7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsبیان القرآن

Ayah 7:41

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے لیے آتش دوزخ کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر (اسی کا) اوڑھنا ہوگا اور ہم ایسے ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ (ف 7) (41)

ف 7۔ یعنی ہم کو کوئی عداوت نہ تھی جیسا کیا ویسا بھگتا۔
Ayah 7:42

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے (ف 8) اور انہوں نے نیک کام کیے ہم کسی شخص کو اس کی قدرت سے زیادہ کوئی کام نہیں بتلاتے ایسے لوگ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (42)

ف 8۔ اوپر سزائے مکذبین کی تفصیل تھی اب جزائے مومنین کی تفصیل ہے۔
Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور جو کچھ ان کے دلوں میں غبار تھا ہم اس کو دور کردینگے ان کے نیچے نہریں جاری ہونگی اور وہ لوگ کہیں گے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ احسان ہے جس نے ہم کو اس (مقام) تک پہنچایا اور ہماری کبھی رسائی نہ ہوتی اگر اللہ تعالیٰ ہم کو نہ پہنچاتے (ف 1) واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی باتیں لے کر آئے تھے اور ان سے پکار کر کھا جاوے گا کہ یہ جنت تم کو دی گئی ہے (ف 2) تمہارے اعمال کے بدلے۔ (ف 3) (43)

ف 1۔ اس میں یہ بھی آگیا یہاں تک پہنچنے کا جو طریقہ تھا ایمان و اعمال وہ ہم کو بتلایا اور اس پرچلنے کی توفیق دی۔ 2۔ یہ نداء کرنے والا ایک فرشتہ ہوگا جیسا درمنثور میں بروایت ابن ابی حاتم کے ابی معاذ بصری سے مرفوعا منقول ہے۔ 3۔ بماکنتم تعملون سے ظاہرا اعمال کا سبب دخول جت ہونا معلوم ہوتا ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ اعمال کے سبب کوئی جنت میں نہ جائے گا بلکہ رحمت الہی کے سبب جائیں گے اصل یہ ہے کہ آیت میں سبب ظاہری مراد ہے اور حدیث میں سبب حقیقی پس ظاہری کے اثبات سے اور حقیقی کی نفی میں کوئی تعارض نہیں۔
Ayahs 7:44–45

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور اہل جنت اہل دوزخ کو پکارینگے۔ کہ ہم سے جو ہمارے رب نے وعدہ فرمایا تھا ہم نے تو اس کو واقع کے مطابق پایا (ف 4) سو (تم سے) جو تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا تم نے بھی اس کو مطابق واقع کے پایا (ف 5) وہ کہینگے کہ ہاں پھر ایک پکارنے والا دونوں کے درمیان میں پکارے گا کہ اللہ کی مار ہو (ان) ظالموں پر۔ (44)

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو اللہ کی راہ سے اعراض کیا کرتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے رہتے تھے اور وہ لوگ آخرت کے بھی منکر تھے۔ (45)

ف 4۔ کہ ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے سے جنت دیں گے۔ 5۔ یعنی اب تو حقیقت اللہ و رسول کے صدق اور اپنی گمراہی کی معلوم ہوئی۔
Ayahs 7:46–50

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہوگی (ف 6) اور اعراف کے اوپر بہت سے آدمی ہونگے وہ لوگ ہر ایک کو ان کے قیافہ سے پہچانیں گے اور اہل جنت کو پکار کر کہینگے کہ السلام علیکم (ابھی یہ اہل اعراف) اس (جنت) میں داخل نہیں ہوئے ہونگے اور وہ اس کے امیدوار ہوں گے۔ (46)

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف جاپڑیں گی تو کہینگے کہ اے ہمارے رب ہم کو ان ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجئیے۔ (47)

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اہل اعراف بہت سے آدمیوں کو جن کو کہ ان کے قیافہ سے پہچانیں گے پکاریں گے کہینگے کہ تمہاری جماعت اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا۔ (48)

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

کیا یہ وہی ہیں جن کی نسبت تم قسمیں کھا (کھاکر کہا) کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نہ کرے گا (ان کو یہ حکم ہوگیا کہ) جاؤ جنت میں تم پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ تم مغموم ہوگے۔ (49)

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخ والے جنت والوں کو پکارینگے کہ ہمارے اوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو یا اور ہی کچھ (دیدو) جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دے رکھا ہے جنت والے کہینگے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کی کافروں کے لیے بندش کر رکھی ہے۔ (50)

