6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsبیان القرآن

Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ امر بےحکمی ہے (ف 5) اور یقینا شیاطین اپنے دوستوں کو تعلیم کررہے ہیں تاکہ یہ تم سے (بیکار) جدال کریں اور اگر (خدانخواستہ) تم ان لوگوں کی اطاعت (عقائدو افعال میں) کرنے لگو تو یقینا مشرک ہوجاؤ۔ (ف 6) (121)

ف 5۔ یعنی مالم یذکراسم اللہ علیہ کا کھانا بےحکمی ہے۔ 6۔ یعنی ان کی اطاعت ایسی بری چیز ہے اس لیے اس کے مقدمات یعنی التفات سے بھی بچنا چاہیے۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

ایسا شخص جو کہ پہلے مردہ تھا (ف 7) پھر ہم نے اس کو زندہ بنادیا (ف 8) اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور دے دیا کہ وہ اس کو لیے ہوئے آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے (ف 9) کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کی حالت یہ ہو کہ وہ تاریکیوں میں ہے ان سے نکلنے ہی نہیں پاتا اسی طرح کافروں کو ان کے اعمال مستحسن معلوم ہوا کرتے ہیں۔ (ف 1) (122)

ف 7۔ یعنی گمراہ تھا۔ 8 یعنی مسلمان بنادیا۔ 9۔ یعنی ایمان دے دیا جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے جس سے وہ سب مضرتوں سے مثلا گمراہی وغیرہ سے محفوظ ومامون وبے فکر پھرتا ہے۔ 1۔ چناچہ اسی وجہ سے یہ روساء مکہ جو آپ سے مہمل فرمائشیں اور شبہات ومجادلات پیش کرتے ہیں اپنے کفر کو مستحسن ہی سمجھ کر اس پر مصر ہیں۔
Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں ہی کو جرائم کا مرتکب بنایا تاکہ وہ لوگ وہاں شرارتیں کیا کریں (ف 2) اور وہ لوگ اپنے ہی ساتھ شرارت کررہے (ف 3) ہیں اور ان کو ذرا خبر نہیں۔ (123)

ف 2۔ جس سے ان کا مستحق سزا ہونا خوب ثابت ہوجائے۔ 3۔ کیونکہ اس کا وبال تو خود انہیں کو بھگتنا پڑے گا۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کو کوئی آیت پہنچتی ہے تو یوں کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہ لاویں گے جب تک کہ ہم کو بھی ایسی ہی چیز نہ دی جاوے جو اللہ کے رسولوں کو دی جاتی ہے (ف 4) اس موقع کو تو خدا ہی خوب جانتا ہے جہاں اپنا پیغام بھیجا ہے عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے یہ جرم کیا ہے خدا کے پاس پہنچ کر ذلت پہنچے گی اور سزائے سخت ان کی شرارتوں کے مقابلہ میں۔ (124)

ف 4۔ اس قول کا جرم عظیم ہونا ظاہر ہے کہ تکذیب اور عناد اور استکبار اور گستاخی سب کا جامع ہے۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ رستہ پر ڈالنا چاہتے ہیں اس کے سینے کو (ف 5) اسلام کے لیے کشادہ کردیتے ہیں اور جس کو بےراہ رکھنا چاہتے ہیں اس کے سینے کو تنگ بہت تنگ کردیتے ہیں جیسے کوئی آسمان پر چڑھتا ہے (ف 6) اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے۔ (125)

ف 5۔ یعنی قلب کو۔ 6۔ یعنی چڑھنا چاہتاہو اور چڑھا نہیں جاتا اور جی تنگ ہوتا ہے اور مصیبت کا سامنا ہوتا ہے۔
Ayahs 6:126–127

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور (ف 7) یہی تیرے رب کا سیدھا رستہ ہے ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے واسطے ان آیات کو صاف صاف بیان کردیا۔ (ف 8) (126)

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان لوگوں کے واسطے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے۔ (127)

ف 7۔ یعنی اسلام۔ 8۔ تاکہ وہ اس کے اعجاز سے اس کی تصدیق کریں اور پھر اس کے مضامین پر عمل کرکے نجات حاصل کریں یہی تصدیق وعمل صراط مستقیم کامل ہے بخلاف ان کے جن کو نصیحت حاصل کرنے کی فکر ہی نہیں ان کے واسطے نہ یہ کافی ہے نہ دوسرے دلائل کافی۔
Ayahs 6:128–130

