7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsبیان القرآن

Ayahs 7:116–121

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

( موسیٰ (علیہ السلام) نے) فرمایا کہ (پہلے) تم ہی ڈالو۔ پس جب انہوں نے (اپنی رسیوں کو اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو لوگوں کی نظربندی کردی (ف 1) اور ان پر ہیبت غالب کردی اور ایک طرح کا بڑا جادو دکھلایا۔ (116)

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (وحی کے ذریعہ سے) حکم دیا کہ آپ اپنا عصا ڈال دیجئیے سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے (اژدھا بنکر) ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا۔ (117)

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پس (اس وقت) حق (کا حق ہونا) ظاہر ہوگیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا سب آتا جاتا رہا۔ (118)

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

پس وہ لوگ اس موقع پر ہار گئے اور خوب ذلیل ہوئے۔ (119)

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور وہ جو ساحر تھے سجدے میں گر گئے۔ (120)

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

( اور پکار پکار کر) کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے رب العالمین پر۔ (121)

ف 1۔ جس سے وہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپ کی شکل میں لہراتی نظر آنے لگیں۔
Ayahs 7:122–123

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو موسیٰ (علیہ السلام) کا اور ہارون (علیہ السلام) کا رب ہے۔ (ف 2) (122)

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

فرعون کہنے لگا کہ ہاں تم موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ہو بدون اس کے کہ میں اجازت دوں بیشک یہ ایک کاروائی تھی جس پر تمہارا عمل درآمد ہوا ہے اس شہر سے تاکہ تم سب اس شہر سے وہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو ۔ سو (بہتر ہے) اب تم کو حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے۔ (123)

ف 2۔ رب موسیٰ وھارون اس لیے بڑھایا کہ فرعون اپنے کو رب اعلی بتلاتا تھا تو رب العالمین کا مصداق سننے والے اس کو نہ سمجھ جائیں اس لیے اس کو بڑھا کر مراد متعین کردی کہ جس کو موسیٰ و ہارون رب کہتے ہیں۔
Ayah 7:124

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں تمہارے (ایک طرف کے) ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں ضرور کاٹوں گا پھر تم سب کو سولی پر ٹانگ دوں گا۔ (ف 3) (124)

ف 3۔ تاکہ اوروں کو عبرت ہو۔
Ayah 7:125

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ (کچھ پروا نہیں) ہم (مر کر) اپنے مالک کے پاس ہی جاوینگے۔ (ف 4) (125)

ف 4۔ جہاں ہر طرح امن و راحت ہے۔
Ayah 7:126

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور تو نے ہم میں کونسا عیب دیکھا بجز اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے جب وہ احکام ہمارے پاس آئے اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہماری جان حالت اسلام پر نکالئیے۔ (ف 5) (126)

ف 5۔ تاکہ اس کی سختی سے پریشان ہو کر کوئی بات ایمان کے خلاف نہ ہوجائے۔
Ayah 7:127

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کہ کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں (ف 6) اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کیے رہیں۔ (ف 7) فرعون نے کہا کہ ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کردیں اور عورتوں کو زندہ رہنے دیں اور ہم کو ہر طرح کا ان پر زور ہے۔ (127)

ف 6۔ فساد یہ کہ اپنا مجمع بڑھا دیں جس کے اخیر میں اندیشہ بغاوت ہے۔ 7۔ یعنی ان کے معبود ہونے کے منکر رہیں۔
Ayah 7:128

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا سہارا رکھو اور مستقل رہو (گھبراؤ مت) یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے جس کو چاہیں اس کا مالک (وحاکم) بنادیں اپنے بندوں میں سے اور اخیر کامیابی انہی کی ہوتی ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں۔ (ف 1) (128)

ف 1۔ سو تم ایمان وتقوی پر قائم رہو انشاء اللہ یہ سلطنت تم ہی کو مل جائے گی تھوڑے دنوں انتظار کی ضرورت ہے۔
Ayah 7:129