ف 6۔ اس کا خاصہ یہ ہوگا کہ جنت کا اثر دوزخ تک اور دوزخ کا اثر جنت تک نہ جانے دے گی۔
Ayah 7:51

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو لہولعب بنا رکھا تھا اور جن کو دنیوی زندگانی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا سو ہم بھی آج کے روز ان کا نام نہ لیں گے جیسا انہوں نے اس دن کا نام تک نہ لیا اور جیسا یہ ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔ (ف 1) (51)

ف 1۔ اوپر تفصیل جزاوسزا کی بیان کی گئی ہے آگے یہ فرماتے ہیں کہ اس واشگاف بیان کا اور نیز دیگر مضامین قرآنیہ کا مقتضایہ ہے کہ کفر و مخالفت سے باز آجائیں چناچہ اہل ایمان اس سعادت سے مشرف ہوتے بھی ہیں لیکن کفار و معاندین کی اس درجہ قساوت بڑھی ہے کہ قبل وقوع سزا کے نہ مانیں گے لیکن اس وقوت ماننا کام نہ آئے گا۔
Ayah 7:52

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب (ف 2) پہنچادی ہے جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے بہت ہی واضح کرکے بیان کردیا ہے (ذریعہ) ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لے آئے ہیں۔ (52)

ف 2۔ یعنی قرآن۔
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

(ان لوگوں کو اور کسی بات کا انتظار نہیں) کیا صرف اس کے اخیر نتیجہ کا انتظار ہے (ف 3) جس روز اس کا اخیر نتیجہ پیش آوے گا اس روز جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے یوں کہنے لگیں گے کہ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی سچی باتیں لاتے تھے سو اب کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے کہ وہ ہماری سفارش کردے یا کیا ہم پھر واپس بھیجے جاسکتے ہیں تاکہ ہم لوگ ان اعمال کے جن کو ہم کیا کرتے تھے برخلاف دوسرے اعمال کریں۔ بیشک ان لوگوں نے اپنے کو خسارہ میں ڈال دیا اور یہ جو جو باتیں تراشتے تھے سب گم ہوگیا۔ (ف 4) (53)

ف 3۔ یعنی وعدہ سزا۔ 4۔ اوپر معاد کی تفصیل تھی چونکہ مشرکین دوبارہ زندہ ہونے کو مستبعد سمجھتے تھے اس لیے آگے اپنی قدرت اور تصرف کامل کا بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 7:54–55

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمان اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا پھر عرش پر قائم ہوا (ف 5) چھپا دیتا ہے شب سے دن کو (ف 6) ایسے طور پر کہ وہ (شب) اس (دن) کو جلدی سے آلیتی ہے (ف 7) اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں یاد رکھو اللہ ہی کے لیے خاص ہی خالق ہونا اور حاکم ہونا بڑی خوبیوں کے بھرے ہوئے ہیں۔ (54)

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ جو تمام عالم کے پروردگار ہیں تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو تذلل ظاہر کرکے بھی اور چپکے چپکے بھی (البتہ یہ بات) واقعی (ہے کہ) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند کرتے ہیں۔ (55)

ف 5۔ یعنی زمین و آسمان میں احکام جاری کرنے لگا۔ 6۔ یعنی شب کی تاریکی سے دن کی روشنی پوشیدہ اور زائل ہوجاتی ہے۔ 7۔ یعنی دن آنافانا گزرنا معلوم ہوتا ہے حتی کہ دفعتا رات آجاتی ہے۔
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

جو (دعا) میں حد (ادب) سے نکل جائیں (ف 8) اور دنیا میں بعد اس کے کہ اس کی درستی کردی گئی ہے فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس سے ڈرتے ہوئے (ف 9) اور امیدوار رہتے ہوئے بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت نزدیک ہے نیک کام کرنے والوں سے۔ (56)

ف 8۔ مثلا محالات عقلیہ یا محالات شرعیہ یا مستبعدات عادی یا معاصی یا بیکار چیزیں مانگنے لگیں مثلا خدائی یا نبوت یا فرشتوں پر حکومت یا غیر منکوحہ عورت سے تمتع یا فردوس کے داہنی طرف کا سفید محل اور امثال اس کے مانگنے لگے یہ سب ادب کے خلاف ہے ہاں جنت یافردوس کی دعامطلوب ہے اس میں یہ فضول قیدیں ممنوع ہیں۔ 9۔ یعنی عبادت کرکے نہ تو ناز ہو اور نہ مایوسی ہو۔
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہ (الله) ایسا ہے کہ اپنے باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کردیتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھالیتی ہیں تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لیجاتے ہیں پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں پھر اس (پانی) سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں یوں ہی ہم مردوں کو نکال کھڑا کرینگے (ف 1) تاکہ تم سمجھو۔ (57)