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس روز اللہ تعالیٰ تمام خلائق کو جمع کرینگے اے جماعت جنات کی تم نے انسانوں کے (گمراہ کرنے) میں بڑا حصہ لیا اور جو انسان ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے تھے وہ (اقرارا) کہینگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم میں ایک نے دوسرے سے فائدہ حاصل کیا تھا اور ہم اپنی اس معین میعاد تک آپہنچے جو آپ نے ہمارے لیے معین فرمائی تھی (یعنی قیامت) اللہ تعالیٰ (سب کفار جن و انس سے) فرمائینگے تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہوگے ہاں اگر خدا ہی کو منظور ہو (تو دوسری بات ہے) بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا اور بڑا علم والا ہے۔ (ف 9) (128)

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم بعض کفار کو بعض کے قریب رکھیں گے ان کے اعمال کے سبب۔ (129)

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جماعت جنات کی اور انسان کی کیا تمہارے پاس تم ہی میں کے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم سے میرے احکام بیان کیا کرتے تھے اور تم کو اس آج کے دن کی خبر دیا کرتے تھے وہ سب عرض کرینگے کہ ہم اپنے اوپر (جرم کا) اقرار کرتے ہیں اور ان کو دنیوی زندگانی نے بھول میں ڈال رکھا ہے اور یہ لوگ مقر ہونگے کہ وہ کافر تھے۔ (130)

ف 9۔ علم سے سب کے جرائم معلوم کرتا ہے اور حکمت سے مناسب سزا دیتا ہے۔
Ayahs 6:131–132

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب کسی بستی والوں کے کفر کے سبب ایسی حالت میں ہلاک نہیں کرتا کہ اس بستی کے رہنے والے بیخبر ہوں۔ (ف 1) (131)

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لیے درجے ہیں ان کے اعمال کے سبب اور آپ کا رب ان کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔ (132)

ف 1۔ اس لیے رسولوں کو بھیجتے ہیں تاکہ ان کو جرائم کی اطلاع ہوجائے پھر جس کو عذاب ہوا استحقاق کی وجہ سے ہوا۔
Ayah 6:133

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور آپ کا رب بالکل غنی ہے رحمت والا ہے (ف 2) اگر وہ چاہے تو تم سب کو اٹھالیوے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہاری جگہ آباد کرے جیسا تم کو ایک دوسری قوم کی نسل سے پیدا کیا ہے۔ (133)

ف 2۔ وہ رسولوں کو کچھ اس لیے نہیں بھیجتا کہ نعوذ باللہ وہ محتاج عبادت ہے وہ تو بالکل غنی ہے بلکہ اس لیے بھیجتا ہے کہ وہ رحمت والا بھی ہے اپنی رحمت سے رسولوں کو بھیجا تاکہ ان کے ذریعہ لوگوں کو منافع ومضار معلوم ہوجائیں پھر منافع سے منتفع اور مضار سے محفوظ رہیں اس میں بندوں کا ہی نفع ہے۔
Ayah 6:134

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ بیشک آنے والی چیز ہے (ف 3) اور تم عاجز نہیں کرسکتے۔ (134)

ف 3۔ یعنی قیامت و عذاب۔
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

آپ یہ فرمادیجئیے کہ اے میری قوم تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی عمل کررہا ہوں سو اب جلدی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ اس عالم کا انجام کار کس کے لیے (نافع) ہوگا یہ یقینی بات ہے کہ حق تلفی کرنے والوں کو کبھی فلاح نہ ہوگی۔ (ف 4) (135)

ف 4۔ اوپرمشرکین کی جہالات اعتقادیہ شرکیہ وکفریہ کا بیان تھا آگے ان کے بعض جہالات عملیہ کا جس کا منشاء شرک وکفر تھا بیان ہے۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مواشی پیدا کیے ہیں ان لوگوں نے ان میں سے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا اور بزعم خود کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے پھر جو چیز ان کے معبودوں کی ہوتی ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتی اور جو چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتی ہے (ف 5) انہوں نے کیا بری تجویز نکال رکھی ہے۔ (136)

