6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsبیان القرآن

Ayahs 6:1–2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

(ف 1) تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں کو اور نور کو بنایا پھر بھی کافر لوگ (دوسروں کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔ (1)

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہ ایسا ہے جس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر ایک وقت معین کیا اور ایک (دوسرا) معین وقت خاص اللہ ہی کے نزدیک ہے، پھر بھی تم شک رکھتے ہو۔ (2)

ف 1۔ سورت سابقہ کے انجام اور اس کے آغاز میں تو مناسبت ہے کہ دونوں مشتمل میں ابطال شراک اور اثبات توحید اور اس کے دلائل پر اور ان دونوں کے مجموعہ میں یہ مناسبت ہے کہ دونوں مشتمل میں شرائع پر گوسورت سابقہ میں شرائع سے فروع بھی مثل اصول کے کثیر ہیں چناچہ بیس تک ان کا شمار پہنچا ہوا اور یہ اس میں تقریبا تمام سورت میں اصول ہی زیادہ ہیں فروع بہت کم ہیں کہ عدد مذکور کے ثلث یا ربع سے متجاوز نہیں اور خود اس سورت کے باہم اجزاء میں مناسبت وارتباط یہ ہے کہ حاصل سورت کا چند امور ہیں اثبات توحید اثبات رسالت توحید و رسالت کی تائید کے لیے بعض قصص انبیاء کے اثبات قرآنی اثبات بعث ان کے منکرین کا عناد قلی وفعلی ان منکرین پر وعیدیں ان وعیدوں کی تائید کے لیے بعض امم مکذبین کا حال ہلاکت ان منکرین سے مکالمت ومحاجہ کود ان کے رسول و عادات کی تقتیح ان کے ساتھ معاملہ رکھنے میں اعتدال کی تعلیم کو تبلیغ میں کی نہ ہو تشدد میں حد شرعی سے تجاوز ہو مخالطت میں مداہنت نہ ہو دلجوئی یا فکر ہدایت میں مبالغہ نہ ہو ان کے رسول جہالت کے مقابلہ میں بعض مکارم اخلاق اسلامیہ کا بیان اور یہ تمام تر گفتگو مشرکین سے ہے صرف دو تین جگہ مسئلہ نبوت و قرآن یاحلت و حرمت اشیاء کی بحث مناسبت سے ضمنا اہل کتاب خصوص یہود کی تقبیح آگئی ہے یہ حاصل ہے سورت کا اور ان سب مضامین میں وجہ تعلق وربط مخفی نہیں پس سب سے اول توحید کی آیتیں ہیں۔
Ayahs 6:3–4

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں (بھی) اور زمین میں (بھی) وہ تمہارے پوشیدہ (احوال) کو بھی اور تمہارے ظاہر (احوال) کو بھی جانتے ہیں اور تم جو کچھ عمل کرتے ہو اسکو جانتے ہیں۔ (ف 2) (3)

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور ان کے پاس کوئی نشانی بھی ان کے رب کی نشانیوں میں سے نہیں آتی مگر وہ اس سے اعراض ہی کیا کرتے ہیں۔ (4)

ف 2۔ توحید تینوں آتیوں کا مقصود مشترک ہے یعنی عبادت کے لائق وہ ہے جس میں یہ صفات ہوں کہ وہ خالق افق وآفاق کا ہے اور عالم غیب و شہادت کا ہو ارآخر کی دوآیتوں میں بعث کی خبر اور اس کے امتناع کا دفع اور محاسبہ علی الکسب پر تنبیہ بھی ہے جس سے شرک پر وعید ثابت ہوگئی اور دوسرے اجل کے علم کو اپنے ساتھ مخصوص فرمایا کیونکہ پہلے اجل کا گو قطعی علم نہ سہی مگر ظنی طور پر علامات سے معلوم ہوجاتا ہے۔
Ayah 6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

سو انہوں نے اس سچی (کتاب) کو بھی جھوٹا بتلایا جب کہ وہ ان کے پاس پہنچی تو جلدی ہی ان کو خبر مل جاوے گی اس چیز کی جس کے ساتھ یہ لوگ استہزأ کیا کرتے تھے۔ (ف 3) (5)