ف 1۔ یعنی قیامت کے روز
Ayahs 7:58–64

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور جو سرزمین ستھری ہوتی ہے اس کا پیداوار تو خدا کے حکم سے (خوب) نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس کا پیداوار (اگر نکلا بھی) تو بہت کم نکلتا ہے اسی طرح ہم (ہمیشہ) دلائل کو طرح طرح سے بیان کرتے رہتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو قدر کرتے ہیں۔ (ف 2) (58)

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا سو انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی اور تمہارا معبود ہونے کے لائق نہیں مجھ کو تمہارے لیے ایک بڑے (سخت) دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ (59)

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

ان کی قوم کے آبرودار لوگوں نے کہا کہ ہم تم کو صریح غلطی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں۔ (60)

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم مجھ میں تو ذرا بھی غلطی نہیں لیکن میں پروردگار عالم کا رسول ہوں۔ (61)

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور میں خدا کی طرف سے ان امور کی خبر رکھتا ہوں جن کی تم کو خبر نہیں۔ (62)

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت جو تمہاری ہی جنس کا ہے کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وہ شخص تم کو ڈراوے اور تاکہ تم ڈرجاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جاوے۔ (63)

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

سو وہ لوگ ان کی تکذیب ہی کرتے رہے تو ہم نے ان (نوح (علیہ السلام) کو اور جو لوگ انکے ساتھ کشتی میں تھے بچالیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو ہم نے غرق کردیا بیشک وہ لوگ اندھے ہورہے تھے۔ (64)

ف 2۔ خلاصہ ان آیات کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے یہ کمالات ذاتی وصفاتی ثابت ہوئے تو عبادت اور طلب حاجت میں ان کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو اور ان کی قدرت کو پیش نظر رکھ کر بعث کا انکار مت کرو۔
Ayah 7:65

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور ہم نے قوم عاد (علیہ السلام) کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو (بھیجا) (ف 3) انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں سو کیا تم نہیں ڈرتے۔ (65)

ف 3۔ مشہور اہل نسب کے نزدیک یہی ہے کہ ہود (علیہ السلام) قوم عاد کے نسبی بھائی اور خود قوم عاد سے ہیں اور بعض قلیل دوسری قوم کا بتاتے ہیں اور اخاھم کے معنی صاحبھم لیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اور عاد اصل میں ایک شخص کا نام ہے پھر اس کی اولاد کو بھی عاد کہنے لگے اور قدآور اور قوی الجثہ ہوتے تھے۔ زادکم فی الخلق بصطہ کا یہی معنی ہے۔
Ayahs 7:66–68

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

ان کی قوم میں جو آبرودار کافر تھے انہوں نے کہا کہ ہم تم کو کم عقلی میں دیکھتے ہیں اور ہم بیشک تم کو جھوٹے لوگوں میں سے سمجھتے ہیں۔ (ف 1) (66)

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم مجھ میں ذرا بھی کم عقلی نہیں لیکن میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا ہوں۔ (67)

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں۔ (68)

ف 1۔ یعنی نعوذ باللہ نہ توحید صحیح مسئلہ ہے اور نہ عذاب کا آنا صحیح ہے۔
Ayahs 7:69–71

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت جو تمہاری ہی جنس کا (بشر) ہے کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وہ شخص تم کو ڈراوے اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد آباد کیا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاؤ (بھی) زیادہ دیا سو خدا تعالیٰ کی (ان) نعمتوں کو یاد کرو (ف 2) تاکہ تم کو فلاح ہو۔ (69)

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ کیا آپ ہمارے پاس اس واسطے آئے ہوں گے کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کیا کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ہم ان کو چھوڑ دیں اور ہم کو جس (عذاب) کی دھمکی دیتے ہو اس کو ہمارے پاس منگوادو اگر تم سچے ہو۔ (70)

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا کہ بس اب تم پر خدا کی طرف سے عذاب اور غضب آیا ہی چاہتا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے باب میں جھگڑتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے باپ داداوں نے (آپ ہی) ٹھیرالیا ہے ان (کے معبود ہونے) کی خدا تعالیٰ نے کوئی دلیل (نقلی و عقلی) نہیں بھیجی سو تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہا ہوں۔ (71)