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

(قوم کے) لوگ کہنے لگے کہ ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے آپ کی تشریف آوری کے قبل بھی اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی۔ ( موسیٰ (علیہ السلام) نے) فرمایا بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کردینگے اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا مالک بنادینگے پھر تمہارا طرز عمل دیکھیں گے۔ (ف 2) (129)

ف 2۔ کہ شکروقدر و اطاعت کرتے ہو یا بےقدری اور غفلت و معصیت اس میں ترغیب ہے طاعت کی اور تحذیر ہے معصیت سے۔
Ayah 7:130

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون والوں کو مبتلا کیا قحط سالی میں اور پھلوں کی کم پیداواری میں تاکہ وہ (حق بات کو) سمجھ جاویں۔ (ف 3) (130)

ف 3۔ اور سمجھ کر قبول کرلیں۔
Ayahs 7:131–132

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

سو جب ان پر خوش حالی آجاتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہونا ہی چاہئیے (ف 4) اور اگر ان کو کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے یاد رکھو کہ ان کی نحوست (کا سبب) اللہ کے علم میں ہے (ف 5) لیکن ان میں اکثر لوگ (اپنی بےتمیزی کی وجہ سے) نہیں جانتے تھے۔ (131)

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور یوں کہتے (خواہ) کیسی ہی عجیب بات ہمارے سامنے لاؤ کہ اس کے ذریعہ سے ہم پر جادو چلاؤ۔ جب بھی ہم تمہاری بات ہرگز نہ مانیں گے۔ (132)

ف 4۔ یعنی ہم مبارک طالع ہیں یہ ہماری خوش بختی کا اثر ہے یہ نہ تھا کہ اس کو خدا کی نعمت سمجھ کر شکر بجالاتے اور اطاعت اختیار کرتے۔ 5۔ یعنی ان کے اعمال کفریہ تو اللہ کو معلوم ہیں یہ نحوست ان ہی اعمال کی سزا ہے۔
Ayahs 7:133–136

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا (ف 6) اور ٹڈیاں اور گھن کا کیڑا اور مینڈک اور خون کہ یہ سب کھلے کھلے معجزے تھے (ف 7) سو وہ تکبر کرتے رہے اور وہ لوگ کچھ تھے ہی جرائم پیشہ۔ (ف 8) (133)

وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 7:134 in the Quran reader

اور جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو یوں کہتے اے موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لیے اپنے رب سے اس بات کی دعا کردیجئیے جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے اگر آپ اس عذاب کو ہم سے اٹھادیں تو ہم ضرور ضرور آپ کے کہنے سے ایمان لے آویں گے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی (رہا کرکے) آپ کے ہمراہ کردینگے۔ (134)

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 7:135 in the Quran reader

پھر جب ان سے اس عذاب کو ایک وقت خاص تک کہ اس تک ان کو پہنچنا تھا ہٹا دیتے تو وہ فورا ہی عہد شکنی کرنے لگتے۔ (135)

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:136 in the Quran reader

پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا یعنی ان کو دریا میں غرق کردیا اس سبب سے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی بےتوجہی کرتے تھے۔ (136)

ف 6۔ کثرت بارش۔ 7۔ یہ ساتوں عصا اور ید ملا کر آیات تسعہ کہلاتے ہیں۔ 8۔ کیونکہ اتنی سختی پر بھی باز نہ آتے تھے۔
Ayah 7:137

وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ Open ayah 7:137 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو جو کہ بالکل کمزور شمار کیے جاتے تھے (ف 9) اس سرزمین کے پورب پچھم کا (ف 10) مالک بنادیا جس میں ہم نے برکت رکھی ہے (ف 1) اور آپ کے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوگیا۔ اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے ساختہ پرداختہ کارخانوں کو اور جو کچھ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنواتے تھے سب کو درہم برہم کردیا۔ (137)

