7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsبیان القرآن

Ayahs 7:81–82

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

(یعنی) تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر بلکہ تم حد (انسانیت) ہی سے گزر گئے ہو۔ (ف 2) (81)

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

اور ان کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پڑا بجز اس کے کہ (آپس میں) کہنے لگے کہ ان لوگوں کو تم اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔ (82)

ف 2۔ بل انتم کی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ بعض معاصی میں تقلید آباء وغیرہ سے دھوکہ ہوجاتا ہے اس میں تو یہ بھی نہیں اور بعض آیتوں میں جو تجھلون آیا ہے اس سے شبہ نہ ہو کہ ان کو اس کی قباحت معلوم نہ تھی کیونکہ وہاں جہل سے مراد یہ نہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ تم کو اس کو بد انجام یعنی عذاب معلوم نہیں۔
Ayahs 7:83–84

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

سو ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے متعلقین کو بچالیابجز ان کی بیوی کے (ف 3) کہ وہ انہی لوگوں میں رہی جو عذاب میں رہ گئے تھے۔ (83)

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ایک (نئی طرح کا) مینہ برسایا (کہ وہ پتھروں کا تھا) سو دیکھ تو سہی ان مجرموں کا انجام کیسا ہؤ ا۔ (84)

ف 3۔ یہ بیوی کافر تھی جب لوط (علیہ السلام) کو قبل عذاب بستی سے نکل جانے کا حکم ہوا بعض نے تو کہا کہ یہ بیوی ساتھ نہیں گئی بعض نے کہا کہ ساتھ چلی گئی تھی پھر لوٹنے لگی اور ہلاک کردی گئی اور لوط (علیہ السلام) پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آرہے۔
Ayahs 7:85–87

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو (بھیجا) (ف 1) انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے تو تم ناپ اور تول پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کا ان کی چیزوں میں نقصان مت کیا کرو اور روئے زمین میں بعد اس کے کہ اس کی درستی کردی گئی فساد مت پھیلاؤ یہ تمہارے لیے نافع ہے اگر تم تصدیق کرو۔ (85)

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور تم سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو کہ اس (الله) پر ایمان لانے والوں کو دھمکیاں دو اور اللہ کی راہ سے روکو اور اس میں کجی کی تلاش میں لگے رہو اور (اس حالت کو) یاد کرو جبکہ تم کم تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو زیادہ کردیا اور دیکھو کہ کیسا انجام ہوا فساد کرنے والوں کا۔ (86)

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے بعضے اس حکم پر جس کو دے کر مجھ کو بھیجا گیا ہے ایمان لے آئے ہیں اور بعضے ایمان نہیں لائے تو ذرا ٹھیرجاؤ یہاں تک کہ ہمارے درمیان میں اللہ تعالیٰ فیصلہ کیے دیتے ہیں اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہیں۔ (87)

ف 1۔ قرآن میں شعیب (علیہ السلام) کا اہل مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہونا اور اہل مدین پر کہیں صیحہ اور کہیں رجفہ کا عذاب اور اصحاب ایکہ پر ظلہ کا عذاب ہونا مذکور ہے بعض نے تو دونوں قوموں کو ایک ہی کہا ہے اور بعض نے تو دونوں قوموں کو ایک ہی کہا ہے اور بعض نے الگ الگ کہا ہے کہ ایک قوم یعنی اہل مدین کے ہلاک کے بعد دوسروں کی یعنی اصحاب ایکہ کی طرف جو مدین کے قریب رہتے تھے اور اس قرب کی وجہ سے ان میں بھی کم تولنے ناپنے کا مرض تھا مبعوث ہوئے اور اکثر کا قول یہی ہے اور انواع عذاب میں دو کا یا تینوں کا جمع ہوجانا کچھ مستبعد نہیں اور بعد ہلاک ان کفار کے آپ مکہ میں آرہے تھے اور وہاں ہی وفات پائی اور مدین اصل میں ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک فرزند کا نام تھا پھر قبیلہ اور شہر پر اطلاق ہونے لگا جو ان کی اولاد تھے یا اس اولاد کا مسکن تھا۔
Ayah 7:88

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا کہ اے شعیب (علیہ السلام) ہم آپ کو اور جو آپ کے ہمراہ ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا یہ ہو کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ (ف 2) شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا (کہ کیا ہم تمہارے مذہب میں آجاوینگے گو ہم اس کو (بدلیل و بصیرت) مکروہ ہی سمجھتے ہوں۔ (ف 3) (88)