ف 5۔ غلہ اور پھل میں سے کچھ حصہ اللہ کے نام کا نکالتے اور کچھ بتوں اور جنات کے نام کا پھر اگر اتفاق سے اللہ کے حصہ میں سے کچھ بتوں کے حصے میں مل جاتا تو اس کو ملا رہنے دیتے اور عکس میں اس کو نکال کر پھر بتوں کے حصہ میں ملادیتے اور بہانہ یہ کرتے کہ اللہ تو غنی ہے اس کا حصہ کم ہوجانے سے اس کا کوئی ضرر نہیں اور شرکاء محتاج ہیں انکا حصہ نہ گھٹنا چاہیے۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور اسی طرح بہت سے مشرکین کے خیال میں ان کے معبودوں نے اپنی اولاد کے قتل کرنے کو مستحسن بنارکھا ہے تاکہ وہ ان کو برباد کریں اور تاکہ ان کے طریقہ کو مخبوط کردیں (ف 6) اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ ایسا کام نہ کرتے اور آپ انکو اور جو کچھ یہ غلط باتیں بنا رہے ہیں یونہی رہنے دیجئیے۔ (137)

ف 6۔ تاکہ وہ ہمیشہ غلطی میں پھنسے رہیں۔
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور (وہ اپنے خیال باطل پر یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (مخصوص) مواشی ہیں اور (مخصوص) کھیت ہیں جن کا استعمال ہر شخص کو جائز نہیں ان کو کوئی نہیں کھاسکتا سو ان کے جن کو ہم چاہیں (ف 1) اور (کہتے ہیں کہ یہ مخصوص) مواشی ہیں جن پر سواری یا باربرداری حرام کردی گئی ہے (ف 2) اور (مخصوص) مواشی ہیں جن پر یہ لوگ اللہ کا نام نہیں لیتے (یہ سب باتیں) محض اللہ پر افترأ باندھنے کے طور پر (کہتے) ہیں (ف 3) ابھی اللہ تعالیٰ انکو ان کے افترا کی سزا دئے دیتا ہے۔ (138)

ف 1۔ کچھ کھیت بتوں کے نام وقت کردیتے اور کہتے کہ اس کا اصل مصرف مرد ہیں اور عورتوں کو اس میں سے کچھ دینا ہماری رائے پر ہے اگر ہماری مرضی ہو تو کچھ حصہ ان کو دے سکتے ہیں ورنہ وہ اسکا مصرف نہیں اسی طرح مواشی کے باب میں بھی ان کا عمل تھا۔ 2۔ جن انعام کو بتوں کے نام مخصوص کرکے چھوڑ دیتے تھے ان پر سواری اور بار برداری کو جائز نہ سمجھتے تھے۔ 3۔ افتراء اس لیے کہ وہ ان امور کو موجب خوشنودی اللہ تعالیٰ سمجھتے تھے۔
Ayah 6:139

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور وہ (یوں بھی) کہتے ہیں کہ جو چیز ان مواشی کے پیٹ میں (سے نکلتی) ہے (ف 4) وہ خالص ہمارے مردوں کے لیے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر وہ (پیٹ کا نکلا ہوا بچہ) مردہ ہو تو اس سے (منتفع ہونے کے جواز) میں (مرد و عورت) (ف 5) سب برابر ہیں ابھی اللہ تعالیٰ ان کی غلط بیانی کی سزادیے دیتا ہے بلاشبہ وہ حکمت والا ہے وہ بڑا علم والا ہے۔ (ف 6) (139)

ف 4۔ مثلا دودھ یا بچہ۔ 5۔ بحیرہ اور سائبہ کے ذبح کے وقت جو بچہ پیٹ میں سے نکلتا اگر وہ زندہ ہوتا تو اس کو ذبح کرلیتے اور مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام سمجھتے اور اگر وہ مردہ ہوتا تو سب کے لیے حلال سمجھتے اسی طرح بعض انعام کے دودھ کو بھی مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام سمجھتے تھے۔ 6۔ اب تک جو سز انہیں ملی تو وجہ یہ ہے کہ بلاشبہ اللہ حکمت والا ہے اس نے بعض حکمتوں سے مہلت دے رکھی ہے اور ابھی سزانہ دینے سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس کو خبر نہیں کیونکہ وہ بڑا علم والا ہے اس کو سب خبر ہے۔
Ayah 6:140