ف 9۔ یعنی بنی اسرائیل کو۔ 10۔ یعنی تمام حدود کا۔ 1۔ یعنی ظاہری اور باطنی برکت ظاہری برکت کثرت پیداوار سے اور باطنی برکت فضائل و مدفن ومسکن انبیاء (علیہم السلام) کے ہونے سے۔
Ayahs 7:138–141

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 7:138 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا پس ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کو لگے بیٹھے تھے کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لیے بھی ایک (مجسم) معبود ایسا ہی مقرر کردیجئیے جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (ف 2) (138)

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:139 in the Quran reader

یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں یہ (منجانب اللہ بھی) تباہ کیا جاوے گا اور (فی نفسہ بھی) ان کا یہ کام محض بےبنیاد ہے۔ (139)

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:140 in the Quran reader

اور فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کردوں حالانکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے۔ (140)

وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 7:141 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون والوں (کے ظلم و ایذأ) سے بچا لیا جو تم کو بڑی سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے تمہارے بیٹوں کو (بکثرت) مارڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو (اپنی بیگار اور خدمت کے لیے) زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس واقعہ میں بڑی بھاری آزمائش تھی تمہارے پروردگار کی طرف سے۔ (141)

ف 2۔ وجہ ان کی اس بےہودہ درخواست کی بغوی نے یہ لکھی ہے کہ ان کو توحید میں شک نہ ہوا تھا بلکہ اپنے غایت جہل سے یہ سمجھے کہ الہ غائب کی طرف متوجہ ہونے کے لیے اگر کسی شاہد کو ذریعہ بنایا جائے تو یہ امر منافی دیانت نہیں ہے بلکہ اس میں تعظیم و تقرب الی اللہ زیادہ ہے اور چونکہ یہ خیال بھی فی نفسہ نقلا وعقلا غلط ہے اس لیے اس کو جہل فرمایا گیا۔
Ayah 7:142

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:142 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس شب کا وعدہ کیا اور دس شب کو ان تیس راتوں کا تتمہ بنایا سو ان کے پروردگار کا وقت پوری چالیس شب ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے (طور پر جاتے ہوئے) اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے کہہ دیا تھا کہ میرے بعد ان لوگوں کا انتظام رکھنا (ف 3) اور اصلاح کرتے رہنا اور بدعملوں کی رائے پر عمل مت کرنا۔ (142)

ف 3۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا اخلقنی فرمانا اس بنا پر ہے کہ حضرت ہارون صرف نبی تھے حاکم اور سلطان نہ تھے اس صفت میں خلیفہ بنانا مقصود ہے استخلاف فی النبوة مقصود نہیں۔
Ayahs 7:143–144

وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:143 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے وقت (موعود) پر آئے اور ان کے رب نے ان سے (بہت ہی لطف و عنایت کی) (ف 4) باتیں کی تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اپنا دیدار مجھ کو دکھلا دیجئیے کہ میں آپ کو ایک نظردیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو (دنیا میں) ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو سو اپنی جگہ پر برقرار رہا تو (خیر) تم بھی دیکھ سکو گے (ف 5) پس ان کے رب نے جو اس پر بجلی فرمائی (تجلی نے) اس پہاڑ کے پرخچے اڑادیے اور موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہو کر گرپڑے (ف 6) پھر جب افاقہ میں ہوئے تو عرض کیا بیشک آپ کی ذات مننرہ ( اور رفیع) ہے میں آپ کی جناب میں معذرت کرتا ہوں اور سب سے پہلے میں اس پر یقین کرتا ہوں۔ (143)

قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:144 in the Quran reader

ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) (یہ بہت ہے کہ) میں نے پیغمبری اور اپنی ہم کلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے۔ تو (اب) جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو۔ (144)

