6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsبیان القرآن

Ayahs 6:81–89

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے شریک بنایا ہے حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھیرایا ہے جن پر (الله تعالیٰ نے) کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی (ف 7) سو ان دو جماعتوں میں سے امن کا زیادہ مستحق کون ہے۔ اگر تم خبر رکھتے ہو۔ (81)

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہ پر چل رہے ہیں۔ (82)

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہماری حجت تھی وہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے مقابلے میں دی تھی ہم جس کو چاہتے ہیں مرتبوں میں بڑھادیتے ہیں۔ بیشک آپ کا رب بڑا علم والا بڑا حکمت والا ہے۔ (83)

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو (ایک بیٹا) اسحٰق (علیہ السلام) دیا اور (ایک پوتا) یعقوب (دیا) ہر ایک کو (طریق حق کی) ہم نے ہدایت کی اور ( ابراہیم (علیہ السلام) سے) پہلے زمانہ میں ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ہدایت کی اور ان (ابراہیم (علیہ السلام) کی اوالاد میں سے داؤد (علیہ السلام) کو اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ایوب (علیہ السلام) کو اور یوسف (علیہ السلام) کو اور موسیٰ (علیہ السلام) ٰ کو اور ہارون (علیہ السلام) کو (طریق حق کی ہدایت کی) اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو خبردار کرتے ہیں۔ (84)

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور (نیز) زکریا (علیہ السلام) کو اور یحییٰ (علیہ السلام) کو اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور الیاس (علیہ السلام) کو ( اور یہ) سب (حضرات) پورے شائستہ لوگوں میں تھے۔ (85)

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور (نیز ہم نے طریق حق کی ہدایت کی) اسمعیل (علیہ السلام) کو اور یسع (علیہ السلام) کو اور یونس (علیہ السلام) کو اور لوط (علیہ السلام) کو اور (ان میں سے) ہر ایک کو (ان زمانوں کے) تمام جہان والوں پر (نبوت سے) ہم نے فضیلت دی۔ (86)

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور (نیز) انکے کچھ باپ دادونکو اور کچھ اولاد کو اور کچھ بھائیوں کو (طریق حق کی ہدایت کی) اور ہم نے ان (سب) کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی۔ (87)

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

اللہ کی ہدایت وہ یہی (دین) ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت کرتا ہے۔ اور اگر (فرضا) یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کیا کرتے تھے ان سے سب اکارت ہوجاتے۔ (88)

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ ایسے تھے کہ ہم نے ان (کے مجموعہ) کو کتاب (آسمانی) اور حکمت (کے علوم) اور نبوت عطاکی تھی۔ سو اگر یہ لوگ نبوت کا انکار کریں تو ہم نے اس کے لیے ایسے بہت لوگ مقرر کردیے ہیں جو اس کے منکر نہیں ہیں۔ (89)

ف 7۔ مطلب یہ کہ ڈرنا چاہیے تم کو پھر مجھ کو الٹا ڈراتے ہو۔
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ حضرات ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے (صبر کی) ہدایت کی تھی سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلئیے۔ آپ کہہ دیجئیے کہ میں تم سے اس (تبلیغ قرآن) پر کچھ معاوضہ نہیں چاہتا۔ یہ (قرآن) تو صرف تمام جہان والوں کے واسطے ایک نصیحت ہے۔ (ف 1) (90)

ف 1۔ اوپر توحید کا مضمون مقصودا مذکور تھا گوضمنا مسئلہ رسالت کی بھی تائید تھی آگے مسئلہ رسالت کا مقصودا ذکر ہے اور سبب اس کے نزول کا یہ ہوا تھا کہ ایک یہودی جس کا نام مالک بن الصیف تھا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اور کچھ مذہبی گفتگو ہونے لگی تو جوش میں آکر اس قدر مبالغہ کیا کہ کہنے لگا کسی بشر پر اللہ نے کوئی کتاب نازل نہیں کی اور ایک روایت میں ہے کہ یہود نے کہا کہ واللہ آسمان سے کوئی کتاب اللہ نے نازل نہیں کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 6:91–93