ف 2۔ یہ بات مومنین کے لیے اس لیے کہی کہ وہ لوگ قبل ایمان کے اسی طریق کفر پر تھے لیکن شعیب (علیہ السلام) کے حق میں باوجود اس کے کہ انبیاء سے کبھی کفر صادر نہیں ہوتا اس لیے کہی کہ ان کے سکوت قبل بعثت سے وہ یہی سمجھتے تھے کہ ان کا اعتقاد بھی ہم جیسا ہوگا۔ 3۔ یعنی جب اس کے باطل ہونے پر دلیل قائم ہے تو ہم کیسے اس کو اختیار کرلیں۔
Ayahs 7:89–92

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

ہم تو اللہ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہوجاویں اگر (خدا نہ کرے) ہم تمہارے مذہب میں آجاویں (خصوصا) بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس سے نجات دی ہو۔ اور ہم سے ممکن نہیں کہ اس (تمھارے مذہب) میں پھر آجاویں۔ لیکن ہاں یہ کہ اللہ ہی نے جو ہمارا مالک ہے (ہمارے) مقدر ( میں) کیا ہو ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں (ف 4) اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہماری (اس) قوم کے درمیان میں فیصلہ کردیجئیے حق کے موافق اور آپ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ (89)

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور ان کی قوم کے (ان ہی مذکور) کافر سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب (علیہ السلام) کی راہ پر چلنے لگو گے تو بیشک بڑا نقصان اٹھاوگے۔ (90)

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

پس ان کو زلزلے نے آپکڑا سو اپنے گھر میں اوندھے کے اوندھے رہ گئے۔ (91)

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی ان کی یہ حالت ہوگئی جیسے ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی وہی خسارہ میں رہ گئے۔ (92)

ف 4۔ اس سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ ان کو اپنے خاتمہ بالخیر کا یقین نہ تھا انبیاء کو یقین دلایا جاتا ہے مقصود اظہار عجز اور تفویض الی المالک ہے جو کہ لوازم نبوت سے ہے۔
Ayahs 7:93–95

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

اس وقت شعیب (علیہ السلام) ان سے منہ موڑ کر چلے۔ اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم میں نے تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچادیے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی پھر میں ان کافر لوگوں پر کیوں رنج کروں۔ (ف 1) (93)

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا کہ وہاں کے رہنے والوں کو ہم نے محتاجی اور بیماری میں نہ پکڑا ہو تاکہ وہ ڈھیلے پڑجاویں۔ (94)

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوشحالی بدل دی یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی اور (اس وقت براہ کج فہمی) کہنے لگے کہ ہمارے آباؤ اجداد کو بھی تنگی اور راحت پیش آئی تھیں تو ہم نے ان کو دفعتہ پکڑ لیا اور ان کو خبر بھی نہ تھی۔ (95)

ف 1۔ اوپر جن قوموں کا قصہ ذکر ہوا ہے چونکہ اور قوموں کے بھی ایسے قصے واقع ہوئے ہیں آگے عام عنوان سے اجمالا ان سب کی حالت جرم کی اور جرم پر بھی اول مہلت ملنے کی اور پھر بھی نہ سمجھنے پر سزاجاری ہونے کی مذکور ہے اور حکایت کے بعد آیت اولم یھد سے غرض حکایت پر کہ عبرت حاصل کرنا ہے تنبیہ فرمائی گئی ہے۔
Ayahs 7:96–98

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیز کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے (ف 2) لیکن انہوں نے تو (پیغمبروں کی) تکذیب کی تو ہم نے (بھی) ان کے اعمال (بد) کہ وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔ (96)

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہوگئے ہیں کہ ان پر (بھی) ہمارا عذاب شب کے وقت آپڑے جس وقت کے وہ پڑے سوتے ہوں۔ (97)

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

اور کیا ان (موجودہ) بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن دوپہر ہی آپڑے جس وقت کہ وہ اپنے لایعنی قصوں میں مشغول ہوں۔ (ف 3) (98)

ف 2۔ یعنی آسمان سے بارش اور زمین سے پیداوار ان کو برکت کے ساتھ عطا فرماتے ہیں اور گو اس ہلاکت سے پہلے ان کو خوش حالی ایک حکمت کے لیے دی گئی لیکن اس خوش حالی میں اس لیے برکت نہ تھی کہ آخر میں وہ وبال جان ہوگئی بخلاف ان نعمتوں کے جو ایمان و اطاعت کے ساتھ ملتی ہیں کہ ان میں یہ خیر و برکت ہوتی ہے کہ وہ وبال جان کبھی نہیں ہوتیں نہ دنیا میں نہ آخرت میں حاصل یہ کہ اگر وہ ایمان وتقوی اختیار کریں تو ان کو بھی یہ برکتیں دیتے۔
Ayah 7:99