ف 4۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا مگر یہ کہ اس کی حقیقت کیا تھی اللہ ہی کو معلوم ہے جن احتمالات عقلیہ کی شریعت نفی نہ کرے ان سب کے قائل ہونے کی گنجائش ہے لیکن بلادلیل عدم یقین اسلم ہے۔ 5۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست دیدار کی کرنا دنیا میں اس کے امکان عقلی پر اور اللہ تعالیٰ کا جواب اس کے امتناع شرعی پر دلیل ہے اور یہی مذہب ہے اہل سنت والجماعت کا۔ 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بےہوشی ان پر تجلی فرمانے سے نہ تھی کیونکہ ظاہر للجبل کے خلاف ہے بلکہ پہاڑ کی یہ حالت دیکھ کر نیز محل تجلی کے ساتھ ایک گونہ تلبس وتعلق ہونے سے یہ بےہوشی ہوئی۔
Ayah 7:145

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:145 in the Quran reader

اور ہم نے چند تختیوں پر ہر قسم کی (ضروری) نصیحت اور (احکام ضرور یہ کے متعلق) ہر چیز کی تفصیل ان کو لکھ کردی تو ان کو کوشش کے ساتھ (خود بھی) عمل میں لاؤ اور اپنی قوم کو بھی حکم کرو کہ ان کے اچھے اچھے احکام پر عمل کریں میں اب بہت جلد تم لوگوں کو ان بئحکموں کا مقام دکھلاتا ہوں۔ (ف 1) (145)

ف 1۔ اس میں بشارت اور وعدہ ہے کہ مصر یا شام پر عنقریب تسلط ہوا چاہتا ہے مقصود اس سے ترغیب دینا ہے اطاعت کی کہ اطاعت احکام الہییہ کے یہ برکات ہیں۔
Ayahs 7:146–147

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

میں ایسے لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گا جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں جس کا ان کو کوئی حق حاصل نہیں۔ (ف 2) اور اگر تمام نشانیاں دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لاویں اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا (طریقہ) نہ بناویں اور اگر گمراہی کا رستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا (طریقہ) بنالیں (ف 3) اور یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلایا اور ان سے غافل رہے۔ (146)

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور یہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو اور قیامت کے پیش آنے کو جھٹلایا ان کے سب کام غارت گئے اور ان کو وہی سزادی جاوے گی جو کچھ یہ کرتے تھے۔ (147)

ف 2۔ کیونکہ اپنے کو بڑا سمجھنا حق اس کا ہے جو واقع میں بڑا ہو اور وہ ایک خدا کی ذات ہے۔ 3۔ یعنی حق کے قبول نہ کرنے سے پھر دل سخت ہوجاتا ہے اور برگشتگی اس حدتک پہنچ جاتی ہے۔
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے بعد اپنے (مقبوضہ) زیوروں کا (ف 4) ایک بچھڑا (معبود) بنالیا جو کہ ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات تک نہ کرتا تھا اور نہ ان کو کوئی راہ بتلاتا تھا اس کو معبود بنالیا اور بڑا بےڈھنگا کام کیا۔ (148)

ف 4۔ اس کا قصہ سورة طہ میں ہے۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب نادم ہوئے اور معلوم ہوا کہ واقعی وہ لوگ گمراہی میں پڑگئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا (یہ) گناہ معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے۔ (ف 5) (149)

ف 5۔ چناچہ خاص طریقہ سے ان کو تکمیل توبہ کا حکم ہوا جس کا قصہ سورة بقرہ میں گزرا ہے۔
Ayahs 7:150–153

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے (ف 6) تو فرمایا کہ تم نے میرے بعد یہ بڑی نامعقول حرکت کی کیا اپنے رب کے حکم (آنے) سے پہلے ہی تم نے جلد بازی کرلی۔ اور (جلدی سے) تختیاں ایک طرف رکھیں (ف 1) اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ (ہارون (علیہ السلام) نے) کہا اے میرے ماں جائے (بھائی) ان لوگوں نے مجھ کو بےحقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کرڈالیں سو تم مجھ پر (سختی کرکے) دشمنوں کو مت ہنسواؤ اور مجھ کو ان ظالم لوگوں کے ذیل میں مت شمار کرو۔ (150)