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

واقعی خرابی میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو محض براہ حماقت بلاکسی سند کے قتل کرڈالا اور جو حلال چیزیں ان کو اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کو دی تھیں ان کو حرام کرلیا محض اللہ تعالیٰ پر افترا باندھنے کے طور پر بیشک یہ لوگ گمراہی میں پڑگئے اور کبھی راہ پر چلنے والے نہیں ہوئے۔ (ف 7) (140)

ف 7۔ یہ گمراہی جدید نہیں کیونکہ پہلے بھی کبھی راہ پرچلنے والے نہیں ہوئے۔ پس ضلوا میں خلاصہ طریق کا اور ماکانوا میں اس کی تاکید اور خسرو میں خلاصہ انجام بد کا کہ عقوبت ہے مذکور ہے۔
Ayahs 6:141–143

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور وہی (الله پاک) ہے جس نے باغات پیدا کیے وہ بھی ٹیٹون پر چڑھائے جاتے ہیں (جیسے انگور) اور وہ بھی جو ٹیٹون پر نہیں چڑھائے جاتے اور کھجور کے درخت اور کھیتی جن میں کھانے کی چیزیں مختلف طور کی ہوتی ہیں۔ اور زیتون کو اور انار جو (انار انار) باہم اور (زیتون زیتون) باہم ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں اور (کبھی) ایک دوسرے کے مشابہ نہیں بھی ہوتے ان سب کی پیداوار کھاؤ جب وہ نکل آوے اور اس میں جو حق (شرع سے) واجب ہے وہ اس کے کاٹنے ( اور توڑنے) کے دن (مسکینون کو) دیا کرو (ف 8) اور حد سے مت گزرویقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو نہ پسند کرتے ہیں۔ (141)

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور مواشی میں اونچے قد کے اور چھوٹے قد کے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تم کو دیا ہے کھاؤ اور شیطان کے قدم بقدم مت چلو بلاشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ (142)

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

( اور یہ مواشی) آٹھ نرومادہ (پیداکیے) یعنی بھیڑ ( اور دنبہ) میں دو قسم (نرومادہ) اور بکری میں دو قسم (نرومادہ) آپ (ان سے) کہئیے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نروں کو حرام کہا ہے یا دونوں مادہ کو یا اس (بچہ) کو جسکو دونوں مادہ (اپنے) پیٹ میں لیے ہوئے ہیں تم مجھ کو کسی دلیل سے تو بتلاؤ اگر تم سچے ہو۔ (143)

ف 8۔ اس آیت میں جو حق شرعی خیرخیرات کا ذکر ہے اس سے عشرمراد نہیں جو کہ زمین کی زکوة ہے۔
Ayah 6:144

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور اونٹ میں دو قسم اور گائے (بھینس) میں دو قسم آپ کہئے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو یا اس (بچہ) کو جس کو دونوں مادہ (اپنے) پیٹ میں لیے ہوئے ہوں کیا تم (اس وقت) حاضر تھے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تم کو اس (تحریم و تحلیل) کا حکم دیا تو اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر بلادلیل جھوٹ تہمت لگائے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے یقینا اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو (جنت کا) راستہ (آخرت میں) نہ دکھلاوینگے۔ (ف 1) (144)

ف 1۔ اوپر مشرکین کی تحلیل وتحریم کا ابطال فرمایا ہے آگے بھی اسی مضمون کی تائید ہے کہ جن حیوانات میں کلام ہورہا ہے ان میں حرام تو فلاں فلاں چیزیں ہیں تم اپنی طرف سے اختراع کیوں کرتے ہو نیز اس میں ان کی ایک دوسری گمراہی کی طرف بھی اشارہ ہے کیونکہ دم مسفوح ومذبوح علی اسم غیر اللہ کا کھاناان میں معتاد تھا پس اور تحریم حلال کا ذکر تھا اور یہ تحلیل حرام کا ذکر ہے۔
Ayahs 6:145–146

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئیے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ہیں ان میں تو میں کوئی حرام غذا پاتا نہیں کسی کھانے والے کے لیے جو اس کو کھاوے مگر یہ کہ وہ مردار (جانور) ہو (ف 2) یا یہ کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو کیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے (ف 3) یا جو (جانور) شرک کا ذریعہ ہو کہ جو غیر اللہ کے نامزد کردیا ہو پھر جو بیتاب ہوجاوے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے والا ہو (قدر ضرورت سے) تو واقعی آپ کا رب غفوررحیم ہے۔ (ف 4) (145)