ف 3۔ مراد اس سے عذاب ہے جس کی خبر قرآن میں سن کر ہنستے تھے جس سے قرآن کی تکذیب لازم آتی تھی اس کی خبر ملنے کا مطلب یہ ہے کہ جب عذاب نازل ہوگا اس کی خبر آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
Ayahs 6:6–8

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم ان سے پہلے کتنی جماعتوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کو ہم نے دنیا میں ایسی قوت دی تھی کہ تم کو وہ قوت نہیں دی اور ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے نیچے سے نہریں جاری کیں پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کرڈالا اور ان کے بعد دوسری جماعتوں کو پیدا کردیا۔ (ف 4) (6)

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر ہم کاغذ پر لکھا ہوا کوئی نوشتہ نازل فرماتے تو پھر اس کو یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے تب بھی یہ کافر لوگ یہی کہتے کہ یہ کچھ بھی نہیں مگر صریح جادو ہے۔ (7)

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا۔ اور اگر ہم کوئی فرشتہ بھیجدیتے تو سارا قصہ ہی ختم ہوجاتا پھر ان کو ذرا مہلت نہ دی جاتی۔ (8)

ف 4۔ مراد ان ہلاک شدہ جماعتوں سے عادوثمود وغیرہ ہیں کہ انواع عذاب سے ہلاک کیے گئے۔
Ayahs 6:9–17

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو فرشتہ تجویز کرتے تو ہم اسکو آدمی ہی بناتے اور ہمارے اس فعل سے پھر ان پر وہی اشکال ہوتا ہے جو اب اشکال کررہے ہیں۔ (ف 5) (9)

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور واقعی آپ سے پہلے جو پیغمبر ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی تمسخر کیا گیا ہے پھر جن لوگوں نے ان سے تمسخر کیا تھا ان کو اس عذاب نے آگھیرا جس کا تمسخر اڑاتے تھے۔ (10)

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

آپ فرمادیجئیے کہ ذرا زمین میں چلو پھرو پھر دیکھ لو کہ تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔ (11)

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

آپ کہئیے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے یہ سب کس کی ملک ہے آپ کہہ دیجئے کہ سب اللہ ہی کی ملک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمانا اپنے اوپر لازم فرمالیا ہے تم کو خدا تعالیٰ قیامت کے روز جمع کرینگے اس میں کوئی شک نہیں جن لوگوں نے اپنے کو ضائع کردیا سو وہ ایمان نہ لاویں گے۔ (12)

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور اللہ ہی کی ملک ہے سب جو کچھ رات میں اور دن میں رہتے ہیں اور وہی ہے بڑا سننے والا بڑا جاننے والا۔ (13)

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

آپ کہیے کہ کیا اللہ کے سوا جو کہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ہیں اور جو کہ کھانے کو دیتے ہیں اور ان کو کوئی کھانے کو نہیں دیتا کس کو معبود قرار دوں۔ آپ فرمادیجئے کہ مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے میں اسلام قبول کروں اور تم مشرکین میں سے ہرگز نہ ہونا۔ (14)

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ میں اگر اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (15)

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

جس شخص سے اس روز وہ عذاب ہٹا دیا جاوے گا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا اور یہ صریح کامیابی ہے۔ (16)

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچاویں تو اس کا دور کرنے والاسوا اس (الله تعالیٰ ) کے اور کوئی نہیں اور اگر تجھ کو کوئی نفع پہنچاویں تو وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔ (17)

ف 5۔ یعنی اس فرشتہ کو بشر سمجھ کر پھر وہی اعتراض کرتے غرض نزول ملک سے ان کا نفع تو کچھ نہ ہوتا کیونکہ ان کا شباہ بحالہ باقی رہتا اور انکاضرور ہوتا کہ ہلاک کردیے جاتے اس لیے ہم نے اس طرح نازل نہیں کیا خلاصہ یہ کہ غایت عناد سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ہدایت وضوح حق کا طریق نہیں اور جو اس کا طریق ہے کہ آیات و معجزات موجودہ میں غور کرنا اس سے کام نہیں لیتے۔
Ayahs 6:18–19

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اوپر غالب ہیں برتر ہیں اور وہی بڑی حکمت والے اور پوری خبر رکھنے والے ہیں۔ (ف 1) (18)