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

ہاں تو کیا اللہ تعالیٰ کی اس (ناگہانی) پکڑ سے بیفکر ہوگئے ہیں (سمجھ رکھو) خدا تعالیٰ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بےفکر نہیں ہوتا۔ (ف 4) (99)

ف 4۔ اس آیت سے استنباط کیا گیا ہے کہ عذاب الہی سے بےخوف ہونا کفر ہے کیونکہ محاورات قرآنیہ میں اکثر خاسر سے مراد کافر ہوتا ہے۔
Ayahs 7:100–102

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

اور ان (گزشتہ) زمین پر رہنے والوں کے بعد جو لوگ (اب) زمین پر بجائے انکے رہتے ہیں کیا ان واقعات مذکورہ نے ان کو یہ بات ہنوز نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہتے تو ان کو ان کے جرائم کے سبب ہلاک کرڈالتے۔ اور ہم ان کے دلوں پر بند لگائے ہوئے ہیں اس سے وہ سنتے نہیں۔ (ف 1) (100)

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

(ان مذکورہ) بستیوں کے کچھ کچھ قصے ہم آپ سے بیان کررہے ہیں۔ اور ان سب کے پاس ان کے پیغمبر معجزات لے کر آئے تھے پھر جس چیز کو انہوں نے اول (وہلہ) میں (ایک بار) جھوٹا کہہ دیا یہ بات نہ ہوئی کہ پھر اسکو مان لیتے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگادیتے ہیں۔ (101)

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور اکثر لوگوں میں ہم نے وفائے عہد نہ دیکھا اور ہم نے اکثر لوگوں کو بےحکم ہی پایا۔ (102)

ف 1۔ اس بند لگانے کا سبب ان ہی کی ابتداء میں کفر کرنا ہے لقولہ تعالیٰ طبع اللہ علیھا بکفرھم۔
Ayahs 7:103–107

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے دلائل دے کر (ف 2) فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا سو ان لوگوں نے ان کا بالکل حق ادا نہ کیا سو دیکھئے ان مفسدوں کا کیا انجام ہؤ ا۔ (ف 3) (103)

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے فرعون میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر ہوں۔ (104)

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

میرے لیے یہی شایاں ہے کہ بجز سچ کے خدا کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی لایا ہوں سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیجدے۔ (105)

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ اگر آپ کوئی معجزہ لے کر آئے ہیں تو اس کو اب پیش کیجئیے اگر آپ سچے ہیں۔ (106)

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

پس آپ نے (فورا) اپنا عصا ڈال دیا سو دفعتہ وہ صاف ایک اژدہا بن گیا۔ (ف 4) (107)

ف 2۔ یعنی معجزات۔ 3۔ یہ تو تمام قصہ کا اجمال تھا آگے تفصیل ہے۔
Ayahs 7:108–115

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ باہر نکال لیا سو وہ یکایک سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہوگیا۔ (ف 5) (108)

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

قوم فرعون میں جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے۔ (109)

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

(ضرور) یہ (ہی) چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری (اس) سرزمین سے باہر کردے سو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو۔ (110)

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

انہوں نے کیا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی (ہارون (علیہ السلام) کو چندے مہلت دیجئیے اور شہروں میں چپڑاسیوں کو بھیج دیجئیے۔ (111)

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لاکر حاضر کردیں۔ (112)

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

(چناچہ ایسا ہی کیا گیا) اور وہ جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے۔ کہنے لگے اگر ہم غالب آئے تو ہم کو کوئی بڑا صلہ ملے گا۔ (113)

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ ہاں (بڑا انعام ملے گا) اور (مزید براں) تم مقرب لوگوں میں داخل ہوجاؤ گے۔ (114)

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

ساحروں نے عرض کیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) خواہ آپ ڈالیے اور یا ہم ہی ڈالیں۔ (115)

ف 5۔ للناظرین سے کوئی نظر بندی کا شبہ نہ کرے کیونکہ یہ تاکید ہے اس کے واقعی بیاض کی جیسے کہا کرتے ہیں کھلی آنکھوں لوگوں نے دیکھا۔