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کردیے تھے اور گائے اور بکری (کے اجزأ) میں سے ان دونوں کی چربیاں ان پر حرام کردی تھیں مگر وہ جو ان کی پشت پر یا انتڑیوں میں لگی ہو یا جو ہڈی میں لگی ہو ان کی شرارت کے سبب ہم نے ان کو یہ سزا دی تھی اور ہم یقینا سچے ہیں۔ (146)

ف 2۔ یعنی جو واجب الذبح ہونے کے باوجود بلاذبح شرعی مرجائے۔ 3۔ خنزیر کے سب اجزاء نجس اور حرام ہیں ایسانجس نجس العین کہلاتا ہے۔ 4۔ اوپر جو مضمون مذکور تھا آگے اس کے متعلق ایک شبہ کا جواب ہے کہ مطعومات زیر بحث میں بجز مستثنیات مذکورہ کے سب کو حلال کہا گیا ہے حالانکہ بعض اہل کتاب سے معلوم ہوا کہ بعض اور حیوانات بھی حرام ہیں جواب یہ ہے کہ یہ تحریم صرف یہود کے لیے ایک عارض کی وجہ سے ہوئی تھی جواب منسوخ ہوگئی پس دعوی بحالہ صحیح اور اس کی نقیض بحالہ غلط ہے۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

پھر اگر یہ آپ کو کاذب کہیں تو آپ کہہ دیجئیے کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے (ف 5) اور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے نہ ٹلے گا۔ (147)

ف 5۔ اس لیے بعض حکمتوں سے جلدی مواخذہ نہیں فرماتا۔
Ayah 6:148

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

یہ مشرک لوگ یوں کہنے کو ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کہہ سکتے اسی طرح جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی (رسولوں کی) تکزیب کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا (ف 6) آپ کہئیے کہ کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے (ف 7) تو اس کو ہمارے روبرو ظاہر کرو تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل اٹکل سے باتیں بناتے ہو۔ (148)

ف 6۔ خواہ دنیا میں جیسا اکثر کفار سابقین پر نزول عذاب ہوا ہے یا مرنے کے بعد تو ظاہر ہی ہے اور یہ اشارہ ہے اس طرف کہ ان لوگون کے ان کفریات کے مقابل میں صرف قولی جواب اور مناظرہ پر اکتفا نہ کیا جائے گا بلکہ کفار سابقین عملی سزا بھی دی جائے گی خواہ دنیا میں بھی یا صرف آخرت میں۔ 7۔ یعنی اس مقدمہ پر کہ صدور کی قدرت دینا مستلزم رضاء ہے۔
Ayahs 6:149–150

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

آپ کہئیے کہ پس پوری حجت اللہ ہی کی رہی پھر اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ پر لے آتا۔ (ف 1) (149)

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

آپ کہئیے کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو اس بات پر (باقاعدہ) شہادت دیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان (مذکورہ) چیزوں کو حرام کردیا ہے۔ پھر اگر وہ گواہی دیدیں تو آپ اس شہادت کی سماعت نہ فرمائیے۔ اور (اے مخاطب) ایسے لوگوں کے باطل خیالات کا اتباع مت کرنا جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے برابر دوسروں کو ٹھیراتے ہیں۔ (150)

ف 1۔ مگر حق تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں ہیں کسی کو توفیق دی کسی کو نہیں دی البتہ اظہار حق اور اعطاء اختیار و ارادہ سب کے لیے عام ہے۔
Ayah 6:151

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

آپ (ان سے) کہئیے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرمایا ہے وہ یہ کہ (1) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھیراؤ (ف 2) (2) اور ماں باپ کے ساتھ احسان کیا کرو (3) اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کیا کرو اور ان کو اور تم کو رزق (مقدر) دیں گے (4) اور بیحیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواہ وہ علانیہ ہوں اور خواہ پوشیدہ ہوں (5) اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق پر اس کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔ (151)