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے رب میری خطا معاف فرمادے اور میرے بھائی کی بھی اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرمائیے۔ اور آپ اب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ (151)

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

جن لوگوں نے گوسالہ پرستی کی ہے ان پر بہت جلد ان کے رب کی طرف سے غضب اور ذلت اس دنیوی زندگی ہی میں پڑے گی اور ہم افتراپردازوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ (152)

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے گناہ کے کام کیے پھر وہ ان کے بعد توبہ کرلیں اور ایمان لے آویں تو تمہارا رب اس (توبہ) کے بعد اس گناہ کا معاف کردینے والا رحمت کردینے والا ہے۔ (153)

ف 6۔ کیونکہ ان کو وحی سے یہ معلوم ہوگیا تھا۔ 1۔ اور جلدی میں ایسے زور سے رکھی گئیں کہ دیکھنے والے اگر غور نہ کرے توشبہہ ہو کر جیسے کسی نے پٹک دی ہوں۔
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ فرد ہؤ ا تو ان تختیوں کو اٹھالیا۔ (ف 2) اور ان کے مضامین میں ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ہدایت اور رحمت تھی۔ (154)

ف 2۔ موسیٰ کا غضب چونکہ للہ تھا اس کی مثال سکرمن المباح کی سی ہے جس میں مکلف نہیں رہتا اس پر دوسرے شخص کے غصہ کو جو نفس کے واسطے ہو قیاس نہیں کرسکتے بلکہ اس کی حالت سکر من المحرم کی سی ہے جس کو شارع نے عذ نہیں قرار دیا ونیز عادتا ممکن ہے کہ شدت مشغولی میں مشغول ہوگیا ہو کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے اور بھائی کو داروگیر کرنے کے لیے ہاتھ خالی کرنا ہواسلے القاء الواح واقع ہوا ہو اور بعض نے لکھا ہے کہ القی کے معنی ہیں جلدی سے رکھ دینا مجازا وتشبیھا القاء سے تعبیر کیا۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمی اپنی قوم میں سے ہمارے وقت معین پر لانے کے لیے منتخب کیے تھے۔ (ف 3) سو جب ان کو زلزلہ (وغیرہ) نے آپکڑا تو موسیٰ (علیہ السلام) عرض کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار اگر آپ کو یہ منظور ہوتا تو آپ اس کے قبل ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کردیتے۔ کہیں آپ ہم میں کے چند بیوقوفوں کی حرکت پر ہم سب کو ہلاک کردینگے یہ واقعہ آپ کی طرف سے محض ایک امتحان ہے ایسے (امتحانات) سے جس کو آپ چاہیں گمراہی میں ڈال دیں اور جس کو آپ چاہیں ہدایت پر قائم رکھیں۔ آپ ہی تو ہمارے خبر گیراں ہے ہم پر مغفرت اور رحمت فرمائیے اور آپ سب معافی دینے والوں سے زیادہ ہیں۔ (155)

ف 3۔ جب گوسالہ کا قصہ تمام ہوا تو موسیٰ نے اطمینان سے تورات کے احکام سنائے ان لوگوں کی عادت تھی ہی شبہات نکالنے کی چناچہ اس میں یہی شبہ نکالا ہم کو کیسے معلوم ہو کہ یہ اللہ کے احکام ہیں ہم سے اللہ خود کہہ دیں تو یقین کیا جائے آپ نے حق تعالیٰ سے عرض کیا وہاں سے حکم ہوا کہ ان میں کے کچھ آدمی جن کو یہ لوگ معتبر سمجھتے ہوں منتخب کر کے ان کو طور پر لے آو ہم ان سے خود کہہ دیں گے کہ یہ ہمارے احکام ہیں اور اس کے لانے کے لیے ایک وقت معین کیا گیا۔