7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsبیان القرآن

Ayahs 7:193–197

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو کوئی بات بتلانے کو پکارو تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں۔ (ف 6) تمہارے اعتبار سے دونوں امر برابر ہیں خوہ تم ان کو پکارو اور یا تم خاموش رہو۔ (ف 1) (193)

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

واقعی تم خدا کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی تم ہی جیسے بندے ہیں تم ان کو پکارو پھر ان کو چاہئیے کہ تمہارا کہنا کردیں اگر تم سچے ہو۔ (194)

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے کسی چیز کو تھام سکیں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں آپ (یہ بھی) کہہ دیجئیے کہ تم اپنے سب شریکوں کو بلالو پھر میری ضرر رسانی کی تدبیر کرو پھر مجھ کو ذرا مہلت مت دو ۔ (195)

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

یقینا میرا پروردگار اللہ ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی اور وہ (عموما) نیک بندوں کی مدد کیا کرتا ہے۔ (196)

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور تم جن لوگوں کی خدا کو چھوڈ کر عبادت کرتے ہو وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے اور نہ وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ (197)

ف 6۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ تم ان کو پکارو کہ وہ تم کو کوئی بات بتلادیں تو تمہارا کہنا نہ کریں یعنی نہ بتلادیں اور دوسرے اس سے زیادہ یہ کہ تم ان کو پکارو کہ آو ہم تم کو کچھ بتلادیں تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں یعنی تمہاری بتلائی ہوئی بات پر عمل نہ کرسکیں۔ 1۔ خلاصہ یہ کہ جو کام سب سے سہل تر ہے کہ کوئی بات بتلانے کے لیے پکارنے کو سن لینا وہ اسی سے عاجز ہیں تو جو اس سے مشکل ہے کہ اپنی حفاظت کریں اور پھر جو اس سے بھی مشکل ہے کہ دوسروں کی امداد کرنا اور پھر جو ان سب سے دشوار تر ہے کہ کسی شے کو پیدا کرنا ان سے تو بدرجہ اولی زیادہ ترعاجز ہوں گے پھر ایسے عاجز محتاج کب معبودیت کے لائق ہوسکتے ہیں۔
Ayah 7:198

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر انکو کوئی بات بتلانے کو پکارو تو اس کو نہ سنیں اور ان کو آپ دیکھتے ہیں کہ گویا وہ آپ کو دیکھ رہے ہیں اور وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ (ف 2) (198)

ف 2۔ اوپر جہلاء مشرکین سے محاجہ بلیغہ تھا چونکہ باوجود اس محاجہ کے بھی وہ لوگ غایت عناد سے اپنی جہالت پر مصر رہتے تھے جو مظنہ ہے غصہ کا اسلیے آگے رسول اللہ کو حکم ہے ملاطفت کا اور غصہ آجانے پر تعلیم استعاذہ کا۔ اور بیان ہے ان کے مبتلائے غی رہنے کا جس سے اقناط کلی ہوجائے تاکہ غصہ نہ آئے۔
Ayah 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

سرسری برتاؤ کو قبول کرلیا کیجئیے اور نیک کام کی تعلیم کردیا کیجئیے اور جاہلوں سے ایک کنارہ ہوجایا کیجئیے۔ (ف 3) (199)

ف 3۔ یعنی لوگوں کے اعمال و اخلاق میں تہ اور حقیقت تلاش نہ کیجیے بلکہ ظاہری نظر میں سرسری طور پر جو کام کسی سے اچھا ہو اس کو بھلائی پر محمول کیجیے باطن کا حال اللہ کے سپرد کیجیے حاصل یہ کہ معاشرت میں سہولت رکھیے تشدد نہ کیجیے۔
Ayahs 7:200–202

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجئیے (ف 4) بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔ (200)

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

یقینا جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ (201)

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور جو شیاطین کے تابع ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچتے چلے جاتے ہیں پس وہ باز نہیں آتے۔ (202)

ف 4۔ اما ینزغنک۔ کا مضمون مسئلہ عصمت انبیاء کے منافی نہیں کیونکہ عصمت کا حاصل یہ کہ شیطان گناہ نہیں کراسکتا یہ نہیں کہ گناہ کی رائے نہیں دے سکتا۔
Ayah 7:203

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور جب آپ کوئی معجزہ انکے سامنے ظاہر نہیں کرتے تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ یہ معجزہ کیوں نہیں لائے۔ آپ فردیجئیے کہ میں اس کا اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر میرے رب کی طرف سے حکم بھیجا گیا ہے۔ یہ گویا بہت سی دلیلیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔ (ف 5) (203)

ف 5۔ حاصل جواب یہ ہے کہ نبوت کی غایت اصلی اصلاح ہے۔
Ayah 7:204

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:204 in the Quran reader

اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگایا کرو اور خاموش رہا کرو (ف 1) امید ہے کہ تم پر رحمت ہو۔ (204)

ف 1۔ تاکہ اس کا معجزہ ہونا اور اس کی تعلیم کی خوبی سمجھ میں آئے۔
Ayahs 7:205–206

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 7:205 in the Quran reader

اور (آپ ہر شخص سے یہ بھی کہہ دیجئیے کہ) اے شخص اپنے رب کی یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ صبح اور شام (یعنی علی الدوام) اور اہل غفلت میں شمار مت ہونا۔ (ف 2) (205)

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ Open ayah 7:206 in the Quran reader

یقینا جو (ملائکہ) تیرے رب کے نزدیک (مقرب) ہیں وہ اس کی عبادت سے (جس میں اصل عقائد ہیں) تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ( جو کہ طاعت لسانی ہے) اور اسکو سجدہ کرتے ہیں ( جو کہ اعمال جو اح سے ہے) ۔ (206)

ف 2۔ حاصل ادب کا یہ ہے کہ دل اور ہییت میں تذلل اور خوف ہو اور آواز کے اعتبار سے جہر مفرط نہ ہو یا تو بالکل آہستہ ہو یعنی مع حرکت لسانی کے اور یا جہر معتدل ہو۔