ف 2۔ پس شریک ٹھہرانا حرام ہوا۔
Ayahs 6:152–157

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

(6) اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے (ف 3) یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جاوے (7) اور ناپ تول پوری پوری کیا کرو انصاف کے ساتھ ہم کسی شخص کو اس کے امکان سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے (ف 4) (8) اور جب تم بات کیا کرو تو انصاف رکھا کرو گو وہ شخص قرابت دار ہی ہو (ف 5) (9) اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا کرو (ف 6) اس کو پورا کیا کرو ان (سب) کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدگی حکم دیا کرو تاکہ تم یاد رکھو ( اور عمل کرو) ۔ (152)

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو کہ مستقیم ہے سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اس (الله) کی راہ سے جدا کردینگی اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم (اس راہ کے خلاف کرنے سے) احتیاط رکھو۔ (153)

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی جس سے اچھی طرح عمل کرنے والوں پر (نعمت) پوری ہو اور سب احکام کی تفصیل ہوجاوے اور رہنمائی ہو اور رحمت ہو تاکہ وہ لوگ اپنے رب کے ملنے پر یقین لاویں۔ (154)

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور یہ (قرآن) ایک کتاب ہے جس کو ہم نے بھیجا بڑی خیروبرکت والی سو اس کا اتباع کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو۔ (155)

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

کبھی تم لوگ یوں کہنے لگتے کہ کتاب تو صرف ہم سے پہلے جو دو فرقے تھے ان پر نازل ہوئی تھی اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے محض بیخبر تھے۔ (156)

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یایوں کہتے کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے بھی زیادہ راہ پر ہوتے سو اب تمہارے پاس تمہارے رب کے پاس سے ایک (کتاب) واضح اور رہنمائی کا ذریعہ اور رحمت آچکی ہے اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو ہماری ان آیتوں کو جھوٹا بتلاتے ہیں اور اس سے رکے ہم ابھی ان لوگوں کو جو کہ ہماری آیتوں سے روکتے ہیں ان کے اس روکنے کے سبب سخت سزا دینگے۔ (157)

ف 3۔ مثلا اس کے کام میں لگانا اس کی حفاظت کرنا اور بعض اولیاء اور اوصیاء کو اس میں یتیم کے لیے تجارت کرنا بھی جائز ہے۔ 4۔ پھر ان احکام میں کوتاہی کیوں کی جائے۔ 5۔ جس کے مقابلہ میں وہ بات کہہ رہے ہو۔ 6۔ جیسے قسم یا نذر بشرط اس کے مشروع ہونے کے۔
Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

کیا یہ لوگ صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آویں یا ان کے پاس آپ کا رب آوے یا آپ کے رب کی کوئی (نشانی) آوے (ف 1) جس روز آپ کے رب کی کوئی (بڑی) نشانی آپہنچے گی کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آوے گا جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو آپ فرمادیجئیے کہ تم منتظر رہو ہم بھی منتظر ہیں۔ (ف 2) (158)

ف 1۔ مطلب یہ ہوا کہ کیا ایمان لانے میں قیامت کے وقوع یاقرب کا انتظار ہے۔ 2۔ یہاں تک زیادہ حصہ بیان مشرکین کے باب میں ہے آگے ایک عام عنوان سے دوسرے گمراہوں کا حق سے بعید اور مورد وعید ہونا بیان فرماتے ہیں جس میں سب کفار مشرکین اور اہل کتاب اور اہل ہوا اور بدعات بتفاوت مراتب وعید سب داخل ہوگئے۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا (ف 3) اور گروہ گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے پھر ان کو ان کا کیا ہؤ ا جتلاویں گے۔ (ف 4) (159)

ف 3۔ یعنی دین حق کو بتمامہ قبول نہ کیا خواہ سب کو چھوڑ دیا یا بعض کو اور طریقے شرک وکفر و بدعت کے اختیار کرلیے۔ 4۔ درمنثور میں ابن عباس سے ان گروہوں سے یہود و نصاری مراد ہونا اور ابوہریرہ سے مرفوعا اہل بدعات ہونا اور خاندان میں حسن سے جمیع مشرکین اس اعتبار سے کہ بعض بت پرست ہیں بعض ستارہ پرست ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مراد ہونامنقول ہے چونکہ لفظ فرقو سب کو شامل ہوسکتا ہے اس لیے عام مراد لیناانسب ہے۔ البتہ مراتب وعید کے معفاوت ہوں گے یعنی کفار کو عذاب مخلد ہوگا اور مبتدعین کو بوجہ وجود ایمان کے بعد سزائے عقائد فاسدہ کے نجات ہوگی۔