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی جیسی قدر پہنچاننا واجب تھی ایسی قدر نہ پہچانی جبکہ یوں کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی چیز بھی نازل نہیں کی (ف 2) آپ کہئیے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ لاتے تھے (جس کی یہ کیفیت ہے کہ) وہ نور ہے اور لوگوں کے لیے وہ ہدایت ہے جس کو تم نے متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے جن کو ظاہر کردیتے ہو اور بہت سی باتوں کو چھپاتے ہو۔ (ف 3) اور تم کو بہت سی ایسی باتیں تعلیم کی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے بڑے۔ (ف 1) آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ نے (نازل فرمایا ہے) پھر ان کو ان کے مشغلہ میں بیہودگی کے ساتھ لگا رہنے دیجئیے۔ (91)

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور یہ (بھی ایسی ہی) کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے جو بڑی برکت والی ہے اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور تاکہ آپ مکہ والوں کو اور آس پاس والوں کو ڈراویں اور جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں ایسے لوگ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور وہ اپنی نماز پر مدامت رکھتے ہیں۔ (92)

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ تہمت لگائے یا یوں کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس کے پاس کسی بات کی بھی وحی نہیں آئی اور جو شخص کہ یوں کہے کہ جیسا کلام اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اسی طرح کا میں بھی لاتا ہوں۔ اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جبکہ یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہونگے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہونگے ہاں اپنی جانیں نکالو آج تم کو ذلت کی سزا دی جاوے گی اس سبب سے کہ تم اللہ کے ذمہ جھوٹی باتیں بکتے تھے اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کرتے تھے۔ (93)

ف 2۔ یہ کہنا ناقدر شناسی اس لیے ہے کہ اس سے مسئلہ نبوت کا انکار لازم آتا ہے اور نبوت کا منکر اللہ کی تکذیب کرتا ہے اور تصدیق حق واجب ہے پس اس میں قدرشناسی واجب اخلال ہوا۔ 3۔ تجعلونہ قراطیس سے ظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر مضمون کے اوراق جدا کر رکھے تھے اور بعض کا ایسا کرلینا تعجب نہیں اور اگر قراطیس سے مراد فی القراطیس مجازا لیا جائے تو معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ اپنے ذہن میں تورات کے مختلف حصے تجویز کر رکھے تھے جن میں بعض مضامین کو مثل نعت محمد ﷺ اس طرح چھپاتے تھے کہ اس کی اور اور تاویلیں کردیتے تھے۔ 1۔ مطلب یہ کہ جس تورات کی یہ حالت ہے کہ اس کو اولا تو تم مانتے ہو دوسرے بوجہ نور وہدی ہونے کے ماننے کے قابل بھی ہے تیسرے ہر وقت تمہارے استعمال میں ہے گو وہ استعمال شرمناک ہے لیکن اس کی وجہ سے گنجائش انکار کی تو نہیں رہی چوتھے تمہارے حق میں وہ بڑی نعمت اور منت کی چیز ہے اسی کی بدولت عالم بنے بیٹھے ہو اس حثییت سے بھی اس میں گنجائش انکار نہیں یہ بتاو کہ اس کو کس نے نازل کیا ہے۔
Ayah 6:94

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور تم ہمارے پاس تنہا تنہا آگئے جس طرح ہم نے اول بار تم کو پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا اس کو اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے۔ اور ہم تو تمہارے ہمراہ ان شفاعت کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم دعوٰی رکھتے تھے کہ وہ تمہارے معاملہ میں شریک ہیں واقعی تمہارے آپس میں توقطع تعلق ہوگیا اور وہ تمہارا دعوٰی سب تم سے گیا گزرا ہوا۔ (ف 2) (94)

