جو بات خدا کی کہی ہوئی ہو اس کے بےکہی بتلادے۔ 3۔ یعنی واقعی کوئی کام نہ آیا۔ 4۔ لیکن اس وقت کا اقرار محض بےکار ہوگا۔
Ayahs 7:38–39

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرماوے گا کہ جو فرقے تم سے پہلے گزر چکے ہیں جنات میں سے بھی اور آدمیوں میں سے بھی ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ جس وقت بھی کوئی (کفار) کی جماعت داخل (دوزخ) ہوگی اپنی جیسی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی (ف 5) یہاں تک کہ سب اس میں جمع ہوجائیں گے تو پچھلے لوگ پہلے لوگوں کی نسبت کہینگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ان لوگوں نے گمراہ کیا تھا سو ان کو دوزخ کا عذاب (ہم سے) دوگنا دیجئیے اللہ تعالیٰ فرماوینگے کہ سب ہی کا دگنا ہے لیکن (ابھی) تم کو (پوری) خبر نہیں۔ (38)

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور پہلے لوگ پچھلے لوگوں سے کہیں گے کہ پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہیں سو تم بھی اپنے کردار کے مقابلہ میں عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔ (39)

ف 5۔ یعنی باہم ہمدردی نہ ہوگی بوجہ انکشاف حقائق کے ہر شخص دوسرے کو بری نظر سے دیکھے گا اور براک ہے گا۔
Ayah 7:40

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلاتے ہیں اور ان ( کے ماننے) سے تکبر کرتے ہیں ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جاوینگے اور وہ لوگ کبھی جنت میں نہ جاویں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے کے اندر سے نہ چلاجاوے (ف 6) اور ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ (40)

ف 6۔ اور یہ محال ہے پس معلق بالمحال بھی ہمیشہ کے لیے منفی ہوگا۔