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

آپ کہئیے کہ سب سے بڑھ کر چیز گواہی دینے کے لیے کون ہے۔ آپ کہئیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ گواہ ہے اور میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس (قرآن) کے ذریعہ سے تم کو اور جس جس کو (یہ قرآن) پہنچے ان سب کو ڈراؤں۔ کیا تم سچ مچ) یہی گواہی دوگے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں آپ کہہ دیجئے کہ میں تو گواہی نہیں دیتا آپ فرمادیجئیے کہ بس وہ تو ایک ہی معبود ہے اور بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ (19)

ف 1۔ اوپر توحید و رسالت کے باب میں جداجدا کلام ہوا ہے آگے دونوں میں مجتمعا کلام ہے چناچہ انکم لتشھدون میں توحید کی بحث ہے اور قل اللہ شھید بینی میں رسالت کی بحث ہے شان نزول بھی دو واقعے دونوں مسئلوں کے متعلق ہیں چناچہ کلبی نے روایت کیا ہے کہ کفار مکہ نے نبی ﷺ کی خدمت میں آکرکہا کہ کیا خدا تعالیٰ کو آپ کے سوا کوئی رسول نہیں ملا ہم تو نہیں سمجھتے کہ آپ کے دعوے کی کوئی تصدیق کرسکتا ہے اور ہم نے تو یہود و نصاری سے پوچھ کر دیکھ لیا ہے وہ تو یوں کہتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں آپ کا ذکر ہی نہیں ہے سو ہم کو کوئی بتلائیے جو اس بات کی گواہی دے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ابن جریر نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ تمام بن زید اور قروم بن کعب اور بحری بن عمرو آپ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ کیا آپ کے علم میں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی اور معبود نہیں آپ نے فرمایا کہ واقع میں بھی سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں میں تو یہی دے کر بھیجا گیا ہوں اور اسی کی دعوت دیتا ہوں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 6:20

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ لوگ اس (رسول) کو پہنچانتے ہیں جن لوگوں نے اپنے کو ضائع کرلیا ہے (ف 2) سو وہ ایمان نہ لاویں۔ (20)

ف 2۔ یعنی اپنی عقل کو وجود دلالت شہادت مذکورہ پر نظر صحیح کرنے سے معطل کرلیا ہے خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا غیر اہل کتاب ہوں۔
Ayahs 6:21–22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ اور کون بےانصاف ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھوٹا بتلادے ایسے بےانصافوں کو رستگاری نہ ہوگی۔ (ف 1) (21)

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جس روز ہم ان تمام خلائق کو جمع کرینگے پھر ہم مشرکین سے (بواسطہ یا بلاواسطہ توبیخ کے طور پر) کہیں گے کہ (بتلاؤ) شرکاء جن (کے معبود ہونے) کا تم دعویٰ کرتے تھے کہاں گئے۔ (22)

ف 1۔ اوپر کفار کا فلاح نہ پانا مذکور ہوا ہے آگے اس فلاح نہ پانے کی کچھ کیفیت مذکور ہے مشرکین کی تو تصریحا کہ مکہ میں جو محل نزول سورت ہے مشرکین زیادہ تھے اور دوسرے کفار کی مقایسة کیونکہ اصل علت عدم فلاح کی یعنی کفر سب میں مشترک ہے۔
Ayah 6:23

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر ان کے شرک کا انجام اس کے سوا اور کچھ بھی نہ ہوگا کہ وہ یوں کہیں گے کہ قسم اللہ کی اپنے پروردگار کی ہم مشرک نہ تھے۔ (ف 2) (23)

ف 2۔ یعنی جس کے حق ہونے کا آج دعوی ہے اس کا انجام یہ ہوگا کہ خود ہی اس کو باطل سمجھنے لگیں گے۔
Ayah 6:24

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

ذرا دیکھو تو کس طرح جھوٹ بولا اپنی جانوں پر اور جن چیزوں کو وہ جھوٹ موٹ تر اشا کرتے تھے وہ سب غائب ہوگئیں۔ (ف 3) (24)