ف 2۔ اوپر مسئلہ رسالت کی تحقیق مع اس کے متعلقات کے تھی اور اس سے اوپر مسئلہ توحید مذکور تھا آگے پھر توحید کی طرف عود ہے اور اس کے ساتھ چونکہ استدلال میں اپنی نعمتوں کا ذکر ہے اپنے منعم ہونے کا بھی بیان ہے تاکہ شرک کا قبح طبعی بھی ظاہر ہوجائے۔
Ayah 6:95

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ پھاڑنے والا ہے دانہ کو اور گٹھلیوں کو۔ (ف 3) وہ جاندار (چیز) کو بےجان (چیز) سے نکال لاتا ہے (جیسے نطفہ سے آدمی پیدا ہوتا ہے) اور وہ بیجان (چیز) کو جاندار (چیز) سے نکالنے والا ہے (جیسے آدمی کے بدن سے نطفہ ظاہر ہوتا ہے) یہ اللہ ہی ہے (جس کی ایسی قدرت ہے) سو تم کہاں الٹے چلے جارہے ہو۔ (95)

ف 3۔ یعنی زمین میں دبانے کے بعد جو دانہ یا گٹھلی پھوٹتی ہے تو یہ اللہ ہی کا کام ہے۔
Ayahs 6:96–98

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

(الله تعالیٰ ) صبح کا نکالنے والا ہے اور اس نے رات کو راحت کی چیز بنائی ہے اور سورج اور چاند (کی رفتار) کو حساب سے رکھا ہے۔ (ف 4) یہ ٹھیرائی ہوئی بات ہے ایسی ذات کی جو کہ قادر ہے بڑے علم والا ہے۔ (96)

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور وہ (الله) (ایسا ہے) جس نے تمہارے (فائدہ کے) لیے ستاروں کو پیدا کیا تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اندھیروں میں خشکی میں بھی اور دریا میں بھی رستہ معلوم کرسکو۔ بیشک ہم نے (یہ) دلائل خوب کھول کھول کر بیان کردیے ہیں ان لوگوں کے لیے جو خبر رکھتے ہیں۔ (97)

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہ (الله) ایسا ہے جس نے تم (سب) کو (اصل میں) ایک شخص سے پیدا کیا پھر ایک جگہ زیادہ رہنے کی ہے اور ایک جگہ چندے رہنے کی۔ بیشک ہم نے یہ دلائل (بھی توحید و انعام کے) خوب کھول کھول کر بیان کردئیے ان لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ (98)

ف 4۔ یعنی ان کی رفتار منضبط ہے جس سے اوقات کے انضباط میں سہولت ہو۔
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہ اللہ ایسا ہے جس نے آسمان (کی طرف) سے پانی برسایا۔ پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات کو نکالا پھر ہم نے اس سے سبز شاخ نکالی کہ اس سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں۔ اور کھجور کے درختوں سے یعنی ان کے گپھے میں سے خوشے ہیں جو (مارے بوجھ کے) نیچے کو لٹکے جاتے ہیں اور (اسی پانی سے ہم نے) انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار (کے درخت پیدا کیے) جو کہ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے سے ملتے جلتے نہیں ہوتے (ذرا) ہر ایک کے پھل کو تو دیکھو جب وہ پھلتا ہے اور (پھر) اسکے پکنے کو دیکھو (ف 1) ان میں (بھی) دلائل (توحید کے موجود) ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان (لانے کی فکر) رکھتے ہیں۔ (ف 2) (99)