ف 2۔ اور یاد کرکے احسان مانو اور اطاعت کرو۔
Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

غرض (عذاب آیا اور) ہم نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچالیا اور ان لوگوں کی جڑ (تک) کاٹ دی (ف 3) جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے۔ (72)

ف 3۔ یعنی بالکل ہلاک کردیا۔ قطعنا دابرا سے بعض نے کہا ہے کہ ان کی نسل بالکل منقطع ہوگئی اور بعض نے کہا ہے کہ کفار بالکل ہلاک ہوگئے اور مومنین باقی رہے اور ممکن ہے کہ کفار کی صنعار اولاد رہ گئی ہو ان کی نسل آگے بڑھی ہو ان کو عاد اخری کہتے ہیں اور سابقین کو عاد اولی۔ اور عذاب اس قوم کا ریح صرصر تھی جیسا کہ کئی جگہ قرآن میں منصوص ہے اور سورة فصلت میں جو صاعقہ آیا ہے اس سے مراد مطلق عذاب ہے اور سورة مومنون میں بعد قصہ نوح (علیہ السلام) کے جو ثم انشانا من بعد ھم قرنا اخرین آیا ہے جنہوں نے اس کی تفسیر قوم عاد سے کی ہے وہ قائل ہوئے ہیں کہ ان پر صیحہ بھی آیا اور ریح بھی۔ واللہ اعلم۔ اور اس کا مسکن دوسری آیت میں احقاف آیا ہے جو بقول محمد بن اسحاق ایک ریگستان ہے عمان اور حضرموت کے درمیان۔
Ayahs 7:73–77

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا (انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی ہے یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لیے دلیل ہے (ف 4) سو اس کو چھوڑو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرا کرے اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا کبھی تم کو دردناک عذاب آپکڑے۔ (73)

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور تم (یہ حالت) یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو عاد کے بعد آباد کیا اور تم کو زمین پر رہنے کو ٹھکانا دیا کہ نرم زمین پر محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو سو خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت پھیلاؤ۔ (74)

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

ان کی قوم میں جو متکبر سردار تھے انہوں نے غریب لوگوں سے جو کہ ان میں سے ایمان لے آئے تھے پوچھا کہ کیا تم کو اس بات کا یقین ہے کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ بیشک ہم تو پورا یقین رکھتے ہیں جو ان کو دے کر بھیجا گیا ہے۔ (75)

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

اور متکبر لوگ کہنے لگے کہ تم جس چیز پر یقین لائے ہوئے ہو ہم تو اس کے منکر ہیں۔ (76)

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

غرض اس اونٹنی کو مار ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ اے صالح (علیہ السلام) جس کی آپ ہم کو دھمکی دیتے ہیں اس کو منگوائیے اگر آپ پیغمبر ہیں۔ (77)

ف 4۔ انہوں نے ایک خاص معجزے کی درخواست کی کہ اس پتھر میں سے ایک اونٹنی پیدا ہو تو ہم ایمان لائیں گے چناچہ آپ کی دعا سے ایسا ہی ہوا کہ وہ پتھر پھٹا اور اس کے اندر سے ایک بڑی اونٹنی نکلی۔
Ayahs 7:78–80

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

پس آپکڑا ان کو زلزلے نے سو اپنے گھر میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ف 1) (78)

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

اس وقت صالح (علیہ السلام) ان سے منہ موڑ کر چلے اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچادیا تھا اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم لوگ خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے تھے۔ (79)

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور (ہم نے) لوط (علیہ السلام) کو (بھیجا) جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا۔ (80)

ف 1۔ دوسری آیت میں صیحہ یعنی فرشتہ کے نعرہ سے ہلاک ہونا آیا ہے بعض نے کہا ہے کہ اوپر سے نیچے سے زلزلہ آیا تھا اور بعض نے کہا ہے کہ رجعہ سے مراد قلب کی حرکت ہے جو صیحہ کے خوف سے پیداہوئی تھی اور جس نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اس کا نام قدار آیا ہے۔ اور دوسری آیت میں ان کے رہنے کا مقام حجرآیا ہے چونکہ حجاز اور شام کے درمیان ایک مقام تھا اور ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صالح یہاں سے بعد ہلاک قوم کے تشریف لے گئے پھر بعض نے شام کو جانا اور بعض نے مکہ کو جانا نقل کیا ہے۔