ف 3۔ یعنی ان کے کوئی کام نہ آوے گا۔
Ayahs 6:25–27

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں (ف 4) بعضے ایسے ہیں کہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر حجاب ڈا ال رکھے ہیں اس سے کہ وہ اس کو سمجھیں (ف 5) اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھی ہے۔ اور اگر وہ لوگ تمام دلائل کو دیکھ لیں تو ان پر بھی ایمان نہ لاویں۔ یہاں تک کہ جب وہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے خواہ مخواہ جھگڑتے ہیں یہ لوگ جو کافر ہیں یوں کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ بھی نہیں صرف بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے چلی آرہیں ہیں۔ (25)

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور یہ لوگ اس سے اوروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور رہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے ہی کو تباہ کررہے ہیں اور کچھ خبر نہیں رکھتے۔ (26)

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جبکہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کیے جاوینگے تو کہینگے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم پھر واپس بھیج دیے جاویں اور (اگر ایسا ہوجاوے) تو ہم اپنے رب کی آیات کو جھوٹانہ بتاویں اور ہم ایمان والوں سے ہوجاویں۔ (27)

ف 4۔ یعنی مشرکین میں سے۔ 5۔ یہ جو فرمایا کہ ہم نے حجاب ڈال رکھے ہیں تو یہ تمثیل ہے گومتعارف حجاب وغیرہ نہ ہوں اور خدا تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت ہونے سے نہ یہ معذور ہوسکتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ پر کوئی الزام آسکتا ہے کیونکہ اس حجاب وغیرہ کا سبب ان کا عراض اختیاری ہے اور نسبت کرنا باعتبار تخلیق کے ہے۔
Ayahs 6:28–30

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

بلکہ جس چیز کو اس کے قبل دبایا کرتے تھے وہ ان کے سامنے آگئی ہے (ف 6) اور اگر یہ لوگ پھر واپس بھیجدیے جاویں تب بھی یہ وہی کام کریں جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یقینا یہ بالکل جھوٹے ہیں (ف 7) ۔ (28)

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ جینا اور کہیں نہیں صرف یہیں فی الحال کا جینا ہے اور ہم زندہ نہ کیے جاوینگے۔ (29)

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جبکہ یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جاوینگے ( اور) اللہ تعالیٰ فرماوے گا کہ کیا یہ امر واقعی نہیں ہے۔ وہ کہیں گے بیشک قسم اپنے رب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماویگا تو اب اپنے کفر کے عوض عذاب چکھو۔ (30)

ف 6۔ مراد اس چیز سے عذاب ہے جس کی وعید کفر و تکذیب پر ان کو کی جاتی تھی اور دبانے سے مراد انکار ہے۔ 7۔ اوپر توحید و رسالت و قرآن کے انکار پر سزاوں کا بیان تھا آگے انکار بعث اور اس کی سزا کا بیان ہے۔
Ayah 6:31

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

بیشک خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے ملنے کی تکذیب کی یہاں تک کہ جب وہ معین وقت (ف 1) ان پر دفعتہ آپہنچے گا کہنے لگیں گے کہ ہائے افسوس ہماری کوتاہی پر جو اس کے بارے میں ہوئی (ف 2) اور (حالت ان کی یہ ہوگی کہ) وہ اپنے بار اپنی کمر پر لادے ہونگے خوب سن لو کہ بری ہوگی وہ چیز جس کو لادیں گے۔ (31)

ف 1۔ یعنی قیامت کے دن مع مقدمات۔ 2۔ اگرچہ تکذیب ان کے مرنے ہی کے وقت ختم ہوجائے گی لیکن قیامت کو اس لیے قرار نہ دیا کہ اس روز پورا انکشاف ہوجائے گا اور صاحب کشف نے کہا ہے کہ وقت موت کا بھی مقدمات قیامت میں سے ہے اس لیے وہ بھی حکما داخل ساعت ہے۔
Ayahs 6:32–33

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور دنیاوی زندگی تو کچھ بھی نہیں بجز لہو و لعب (ف 3) کے اور پچھلا گھر متقیوں کے لیے بہتر ہے کیا تم سوچتے سمجھتے نہیں ہو۔ (32)

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں۔ سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ (33)