ف 1۔ ان مضامین میں ایک عجیب ترتیب مرعی ہے وہ یہ کہ یہاں تین قسم کی کائنات مذکور ہے سفلیات، علویات، کائنات جو۔ اور شروع کیا سفلیات سے کہ وہ ہم سے اقرب ہیں اور پھر اس کے حصے کیے ایک بیان نباتات دوم بیان النفس پھر کائنات جو کو ذکر کیا صبح ولیل پھر علویات کا ذکر کیا شمس وقمر ونجوم۔ پھر چونکہ سفلیات کا زیادہ مشاہدہ ہوتا ہے اس کو مکرر لاکر اس پر ختم فرمایا مگر پہلے وہ اجمالا مذکور تھے اب تفصیل سے مذکور کیے گئے لیکن تفصیل کی ترتیب میں اجمال کی ترتیب کا عکس کردیا گیا کہ بیان النفس کو مقدم کیا اور بیان نباتات کو موخر۔ 2۔ اوپر دلائل توحید کا ذکر تھا آگے تصریحا توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال ہے۔
Ayahs 6:100–101

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور لوگوں نے شیاطین کو اللہ کا شریک قرار دے رکھا ہے حالانکہ ان کو خدا نے پیدا کیا ہے اور ان لوگوں کو اللہ کے حق میں بیٹے اور بیٹیاں محض بلاسند تراش رکھی ہیں (ف 3) وہ پاک اور برتر ہے ان باتوں سے جن کو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ (100)

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔ اللہ کے اولاد کہاں ہوسکتی ہے حالانکہ اس کے کوئی بی بی تو ہے نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ (101)

ف 3۔ جیسے نصاری حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اور بعض یہود عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔
Ayahs 6:102–106

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہ ہے اللہ تمہارا اب۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے تو تم لوگ اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا کارساز ہے (ف 4) (102)

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہوسکتی اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہوجاتا ہے اور وہی بڑا باریک بیں باخبر ہے۔ (103)

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

اب بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے حق بینی کے ذرائع پہنچ چکے ہیں سو جو شخص دیکھ لے گا وہ اپنا فائدہ کرے گا اور جو شخص اندھا رہے گا وہ اپنا نقصان کرے گا اور میں تمہارا نگران نہیں ہوں۔ (104)

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور ہم اس طور پر دلائل کو مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ آپ سب کو پہنچاویں اور تاکہ یہ یوں کہیں کہ آپ نے کسی سے پڑھ لیا ہے اور تاکہ ہم اسکو دانشمندوں کے لیے خوب ظاہر کردیں۔ (105)

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

آپ خود اس طریق پر چلتے رہئیے جس کی وحی آپکے رب کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ اور مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئیے۔ (106)

ف 4۔ غرض خالق بھی وہی علیم بھی وہی۔ وکیل بھی وہی اور یہ سب امور مقتضی ہیں کہ معبود بھی وہی ہو۔
Ayah 6:107

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے ہم نے آپ کو ان کا نگراں نہیں بنایا اور نہ آپ ان پر مختار ہیں۔ (ف 1) (107)

ف 1۔ اوپر کے مضامین میں طریق مشرکین کا ابطال اور نیز مضامین مذکورہ کے ساتھ اس کی تبلیغ کا امر بھی کیا گیا ہے آگے مشرکین کے معبودات باطلہ کو سب وشتم کرنے سے مسلمانوں کو ممانعت فرما کر تبلیغ دین کے حدود قائم کرتے ہیں جس حاصل یہ ہے کہ غیر قوم سے مناظرہ کرنا تو جزو تبلیغ ہے لیکن دشنامی اور دل خراش الفاظ ان کے معظمین کے حق میں کہنا ممنوع لغیرہ ہے کہ وہ ہمارے معبود یارسل کی شان میں گستاخی کریں گے تو گویا اس کے باعث ہم ہوئے۔
Ayahs 6:108–109

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور دشنام مت دو ان کو جن کی یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں پھر وہ براہ جہل حد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرینگے۔ ہم نے اسی طرح ہر طریقہ والوں کو ان کا عمل مرغوب بنا رکھا ہے (ف 2) پھر اپنے رب ہی کے پاس ان کو جانا ہے سو وہ ان کو جتلادیگا جو کچھ بھی وہ کیا کرتے تھے۔ (ف 3) (108)

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور ان (منکر) لوگوں نے قسموں میں بڑا زور لگا کر اللہ کی قسم کھائی کہ اگر ان کے (یعنی ہمارے) پاس کوئی نشانی آجاوے تو وہ (یعنی ہم) ضرور ہی اس پر ایمان لے آوینگے آپ جواب میں کہہ دیجئیے کہ سب نشانیاں خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں اور تم کو اس کی کیا خبر (بلکہ ہم کو خبر ہے) کہ وہ نشانیاں جس وقت۔ آجاوینگی یہ لوگ جب بھی ایمان نہ لاوینگے (109)

ف 2۔ یعنی ایسے اسباب جمع ہوجاتے ہیں کہ ہر ایک کو اپنا طریقہ پسند ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ عالم اصل میں ابتلاء کا ہے پس اس میں سزا ضروری نہیں۔ 3۔ بتوں کو براکہنا فی نفسہ مباح ہے مگر جب وہ ذریعہ بن جائے ایک امرحرام یعنی گستاخی بجناب باری تعالیٰ کا تو وہ بھی منہی عنہ اوقبیح ہوجائے گا اس سے ایک قاعدہ شرعیہ ثابت ہوا کہ مباح جب حرام کا سبب بن جائے تو وہ حرام ہوجاتا ہے اور قرآن مجید کی بعض آیات میں جو معبودان باطلہ کی تحقیر مذکور ہوئی ہے وہ بقصد سب وشتم نہیں بلکہ مناظرہ میں بطورتحقیق مطلوب و استدلال والزام خصم کے ہے جو مناظرات میں مستعمل ہے اور قرائن سے مخاطب کو معلوم ہوجاتا ہے کہ تحقیق مقصود ہے یاتحقیر۔ اول جائز دوسرا ناجائز۔
Ayah 6:110

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم بھی ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو پھیر دینگے (ف 4) جیسا یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو انکی سرکشی میں حیران رہنے دینگے۔ (110)

ف 4۔ یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اللہ ہی نے ان کو خراب کردیا ہے پھر مواخذہ تقلیب واقع ہو۔ حاشا وکلا۔ بلکہ توجہ کے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا۔
Ayahs 6:111–115

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر ہم ان کے پاس فرشتوں کو بھیج دیتے اور ان سے مردے باتیں کرنے لگتے اور ہم تمام موجودات (غیبیہ) کو ان کے پاس ان کی آنکھوں کے روبرو لاکر جمع کردیتے تو بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے ہاں اگر خدا ہی چاہے (تو اور بات ہے) لیکن ان میں زیادہ لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔ (ف 5) (111)

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بہت سے شیطان پیدا کیے کچھ آدمی اور کچھ جن جن میں سے بعضے دوسرے بعضوں کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تاکہ ان کو دھوکہ میں ڈالدیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ ایسے کام نہ کرسکتے سو ان لوگوں کو اور جو کچھ یہ افتر پردازی کررہے ہیں اس کو آپ رہنے دیجئیے۔ (112)

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور تاکہ اس کی طرف ان لوگوں کے قلوب مائل ہوجائیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور تاکہ اس کو پسند کرلیں اور تاکہ مرتکب ہوجاویں ان امور کے جن کے وہ مرتکب ہوئے تھے۔ (113)

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

تو کیا اللہ کے سوا کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں حالانکہ وہ ایسا ہے کہ اس نے ایک کتاب کامل تمہارے پاس بھیجی ہے اس کی حالت یہ ہے کہ اس کے مضامین خوب صاف صاف بیان کیے گئے ہیں اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ یہ (قرآن) آپ کے رب کی طرف سے واقعیت کیساتھ بھیجا گیا ہے سو آپ شبہ کرنے والوں میں نہ ہوں۔ (114)