ف 3۔ خود حیات دنیوی کو لہو ولعب فرمانا مقصود نہیں بلکہ اس کے ان اشغال و اعمال کو کہ آخرت کے لیے نہ موضوع ہیں نع معین ہیں تو اس قید سے طاعات اور مباھات معین طاعات سب نکل گئے اور مباھات لایعنی اور معاصی سب داخل رہ گئے گو ایسے مباحات میں گناہ نہ ہو لیکن بےسود فانی الاثر تو ہیں اور لہو ولعب کے معنی اہل لغت نے متقارب بلکہ متحد ہی لکھے جاتے ہیں صرف فرق اعتبار ہی سے ہوسکتا ہے وہ یہ کہ غیر مانع امر میں مشغول ہونے کے دواثر ہیں ایک خود اس کی طرف متوجہ ہونادوسرے اس توجہ کی وجہ سے نافع امور سے بےتوجہی ہوجانا وہ امر اول اعتبار سے لعب کہلاتا ہے اور دوسرے اعتبار سے لہو۔
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور بہت سے پیغمبر جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں ان کی بھی تکذیب کی جاچکی ہے سو انہوں نے اس پر صبر ہی کیا کہ ان پر تکذیب کی گئی اور ان کو ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ ہماری امداد ان کو پہنچی۔ اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور آپ کے پاس بعض پیغمبروں کے بعض قصص پہنچ چکے ہیں۔ (ف 4) (34)

ف 4۔ حاصل مضمون تسلی دہی کا یہ ہوا کہ یہ جو آپ کی تکذیب کررہے ہیں یہ واقع میں بوجہ اس کے کہ آپ مبلغ عند اللہ ہیں اللہ کی اور عاس کی آیات کی تکذیب کررہے ہیں پس ظاہرا تو آپ کی تکذیب ہے اور حقیقتا اور قصدا اللہ کی تکذیب ہے۔
Ayahs 6:35–37

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر آپ کو ان کا اعراض گراں گزرتا ہے تو اگر آپ کو یہ قدرت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈھ لو پھر کوئی معجزہ لے آؤ تو کرو اور اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو ان سب کو راہ پر جمع کردیتا سو آپ نادانوں میں سے نہ ہوجئیے۔ (ف 5) (35)

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو اللہ تعالیٰ زندہ کرکے اٹھاوینگے پھر سب اللہ کی طرف لائے جاوینگے۔ (36)

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان پر کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا۔ ان کے رب کی طرف سے۔ آپ فرمادیجئیے کہ اللہ تعالیٰ کو پوری قدرت ہے اس پر کہ وہ معجزہ نازل فرماویں لیکن ان میں اکژ بیخبر ہیں۔ (37)

ف 5۔ فلاتکونن من الجاھلین وعظ و محبت کے طور پر ہے اور لفظ جہل یا جہالت سے ترجمہ کرنا بوجہ اس کے کہ ہمارے محاورے میں یہ الفاظ تحقیر وتحمیق وتوبیخ کے لیے مستعمل میں موہم بےادبی ہے۔
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرند جانور ہیں کہ اپنے دونوں بازؤں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری ہی طرح کے گروہ نہ ہوں (ف 6) ہم نے دفتر (لوح محفوظ) میں کوئی چیز نہیں چھوڑی (سب کو لکھ لیا ہے) پھر سب اپنے پروردگار کے پاس جمع کیے جاوینگے۔ (38)

ف 6۔ یعنی قیامت کے دن محشور ہونے کی صف میں۔
Ayahs 6:39–40

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں تو وہ بہرے اور گونگے ہورہے ہیں طرح طرح کی ظلمتوں میں ہیں (ف 1) اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں بےراہ کریں اور وہ جس کو چاہیں سیدھی راہ پر لگائیں۔ (39)

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

آپ کہئیے کہ اپنا حال تو بتلاؤ کہ اگر تم پر خدا کا کوئی عذاب آپڑے یا تم پر قیامت ہی آپہنچے کیا خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے اگر تم سچے ہو۔ (40)

ف 1۔ کیونکہ ہر کفر ایک ظلمت ہے ان کا اعراض چونکہ صم وعدم سماع کا حاصل ہے ایک کفر ہے ان کا کفریات بکنا جو کہ بکم سے مقصود ہے ایک کفر ہے اور یہ خود کئی مرتبہ ہوتا ہے اس لیے بہت سی ظلمتیں ہوگئیں۔