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور آپ کے رب کلام واقعیت اور اعتدال کے اعتبار سے کامل ہے اس کے کلام کا کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ خوب سن رہے ہیں اور خوب جان رہے ہیں۔ (115)

ف 5۔ لیومنن بھا میں کفار کے قول کی نقل کی ہے اور انما الاٰیات عنداللہ میں ان کا جواب ہے اور وما یشعرکم سے آخر تک مسلمانوں کو فہمائش ہے اور خطاب ہے جواب کا حاصل یہ ہوا کہ رسول مدعی نبوت ہیں اور آیات فارقہ اس دعوی کی دلیل ہے اور مدعی کے ذمہ حسب تصفیہ عقلیہ مطلق دلیل کا قائم کرنا ضروری ہے تعیین کسی خاص آیات جدیدہ کے طلب کا کوئی حق نہ تھا ہاں دلائل قائم کردہ پر جرح وقدح کریں تو اس کا جواب اصالة یانیابة مدعی کے ذمہ ہے جس کے لیے ہر مدعی حقانیت اسلام اب بھی آمادہ ہے۔
Ayahs 6:116–117

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بےراہ کردیں (ف 1) وہ محض بےاصل خیالات پر چلتے ہیں اور بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں۔ (ف 2) (116)

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

بالیقین آپ کا رب ان کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بےراہ ہوجاتا ہے اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ پر چلتے ہیں۔ (117)

ف 1۔ لاتکونن اور ان تطع الخ۔ میں جو اسناد فعل کی جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف کی گئی ہے اس سے سنانا اور روں کو منظور ہے آپ کی طرف اسناد کرنے سے مبالغہ ہوگیا کہ جب آپ کو باوجود عدم احتمال امتراء واطاعت ایساکہا گیا تو دوسروں کی کیا ہستی ہے جیسا کہ ابتغی میں بھی ظاہرا اسناد آپ کی طرف ہے اور مقصود متبعون ہے جس کا مبنی مناظرہ میں ملاطعنت ہے جو کہ نفع فی الدعوت ہے۔ 2۔ یعنی عقائد میں وہ محض بےاصل خیالات پرچلتے ہیں اور اقوال میں بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں۔
Ayahs 6:118–120

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

سو جس جانور پر اللہ کا نام لیا جاوے اس میں سے کھاؤ (ف 3) اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو۔ (ف 4) (118)

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور تم کو کون امر اس کا باعث ہوسکتا ہے کہ تم ایسے جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب جانوروں کی تفصیل بتلادی ہے جن کو تم پر حرام کیا گیا ہے مگر وہ بھی جب تم کو سخت ضرورت پڑجاوے تو حلال ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ بہت سے آدمی اپنے غلط خیالات پر بلا کسی سند کے گمراہ کرتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ حد سے نکل جانے والوں کو خوب جانتا ہے۔ (119)

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور تم ظاہری گناہ کو بھی چھوڑو اور باطنی گناہ کو بھی چھوڑو بلاشبہ جو لوگ گناہ کررہے ہیں ان کو ان کے کیے کی عنقریب سزا ملے گی۔ (120)

ف 3۔ اوپر وان تطع۔ میں اہل ضلال کے اتباع سے مطلقا منع فرمایا تھا اب باقتضا ایک واقعہ کے ایک خاص امر میں اتباع کرنے سے منع فرماتے ہیں وہ خاص امرمذبوح وغیر مذبوح کی حلت و حرمت ہے اور وہ واقعہ یہ ہے کہ کفار نے مسلمانوں کو یہ شبہ ڈالنا چاہا کہ اللہ کے مارے ہوئے جانور کو تو کھاتے نہیں اور اپنے مارے ہوئے یعنی ذبیحہ کو کھاتے ہو بعض مسلمانوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں یہ شبہ نقل کیا اس پر یہ آیتیں لمشرکون تک نازل ہوئیں۔ 4۔ کیونکہ حلال کو حرام جاننا خلاف ایمان ہے۔